
کل ایسا لگا کہ جیسے کسی جنگلی جانور نے پینترہ بدل کر میری کمر پہ کاٹ لیا ہو سینہ، گردن، سر تو شاید ایک آدھ
غصے کی اک بے مہر چنگاری کتنا کچھ جھلسا دیتی ہے بچوں سے پیار اور دلار چھین کر ان کی آنکھوں میں خوف و دہشت
کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے
آدھ گھنٹے میں اس کی آنکھوں کے سامنے پھیلے اس کے ہاتھوں پہ بکھری الجھی لکیروں پر کتنے ہی ان دیکھے رستے ابھر کر آئے
ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے
ہم زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ مر جاتے ہیں ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے کسی
مجھ سے ملئیے مجھے زندگی کی مزدوری پر لگا دیا گیا ہے میرا تعارف یہ ہے کہ اغواہ شدہ خوابوں کے لواحقین میرے کنبے میں
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے آج تو جیسے ساری دنیا ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے
وہ جب کتاب ہاتھ میں لیے “حسن کوزہ گر” پڑھتا تو اس کے لہجے میں اِک عجیب درد اتر آتا شروع کی سطریں پڑھتے ہوئے
ہمارے دل ایک نہیں ہوتے مگر کمرے ایک ہوتے ہیں الماری میں الگ الگ طرز کے کپڑے ایک دوسرے سے نہ لپٹ جائیں اسی الجھن
جی کرتا تھا اس چنوتی کو قبول کر لوں، ہاں کہہ دوں۔ لیکن ہماری کمپنی کی آج تک کی سبھی فلموں کی ڈائریکشن بابوراؤ پینٹر
میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں
