بھکارن

نور الہدیٰ شاہ: بس نقلی نوٹ کی سی اک نگاہِ محبت عطا ہو جائے جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے

اب کوئی آواز آتی نہیں

وجاہت مسعود: جوانی کے کچھ بعد کان بہت تیز ہو جاتے ہیں بس ناک اور کان کے بیچ جھولتا ہوا پل منہدم ہو جاتا ہے اور کوئی آواز نہیں آتی

میں کیا اوڑھوں؟

عارفہ شہزاد: اردگرد کی دیواروں کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا جب تک ان کے درمیان کے راستے پر بار بار پاوں نہ دھرے جائیں

خوبانی

عمران ازفر: خوبانی ہے جلتے جسم کی حیرانی میں تازہ نرمیلی قاشیں ہیں جو اک تھال کے بستر اوپر لمبی تان کے سوتی ہیں اب بیج بدن میں پھوٹتے ہیں اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں

گلابی اور نارنجی

رفعت ناہید: بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی اور درخت منتخب کر لیے ہیں اور دریا کے کناروں پر بڑی بڑی دراڑوں میں زہریلی بوٹیاں اگ آئی ہیں