Categories
شاعری

ایک معمول کا دن

حفیظ تبسم: آج پھر بوڑھے ہوتے شہر میں
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا
ایک معمول کا دن
آج پھر بوڑھے ہوتے شہر میں
بے بسی قہقہے لگاتی رہی
اور نیند کے سگریٹ پھونکتے پہرے دار کی میت
سردخانے کی دیوار میں چُن کر
لاوارث کا لیبل چسپاں کر دیا گیا

ڈاکئے خوف کے خط بانٹ کر
شام سے پہلے گھر لوٹ گئے
او ر بند کواڑوں میں مقید لوگ
اجنبی کی دہشت زدہ آنکھوں پر تبصرہ کرتے رہے
جو ہر راہگیر کو روک کر
سستانے کا دعوت نامہ دے رہاتھا

ٹیلی ویژن اسکرین پر
لڑکیوں کے خواب لاپتہ ہونے کی بریکنگ نیوز
اور اخبار کے دفتر کی سیڑھیوں پر
ہیجڑے حقوق کے کارڈ اٹھائے
بلیک میل ہوتے رہے
اور میں نیند سے معذرت کرکے
کرسی پر دو زانو بیٹھا
چائے کے خالی کپ سے مکالمہ کرتا رہا
جس پر انقلابی نعرہ درج تھا

By حفیظ تبسم

حفیظ تبسم 10 جنوری 1990 کو ملتان کے نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ لکھنے کا آغاز اسکول کے زمانے میں کیا ۔ اب تک ان کے چار شعری مجموعے بالترتیب خوشبو کا جزیرہ (ہائیکو)، سرد موسم میں دھوپ کا کونا (ہائیکو)، دو سمندروں کے درمیان نظمیں، دشمنوں کے لیے نظمیں شائع ہو چکی ہیں۔
آج کل وہ فکشن اور تنقیدی مضامین لکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *