Laaltain

تازہ ترین

آج کے شمارہ نمبر 105 میں شامل کوشلیہ کمارہ سنگھے کا ناول” اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو “مجھے آج سے تقریباً کچھ دو یا

11 اگست، 2019

بڑے بزرگوں کا قول ہے کہ “چمگاڑ کو اگر محل میں رکھو تو بھی سوئے گا چھت سے لٹ کے ہی۔” اس میں اس کی

27 جولائی، 2019

جیون ایک دھمال اُوسائیں جیون ایک دھمال تن کا چولا لہر لہو کی آنکھیں مِثل مَشال جیون ایک دھمال سانولے مکھ کی شام میں چمکے

20 جولائی، 2019

کون اس راہ سے گزرتا ہے دل یوں ہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے شہر

18 جولائی، 2019

آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں

18 جولائی، 2019

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں

14 جولائی، 2019

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔ اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں

14 جولائی، 2019

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک

14 جولائی، 2019

کتنے زور سے چیخوں تو آواز کنویں سے باہر سُنائی دے گی؟‘‘ سال پہلے، ہاں غالباً یہ سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔ پڑھنے والے

14 جولائی، 2019

آواز آوازوں کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی اس کن سے اس کے کن سے اور سلسلہ پھیلتا گیا ۔ اس نے لمبا سانس کھینچ

13 جولائی، 2019

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے راستے میں چلتے

13 جولائی، 2019

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں

9 جولائی، 2019