Categories
شاعری

بارش کی خواہش بھی اک موت ہے (حفیظ تبسم)

بارش کی خواہش بھی اک موت ہے

مون سون سے پہلے
پانی کی تقسیم پر
زمین کے بڑے خداؤں نے اپنے اجلاس کا آغاز
گالیوں کی طویل فہرست سے کیا
جو جنگ کے دنوں میں ایجاد ہوئیں

امن پسند راہب جنگل میں چھپ گئے
اور بدھا کے مجسمے پر بیٹھے پرندے
اداس گیت گاتے گاتے
پتھروںمیں تبدیل ہوگئے

جنگ کے لیے
نقارہ بجاکر اعلان کیا گیا
مائیں دیر تک بچوں کی گنتی پوری کرتی رہیں
بوڑھے باپ
سانسوں کے تاوان میں اناج کی بوریاں اٹھا لائے
اور دروازے غیر معینہ مدت کے لیے
دیواروں میں تبدیل ہوئے

گورگنوں نے قبر کی کھدائی کا معاوضہ
دوگنا کردیا
لوگ مرتے رہے
یہ اندازہ لگانا مشکل ہوا کہ
چالیس روزہ آرام دہ قبر کس کے حصے میں آئی

جنگ کوئی نمایاں کھیل نہیں
جو جاری رہے
بہت دن تک
سو آخر جنگ ختم ہوجاتی ہے
ذرا سستانے کے لیے
البتہ جنگ کی کہانی
ایک نسل سے
دوسری نسل تک پہنچ جاتی ہے

صلح نامے میں درج ہے
روحیں پانی کے خواب میں سفر کر رہی تھیں
جب زمین سے رخصت ہوئیں
وہ پانی۔۔۔
جس کے لیے جنگ ہوئی
مون سون سے پہلے

خدا کے دروازے پر مسلسل دستک

قحط سالی کے دنوں میں
بارش کے نام پر خیرات کرکے
طویل ترین دعا مانگی
جو تہوار کے دن کے لیے موزوں تھی

خدا نے سنی
(وہ کچھ دنوں سے براہ راست سُن رہا تھا)
محض اتفاق تھا

بارش برسی
تالاب یکدم سخی ہو گئے
اور پھر وحشی۔۔۔

پانی کے ریلے
آبادی سے لڑکیوں کے جہیز میں رکھے خواب
اور چرواہوں کی بھیڑیں بہا لے گئے
پرندوں کی چیخیں سن کر
پیڑ خودکشی کرنے لگے

کشتیاں لوٹ نہ سکیں
اونچے ٹیلے کے کنارے آباد لوگ
ایک دوسرے کے کان میں اذان دینے لگے
بارش برستی رہی
خدا کے کان پھر بند ہو گئے

جل دیوی کے مندر میں

مندر کی گھنٹی بجتی ہے
ٹن ٹن ٹن۔۔۔
اور انصاف کے لیے آگے پیچھے جھولتی ہے

دیوی
آتش دان سے آگ طلب کرتے
بے ساختہ پوچھتی ہے
اجنبی
تمہارے دل میں کیا ہے؟

میں، سامنے چھوٹی سی بستی سے بھاگا ہوا لڑکا
بد نصیب، گم گشتہ

میرے پاس وہ لفظ نہیں
اپنے پسندیدہ موسم کی آخری رات کو بیان دے سکوں
کہ تمہارے چرنوں میں
قربان ہونے والی خوبصورت لڑکی
میرے محبت نامے کا مقدس باب تھی

اس وقت سے
میں نے سراغ رسانی سیکھی
اور تم تک پہنچنے کے لیے
سرد مقبرے کی صلیب پر دن گزارے

دیوی ہنسی!
اس میں کون سا انکشاف ہے
بارش برسانے کا ایک یہ بھی طریقہ ہے

میرے ہاتھوں میں تیز دھار خنجر کانپنے لگا

باتوں کے شور شرابے میں
مسلح پہرے دار جاگے
اور مجھے
بدتمیزی سے باہر پھینک دیا
گھنٹیاں آگے پیچھے جھولتی رہیں
ٹن ٹن ٹن۔۔۔

Categories
شاعری

پیڑ کا ادھورا خواب اور دیگر نظمیں (حفیظ تبسم)

پیڑ کا ادھورا خواب

لہلاتے کھیت کے درمیان
جب شام سنہری لباس پہنے اترتی ہے
پگڈنڈی کے پاس سوکھا شیشم
احساس سے کروٹ لیتا ہے
جیسے نیند میں اونگھتا کوئی خواب

وہ شام سے اسی طرح نفرت کرتا ہے
جیسے دن سے عمر رسیدہ طوائف

وہ دور اُجلے راستے پر نگاہ ٹکائے
گاگر اٹھائے لڑکیاں دیکھتا ہے
جن کی چھاتیاں
ناشپاتی معلوم ہوتی ہیں
جو خواب میں آکر منہ چڑاتی ہیں

کاش! انسان کے قبیلے میں کتا ہی ہوتا
وہ سوچتا ہے
اور اداسی کی اوس میں بھیگ جاتا ہے

اگلی شام قہقہوں کی بارش میں
بہار کے گیت گاتی لڑکیوں نے دیکھا
درمیان سے ٹوٹ کے گرا شیشم
پگڈنڈی پر راستہ رو کے کھڑا ہے
ّؔ
خوف کے لفافے میں لپٹا ہوا خط

جب تاریخ کی کتاب سے جملے چرا کر
عجائب گھر میں رکھے گئے
ادب کے دربار سے فرمان جاری ہوا
باغیوں کو دیوار میں چننے کی بجائے
تاریک کنویں میں رکھا جائے
اور پیشہ ور ادیبوں سے لکھوائی گئی
تاریخ کی نئی کتاب
جو نصاب میں شمولیت کی منظوری کے لیے
سنسر بورڈ کو بھیجا گیا
خوف کے لفافے میں لپٹا ہوا خط

کتاب گھر سے ناپسندیدہ کتابیں
فحاشی کے الزام میں جلا دی گئیں
اور کوک شاستر کے مصنف کو پھول پہنا کر
عقیدت سے ہاتھ چومنے کی رسم ایجاد کی گئی

باغیوں نے حلف نامے میں عہد کیا
شہر کی دیوار پر مرثیے لکھنے کا
اور اساطیری جنگل کی تلاش میں پھرتے
ایک مندر میں پناہ گزین ہوئے
جس کا ذکر
نئی تاریخ میں نہیں ملتا

بدھ کا اونچا نام

بدھ کے نام پر مانگنے کی روایت
صدیوں پرانی ہے
اور چیلے پر بھونکتے کتے کی بھی
اس لیے کہ دونوں دھتکارے جانے کی حد تک
گھٹیا سوال ہیں
اور دونوں پر حلال ہوتی ہے
ہر وہ چیز
جس کا ذائقہ بدبودار ہو

دنیا کی تمام مہذب گالیاں
اور پتھر مارنے کی رسم
بھوک کے گیت سے شروع ہوئی
اور تاریخ منسوب کرتی رہی
مقدس لوگوں کے نام

اگر اب اکیسویں صدی کا حمل نہ ٹھہرا
تو آخر ایک دن
دنیا کے تمام مسخرے اڑائیں گے
بدھ کا مذاق بھی

پرندے بے وقوف نہیں ہوتے

گمنام جزیرہ ہے
اور تنہا آدمی
جس کے چاروں طرف
پرندے نت نئی آوازیں نکال رہے ہیں

وہ یاد کرتا ہے
فاختہ کے قدیم گیت
اور عقاب کی درندگی کا مرثیہ
جب جنگل اور انسان
رشتے میں بھائی لگتے تھے
اور ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنتے تھے

وہ قدیم روایت کے احساس تلے
جماہی لیتا ہے
اور تاریخ دہرانے کے لیے
پرندوں کے قبیلے میں شمولیت کی درخواست دیتا ہے

درخواست
جنگل کے دل میں محفوظ ہے
اور پرندوں کا اجلاس جاری
شاید انہیں یاد ہے
“شکاری کسے کہتے ہیں”

Categories
شاعری

ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

سبین محمود
لڑکیوں کے لیے خواب دیکھنا
مشکل ہے، جیسے
گھر کے پچھواڑے میں گلے ملنا
یا
ماں کے کان میں مشورے کرنا
اپنا خدا تراشنے کے بارے میں
اور تمہارے خواب ہر گز ایسے نہیں تھے

تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے

تمہارے خواب فٹ پاتھ کے احترام میں جھک جاتے
فٹ پاتھ پناہ گاہ ہوتا ہے
جن کے انتظار میں کوئی دروازہ نہیں کھلا

تمہارے خواب
تصویریں پینٹ کرتے تھے
جو کسی برسی پر رکھی جا سکیں
یا
کاری قرار دی لڑکی کو
آخری تحفے میں دے کر وداع کیا جائے

اور سبین محمود ایسے خواب دیکھنا ممنوع ہے
اس لیے مار دیئے گئے
اخبار نے خبر چھاپنے سے معذرت کر لی
اور تمہاری موت
ہمیں ایک نظم لکھنے پر آمادہ نہ کر سکی

Categories
شاعری

صلاح الدین درویش:خواب نامے کا دیباچہ

رات کے تیسرے پہر خواب میں
درویش دیکھا،جو
ایک ہاتھ میں انسان دوستی کا پرچم
دوسرے میں احتجاج کا بینر لیے کھڑا تھا
سینکڑوں کے مجمع میں
تاریخ کے مردہ کرداروں پر گرجتے
اس کی وحشت سے معبد کانپ رہے تھے
مجھے لگا ، یہ وہی شخص ہے
جس سے بچنے کا معاہدہ ناقدین نے کرلیا ہے

میرے اندر خوف کی برف گررہی تھی
کہ اُس نے حقارت سے مسکراتے ہوئے کہا
کائنات کے پچھواڑے شمشیر چلانے کے ہنرتو بخشے گئے
لیکن یہ بتانا پسند نہیں کیا
کہ جنگ کس کا فرض عین ہے

مجھے لگا آج انکشاف کی رات ہے
اس سے پہلے جھوٹ کے تہوار میں رنگ رلیاں منائیں
تیسری دنیا کے فلسفے پر قہقہے لگائے
اور دماغ کے گھونسلے میں ترقی پسندی نے بچے جَن دیئے
ہاں!بہت سسک لیے
اب درویش کے ہاتھ پرمابعد جدید بیعت کر لینی چاہیے

میں سیدھا کھڑا ہوکر پکارنا چاہتا تھا
اے بزرگِ انسان و کائنات
ہمارے خواب حدود سے آگے نکل چکے ہیں
انھیں مرنے سے بچالے
ہماری مشکل آسان کر
رات کے تیسرے پہرپیاس کی شدت سے آنکھ کُھلی
وہ کہیں نہیں تھا،مگر
میز پر درویش نامہ پڑا تھا

Categories
شاعری

ایک خط: روش ندیم کے نام

روش ندیم!
تمہارے ٹشو پیپر پر لکھے دکھ پڑھ کر
ہماری نیندیں خدا کے دروازے پر دستک دیتی ہیں
مگر دروازہ کُھلنے سے انکار کر دیتا ہے

تم دہشت کے موسم کی خبر سُن کر
اپنے سارے خواب اس بوڑھے برگد کی کھوہ میں چھپا آتے ہو
جہاں بدّھا کو نروان ملا تھا
لیکن وہاں کی بوڑھی چمگاڈریں انہیں لے اڑتی ہیں

روش ندیم!
تم ابر کی آہٹ پہ کان لگائے بیٹھے ہو
اور منٹو کی عورتیں سہاگ راتوں کو کوٹھوں پر فروخت کر دی جاتی ہیں
جن کے سہاگ سپنے مسلسل شہر کے بازاروں میں چلے جا رہے ہیں
خودکشی کے اجتماع میں

روش ندیم!
تم تہذیب کی کالی شاموں میں
تاریخ کی سڑک پر چلتے
انکار کے فلسفے سے بھرے سگریٹ پھونکتے ہو
اور جب تھک جاتے ہو
تو فٹ پاتھ کے کنارے بیٹھ کر لکھتے ہو
کڑک چائے کے کپ پر

تم خاموشی سے ڈال دیتے ہو
لنگڑے انقلابی کے کاسے میں
فیض کی کوئی نظم
جس میں چیخوں کا جنگل آباد ہے
وہ کھردرے ہاتھ کی انگلیوں سے وکٹر ی کا نشان بناتے ہوئے کہتا ہے
’’ منسوب ہوجائے آج کا یہ لمحہ ، یہ دن
یہ سال ، یہ صدی آپ کے نام‘‘
تم جواباً قہقہہ لگاتے ہو’’
کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟
کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور تم ووڈکا کے تلخ ذائقے میں کارٹون بنانے لگتے ہو
اندھے لوگوں کے
جو نہیں جانتے سات رنگوں کی کہانی

Categories
شاعری

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

سرما کی یخ ہوائیں کپڑے اڑاتی گزرتی ہیں
وہ بغیر روح کے بھٹک رہاہے
(دوسرے جنم میں)
ماچوپچو کی چوٹیوں پر
جہاں اب انسان نہیں سائے رہتے ہیں

وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی
پیڑ مسلسل خاموش ہیں
وہ نہیں جانتے یہ انسان
کاغذ،قلم اٹھائے کس راز کی تلاش میں ہے

وہ جواب نہ ملنے پر
شدید غصے کی حالت میں بڑبڑاتا ہے
میں وہ شاعر ہوں
جس کی نظمیں سرحد پر ،سپاہی بیگ میں سنبھال رکھتے ہیں
خشک راشن ،پانی اور بندوق کے ساتھ
میں وہ شاعر ہوں
جس کے گیت عورتوں کی زبان پر زندہ ہیں
گرم بوسے کی جگہ
مگر پیڑ چِلی کی مادری زبان نہیں جانتے

وہ دکھ کے سناٹے میں سوچتا ہے
کئی سوسال پہلے کی داستان
جب قدیم پتھر نفرت کی کدال سے توڑے گئے
اور گرجا گھر کی گھنٹی
جو آثار قدیمہ کے ماہرین کو کھدائی کے دوران نہیں ملی
جس کی ٹن ٹن کی آواز
شہر کی موت کے کئی دن بعد تک زندہ رہی
جب پرندے غیر اعلانیہ ہجرت کے دوران
پیڑوں سے نظریں ملائے بغیر آبدیدہ لہجے میں گارہے تھے
اے ماچوپچو!
سلام آخری ی ی ی
جارہے ہیں تم سے دور
بہت دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اداس ہوجاتاہے
اور ایک پتھر اٹھائے دعا کرتا ہے
ماچو پچو کے ایصالِ ثواب کے لیے
تیز ہوائیں
ٹکراکے گزرتی رہتی ہیں
اور وہ زندہ ہونے کے خلاف کھڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭لا طینی امریکہ کے ملک پیرو (Peru) میں واقع اندلس کے پہاڑی سلسلے پر واقع قدیم شہر کا نام
ؔپابلو نیرودا کی طویل نظم ’’ ماچو پچو کی چوٹی ‘‘
((The Height of machu pisshu سے ماخوذ

Categories
شاعری

کائنات کا آخری دکھ

خدا کے گھر میں نقب لگاکر
روٹیاں چرانے والے
جب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانے لگے
کئی دن سے بھوکے کتوں نے شور مچاکر
پہرے داروں کو آگاہ کر دیا

وہ تین تکونی بارگاہ میں پیش کئے گئے
تو انصاف کی اونچی مسند پر
تسبیح کے دانوں نے دستک دی
جو مسمار شہر سے برآمد ہوئے
اور سستے داموں خریدے گئے فتوؤں کا عکس
ایک دائرے میں
روحانی مسرت سے جھومنے لگا

سوچ کے سناٹے میں بیان کیا گیا
کائنات کا آخری دکھ
مگر خاموشی کے ساتھ طے کردی گئی
شہر کے وسطی چوک میں شورمچاتی
موت کے جشن کی تاریخ
اور پتھروں کی بارش کے ڈر سے
ڈسٹ بن میں پھینک دیاگیا
بھوک کا دستخط شدہ خط بھی

پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر گھنٹی بجانے والوں نے
کٹہرے کو کئی بار چوما
اور اندھیرے کے آگے سجدہ ریز ہو گئے

Categories
شاعری

گناہ گار شاعر کی بے گناہ نظمیں

[blockquote style=”3″]

حفیظ تبسم کی یہ نظم معروف ادبی جریدے ‘تسطیر’ میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کل میری دو نظمیں بازار گئیں
(جو جڑواں بہنیں تھیں)
مگر واپس نہیں لوٹیں
اِن دنوں کرفیو کے باعث
کھلے عام گھومنا ممنوع تھا
لیکن میں نے دن کی رفتار سے تیز بھاگتے ہوئے
شہر کا چکر کاٹا
رات کے سائے کے ڈر سے
مسجدوں میں اعلان کروائے گئے
مگر دہشت کے بستر میں دبکے لوگ
کچھ نہیں جانتے
کس کی پھٹی ایڑیوں سے رستا خون
لکیریں کھینچ رہاہے

آخر افسردگی سے دیوار میں لگا ٹی وی آن کیا
“سپر مارکیٹ دھماکے سے اڑا دی گئی”
میں بھاگتا جائے وقوعہ پہنچامگر
پانی سے موت کے نشان
گٹر میں بہائے جا چکے تھے

اب بے یقینی کے سگریٹ پھونکتا
قبروں کے پاس بیٹھاہوں
جہاں بم دھماکے میں مری روحیں دفن ہیں
مگر میری نظموں کی قبر کون سی ہے
کہ مٹی کے چہرے سے پہچان ممکن نہیں
اور میں
مرنے سے پہلے کتبہ لگانا چاہتا ہوں
“یہاں گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں دفن ہیں”

Image: Paulo Zerbato

Categories
شاعری

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے
(محترمہ عذرا عباس کے لئے ایک نظم)
عذرا عباس !
میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان
جب شاعری درد کے بے رنگ پھول چنتے چنتے
تمہارے گھر کی راہدریوں میں پاؤں پٹخنے لگی

تمہارے ہاتھ حیرت سے دیکھ کر پوچھتے ہیں
لیمپ میں جلتے فیوز بلب سے
رات کے پچھلے پہر
جب لفظوں کے سائے گیلے ہوکر بے دم ہورہے تھے
میز پہ رکھی
آنکھوں کا ردعمل کیا تھا؟
لیمپ دانستہ خاموش ہے!
اسے نہیں معلوم؟
محبت کی ابتدا کیسے ہوتی ہے
تمہارے کف اڑاتے ہاتھ
روشنی جھپٹنا چاہتے ہیں
مگر کلائی لکیر کھینچ دیتی ہے

جب تم شکن آلود بستر پر خواب سلانے کے بعد
نظم لکھنے بیٹھتی ہو
تمہارے ہاتھ نہیں ہوتے
تم سوچتی ہو
نظم لکھنے کےلئے ضروری نہیں
کاغذ، قلم، دوات۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہاتھ
اور گنگناتے ہوئے بوڑھے میز کے کان میں
بے کار دنوں میں لکھی ہوئی
نظمیں سناتی ہو
Categories
شاعری

ایک معمول کا دن

ایک معمول کا دن
آج پھر بوڑھے ہوتے شہر میں
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا

ڈاکئے خوف کے خط بانٹ کر
شام سے پہلے گھر لوٹ گئے
او ر بند کواڑوں میں مقید لوگ
اجنبی کی دہشت زدہ آنکھوں پر تبصرہ کرتے رہے
جو ہر راہگیر کو روک کر
سستانے کا دعوت نامہ دے رہاتھا

ٹیلی ویژن اسکرین پر
لڑکیوں کے خواب لاپتہ ہونے کی بریکنگ نیوز
اور اخبار کے دفتر کی سیڑھیوں پر
ہیجڑے حقوق کے کارڈ اٹھائے
بلیک میل ہوتے رہے
اور میں نیند سے معذرت کرکے
کرسی پر دو زانو بیٹھا
چائے کے خالی کپ سے مکالمہ کرتا رہا
جس پر انقلابی نعرہ درج تھا
Categories
شاعری

اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا

اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا
اگر شام برستی بارش میں
دفتر سے جلدی نکلنے کی بجائے
فائلوں کی ورق گردانی میں مشغول رہتا
-یا-
کھڑکی سے بھیگے کپڑوں میں ٹہلتی لڑکی کے
خواب چُرانے کی کوشش کرتا
جس کی محبت کی نسل کشی کا آغاز
ہفتے بھر سے زیر بحث ہے

اگر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے بتیاں بُجھ جاتیں
عذر تراش لیتا
-یا-
گھڑیوں میں گھنٹہ آگے کرنے کی پالیسی
کالعدم قرار نہ پاتی

ایسا بھی ممکن تھا
ریگل کی طرف پیدل چلنے کی بجائے
گرین بس میں سوار ہوجاتا
اور ٹریفک کی بے ترتیب قطاروں میں پھنس کر
صبر کا الٹا پہاڑہ یاد کرتا
-یا-
مزارِ قائد کے سامنے پارک میں
خیراتی ادارے کے سربراہ کی تقریر سنتا
جو روٹی کے فوائد بیان کررہا تھا
-یا-
میں گولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا
-یا-
اسلامی رسالے
ویلنٹائن کو متفقہ حرام قرار دے دیتے
میں کچھ دن اور زندہ رہ سکتا تھا
اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے
Categories
شاعری

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)
سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی بہتی لاشیں
پہچان سے عاری ہیں

تمہاری نظمیں اس درخت کے لئے ہیں
جس پر بے گناہ پھانسی لٹکائے گئے

تمہاری نظمیں اس بندرگاہ کے لئے ہیں
جس سے ہمارے خواب اسمگل ہو کر
باہر بھیجے جاتے ہیں

تمہاری نظمیں اس پہاڑ کے لئے ہیں
جہاں کھڑے ہو کر دیکھا جا سکتا ہے
وہ جزیرہ بھی
جہاں دن رات جنگی جہاز اڑتے ہیں

تمہاری نظمیں اس لڑکی کے لئے ہیں
جس کے بدن پر
انسانی حقوق کے دن سگریٹ داغے گئے

تمہاری نظمیں اس آدمی کے لئے ہیں
جو تیزی سے زیادہ فاصلہ طے کر کے
جیت کے نشان پر پہنچا
اور خاموشی سے ہار گیا

سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں کسی اخبار کے لئے نہیں
جس سے شیشے صاف کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے

تمہاری نظمیں کسی جوکر کے لئے بھی نہیں
جو سرکس میں قہقہے بیچتا ہے

تمہاری نظمیں بسکٹ کے اشتہار کے لئے بھی نہیں
جس میں عریاں لڑکی ضروری ہے

تمہاری نظمیں اس آدمی کے لئے ہیں
جو بم دھماکے میں مار دیا گیا
زندہ جلا دیا گیا
-یا-
اچانک غائب ہو گیا
Categories
شاعری

ایک یاد رہ جانے والا خواب

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک یاد رہ جانے والا خواب

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم ایسے جزیرے پر زندہ ہیں
جس کے تین اطراف گہرا سمندر ہے
چوتھی طرف ایک جنگل
جس کا سرا ڈھونڈنے والے
کبھی واپس نہیں آئے

 

یہاں پائے جانے والے سبھی درخت
پتوں سے خالی ہیں
مگر ان پر سر جتنے بڑے پھل لگتے ہیں
یہاں پائے جانے والے سبھی پرندے گونگے ہیں

 

خوابوں کی طرح رینگتے ہوئے دکھ
ہمیں آنے والے دنوں کے لئے
زندہ رکھتے ہیں
دور کہیں جاتی کسی کشتی کے سائے کو دیکھ کر
ہم دیوانہ وار چیختے ہیں
ہاتھ ہلاتے ہیں
اور سورج ڈھلتے ہی چپ چاپ لیٹ جاتے ہیں

 

تارے ہماری عورتوں کو
ناسمجھ آنے والے گیت سناتے ہیں
اور ایک اور دنیا کی طرح ڈوب جاتے ہیں
جو ہمارے لئے ایک خواب کی طرح ہے

 

ہم ایک وقت کی خوراک اور پتوں کے لباس میں خوش تھے
اگر ہمارے بچے نہ پوچھتے
ہماری برہنگی کو کس نے دریافت کیا

 

ہم ہررات خوابوں میں
زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔!!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]