Categories
شاعری

ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے – (سبین محمود کے لیے) – مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ
نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں
آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم
درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی
فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی
تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟

ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں
آپ کی چلتی ہوئی بندوقوں کا ردھم توڑ دیتا ہے
اور آپ اپنے کانوں میں انگلیاں دبا کر
اپنی بیرکوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں

آپ جتنی بھی کانوں میں انگلیاں دبا لیں مگر
میں چیخ کر بتاتا رہوں گا کہ مجھے طبعی موت
مرنے کا سرٹیفیکیٹ کیوں نہیں دیا گیا حالانکہ
میرے تمام کاغذات پر کرنل علیم کی مہر تصدیق ثبت تھی
میں بہت زور سے چیخوں گا
چاہے میری چیخ سے خدا کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں
خدا کی بینائی تو آپ پہلے ہی چھین کر
خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے لئے خصوصی عینکیں
بنا رہے ہیں جنہیں پہننے کے بعد آپ فوراً
تلاش کر لیتے ہیں کہ صبین محمود کہاں ہے ؟

ماما قدیر تو چلنے کے لیے ہر روز اپنے پیروں
کو اسلام آباد کا راستہ یاد کرا رہا ہے
مگر ماما قدیر کسی بھی مسخ شدہ لاش
کو چلنا نہیں سکھا سکتا
چاہے اس لاش کے پیروں پر
اسلام آباد سے لے کر بلوچستان تک
کے سفر کا تمام نقشہ موجود ہو
جس پر گوگل میپ اعتماد
کرتے ہوئے کبھی نہ جھجھکے

Categories
شاعری

ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

سبین محمود
لڑکیوں کے لیے خواب دیکھنا
مشکل ہے، جیسے
گھر کے پچھواڑے میں گلے ملنا
یا
ماں کے کان میں مشورے کرنا
اپنا خدا تراشنے کے بارے میں
اور تمہارے خواب ہر گز ایسے نہیں تھے

تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے

تمہارے خواب فٹ پاتھ کے احترام میں جھک جاتے
فٹ پاتھ پناہ گاہ ہوتا ہے
جن کے انتظار میں کوئی دروازہ نہیں کھلا

تمہارے خواب
تصویریں پینٹ کرتے تھے
جو کسی برسی پر رکھی جا سکیں
یا
کاری قرار دی لڑکی کو
آخری تحفے میں دے کر وداع کیا جائے

اور سبین محمود ایسے خواب دیکھنا ممنوع ہے
اس لیے مار دیئے گئے
اخبار نے خبر چھاپنے سے معذرت کر لی
اور تمہاری موت
ہمیں ایک نظم لکھنے پر آمادہ نہ کر سکی

Categories
نقطۂ نظر

ہمارے ضمیر پر دستک دینے والے

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ ماما قدیر اوراروم شرمیلا جیسے لوگ جو لانگ مارچ کرتے ہیں، یا بھوک پڑتالیں کرتے ہیں کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے جیسے ملکوں میں کبھی بھی کوئی بھی ان کی بات نہیں سنے گا
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ ماما قدیر اوراروم شرمیلا جیسے لوگ جو لانگ مارچ کرتے ہیں، یا بھوک پڑتالیں کرتے ہیں کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ ہمارے جیسے ملکوں میں کبھی بھی کوئی بھی ان کی بات نہیں سنے گا۔ مجھے اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیوں اپنی زندگیوں سے پیار نہیں کرتے؟ کیا انہیں میرے جیسے مڈل کلاسیوں کی طرح ڈر ڈر کر اور سمجھوتے کر کے زندہ رہنا نہیں آتا؟ کون ہے جو انہیں اتنی طاقت دیتا ہے کہ یہ لوگ لاکھوں فوجیوں کے سامنے بھی سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عجیب لوگ ہیں جو ہر وقت انصاف مانگتے ہیں۔ عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں، پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی کیمپ لگاتے ہیں، یہ چپ ہو کر کیوں نہیں بیٹھ جاتے؟ یہ باقی سب کی طرح صبر کیوں نہیں کرتے؟ یہ آمنہ مسعود جنجوعہ کو پتہ نہیں کہ یہاں اٹھائے جانے والوں کا کوئی ریکارڈ نہیں، ان میں سے اب کسی نے واپس نہیں آنا؟ یہ سبین محمود ٹائپ لوگ ڈرتے نہیں؟ یہ پروین رحمان جیسے انسان کیوں کچی بستوں کے لیے اپنا جی ہلکا کرتے پھرتے ہیں؟ یہ ملالہ جیسی لڑکیاں مرتی کیوں نہیں؟ اور اگر بچ جاتی ہیں تو پھر ساری دنیا کا درد کیوں پال لیتی ہیں؟

 

مختیاراں مائی کے متعلق خبریں پڑھ کر میں ششدر رہ گیا، کیا وجہ تھی کہ یہ عورت اپنے جیسی ہزاروں عورتوں کی طرح خود کشی کرنے کی بجائے چیخ چیخ کر انصاف مانگنے لگی؟ یہ اوکاڑہ کے مزارعین کیوں اس ملک کے طاقتور ترین ادارے کے سامنے چند سو مربعے زمین کی خاطر ڈٹ گئے ہیں؟ کچھ دے دلا کر چپ ہو جائیں، کہیں اور جا کر زمیندارہ کر لیں، اب انسداد دہشت گردی کے مقدمے بھگت رہے ہیں۔ یہ جو لوگ گمشدہ بلوچوں کی تصویریں لے کر پہنچ جاتے ہیں، یہ جو عورتیں کپڑے اتار کر کہتی ہیں کہ ہندوستانی فوج ہمارا ریپ کرتی ہے اور یہ جو ترقیاتی منصوبوں میں آنے والی زمینیں اور گھر بچانے کو بلڈوزروں کے سامنے لیٹ جاتے ہیں ان کو کسی نے نہیں سمجھایا کہ دنیا اس طرح نہیں چلتی؟ دنیا بڑے بڑے منصوبوں اور پریس کانفرنسوں پر چلتی ہے۔

 

کوئی ان کو کیوں دنیا داری کا سبق نہیں پڑھاتا، یا اگر پڑھاتا ہے تو انہیں سمجھ کیوں نہیں آتا کہ بھائی یہ دنیا اسی طرح چلتی آئی ہے، اسی طرح چلتی رہے گی۔ ریپ ہوتے رہیں گے، قاتل چھُٹتے رہیں گے، حکومتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی رہیں گی، میٹرو اور ڈیموں کی زد میں گھر آتے رہیں گے، عدالتیں سوئی رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا اسی طرح چلتی رہے گی، تم لوگ کیوں خواہ مخواہ اپنا آپ ہلکان کرتے ہو، دھوپ میں نکلتے ہو، لاٹھیاں کھاتے ہو، آنسو گیس میں سانس لیتے ہو، ربڑکی گولیاں جھیلتے ہو؟ کچھ فائد ہ ہے اس سب کا؟ کچھ دے دلا کر کچھ مک مکا کر کے سائڈ پر ہو، خود بھی جیو اور اوروں کو بھی جینے دو۔

 

کوئی ان کو کیوں دنیا داری کا سبق نہیں پڑھاتا، یا اگر پڑھاتا ہے تو انہیں سمجھ کیوں نہیں آتا کہ بھائی یہ دنیا اسی طرح چلتی آئی ہے، اسی طرح چلتی رہے گی۔
یہ کیمرے شیمرے اٹھا کر ہر جگہ جو پہنچ جاتے ہیں، کبھی ڈی ایچ اے کے گھپلے بتاتے ہیں، کبھی ایل ڈی اے کی کرپشن سامنے لے آتے ہیں، کبھی پانامہ لیکس کی چرچا کرتے ہیں، کبھی حکمرانوں کے اثاثے سامنے لے آتے ہیں، یہ صحافی اور رپورٹر اور ایڈیٹر۔۔۔۔ کیا انہیں پتہ نہیں کہ ان کی وقعت ان کے چینلوں اور اخباروں کے مالکان کے نزدیک ایک مکھی کے برابر بھی نہیں ہے۔ یہ پھر بھی ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں کوئی دھماکہ ہو، کوئی ہلاکت ہو کسی قسم کی بھی کوئی خبر ہو۔

 

آخر ان لوگوں کو ملتا کیا ہے جو ہمارے ضمیر پر ہر روز دستک دیتے ہیں، ہر روز ہمیں جھجھوڑتے ہیں، انصاف کی اپیلیں کرتے ہیں، ہماری پر آسائش زندگی میں باہر بہنے والے خون اور گندے پانی کی کیچڑ سے لتھڑے جوتے لے کر آ جاتے ہیں، یہ کیوں ہمیں ان تکلیف دہ ور بدصورت حقائق کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن کو نہ جان کر ہم زیادہ خوش رہ سکتے ہیں۔ یقین جانیے اگر ہم ان مٹھی بھر بے لوث، بے غرض اور درد مند لوگوں سے جان چھڑا لیں تو یقیناً ہم بڑی آسانی سے اپنے اپنے ضمیروں کو سلا کر چین کی بنسی بجا سکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

میں سبین محمود کو نہیں جانتا تھا

میں واقعی سبین محمود کو نہیں جانتا تھاجب تک ان کے قتل کی اطلاع مجھ تک نہیں پہنچی تھی مجھے علم ہی نہیں تھا کہ کوئی سماجی کارکن کراچی میں سبین محمود نام کی بھی ہے، جس کا اپناکوئی کیفے ہے، جو مختلف عنوانات پر سیمینار کرواتی ہے، جو عموماً سول سوسائٹی کے اجتماعات میں جایا کرتی ہے، یہ سب باتیں اس خاتون کے قتل کے بعد میرے علم میں آئی ہیں۔
جب تک ان کے قتل کی اطلاع مجھ تک نہیں پہنچی تھی مجھے علم ہی نہیں تھا کہ کوئی سماجی کارکن کراچی میں سبین محمود نام کی بھی ہے، جس کا اپناکوئی کیفے ہے، جو مختلف عنوانات پر سیمینار کرواتی ہے، جو عموماً سول سوسائٹی کے اجتماعات میں جایا کرتی ہے
میرے علم میں تو یہ بھی نہیں تھا کہ کوئی فرزانہ مجید بلوچ نام کی لڑکی بھی ہے جس کا بھائی لاپتہ ہے، وہ تو پچھلے سال چھوٹی عید پر ٹی وی آن کرکے دیکھا تو پتہ چلا کہ عید کے روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کا کیمپ لگا ہوا ہے۔ یہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ اگر میرا بھائی قصوروار ہے تو اسے بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ مجھے اس لڑکی کی باتوں میں گہرا غم وغصہ سنائی دیا۔مگر خیر چھوڑیئے ہم اور آپ کوئی پاگل تو ہیں نہیں کہ ان باتوں کو لے کر بیٹھ جائیں جو وسیع تر قومی مفاد کے خلاف بھی ہوسکتی ہیں۔
اور ہاں!! ایک آدمی تھا جس کا نام تھا پروفیسر صباد شتیاری وہ بلوچستان یونیورسٹی میں اسلامیات پڑھایا کرتا تھا۔ اسے کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔ مجھے اس کی سرگرمیوں کا علم بھی، اس کے قتل کی خبر جان کر ہی ہوا تھا۔اسی طرح ایک لڑکا تھا جس کا نام ثناء سنگت بلوچ تھا یقین جانئے مجھے اس کے بارے میں جب تک وہ زندہ رہا کچھ معلوم نہیں تھا۔ ایک دن اخبار میں مسخ شدہ لاش ملنے کی خبر چھپی جسے ثناء سنگت بلوچ کے نام سے شناخت کیا گیا تھا۔اس خبر میں لکھا تھا کہ ذاکرمجید بلوچ اور ثناء سنگت کے اغوا کا معاملہ ایک جیسا ہی تھا تبھی تو ذاکر مجید کی بہن فرزانہ مجید کہہ رہی تھی کہ اگر میرا بھائی بھی اغوا کے بعد مر چکا ہے تو اس کی لاش بھی مل جانی چاہیئے۔ دراصل فرزانہ کو ذاکر مجید کی بطور اپنے بھائی کچھ زیادہ فکر نہیں، وہ توکہہ رہی تھی کہ میرا باپ بوڑھا ہےتو بہتر یہی ہوگا کہ وہ بیچارہ مرنے سے پہلے ایک بار اپنے بیٹے کے زندہ یا مردہ ہونے کی خبر سن لے۔ ہاں بھئی! کہتی تو وہ لڑکی سچ ہی تھی، بوڑھے بلوچ ماں باپ کا اپنے لاپتہ جوان بیٹے پر اتنا حق تو ہوتا ہی ہے۔ خیر۔
ایک آدمی اور بھی تھا، جس کا نام تھا بشیر قریشی،ستم ظریفی دیکھئے! مجھے اس شخص کا بھی اس کے مرنے سے پہلے علم نہیں تھا۔اسی طرح کوئی دو مہینے پہلے سندھ کے ایک لڑکے کے بھی قتل ہونے کی اطلاع تھی جس کے باپ نے اسے سیاہ کلہاڑی والے لال پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا تھا۔ مجھے اس کا نام یاد نہیں آرہا کوئی مختلف سا نام تھا مگر میں اُس کے نام کو گوگل پہ تلاش نہیں کروں گا کیونکہ میں یہ فیصلہ کرکے بیٹھا ہوں جو کچھ بھی میں لکھنے جا رہا ہوں اسے اپنی یاداشت سے ہٹ کر نہیں لکھنا۔اسی طرح کوئٹہ میں ایک خاتون پروفیسر قتل ہوئی تھیں جن کا نام تھا پروفیسر ناظمہ طالب یا شائد ناظمہ طالب مہدی۔۔ پتہ نہیں۔ بہرحال ایسا ہی کوئی نام تھا۔ میں انہیں بھی قتل سے پہلے نہیں جانتا تھا۔
میں پاکستانی ہزارہ برادری کے کوئٹہ میں واقع محلوں سے تب تک آگاہ نہیں تھا جب تک کہ ان کا قتل عام شروع نہیں ہوا مگر اب مجھے پتہ ہے کہ وہاں ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد کے رلاقوں میں ہزارہ رہتے ہیں
میں پاکستانی ہہ ہزارہ برادری کے کوئٹہ میں واقع محلوں سے تب تک آگاہ نہیں تھا جب تک کہ ان کا قتل عام شروع نہیں ہوا مگر اب مجھے پتہ ہے کہ وہاں ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد کے علاقوں میں ہزارہ رہتے ہیں جو اپنے محلوں سے باہر اس لیے نہیں جاتے کیونکہ انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔۔ وہ یونیورسٹی بھی نہیں جاتے، ملازمتیں بھی نہیں کرپاتے اور تو اور کھلے عام میل جول بھی نہیں رکھتے، جان کس کو پیاری نہیں ہوتی(نجانے کیوں مجھے یہ سب لکھتے ہوئے یہودیوں کی نسل کشی اور اس پر بنی فلمیں یاد آ رہی ہیں)۔
اعتزاز، ملالہ،شفقت حسین، جولین اسانج، ایڈورڈسنوڈن، پروین رحمان اور نجانے کتنے اور بھی سینکڑوں ہزاروں افرادجن سے میں کبھی نہیں ملا، کبھی بھی نہیں۔میں نے توابھی پورا پنجاب تک نہیں دیکھا، میں کبھی سندھ، بلوچستان، گلگت، کشمیر، کہیں نہیں گیا۔ بس پشاور گیا تھا چرسی تکہ والے کے پاس۔ ایک دوست نے کہا کہ اسلام آباد میں ہو اور پشاور نہیں دیکھا۔۔ حد ہے۔ چلو۔ چرسی چلتے ہیں اور میں چلا گیا، میں کیا جانوں کہ سندھ کیا ہورہا ہے اور مجھے کیا معلوم کہ بلوچستان کیسا ہے۔
چھوڑیئے فضول باتیں ہیں جنہیں شاید کوئی نہ چھاپے مگر میں یہ بھیجوں گا ضرور کیوں کہ یہ بلاگ نہیں ہے، یہ کالم یا مضمون بھی تو نہیں ہے۔یہ ایک احساس ہے، کچھ آنسو ہیں، تھوڑا غم ہے۔ یہ اُس سب کچھ کا ایک حصہ ہے جو کسی گرد کی طرح دماغ میں کہیں جمع ہے۔ میں نے یہ گرد اس لیے جھاڑی ہے کہ اب یہ بڑھتی ہی چلی جارہی تھی، میں یہ سب کچھ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ان افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جن کے مرنے کی خبر سے ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ میں خوفزدہ ہوں، مجھے علم ہے کہ میں ماما قدیر یا فرزانہ مجید نہیں ہوں کہ مجھے کچھ ہو جائے تو بلوچ قوم پرست شور مچانے لگ جائیں گے، میں سبین محمود بھی نہیں کہ ہر اخبار اور ہر رسالے میں میری مشکوک موت پر مضامین لکھے جائیں اور سِول سوسائٹی والے سڑکوں پر آجائیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ میں خوفزدہ ہوں، مجھے علم ہے کہ میں ماما قدیر یا فرزانہ مجید نہیں ہوں کہ مجھے کچھ ہو جائے تو بلوچ قوم پرست شور مچانے لگ جائیں گے، میں سبین محمود بھی نہیں کہ ہر اخبار اور ہر رسالے میں میری مشکوک موت پر مضامین لکھے جائیں اور سِول سوسائٹی والے سڑکوں پر آجائیں۔ میں تو سلیم شہزاد بھی نہیں، میں رضا رومی بھی نہیں، میں حامد میر بھی نہیں ہوں، کہ صحافی شور مچائیں گے۔
میں تو بس میں ہوں جس کی شناخت خاندان اور چند دوستوں سے باہر موجود نہیں۔ مجھے معاف کیجئے گا میں ایک منتشرمزاج شخص ہوں جسے اول فول لکھنے اور بولنے کاخبط ہے۔میں نے آج صبح ہی درج بالاعنوان پر ایک کثیرالاشاعتی اخبار میں ملک کے ایک ممتاز لکھاری کاکالم پڑھنے کی غلطی کی جس میں سبین محمود کے قتل پر شائع ہونے والے اکثر مضامین پر بھونڈی تنقید کی گئی تھی۔ مجھے لگا کہ جیسے موصوف مصنف اُس لمحے ہمارے معاشرے میں اس طے شدہ روایت کو بھی پسِ پشت ڈال چکے ہیں جس کے مطابق خواتین کا قتل روا نہیں ہوتا۔کسی بھی صورت!!لوگ کہتے ہیں سبین پرلکھنے والے اپنے غیرملکی آقاؤں کے ایجنڈے پر عمل پیراء ہیں۔ اوئے میرے کیہڑے غیرملکی آقا؟؟ میں تے “پنجابی” آں، سونہہ رب پاک دی!! لیکن پھر بھی اگر میری گم نامی بھی کسی اخباری خبر کی مرہون منت ختم ہوئی تو؟؟؟
Categories
نقطۂ نظر

فاصلہ نہ رکھیں، پیار ہونے دیں

سبین محمود ایک بہادر عورت تھی۔ معاف کیجئے گا، سبین محمود ایک بہادر عورت ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں عورت ہونا ایک قبیح فعل سمجھا جاتا ہے، اس پر طرہ یہ کہ عورت بھی اور بہادر بھی، یعنی یک نہ شد دو شد۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہم چار عدد بہادر عورتوں کو گولی مار چکے ہیں، ان میں سے ایک کو نیم مردہ حالت میں برطانیہ لے جایا گیا تو ہی وہ بچ پائی۔ بینظیر بھٹو کو کس نے کہا تھا کہ اس ملک میں انصاف اور سویلین اجارہ داری کی بات کرے، پروین رحمان کو کراچی کی کچی آبادیوں کی حالت زار پر کیوں مروڑ اٹھ رہے تھے، گل مکئی کو یہ کیا سوجھی کہ طالبان کی اصلیت فاش کرنے کا بیڑہ اٹھا لے، سبین محمود کو ہندووں، احمدیوں اور بلوچوں سے اتنی ہمدردی کیوں تھی؟ کیا یہ خواتین اس بات سے ناواقف تھیں کہ اس ملک میں عورت کا کام چادر، چار دیواری اور چولہے کی تکون تک محدود ہے؟ کیا یہ خاموش رہ کر اپنی زندگی نہیں بچا سکتی تھیں؟ ہمارے گھروں میں بھی عورتیں موجود ہیں، چاہے جس بھی حالت میں ہیں، خاموش ہیں، خوامخواہ اپنی زندگی خطرے میں نہیں ڈالتیں، اسی لیے اب تک محفوظ ہیں۔
اب تو ماما قدیر کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسکی وجہ سے کبھی حامد میر تو کبھی سبین محمود کو گولی کھانی پڑتی ہے،اسکی بات کرنے پر نجم سیٹھی کی آواز اسکے پروگرام پر سنسر کر دی جاتی ہے۔
اور یہ بلوچوں کو چین کیوں نہیں پڑتا؟ ستر سال ہونے کو آئے ہیں، ان کے مسئلے ہی حل نہیں ہو پا رہے۔ ماما قدیر پورا پاکستان پیدل پھر چکا ہے، اور کیا چاہے اسکو؟ اور بھی تو بلوچ ہیں جن کے جوان بیٹے دن دیہاڑے اغوا کر لیے جاتے ہیں اور کبھی زندہ تو کبھی مردہ حالت میں انکے تشدد زدہ جسم صوبے کے مختلف حصوں سے برآمد ہوتے ہیں۔ وہ سب آواز کیوں نہیں اٹھاتے، یہ ماما قدیر ضرور کسی بیرونی طاقت کا ایجنٹ ہے جو کبھی LUMS تو کبھی اسلام آباد تو کبھی کراچی جا کر اپنا دکھڑا سناتا رہتا ہے۔ وہ جو تربت میں بیس پنجابی مزدور مارے گئے، ان کی بات کیوں نہیں کرتا یہ ماما، بڑا آیا انسانی حقوق کا علم بردار۔ اب تو ماما قدیر کو یہ بات سمجھ لینی چاہے کہ اسکی وجہ سے کبھی حامد میر تو کبھی سبین محمود کو گولی کھانی پڑتی ہے، اسکی بات کرنے پر نجم سیٹھی کی آواز اسکے پروگرام پر سنسر کر دی جاتی ہے۔ اب ہمیں مان لینا چاہیے کہ یہ یہاں کسی کو بندوق کی آواز سے اونچی آواز اٹھانے کی اجازت نہیں، گولیوں کی سنسناہٹ میں سسکیاں لینے کی اجازت نہیں اور خاکی وردیوں کی آستینوں پر مقتولوں کے خون کے دھبے تلاش نہیں کیے جاسکتے۔
سبین نے گزشتہ دس سال میں بہت سی قوتوں سے تصادم کا راستہ اپنایا، ان میں ملا بھی شامل تھا، سیاسی جماعتیں بھی، حساس ادارے بھی اور افسر شاہی بھی۔ کچھ سال قبل خلافتی ملاؤں نے ملک بھر میں ہر سال منائے جانے والے محبت کرنے والوں کے دن کے خلاف اشتہار لگائے تو سبین اور اسکے ساتھیوں نے ان بینرز کے سامنے ’فاصلہ نہ رکھیں، پیار ہونے دیں‘ کے پیغام پر مشتمل پلے کارڈوں سمیت تصاویر کھچوائیں اور سوشل میڈیا پر لگا دیں۔ حسب معمول، ملا ؤں اور انکے حواریوں کے دلوں پر سانپ لوٹ گئے اور ایک کہرام برپا ہو گیا۔ ملا ہمارے ذہن پر، ہماری خوشی پر، ہمارے اظہار پر پہرہ بٹھانا چاہتا ہے، سبین کو یہ بات منظور نہ تھی اور وہ اظہار کے نت نئے طریقوں کو فروغ دیتی رہی۔ کراچی میں واقع T2F ایک ایسی جگہ ہے جہاں مختلف نقطہ ہائے نگاہ کو اظہار کا مکمل موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
سبین محمود ایک بہادر عورت تھی۔ معاف کیجئے گا، سبین محمود ایک بہادر عورت ہے۔ اور یہ ملک شائد اب بہادر خواتین کا اہل نہیں رہا۔ یہ ملک اب محض “پیشہ وار قاتلوں” کا ملک ہے جو ہر روپ بہروپ میں بندوقیں اٹھائے ہمیں ہم سے بچانے کے لیے ہمیں ہی ماررہے ہیں ؛

 

روشنی میں مشکل تھا
قتل روشنی تم سے
اس لیے جوانمردو
رات کے اندھیرے میں
تم نے مجھ کو مارا ہے
تم بہت بہادر ہو
تم نشان حیدر ہو