
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں
جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔
ساتواں باب: ہمارا وجود کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اب تک دریافت کی
آج کے شمارہ نمبر 105 میں شامل کوشلیہ کمارہ سنگھے کا ناول” اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو “مجھے آج سے تقریباً کچھ دو یا
بڑے بزرگوں کا قول ہے کہ “چمگاڑ کو اگر محل میں رکھو تو بھی سوئے گا چھت سے لٹ کے ہی۔” اس میں اس کی
جیون ایک دھمال اُوسائیں جیون ایک دھمال تن کا چولا لہر لہو کی آنکھیں مِثل مَشال جیون ایک دھمال سانولے مکھ کی شام میں چمکے
کون اس راہ سے گزرتا ہے دل یوں ہی انتظار کرتا ہے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والے دل تجھے دیکھ دیکھ ڈرتا ہے شہر
آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کا حسن دیکھا ہے، ایسا شفاف اور گہری نیند میں ڈوبا ہوا پانی، جس کی ریشمی چادر پر پوروں
اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں
جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔ اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک
کتنے زور سے چیخوں تو آواز کنویں سے باہر سُنائی دے گی؟‘‘ سال پہلے، ہاں غالباً یہ سال پہلے کی بات ہے ۔۔۔ پڑھنے والے
