
’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں
میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا یہ کوئی دلدل ہے شاید
رائیگانی کی ایک نظم نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے، اور خواب ارزانی کے باوجود بھی نہیں بکتے، دن بھر کی تھکن پور پور میں
آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں چلیں ! تنہائی کے اِس غار سے نکلیں کوئی رستہ بنائیں اِس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا اندھیرے،
گلوکار: نور جہاں کلام: منیر نیازی موسیقی: طفیل نیازی فلم: دھوپ اور سائے شامِ شہرِ ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو یاد آ کر
گلوکار: فدا حسین کلام: کشور ناہید موسیقی: میاں شہریار دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے اس کو بھی بھولنا اچھا لگا
رات اندھیری رم جھم بارش آندھی اور طوفان چاند کبھی بادل کے پیچھے اوپر نیچے شاخ پہ بیٹھی پاگل کوئل کوک رہی ہے جگنو سارے
قسم ہے مجھے اپنی آنکھوں کی جو بہت برکت والی تھیں اِن میں حزن و ملال کے سیراب بھر گئے ہیں یہ آنکھیں دیکھنے میں
بہار نے ہماری طرف پھول پھینکے قبرستان نے ہماری طرف ایک قبر پھینکی مجھے نہیں معلوم کہ پھول اور قبر ہمارے اس شخص کے ہاتھ
