
جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے جب پاگل خانے
میں نے اک گیت لکھا اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں میں نے اک نظم کہی اور وہ چھت سے کود گئی میں نے
[blockquote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں
[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950
مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں پھر
[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950
[blockquote style=“3”] محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے
یہ خاکہ ایک شیعہ سید زادے کی یاد میں لکھا گیا ہے جنہیں میں کبھی نہ سمجھ سکوں گا کہ آپ کی دیوانگی کی فرزانگی
سرکار کے پُنرواس وبھاگ [بحالی کے محکمے] کے پاس ان لوگوں کو بسانے کے لیے یا تو خالی پڑی نوابی عمارتیں تھیں یا پھر بٹوارے
نصیرالدین صاحب سے میری ملاقاتیں تب سے ہیں جب میں لاہور میں کام کاج کرتا تھا، تنخواہ پاتا تھا اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا۔
ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں ہمارے بہت دوست مارے
ذراتی طبیعات سائنس کی وہ شاخ ہے جس کے مطابق کائنات کی ہر شے ایسے ناقابل تقسیم ذروں سے مل کر بنی ہے۔ اگرچہ یہ
