Categories
شاعری

قصیدہ ماہِ بہمن کے انسان کا

قصیدہ ماہِ بہمن کے انسان کا

احمد شاملو کی نظم

(فارسی سے ترجمہ)

__________________

تجھے کیا پتہ بڑے پن کی چنگھاڑ کیا ہے،

وہ کیا پہاڑ ہے،

جو توڑ کر بکھیر دینے والے شکنجے میں بھی روتا تک نہیں

تجھے کیا پتہ جب خوف کی حاکم آنکھ اندھی ہو جائے

تو محکوم کی بے جھپک آنکھوں کا اطمینان،

کیسا دریا ہوتا ہے!

 

تجھے کیا خبر کہ مرنا کیا ہے،

جب آدمی نے موت کو ہرایا ہے،

تو کیسا ہوتا ہے جینا

تجھے کیا پتہ کہ جینا کیا ہوتا ہے، جیتنا کیا ہے،

تجھے کیا پتہ کہ ایرانی کون ہوتا ہے!

 

تجھے کیا پتہ

جس وقت تو نے مٹی کی کھال اور پکی اینٹوں کی ہڈیوں سے

اس کی قبر کو پُر کیا

اور تیرے ہونٹوں پر سکون بھری ہنسی آئی

اور ایک قہقہے کے دھماکے نے تیرا گلا پھاڑ دیا

جس وقت تو نے سمجھا کہ اس کی زندگی کا گوشت

اس کے تن کی ہڈیوں سے الگ ہو چکا،

کیسے اس کی زندگی کا سرخ ڈھول گونج اٹھا تھا،

زمین کے نیچے بہتی کاریزوں کی رگوں سے،

شہرِ آبادان کے سینے سے

اور اس کے طوفانی رزمیے نے نظم کہنی شروع کی

تین منہ سے، سو منہ سے، ہزار منہ سے

تیس ہزار منہ سے

خون کے قافیے سے

انسان کے لفظ سے، حرکت کے لفظ سے، تیز چلنے کے لفظ سے

آنے والے کل کی اس تھاپ پر

جو چلتی رہتی ہے

جو گرتی ہے پھر اٹھتی ہے

جو اٹھتی ہے، اٹھ جاتی ہے، گر پڑتی ہے

جو اٹھتی ہے، اٹھ جاتی ہے،

 

جس کی چال

رگوں سے پھوٹ نکلنے والے لہو کی سی تیز ہے

جو تاریخ کی پگڈنڈی پر ڈگ بھرتی ہے

چین میں،

ایران میں، یونان میں

انساں، انساں، انساں، انساں ہا

اور جو دوڑتی ہے لہو کی طرح، تیز ڈگ سے

تاریخ کی رگ میں، ویتنام کی رگ میں، آبادان (2) کی رگ میں

انساں، انساں، انساں، انساں، انساں ہا!

اور ایسے سیلاب کی مانند جو

اپنی تاریخ کے عظیم مصرعوں میں دیوار کے اوپر سے گزر جاتا ہے

ہزاروں قافیوں کی دیوار سے:

چوری چھپنے کا قافیہ

اندھیرے کا قافیہ

اوجھل ہو نے کا قافیہ

جرم کا قافیہ

انسان کے برابر میں زندان کا قافیہ

اور قافیہ جسے چھوڑ دیا وہ ہے،

ایڈولف رضا خان کا قافیہ

اور ہر مصرعے کے آخر پہ وہی “نون”

ایک چپکتا ہوا قافیہ

قافیۂ خون!

 

اور سیلاب کی تھاپ

جو ہزاروں خونی قافیوں کی دیوار پر سے گزر گئی:

خوں، انساں، خوں، انساں

انساں، خوں، انساں۔۔۔

اور ہر انسان سے خون کا ایک سیلاب

اور ہر قطرے سے ہزاروں انسانوں کا سیلاب:

امَر انسان

ماہِ بہمن (1) والا انسان

پولیتزر (3) والا انسان

ژاک دوکور (4) والا انسان

چِین والا انسان

انسانیت والا انسان

ہر دل کا انسان

کہ اس دل میں، ہر خون

کہ اس لہو میں، ہر قطرہ

قطرہ قطرہ آدمی

کہ اس قطرے کے دم سے، ہر تپش

کہ اس تپش کے دم سے، ہر زندگی

مطلق انسانیت ہے

 

اور ہر انسان کی زندگی کی نظم

جو ایک خون کے لال قافیے پر ختم ہو

ایک تاریخ میں تا ابد سُولی پہ لٹکا ہوا ایک مسیح ہوتی ہے

 

اور وہ انسان جو بیڑیوں میں بندھے پَیروں کے ساتھ

اپنے لہو کے ڈھول کی تھاپ پر اپنی تاریخ گاتے ہیں

ایک ہی دین کے عالمگیر اصحاب ہیں

اور ہر پھانسی کے منہ سے اگلتی ہر خون کی قے سے

کسی تاناشاہ کی مرضی مرجھا جاتی ہے

ایک جنت کے دروازے پہ اُگے کنیر کے پودے کے پاس ہی۔۔۔

اور میرے برابر کھڑے ہر انسان کے ہر خون کا قطرہ قطرہ

ایک سیلاب ہے

جو تاریخ کے تیز بھاگتے ہووں کے عقب میں

ایک پُل کو توڑتا رہتا ہے

 

اور ہر جسم پر گولی کا ہر چھید

ایک ایسا دروازہ ہے کہ تین بندے، سو بندے، ہزار بندے

کہ تیس لاکھ بندے

آنے والے کل کے زمردی بُرج کی جانب رواں

اس میں سے گزر جاتے ہیں

 

اور ماس سے آر پار ہر گولی کی گزرگاہ

ایک ایسے کتے کا منہ ہوتی ہے

جو کسی بادشاہ کے دبدبے کو

کسی معذور خانے میں پڑا چبا جائے

 

ہر وہ جس کے پاس کچھ نہیں،

اس کے جنازے کے کھلے منہ کا لقمہ ہے۔۔۔ بادشاہ

رضا خان

یہ ہے ایک بادشاہ کا شرف

جس کے پاس کچھ بھی تو نہیں

 

اور وہ جس کے ایک قبا تن پہ ہے اور تین صندوق میں

اور وہ جس کے ایک نوالہ منہ میں ہے اور تین روٹیاں ہتھیلی پر

اور وہ جس کے ایک گھر شہر میں ہے اور تین گھر گاؤں میں

تاریخ کی قبا، روٹی، اور گھر کے ساتھ کیا ایسے کیا جاتا ہے

جیسا کہ تو نے کیا رضا خان

اسے انسان مت کہو

نہیں، اسے انسان مت کہو، انسان نہیں وہ

مجھے نہیں پتہ وہ کیا ہے

سوائے ایک سلطان کے۔۔۔

 

البتہ ایرانی کے خون سے ایک سر سبز بہار

اور معذور خانے کے کتے کے منہ میں شرمندگی کی ہڈی!

 

اور اس کی زندگی کی نظم، اس کے خون کے قافیے کے ساتھ

اور میری نظم کی زندگی

اس کے قافیے کے خون کے ساتھ

اور کتنا ہی زیادہ

ان کی زندگیوں کی نظموں کی بیاضوں کا گردپوش

ایک خون کے لال کفن سے مجلّد ہوا

اور کتنا ہی زیادہ

ان کی یرغمال زندگیاں لی گئیں

تاکہ ان کی سرداری کی تاریخ جنم لے سکے

 

موت کے ایک ساز کے ساتھ، ایک لورکا (5) کے گٹار کے ساتھ

انہوں نے اپنی زندگیوں کی نظم یوں گائی

جیسے وہ میری طرح شاعر ہی تھے

اور نظم ان کی زندگیوں سے الگ نہیں تھی

اور انہوں نے اپنی سرخ نظموں کے رزم ناموں میں

ایسی تاریخ گائی

کہ جس میں

دنیا کے بادشاہ

کسی گھوڑے کی ہوَنق سی ہنہناہٹ کے ساتھ

تخت پر نہیں آن بیٹھے

اور وہ کہ جنہوں نے انسانوں کو

اپنے انصاف کے ترازو کی کنڈی سے پھانسی پہ لٹکایا

اور منصف کہلائے

 

ان کی نظم ان کی زندگی سے الگ نہ تھی

اور اس میں کوئی دوسرا قافیہ نہ تھا

ماسوائے انسان کے

 

اور جس وقت ان سے ان کی زندگیاں چھینی گئیں

ان کی نظموں کا رزمیہ پہلے سے بڑھ کر طوفانی ہو رہا

خون کے قافیے میں

ایک نظم تین منہ سے، سو منہ سے، ہزار منہ سے

تیس ہزار منہ سے

ایک نظم خون کے قافیے والی

انسان کے لفظ والی

آنے والے کل کے مارچ کی دھمک کے ساتھ

ایک نظم جو چلتی ہے، گر پڑتی ہے، اٹھتی ہے، اٹھ دوڑتی ہے

زندگی کے ایک لحظے میں ایک نبض کے دھماکے کی سی تیزی کے ساتھ

تاریخ کی ڈگر پر چلتی رہتی ہے، انڈونیشیا میں، ایران میں

اور خون کی طرح پھڑکتی اور دھڑکتی ہے

تاریخ کے دل میں، آبادان کے دل میں

انساں انساں انساں انساں۔۔۔ انساں ہا۔۔۔

 

اور ان سارے لفظوں، اور اس ساری زندگی کے کاروان سے پرے

تیرا معذور خانے والا کتا دم توڑ دیتا ہے

شرمندگی کی ہڈی منہ میں لیے

حرص کی ہڈی لیے

تن کی ایک قبا اور بکسے کی تین قباؤں کی ہڈی لیے

منہ کے ایک نوالے اور بغل کے تین نوالوں کی ہڈی لیے

شہر میں ایک گھر اور جہنم میں تین گھروں کی ہڈی لیے

بے تاریخ ہونے کی ہڈی لیے

 

__________________

(1) ماہِ بہمن: ایرانی تقویم کا گیارہواں مہینہ۔ ایرانی سال 1357 شمسی میں اس ماہ کی بائیس تاریخ کو ایران کی عوامی طاقت نے شاہِ ایران کا تختہ الٹا۔ جو بعد میں ایران کا اسلامی انقلاب 1979ء کہلایا۔

(2) آبادان: ایران کا مشہور صنعتی شہر۔ انقلابِ بہمن کے دوران یہ تیل کی صنعت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ مزدور تحریکوں کا گڑھ شمار ہوتا تھا۔

(3) پولیتزر: یورپی انقلابی، مادی فلسفہ و نفسیات کا مفکر جارجی پولیتزر۔ (1903 – 1942)

(4) ژاک دوکور: (1896-1975) فرانسیسی انقلابی سیاستدان۔

(5) لورکا: ہسپانوی شاعر ڈرامہ نگار، اور مصور فریدریکو گارسیا لورکا (1898 – 1936)

Categories
تراجم شاعری

گھاس کا خواب اور دیگر نظمیں

الیاس علوی ایک نمایاں افغان شاعر اور بصری فنکار (visual artist) ہیں جو افغانستان کے صوبے دایکندی میں ایک ہزارہ خاندان میں 1982 میں پیدا ہوئے۔ جنگی حالات کے پیشِ نظر وہ ایران اور پھر آسٹریلیا ہجرت کر گئے، جہاں وہ فی الحال مقیم ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور آرٹ میں جلاوطنی، شناخت، اور ظلم جیسے شدید انسانی تجربات کو موضوع بناتے ہیں، اور فارسی ادبی حلقوں میں انہیں جدیدیت پسند تحریک کی ایک اہم آواز سمجھا جاتا ہے۔ ان کے شائع شدہ شعری مجموعوں میں “من گرگ خیالبافی ھستم”، “بعضی زخم ھا”، اور “حدود” شامل ہیں، اور انہیں کئی بین الاقوامی ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ معروف شاعر احسان اصغر نے ان کی چند نظموں کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے.

شاعر اور بصری فن کار الیاس علوی – بشکریہ نیشنل ایسوسی ایشن فار ویژیول آرٹسٹس

گفتگو
میں نے اپنی بہن سے کہا
شہر کے چوراہوں
اہم شخصیتوں کے محلوں
اور کابل کے مصروف بازاروں سے دور رہو

وہ بولی
مگر یہاں تو موت یوں موجود ہے
جیسے ہوا میں گرد وغبار
ساری کھڑکیاں دریچے بند بھی کر دو
تو یہ تمہارے کمرے میں پہنچ جائے گی ۔۔۔

۔۔۔۔

نظم

چاچا ! جب تم کنویں سے پانی نکالتے ہو
یا چائے کو جوش دیتے ہو
کیا اس سے خون کا ذائقہ نہیں آتا ؟

۔۔۔۔۔

میں یقین نہیں کروں گا

میری محبوب
جب موت تمہارے تعاقب میں آئے
کاش تپ دق کی صورت میں ہو
یا سخت سردی کی شکل میں
نہ کہ خود کش حملے کے نتیجے میں

تمہارے پاس مہلت ہو
کہ تم جائزہ لے سکو اپنی یادوں کا
اپنے جسم کے الگ الگ حصوں کا
اور طے کر سکو اپنے جانے کا طریقہ
یوں نہیں کہ تم گھر سے تو اپنے پیروں پہ نکلو
اور پھر ہم صرف تمہارے جوتے دیکھ پائیں
تمہارے ہاتھ تلاش کر سکیں نہ مسکراہٹ
اور نہ ہی تمہاری نگاہیں

میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں
تمہاری موت اور آخری سانس
میری ہی انگلیاں تمہاری پلکیں موندیں
لیکن ۔۔۔نہیں
میں ابد تک یقین نہیں کر سکوں گا
نہیں کر سکوں گا یقین ۔۔۔

۔۔۔۔۔

گھاس کا خواب

میری ماں کی فریاد
صنوبروں سے گزری
دریا سے گزری
پہاڑ تک پہنچ گئی
اور گھاس کی نیند خراب کر دی
اور میں پہلی بار رویا
بہت زور شور سے رویا
عورتوں نے نیک مستقبل کے لیے اسپند (1) سلگایا
بلائیں دور
بلائیں دور

ٹھیک اسی لمحے تپ دق
محلے کی سب سے حسین لڑکی کو ساتھ لے گیا
ایک آدمی کو ہم آغوشی کے جرم میں سنگسار کر دیا گیا
اور سڑک پہ بھوک ایک کتے کو بھنبھوڑ رہی تھی
جب وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے
کیا کوئی پہلی مرتبہ روئے گا ؟

۔۔۔۔۔

وہ دل گرفتہ تھا

شازیہ
عبدالصمد
شعیب
نوراللہ
عائشہ
زمری
حمید اللہ
زبیدہ
جلال الدین
نصیب
عقیلہ
نور محمد
جان آغا
شفیقہ
ایمل
شہرزاد
سب سو رہے تھے
کہ ایک اداس امریکی سپاہی
بستی میں وارد ہوا
وہ دل گرفتہ تھا
اس نے سگریٹ سلگائی
وہ دل گرفتہ تھا
اس نے اپنی بندوق کی طرف دیکھا
بندوق جو دل گرفتہ تھی
اس کے بعد اس نے سترہ بار لبلبی دبائی
اور پھر آسودہ ہو کر
اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ گیا ۔۔

1. اسپند: ایک جھاڑی نما پودا ہے (جسے اردو میں عام طور پر حرمل کہا جاتا ہے). اس کے سیاہ بیجوں کو عام طور پر نظر بد اتارنے کے لیے دھونی دینے اور روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

Categories
فکشن

لنچ ٹائم (تحریر: راجندر یادو، ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا کالا چوغہ چمگاڈر کے پروں کی طرح پھڑپھڑاتے وکیل صاحب نے کمرے میں گھستے ہوئے پوچھا: ’’کیوں اتنی زور زور سے ہنس رہے ہو؟ کیا بات ہوگئی؟‘‘

وکیل صاحب کے آتے ہی تینوں چپ ہو گئے تھے لیکن ہنسی تھی کہ مسکراہٹ بن کر پھوٹ رہی تھی۔ جیوتی نے برج کی طرف دیکھا اور میز کے کونے پر سر ٹیک کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس نے ساڑھی کا پلّو منہ سے لگا لیا۔ برج دوسری طرف منہ کر کے اس ہنسی پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا پھٹ پڑتا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دت نے سانس روک کر اپنا زیادہ سے زیادہ دھیان ان ہنستے ہوئے لوگوں سے ہٹا کر جیسے انجان بن کر پوچھا:’’لنچ ہو گیا؟‘‘

’’ہاں جی!‘‘ منہ میں سگریٹ لگا کر وکیل صاحب ماچس کی ڈبیا پر سیک مار رہے تھے، انھوں نے سر ہلایا۔

’’کیا ہوا؟ سرکاری وکیل زیادہ کراس کر رہا ہے کیا؟‘‘ دت نے نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھ لیا کہ برج جیوتی کی طرف اس کے بارے میں اشارہ کر رہا ہے۔۔۔ دیکھ سالا کیسا سنجیدہ ہو کر باتیں کر رہا ہے۔ اس کے پیٹ میں بگولا سا اٹھا اور ساری سنجیدگی جھٹکے سے اڑ گئی۔ وہ بھی پھٹ کر ہنس پڑا اور ایک دم اٹھ کر باہر برآمدے میں بھاگ گیا۔ دونوں منشی اور ایک موکل حیرت سے آنکھیں پھاڑے مسکراتے ہوئے ان کی ہنسی میں ساتھ دے رہے تھے۔

وکیل صاحب نے پہلا زور کا کش کھینچا اور ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا: ’’کیوں بھائی؟آخر کچھ بات بھی تو بتاؤ گے؟‘‘ وہ یہاں کا ماحول دیکھ کر مسکرائے۔

اس پر دونوں پھر ہنس پڑے۔ دت باہر برآمدے میں کھمبے کے پاس کھڑا ہنس رہا تھا۔ وکیل صاحب نے منشی رام سروپ سے کہا: ’’منشی جی!کیا بات ہے؟‘‘

منشی جی نے ہاتھ کی مسل کے کاغذوں کو الٹا سیدھا کرنا چھوڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئے کہا: ’’صاحب! ابھی دیوی سہائے جی آئے تھے۔۔۔‘‘

’’آپ کو ڈھونڈتے ہوئے،ملے نہیں؟‘‘ جیوتی نے انگلی سے سنہری کمانی کا چشمہ اوپر اٹھا کر، ساڑھی کے پلے سے آنکھوں کی کوروں کا پانی پونچھتے ہوئے کہا۔

’’کون دیوی سہائے؟‘‘ وکیل صاحب نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ اصل میں ان کے دماغ میں ابھی چلتے مقدمے کے سوال جواب ہی گونج رہے تھے۔ لنچ ٹائم میں جھنجھلائے ہوئے وہ چیمبر سے بھاگے آ رہے تھے۔ دماغ پریشان تھا۔۔۔ انھیں کتیا کے پیچھے لگے پلوں کی طرح اپنے ساتھ دونوں طرف لگے چلتے موکلوں سے اور بھی زیادہ چڑ چڑاہٹ ہو رہی تھی۔ ’’وکیل صاحب اس مقدمے میں کیا ہوگا؟ سرکاری وکیل تو یہ کہتا ہے۔‘‘ وغیرہ پوچھ پوچھ کر اس کی تو ناک میں دم کیے جا رہے تھے۔ وکیل صاحب نے انھیں جھڑک دیا تھا۔’’ارے بھائی مجھے کچھ سوچنے بھی دو گے یا یونہی دماغ چاٹتے جاؤ گے، مقدمہ خراب ہو جائے گا تو کہو گے کہ یہ ہوا، وہ ہوا۔‘‘ موٹی موٹی کتابوں کے گٹھڑ اور لاء رپورٹر کی فائلیں لیے دونوں موکل سہم کر پیچھے ہی رہ گئے تھے۔ وکیل صاحب نے سگریٹ کا کش کھینچ کر باہر کھڑے دت سے کہا: ’’چائے کے لیے کہہ دیا؟‘‘

’’جی صاحب! ابھی آرہی ہے۔‘‘ دت نے بڑی مستعدی سے جواب دیا۔ پھر وہ اندر آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’وہی دیوی سہائے صاحب ٹلو مار فرم سے جن کا چھ مہینے سے تنخواہ کا مقدمہ ہے۔‘‘ منشی نے بتایا۔

’’اوہ!‘‘ وکیل صاحب کو یاد آگیا، پھر انھوں نے ادھر دیکھا۔

’’کہہ رہے تھے ہماری تنخواہ وکیل صاحب دلا دیں تو اپنی لڑکی کی شادی کر دیں۔ بڑی لڑکی کو ’’چھوچھک‘‘ بھیجنا ہے۔ کوئی ان کی بھانجی بیاہی جا رہی ہے اسے بھات دینا ہے۔‘‘ دت نے بتایا۔ وہ ایک بار وکیل صاحب کی طرف دیکھتا اور ایک بار برج اور جیوتی کی طرف۔ وہ دونوں ایک دم ہنس پڑنے کے موڈ میں منہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھ رہے تھے۔

’’وکیل صاحب کیا اپنی جیب سے دے دیں۔ واہ یہ اچھی کہی، تمھارا تو عدالت میں منہ نہ کھلے اور وکیل صاحب روپے دلا دیں؟‘‘

غصے کے مارے وکیل صاحب نے ایک جھٹکے سے ناک میں سے ڈھیر سا دھواں نکال ڈالا اور دو انگلیوں سے چوغے کے اندر سے جھانکتی قمیض کے کالر پر بندھی کلف لگی سفید ململ کی پٹی کو ذرا ٹھیک کیا۔ ان کی انگو ٹھی کا ہیرا زور سے چمک اٹھا۔

’’دیکھیے! وہ آگئے۔‘‘ برج نے کہا۔ جیوتی اور دت نے بھی آنکھیں اٹھا کر ادھر دیکھا۔ وکیل صاحب جان بوجھ کر سنجیدہ بنے بیٹھے رہے۔ سارا ماحول پر سکون ہو گیا۔

بیچ کی ایک لمبی چلی جاتی گیلری کے دونوں طرف وکیلوں کے کمروں کے دروازے تھے اور ان دروازوں کے بالکل سامنے کمروں کے دوسرے دروازے اس گیلری کے متوازی چلے جاتے برآمدے میں کھلتے تھے۔ اس طرف کے کمرے والے برآمدے میں سینکڑوں آدمی ۔۔۔ وکیل، موکل، ٹائپسٹ، چپڑاسی، گواہ اور ان گنت لوگ۔۔۔ آجا رہے تھے۔ عدالت کے لنچ کا وقت تھا، اس لیے پھل والے، دال سیب والے اور وکیلوں کے کمروں میں چائے پانی پہنچانے والے نوکر ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، اس بھاگ دوڑ میں آدھے وکیلوں کے منشی تھے جو عدالت کے وقت ان کی کتابوں اور مسلوں کے بستے سنبھالتے تھے اورباقی وقت میں ساگ سبزی لانے اور بچوں کو سکول پہنچانے کا کام کر دیتے۔ برآمدے کے دروازے میں تبھی لگ بھگ اڑتالیس سال کا ایک آدمی نمودار ہوا۔ یہ آدمی بہت دھیرے دھیرے جیسے گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا۔ پیلا اور بہت پرانا سا مڑا تڑا کوٹ، گھٹنوں سے ذرا نیچے لٹکی دھوتی، کالی پتلی پتلی ٹانگیں اور باٹاکے کرِمچ کے جوتے۔ شاید خریدنے کے بعد سے ان پر سفیدی نہیں ہوئی تھی اور فیتوں کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ دونوں جوتوں کی جیبیں دم کٹے کتوں کی پونچھ کی طرح اٹھ آئی تھیں۔ انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کی جگہ دو چھید ہو گئے تھے۔ قمیض کے بٹن نہیں تھے اور سکڑی چھاتی کے سفیدی کی طرف بڑھتے بھورے بال جھانک رہے تھے، بنیان نہیں تھی۔ دونوں کندھے اس طرح اوپر اٹھے اور کمر کچھ اس طرح جھک گئی تھی جیسے ان کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر کسی نے زور سے دبا دیا ہو۔ گردن نسبتاً لمبی اور ٹینٹوا ابھرا ہوا۔ ناک کے دونوں طرف آنکھوں کے نیچے سے ہونٹوں کے سروں تک دو موٹی موٹی جھریاں چلی آئی تھیں۔ دو دن کی بڑھی داڑھی والی چمڑی میں سفید بال چمک رہے تھے۔ ٹین کے فریم بیضوی میلے گندے شیشوں کا چشمہ ۔۔۔ جس کا ایک کانچ ٹوٹ گیا تھا اور دوسری طرف سے میلے سے ڈورے سے کان پر باندھا گیا تھا۔ کان ذرا باہر کی طرف نکلے ہوئے۔ بے رونق آنکھیں اور آدھے پاگلوں کی سی بے وقوف نگاہیں۔ جھریوں دار ماتھا اور آدھ آدھ انچ کے کھچڑی بالوں کے چاروں طرف پٹی۔۔۔ کیوں کہ چاند کے بیچ کی بڑی سی گول چندھیا گنج کی وجہ سے غائب تھی۔ ہاتھ میں ڈوروں سے بنا ایک تھیلا لے کروہ داخل ہوا۔ ان کی چال ڈھال اور صورت شکل سے لگتا تھا کہ انھوں نے یقیناً ہی بہی کے آگے بیٹھ کر زندگی بھر قلم گھسی ہے۔

’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! وکیل صاحب آپ کو ہی پوچھ رہے تھے۔‘‘ کمروں کے بیچوں بیچ رکھی میز کے چاروں طرف یہ لوگ بیٹھے تھے اورا س دروازے کی طرف وکیل صاحب کی پیٹھ پڑتی تھی۔ برج بالکل سامنے تھا، بائیں طرف دت اور داہنی طرف جیوتی۔ برج نے انھیں دیکھتے ہی استقبال میں کہا۔ یہ لوگ اسی سال گریجویٹ ہو کر آئے تھے اور انہی وکیل صاحب کے یہاں کام سیکھتے تھے۔ تینوں ہی ایک دوسرے کی نگاہوں کو بچا رہے تھے۔

تبھی نوکر ان لوگوں کے بیچ میں ٹرے رکھ گیا۔اس بڑی سیاہ پلیٹ میں ککڑی کے پانچ چھ سینڈوچ تھے۔وکیل صاحب نے آخری کش کھینچ کر سگریٹ ایک طرف پھینک دی اور جھٹکے سے اٹھ کر سیدھے ہوتے ہوئے بولے: ’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! بیٹھو۔‘‘ نہایت ہی مصروفیت سے وہ اس طرح سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگے جیسے وہ جملہ انھوں نے کسی کو بھی مخاطب کر کے نہیں کہا ہو۔ دَت چار پیالوں میں چائے بنا رہا تھا۔ وہاں کوئی بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔

بالکل وکیل کے پاس آ کر دیوی سہائے نے ادھر ادھر بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھی۔ پاس پڑے تخت پر اپنے لال بستے، مسلوں کے پلندے اور مختلف کاغذات پھیلائے دونوں منشی دیوار سے لگے بیٹھے تھے۔ وہ دونوں ہی کسی مسل میں سے دیکھ کر کسی کے سمن پر نام اور ولدیت لکھ رہے تھے۔ ایک بولتا، دوسرا لکھتا۔ایک نے کاغذ ذراسے ہٹا کر تخت کے کونے پر ذرا سی جگہ بنا کر انھیں بیٹھنے کو جگہ دیتے ہوئے کہا: ’’بیٹھو بابو جی! بیٹھو یہاں بیٹھو۔‘‘ وہ پھر کام میں لگ گئے۔

دیوی سہائے نے بڑے سنبھل کر بینت کو تخت سے اس طرح ٹکایا جیسے ذرا زور سے رکھ دیں گے تو اس کے لگ جائے گی۔ پھر سیاہی کے دھبوں سے بھری بہت ہی پرانی پھٹی دری والے تخت کے کونے پر ہاتھ ٹیک کر اس پر بہت دھیرے سے بیٹھ گئے۔ بڑے آہستہ سے گود میں انھوں نے تھیلے کو رکھ لیا اور اس پر توجہ سے دونوں ہاتھ رکھ کر وہ جیسے کسی راز کو کھوجنے کے انداز میں وکیل صاحب کی طرف جھک گئے۔ وہ اس طرح ہانپ رہے تھے جیسے بہت دور سے چلے آرہے ہوں۔

’’ہوں!‘‘ وکیل صاحب نے جلدی جتانے کے لیے گھڑی کی طرف دیکھا اور گھوڑے کی نعل کے سائز کا کٹاؤ بناتے ہوئے منہ بھر کر سینڈوچ کتر لی۔ پھر چائے کا کپ ہونٹوں کی طرف بڑھایا۔ اس ’ہوں‘ کا مطلب تھا۔۔۔ جلدی کہو، کیا بات ہے؟

دیوی سہائے نے تینوں طرف دیکھا، پھر ناک سے آواز نکالتے ہوئے کہا:’’وکیل صاحب! ہماری تنخواہ کب تک مل جائے گی؟‘‘

تینوں سکھاڑی پھر ہنسنے کو ہو آئے۔ وکیل صاحب نے کہا:’’بابو دیوی سہائے جی! تم تو کبھی کبھی بے وقوفوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ جب تک مقدمہ ختم نہیں ہوگا، تب تک روپے کیسے مل جائیں گے؟‘‘ ہونٹوں سے کپ لگا کر انھوں نے جیوتی کی طرف دیکھا۔

اسی بیچ دَت نے ذرا زور سے، جیسے کسی اونچا سننے والے سے کہہ رہا ہو، کہا: ’’وکیل صاحب کہتے ہیں آپ سے عدالت میں بولا تو جاتا نہیں ہے۔‘‘

دیوی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف دیکھاجیسے تصدیق کرنا چاہتا ہو۔۔۔ کیا سچ مچ وہ ایسا کہہ رہے ہیں؟ پھر ڈرے ہوئے مجرم بچے کی طرح کہا: ’’اب کے تو وکیل صاحب ! میں نے بیان بڑے اچھے دیے تھے۔‘‘

’’ہاں! اب تو ٹھیک تھے۔‘‘ وکیل صاحب نے گیلر ی کے پار سامنے والے وکیل کے کمرے میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ایک بیان اور کروا دو۔ اب کے ایسا بیان دوں گا کہ بس، معاملہ پار ہو جائے۔‘‘ دیوی سہائے ذرا جوش میں آ گئے۔

’’ وہ تو جب ہو گا تب ہو گا۔‘‘ وکیل صاحب نے پیالہ ٹرے میں رکھ دیا۔

’’ نہیں! ایک بیان میرا ویری گڈ اور کرا دو۔‘‘ دیوی سہائے ایسے گڑگڑ ائے جیسے پیر چھو لیں گے۔

’’وکیل صاحب کہہ رہے ہیں تمھارے ویری گڈ بیان ہو جائیں گے۔ فکر مت کرو۔‘‘

وکیل صاحب نے بیزار کن انداز میں برج کو دیکھا کہ ٹالو اس بلا کو۔ اس ’’ویری گڈ۔‘‘ لفظ پر تینوں پھر ادھر ادھر گردن گھما گھما کر ہنسنے لگے تھے۔

’’ہاں وکیل صاحب !مجھے روپے کی بڑی ضرورت ہے۔ سالا مکان والا تنگ کر رہا ہے۔ تمھاری بڑی لڑکی کے لڑکا ہوا ہے سوچھوچھک جانا ہے۔ بھانجی کو بھات دینا ہے اور گھر پر تمھاری بہو بیمار دھری ہے، دو مہینے سے۔ روپے دلا دو گے تو چھوٹی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دوں گا۔ ‘‘ وہ کہتے رہے۔

شاید یہی باتیں وہ اسی طرح کہہ کر گئے تھے کیوں کہ اس بار تینوں بری طرح کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ جیوتی کے منہ میں تو چائے تھی، اسے ایک دم سٹکنی پڑی، بری طرح کھانسی آگئی۔تبھی منشی رام سروپ بولے: ’’بابو دیوی سہائے جی!وکیل صاحب کا شکرانہ تو دلواؤ۔‘‘

’’سب دلواؤں گا، فکر مت کرو۔‘‘ انھوں نے منشی جی کی طرف پنجے پھیلا کر تسلی دی۔

منشی جی کھسک کر مینڈک کی طرح مسل اور کتابیں پار کرتے دیوی سہائے جی کے پاس آگئے:’’فکر تو کر ہی نہیں رہے۔ آج توکچھ دلواؤ۔‘‘

’’ابھی کہاں، روپے مل جائیں گے ۔۔۔‘‘ وہ بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ اصل میں انھیں ان لوگوں کی ہنسی کی وجہ نہیں سمجھ آ رہی تھی۔

’’بھیا! بابو لوگوں کو جب تک کچھ کھلواؤ گے پلواؤ گے نہیں، انھیں جوش کیسے آئے گا؟‘‘ منشی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

’’منشی جی! تم نے ان کی عرضی داخلہ دے دی؟‘‘ وکیل صاحب نے نئی سگریٹ جلا لی تھی اور بات کرتے وقت ان کی ناک اور منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔

تبھی وہ دونوں موکل جن سے پیچھا چھڑا کر وکیل صاحب آئے تھے، کمرے میں آگئے۔ تخت پر کتابیں سنبھال کر انھوں نے پھر سہمی سی نگاہ سے وکیل صاحب کی طرف دیکھا اور اجازت کے انتظار میں اردلی کی طرح کھڑے ہو گئے۔

’’ابھی نہیں صاحب۔‘‘ منشی جی نے وکیل صاحب کی بات کا جواب دیا پھر دیوی سہائے کے کان کے پاس منہ لگا کر کہا:’’بابو دیوی سہائے! ایک روپیہ سات آنے دلواؤ، عرضی داخلہ دینی ہے۔‘‘

’’ایک روپیہ سات آنے! پہلے روپے دیے تھے، سوا سَو۔۔۔‘‘ دیوی سہائے کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔

’’ارے پہلے روپے تو کورٹ فیس تھی، یہ تو دیکھو، چھ آنے چھاپنے کے۔۔۔‘‘ منشی نے انگلیاں ہوا میں سرگم کی طرح چلائیں جس کا مطلب تھا ٹائپ۔ ’’ایک آنہ کاغذ اور ایک روپے کے سٹامپ۔ لاؤ نکالو۔‘‘

دیوی سہائے نے جیسے مدد کے لیے دیکھا۔ وکیل صاحب اوپر منہ کر کے پنکھے پرآنکھ گڑائے منہ سے دھواں نکالتے کچھ سوچنے لگے تھے۔ تینوں سکھاڑی تاک لگائے گھور رہے تھے کہ اب کیا بے وقوفی کی بات آتی ہے کہ تینوں ہنس پڑیں۔ دیوی سہائے نے پھر اپنی جیبیں ٹٹولیں۔

’’جب تک عرضی نہیں دی جائے گی تب تک اگلی پیشی کیسے ہوگی؟‘‘ منشی انھیں سمجھا رہا تھا۔

انھوں نے بڑے مرے اورکانپتے ہاتھوں سے چاروں جیبیں ٹٹولنے کے بعد کہیں اندر کی جیب سے چشمے کی ایک بہت پرانی ڈبیا نکالی۔ اس کے چاروں طرف کس کر کئی بار ستلی سے لپیٹے دیے گئے تھے۔ سب لوگ ایسے تجسس سے انھیں دیکھنے لگے جیسے ابھی اس میں سے کوئی سانپ نکل آئے گا۔ دیوی سہائے نے ستلی کھول ڈالی۔ پھر بہت سنبھال کر ڈبیا کھولی۔ بہت پرانے نیلے گندے مخمل پر کچھ کاغذ، جن میں ایک پر جنم کنڈلی کے نقشے چمک رہے تھے، ایک ہسپتال کا پرچہ اور ایک ایک روپے کے کچھ نوٹ رکھے تھے۔ انھوں نے ڈبیا تخت پر رکھ دی اور منہ سے انگلی پر تھوک لے کر اس طرح گننے لگے جیسے سو دو سو نوٹ ہوں لیکن وہ تھے چار ہی۔ ایک بار گن کر دوبارہ شروع کیا۔۔۔

’’ابھی دو ایک بار اور گنیں گے۔‘‘ دت نے جیوتی کو بتایا:’’آپ سے نوٹ بھی نہیں گنے جاتے ہیں، لاؤ، میں گنوں۔‘‘ اور ایک طرح سے منشی نے تو روپے ان کے ہاتھ سے چھین لیے۔ وہ روکتے رہ گئے۔

’’منشی جی! ایک آدھ روپیہ ان سے زیادہ لے لیجیے گا، بعد میں ضرورت پڑتی ہے۔ نوٹس کی رجسٹری ہوگی۔‘‘ وکیل صاحب کو جیسے یکدم یاد آ گیا۔

نوکر ٹرے اٹھا لے گیا۔

’’سرکار۔۔۔!‘‘ دیوی سہائے جیسے ایک دم بوکھلا گئے۔ ایک بار منشی جی کی طرف مڑے اور ایک بار وکیل صاحب کی۔

’’سرکار کیا ہوتا ہے؟ پھر ایک عرضی بھی داخل کرنی ہو تو ہمیں رکنا پڑتا ہے۔ ہم تمھارے پیچھے کہاں کہاں مارے پھریں گے؟‘‘ وکیل صاحب نے جھڑکا۔

’’وکیل صاحب کہتے ہیں، تم تو روڈ انسپکٹر کی طرح سڑکیں ناپتے ہو۔‘‘ برج نے پھر زور سے کہا۔ تینوں پھر ہنس پڑے۔ روپے منشی جی نے سب موڑ کر جیب میں رکھ لیے اور تخت پر رکھی ڈبیا کو زور سے بند کر دیا۔

’’دیوی سہائے جی! یہ بی بی جی کہہ رہی ہیں، کچھ مچھلی وچھلی نہیں کھلواؤ گے؟ یہ کہتی ہیں، وکیل صاحب اور منشی جی کو تم کسی نہ کسی طرح سمجھ لو گے، کچھ ہم بابو لوگوں کو بھی مل جائے۔‘‘ دَت نے بڑی سنجیدہ صورت بنا کر جیوتی کی طرف اشارہ کیا۔

روپے چھن جانے سے دیوی سہائے بڑے مایوس ہو گئے تھے۔ منہ پر ایک جھری آتی، ایک جاتی، جیسے بڑے مشتعل ہوں۔ انھوں نے بڑی مر دہ آنکھوں سے جیوتی کی طرف دیکھا، یہ جاننے کے لیے کہ سچ مچ بی بی جی ایسا کہہ سکتی ہیں؟ جیوتی نے کہنی میز پر ٹکا لی تھی اور ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکائے چپ چاپ فلسفیانہ انداز میں یہ سب دیکھ رہی تھی۔ جب تک وہ ہنستی نہیں تھی اس کی آنکھیں بڑی بے رونق اور بجھی بجھی سی رہتی تھیں، منھ ایسا بے خواہش جیسے کبھی ہنسنا مسکرانا اور چمک نام کی چیز اس نے جانی ہی نہ ہو۔ ایک ایسا بجھاپن اور روکھا پن اس کے چہرے پر تھاجو اکثر خشک موضوعات پر کو رات بھر پڑھنے والوں کے چہرے پر آجاتا ہے۔ اس نے کوئی جذبہ نہیں دکھایا۔

’’یہ کہتی ہیں، ہمیں گول والی مچھلی کھلانا، یعنی چپٹی نہیں۔‘‘ برج نے جوڑا۔

وہ کچھ کہیں، اس سے پہلے ہی منشی جی بولے:’’کھلائیں گے صاحب، کھلائیں گے۔ ذرا اِن کا مقدمہ ٹھیک ہو جائے بس۔۔۔ پھر چاہے جتنی کھائیے۔ ان کی چھوٹی لڑکی تو مچھلی بڑی اچھی بناتی ہے۔ آپ سب کی دعوت کریں گے۔‘‘

’’ہمیں کیسے معلوم ہو، ابھی تک تو انھوں نے ایک پان بھی نہیں کھلایا۔‘‘ دت بولا۔

’’کیوں دیوی سہائے جی! دیکھو، بابو لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ منشی جی نے اس طرح کہا جیسے اس بات کا انھیں ذرا بھی پتا نہیں تھا۔ پھر انھیں سمجھانے کے لہجے میں بولے: ’’ایسے کہیں کچھ کام ہو تا ہے، بابو لوگوں کو خوش رکھا کرو۔ اس تھیلے میں کیا ہے؟‘‘ انھوں نے تھیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

دیوی سہائے جیسے خواب سے چونک اٹھے ہوں، انھوں نے جلدی سے تھیلا بچانے کے لیے دوسری طرف رکھ لیا۔ بڑی مشکل سے ہکلا کر بولے:’’کک کک کچھ نہیں۔‘‘

’’ ارے تو ایسے مرے کیوں جاتے ہو؟لاؤ میں دیکھوں۔‘‘ منشی جی نے جھپٹ کر تھیلا چھین لیا۔دیوی سہائے نے اسے پکڑ کر تھوڑا کھینچا لیکن منشی جی کا کھنچاؤ زیادہ تھا۔ انھوں نے بڑی بے بس اور بے حس نظر سے چاروں طرف دیکھا۔

منشی جی نے تھیلا ہاتھ میں لے کر انھیں سمجھایا: ’’جب تک بابو لوگوں کو خوش نہیں کرو گے، کیسے یہ لوگ وکیل صاحب سے آپ کے کام کی سفارش کریں گے۔‘‘ کہہ کر انھوں نے تھیلے کی آپس میں بندھی تنیاں کھول ڈالیں اور اس میں سے ایک میلا تولیہ نکال کر ایک طرف رکھ دیا۔

دیوی سہائے کے ہونٹ پھڑپھڑائے۔ انھوں نے پھر ایک بار اعتراض کرنے کے لیے ہاتھ پھیلائے لیکن منشی جی نے جھڑک دیا۔ اس نے تھیلے سے دو شیشیاں نکال کر تخت پر کھڑی کر دی تھیں۔۔۔ ایک چھوٹی، ایک بڑی۔ دونوں میں دوا بھری اور کاغذ کے خوراکوں کے نشان کاٹ کر چپکائے ہوئے تھے۔ سب لوگ پھر غور سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔ دیکھیں، اب اس میں سے کیا نکلتا ہے۔

منشی جی نے چار سنگترے، تین موسمی اور ایک سیب نکال کر میز کے سرے پر رکھ لیے۔

’’آج تو دیوی سہائے جی! بڑا مال لیے جا رہے ہو اور کہہ رہے تھے کچھ نہیں ہے۔‘‘ دوسرا منشی وہیں دیوار کے سہارے سے بولا۔

’’ارے صاحب! یہ دیوی سہائے جی بڑے خوش مزاج آدمی ہیں۔ ذرا آپ کی تھاہ لے رہے تھے۔‘‘ طنز سے مسکرا کر منشی رام سروپ نے کہا: ’’کیوں، ہے نا دیوی سہائے جی؟‘‘

’’تو یہ ہمارے لیے لائے ہو۔‘‘ برج کی آنکھوں میں چمک آگئی۔

’’ہاں! ہاں! کھائیے۔‘‘ اس بار بڑی مشکل سے جیسے گلے میں اٹکے کف کو صاف کر کے، دیوی سہائے مسکرائے۔۔۔ لگا، رونے لگیں گے۔

’’ارے کھائیے بابو صاحب! آپ تو دیکھ رہے ہیں۔‘‘ منشی جی نے سنگترے کے چھلکے میں انگوٹھا گڑا کر چھیل ڈالا۔

پھلوں میں حصے بانٹ ہو گئے اور دیوی سہائے نے مرے مرے ہاتھ سے تولیہ تھیلے میں ڈالا، اوپر سے شیشیاں ٹھونسیں اور تھیلا کھڑا کر کے چپ چاپ سنگترے اور موسمیاں چوسی جاتی دیکھتے رہے۔

تینوں سکھاڑی بڑے مطمئن تھے۔ کچھ حصہ منشیوں کو بھی مل گیا تھا۔ وکیل صاحب بڑے غور سے سامنے کھلی کتاب میں کچھ پڑھتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں چھلے ہوئے سنگترے کی پھانک پکڑے رہے۔۔۔ یاد آجاتا منہ میں ایک ڈال لیتے۔ دیوی سہائے بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ انھوں نے چھڑی اٹھائی، تھیلا پکڑا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’تو بابو جی میں جاؤں؟‘‘ کچھ دیر کھڑے رہ کر انھوں نے وکیل صاحب سے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

وکیل صاحب سوتے سے جاگے۔ خوب زور سے سرد ہو کر بولے: ’’ہاں! اب تم جاؤ۔۔۔ اور ہاں، فکر مت کرو۔۔۔ سب ہو جائے گا۔ تمھارے پیسے ہم دلا دیں گے۔‘‘ وہ پھر ڈوب گئے۔

منشی نے تبھی کہا: ’’ایسے تھوڑے ہی ملتے ہیں روپے۔ سب کو تو تم نے خوش کر دیا، منشی جی کیا بھاڑ میں جاپڑیں، ارے، ایک دو آنے بیڑی کے تو دیتے جاتے۔‘‘ اور اس نے بے شرم اور بے لاگ ہو کر دیوی سہائے جی کی ساری جیبیں اوپر سے ٹٹول ڈالیں، پھر ٹینٹ بھی اس طرح ٹٹولی جیسے تھانے میں کسی جیب کٹ کی تلاشی لی جاتی ہے۔ کچھ نہیں تھا۔

’’جانے دو بیچارے کو، زیادہ تنگ مت کرو۔‘‘ وکیل صاحب نے بیچ میں ڈسٹرب ہو کر کہا۔

’’اچھا جائیے لیکن بھولنا مت۔۔۔ ‘‘ منشی نے کافی ہمدردانہ انداز میں کہا۔

دیوی سہائے پاؤں گھسٹاتے گھسٹاتے باہر کی طرف چل دیے۔ جیوتی ایک دم محتاط ہو کر اپنی انگلی میز پر رکھ رکھ کربتا رہی تھی: ’’پہلے یہ کہہ رہے تھے۔۔۔ کیسے انھوں نے ’’ویری گڈ‘‘ بیان دیا تھا۔ جج نے پوچھا یہ بات ہوئی؟ انھوں نے کہا ’نو لکھو، نو‘ اور اس وقت تک اپنا بیان روکے رکھا جب تک برج نے ’نو‘ نہیں لکھ لیا۔۔۔‘‘ تینوں پھر ہنس پڑے۔

’’بے وقوف ہے۔‘‘ وکیل صاحب کہہ ہی رہے تھے کہ باہر کسی کورٹ میں چپڑاسی نے اونچی آواز میں بانگ دی۔۔۔ ’’رگھو مل منے لال حاضر ہو و و و۔۔۔! ‘‘

لنچ ٹائم ختم ہو گیا تھا۔وکیل صاحب جھٹکے سے اُٹھے۔ ان کے گلے کی دونوں پٹیاں او ر کالر ہلے۔

اس وقت باہر وکیل صاحب کے دروازے کے سامنے برآمدے میں کھڑے دیوی سہائے نے تھیلے میں سے ایک ایک کر کے دونوں شیشیاں نکالیں اور ڈاٹ کھول کر کروندے کی جھاڑی میں اوندھی کر دیں۔ جب ساری دوا پھیل گئی تو انھیں جیوں کی تیوں تھیلے میں ٹھونسا۔ زور سے ناک صاف کی اور انگلیوں کو کھمبے سے پونچھتے ہوئے ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگے۔ تبھی برآمدے سے کالی مرغی کی طرح وکیل صاحب گزر گئے۔۔۔ دوچوزوں کی طرح ان کے ساتھ موکل دونوں طرف لگے تھے۔

Categories
فکشن

چھوٹے چھوٹے تاج محل (تحریر: راجندر یادو، ہندی سے ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بات نہ میرا نے اٹھائی نہ خود اُس نے۔ ملنے سے پہلے ضرور لگا تھا کہ کوئی بہت ضروری بات ہے جس پر دونوں کو باتیں کر ہی لینی ہیں لیکن جیسے ہر پل اس بات کی توقع میں اسے ٹالتے رہے۔بات گلے تک آ آ کر رہ گئی کہ وہ ایک بارپھر میرا سے پوچھے: ’کیا اس تعلق کو مستقل روپ نہیں دیا جا سکتا؟‘لیکن کہیں پہلے کی طرح پھر اسے برا لگے تو؟اس کے بعد دونوںمیں کتنا کھنچاؤ اور دوری آ گئی تھی۔

پتا نہیں کیوں،’ تاج‘ اسے کبھی خوب صورت نہیں لگا۔پھر دھوپ میں سفید سنگِ مر مر کا چوندھا لگتا تھا، اسی لیے وہ ادھر پیٹھ کیے بیٹھا تھا۔ لیکن چوندھا میرا کو بھی تو لگتا ہے ناں؟ہو سکتا ہے تاج اسے سندر ہی لگتا ہو۔ پرچھائیں ادھر جمنا کی طرف ہو گی، ادھر سے سپاٹ دھوپ میں جھل جھل کرتا سنگِ مر مر ہے۔ بس۔ اس تپتے ہوئے پتھر پر چلنے میں تلووں کے جھلسنے کے خیال سے اس کے سارے جسم میں پھریری دوڑ گئی۔

تین سال بعد ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ دیکھ کر صرف مسکرائے تھے۔مطمئن انداز میں۔ ہاں دونوں ہیں اور ویسے ہی ہیں۔ میرا کچھ نکھر آئی ہے اور شاید وہ، وہ پتا نہیں کیسا ہو گیا ہے۔ جانے کتنے پورے کے پورے مکالمے، سوال جواب اس نے میرا کوسامنے بٹھا کردل ہی دل میں بولے تھے، گفتگو کے تصور باندھے تھے اور اب بس کھسیانے انداز سے مسکرا کر ہی استقبال کیا تھا۔ اس پل سے ہی اسے اپنے ملنے کی بے معنویت کا احساس ہونے لگا تھا۔جانے کیوں۔ کیا ایسی بات کریں گے وہ،جو اکثرنہیں کر چکے ہیں؟ سال چھ مہینوںمیں ایک دوسرے سے خیر وعافیت کی خبر جان ہی لیتے ہیں۔

اٹھے ہوئے گھٹنوں کے پاس لان کی گھاس پر میرا کا ہاتھ چپ چاپ رکھا تھا۔ بس انگلیاں اس طرح اٹھ گر رہی تھیں جیسے کسی بہت نازک باجے پر ہلکے ہلکے گونجتے سنگیت کی تال کو باندھ رہی ہوں۔ میرا نے لوہے کا چھلا ڈال رکھا تھا،شاید شنی کی نحوست دور رکھنے کے لیے۔اس نے دھیرے سے اس کی سب سے چھوٹی انگلی میں اپنی انگلی ہک کی طرح اٹکا لی تھی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں میں دبا لیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے باتوں کی دھارا پھوٹ پڑی۔

وجے کا دھیان گیا۔ بڑی بڑی مونچھوں والا کوئی چھوٹا سا کیڑا میرا کی کھلی گردن اور بلاؤز کے کنارے آ گیاتھا۔ جھجک ہوئی، خود جھاڑ دے یا بتا دے۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف گھما لیا۔ داخلے کی دہلیز کی سیڑھیاں جھاڑیوں کی اوٹ میں آ گئی تھیں، صرف اوپر کا حصہ نظر آ رہا تھا۔ ہچکچاتے ہوئے کیرم کا سٹرائیکر مارنے کی طرح اس نے کیڑا انگلیوں سے پرے چھٹک دیا۔ نسوں میں سنسناہٹ اترتی چلی گئی۔ انگلیوں سے وہ جگہ یوں ہی جھاڑ دی،جیسے گندی ہو گئی ہو۔میرا اُسی پہلے کے سے انداز میں اپنی سہیلی کے بیاہ کی پارٹی میں آئے لوگوں کی تفصیل بتاتی رہی۔اس نے کچھ نہیں کہا، نہ وہاں رکھا وجے کا ہاتھ ہٹایا ہی۔ وجے نے ایک بار پھر چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھااور آگے بڑھ کر اس کی دونوں کنپٹیوں کو ہتھیلیوں سے دبا کر اپنے پاس کھینچ لیا۔ نہیں، میرا نے غصہ نہیں کیا،جیسے وہ امید کر رہی تھی کہ یہ لمحہ آئے گا ضرور۔ لیکن پہلے اس کے ماتھے پر تیکھی لکیروں کی پرچھائیاں ابھریں اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کی لہروں میں بدل گئیں۔ ایک عجب، بکھرتی سی، سمٹی، دھوپ چھاؤں مسکراہٹ۔وجے کا جی چاہا، ریگستان میں بھٹکتے پیاسے کی طرح دونوں ہاتھوں سے صراحی کو پکڑ کر اس کی مسکراہٹ کی شراب مجنونانہ انداز میں پیتا چلا جائے۔۔۔پیتا چلا جائے۔۔۔ غٹ ۔۔۔غٹ ۔۔۔ اور آخر لڑکھڑا کر گر پڑے۔ پتلے پتلے ہونٹوں سے ایک نامعلوم سی پھڑکن لرز رہی تھی۔ اس رومانی خمار میں بھی وجے کو خیال آیا کہ پہلے میرا کا چشمہ اتار لے۔ ٹوٹ نہ جائے۔ تب اس نے دیکھا، ہریالے فواروں جیسے مورپنکھوں کے دوتین پیڑوں کے پیچھے پورے پورے دو تاج محل چشمے کے شیشوں میں اتر آئے ہیں۔ دودھیا ہاتھی دانت کے بنے سے دو سفید ننھے ننھے کھلونے۔۔۔

پتا نہیں کیوں، اسے تاج محل کبھی اچھا نہیں لگا۔ دھیان آیا، بن بلائے بوڑھے چوکیدار کی طرح تاج محل پیچھے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ باتوں کے بیچ وہ اسے کئی بار بھول گیاتھا لیکن دانتوں میں اٹکے تنکے سا اچانک ہی اسے یاد آ جاتا تھا کہ وہ اس کے سائے میں بیٹھے ہیں جو بہت بڑا ہے،جوعظیم ہے۔۔۔جو ۔۔۔؟اتنی بڑی عمارت !اس کی مکمل خوب صورتی کو ایک ساتھ وہ کبھی تصور میں لا ہی نہیں پایا۔۔۔ ایک ایک حصہ دیکھنے میں کبھی اس میں کچھ خوبصورت نہیں لگا۔ لوگوں کے اپنے ہی دل کی خوبصورتی اورشعریت رہی ہو گی جواس میں تبدیل کر کے دیکھ لیتے ہیں، کبھی موقع ملے گا تو وہ ہوائی جہاز سے تاج کی خوبصورتی کے کلی جائزے کی کوشش کرے گا۔ کئی بڑے فن پارے اس طرح کے دیکھے تو ہیں۔۔۔ اور تب سارے ماحول کے بیچ کوئی بات لگی تو ہے۔۔۔ مگر یہ چشمے کے کانچوں میں جھلملاتے، دھوپ میں چمکتے تاج ۔۔۔ کھنچاؤ وہیں تھم گیا۔ اس نے بڑے بے معلوم انداز سے گہری سانس لی اور اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ آہستہ سے:’نہیں! یہاں نہیں۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔‘یہ اسے کیا ہو گیا؟

اچانک میرا کو ہوش سا آ گیا۔ امڈتی لاج چھپانے کے لیے سٹ پٹا کر ادھرادھر دیکھا، کوئی بھی تو نہیں تھا۔پاس والی لال لال اونچی دیوار پرابھی ابھی راج مزدور سے لگنے والے مرمتیے لوگ آپس میں ہنسی مذاق کرتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے گئے ہیں۔ انھیں بندر کی طرح دیوار پر بھاگ لینے میں مہارت ہے۔ روش کے پار پڑوس کے لان میں دو تین مالی پائپوںکو ادھر ادھر گھماتے پانی لگارہے تھے، وہ بھی اب نہیں ہیں۔ کھانا کھانے گئے ہوں گے۔ میرا نے بغل سے ساڑھی کھینچ کر کندھے کا پلا ٹھیک کر لیا۔ پھر وجے نے اَن منے انداز سے گھاس کا ایک پھول توڑا اور آنکھوں کے آگے انگلیوں میں گھمانے لگا۔ میرا نے چشمہ اتار کر منہ سے ہلکی سی بھاپ دی اور ساڑھی سے کانچ پونچھے، بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اٹکایا اور چشمہ لگا کر کلائی کی گھڑی دیکھی۔

بڑ ابوجھل سکوت آ گیا تھا دونوں کے بیچ۔ وجے کو لگا انھیں کچھ بولنا چاہیے ورنہ یہ خاموشی کا بوجھ دونوں کے بیچ کی کسی بہت کومل چیز کو پیس دے گا۔ ہتھیلی پر یوں ہی اس تنکے سے کراس اور تکون بناتا وہ لفظوں کو ٹھیل کر بولا:’’تو پھر اب چلیں۔۔۔؟ دیر بہت ہو رہی ہے۔‘‘

میرا نے سر ہلا دیا۔ لگا جیسے وہ کچھ کہتی کہتی رک گئی تھی یا انتظار کر رہی ہو کہ وجے کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن وہ نہیں کہہ پا رہا۔ پھر تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ کوئی نہیں اٹھا۔ تب پھر اس نے مرے مرے ہاتھوں سے جوتوں کے فیتے کسے، اخبار میں سنگترے اور مونگ پھلی کے چھلکے پھینکے۔ بیٹھنے کے لیے بچھائے گئے رومال سمیٹے گئے اور دونوں ٹہلتے ہوئے پھاٹک کی طرف چلے آئے۔

تین کا وقت ہو گا۔ ہاتھ میں گھڑی ہوتے ہوئے بھی اس نے اندازہ لگایا۔ دھوپ ابھی بھی تیز تھی۔ ایک آدھ بار گلے اور کنپٹیوں کا پسینہ پونچھا۔ آتے وقت تو بارہ بجے تھے۔ اس وقت اسے ہنسی آ رہی تھی۔ ملنے کا وقت بھی ان لوگوں نے کتنا عجیب رکھا ہے۔

جیسے اس وقت سے بہت دور کھڑے ہو کر اس نے دہرایا تھا’بارہ ۔۔۔بجے، جون کا مہینہ اور تاج محل کا لان،وہ پہلے آ گیا تھا اور انتظار کرتا رہا تھا۔ اس وقت کیسی بے چینی، کیسی چھٹپٹاہٹ،کیسی بے تابی تھی۔۔۔ یہ وقت بیتتا کیوں نہیں ہے؟بہت دنوں سے گھڑی کی صفائی نہ ہو پائی۔ اس لیے شاید سست ہے۔ابھی تک نہیں آئی۔ ان لڑکیوں کی اسی بات سے سخت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ کبھی وقت کا خیال نہیں رکھتیں۔ جانے کیا مزا آتا ہے انتظار کرانے میں۔ وہ جان بوجھ کر ادھرآنے والے راستے کی جانب سے منہ پھیرے تھا۔ امید کر رہا تھا کہ اچانک ادھر مڑ کر دیکھے گا تو پائے گا کہ وہ آ رہی ہے لیکن دو تین بار ایسا کر چکنے کے بعد بھی وہ نہیں آئی۔جب دوسری طرف منہ موڑے رہ کر بھی وہ کن اکھیوں سے ادھر ہی جھانکنے کی کوشش کرتاتو خود اپنے پر ہنسی آتی۔ اچھا سیڑھیاں اتر کر آنے والے تین لوگوں کو وہ اور دیکھے گا اور اگر ان میں بھی میر انہیں ہوئی تو دھیان لگا کر کتاب پڑھے گا۔ جب آنا ہو، آ جائے۔ ایک دو تین، ہوسکتاہے،اگلی وہی ہو۔ ہش، جائے جہنم میں نہیں آتی تو، ہاں تو نہیں۔ اچھا،آؤ، تب تک یہی سوچیں کہ میرا ان تین سالوں میں کیسی ہو گئی ہو گی۔ کیسے کپڑے پہن کر آئے گی؟ ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ کیا کریں گے؟ ہو سکتا ہے، جو ش سے لپٹ جائیں، کچھ بول نہ پائیں۔ اس کے ساتھ ایسا ہوتا نہیں ہے، لیکن کون جانے، اس جوش میں ۔۔۔

آخر وہ آئی تو وہ اسے پاس آتے دیکھتا رہا تھا۔ ہر بار وہ ادھر سے نگاہیں ہٹانے کی کوشش کرتا کہ اسے یوں نہ دیکھے، پاس آنے پر ہی دیکھے اور اچانک ملنے کے تھرل کو محسوس کرے۔ لیکن وہ دیکھتا رہا تھا اور نہایت مؤدب طریقے سے بولا تھا۔۔۔’’نمستے میرا جی۔۔۔‘‘جھینپ کر میرا مسکرا پڑی تھی۔ دھوپ میں اس کا چہرا لال پڑ گیا تھا۔ پھر دونوں اس لان میں آ بیٹھے تھے۔ ایسے مطمئن، ایسے پر سکون جیسے روز ملتے ہوں۔

’’میں نے سوچا، تم شاید نہ آؤ، یاد نہ رہے۔‘‘
’’آپ نے لکھا تھا تو یاد کیسے نہیں رہتا؟لیکن ٹائم بڑا عجیب ہے۔‘‘
’’ہاں سردیوں کی چودھویں کی چاندنی رات تو نہیں ہے۔‘‘اپنے مذاق پر وہ خود ہی شرمندگی محسوس کرتا سنجیدہ ہو کر بولا:’’اس وقت یہاں ذرا تنہائی ہوتی ہے۔‘‘

سچ مچ بڑا عجیب ٹائم تھا۔میرا کے ساتھ ایک ایک قدم لوٹتے ہوئے اس نے سوچا۔ دوپہر کی دھوپ اور ۔۔۔پیار کرتے دو پریمی۔۔۔ پیار کرتے پریمی، اس نے پھر دہرایا۔ یہ پیار تھا؟جیسے برسوں سے ملنے والے دو دوست ہوں، جن میں باتیں کرنے کی لذت ختم ہو گئی ہو۔سفید سنگِ مرمرپر دھوپ پڑ رہی تھی، چوندھا تھا، اس لیے ادھر پیٹھ کر لی تھی۔ رہ رہ کر جھنجھلاہٹ آتی۔ کس بد دعا نے ہمارے خون کو جما دیا ہے؟یہ ہو کیا گیاہے ہمیں ؟کوئی گرمی نہیں، کوئی جوش اور کوئی جذبہ نہیں۔۔۔ کیا بدل گیا ہے اس میں؟ہاںمیرا کا رنگ کچھ کھل گیا ہے۔۔۔ بدن نکھر آیا ہے۔

لوٹتے وقت بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بوجھ، یہ کھنچاؤ کیا ہے؟ دونوں یوں ہی گھاس میں کاٹی ہوئی لال پتھروں کی جالی پر قدم قدم ٹہلتے ہوئے سیڑھیوں تک جائیں گے۔۔۔پھاٹک میں بیٹھے ہوئے گائیڈوں اور دربانوں کی تیز امیدوارانہ نگاہوں کو زبردستی جھٹلاتے بجری پر چر چر، چر چر کرتے تانگے یا رکشے میں جا بیٹھیں گے۔۔۔ اور ایک موڑ لیتے ہی سب کچھ پیچھے چھوٹ جائے گا۔ کل وہ لکھے گا۔’’میرا! میرا ! کل کے میرے رویے پرتمھیں حیرت ہو ئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے برا بھی لگا ہو ۔۔۔لیکن ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘

اور پھر چشمے کے کانچوں میں جھانکتا تاج محل مجسم ہو کے چلا آیا۔ ’تمھاری پلکوں پر تیرتے دو تاج محل!‘‘کتنا سندر جملہ ہے(یہ تونئی غزل ہو گی) ٹیگور نے دیکھا ہوتا تو ’دنیا کے گالوں پرڈھلک آئی آنسو کی بوند‘ کبھی نہ کہتے۔۔۔کہتے’گالوں پر ڈھلک آئے آنسوؤ ں میں جھانکتے تاج محل کی رو پہلی مچھلیوں سی پرچھائیاں ۔۔۔‘ لیکن میرا کی آنکھوں میں تو اسے نمی کا بھی سایہ نہ دِکھا تھا، کتنے بے روح ہو گئے ہیں ہم بھی آج کل۔ وہ کل والے خط میں لکھے گا۔’’ہکسلے کی نقل نہیں کر رہا،جانے کیوں،مجھے تاج محل کبھی خوبصورت نہیں لگا۔ لیکن پہلی بار جب میں نے تمھاری پلکوں پر تاج کی پرچھائیں دیکھی تو دیکھتا رہ گیا۔ پچھلے دنوں کی ایک عجیب سی بات مجھے یاد ہو آئی۔ اس گھڑی۔۔۔‘‘

ارے ہاں، اب یاد آیا، کہ کیوں وہ اچانک یوں سست ہو گیا تھا۔ اس بات کو بھی کبھی جھٹلایا جا سکتا ہے؟ ’ہاں، میرے لیے تو وہ بات ہی تھی۔۔۔ ‘وہ لکھے گا۔ اسے لگا، دل ہی دل میں وہ جسے پکار رہا ہے، جسے خط لکھ رہا ہے، وہ ساتھ ساتھ چلنے والی یہ میرا نہیں ہے، وہ تو کوئی اور ہے ۔۔۔ کہیں دور ۔۔۔بہت دور۔۔۔ر ۔۔۔وہی میرا تو اس کی اصلی عزیز اور محبوب ہے۔ یہ ۔۔۔ یہ اس سے تو جب جب ملا ہے، اسی طرح اداس ہو گیاہے لیکن اُس میرا سے ملنے کی کشش اِس کے پاس کھینچ لاتی ہے۔اِس کی تو نہ جانے کتنی باتیں ہیں جو اسے قطعی پسند نہیں ہیں۔ جیسے ؟ وہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا، کہ کیا کیا پسند نہیں ہے؟ جیسے اس وقت اسے اسی بات پرجھنجھلاہٹ ہو رہی ہے کہ میرا نیچے بنی جالی کے پتھروں پر ہی پاؤں رکھ کرکیوں نہیں چل رہی۔ بیچ بیچ میں گھاس پہ پاؤ ں کیوں رکھ دیتی ہے۔

اور اس سب کے پار دونوں کان لگائے رہے کہ دوسرا کچھ کہے۔ایک بات سوچ کر وہ اچانک خود ہی ہنس پڑا۔جب وہ لوگ بہت بڑے بڑے ہو جائیں گے،سمجھو چالیس پچاس سال کے تو ہنس ہنس کر کیسے دوسروں کو اپنی اپنی بے وقوفیاں سنایا کریں گے۔ کیسے وہ لوگ چھپ چھپ کر تاج محل میں ملا کرتے تھے۔

’’چار پانچ سال ہو گئے ہوں گے اس بات کو ۔۔۔‘‘ اس کے من کے اندر کی سطروں پر خط چلتا رہا۔یہ سب وہ اس خط میں لکھے گا نہیں،وہ صرف اس بہانے سلسلہ وار لفظوں میں اس سارے اتفاق کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی، اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چپ، اداس اور منحوس شام تھی اس لیے پرچھائیاں پیچھے خوب لمبی لمبی چلی گئی تھیں۔

اچھی طرح یاد ہے، ستمبر یا اکتوبر کا مہینہ تھا۔ کالج سے آ کر چائے کاکپ ہونٹوں سے لگایا ہی تھا کہ کسی نے بتایا: ’’آپ کو کوئی صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘
وہ چڑ کر اٹھا :’’کون آ گیا ہے اس وقت۔‘‘
’’ارے آپ؟‘‘
’’پہچانا نہیں آپ نے؟‘‘
’’ارے صاحب! خوب آپ کو نہیں پہچانوں گا؟‘‘ لیکن سچ مچ اس نے پہچانا نہیں تھا۔ دیکھا ضرور ہے کہیں، شاید کلکتہ میں۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لیکن وہ حتی الامکان یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ پہچان رہا ہے اور بات چیت سے پہچان کی ڈور پکڑ کر یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے:’’اندر آئیے ناں!‘‘
’’نہیں مسٹر ماتھر! بیٹھوں گا نہیں۔گلی کے باہر میری وائف اور بچہ کھڑے ہیں۔۔۔‘‘انھوں نے معذرت چاہنے کے لہجے میں کہا:’’آپ کچھ کر رہے ہیں کیا۔۔۔؟‘‘
’’لیکن انھیں وہاں۔۔۔؟یہیں بلا لیجیے ناں۔‘‘
’’نہیں دیکھیے۔ ایسا ہے کہ ہم لوگ ذرا تاج دیکھنے آئے تھے۔یاد آیا، آپ بھی تو یہیں رہتے ہیں۔ جگہ یاد نہیں تھی، سو ایک ڈیڑھ گھنٹا بھٹکنا پڑا۔ خیر آپ مل گئے۔ اب اگر کچھ کام نہ ہو تو ۔۔۔ بات ایسی ہے کہ ہمیں آج ہی لوٹ جانا ہے۔۔۔‘‘وہ سیڑھی پر ایک پاؤں رکھے کھڑے تھے: ’’آپ کسی طرح کے تکلف میں نہ پڑیں۔ پاؤںمیں چپل ڈالیے اور چلے آئیے۔‘‘

گلی کے باہر گاڑی کھڑی تھی۔ پیچھے کا دروازہ کھلا تھا اور اس کو پکڑے پچھلے مڈ گارڈ سے ٹکی ایک خاتون کھڑی تھیں۔گہری ہری بنگلوری ریشم کی ساڑھی، بنگالی طرز کا چوڑا چوڑا جُوڑااور بیچوں بیچ جگ مگ کرتا ہشت پہلو رو پہلا ستارہ۔مڈ گارڈ پر چھوٹا سا چار پانچ سال کا بچہ پھسلتے جوتوں کو جیسے تیسے روکے بیٹھا تھا۔ دونوں بانہوں سے اسے سنبھالے ہوئے وہ اس کی کلائی پکڑے چھوٹی سی انگلی سے دھول لدے مڈگارڈ پر لکھا رہی تھیں۔ ٹی اے جے۔ قدموں کی آواز سے چونک کر مڑیں اور استقبال میں مسکرائیں۔ بچے کو سنبھال کر اتارا، پھر دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ پھر خود ہی بولیں: ’’دیکھیے! آپ سے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔‘‘

’’حضرت آ ہی نہیں رہے تھے۔۔۔‘‘وہ بیچ میں ہی بات کاٹ کر بولے۔ پھر اچانک بولے:’’اچھا راکا! اب بیٹھو، ورنہ اندھیرا ہو جائے تو دیکھنے کا مزا بھی نہیں رہے گا۔‘‘
راکا۔۔۔راکا۔۔۔ہاں کچھ یاد تو آرہا ہے۔ ڈرائیور کی بغل میں بیٹھ کر اس نے ایک آدھ بار گھوم کر دیکھا جیسے یہاں کہیں ان کا نام بھی لکھا مل جائے گا۔
’’کیسے ہیں؟ بہت دنوں بعد ملے ہیں۔ آپ کو یاد ہے،کلکتہ میں ہم لوگ ملے تھے۔۔۔؟اس دن ہم لوگوں نے آپ کو کتنی دیر کرا دی تھی۔‘‘سنہرا رنگ، کانوں میں گول کنڈل، بہت ہی بے معلوم سی لپ اسٹک۔ ساڑھی کا پلا سنبھالنے کے لیے کھڑکی پر ٹکی کہنی۔

ارے ہاں!اب یا د آیا۔ ان سے تو ملاقات بڑے عجیب اندازسے ہوئی تھی۔ نیو مارکیٹ کے ایک ریستوران میں بیٹھا وہ شوقیہ اپنی اپنی موسیقی کی مہارت کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر جانے کیا من میں آیا کہ خود بھی اٹھ کر ماؤتھ آرگن پر دیر تک سینما کے گیتوں کی دھنیں نکالتا رہا۔ اس چھوٹے سے اسٹیج سے ہٹ کر جس میز پر وہ بیٹھا تھا، اس پر بیٹھے تھے یہ لوگ۔ یہ راکا جی اور یہ مسٹر ۔۔۔کیا؟ہاں مسٹر دیو۔

’’سچ مچ آپ نے بہت ہی سندر بجایا۔ بڑی اچھی پریکٹس ہے۔ ‘‘ دیو نے اس کے بیٹھتے ہی کہا۔ رومال سے باجے کو اچھی طرح پونچھ کر جیب میں رکھ ہی رہا تھا کہ چونک گیا۔ راکا کے چہرے پر تحسین اتر آئی تھی اور یوں ہی کپ کے اوپر ہتھیلی ٹیکے وہ ایک ٹک میز کو دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ کی چائے توپانی ہو گئی ہو گی۔ اور منگائے دیتے ہیں۔ بیرا سنو! ادھر۔‘‘

اس کے منع کرنے پر بھی چائے اور آگئی:’’چھٹیوں میں گھومنے آئے ہیں؟اچھا ! کیسا لگا کلکتہ آپ کو۔۔۔جی ہاں،گندا توہے آگرہ کے مقابلے میں۔۔۔ لیکن ایک بار من لگ جانے پر چھوڑنا مشکل ہو جاتاہے۔۔۔‘‘پھر تعریف، احسان مندی کا تبادلہ، شناسائی اور رات دیر تک ان کے لوئر سرکلر روڈ کے فلیٹ پر باتیں، کھانا کافی اور موسیقی۔ راکا کو ستار کا شوق ہے۔ دیو کسی فارن کمپنی کے انچارج منیجر کی صحبت میں غیر ملکی سمفنیاں پسند کرتے ہیں۔ اس کا ماؤتھ آرگن سننے کے بعد راکا جی نے ستار سنایا تھا اور پھر دیو نہایت ہی خوبصورت پلاسٹک کے لفافوں میں بند اپنے بدیسی ریکارڈ نکال لائے تھے۔ ایک ایک ریکارڈ آدھ گھنٹے چلتا تھا اور اس میں تین تین کمپوزیشنز تھیں۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا لیکن وہ بیٹھا لفافوں پر لکھے ہوئے تعارف اور موسیقار کی تصویر کو ضرور دیکھتا رہا تھا۔ کوئی چیاکو وسکی یا کچھ بینگر تھا جس کا نام وہ بار بار لیتے تھے۔ایک ایک ریکارڈ چالیس پچاس روپے کا تھا۔بیچ بیچ میں،’’کبھی ضرور آئیں گے آگرہ۔ بہت بچپن میں ایک بار دیکھا تھا،شاید دماغ میں جو نقشہ ہے، اس سے میل ہی نہ کھائے۔ شادی کے بعد ایک بار دیکھنے کا پروگرام بہت دنوں سے بنا رہے ہیں۔ یہ تو ہر چھٹی میں پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ جی نہیں، انھوں نے نہیں دیکھا۔۔۔ ادھر ہی رہے ان کے فادر وغیرہ سب۔ اب تو آپ وہاں ہیں ہی۔۔۔‘‘اس دن دونوں دیر کے لیے راستے بھر معذرت کرتے ہوئے اپنی گاڑی پر ہی وویکانند روڈ تک چھوڑنے آئے تھے۔ راستے بھر بات چیت کے ٹکڑے، ستار کی گونج اور سمفنی کی کوئی ڈوبتی سی لہراتی دردیلی کراہ اسے مسحور کیے رہی۔ کیسے عجیب انداز سے واقفیت ہوئی ہے۔ کتنا سکھی جوڑا ہے۔۔۔اسے بہت ہی خوشی ہوئی تھی۔ بچہ بعد میں آیا۔ نام ہے مُن مُن۔

دیو بتا رہے تھے:’’نمائش میں ہمارا سٹال ہے ناں،سو ہم لوگ دلی آئے تھے۔ سوچا، اتنے پاس سے یوں بنا دیکھے لوٹنا اچھا نہیں ہے۔ آپ کو یوں ہی گھسیٹ لائے۔ کوئی کام تو۔۔۔‘‘
’’نہیں،نہیں۔۔۔!‘‘جلدی سے کہا۔۔۔ اسے اور تو سب باتیں یاد آ رہی تھیں لیکن یہ یاد نہیں آ رہاتھا کہ ان مسٹر دیو کے آگے پیچھے کیا لگتا ہے۔ بڑی بے چینی تھی۔کیسے جانے؟بس اسی ملاقات کے بعد پھر کبھی ملنا نہیں ہوا۔۔۔یاد داشت اچھی ہے ان لوگوں کی۔
’’آپ نے یاد خوب رکھا۔‘‘سوچا، اس ملاقات میں خاص ایسی بات بھی تو نہیں تھی۔
’’جب ہم لوگ تاج کی بات کرتے، آپ کی بات یاد آ جاتی اور کوئی دن ایسا نہیں گیا جب تاج کی بات نہ ہوئی ہو۔۔۔آپ کے سامنے یہ مُن مُن نہیں تھا۔۔۔‘‘
’’مُن مُن !تم نے انکل جی کو نمستے نہیں کیا۔ کہو انکل جی ! آج ہمارے ماما ڈیڈی کے بیاہ کی ساتویں سالگرہ ہے۔۔۔‘‘راکا جی اس کے ہاتھ جڑواتی بولیں:’’بہت ہی شیطان ہے۔ مجھے دن بھر خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی دن کچھ کر کرا نہ لے۔‘‘
’’تب تو آپ کو مبارک دینی چاہیے۔۔۔‘‘لیکن اس سب کے پار وجے کو لگا، کہیں گھٹن ہے جو نادیدہ کہرے کی طرح گاڑھی ہوتی ہوئی چھائی ہے۔ رہا نہیں گیا۔ پوچھا:’’آپ کچھ سست ہیں۔ طبیعت۔۔۔؟‘‘
’’نہیں جی!‘‘انھوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ایک کلپ ٹھیک کیا اور سنبھلے انداز سے مسکرانے کی کوشش کر کے کہا:’’گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پانچ گھنٹے ہو گئے۔ ایک گھنٹے سے تو یہاں آپ کو کھوج رہے ہیں۔‘‘
’’چچ! سچ مچ بہت زیادتی ہے یہ تو آپ کی۔‘‘احسان مندانہ انداز سے وہ بولا:’’کم سے کم منہ ہاتھ تو دھو ہی لیتیں راکا جی۔‘‘
’’سب ٹھیک ہے۔ لوٹنا بھی توہے نا ں آج ہی۔‘‘

پھر سبھی نے خوب گھوم گھوم کر تاج دیکھا تھا۔مُن مُن کا ایک ہاتھ دیو کے ہاتھ میں تھا اور ایک راکا جی کے۔ کبھی کبھی تو تینوں آپس میں ہی ایسے محو ہو کر کھو جاتے کہ وجے کو لگتا وہ بیکار ہی اپنی موجودگی سے ان کے بیچ مخل ہو رہا ہے۔ اوپر عمارت کے سفید کالے چبوترے پر دیو بڑی دیر تک سکہ لڑھکا کر اس کے پیچھے بھاگتے اور بچے کو کھلاتے رہے اور وجے کے ساتھ ساتھ راکا جی جالیوں کی بناوٹ، دروازے پر لکھی قرآن کی آیتیں اور بیل بوٹوں کی نقاشی دیکھتی رہیں۔ شام کی پیلی پیلی سہانی دھوپ تھی۔ لانوں کی نرمی سانولی ہو آئی تھی۔ مور پنکھوں اور تاڑ جیسے چوڑے پتوں کے گنبد نما کنج موم بتی کی ہری سنہری لو جیسے لگتے تھے۔ جیسے مستی میں پھولے پھولے کبوتر ہوں اورابھی آرام سے پھریرا لے لیں گے تو چنگاریوں کی طرح سرخ پھول ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔ وہ لوگ اندر قبروں کے پاس اپنی آواز گونجاتے رہے۔ کیسے لرزتی سی تیرتی چلی جاتی ہے۔ جیسے بہت ہی مہین ریشوں کا بنا ہوا، گھڑی میں لگے بال سپرنگ کی طرح کہ بڑا سا مخروطی کچھ ہے جو کبھی پھیل جاتا ہے تو کبھی سکڑ کر سمٹ جاتا ہے۔ دیو کی آواز تھی۔’’را ۔۔۔کا۔۔۔ا کا ۔۔۔اا‘‘ ایک دوسرے پر چڑھتے چلے جاتے لفظ۔۔۔دور کھوتے ہوئے۔۔۔ کہیں انجانی گھاٹیوں کی تلہٹیوں میں ’’مُن مُن مو و و ن اا۔۔۔‘‘ دیو دیر تک ڈوبے ہوئے اس کھیل کو کھیلتے رہے تھے۔لگتا تھا ان کے اندرہے کچھ، جو اس کھیل کے ذریعے سے عیاں ہو رہا ہے۔ وہ راکا یا من من کا نام لے دیتے اور دیر تک اندھیرے میں ان لفظوں کو ڈوبتا کھوتا دیکھتے رہتے جیسے ہاتھ بڑھا کر انھیں واپس پکڑ لینا چاہتے ہوں۔ انھیں قبروں میں کو ئی دلچسپی نہیں تھی۔ بڑی دیربعد، بہت مشکل سے جب وہ اس ماحول سے ٹوٹ کر باہرنکلے تو بہت اداس اور کھوئے کھوئے تھے۔وجے کے پاس سے مُن مُن کو لے کر زورسے اسے چھاتی سے بھینچ لیا۔

باہر نکل کر آئے تو دیکھا کہ ندی کنارے والی برجی کے پاس راکا جی چپ چاپ دور شہر اور لال پل کی سمت دیکھتی کھڑی ہیں۔ سندوری آسمان کے گہرے سلیٹی بادل ندی کے چوکھٹے میں وارنش کلر کی طرح پھیل گئے ہیں۔ برجی سے بیچ کے مقبرے تک چبوترے کی کالی سفید شطرنجی کو سمٹتی دھوپ نے ترچھا بانٹ لیا ہے۔ ہوا میں ساڑھی ان کے بدن سے چپک گئی اور کانوں کے اوپر کی لٹیںسرکش ہو آئی ہیں۔دیو بہت دور تک انھیں یوںہی دیکھتے رہے، جیسے انھیں پہچانتے ہی نہ ہوں اور اس سارے ماحول میں سفید پتھروں کے اس بہت بڑے قید خانے میں جیسے سزا یافتہ جل پری کو یوں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیاہو۔۔۔ ’یہ جگہ،یہ ماحول ہے ہی کچھ ایسا۔‘وجے نے اپنے آپ سے کہا اورجان بوجھ کر دوسری طرف ہٹ آیا۔ شاید راکاجی ممتاز کے عشق کی بات سوچ رہی ہوں،اپنے مرنے کے بعد اپنی ایسی ہی یادگار چاہتی ہوں یا کچھ بھی نہ سوچ رہی ہوں،بس پل سے گزرتی ریل کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی تاج کو دیکھ کر حسن اور خیال کی حیران کن بلندیوںمیں کھو گئی ہوں۔

اپنی چھاتی تک اونچی پیچھے کی دیوار سے مُن مُن ندی کی طرف جھانکتا ہوا ہاتھ ہلا ہلاکر نیچے جاتے بچوں کو بلا رہا تھا۔ کوے کائیں کائیں کرنے لگے تھے۔ مُن مُن کے پاس وہ سنگِ مر مر کی دیوار پر جھک کر ہتھیلیاں ٹیکے سامنے کے حصے اور پیڑوں کی گھنی چھتریوں کو دیکھتارہا۔ جانے کب دیو جی برابرہی آ کھڑے ہوئے۔کافی دورہٹ کر اسی طرح برجی کے پاس جھکی راکا جی۔۔۔ہوا میں پھہراتی ساڑھی کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر روکے ہوئے۔

’’اندر کی آواز اور گونج سن کر بڑا عجیب سا تجربہ ہوتا ہے۔۔۔ ہوتا ہے ناں؟جیسے جانے کن ویران جنگلوں اور پہاڑوںمیں آپ کا کوئی بہت ہی قریبی عزیز کھوگیا ہے اور آپ کی بے ثمر پکاریں ٹوٹ ٹوٹ کراسے پکارتی چلی جاتی ہیں۔۔۔ چلی جاتی ہیں۔۔۔ اور کھو جاتی ہیں۔ وہ عزیز لوٹتا ہے اور نہ آوازیں۔ جیسے زمانوں سے کسی کی بھٹکتی روح اسے پکارتی رہی ہو اور وہ ہے کہ گونجوں اورسایوں میں ہی گھل گھل کر بکھر جاتا ہے۔۔۔ ڈوب جاتا ہے۔۔۔ٹھہرتا ہے اور مجسم نہیں ہو پاتا۔۔۔‘‘

ندی میں تاج کی گھنی گھنی پرچھائیں لہروں میں ٹو ٹ ٹوٹ جاتی تھی۔ انجانے ہی دیو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

’’ایسا ہی ہوتاہے۔ ایسے ماحول میں ایسا ہی ہوتاہے۔‘‘وجے نے اپنے آپ سے کہہ کر جیسے صورتحال کو لفظ دے کرسمجھنا چاہا:’’جب کوئی کسی کوبہت پیار کرے، بہت پیار کرے اور پھر ایسی خوب صورت منحوس جگہ آجائے تو کچھ ایسی ہی باتیں دل میں آتی ہیں۔ ابھی لان پر چلیں گے، مُن مُن کے ساتھ کلکاریاں ماریں گے۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘

دیو نے سنا اور گہری سانس لے کر بڑی زخمی نگاہوں سے وجے کی طرف دیکھا۔ کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دونوں چپ چاپ ہی ٹہلتے ہوئے سامنے کی طرف آ گئے ۔۔۔ مُن مُن راکا جی کے پاس چلا گیاتھا۔ نیچے کی سیڑھیاں اترتے اترتے اچانک ہی دیو نے وجے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ کچھ کہنے کو ہونٹ کانپے:’’آپ کوپتا ہے مسٹر وجے؟‘‘
وجے آواز اور لہجے سے چونک گیا :’’نہیں، کچھ نہیں۔‘‘
اوپر ہری ساڑھی کی جھلک نظر آئی اورپھر دونوں سیڑھیاں اتر آئے۔جوتے پہنتے ہوئے بولے:’’آپ کو تعجب تو بہت ہو گا کہ یوں ہم اچانک آپ کو اٹھا لائے۔‘‘
’’نہیں تو ! اس میں ایسی کیا بات ہے؟‘‘وجے نے خوش اخلاقی سے کہا۔
’’ہاں بات کچھ نہیں ہے لیکن بہت بڑی بات ہے۔‘‘پھر گہری سانس۔۔۔

اب وجے کو لگا کہ سچ مچ کوئی بہت بڑی بات ہے جو دیو کے اندر سے نکلنے کے لیے چھٹپٹا رہی ہے۔ تب پہلی بار اس کا دھیان اس صورتحال کی بو قلمونی کی طرف گیا۔بیچ کے چبوترے تک دونوں بالکل چپ رہے ۔۔۔ چبوترے کے خو ب صورت کونوںوالے حوض میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔ گہرے سانولے آسمان میں لال لال گلابی بادلوں کے بگولے اتر آئے تھے۔ الٹے تاج کی پرچھائیں دم توڑتے سانپ کی طرح ان کے قدموں پر پھن پٹک پٹک کر لہرا رہی تھی۔دھوپ اوپر سیڑھیوں پر سمٹ گئی تھی۔ اس پر آنکھیں ٹکائے دیو بڑی دیر تک یوں ہی دیکھتے رہے۔ سامنے مُن مُن کو لیے راکا جی چلی آ رہی تھیں لیکن جیسے کوئی کسی کو نہیں دیکھ رہا ہو۔ ہاں وجے کبھی اُسے اور کبھی اِسے یا مشک لے کر آتے بہشتی کو دیکھتا رہا۔ ٹپ ٹپ بوندوں کی مسلسل لائنیں اس کی انگلیو ں سے ٹپک رہی تھیں۔ بڑی احتیاط سے لفظوں کو دھکیل کر دیو بولے:’’یہ ساری کیفیت ۔۔۔ یہ ٹوٹ جانے کی حد تک آ جانے والاچرمراتا تناؤ۔۔۔ موت سے پہلے کے یہ قہقہے ۔۔۔سنجیدگی کا یہ برفیلا کفن ۔۔۔ شاید ہم میں سے کوئی اسے اکیلا نہیں سہہ پاتا۔۔۔ کوئی ایک چاہیے تھا جو اس کی طرف سے ہمارا دھیان ہٹائے رکھے۔۔۔ اس انجام کا گواہ بن سکے۔‘‘
’’میں سمجھ نہیں سکا مسٹر دیو۔۔۔!‘‘ گھبرا کر وجے نے پوچھا تھا۔

بوٹوں کے دونوں پنجوں پر ذرا سا مچک کر دیو نہایت ہی اطمینان سے ہنسے: ’’آپ ۔۔۔ آپ وجے صاحب! ہماری یہ آخری شام ہے۔۔۔‘‘اور وجے کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی انھوں نے کہہ ڈالا:’’میں نے اور راکا نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم لوگوں کو الگ ہی ہوجانا چاہیے۔۔۔ دونوں طرف سے برداشت کی شاید حد ہوگئی ہے۔ نسوں کا یہ تناؤ مجھے یا اسے پاگل بنا دے، یا کوئی ایسی ویسی بے ہودگی کرنے پر مجبور کرے،اس سے تو اچھا ہو کہ دونوں الگ ہورہیں۔ چاہے تو وہ کسی کے ساتھ سیٹل ہوجائے، وہ مُن مُن کو رکھنا چاہتی ہے تو رکھے، ویسے جب بھی وہ اسے بوجھ لگے،بلا تکلف میرے پاس بھیج دے۔‘‘وجے کا سر بھنا اٹھا۔ وہ چپ چاپ حوض کی گہرائی میں تڑپتی تاج کی پرچھائیں پر نگاہیں ٹکائے رہا۔
’’لیکن آپ دونوں۔۔۔‘‘وجے نے کہنا چاہا۔

دیو نے ہاتھ پھیلا کر روک دیا:’’وہ سب ہو چکا ہے۔ سارے تجربے ختم ہو گئے۔ ہم نے طے کیا کہ کیوں نہ اپنی آخری شام ہنسی خوشی کاٹیں۔۔۔ دوست بنے رہ کر ہی ہنستے ہنستے رخصت ہو لیں۔۔۔ ‘‘پھر کچھ دیر تک چپ رہ کر کہا:’’راکاکی بڑی تمنا تھی کہ تاج دیکھوں، شادی کی پہلی رات اس نے چاہا تھا کہ ہنی مون یہاں ہو لیکن ۔۔۔ لیکن ۔۔۔‘‘پھر ہاتھ جھٹک دیا:’’عجب ملاپ ہے ناں ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘لیکن وجے کو لگا تھا جیسے کسی ڈیم کی ریلنگ پر جھکا کھڑا ہے اور نیچے سے لاکھوں ٹن پانی دھاڑ دھاڑ کرتا گرتا چلا جارہا ہے ۔۔۔ گرتا چلا جا رہا ہے اور اس کا سر چکرا اٹھا۔۔۔نہیں اس سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔یہ سب تو صرف وہ فرض ادا کر رہا ہے۔ کہیں ایسی بے یقینی بات۔۔۔ دھیان اس کا ٹوٹا دیو کی آواز سے:’’ اسے روکو راکا، مالی وغیرہ منع کریں گے۔۔۔ نہیں مُن مُن! ‘‘آواز بہت ملائم تھی اور پھر دیو نے دوڑ کر پیار سے مُن مُن کو دونوں بانہوں میں اٹھا لیا اور اس کے پیٹ میں اپنا منہ گڑا دیا۔ مُن مُن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ آنکھوںمیں لاڈ بھرے راکا جی مسکراتی رہیں۔ نہیں ابھی جو کچھ اس نے سنا تھا، وہ ان لوگوں کے آپسی رشتوں کے بارے میں نہیں تھا۔ ہو نہیں سکتا۔

بہت بار وجے نے راکا جی کا چہرہ دیکھنا چاہا لیکن لگا وہ ادھر ادھر کے سارے ماحول کو ہی پینے میں مشغول ہیں۔ چڑیاں چہچہانے لگی تھیں۔

انہی جالیوں پر اسی طرح تو وہ لوگ چل رہے تھے کہ پاس آ کردھیرے سے دیو نے کہا تھا: ’’راکا سے مت پوچھیے گا۔‘‘
کیا پوچھے گا وہ راکا جی سے۔۔۔؟
’’سوری آپ کو گھسیٹ لائے ہم لوگ۔‘‘
اور اس بار زخمی نگاہوں سے دیکھنے کی باری وجے کی تھی۔۔۔ اتنا غلط سمجھتے ہیں آپ۔۔۔

چار پانچ سال ہو گئے لیکن بات کتنی تازہ ہو آئی ہے۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چاپ، اداس اور منحوس۔۔۔شام کا بجرارات کا کنارہ چھونے لگا تھا۔ جیسے کسی برسوں کی طوفانی یاترا سے وہ تینوں لوٹ کر آ رہے ہوں۔ پیڑوں اور عمارتوں کی پرچھائیاں خوب لمبی لمبی چوڑی دھاریوں کی طرح پیچھے چلی گئی تھیں۔۔۔کنجوں اور لان کی ہریالیاں عجب ٹٹکی ٹٹکی ہو اُٹھی تھیں۔ ہریالی کے سرمئی دھندلے کانچ پر سفید پھول چھٹک آئے تھے۔

میرا کے چشمے کے کانچوں میں جھانکتی پرچھائیں کو دیکھ کر جانے کیوں اسے وہی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ وہی تاج جو اس دن حوض میں جیسے آسمانی جارجٹ کے پیچھے سے جھانک رہا تھا اور اپنے آپ سے لڑتے ہوئے دیو اُسے بتا رہے تھے۔آج اگر دیو ہوتے تو کیا جواب دیتا۔۔۔؟تو کیا وہ بھی اسی طرح الگ ہو رہے ہیں۔۔۔؟
اچانک چونک کر اس نے میرا کو دیکھا۔۔۔ اسے لگا، جیسے اس نے کہا ہے: ’’کچھ کہہ رہی تھی کیا؟‘‘
’’میں ۔۔۔؟نہیں تو۔‘‘پھر وہی سکوت اور گھسٹتی اداسی کا کمبل۔

لگا جیسے کوئی مردہ لمحہ ہے جس کا ایک سرا میرا پکڑے ہے اور دوسرا وہ اور اسے چپ چاپ دونوں رات کے سناٹے میں کہیں دفنانے جا رہے ہوں۔۔۔ ڈرتے ہوں کہ کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے۔۔۔ کوئی جان نہ لے کہ وہ قاتل ہیں۔۔۔کہیں کسی جھاڑی کے پیچھے اس لاش کو پھینک دیں گے اور خوش بو دار رومالوں سے کس کر خو ن پونچھتے ہوئے چلے جائیں گے۔بھیڑ میں کھو جائیں گے۔۔۔ جیسے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے میں ڈر لگتا ہے ۔۔۔کہیں الزام لگاتی آنکھیں قتل قبول کرنے کو مجبور نہ کر دیں۔

باہر وہ دونوں تانگہ لیں گے ۔۔۔ جھٹکے سے موڑ لیتا ہوا تانگا ڈھال پر دوڑ پڑے گا اور تاج محل پیچھے چھوٹتا جائے گا اور پھر اچھا کہہ کر سوکھے ہونٹوں کی بھری آواز پر مسکراہٹ کا کفن لپیٹ کر دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہو جائیں گے۔۔۔

Categories
شاعری

طنز کا موسم اور دوسری نظمیں (نظم گو: آنیے رِیس، مترجم: ادریس بابر)

نارویجن شاعرہ آنیے رِیس 1927میں پیدا ہُوئیں۔اپنی نسل کے دیگر ممتاز شعرا کے بر عکس آنیے نے اپنے اشاعتی سفر کا آغازقدرے تاخیر کے ساتھ 1975 میں کیا۔ ‘ساتُرا‘، اُن کی پہلی کتاب تھی۔ چار برس بعد، دوسرا شعری مجمو عہ ‘ بلند اشجار کے مابین‘ شائع ہُوا۔ اِس اِنعام یافتہ کتاب نے اُنہیں لکھنے والوں کی صف میں نمایاں جگہ دِلوادی۔ مترجم سے اُن کا غائبانہ تعارف اتّفاق سے اُن کی اِنہی اوّلین کاوشوں کے وسیلے سے ہُوا۔ پیش کیے گئے تراجم شاعرہ کے نقشِ اوّل سے ماخوذ ہیں۔

چوتھائی صدی سے زیادہ عرصہ میں آنیے رِیس کی نظموں کی چھ مزید جلدیں شائع ہُوئیں۔ ہر عمر کے بچّوں کے لئے لکھی گئی آٹھ کہانی کتابیں اِس کے علاوہ ہیں۔ آنیے کی تحریریں اِس دوران متعدّد انتخابوں، درسی اور معاون نصابوں میں شامل کی جاتی رہیں۔اچھّی طرح یاد ہے جبان کے تاحال آخری مطبوعہ دیوان، ‘آسماں فولاد کا‘ پر اُنہیں ایک بڑا ادبی اعزاز پیش کیا گیاتھا۔

[divider]طنز کا موسم[/divider]

سیل ِآب، زلزلہ
زمین کی جڑیں ہلا چکا
آسماں کو خاک میں ملا چکا
بستیاں، اور اُن کی باہمی حدیں مِٹا چکا
پہاڑ ڈھا چکا

پانی چل کھڑے
نئی ڈھلانوں، وادیوں کی سمت
جزیرے، با دلِ نخواستہ بہے
نئے سمندروں کی سمت

یہ سب ہُوا، یہی ہُوا
تو لازمی ہُوا
کوئی ہنسے
ہنسے کوئی بہت

نئے پرانے والوں پر
آزمودہ نقشوں کو آزمانے والوں پر
ریت میں کشتیاں چلانے والوں پر
پتھروں میں غوطے کھانے والوں پر
پانیوں میں سیڑھیاں لگانے والوں پر

ہنسے کوئی بہت شدید
سب یہ جان مان لیں

نئے بنانے ہوں گے
رکھنا ہوں گے اپنے پاس سب
نقشے، زاویے، ستارے، کمپاس سب

[divider]شعریات[/divider]

محاورے کے بطن میں
قید میں پڑا ہے لفظ
تہ بہ تہ بہ تہ
جیسے بے طرح اسیر ہو کنویں کی تہ میں
بیچ صندوق اک
ایک زخمی دل سکون پا رہا

ہمیں یہ صندوق کھینچ لانا ہو گا
محاورے کی قید سے
چُھڑانا ہو گا
لفظ کو،
خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو،
لڑکھڑائے بھاگ کر دکھائے
اِسے یہ سب سِکھانا ہو گا
لفظ پھر بنانا ہو گا

[divider]بِنتی[/divider]

سمے کی کھڈّی پر کَتا
رخنوں، درزوں سے اَٹا
یہ قالین،
اِس کی ایک سطح پر
ابھی گُلاب کھِل رہے ہیں

ابھی کنارے سے لگی ہے
ناؤ تمہاری

دریچے کی سنو بھری سِل پر
ہاتھ رکھے دل پر
میں زرا جھُکوں
تو دیکھ لوں

تمہارے بال، سمندری ہوا
میں لہریے بناتے بال
چمکتے سرخ ہیں
جڑوں کے پاس

[divider]شکریہ[/divider]

کبھی نہیں پہنچنے کا
سفید گھوڑے پر سوار
شہسوار

مگر پہنچ رہی تو ہے، صدا تمہاری
روح کو اُٹھا رہی
بدن کی سطح سے ورا
میرے سنگ تنگ دل وجود کو
بدل رہی، کھِلا رہی

جواب میں یہ
نرم گرم ریشمی، سکوں دہ، اضطراب بخش
لفظ، بھیج دوں؟

کہیں بھٹک نہ جائیں
بادلوں کو احتیاطاً اِن کے ساتھ کر دیا ہے
عنایتوں کا شکریہ ادا کریں گے

[divider]شجرہ عصب[/divider]

بابا جانی
خیر سے وزیرِ مملکت
بھائی جان
سلامت باشد، طبیبِ اعلے
خاوند صاحب
نامدار اُستادِ الاساتذہ
بیٹا جی
آنکھوں کے تارے فرم کے مالک

رُک کر اُس نے کچھ یاد کیا۔۔

اور وہ،
ہمجولی کے بھائی کا دوست
وہ تو سیدھا فوج میں جنرل!

کہہ کر اُس نے ٹھنڈی سانس بھری۔

[divider]مان[/divider]

بات مان جا!
خود فریفتہ
ہو لے! دیکھ، آ
گھُس بیٹھ آنکھوں میں

اِن کو خود تلک
راستہ دِکھا
چیز، تُو جو ہے
سب پہ دے جتا

آبلہ، انا
اب، نہیں تو، کچھ
پھُوٹے گا ضرور

اک دراڑ سی
پڑکے رہے گی
زرہ بکتروں میں

[divider]ملاقات[/divider]

دھیان میں تو لا!
اک بدن زرا
تیرا ذاتی جسم
روح جس میں جھانک لے تو
ہو کے مست
کہہ اٹھے

بہت خوشی ہوئی!
(بہت بہت بہت
بہت خوشی ہوئی)
آپ سے تومل کے
لطف
آ گیا، جناب!

Categories
فکشن

اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

یہ کوئی بہت متاثر کن یا اعلیٰ نسل کا کتا نہیں تھا۔ یہ ان کتوں میں سے تھا جو ہر جگہ ادھر ادھر عام نظر آتے ہیں۔ اس کا رنگ سفید اور مٹیالا تھا، دم کٹی ہوئی تھی جو خدا جانے کس نے کب کاٹی تھی۔گلی میں ہی جنم ہوا تھا۔ بازار کی بچی کھچی اور پھینکی ہوئی اشیا کھا کر پیٹ بھرتا تھا۔اس کی گول گول چتکبری آنکھیں تھیں۔انداز بھی کوئی نرالا نہیں تھا اور وہ بلا وجہ ہی بھونکتا رہتا۔

دو سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کے جسم پر سینکڑوں زخموں کے نشان تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ دیگر کتوں سے اس کی سینکڑوں لڑائیاں ہوئی ہوں گی۔ گرم دوپہروں میں اسے آرام کی ضرورت پیش آتی تو بازار کے مشرقی دروازے کی طرف بدرو کے نیچے آڑا ترچھا پڑا رہتا تھا۔ شام کو اس کے معمول کے چکر شروع ہو جاتے وہ ارد گرد کی گلیوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا۔ اس دوران وہ گلی کی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں بھی شریک رہتا۔ سڑک کنارے سے کھانے کی چیزیں اٹھا کر رات پڑے بازار کے مشرقی دروازے پر لوٹ آتا۔

عرصہ تین سال تک ایسے ہی چلتا رہا۔ اس کی زندگی میں تبدیلی تب آئی جب ایک اندھا بھکاری بازار میں آ کر وہاں بیٹھنے لگا۔ ایک بڑھیا اسے صبح سویرے وہاں چھوڑ جاتی۔ دن میں وہ کچھ کھانے کو لے کر آتی۔ شام کو اپنے سکے گنتی اور رات کو گھر لے جاتی۔

کتا بھی اندھے بھکاری کے قریب سو رہا تھا۔ وہ کھانے کی خوشبو سے کسمسایا۔ وہ اپنے ٹھکانے سے نکلا اور بھکاری کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اپنی دم کو ہلایا اور اور اس کے پیالے پر اس امید سے نظریں جما دیں کہ اسے بھی کچھ بچا کھچا کھانے کو ملے گا۔ بوڑھے نے ہوا میں ہاتھ لہرائے اور پوچھا ” کون ہے یہاں؟” اس پر کتا اس کے قریب آ گیا اور ہاتھ چاٹنے لگا۔ بوڑھے نے سر سے لےکر دم تک اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔

” تم کتنے پیارے ہو! آؤ میرے ساتھ_” اس نے مٹھی بھر کھانا کتے کو دیا جو اس نے شکر گزاری سے کھایا۔ یہ ایک مبارک گھڑی تھا جب ان کی دوستی کا آ غاز ہوا۔ ان کی روزانہ وہاں ملاقات ہوتی۔

کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ کتا بھی لوگوں کو بھکاری کو بھیک دینے کے لئے مجبور کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتے کو سمجھ آ گئی کہ راہ گیروں کا اندھے بھکاری کے سامنے سکے گرانا لازمی تھا۔ اگر لوگ سکے نہ دیتے تو کتا ان کا پیچھا کرتا ، ان کے کپڑے دانتوں میں دبا لیتا ، انھیں واپس بھکاری کے پاس کھینچ لاتا اور انھیں مجبور کرتا کہ بھکاری کے کشکول میں سکے ڈالیں۔

ایک شرارتی بچہ بھکاری کو تنگ کیا کرتا تھا۔ اس کے ذہن میں شیطانی شرارتیں سمائی رہتی تھیں۔ وہ بھکاری کو برے برے ناموں سے پکارتا اور اس کے سکے چرا کر بھاگ جاتا۔ بھکاری بے بسی سے اس پر چلّاتا اور اپنی لاٹھی بچے پر گھماتا۔ یہ لڑکا جمعرات کو سبزیاں اور کھیرے سر پر لاد کر لایا کرتا تھا کیونکہ اس دن جمعرات بازار لگتا تھا۔ ہر جمعرات کو یہ لڑکا اندھے بھکاری کی زندگی میں اک نئی مصیبت لے کر آتا تھا۔ ایک عطر فروش بھی اپنے چھکڑے پر سامان لاد کر آیا کرتا تھا۔ ایک آدمی زمین پر بوریا بچھا کر اس پر اپنی سستی کتابوں کی نمائش لگاتا۔ ایک اور آدمی ایک بڑے فریم پر رنگ برنگے ربن لٹکا کر لاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اسی محراب کے نیچے اپنی اشیاء فروخت کے لئے لایا کرتے تھے۔

ایک جمعرات اس لڑکے کو آتا دیکھ کر ایک پھیری والا بولا
” بوڑھے میاں ! تمھاری مصیبت سر پر آن کھڑی ہوئی _”

” اوہ خدایا! آج جمعرات ہے؟” اس نے تڑپ کر کہا۔ اس نے اِدھر اُدھر ہوا میں اپنے ہاتھ چلائے اور پکارا ” کتے! کتے! ادھر آؤ، تم کہاں ہو؟” اس نے ایک مخصوص آواز نکالی اور کتا وہاں آن کھڑا ہوا۔ کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بڑ بڑایا ” اس ننھے شیطان کو ادھر مت آنے دینا۔” اسی لمحے لڑکا چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہاں پہنچ گیا۔

”بوڑھے میاں! تم ابھی تک اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہو۔ اگر تم واقعی اندھے ہوتے تو تمھیں یہ سب معلوم نہ ہوتا_” وہ رک گیا۔ اس کا ہاتھ کشکول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کتے نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس کے ہاتھوں پر اپنے پنجے گاڑ دئیے۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور زندگی بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ کتا اس کے پیچھے بھاگا اور اسے بازار سے بھگا کر دم لیا۔ ” اس معمولی نسل کے کتے کی اس بوڑھے سے محبت تو دیکھو!” عطر فروش نے حیرت کا اظہار کیا۔

ایک شام معمول کے وقت پر بڑھیا نہ آئی۔ اندھا آدمی پریشانی سے دروازے پر اس کا انتظار کرتا رہا کیونکہ شام رات میں ڈھل رہی تھی۔ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تو ایک پڑوسی آیا اور بتایا کہ بڑھیا کا انتظار نہ کرو وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی۔ آج دوپہر کو وہ چل بسی۔

بھری دنیا میں اندھے آدمی کی واحد پناہ گاہ اس کا گھر بھی چھن گیا اور وہ اس تنہا فرد سے بھی محروم ہو گیا جو اس کا خیال رکھتا تھا۔ ربن فروش نے تجویز پیش کی ” یہ لو سفید ربن۔۔۔۔۔” اس نے سفید ربن فروخت کرنے کے لئے پکڑا ہوا تھا ” میں تمہیں یہ مفت دوں گا۔ اسے کتے کے گلے میں باندھ دو۔ اگر اسے تم سے واقعی انسیت ہے تو وہ تمہاری رہنمائی کرے گا۔ ”

اب کتے کی زندگی میں اک نیا موڑ آ گیا تھا۔ اس نے بڑھیا کی جگہ لے لی تھی۔ اس کی آزادی مکمل طور پر کھو گئی تھی۔ اس کی زندگی سفید ربن کے اسی دائرے تک محدود ہو گئی تھی جتنی کہ ربن فروش نے اس کی لمبائی رکھی تھی۔ اسے اپنی تمام سابقہ زندگی اور پرانی سر گرمیوں کو بھولنا پڑا۔ وہ اس رسی کی درازی کی آخری حد تک ہی رہتا تھا۔ اگر وہ فطرت سے مجبور ہو کر اپنے دوست یا دشمن کتوں کو دیکھتا اور رسی تڑاتے ہوئے ان پر جھپٹتا تو اسے اپنے مالک سے گھونسا پڑتا۔ ” بدمعاش! مجھے گرانا چاہتے ہو؟ __ ہوش کرو_” کچھ ہی دنوں میں کتا اپنی فطرت اور خواہشات پر قابو پانا سیکھ گیا۔ اس نے دوسرے کتوں پر توجہ دینی چھوڑ دی۔ اگرچہ وہ اب بھی اس کی طرف بڑھتے اور غراتے تھے۔ اس کا اپنے ساتھی مخلوق کے ساتھ رابطے اور حرکت کا دائرۂِ کار کھو گیا۔

اس نقصان کی قیمت پر اس کے مالک کو بہت فائدہ ہوا۔ وہ اب اس طرح نقل و حرکت کرتا تھا جیسے اس نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ سارا دن وہ کتے کی رہنمائی میں پیدل چلتا رہتا۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور ایک ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے وہ کتے کی رہنمائی میں گھر سے پیدل نکلتا_ جو کہ بازار سے چند گز کے فاصلے پر ایک سرائے کے برآمدے کے کونے میں تھا۔ وہ بڑھیا کی موت کے بعد یہا ں منتقل ہو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے ہی کام کا آغاز کر دیتا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ایک ہی جگہ رکے رہنے کی بجائے چل پھر کر بھیک مانگنے سے اس کی کمائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ گلیوں میں گھومتا پھرتا اور جہاں کہیں لوگوں کی آواز سنتا بھیک کے لئے ہاتھ بڑھا دیتا۔ دکانیں، سکول، ہسپتال، ہوٹل _ غرض اس نے کوئی جگہ نہ چھوڑی۔ جب اسے رکنا ہوتا تو کتے کی رسی کو کھینچتا اورجب اسے چلانا ہوتا تو بیل ہانکنے والے کی طرح چِلّاتا۔ کتا اسے گڑھے میں گرنے اور پتھروں سے ٹکرانے سے بچاتا۔ قدم بہ قدم بحفاظت اسے سیڑھیوں پر لے جاتا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ بھکاری کو سکے دیتے اور اس کی مدد کرتے۔ بچے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے اور اسے اشیائے خورد پیش کرتے۔ کتا یقیناً ایک چست مخلوق ہے جو گاہے بہ گاہے اپنے تھکن زدہ معمولات کے بعد مناسب وقفوں سے آرام کرتا ہے۔ مگر یہ کتا _جو اب ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا _ کا تمام چین آرام ختم ہو گیا تھا۔ اسے تب ہی آرام کا موقع ملتا جب بوڑھا کہیں بیٹھتا۔ رات کو بوڑھا کتے کی رسی اپنی انگلی سے لپیٹ کر سوتا۔

” میں تمھیں کوئی موقع فراہم نہیں کر سکتا” وہ کہتا۔ روز بروز زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں اس کا مالک آرام کو موقع گنوانا سمجھتا تھا اور کتے کو مسلسل اپنے قدموں پر چلنا پڑتا تھا۔ بسا اوقات اس کی ٹانگیں چلنے سے انکاری ہو جاتیں مگر وہ معمولی سی بھی سست رفتاری کا مظاہرہ کرتا تو اس کا مالک غصے میں اپنی لاٹھی سے اسے مارتا۔ کتا اس ظلم پر تلملاتا اور احتجاج کرتا ” کراہو مت بدمعاش! کیا میں تمھیں خوراک نہیں دیتا؟ تم بے کار وقت گزارنا چاہتے ہو؟ کیا تم ایسا کرو گے؟” اندھے بوڑھے نے گالی دی۔اندھے ظالم کے ساتھ بندھا ہوا کتا سست قدموں سے سارا دن گلیوں میں ادھر ادھر ، اوپر نیچے پھرتا رہتا۔ جب بازار میں خرید و فروخت بند ہو جاتی تو رات گئے دیر تک تھکے ماندے کتے کی درد بھری کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس کی ظاہری شکل کھو گئی تھی۔ جوں جوں وقت گزرا اس کی ہڈیاں اس کی جلد میں کھبتی گئیں۔اس کی پسلیاں جلد سے جھانکتی صاف نظر آتی تھیں۔

ربن فروش، ناول فروش اور عطر فروش اس کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے۔ ایک شام جب کاروبار میں مندا تھا تینوں نے بیٹھ کر مشاورت کی۔ ” اس کتے کو غلامی کرتے دیکھ کر میرا دل پسیجتا ہے۔ کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟” ربن فروش نے تبصرہ کیا۔ ” اب تو اس بد معاش نے ساہو کاری بھی شروع کر دی ہے۔ _ میں نے سبزی فروش سے یہ بات سنی ہے __ وہ اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔ وہ پیسے کی خاطر شیطان بن چکا ہے ___” اسی لمحے عطر فروش کی نظر قینچی پر پڑی جو ربن کے فریم پر جھول رہی تھی۔ ” یہ ذرا مجھے پکڑاؤ” وہ بولا اور قینچی ہاتھ میں تھامے آگے بڑھا۔

اندھا بھکاری مشرقی دروازے کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کتا رہنمائی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ راستے میں ہڈی کا ٹکڑا پڑا تھا اور کتا اسے کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا۔

رسی اندھے بھکاری کے ہاتھ میں تن گئی جس سے اس کے ہاتھ کو تکلیف پہنچی۔ اس نے رسی کھینچی اور کتے کو ٹھوکر ماری۔ کتا چلّایا اور کراہا مگر آسانی سے ہڈی تک نہ پہنچ سکا۔ اس نے ہڈی کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔ اندھا آدمی اس پر لعنتوں کے انبار لگا رہا تھا۔ عطر فروش نے قدم آگے بڑھایا، قینچی چلائی اور ربن کاٹ دیا۔ کتے نے چھلانگ ماری اور لپک کر ہڈی اٹھا لی۔ اندھا آدمی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہ گیا۔ ربن کا بقیہ حصہ اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ ” ٹائیگر! ٹائیگر! تم کہاں ہو؟” وہ پکارا۔ عطر فروش چپکے سے کھسک آیا اور بڑ بڑایا، ” بے رحم شیطان! تم اسے کبھی دوبارہ نہیں پاسکتے۔ اس نے اپنی آزادی حاصل کر لی ہے۔ ” کتا تیز رفتاری سے بھاگ گیا۔ اس نے خوشی خوشی سارے نالوں میں ناک گھسیڑی۔ بھاگ کر دوسرے کتوں میں شامل ہو گیا اور بازار کے فوارے کے ارد گرد بھونکتے ہوئے آزادی سے چکر لگائے۔ اس کی آنکھیں خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔ وہ اپنی پسندیدہ جگہوں قصاب کی دکان، چائے کے کھوکھے اور بیکری پر گیا۔

ربن فروش اور اس کے دوست بازار کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اندھے بھکاری کو راستہ ٹتولتے دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا لاٹھی گھما رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں معلق ہے۔ وہ گریہ کر رہا تھا ” ہائے ! میرا کتا کہاں ہے؟ میرا کتا کہاں ہے؟ کوئی ایسا نہیں جو مجھے میرا ٹائیگر لوٹا دے؟” اگر وہ پھر سے مجھے مل جائے تو میں اس کا خون کر دوں گا۔ ” اس نے ٹتولتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔ جگہ جگہ درجنوں گاڑیوں کے نیچے آنے سے بچا، کئی بار لڑھکا اور آخر کار ہانپنے لگا۔ ” اگر وہ کچلا جاتا تو اسی کا مستحق تھا۔ بے رحم انسان_” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ تاہم بوڑھا کسی نہ کسی طرح کسی کی مدد سے سرائے کے بر آمدے کے کونے میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے بوریے کے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ سفر کے تناؤ کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش تھا۔

پھر وہ نظر نہ آیا۔ دس_ پندرہ_ حتیٰ کہ بیس روز گزر گئے۔ نہ ہی کتے کی کوئی بھنک ملی۔ وہ آپس میں تبصرے کیا کرتے۔ ”کتا یقیناً آزادی کی خوشی اور سرمستی میں دنیا گھوم رہا ہو گا۔ بھکاری بہر حال اب تک گزر گیا ہو گا۔ ” بمشکل ہی یہ جملہ ادا ہوا ہو گا کہ انھوں نے بھکاری کی لاٹھی کی مخصوص ٹپ ٹپ کی آواز سنی۔ انھوں نے فٹ پاتھ پر بھکاری کو کتے کی رہنمائی میں دوبارہ آتے ہوئے دیکھا۔ ” دیکھو ! دیکھو ! ” وہ چِلّائے، ” اس نے دوبارہ اس پر قابو پا لیا اور رسی باندھ دی_” ربن فروش خود کو باز نہ رکھ سکا اور پوچھا ” تم ان تمام دنوں میں کہاں رہے؟”

”جانتے ہو کیا ہوا!” اندھا آدمی کراہا ” یہ کتا بھاگ گیا تھا۔ میں تو اس کونے میں پڑا پڑا ایک دو دن تک مر ہی جاتاکھانے کو کچھ تھا نہ کوئی آنے کی کمائی تھی وہاں پر قید چل بستا اگر کل بھی ایسا ہوتا مگر یہ کتا لوٹ آیا_”

”کب؟ کب؟ ”

”کل رات، آدھی رات کا وقت ہو گا جب میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا وہ آ گیا اور میرا چہرہ چاٹنے لگا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اسے مار ڈالوں۔ میں نے اسے زور کا دھکا دیا۔ جو وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ ” بوڑھے آدمی نے بتایا۔ ”میں نے اسے معاف کر دیا۔ بہر حال وہ ایک کتا ہی تو تھا۔ وہ اتنے دن آزادی سے گھوما پھرا جب تک سڑک کنارے بچا کھچا کھانے کو ملتا رہا۔ مگر بھوک اسے میرے پاس واپس کھینچ لائی۔ مگر اب وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ دیکھو! اب مجھے یہ مل گئی ہے__” اس نے رسی لہرائی۔ اس مرتبہ یہ لوہے کی زنجیر تھی۔

ایک مرتبہ پھر کتے کی آنکھوں میں بے دلی اور نا امیدی کی تصویر در آئی تھی۔ ” اپنی راہ لو احمق! ” اندھا بھکاری ایک بیل ہانکنے والے کی طرح ہنکارا۔ اس نے رسی کو جھٹکا دیا اور اپنی لاٹھی سے اسے ٹھوکر ماری اور کتے نے سستی سے اپنے قدم آگے بڑھا دئیے۔ وہ ٹپ ٹپ کی آواز کو دور جاتے ہوئے سنتے رہے۔

” اب تو موت ہی کتے کی جان چھڑا سکتی ہے۔” ربن فروش نے آہ بھری اور اس پر افسردہ نگاہ ڈالی۔ ” ہم ایسی مخلوق کا کیا کر سکتے ہیں جو اتنی خوش دلی سے اپنی بد بختی کی طرف لوٹ آئے۔”

Categories
شاعری

یولا کا خواب اور دوسری نظمیں (شاعر: احمد شافعی، ترجمہ: ادریس بابر)

مصر سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب اور مترجم احمد شافعی عربی ادب کی منفرد ترین نئی آوازوں میں سے ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں پر پھیلا ہوا ان کا متنوع کام ان کی خلاقی کا ثبوت ہے۔ جہاں ان کی آزادہ روی نے ان کے مداحوں کے دلوں میں گھر کیا وہیں ان کی روشنئ طبع خود ان کے لئے بلا بھی ثابت ہوتی رہی۔ احمد شافعی مسقط میں مقیم ہیں۔ آج آپ لالٹین پراس باکمال شاعر کی نظمیں آپ پڑھنے جا رہے ہیں۔ ان نظموں کوعربی سے انگریزی قالب میں مونا کریم، احمد رخا اور رابن موجر نے ڈھالا جبکہ انہیں اردو روپ ادریس بابر نے دیا۔

[divider]1[/divider]

شاعری وہاں نہیں ملی مجھے
جہاں میں اسے چھوڑ کے گیا تھا

بادل میری کھڑکی میں
نظم میری لکھنے کی میز پر
ذرا حیران نہیں ہوا میں

کمرے کا کمرہ
بے چینی سے منتظر تھا میرا
نشے میں چور
پلکیں اٹھائیں اس نے
مخمور بانہیں کھول دیں
ذرا تصور تو کرو
وہ کہنے لگا
از برائے خدا
تصور تو کرو مجھے

[divider]2[/divider]

ایک چھوٹے سے شہر کے پاس ہے
ایک بہت بڑا سمندر
اس پر سایہ فگن ہے
ایک شاندار قلعہ
گلیاں ہیں اور چوک ہیں
راستے ہیں اور موڑ ہیں
طرح طرح کے اچنبھوں
ان گنت اتفاقی ملاقاتوں کے امکانات لیے

چھوٹا سا شہر
جو ہم بنا پائے
ایک دوسرے سے واقفیت کے کارن

اسی دوران
کہیں کے کہیں تیرتے چلے گئے
ہمارے باپ
رنگ برنگی چھتریوں کو
ہماری ماوں کی نشانیاں ٹھہرا کر

[divider]3[/divider]

ہر نظم
جو میں پڑھتا
ایک ہیرا نکلتی
لوٹ مار کے نتیجے میں
جسے دنیا سے چھین لیا گیا ہو
ہر نظم
جو میں لکھتا
اس کے مقابلے میں
نظر آتی
ایک معذرت نامہ

[divider]4[/divider]

وہی فیصلہ کن گھڑی تھی
جب میں بہت بھاری پڑ رہا تھا
اپنے حریف کے مقابلے میں
اس نے راہ فرار اختیار کی
میں بھی پیچھے ہٹتا گیا
اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر
کہ میں جو حاوی تھا
کیوں پیچھے ہٹا
جب وہ پرے بہت پرے ہٹ چکا
تو میں اسے نہایت غیر اہم دکھائی دینے لگا
اتنا کہ اسے خود پر پیار آنے لگا
کہ آخر اس نے کچل کے کیوں نہ رکھ دیا
مجھ ایسی حقیر شے کو
اپنے جوتوں تلے

[divider]یولا کا خواب[/divider]

قلم پر پوری قدرت نہ رکھتی تھیں
ابھی اس کی پانچ سالہ انگلیاں
جب یولا نے کاغذ پر نقش کیا
ایک ٹوٹا ہوا دل
نارنجی رنگ میں
اور کہنے لگی
میں نے تمہیں خواب میں دیکھا تھا
تم اشارہ کررہے تھے
ایسی ہی بلکہ اس سے بڑی چیز کی طرف
جبکہ تم ایک صحرا میں تھے
اور تم کہہ رہے تھے
یولا! میں ہی تو ہوں
وہ جس نے یہ گھر بنایا
تمہارے لیے
وہ گھر بہت دور تھا
اور مزید دور ہو جاتا
وہاں سے جہاں کا رخ ہم کر رہے تھے

Categories
فکشن

بِلّیوں کا ماہر (تحریر: مو یان، ترجمہ: نجم الدین احمد)

[divider]تعارف[/divider]

نوبیل انعام برائے ادب۔۲۰۱۲ء سے چینی النسل ناول نگار اور افسانہ نگار مَویان کو نوازا گیا کہ “وہ اپنی تحریروں میںتخیّلاتی حقائق نگاری کا ادغام فوک داستانوں، تاریخ اور عصرِ حاضر سے کرتے ہیں۔” سویڈش اکیڈمی کے سربراہ پیٹر این گلنڈ کے مطابق: “اُن کا اسلوب اِس قدر لاثانی ہے کہ آدھا صفحہ پڑھتے ہی آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ مَویان ہیں۔” ۱۱؍اَکتوبر ۲۰۱۲ء کو سویڈش اکیڈمی کے اعلان کے بعد مَویان یہ انعام جیتنے والے دُنیا کے یک صد نویں اور چین کے دُوسرے ادیب لیکن چین ہی میں قیام پذیر پہلے ادیب ہیں۔ مَویان سے قبل ۲۰۰۰ء میں ایک چینی ادیب گاؤ ژِنگ جیان کو یہ انعام مل چکا ہے لیکن وہ فرانس کے شہری تھے۔

مَو یان کا اصل نام گُوآن مَوئے (Guan Moye) ہے۔ گُوآن اُن کا خاندانی نام ہے جب کہ گھر میں اُنھیں صرف مَو کہہ کر پُکارا جاتا ہے لیکن دُنیا بھر میں اُن کی شہرت اُن کے قلمی نام مَویان سے ہے۔ مَویان کا چینی زبان میں مطلب ہے: “چُپ یا خاموش رہو۔” نیشنل انڈوومنٹ فار ہیومینیٹیز کے چیئرمین جِم لِیچ کو انٹرویو دیتے ہُوئے گُوان مَوئے نے بتایا کہ یہ نام اُن کے ذہن میں اپنے ماں باپ کی تنبیہہ سے آیا تھا کہ گھر سے باہر اپنے دِل کی بات زبان پر مت لاؤ کیوں کہ اُن کے لڑکپن میں ۱۹۵۰ء سے چین میں سیاسی انقلاب کی صُورتِ حال تھی۔ اُن کے قلمی نام مَویان کا اُن کی تحریروں سے گہرا تعلّق ہے جو چین کی سیاسی اور جنسی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ گُوان مَوئے ۱۷؍ فروری ۱۹۵۵ء کو مَویان شندونگ (Shandong)صوبے کے گاؤمی (Gaomi)ضلع کے دیہی علاقے دالان )جسے اُنھوں نے اپنے ناولوں میں گاؤمی ضلع کے”شمال مشرقی قصبہ” کا نام دیا ہے) میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہُوئے۔ ثقافتی انقلاب کے دوران وہ سکول چھوڑ کر پٹرولیم مصنوعات کی ایک فیکٹری میں کام کرنے لگے۔ انقلاب کے بعد وہ پیپلز لِبریشن آرمی میں بھرتی ہُوئے اور فوج کی ملازمت کے دوران ہی اُنھوں نے لکھنا شروع کر دیا۔ تین سال بعد اُنھیں پیپلز لِبریشن آرمی کی اکادمی برائے فن و ادب کے شعبۂِ ادب میں استاذ کی نشست مل گئی جہاں سے ۱۹۸۴ء میں اُنھوں نے اپنا ناولچہ A Transparent Radish شائع کیا۔ اُنھوں نے ادب میں ماسٹر ڈگری بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے حاصل کی۔

مَویان نے بطور مصنف اپنے کیریئر کا آغاز چینی زبان میں اصلاح اور ایک نئے عہد کا آغاز کرنے والی ہزاروں کہانیاں اور ناول لکھ کر کیا۔ اُن کا پہلا ناول Falling Rain on a Spring Night۱۹۸۱ء میں اشاعت پذیر ہُوا۔ اُن کے لاتعداد ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اُن کا ناول Red Sorghum Clanشندوگ خاندان کی ۱۹۲۳ء تا ۱۹۷۶ء تک بکھری ہوئی داستانی تاریخ ہے۔ مصنف نے اِس ناول میں چینی تاریخ کے نشیب و فراز کو غیر روایتی انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ ناول مختلف ناموں کی پانچ جِلدوں پر مشتمل ہے :i) Sorghum Wine ii) Sorghum Funeral iii) Dog Road iv) The Odd Dead v) Red Sorghum۔ مغربی قارئین اُن کے ۱۹۸۷ء کے ناولRed Sorghum Clanکی وجہ سے اُن سے خُوب آشنا ہیں۔ اِس ناول کی دو جِلدوںRed Sorghum اور orghum Wine  پربعد میں Red Sorghum کے نام سے فلم بنائی گئی۔ اُن کا اگلا ناول The Garlic Ballad ایک سچی کہانی پر لکھا گیا ہے کہ گاؤمی قصبے کے لوگ اِس بِناء پر حکومت کے خلاف شورش برپا کردیتے ہیں کہ وہ اُن کی فصلیں نہیں خریدتی۔           The Republic of Wine شراب اور لذیذ پکوانوں پر ایک طنزیہ تحریر ہے جس میں شراب اور لذیذ پکوانوں کو چینیوں کی اپنی تباہی آپ کرنے کی علامتوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ Big Breasts and Wide Hips ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کرتا ہے جس کے پستان جاپانیوں کی گولیوں سے چیتھڑوں میں بدل گئے تھے۔ یہ ناول چین میں متنازعہ رہا کیوں کہ کچھ بائیں بازو کے نقادوں کا خیال تھا کہ Big Breasts اشتراکی فوجیوں کی منفی کردارنگاری کے طور پر سامنے آتا ہے۔ لکھنے کی توانائی سے بھرپُور مَویان نے اپنا تازہ ترین ناول Life and Death Are Wearing Me Out صرف ۴۲ دِنوں میں ہاتھ سے لکھ کر مکمل کیا ۔ وہ اپنے ناولوں کو ٹائپ کرنے کی بجائے ہاتھ ہی سے لکھنے پر ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ اُن کا خیال ہے کہ ٹائپ ” ذخیرۂِ الفاظ کو محدود کردیتی ہے۔” اِس ناول کی کہانی ایک ایسے جاگیردار کی کہانی ہے جو زرعی اصلاحات کی تحریک کے دوران مختلف جانوروں کے رُوپ میں بار بار زندہ ہوتا ہے۔ جاگیردار اشتراکی معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہُوئے اُس پر طنز کرتا ہے مثلاً جب وہ (گدھے کے رُوپ میں) دو خچروں کو اپنی خوراک میں سے اُسے حِصّہ دینے پر مجبور کرتا ہے کیوں کہ “اشتراکی دور میں… میری چیز تمھاری، تمھاری چیز میری۔”

مَویان کے دیگر اہم ناولوں میں

1۔ Sandalwood Death

2۔ Change

3۔  Pow!

شامل ہیں۔ جب کہ مختصر افسانوں کے مجموعوں میں

1۔ Shifu: You’ll Do Anything for a Laugh

2۔ White Dog and the Swings

3۔  Explosion and Other Stories

اور دیگر تصانیف میں

1۔ Man and Beast

2۔ Soaring

3۔ Iron Child

4۔ The Cure

5۔ Love Story

6۔ Shen Garden and Abandoned Child

مَویان کا کام اغلب طور پر معاشرتی تنقید پر محیط ہے۔ وہ لُو چن(Lu Xun) کی معاشرتی اور گیبریل گارشیا مارکیز کی ساحرانہ حقائق نگاری سے لیکن روایتی چینی ادب میں وہ فوک داستان پر لکھے جانے والے کلاسیکی رزمیہ ناول  Water Margin سے بہت متأ ثر ہیں۔ مَویان بین الاقوامی ادب کے تراجم کا مطالعہ کرتے ہیں (کیوں کہ مَویان کی تصانیف کو انگریزی میں ترجمہ کرنے والے ہاورڈ گولڈ بلیٹ کے بقول اُنھیں چینی کے علاوہ کوئی اَور زبان نہیں آتی)اور دُنیا بھر کے ادب کے مطالعے کے بہت بڑے حامی ہیں۔ اُنھوں نے فرینکفرٹ بُک فیئر ۲۰۰۹ء کی افتتاحی تقریر میں گوئٹے کے نظریے کو یہ کہتے ہُوئے بیان کیا: “ادب ملکوں اور قوموں کے درمیان موجود سرحدوں پر غلبہ پا سکتا ہے۔”

مَویان کی تحریریں رزمیہ تاریخی اُسلُوب رکھتی ہیں جس میں تخیّلاتی حقائق نگاری اورمزاح کی پُرکاری کی آمیزش موجود ہے۔ اُنھوں نے انسانی حرص و طمع اور بدعنوانی کو اپنا مستقل موضوع بنایا ہے۔ اُنھوںنے خِیرہ کُن، پیچیدہ اور اکثر پُرتشدّد کرداروں کو استعمال کرتے ہُوئے بہت سی کہانیاں اپنے آبائی گاؤں، شندوگ صوبے کے شمال مشرقی قصبے گاؤمی کے پس منظر میں لکھی ہیں۔ اِس بارے میں مَویان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے محسوس کیا کہ ولیم فاکنر کے The Sound and the Fury کے مطالعے کے بعد وہ اپنے خاندان، شناسا لوگوں ، دیہاتیوں ہی کو… اپنے کردار بنا سکتے ہیں ۔ مَویان کا اُسلُوب “ماضی اور حال، مردہ اور زندہ، اچھے اور بُرے” میں فرق کو دھندلانے کی خُوبی رکھتا ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں نیم خود نوشتی کردار کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں جومصنف کی دِیگر کہانیوں کو ترمیم کر کے دوبارہ سُناتاہے۔ اُن کے نسوانی کردار اکثر اپنا روایتی نسوانی کردار نبھانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ امریکا ٹائم میگزین میں ڈونلڈ موریسن اُن کے بارے میں لکھتا ہے: “وہ تمام چینی ادیبوں سے زیادہ معروف، اکثر پابندیوں کا شکار رہنے والے اور سرقہ ہونے والے ادیب ہیں۔”اور جِم لِیچ اُنھیں فرانز کافکا اور جوزف ہیلر کا جواب قرار دیتا ہے۔

مَویان کو ملنے والے انعامات و اعزازت کی طویل فہرست ہے ۔ جن میں کِری یاما۔۲۰۰۵ئ، ڈاکٹر آف لیٹرز۔۲۰۰۵ئ، فیوکوکا ایشین کلچر پرائز۔XVII، نیومین پرائز برائے چینی ادب۔۲۰۰۹، آنریری فیلو ماڈرن لینگوایج ایسوسی ایشن۔۲۰۱۰ئ، ماؤ ڈن لٹریچر پرائز۔۲۰۱۱ء اور نوبیل انعام برائے ادب۔۲۰۱۲ء شامل ہیں۔

قِصّہ گو” کے عنوان سے اپنے نوبیل خطبے میں مَویان نے اپنے خاندان کے شدّید معاشی بدحالی ومالی تنگ دستی کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی ادبی و غیر ادبی زندگی، تخلیقات، کردار نگاری اور موضوعات پر بھرپُور اظہارِ خیال کیا۔ جس میں سے چند ایک چیدہ چیدہ باتیں یہ ہیں:

“میں امریکی ناول نگار ولیم فاکنر اور کولمبیا کے ناول نگار گابرئیل گارشیا مارکیز سے بے حد متأثر تھا …میں نے اُن سے سیکھا کہ ایک لکھاری کی اپنی ایک سرزمین ہونا چاہیے جو صرف اُسی کی ذاتی ملکیت ہو۔۔۔ دو برس تک میں اُن کے نقشِ قدم پر چلا پھر مجھے احساس ہُوا کہ مجھے اُن کے اثر سے نکلنا ہو گا۔۔۔میں اپنی کہانیاں اپنے انداز میں لکھتا ہوں۔ میرا طور ایک بازاری قِصّہ گو جیسا ہے جس سے میری خُوب آشنائی ہے، وہی طور جو میرے والد، والدہ اور پُرانے زمانے کے قِصّہ گوؤں کا تھا… میری اِبتدائی کہانیاں میرے ذاتی تجربات کے بیانیے تھے… قدرتی طور پر اپنے ذاتی تجربات فکشن میں من و عن منتقل نہیں کیے جا سکتے خواہ وہ کتنے ہی لاثانی کیوں نہ ہوں۔ افسانے کو افسانہ اور تخیلاتی ہی ہونا چاہیے… تخلیقی عمل ہر مصنف کے لیے لاثانی ہوتا ہے… خواہ اُس کی تخلیق تخیلاتی ہو یا حقیقی۔۔۔میرے اِبتدائی کام کو خُود کلامیاں کہا جا سکتا ہے کہ مجھے کسی قاری کا تصوّر تک نہیں تھا۔ لیکن ناول Sandalwood Death کے لکھنے کے آغاز کے ساتھ ہی میری چشمِ تصوّر نے مجھے دِکھایا کہ میں چوک میں کھڑا سامعین کی بڑی تعداد کو اپنی کہانی سُنا رہا ہوں۔۔۔۔ میں نے ہمہ قسم کی اُسلُوبیات کا تجربہ کیا لیکن انجام کار میں اپنی روایات کی طرف پلٹ آیا لیکن یہ پلٹنا تبدیلی کے بغیر نہیں تھا۔ میں نے اِس ناول اور بعد میں آنے والے ناولوں میں چینی کلاسیکی روایت کو مغربی ادبی تیکنیکوں کے ساتھ آگے بڑھایا ہے… میں نے اپنے ناول The Garlic Ballads میں زندگی کے ایک حقیقی کردار کو لیا ہے جو ناول میں ایک قِصّہ گو اور گویّا کا اہم کردار ہے۔ گو اُس کے مکالمے اور افعال افسانوی ہیں لیکن کاش میں اُس کا نام استعمال نہ کرتا۔ یہ فعل مجھ سے ہر بار سرزد ہو جاتا ہے۔ میں حقیقی ناموں سے آغاز کرتا ہوں تاکہ مانوسیت کا احساس قائم رہے اور جب کام ختم ہو جاتا ہے تو لگتا ہے کہ اُن کے نام تبدیل کرنے کا مرحلہ کبھی کا گذر چکا۔ لوگ ناولوں میں اپنے نام دیکھ کر ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے میرے والد کے پاس جاتے۔ وہ ہمیشہ اُن سے میری جگہ معذرت کرتے اور اُنھیں کہتے کہ وہ اِس چیز کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ میری ایک سگی خالہ میرے تازہ ترین ناول “مینڈک” کا مرکزی کردار ہیں… مجھے اِس سے مفر نہیں کہ “مینڈک‘‘ میں وہ میرا ماڈل ہیں لیکن اُن میں اور افسانوی خالہ میں وسیع تفاوت ہے۔ افسانوی خالہ غصّیلی اور حاوی شخصیت کی حامل ہے اور بعض اوقات تو جھگڑالو بھی۔ لیکن میری سگی خالہ مہربان اور نرم خُو، خیال رکھنے والی روایتی بیوی اور شفیق والدہ ہیں… میرے لیے بڑا مرحلہ ناولوں میں سماجی حقائق سے نپٹنا رہا ہے۔ اِس لیے نہیں کہ میں معاشرے کے تاریک پہلوؤں کا کُھلا ناقد بننے سے ڈرتا ہوں  اِس لیے کہ تند و تیز جذبات اور طیش سیاست کو ادب پر غلبے کا موقع فراہم کردیتے ہیں۔ معاشرے کا رُکن ہونے کے ناطے ناول نگار کو اپنے مؤقف کو بیان کرنے کا پُورا حق حاصل ہے لیکن لکھتے ہُوئے اُسے انسانیت کے مؤقف کو مدِّنظر رکھنا چاہیے۔ایک لکھاری کے لیے بہترین طریقۂِ اظہار اُس کی تحریریں ہیں۔”

[divider]بلیوں کا ماہر[/divider]

خالہ نے بتایا کہ اُس   کا باپ ایک کاہل شخص تھا جس نے کبھی ایک دِن بھی ٹِک کر کام نہیں کیا۔ سرما کے سرد دِنوں میں جب لوگ پیسے کمانے کے لیے اپنے گھروں میں بند ہو کر تنکوں کی چپلیں بُن رہے ہوتے، اُس کا باپ اپنے ہاتھوں میں دو بِلّیاں لیے اِدھر اُدھر مٹرگشت کرتا پھرتا تھا۔ خالہ نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہُوا تھا تو پی ایل اے کا دستہ بستی کے عقب میں واقع الکلی کے میدان میں فائرنگ کی فوجی مشقیں کر رہا تھا۔ میدان سے سفید اور کالے دُھویں کے مرغولے اُٹھتے تھے۔ خوف ناک دھماکے کاغذی کھڑکیوں کو جھنجھنا ڈالتے تھے۔

جب وہ سات برس کا تھا تو مجھ سے جھگڑ پڑا، اپنے ہاتھ سے میرے گال پر کھرونچ ڈالی اور میرے کان پر مارا۔ بہت سا خُون بہا۔ خالہ نے اُسے دیکھ لیا اور اُس پر چِلّائیں: “بُومر، چھوٹے جنگلی بِلّے، تم کیا کر رہے ہو؟ لوگوں کو کاٹ رہے ہو؟”

وہ اپنی زبان کی نوک سے اپنے ہونٹ چاٹتا رہا جیسے جنگلی بِلّی ندیدے پن سے چُوہے کے قتلوں سے لہو چاٹتی ہے۔ خالہ کی بات اور ڈانٹ ڈپٹ پر اُس نے اپنی آنکھیں سُکیڑ لیں لیکن اپنی جگہ سے ہلنا تو درکنار اُف تک نہیں کی۔ ایک کالی بِلّی اپنے مُنھ میں ایک چُوہے کو دبوچے ہمارے کارخانے کے چھپرسے چھوٹے چھوٹے سریع قدموں سے نکلی۔ وہ ایک موٹا تازہ چُوہا تھا جس کے وزن سے بِلّی کا سر اُٹھ نہیں پا رہا تھا۔ اُس کی سبز لشکارے والی چُندھی آنکھیں پھٹی ہُوئی تھیں۔ اپنے ہاتھ کو سینے کی طرف اُٹھاتے ہُوئے وہ تنا اور اُس نے پلک جھپکنے میں بِلّی کے روبرو پہنچ کر اُس سے چُوہا چھین لیا۔ کالی بِلّی نے اُس کے سامنے مُنھ کھول کر چند عجیب و غریب چیخیں نکالتے ہُوئے شور کیا؛ پھر، جب اُس نے دیکھا کہ اُس کی ایک نہیں چلے گی تو وہ فوں فاں کرتی ہُوئی وہاں سے چلی گئی۔ خالہ کا ہاتھ، جو جئی کی بھُوسی سے میرا کان جوڑ رہی تھیں، لحظہ بھر کے لیے تھما لیکن اُن کے سختی سے اَدھ کھلے مُنھ سے کوئی آواز برآمد نہ ہُوئی۔ میری اور خالہ دونوں کی نگاہیں بُومر اور اُس کے ہاتھ میں تھامے ہُوئے چُوہے سے چپکی ہُوئی تھیں۔ اُس کے چہرے پر عسیرالفہم مُسکراہٹ تھی اور ایک ایسا تأثر جو یا تو احمقانہ ہو سکتا تھا یا پھر بے رحمانہ۔

بعد میں، بُومر اپنے باپ کے ساتھ شمال مشرق میں چلا گیا اور اپنے جانے کے بعد اُس نے کبھی اپنے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔ دو سال قبل میں نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ ایک قدرے سٹھیایا ہُوا بُڈّھا، جو کسی زمانے میں سکونت اختیار کرنے کے لیے شمال مشرق میں چلا گیا تھا، ہمارے گاؤں میں لوٹ آیا تھا۔ میں نے اُس کے پاس بیٹھ کر پیداواری ٹیم کے لیے چٹائیاں بُنتے ہُوئے بُومر اور اُس کے خاندان کے متعلّق دریافت کیا۔ اُس نے بجھی ہُوئی آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ بُومر کا باپ مر گیا ہے اور بُومر کو تیندوا  بِلّی نے کھا لیا ہے۔ جب میں نے اُس سے پُوچھا کہ تیندوا بِلّی کیسی ہوتی ہے تو میں اُس کی بات سمجھ نہیں پایا۔ اُس نے محض اِتنا کہا کہ بس یہ سمجھ لو کہ وہ ایک خشم ناک جنگلی جانور ہے؛ ایک عام بِلّی سے کچھ بڑا لیکن کُتّے سے چھوٹا، جس سے لومڑیاں اور سیاہ ریچھ تک خوف کھاتے ہیں۔

پس بُومر کو تیندوا بِلّی نے کھا لیا تھا۔ مجھے اُس کے لیے کوئی افسوس محسوس نہیں ہُوا، مجھے بس اُس کی چیستاں مُسکراہٹ یاد آئی—- ظالم، یا شاید محض حماقت بھری۔

بُڈّھے کو آئے ہُوئے ابھی ایک سال ہی ہُوا تھا کہ وہ چل بسا اور بستی کے مشرقی حِصّے والے پُرانے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ بستی والے اُس کے معاملے میں کہتے تھے کہ ہر چیز اپنے اصل کی جانب لوٹتی ہے—- وہ یہ بات تب کہتے جب کوئی شخص مرنے کے لیے اپنے گھر پلٹتا۔ اپنے آبائی مقام کو چھوڑنا دشوار ہوتا ہے۔ چاہے وہ مقام کتنا ہی پسماندہ ہو اُسے بُھلایا نہیں جا سکتا اور بالآخر حالات ایک روز آدمی کو وہاں واپس لے ہی آتے ہیں۔

اگلے برس، موسمِ سرما کی ابتداء ہی میں، فوج گاؤں میں بھرتی کے لیے آئی۔ بھرتی کرنے والے تمام افسران چرمی بُوٹ اور بھیڑ کی پوستینیں پہنے ہُوئے تھے۔ لوگوں کے استفسارات کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ وہ ہیلونگ جیانگ سے آئے ہیں۔ اُسی لمحے مجھے پُراَسرار کہانیاں اور اساطیر یاد آئیں جو بُوڑھے شخص نے سنائی تھیں اور بُومر کی کہانی بھی، جسے خشم ناک اور عفریت جیسی تیندوا بِلّی نے اپنی ریگمال زبان سے اُس کی ہڈّیاں چاٹتے ہُوئے کھا لیا تھا؛ ایک افسردہ تِیکھی چیخ۔۔۔ اور جنگل کی زلزلہ زدگی۔۔۔اُس زمانے میں گاؤں کی زندگی سخت تھی۔ تمام نوجوان فوج میں شمولیت چاہتے تھے اور اِس کے لیے بے حد جدّوجہد بھی کرتے تھے۔ چُوں کہ میری خالہ نے ژائی نامی ایک چیچک زدہ شخص سے، جو پیپلز ملیشیا میں ایک کمپنی کمانڈر تھا، چند برس قبل شادی کی تھی، پس میں ایک چقماق کے مانند تھا اور مجھے بِلا مقابلہ ہی پروانہ مل گیا۔ رنگروٹوں سے ٹھونس ٹھونس کر لدی پھندی ٹرین میں سفر کرتے ہُوئے دِن رات میں بدل گیا اور مجھے قطعاً اندازہ نہیں کہ جب ہم ایک وسیع و عریض جنگل کے کنارے پر پہنچے تو کتنا وقت بِیت گیا تھا۔ پیڑ اور برف ہماری آنکھوں اور ناکوں پر حملہ آور ہُوئی، ہَوا نوحہ کناں تھی اور رَات کے وقت جنگل بھیڑیوں کی عَو عَو سے بھرا ہُوا تھا۔ جب افسروں کو پتا چلا کہ میں گھر میں سؤر پالتا تھا تو اُنھوں نے مجھے بگھیاڑی کُتّوں کا انچارج بنا دیا۔ اپنے کُتّے پالنے کے زمانے میں، مَیں روزانہ باقاعدگی سے کُتّوں کا سُرخ لنبوترا (red  sausage) چپکے سے چُرا لیا کرتا تھا۔ مجھے تنقید کا نشانہ بنایا یا گیا لیکن میں اپنی عادت نہ بدل سکا۔ اُن سُرخ لنبوتروں پر نگاہ پڑتے ہی میری اندر اِتنی ترغیب بھرتی کہ میں اپنے حواس کھو بیٹھتا۔ یا تو میں اُن میں سے کچھ نہ کچھ لیتا یا پھر دِیوانہ ہو جاتا۔ حد یہ کہ اب بھی میں اُن لنبوتروں کو دیکھنے یا سُونگھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا… جب میں اُنھیں کھا رہا ہوتا تو میری نگاہوں کے سامنے دو تصوّر ہوتے: بُومر کا ناگہانی آفت کے مانند اُس بِلّی کے سامنے نمودار ہونا، چُوہے کو چھیننا، اُس کے چہرے کی مُسکراہٹ—- فضول؟ بے رحم؟— اور یہ کہ تیندوا بِلّی کا بُومر کی ہڈّیوں کا اپنی ریگمال زبان سے چاٹنا، اُس مُسکراہٹ کو چاٹنا، ایک ربڑ کی طرح جو کاغذ پر سے تحریر مٹاتا چلا جاتا ہے۔

تیندوا بِلّی کا چوکس، وحشی چہرہ میری نگاہوں کے سامنے یُوں تیرتا گویا میں نے واقعی کسی تیندوا بِلّی کو دیکھا ہُوا ہو۔

چُوں کہ میری وہ گھناؤنی حرکت اِتنی پکّی تھی کہ ختم نہیں ہو سکتی تھی، پس میرا تبادلہ کر کے مجھے فرائض سرانجام دینے کے لیے مطبخ میں بھیج دیا گیا جہاں میرے ذمے پینے کے لیے پانی اُبالنے اور سؤروں کو خوراک ڈالنے کا کام لگایا گیا۔ سیاسی تنظیمی افسر اور مطبخ کے سکواڈ کا لیڈر ایک روز مذاکرات کے لیے پہاڑوں میں گئے اور تین تیندوا بلونگڑے پکڑ لائے۔ تیندوا بلونگڑے! خاکستری اور سیاہ چھینٹوں والی چمک دار سمور—- خاص طور پر سیاہ سمور بے حد لشکتی ہُوئی، کان ایستادہ اور گھریلو بِلّیوں کے کانوں سے زیادہ نوک دار۔ لیکن باقی لوگوں کے لیے وہ عام بلونگڑے تھے۔ میرے لیے بُومر کو تیندوا بِلّی کے کھا جانے کی داستان پاس آگئی تھی۔

تیندوا بلونگڑوں کو آئے ہُوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ طویل عرصے سے ملازمت کرنے والے کچھ فوجی سبکدوش کر دیے گئے۔ مطبخ کے سکواڈ لیڈر کا نام سرِفہرست اور میرا سب سے نیچے تھا۔ سکواڈ لیڈر پانچ برسوں سے فوج میں تھا؛ افواہ تھی کہ اُسے کوارٹر ماسٹر کے طور پر ترقی دی جارہی ہے۔ وہ نہایت سرگرم کارکن تھا اور اکثروبیشتر میری نظریاتی تعلیم و تربیت کرتا رہتا تھا۔ میں فوج میں دو سال سے تھے اور اغلب تھا کہ مجھے لنبوتروں کی چوری کے الزام میں برخاست کر دیا جاتا! بجا، ایسا ہو بھی جاتا تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔ میں نے دو برسوں کے دوران میں خُوب پیٹ بھر کر کھایا تھا اور مجھے کافی تعداد میں کوٹ، ہَیٹ، بُوٹ اور کپڑے—- زیرِ جامے اور لباس—- جاری کیے گئے تھے جو مجھے زندگی بھر کے لیے بہت تھے! فوج میں دو سال بِتانے کے بعد میری زندگی مکمل طور پر ضیاع نہیں تھی۔ میں اِسے اِس طور پر دیکھتا تھا۔ لیکن مطبخ کا سکواڈ لیڈر اِسے اِس طور پر نہیں دیکھتا تھا۔ جُوں ہی فہرست سے اُس کا نام پُکارا گیا وہ موقع ہی پر ڈھے گیا۔ اُسے ہوش دِلانے کے لیے معالج نے اُس کے بدن میں سُوئیوں پر سُوئیاں گھسیڑیں اور وہ ہوش میں آتے ہی ہذیان بکنے لگا۔ اور پھر اُس نے گوشت کاٹنے والی لمبی چھری لی اور دو تیندوا بلونگڑوں کے سر تن سے جُدا کر دیے۔

اُس نے ایک بلونگڑے کو گوشت بنانے والی چوبی مُڈھی پر رکھا (بلونگڑا اَب تک اُسے کھیل سمجھ رہا تھا، میاؤں میاؤں میاؤں کرتے ہُوئے اُس نے اُس کے ہاتھ کھرونچ ڈالا)، چھری بلند کی، نیچے لایا۔ “کمپنی کمانڈر، تمھارے نام!” اُس کے چِلّانے کے دوران میں چھری نیچے جاتے ہُوئے چمکی، بلونگڑے کے دھڑ سے سیاہ خُون بہنے لگا۔ اُس کے ڈیلے باہر کی طرف اُبلنے لگے، دُم چند بار چوب سے ٹکرائی، ایک لمحے کے لیے سختی سے تنی اور پھر آہستہ آہستہ نیچے گِر گئی۔ دُوسرے بلونگڑے کو پہلے بلونگڑے کے خُون سے لت پت مُڈھی پر دھرا گیا۔ اپنے ہم جنس کے لاشے کے ساتھ پڑے ہُوئے وہ بلونگڑا جنونی انداز میں چِلّایا۔ بھنچے ہُوئے ہونٹ اور لال آنکھیں لیے سکواڈ لیڈر نے تختے پر سے چھری جھٹکے سے اُٹھا کر بلند کی اور کوسا۔ “کمپنی کمانڈر، تمھارے نام!” اُس کی آواز کے فلک شگاف ہوتے ہی، چھری نیچے گِر گئی اور بلونگڑے کا سر لڑھکنے لگا۔ اُس کی چھاتی بلونگڑوں کے خُون سے بھر گئی تھی۔

شوروغوغا بلند ہُوا اَور لوگ دوڑے، کمپنی کمانڈر اور  سیاسی تنظیمی افسر بھی اُن میں شامل تھے۔ مطبخ کا سکواڈ لیڈر زمین پر گھٹنوں کے بَل بیٹھ گیا۔ اُس کے ہونٹ بھنچے ہُوئے اور دونوں آنکھوں میں ایک ایک آنسو تھا۔ وہ بولا۔ ” سیاسی تنظیمی افسر۔۔ کمپنی کمانڈر… مجھے رکھ لو… میں گھر نہیں جانا چاہتا—”

جس تیندوا بلونگڑے کا سر مطبخ کے سکواڈ لیڈر کے ہاتھوں قلم نہیں ہُوا تھا اُسے میں نے ایک بکسے میں ڈالا اور اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ دو بلونگڑوں کے سروں کو تن سے جُدا کرنا سکواڈ لیڈر کے کام آیا نہ اُس کا رونا پیٹنا اور نہ ہی مِنّت سماجت۔ میں اور وہ ایک ہی گاڑی میں سٹیشن تک آئے اور اُس نے گھر جانے کے لیے ایک دُخانی گاڑی پکڑ لی۔ لوگ کہتے تھے کہ اُس کا گاؤں میرے گاؤں سے زیادہ عسرت زدہ تھا۔

کمپنی ڈپٹی کمانڈر نے، اِس خدشے کے پیشِ نظر کہ ٹرین میں بلونگڑا نالہ و بکا کرے گا جس سے خدمت گارکو پتا چل جائے گا اور مجھے جرمانہ ہو گا، مچھلی ڈبویا ہُوا اَ لکلوحلی محلول دیا جسے پلا کر ہم نے بلونگڑے کو سلا دیا۔ ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ اگر وہ جاگ جائے تو اُسے اَور مچھلی کھلا دوں۔ وہ اور میں ایک ہی جگہ کے تھے؛ وہاں چُوہے طاعون ہیں، اُس نے کہا، بِلّیوں کی ضرورت ہے۔

اگرچہ میں نے یہ بتایا تھا لیکن تیندوا بِلّی کو دیکھنے کے بعد مجھے بُومر کی طویل کہانی پر اعتبار نہیں رہا کہ اُسے کسی ایسی بِلّی نے کھا لیا تھا۔ جب اُس سے میرا ٹاکرا سڑک پر ہُوا تو میرا دِل سینے سے ٹکرانے لگا۔ ہم دونوں نے ایک دُوسرے کو اُوپر سے نیچے تک دیکھا۔ پہلے ایک دُوسرے کے مُنھوں کو تکتے رہے، پھر سرتاپا نظریں ڈالیں اور پھر ایک دُوسرے کو نام سے پُکارا۔

وہ کافی بڑا ہو گیا تھا، لیکن اُس کے چہرے کے تاثرات عشروں پہلے والے ہی تھے۔ جب وہ باتیں نہ کر ہوتا تو اُس کے چہرے پر وہی پُراَسرار مُسکراہٹ ہوتی، بہ یک وقت احمقانہ اور ظالمانہ۔

“سٹُوٹرر نے بتایا تھا کہ تمھیں تیندوا بِلّی نے کھا گئی ہے!” میں نے کہا۔ “سٹُوٹرر” اُس بُوڑھے شخص کی عرفیت تھی۔

اُس نے دانت نکوسے: “تیندوا بِلّی؟”

حد یہ کہ کھیتوں میں بسنے والے چُوہے بھی گاؤں کی گلیوں میں دوڑتے رہتے تھے، اُن کے مُنھ پھلیوں اور مکئی سے پھُولے ہُوئے اور گال باہر کو نکلے ہوتے تھے۔ وہ گلیوں میں پوئیا چال میں چلتے ہُوئے وقت لگاتے اور جب کوئی مُرغا ٹھونگ مارنے کے لیے اپنا سر بڑھاتا تو چُوہا دوڑ کر دِیوار کے کسی رخنے میں، بھُوسے کے ڈھیر میں یا گلی میں جگہ جگہ دِکھائی دینے والے چُوہوں کے بِلوں میں سے کسی بِل میں جا گھستا۔

“کیا تم نے کبھی تیندوا بِلّی دیکھی ہے؟” اُس نے مجھ سے استفسار کیا۔

میں نے اُسے بتایا کہ میں ایک بلونگڑا شمال مشرق سے لایا تھا اور وہ اب بھی میری خالہ کے ہاں موجود ہے!

وہ کھِل اُٹھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں اُسے اُسی وقت وہ بلونگڑا دِکھانے کے لیے لے جاؤں۔

لیکن میں پہلے اُس کا گھر دیکھنے کا تمنّائی تھا۔

اس کا گھر پیداواری ٹیم کا کام کرنے کا پُرانا، ریکارڈ رکھنے کا مقام ہُوا کرتا تھا۔ اُس میں چار کمرے تھے، دِیواریں گارے کی اور شیشے جڑی ہُوئی کھڑکیاں تھیں۔ دِیواروں کے اُوپری سِرے پر ٹائیلوں کی تین قطاریں تھیں: دو نیلی اور ایک سُرخ۔ کارنس پر دو موٹی تازہ بِلّیاں سوئی ہُوئی تھیں جب کہ تین بلونگڑے اُن کے پاس کھیل رہے تھے۔ چُوہوں کی درجنوں کھالیں میخوں سے گارے کی دِیواروں کے ساتھ ٹھونکی ہُوئی تھیں۔ اُس کے تکیے کے ساتھ ایک کتاب دھری تھی جس کا مٹیالا پیلا گردپوش سیاہ دھاگے سے سیا گیا تھا۔ گرد پوش پر شکستہ خط میں کئی الفاظ سیاہ روشنائی میں لکھے ہُوئے تھے: چُوہوں کی تلفی، بِلّیوں کی حوصلہ افزائی۔ میں نے متجسس ہو کر اُس کا ورق پلٹا۔ اندر ایک لفظ بھی نہیں تھا، محض عجیب و غریب نمونے بنے ہُوئے تھے۔ شاید دُوسرے اوراق پر کچھ لکھا ہو لیکن مجھے نہیں پتا کیوں کہ میں صرف نمونوں ہی پر نظر ڈال سکا تھا کہ اُس نے سخت لہجے میں چِلّاتے ہُوئے مجھ سے کتاب چھین لی: “تم اِسے نہیں دیکھ سکتے!”

میرا چہرہ تھوڑا سا لال پڑ گیا۔ مجھے محسوس ہُوا جیسے وہ میرے حرکت سے سراسیمہ ہو گیا ہو۔ میں نے دریافت کیا۔ “یہ محض ایک بدوضع قدیم کتاب ہے، کیا نہیں ہے؟ اِتنے اُکھڑو مت۔”

وہ کچھ شرمندہ ہوکر کتاب کو ایک طرف پھینکتے ہُوئے بولا۔ “یہ میرے ابّا کی ہے۔”

“کیا اُنھوں نے لکھی ہے؟”

“نہیں، ابّا کو یہ داؤ(Daoist) پروہت سے ملی تھی، وُو۔”

“وہ جو پگوڈا کی دیکھ بھال پر معمور ہوتا ہے۔”

“پتا نہیں۔”

مجھے اُس پگوڈا کا پتا تھا۔ جس کی اِینٹوں کے بیچ کی درزیں سُوکھی گھاس سے بھری ہُوئی تھیں اور یہ اِسی حالت میں برس ہا برس سے تھا۔ داؤ پروہت پگوڈا کے سامنے ایک کُٹیا میں رہتا تھا۔ وہ ایک سیاہ عبا پہنتا تھا اور اکثر بغیر ہَیٹ کے دِکھائی دیتا تھا۔ اُس کی عبا کے کنارے حفاظتی بند میں اُڑسے ہوتے تھے۔ اُس کا کام بس اِتنا سا تھا کہ پگوڈا کے سامنے والی زمین کی کھدائی کرتا رہے۔

“بُری رُوحوں سے مت اُلجھو!”

اُس نے اپنے چہرے پر دِکھائی دینے والی اُسی احمقانہ، ظالم تأثرات  والی مسکراہٹ کے ساتھ دانت نکوسے، کتاب کو ایک آہنی ڈبّے میں رکھا اور تانبے کا تالا جڑ دیا۔ اُس نے زیرِ لب کچھ الفاظ بُڑبُڑائے۔ پانچوں بِلّیوں نے اپنی سرینیں اُٹھائیں، اپنی کمریں کمان کیں اور گیند جیسی گول گول آنکھوں سے اُسے تکنے لگیں۔

میری ریڑھ کی ہڈّی میں ٹھنڈک کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی اور مجھے اپنے کانوں میں بعید جنگل سے چیخنے کی آواز آنے لگی۔ میں اپنا مُنھ کھول کر کچھ کہنے کے مرحلے پر ہی تھا کہ ایک چُوہا، بے رنگ کھال اور لال آنکھوں والا—- اپنے ہوش و حواس بے گانہ، حتّٰی کہ کانپتا ہُوا بھی نہیں—- ڈگمگاتا ہُوا چھت کی اُریبی کڑیوں سے بِلّیوں کے عین سامنے گِرا۔ یُوں لگ رہا تھا جیسے چُوہے کے چہرے پر بھی وہی احمقانہ، ظالم مُسکراہٹ ہو۔ بُومر نے چُوہے کو جھپٹا، ایک بار اُسے اُوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا: “میں اِس بار تمھیں چھوڑ رہا ہوں!” اِس کے ساتھ ہی اُس نے مُنھ ہی مُنھ میں کچھ پڑھا تو بِلّیاں پُرسکون ہو گئیں اور اُنھیں نے چند ایک بار بیگانگی سے میاؤں میاؤں کی۔ پھر بڑی بِلّیاں دوبارہ سو گئیں اور بلونگڑے دوبارہ اپنی دُم پکڑنے کا کھیل کھیلنے لگے۔ بے رنگ جِلد والا چُوہا آناًفاناً اپنے حواس میں لوٹ آیا اور اُچھل کر بُومر کے ہاتھ سے نکلا، دِیوار کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہُوئے دوبارہ اُوپر چڑھ کر اُریبی کڑیوں گھس گیا۔ زمانوں سے چمنی میں جمی ہُوئی کالک کے گِرنے سے میرے ناک میں کھجلی ہونے لگی۔

میرے اندر تحیّر بھر گیا۔ جُوں جُوں میں بُومر کے چہرے کی معمائی مُسکراہٹ دیکھتا گیا تُوں تُوں محسوس کرتا گیا کہ وہ کتنا اَتھاہ ہے۔ یکایک مجھے لگا گویا بِلّیاں اور وہ قدیم، لِیر لِیر اور دُھول کی موٹی تَہ میں اَٹی ہُوئی ‘نئے سال’ کی تمام تصاویر میں مافوق العادہ طاقتیں آگئی ہوں۔ وہ میری طرف بدمزاجی سے دیکھ رہی ہیں اور اُن کی آنکھیں کسی اَور ہی دُنیا کی دانش سے لبریز ہیں۔

“تم نے کیا شعبدے سیکھ لیے ہیں؟”

بُومر کی مُسکراہٹ غائب ہو گئی اور وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔ “سنو دوست، نجی کاموں سے سب ہی دولت کما رہے ہیں۔ آؤ، ہم بھی یہی کام کریں۔ ہم بِلّیاں پالیں گے۔”

بِلّیوں کا ماہر! یہ نہایت عجیب، دِلچسپ اور غیر معمولی طور پُرکشش پیشکش تھی۔

“مجھے پتا ہے کہ تم واپسی پر شمال مشرق سے اپنے ساتھ تیندوا بلونگڑا لائے ہو۔”

اُسی شام میں نے تیندوا بلونگڑا بُومر کو دیا تو اُس نے اپنے دونوں ہاتھ مسرت سے مَلے۔

میں مشروب کے لیے اپنی خالہ کے ہاں گیا۔

اپنے کمر بند کے نیچے تین پوّے دبائے ہُوئے میرے خالو کا مُنھ لشکارے مار رہا تھا اور سر پر لگے واحد بلب کے سایوں میں وہ روشنی کے ہزاروں موتیوں کے مانند چمک رہا تھا۔ اُنھوں نے میرا جام بھرا، پھر اپنا اور گرم رکھنے کے لیے شراب کے برتن کو انگیٹھی پر رکھا، اپنا گلا صاف کیا اور بولے۔ “بھانجے، لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو لیکن تم ایک مہینا پہلے لوٹ آئے ہو۔ تم سارا دِن آوارہ گردی کرتے پھرتے ہو، تمھارے پاس کوئی باقاعدہ ملازمت نہیں ہے۔ میں اور تمھاری خالہ یہ سب دیکھ رہے ہیں لیکن ہم تم پر تنقید نہیں کرنا چاہتے—- تم بچّے نہیں ہو۔ تم روز یہاں کھانا کھاتے ہو، اور میں نے اور تمھاری خالہ نے کبھی کچھ نہیں کہا لیکن ہمیں ڈر ہے کہ ہمسائے تمھارا مذاق اُڑائیں گے! اب دو سال پہلے والی بات نہیں رہی۔ اُس وقت لوگ کاہلوں کی خبرگیری کِیا کرتے تھے اور کوئی شخص بغیر کام کے بھی اپنی اہمیت نہیں کھوتا تھا۔ لیکن اب گاؤں والے ایسے لوگوں کو نہیں رکھتے۔ جو کام نہیں کرتے اُنھیں کھانے کو بھی نہیں ملتا۔ تمھاری خالہ کو اور مجھے نہیں پتا کہ تمھارے ذہن میں کیا ہے، کیا تمھیں کاشت کاری کے لیے چند بیگھے چاہئیں، یا پھر تم کوئی ملازمت کرو گے؟”

میں نے جھرجھری لی اور شراب کا گھونٹ نگلا۔ “خالو، خالہ۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں۔ بے شک، میں آپ لوگوں کی مفت کی روٹیاں نہیں توڑنا چاہتا! آپ لوگ میرے قریبی عزیز تو ہیں لیکن والدین نہیں اور اگر ہوتے تو بھی یہ میرے ٹھیک نہ ہوتا کہ میں ہڈّحرامی کرتے ہُوئے آپ کے آسرے پر زندگی بسر کروں۔ میں نے جو کچھ کھایا ہے وہ میں آپ کو لوٹا دوں گا۔”

خالہ بولیں: “تمھارے خالو تم سے چھٹکارا پانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، ہمیں تمھارے چند لقموں سے حسد نہیں ہے۔”

“مجھے پتا ہے۔‘‘

میرے خالو نے کہا: “تب تو ٹھیک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تمھیں غلط تأثر جائے۔ تمھارا کیا کرنے کا ارادہ ہے؟”

میں نے کہا “بُومر اور میں نے اِس پر سوچ بچار کی ہے۔ ہم دونوں بِلّیاں پالنے کا کاروبار کرنے لگے ہیں”

سر پر موجود کاغذی چھت پر چُوہا سٹرپٹر کرتے ہُوئے دوڑا۔

خالو مستفسار ہُوئے۔ “کس لیے؟”

میں بولا۔ “گاؤں میں چُوہوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بُومر اور میں اپنے آپ کو بِلّیوں کے ماہر کے طور پر قائم کرنے جا رہے ہیں۔ ہم بلونگڑے بیچیں گے اور بڑی بِلّیاں کرائے پر دیں گے۔”

میں ابھی ہمارے عظیم الشان منصوبے کے بارے میں بتانے ہی والا تھا کہ میرے خالو تمسخرانہ ہنسی ہنسنے لگے۔

میری خالہ بولیں۔ “اوہ میرے خُدا! تم اُس پاگل شخص کے ساتھ مل کر کیا کرنے جا رہے ہو؟ بُومر اپنے ناکارہ باپ کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔ لیکن تم، تمھارا تعلّق ایک اعلیٰ خاندان سے ہے۔”

خالو نے طنز کے نشتر چلائے: “ہر طرح کے نجی کاروبار موجود ہیں، لیکن میں نے کبھی بِلّیوں کے ماہرین کا نہیں سنا! تم روبوٹ بنانے والی ایک ٹیم بنا لو!”

خالہ نے کہا۔ “میں اور تمھارے خالو تمھارے بارے میں کچھ سوچ رہے ہیں۔ تمھیں سیدھا کھیتوں میں کام کرنے کے لیے بھیجنا تو مناسب نہیں ہو گا۔ جو لوگ فوج میں رہ چکے ہوں وہ یہ پیشہ نہیں اختیار نہیں کرتے۔ گذشتہ چند روز سے لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہو رہا ہے کہ ضلعی تعمیراتی کمپنی کو کچھ کارکنوں کی ضرورت ہے۔ وہ غیرتربیت یافتہ مزدوروں کو سات یُوآن یومیہ دے رہے ہیں۔ کھانے پینے کے اخراجات کے بعد تین سے پانچ یُوآن تک بچ جاتے ہیں۔ پس تم دو تین برس کام کر لو، تو چند ہزار جمع کر لو گے جو تمھارے بیاہ اور قدم جمانے کے لیے کافی ہوں گے اور میں تمھارے ماں باپ کا فرض ادا کر لوں گی۔”

میں بُومر سے دوبارہ ملا اور میں نے اُسے بتایا کہ میں تعمیراتی کمپنی کے لیے کام کرنے لگا ہوں اور اُس کے ساتھ بِلّیوں کے پالنے پوسنے کا کام نہیں کر سکتا۔ اُس نے سرمہری سے کہا: “تمھاری مرضی۔”

اُس کے بعد میرے لیے بُومر سے میل ملاقات رکھنا بے حد دشوار ہو گیا۔ جس روز مجھے تعمیراتی کمپنی سے چھٹی ملی، میں اُس کے گھر گیا۔ اُس کا خستہ حال دروازہ سختی سے بند تھا؛ دروازے کے اُوپر چاک سے جلی حروف میں لکھا ہُوا تھا: بِلّیاں پالنے اور چُوہے پکڑنے کا ماہر۔ اِس کے ساتھ ہی چھوٹے حروف میں لکھا تھا: فی چُوہا پکڑائی صرف ۰۰:۱ یُوآن۔ دروازہ کُنڈی لگا کر بند کیا گیا تھا اور وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی میں نے پُکارا: “بُومر! بُومر!” صحن سے ایک ایسی گُونج پلٹ کر آئی گویا میں کسی وادی میں چِلّا رہا تھا۔ میں نے دروازے کی ایک درز سے آنکھ لگا کر صحن میں دیکھا۔ وہ مکمل طور پر خالی پڑا تھا۔ بارش کا پانی چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں کھڑا تھا، بے رنگ چُوہا دوڑتا پھر رہا تھا اور ایک چُوہے کی کھال دِیوار سے ٹنگی ہُوئی تھی۔

بُومر کی پڑوسی، بُوڑھی بیگم سَن، میرے پاس آئی۔ سفید بالوں والے سر کے نیچے اُس کی آنکھیں اَگیا بیتال کے مانند چمک رہی تھیں۔ اُس کے ہاتھ دیودار کے خاردار بِروا کی دستی چھڑی تھی اور اُس کے مُرجھائے ہُوئے ٹخنوں کی کھال پر سفید لکیریں پڑی تھیں۔ اُس نے پُوچھا: “کیا چُوہے پکڑنے کے لیے بُومر کی ضرورت ہے؟ وہ یہاں نہیں ہے۔”

“سَن دادی، میں تو صرف اُسے ملنے آیا ہوں۔ میں زہاؤ خاندان کا لڑکا ہوں، کیا آپ مجھے نہیں جانتیں؟”

بُوڑھی خاتون نے چھڑی پر اپنے ایک ہاتھ سے گرفت مضبوط کی۔ دُوسرے ہاتھ سے اپنی آنکھوں پر چھجا بناتے ہُوئے مجھے اُوپر سے نیچے تک دیکھا اور کہنے لگی: “سب ہی زہاؤ ہیں، سارے یہی کہتے ہیں کہ وہ زہاؤ خاندان کے لڑکے ہیں۔ اُنھیں اِس سے کیا ملتا ہے؟ شہد؟ تِلوں کا تیل؟”

مجھے فورا ہی پتا چل گیا۔ بُڑھیا بھی سٹھیائی ہُوئی تھی۔

وہ مستعدی سے، جو اُس کی عمر کو جھٹلاتی تھی، مُڑی اور جاتے جاتے بولی۔ “بُومر ایک اچھا لڑکا ہے۔ اُس کے ہاتھ کامیابی کا وسیلہ لگ گیا ہے۔ وہ میرے کھانے کے لیے شہد خریدتا ہے، تم میرے لیے زہر خریدتے ہو۔ لیکن میں تمھاری چیز نہیں لوں گی، میں یہ نہیں کھاؤں گی! کچھ سالوں پہلے، تم سب نے بِلّیوں کو مارنے کے لیے چُوہوں پر زہر لگا دیا تھا، لیکن یہ نہیں ہو سکتا، نہیں ہو سکتا۔”

میں گھر گیا اور میں نے خالہ کو بُومر کے متعلّق بتایا۔ خالہ نے کہا۔ “وہ پاگل! اور اگر وہ پاگل نہیں تو خبیث ضرور ہے۔”

خالو نے مداخلت کی: “ایسی باتیں مت کرو۔ بُومر کی شخصیت کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ موہے دریا کے جنوبی دیہاتوں کی بڑی تعداد میں اُس کے ہاتھ کامیابی کا نسخہ لگ گیا ہے۔”

۱۹۸۵ء میں بُومر کے بارے میں بہت زیادہ افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ میری قسمت بدل چکی تھی۔ مجھے ضلعی سطح پر جماعت کی قیام گاہ کے مطبخ میں پینے کا پانی اُبالنے کے لیے لے جایا جا چکا تھا۔ میں نے گانٹھ باندھ لی تھی اور میری بیوی کا پیٹ پُھول رہا تھا۔ میری دِلی تمنّا تھی کہ بیٹا ہو، لیکن اُس نے ہزیمت سے دوچار کیا اور لڑکی کو جنم دیا۔

بیٹی کے جنم کے بعد میں نے ایک ماہ کی رخصت لی اور زچگی کے دوران میں اپنی بیوی کی نگہداشت کے لیے میں گھر میں ہی رہا۔ اُس دوران میں بُومر صرف ایک دفعہ ہمیں ملنے کے لیے آیا۔ وہ گھر کے اندر نہیں گیا، صحن ہی میں بیٹھا رہا۔ وہ پہلے سے کچھ کم زور ہو گیا تھا، لیکن اُس کی آنکھیں چمکتی تھیں اور باتیں پہلے سے زیادہ مبہم تھیں لیکن اُن پر غور کیا جاتا تو مفہوم نکل آتا تھا۔ اُس نے کہا۔ “بھائی، مبارک ہو۔ تم پر رحمت نازل ہُوئی ہے؛ ہاں، تم پر رحمت نازل ہُوئی ہے۔ ستارے اپنے اپنے مدار میں ہیں، دُنیا میں سب ٹھیک ہے۔ اُس کے لیے کچھ مُرغی کا گوشت پکانے کا وقت نہیں ہے؛ جنوب میں چُوہے کھانے میں مصروف ہے۔ اِدھر اُدھر پھرتے رہنے سے آدمی تندرست رہتا ہے، مگر زندگی بہت مختصر ہے اور کام ابھی آدھا بھی نہیں ہُوا! یہ لو دو صد یُوآن، میری بہن اور بھتیجی کے لیے کپڑے خرید لینا!” اُس نے میرے ہاتھ میں ایک سُرخ لفافہ تھمایا اور چلا گیا۔ اِس سے پہلے کہ میں کوئی شائستہ سا انکار کر سکتا، میں نے دُور چاندنی میں اُس کا سایہ دیکھا،بانسری پر پُرسوز لے بجاتا ہُوا۔ مجھے یقین نہیں کہ وہ بُومر ہی تھا یا نہیں۔

چند روز کے بعد، میں کسی دیسی دوا کی تلاش میں سائیکل پر ساتھ والے ضلع میں مَا نام کے گاؤں میں گیا جہاں تین ضلعوں کی معروف دیسی ادویات کی دُکان تھی۔ جب میں ایک چھوٹی سی بستی میں پہنچا جو اُس گاؤں سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھی تو میں نے گاؤں والوں کو دیکھا۔مرد وزن، پیر و جواں ایک دُوسرے کے اُوپر گِرتے پڑتے ہُوئے گاؤں کی سمت دوڑ رہے تھے۔ اپنی بائیسیکل سے اُتر کر میں نے پُوچھا تو مجھے پتا چلا کہ ایک شامان۱؎ فنا کا مظاہرہ کرنے لگا ہے۔ وہ گاؤں کے تمام چُوہوں کو جمع کر کے تالاب میں ڈبوئے گا۔ میرے تحیّر کی انتہا نہ رہی، مجھے پہلا خیال یہی آیا کہ وہ بُومر ہی ہو گا۔ پس میں بھی اپنی بائیسیکل پر باقی لوگوں کے ہم راہ ہو گیا۔ جُوں ہی ہم تالاب کے قریب پہنچے ہمیں ایک رنگارنگ ہجوم دِکھائی دیا جو ایک بڑے دائرے کی صُورت میں اکٹھّا ہو گیا تھا۔ بیدِ مجنوں کے درخت تلے ایک دُبلا پتلا اور لمبا آدمی اپنے کاندھوں پر بے آستین لبادہ ڈالے کھڑا تھا، اُس کے بال دُھوئیں کی لاٹوں کی طرح باہر نکلے ہُوئے تھے۔ میں نے اپنا تنکوں کا ہَیٹ ماتھے پر جھکایا، اپنی بائیسیکل کو اُٹھایا اور انبوہ میں گھس گیا۔ میں نے اِس ڈر سے کہ کہیں بُومر کی مجھ پر نظر نہ پڑ جائے اپنا چہرہ ایک لمبے تڑنگے شخص کی اَوٹ میں چھپا لیا۔

پہلے میں نے سوچا کہ ضروری نہیں وہ بُومر ہی ہو۔ اُس آدمی کی نگاہیں لمحہ بہ لمحہ کسی جگہ ٹکتیں اور پھر ہَٹ جاتیں۔ جب ہٹتیں تو ستاروں کی روشنی کے میناروں کے مانند چمکتیں۔ جب ٹکتیں تو سیاہ بھاپ کی دو ڈھیریوں کی طرح ہو جاتیں؛ بالکل یُوں گویا وہ تماش بینوں کے دِلوں کو چھید رہی ہوں۔ صرف تب ہی مجھے لگا کہ وہ یقینا بُومر ہی ہے کیوں کہ خواہ اُس کی نظریں ٹکی ہوتیں یا ہِل رہی ہوتیں اِس سے فرق نہیں پڑتا تھا، میں اُس کی چیستاں مُسکراہٹ سے آگاہ تھا—- گاؤدی، شاید ظالم—- جو سدا اُس کے چہرے پر ہوتی تھی۔ اُس کے عقب میں آٹھ بِلّیاں بیٹھی تھیں۔

ایک آدمی جو گاؤں کا سربراہ لگ رہا تھا—- اَبلق داڑھی والا ایک بُوڑھا—- بُومر کے پاس گیا اور ناگوار لہجے میں بولا۔ “تمھارے لیے بہتر کے کہ اپنی تمام توانائی صرف کر دو۔ تمھیں ہر چُوہا پکڑنے کے بدلے ایک یُوآن ملے گا۔ عمدہ تمباکو اور کھانے کے لیے عمدہ کھانا بھی ملے گا۔ اگر تم کوئی چُوہا نہیں پکڑ پاتے تو۔۔۔ خُوب، پولیس سٹیشن یہاں سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے اور دو دِن پہلے ایک بُڑھیا، عاملِ ارواح، کو گرفتار کر کے لے جایا جا چکا ہے!”

بُومر نے کوئی جواب نہیں دیا البتّہ اُس کے چہرے پر ناقابلِ فراموش مُسکراہٹ گہری ہو گئی۔ اَبلق داڑھی والا ہجوم میں پلٹ آیا۔ بُومر نے بِلّیوں کے عقب سے پیتل کا ایک ٹَل نکالا اور اُس پر تین زوردار چوٹیں لگائیں۔ جس سے دِل دہلا دینے والی آواز پیدا ہُوئی۔ میں کسی شخص کو نہیں جانتا تھا لیکن میرا دِل اُن کا شریک ہو گیا تھا اور میں بُومر پر نظر ڈالنے کے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ وہ ننگے پاؤں تھا۔ کالے کمبل پر عجیب و غریب نقش و نگار بنے ہُوئے تھے اور وہ چُوہوں کی سینکڑوں دُموں سے سجا تھا۔ جب اُس کی آستینیں حرکت میں آتیں تو دُمیں ایک دُوسرے سے ٹکرا کر دِھیمی دِھیمی سرسراہٹ پیدا کرتیں۔ اُس نے ٹَل کو زور زور سے بجاتے ہُوئے بلند کیا اور یہ کام کرتے ہُوئے اُس نے کمبل کو ہِلانا اور گھمانا شروع کیا جس سے کمبل کھل کر چمگادڑ کے جسیم پروں جیسا ہو گیا۔ بِلّیاں بھی اُس کے اشاروں پر رقص کناں ہو گئیں، کبھی اپنے پیر اندر اور کبھی باہر کی طرف مارتے ہُوئے لیکن اُس غیرمتنازعہ رہنما تیندوا بِلّی کی پیچھے پیچھے جسے میں شمال مشرق سے لایا تھا۔ میں نے اُسے سابقہ دو برسوں سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کچھ بڑی ہو گئی تھی اور اُس کے کان نمایاں طور پر نوکیلے اور چھینٹ دار سیاہ جِلد غیرمعمولی چمک دار تھی جس سے میں پہلے ہی آگاہ تھا۔ وہ جسمانی لحاظ سے دُوسری ساتوں بِلّیوں سے کافی بڑی تھی، اُس بُوڑھے شخص کے الفاظ کی جیتی جاگتی مثال: “ایک عام بِلّی سے کچھ بڑی لیکن کُتّے سے چھوٹی۔” میرا تأثر یہ تھا کہ بِلّیوں کے چہروں پر جو تأثرات ہیں، بالخصوص تیندوا بِلّی کے چہرے پر، وہ بعینہ بُومر کے چہرے کے تأثرات جیسے ہیں کہ وہ جبلّی طور پر یکساں اور باہم وابستہ ہیں؛ کہ وہ سب ایک ہی بے ہیئت نوع سے تعلّق رکھتے ہیں جسے اب تک فانی سمجھ نہیں پائے اور جو اِسی لیے ایک پُراسرار رُوحانی مظہر ہے۔

جب بِلّیاں یک آہنگی میں رقص کرنے لگیں تو وہ  بُومر کا طواف کرنے والے سات ستاروں کے مانند بن گئیں۔ لشکارے مارتا ہُوا سُورج اُن کی دمکتی ہُوئی جِلدوں کو منوّر کر رہا تھا۔ آنسو بہاتے ہُوئے بیدِ مجنوں نے آبی نرائی سے اَٹے ہُوئے تالاب کا بوسہ لیا، بھنبھیریاں بے آواز اُڑنے لگیں۔ بِلّیوں کے بدن کھنچ کر لمبے اور پتلے ہو گئے۔ وہ سر تا دُم ایک دُوسرے سے جُڑ کر حرکت کرتی ہُوئیں ساٹن کے لشکتے ہُوئے کپڑے کا تھان لگ رہی تھیں۔

بُومر اور بِلّیاں اپنے رقص کے دوران میں اِتنی دیر تک گھومتی رہیں جتنی دیر میں تمباکو کی دو بھری ہُوئی نلیوں کو پینے میں لگتی ہے۔ جیسے ہی لوگوں کے سر بھی اُس سب کے ساتھ ہِلنا شروع ہُوئے ٹَل بجنا بند ہو گیا، بُومر اور بِلّیاں لحظہ بھر کے لیے یُوں تھمیں، بالکل ساکت، جیسے اداکار سٹیج پر جسم کا کوئی خاص بناوٹی انداز اپناتے ہیں۔ گرمی شدّید تھی… بُومر کا مُنھ چِکنے پسینے سے چمک رہا تھا۔ تمام آنکھیں، پلکیں جھپکائے بغیر، اُس سے چپکی ہُوئی تھیں۔ اُس کے مُنھ سے چند جملے نکلے، مبہم الفاظ جو صاف طور پر سنائی بھی نہیں دیے اور کف کے دو سفید نقطے اُس مُنھ کے کناروں پر چمکے۔ اُس کے “سحر پُھونکنے” کے دوران میں خوابیدہ بِلّیاں زندہ ہو گئیں، اُن کے مُنھوں سے خوف ناک چیخیں برآمد ہُوئیں۔ وہ اِس طرح پوئیا چال چلنے لگیں جیسے آٹھ دغاباز شاہی اہلکار اپنے موٹے تلووں والے بُوٹوں میں اوپیرا کے سٹیج پر چلتے ہیں۔

ہجوم مضطرب ہو رہا تھا۔ حدّت بھری دُھوپ نیلگوں سیاہ سروں کے سمندر پر پڑ رہی تھی۔ ہاں مضطرب، لیکن کسی نے چیں کرنے کی بھی جرأت نہیں کی۔ میں دِل ہی دِل میں بُومر کے لیے پریشان ونے لگا تھا۔ کیا گاؤں کے چُوہے واقعی ہی اِتنے احمق ہوں گے کہ وہ آکر تالاب میں کُود جائیں گے۔

یکایک، بِلّیوں کا چِلّانا تھم گیا۔ وہ آٹھوں ایک قطار میں بُومر کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ تیندوا بِلّی سب سے آگے تھی۔ وہ کمان کمروں، سیدھی تنی ہُوئی دُموں کے ساتھ شمال کی جانب مُنھ کیے ہُوئے تھیں۔ گل مچھے اکڑے ہُوئے اور مُنھوں سے تیز سانس نکل رہی تھی۔ اُن کی آنکھیں سبز روشنی کا لشکارا چھوڑ رہی تھیں اور پُتلیاں محض سونے کی تار جتنی درزیں بن گئی تھیں۔ میرا پسینہ سرد اور چپچپا ہو گیا تھا۔ میری نگاہوں کے سامنے گڈمڈ شبیہیں تیر رہی تھیں۔ میرے کانوں میں ڈھولوں اور گھنٹیوں کا غل غپاڑہ مچ گیا تھا۔ عالم سحر میں، مَیں نے دیکھا کہ گھوڑوں کا ایک غول قطب شمالی منجمد کے چٹیل میدان کے کنارے پر دوڑ رہا ہے اور زردرُو بھیڑیں خشک گھاس میں بھاگ رہی ہیں۔ میں نے سرعت سے اپنے حواس سنبھالے تو وہاں صرف آٹھ قوّی بِلّیاں تھیں۔ بُومر نے اپنی کمر سے ایک بانسری نکالی اور بِلاتکان اُس پر ایک لے بجانے لگا؛ دہشت ناک حد تک ماتمی اور بین کرتی ہُوئی لے۔ آس پاس چھچھلتی ہُوئی نظر نے مجھ پر آشکار کیا کہ مدّور انبوہ کے لوگ سکڑے سمٹے بیٹھے تھے اور اُن کے چہروں پر پسینے کے شفاف موتی ٹھیرے ہُوئے تھے۔ جب ہجوم کی پشت پر اودھم برپا ہُوا تو مجھے نہیں پتا کتنا وقت گذر گیا تھا۔ بانسری کی لے ہنس راجوں کی پُکار کی طرح زیادہ گُونج دار ہو گئی اور تمام بِلّیاں ڈراؤنی آوازیں نکالنے لگیں۔ کوئی دیکھنے کے مُڑا اَور چِلّایا۔ “وہ آرہے ہیں!”ہجوم نے پیچھے ہٹ کر راستہ دیا جس سے ناگوار چیخ وپُکار کرتے، ہر رنگ اور جسامت کے ہزاروں چُوہوں کا ایک جمِ غفیر دوڑتا ہُوا آیا۔ لوگ سانس تک لینا بُھول گئے۔ اُن کے جسم سمٹ اور سر گُدّیوں میں دھنس گئے… بُومر کی آنکھیں بند تھیں اور اُس کا سارا دھیان صرف بانسری بجانے پر تھا۔ بِلّیوں کے بال کھڑے ہو گئے۔ چُوہوں پر جمی ہُوئی اُن کی بے جھپک آنکھوں میں دھمکی تھی۔ لیکن چُوہے مکمل طور بے خطر نمودار ہُوئے گویا وہ غائب دماغی کی حالت میں ایک دُوسرے کے حوصلے پر تالاب میں کُود کر آبی نرائی کھانے آرہے ہوں۔ وہ نیلے پانی کی نرائی میں لکیریں چھوڑتے ہُوئے اپنے پُورے زور سے تالاب میں کُود گئے۔ اور پھر وہ سب ہاتھ پاؤں مارتے اور سانس لینے کے لیے اپنے لال لال نتھنے پانی سے باہر رکھنے کی سعی کرتے ہُوئے ڈُوب گئے۔ اور پھر اُس کے بعد، نتھنے بھی غائب ہو گئے۔

بانسری بجنا بند ہو گئی۔ مجتمع بِلّیاں بِکھر کر اُوپر نیچے اُچھلنے لگیں۔ بُومر ہَیٹ کو جھکائے تپتی ہُوئی دُھوپ میں مُرجھائے ہُوئے درخت کی طرح کھڑا تھا۔

پانی پُرسکون ہُوا تو ہجوم میں زندگی کی لہر دوڑ گئی لیکن کسی میں بولنے کی ہمّت نہیں تھی۔ اَبلق داڑھی والا سربراہ لڑکھڑاتے ہُوئے بُومر کے پاس جا کر بولا: “جناب۔” اور بُومر آنکھیں کھول کر مُسکرایا، ایک خُوب صُورت مُسکراہٹ، ایک ایسی مُسکراہٹ جس نے کم و بیش میرا دِل دہلا کر رکھ دیا۔

میں اپنی بائیسیکل پر دیوانہ وار پیڈل مارتے ہُوئے بھاگ نکلا۔ میرے سارے بدن کی تمام طاقت نچڑ گئی تھی۔ ایسی ناتوانی مجھے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ مُونگ پھلی کے ایک کھیت میں پہنچ کر میں نے، تالا لگانے کی زحمت کیے بغیر، اپنی بائیسیکل ایک طرف پھینکی اور جیسے ہی میرا سر زمین سے ٹِکا میں گہری نیند سو گیا۔ جب میری آنکھ کھلی تو سُورج مغرب میں غروب ہو رہا تھا اور قرب وجوار اور بعید کے پہاڑ دونوں ہی خُون میں لیپے ہُوئے تھے۔ اناج کے پودوں کی ترش ہری مہک میرے ناک پر حملہ آور ہُوئی۔ جیسے ہی میں نے گھر جانے کے لیے اپنی بائیسیکل کو دھکیلا صبح کے وقت ہونے والے واقعات خواب کی طرح لوٹ آئے۔

جب میں اپنے ضلع میں پہنچا تو میں نے سب کو بتایا کہ میں نے بُومر کی مافوق الفطرت قوّتیں دیکھی ہیں۔ پہلے پہل کسی نے میرا اعتبار نہیں کیا لیکن جب اُنھوں نے دیکھا کہ میں اپنی بات پر ڈٹا ہُوا ہوں تو وہ میری بات کو نیم اعتباری دینے لگے۔

موسمِ سرما کے آغاز میں، پڑوسی ضلع کے حکام نے بُومر کے بارے میں پُوچھ گچھ کی۔ صوبائی پارٹی کا سیکریٹری، مَو، مکاری سے گریز پا تھا۔

وہ بُومر کے بارے میں جاننے کے لیے میری تلاش میں چائے خانے تک جا پہنچا اور میں نے اُسے وہ سب کچھ بتا دیا جس سے میں آگاہ تھا۔

بُومر معروف ہو گیا تھا۔ متعلّقہ بلدیاتی محکمے نے کسی کو تفتیش کے لیے بھیجا۔ چھے ماہ گذرنے کے بعد، بُومر کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی۔

گندم کی کٹائی پر، ضلع کا غلّہ گودام نمبر ۱ چُوہوں سے اَٹ گیا۔ وہ اُنھیں پکڑنے کے لیے بُومر کو مدعو کر رہے تھے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بلدیاتی ٹی وی چینل نے ایک خبررساں کو ویڈیو کیمرے کے ساتھ بھیجا۔ صوبائی اخبار نے بھی اپنا نمائندہ کیمرے اور قلم کے ساتھ بھیج دیا اور کہا جا رہا تھا کہ بہت سے اہم رہنما بھی نظارہ کرنے کے لیے آرہے تھے۔

جب وہ دِن آیا تو گودام نمبر۱کی آگ بجھانے والی پانی کی ٹینکی کو لبالب بھرا گیا اور اُس کے کناروں کے ساتھ ساتھ میزوں کی قطار لگا دی گئی۔ اُن پر سفید میز پوش بچھا کر سگریٹ اور چائے رکھ دی گئی۔ ضلعی اہلکار بیٹھ کر طرح طرح کے رعب دار اطوار میں تمباکو نوشی کرنے اور چائے پینے لگے۔

صبح کا آدھا وقت گذرنے کے بعد، احاطے میں ایک سیاہ کار داخل ہُوئی جس میں سے بُومر باہر نکلا۔ وہ چرمی جوتے اور مغربی طرز کا گہرے نیلے رنگ کا سُوٹ زیب تن کیے ہُوئے تھا اور بے حد بیمار دِکھائی دے رہا تھا۔ میں نے وہی عسیرالفہم مُسکراہٹ تلاش کی۔

بِلّیوں کو کار میں سے نکالنے میں دس مِنّٹ لگے۔ وہ بے حد متوحش دِکھائی دے رہی تھیں، خاص طور پر تیندوا بِلّی۔

بالآخر ہر چیز ترتیب پا گئی۔ خبررساں نے اپنی طاقت ور رَوشنیوں کا رُخ بُومر کے چہرے کی جانب کیا اور اُس مُسکراہٹ نے جلتے ہُوئے کاغذ کے مانند اپنی چھب دِکھائی۔

جب روشنیاں بِلّیوں کے مُنھوں پر پڑیں تو وحشت ناک انداز میں چِلّائیں۔

کارگذاری کامل ناکامی ٹھیری۔ میں نے لعن طعن کا طومار سنا۔

تالاب کے پاس سے چشمہ لگائے ایک شخص اُٹھا اور سرد لہجے میں بولا: “شروع سے آخر تک فریب!” پھر وہ اکڑتا ہُوا چلنے لگا۔

مسٹر مَو، پارٹی سیکریٹری، اُس کے پیچھے لپکا۔ اُس کا چہرہ پسینے سے تربتر تھا۔

لیکن میرے چہرے کی حالت زیادہ خراب تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎شامان یا شمان (Shaman)۔رُوحوں سے رابطہ رکھنے کا مدعی۔ کاہن۔ عامل۔

 

Categories
فکشن

چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)

یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب – اردو قالب میں” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔

رومانیہ نور کا تعلق ملتان سے ہے۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اب تک غیرملکی زبانوں کے ادب سے 18 افسانوں، 10 نظموں، 2 خطوط، اور مختلف کتابوں کے 9 اقتباسات کے اردو تراجم کیے ہیں۔ ان کے کچھ تراجم سہ ماہی “ادبیات”، روزنامہ “اوصاف” اور دیگر جرائد و اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ ایک کتاب “عورت کتھا” میں ان کے تراجم کا انتخاب بھی شائع ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر بھی تراجم شائع ہوئے ہیں۔ ترجمہ نگاری کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

…………

کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔اس قدر شدید درجہ حرارت موسم گرما کے لیے بھی ایک ریکارڈ تھا۔ انیتاسورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔ شاندار بلیاں کیسے بے دم ہوئی پڑی تھیں۔ اس کا کوئی حل نکالا جانا چاہیئے۔ مگر 110فارن ہائیٹ تک بلند درجۂ حرارت سے بچاو کا سوچنا بھی حماقت معلوم ہوتاہے۔ گرمی اس قدر شدید تھی کہ اچھے خاصے سوریہ ونشی بھی تائب ہوجائیں۔ بھلے وقتوں میں بھی لاہور کا چڑیا گھر جانوروں کے لئے مناسب مقام نہ تھا۔ لیکن اس بار کی گرمی سے ان کی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق تھا۔ اس کا فوری سدِّ باب ضروری تھا۔

انیتا نے ڈوری کھینچ کر دبیز پردے گرا دئیے۔ سورج کی تابناکی کا سامنا کرنے سے پہلے وہ چند لمحے پر سکون تاریکی سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔

اس کے چھوٹے چھوٹے شہد رنگ بال جھاڑ جھنکار کی طرح منتشر تھے جنھیں اس نے انگلیاں پھیر کر پیچھے ہٹایا۔ وہ بہت اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔خود کو پژمردہ اور لباس کو شکن آلود محسوس کرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے سکرٹ کی اطراف کو رگڑ تے ہوئے شکنیں مٹانے کی بے سود کوشش کی۔ جانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ پانچ بجنے کو تھے لیکن سورج کی بے اعتنائی اپنی جگہ برقرار تھی وہ بد ستور کینہ پروری سے بے دم اور تپتی ہوئی گرم خشک زمیں پر آگ برسا رہا تھا۔

“صاحب آ گیا؟”

جب جادوئی انداز میں پردے کے پیچھے سے کامو سکنجبین کی ٹرے کے ہمراہ نمودار ہوا تو اس نے اپنے انگریزی زدہ اردو لہجے میں پوچھا۔ وقت کی پابندی کے معاملے میں کامو بے عیب تھا۔

“ نہیں میم صاحب!”

اس کا انداز معذرت خواہانہ تھا۔ ٹرے انیتا کے سامنے کرتے ہوئے اس نے احترام سے آنکھیں جھکا لیں۔

“شکریہ! ڈرائیور سے کہو کہ بس پانچ منٹ” اس نے اپنی بات کو تمثیلی طور پر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔
“ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔ اب رات کے کھانے تک اس سے نہیں مل پاؤں گی۔” انیتا نے خود کلامی کی۔
اسے ساڑھے پانچ بجے تک گالف کھیلنے جانا ہے، سو وہ کلب میں ہی کپڑے بدلنے والا ہے۔
“وہ ٹیلی فون بھی تو کر سکتا تھا۔ نو سال ہو گئے ہیں سہتے ہوئے اور ابھی تک یہی کرب مسلسل ہے”۔

اس نے اپنے ذہن سے اس دکھ کو جھٹکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے اپنی چیزیں سمیٹنا تھیں۔ ایک چھوٹی نیلی چھتری، تنکوں سے بنا خاکستری پرس، دھوپ کا چشمہ، اور معالجِ حیوانات کی رہنما کتاب جو کہ برٹش کونسل لائبریری سے مستقل بنیادوں پر مستعار لی گئی تھی۔

باہرجونہی تیز دھوپ کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے وہ ٹھنڈی پناہ گاہ کے لئے تیزی سے نیلی ٹیوٹا کی جانب بڑھی۔ چڑیا گھر سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی۔ او۔ آر جہاں ان کا گھر تھا سے زیادہ دور نہیں تھا۔ انگریزوں کے چھوڑ جانے کے 37سال بعد بھی لاہور میں یہ بہت معزز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی عہدیداران کی رہائش گاہوں کے ساتھ بڑی چار دیواری کے پیچھے وسیع و عریض پائیں باغ تھے جن کی چمک دمک ماند پڑ گئی تھی۔ لیکن اپنے آقاؤں کی طرح ان کی بے نیازی برقرار تھی۔

چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت پانچ بجے تھا مگر گھنٹی کی عدم موجودگی میں عملے کے افراد کو ہی لوگوں کو گیٹ بند ہونے سے پہلے روانہ ہو نے کی تلقین کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلا رہے تھےکہ بصورتِ دیگر اگر گیٹ بند ہو جاتا تو ان کے اندر ہی قید ہو جانے کا خدشہ تھا۔

اڑیل بچے گرمی کی شدت سے قطرہ قطرہ پگھل کر انگلیوں پر بہتی آئس کریم کو عجلت میں چاٹتے ہوئے بے دلی سے قدم اٹھا رہے تھے۔ جوانوں نے اِدھر اُدھر سائے کی تلاش میں ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ وہ مضطرب تھے کہ گیٹ کے باہر کوئی بھی سواری انہیں مل جائے۔ چوکیدار نے اپنے ڈھنڈورچی کے کردار میں تعطل لاتے ہوئے انیتا کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ڈپو کی جانب روانہ ہو گئے جو دوسرے سرے پر سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی طرف کچھ ہٹ کر بنا ہوا تھا۔ حسین کتابیں، رجسٹر، ٹوکری، اور برتن برآمدے میں لئے، موڑھے پر بیٹھا پوری طرح چوکس ان کی آمد کے لئے تیار تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے گرد آلود پاؤں چپلوں میں چپکے ہوئے تھے۔ وہ استقبال کے لئے پھرتی سے کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اس کی ٹھنڈے مشروب کی پیشکش ہمیشہ کی طرح مسترد کر دی گئی اور وہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔

انیتا نےایک ہلتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کرکھاتوں کے تمام اندراجات کو دیکھاجبکہ حسین گھبرائے ہوئے انداز میں گودام میں چیزیں تلاش کرتا رہا۔ وہ بندروں کے لئے پھل اور پرندوں کے لئے غلے کی مقدار اور وزن کی پیمائش کرتا رہا۔ میڈم مچھلی اور گوشت کے اوزان خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چناچہ جب تک وہ گودام میں بھیجی جانے والی خوراک کے تمام اندراجات کی پڑتال نہ کر لیتی تب تک حسین انہیں نہیں تول سکتا تھا۔ تمام خوراک تیار کرنے میں چالیس منٹ لگتے تھے۔ تب تک دو لڑکے بھی جو باغیچے کی صفائی میں مالی کے معاون تھے میم صاحب کی زیرِ نگرانی جانوروں کو خوراک کھلانے کے لئے حسین کی مدد کو آ جاتےتھے۔

حسین کو کبھی کبھی انیتا کے بارے میں حیرت ہوتی تھی۔ وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسے جانوروں سے یہ کس قسم کی محبت تھی جو تپتی سہ پہروں میں جب اس کے طبقے کی دیگر عورتیں نیم تاریک اور ٹھنڈے کمروں میں اونگھ رہی ہوتیں اسے یہاں کھینچ لاتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ملازمت ایک لحاظ سے انیتا کی مرہونِ منت تھی۔ سب جانتے تھے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اسی کی مداخلت پر بر طرف کیا گیا تھا۔ چوکیدار نے کئی مرتبہ اسے یہ کہانی سنائی تھی کہ کیسے دو سال پہلے وہ چڑیا گھر کی سیر کو آئی اور دیکھا کہ جانور کمزوری اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سو اس نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی، انہیں خطوط لکھے اور بالآخرانہیں سپرنٹنڈنٹ کی معزولی پر آمادہ کر لیا۔

جس دن حسین نے چارج لیا تو وہ گورنر کی طرف سے جاری کردہ مراسلے کے ساتھ وہاں موجود تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو خوراک دینے سے پہلےوہ اس کے معائنے کی مجاز ہے اور وہ بذاتِ خود اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جانوروں کو دی جانے والی خوراک موزوں اور متناسب ہے۔ اُس دن سے لے کر آج تک اسے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔

اس کا انتظار کرنا حسین کا معمول بن گیا تھا۔ وہ خوفزدہ رہتا تھا کہ اگر وہ پھر سے ناراض ہو گئی تو نہ جانے اس کا کیا بنے گا۔ چوکیدار ماجھا انیتا کو ایک مداخلت کار سمجھتا تھا۔” بے چارے نواز صاحب کو آٹھ بچوں کے خاندان کے ساتھ کس طرح ذلیل کر کے نکال دیا تھا۔ اسے ابھی تک کوئی اور ملازمت نہیں ملی۔ در حقیقت وہ ایک اچھا شخص تھا” اس کی بات کا خاتمہ ہمیشہ ایک سرد آہ پر ہوتا تھا۔

گفتگو کے اس مرحلے پر حسین کی کہانی میں دل چسپی کھو جاتی اور وہ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا آتا۔

انیتا اس دن گرمی سے نڈھال ہو گئی تھی۔ پسینے سے لباس اس کے بدن پر چپکا جا رہا تھا۔ وہ دم لینے کو ایک بنچ پر بیٹھ گئی جو چنبیلی اور گلِ خطمی کی جھاڑیوں کے جھنڈ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دن کی تپش کے باعث انیتا کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح خوراک تقسیم کرتے ہوئے حسین کے پیچھے پیچھے چکر لگائے۔

پھولوں کی تیز خوشبو اورجانوروں کے پنجروں سے اٹھتی بو کے مابین کشمکش جاری تھی۔ گرمیوں کے مہینوں میں پانی کی کمی بہت گھمبیر مسئلہ تھا اور پنجرے ہر تین میں سے دو بار بد بو دیتے تھے۔ اسے ہیرا کی فکر تھی۔ وہ کل سے بھی زیادہ بے جان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اس گوشت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جو حسین نے پنجرے میں پھینکا تھا۔ انیتا نے پریشان ہو کر یہ سوچتے ہوئے اپنا کتابچہ کھولا کہ آیا انہیں معالجِ حیوانات سے رابطہ کرنا چاہیئے یا پھر نگرانی سخت کر دینی چاہیئے۔ وہ ہیرا کی بہت دلدادہ تھی۔ ہیرا عملے کے دوسرے ارکان میں بھی بہت مقبول تھا۔ انہوں نے اسے ہیرا کی عرفیت دی تھی کیونکہ رات کے وقت اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ ایسا ہی زندگی سے بھر پور اور شرارتی چیتا تھا جیسا کہ سندر بن میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس موسمِ گرما کی شدت نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا تھا۔ انیتا نے پرس اٹھایا اور بے دھیانی میں آہستہ آہستہ واپس اس کے پنجرے کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ نرم کیچڑ میں اس کے قدموں کی چاپ دب گئی تھی۔ اُس عورت پر نظر پڑتے ہی وہ خود بخود اوٹ میں ہو گئی۔ اس عورت نے نہ تو انیتا کو آتے ہوئے دیکھا تھا اور نہ اس کے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ وہ سفید جنگلے کے اس پار ممنوعہ علاقے میں یکسوئی سے پنجرے کے گرد منڈلا رہی تھی۔ صرف اراکینِ عملہ کو اس اندرونی حصار میں جانے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ انیتا بھی ان حدود کا احترام کرتی تھی۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہی۔

عورت کی ایک آنکھ ہیرا پر جمی ہوئی تھی، وہ ضرورت سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتی تھی۔ انیتا کی لگی جب اس نے دیکھا کہ عورت نے آگے جھک کر سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر گوشت کے دو پارچے اٹھا لئے اور انہیں تیزی سے پلاسٹک کے نرم تھیلے میں کھسکا لیا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوش قامت عورت تھی۔ اس کا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سرعت کے ساتھ دوڑ کر پیچھے ہٹ گئی جوصرف ہیرا سے ہی منسوب کی جا سکتی ہے۔

ملگجے اندھیرے میں انیتا نے فوری طور پر بیٹھنے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ شدتِ غم سے اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے اور وجود جھولنے لگا تھا۔صدمے نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اسے اپنے آپ کو یکجا کرنے میں کچھ وقت لگا۔ وہ حیران تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس عورت کی جسارت انیتا کے لئے چیلنج تھی۔یقیناً انیتا کو اس پر چلّانا چاہئے تھا۔ اس نے فرض کیا کہ یہی سب کچھ برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اب اس چوری چکاری کا سدِ باب ضروری ہے۔ ہیرا آہستگی سے اٹھا اور سبک خرامی سے اپنی خوراک کی طرف بڑھا۔ کھانے میں مشغول ہونے سے پہلے وہ نفاست و نزاکت سے گوشت کو سونگھنے لگا۔

اسے واپس جانے کے لئے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ ملازمین اسے روانہ کرنے کے لئے گیٹ پر منتظرکھڑے تھے۔ اس کا کچھ تاخیر سے جانا بالکل بھی غیر معمولی نہ تھا۔ سیر کے اوقات کے بعد چڑیا گھر میں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ وہ پہروں بیٹھی یہاں بند جانوروں کواپنے آپ میں مگن ہوتے دیکھتی رہتی یہاں تک کہ شام کی تاریکی چھا جاتی۔

یہاں تاریکی ہمیشہ بہت جلد اور دفعتاً چھا جاتی تھی جب سورج مغربی دیوار کی طرف پرند گھر کی بلند و بالا گارے کی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ مرے مرے قدموں سے خود کو دھکیلتی ہوئی واپسی کی راہ لیتی۔آج وہ گیٹ کے پاس سے گزری تو بالکل خالی الذہن تھی اس نے اپنا نحیف ہاتھ اٹھا کر صرف اشارے سے سلام کا جواب دیا۔

اس رات وہ سلیم سے بات کرنے کے لئے مضطرب تھی۔ وہ کھانا کھانے میں محو دکھائی دیتا تھا مگر پھر بھی انیتا نے بات چھیڑ دی۔ سلیم کی ہنسی بہت سرد مہر اور کھردری تھی۔

“ تم نے پو لیس کو نہیں بلایا؟”

“نہیں” انیتا اس کے استہزاء سے بے چین ہو گئی۔” اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟”

“تمہارا خدائی فوجدار بننا: اور یہ اخلاقی بحران ۔۔۔۔جو تمہیں درپیش ہے۔”

سلیم کی ہنسی ناخوشگواری کے آخری دہانے پر تھی اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھا رہی تھی۔

“اخلاقی بحران؟” وہ حیران ہوئی۔

“میرے خیال میں تو اس صورتحال کو یہی کہا جاتا ہے”۔

وہ پوری توجہ سے انگلیوں کی مدد سے مچھلی کے سانٹے نکالنے میں مگن تھا۔ انیتا کی نظریں دور خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد سلیم نے پوچھا:

کیا میں نے تمہیں کبھی مسز ہاؤ کا قصہ سنایا ہے؟”

“میرا نہیں خیال۔ کون ہے وہ؟” انیتا کو اس کے انداز سے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔

“ہے نہیں۔۔۔۔۔تھی۔ ہاں مسز ہاؤ تہران میں قونصل جنرل کی بیوی تھی۔اس وقت چالیس کی دہائی میں پاپا وہاں تعینات تھے۔ وہ گھوڑوں سے بہت الفت رکھتی تھی۔ بلا شبہ ان سے شدید محبت کرتی تھی۔ وہ ہر سہ پہرگھر سے نکلتی اور بیمار اور بدسلوکی کے شکار گھوڑوں کی تلاش میں شہر کا چکر لگاتی تاکہ انہیں گھر لے آئے۔

وہ اپنا گھڑ سواری کا لباس زیب تن کرتی، ہاتھ میں چابک ہوتا اور بذاتِ خود خطا کار مالکان کو سزا دینے پہنچ جاتی انہیں چابک سے مارتی اور گھوڑے کو اپنے ساتھ لے آتی۔ وہ دہشت کی علامت بن چکی تھی۔ مالکان کے ساتھ گھوڑوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا،انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا اور وہ ایک کام کرنے والے جانور سے بھی کسی ادائیگی کے بنا ہاتھ دھو بیٹھتے۔”

“پھر؟”

“پھر کچھ نہیں- کشیدگی بڑھتی گئی۔۔۔یاد رکھو کہ یہ وہ ایام تھے جب پانچ آدمی چینی کی قیمت پر احتجاج کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہو جاتے تو انہیں دھمکانے کے لئےبرطانوی جنگی بیڑے مشتعل ہو کرساحلوں پر آ لگتے تھے۔”

” میں نہیں جانتی کہ تم کیا جتانا چاہ رہے ہو سلیم! مگر جوکچھ میں یہاں کرنا چاہ رہی ہوں وہ کچھ الگ معاملہ ہے۔”

“ہاں ، امید ہے ایسا ہی ہو گا۔۔۔ تم اپنے گھڑ سواری کے لباس میں نہیں تھی اور تم نے پولیس نہیں بلائی۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی کے بارے میں میرے احساسات آج کی نسبت کہیں زیادہ خالص تھے۔ اس کے باوجود میں وہ واحد شخص تھا جسے کبھی اس بات کا تعین نہیں کر پایا کہ اصل میں گھوڑے مظلوم ہیں یا ان کے مالک۔”

انیتا نے اپنے اور سلیم کے درمیان اس بے رحم فاصلے پر ایک مایوس کن اور بے آواز غصے کی کیفیت کو محسوس کیا۔ یہ جارحیت، عداوت، جانبداری یا پھر حد سے بڑھی ہوئی سادگی تھی۔

” کیا ہو گیا تھا انہیں۔۔ “انیتا کو ذرا سی بات کا تماشہ بنانے سے نفرت تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ نیپکن رکھ کر کھانے کی میز سے جانے کے لئے اٹھی تو غصے کی وجہ سے اس کی کرسی چرچرا اٹھی۔ اس نے برآمد ے کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ باہر خاموش اور گھٹن زدہ تاریکی میں وہ خالی نظروں سےاڑتے ہوئے جگنوؤں کو تکتی رہی ۔

کیمبرج کے دنوں میں ان کے درمیان جو شدید قسم کا جذباتی لگاؤ تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ انیتا کی حد تک تو یہ معاملہ اپنے وجود سے جڑے حقائق کے لیے ہمہ وقت مبہم مدافعانہ پن میں ڈھل گیا تھا۔ اس نے تلخی سے سوچا کہ تمام سفید فام اقوام کے اجتماعی جرم کو اپنے زہریلے پن میں لپیٹ کر اس کی روح پر لیپ دینا سلیم کی عادت بن گیا ہے۔ تنازعات اور غصہ تلخی بن کر ان کے مابین معلق تھے۔

سلیم اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کے متعلق کتنی حساس ہے۔ اس نے اداسی سے سوچا۔

وہ انیتا کے لئے اس کے خاندان کی طرح خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ بالکل اپنے بچوں کی طرح تھے اور یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی کو اس کی اولاد سے محروم کر دیا جائے۔

Categories
فکشن

اُجرتی مہمان (تحریر: آئزک بشویس سنگر، ترجمہ: اسامہ خالدی)

باہر ایک ٹرک تھا، جو چل پڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا، ٹررر ٹرررر کیے جا رہا تھا۔ ہاں ہاں، دھیان سے! اور پھر ایک ایسی گہری سانس جیسے اس کی دھاتی روح ابھی پرواز کر جائے گی۔ بیس‌بال کھیلتے ہوئے لڑکے دیوانہ وار شور کر رہے تھے۔ کھلی کھڑکی سے آتی ہوئی ہوا پٹرول کے ساتھ ساتھ پیاز کے تلے جانے، اور اوائل گرما کی مہک سے معمور تھی۔ چھت کی بتی کے دونوں طرف مکھیوں کا ایک جمگھٹا جو پوری یکسوئی سے بھنبھنائے جا رہا تھا۔ کھڑکی کے ولندیزی طرز کے پردوں سے ایک تتلی اڑتی ہوئی اندر میز پر آ کر بیٹھ گئی۔ وہ ایک لمحہ ساکت رہی۔ اس کے پر رک گئے جیسے وہ اپنی ناگزیر موت کی منتظر ہو جو ایسی فانی مخلوقات کا شیوہ ہے۔ ربی بیرش‌ژچ لائینر اپنی تعویذات سے منقش شال اوڑھے ہوئے اپنی فرض نمازیں پوری کر چکے تھے۔ لیکن وہ اب نماز کے بعد کی تعقیبات میں مشغول تھے جو کہ یا تو بہت راسخ العقیدہ لوگ پڑھا کرتے ہیں یا پھر ایسے لوگ جن کے پاس فارغ وقت بہت ہوتا ہو۔

ربی بیرش کی داڑھی سفید اور چہرہ سرخ، گھنی بھنویں اور آنکھوں کے نیچے چربی کی دوہری تہیں لٹکتی تھیں۔ ابھی انہیں پارچہ فروشی کے بیوپار سے سبکدوش ہوئے دو ہی سال ہوئے تھے۔ ان کا مال بنڈی کا دھندا چالیس سال سے زیریں مشرقی حصے میں چلتا رہا تھا، یہیں ولیمز برگ محلہ میں ان کی بیوی، ایک لڑکا اور ایک لڑکی انہی وقتوں میں چل بسے تھے – ایک اور بیٹی تھی جو اپنے آشنا کے ساتھ کیلی‌فورنیا میں کہیں رہتی تھی – ربی بیرش کے لیے اب کچھ باقی نہیں رہا تھا، سوائے اس کی پنشن، اور قبرستان میں ایک پلاٹ جو سوچاشیو سوسائٹی کی ملکیت تھا، اور ان کا ایک اپارٹمنٹ جو کلائمر والی گلی میں تھا – اکیلے رہنے سے گریزاں، انہوں نے ایک پناہ گزین کو اپنے ساتھ ٹھہرا لیا – یہ شخص یہود کش کیمپوں سے چھٹ کر لوٹا تھا – سوویت روس میں بھی وقت گزارا تھا، اور پھر آدھی دنیا میں مارا مارا پھرتا رہا تھا – اس کا نام مورِس مَیلنِک تھا۔ وہ ماہانہ 15 ڈالر کرایہ انہیں ادا کرتا تھا۔ اس لمحے وہ ابھی نیند سے نہیں جاگا تھا۔ اس کے کمرے کی کھڑکی آتش‌فراری سیڑھیوں کی طرف کھلتی تھی۔ درحقیقت، ربی بیرش کے مَیلنِک کو پناہ دینے کی وجہ اس کا ترحّم تھا نہ کہ ماہانہ 15 ڈالر کا حرص۔ مورِس مَیلنِک سب کچھ گنوا چکا تھا: اس کے ماں باپ، بہنیں اور بھائی، اس کی بیوی اور اس کی اولاد۔ تبھی ربی بَیرِش کو اس بات کا کچھ پچھتاوا نہیں تھا کہ اس نے اپنے مکان کے دروازے مَیلنِک پر کھول دیے تھے۔

مَیلنِک کا انداز تمسخر بھرا ہوا کرتا تھا۔ وہ ایک صاحبِ ایمان شخص نہیں تھا۔ مزید برآں، وہ ناصرف ایک دہریہ تھا بلکہ بدکار بھی تھا۔ ایک سرکش روح۔ وہ محلے کی عورتوں کے ساتھ عشق بازی کی کوششوں میں رہتا، گوشت اور دودھ کے پکوان ملا کر کھاتا تھا۔ رات کے دو بجے گھر لوٹتا اور یوم ثبت بھی کچھ پابندی سے نہیں مناتا تھا۔ جونہی ربی بیرش نے13 بنیادی عقائد کی تلاوت شروع کی، مَیلنِک اندر داخل ہوا۔ یہ ٹِھگنا سا آدمی جس کا چہرا پیلا پڑا ہوا تھا جیسے یرقان زدہ ہو، اور اس کے سر پر بالوں کی کچھ بے ترتیب سی لٹیں تھیں۔ وہ ایک لال پائجامہ اور بوسیدہ سی چپل پہنے ہوئے تھا۔ ڈاڑھی کی حجامت بڑھی ہوئی تھی اور استخوانی سی ناک۔ اس کی چندھی ہوئی آنکھیں سوئیوں جیسی بھنووں کے پیچھے چھپی ہوئی تھیں۔ اسے دیکھ کے ربی کے ذہن میں ایک سؤر کا سا تصور آتا تھا۔ وہ منہ کھولتا تو اس کے منہ میں جَڑے سونے کا دانت نظر آتے تھے۔ اس نے استفسار کیا “ربی بیرش، آپ ابھی تک عبادت میں مشغول ہیں؟”

“ہاں بھئی۔۔”

“کس کی عبادت کرتے ہو؟ اسی خدا کی جس نے ہٹلر کو تخلیق کیا؟ اور اسے اتنی طاقت دی کہ وہ ساٹھ لاکھ یہودیوں کی جان لے گیا؟ یا پھر اس خدا کی جس نے اسٹالن کو تخلیق کیا تاکہ وہ مزید ایک کروڑ جانوں کو موت کے گھاٹ اتار دے – واقعی، آپ اس مالک کائنات کی دو تعویزوں کی رشوت سے خوشنودی نہیں لے پائیں گے، پرلے درجے کا کتی کا بچہ ہے وہ۔ دشمنِ یہود ہے وہ۔۔۔”

“افُووہ!” ربی بیرش نے بدمزہ سا چہرہ بنایا اور کہا “بس چلے جاؤ یہاں سے!”

“کب تک ہم اس کے سامنے یونہی گھگیاتے رہیں گے اور حمدیہ مالائیں جپتے رہیں گے؟” مَیلنِک نے اپنی بات جاری رکھی۔ “میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کیسے ان لوگوں نے ایک یہودی کو اس کے تعویذوں اور نمازی عباؤں سمیت غلاظت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ من و عن!”

ربی بیرش کا لال چہرا اور بھی سرخ ہو گیا۔ وہ جلدی میں تھا کہ کلمے ختم کر لیں اور پھر اپنے ہم مسکن کی بات کا جواب دیں۔ وہ سرگوشی کے انداز میں پڑھنے لگا “میں اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ (بروز قیامت) مُردوں کو پھر سے زندہ کیا جائے گا، اور اس وقت جب خالق کو منظور ہو گا۔ اس کے نام کا اقبال بلند ہو اور اس کا ذکر دائم مترفّع رہے۔۔” اس نے اپنی دعائیہ کتاب کو بند کیا لیکن اپنی شہادت کی انگلی بیچ میں رہنے دی تاکہ مَیلنِک کو مناسب جواب دینے کے بعد پھر وہیں سے کتاب کھول سکے۔ اس نے ایک آہ بھری اور چہرے پر بدمزگی کا تاثر بنا کر غرّائے:

“کیا تم شانِ الوہی کی گستاخی بند کرو گے؟ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ حدّ ادب کو قائم رکھو پر تم مجھے سکھانے سے باز رہو۔ تم نے جو کچھ بھی دیکھا، قادرِ مطلق رحمان و رحیم ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کے طریقے کیا ہیں۔ اگر ہم جان گئے تو اس میں اور ہم میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ ہمیں قوت ارادی عطا کی گئی ہے، جو ہے، سو ہے۔۔۔ اس یہودی کو غلاظت کے گڑھے میں پھینکنے والے لوگ تا ابد جہنم میں رہیں گے اور اس کی روح تختِ احتشامِ الٰہی کی قربت میں آرام کرے گی۔”

“بالکل بکواس! کھوکھلی الفاظ بازی۔ یہ روح کہاں پائی جاتی ہے؟ روح جیسی کوئی جیز نہیں ہے ربی بیرش۔ یہ مدارس کے کاہلوں کی اختراع ہے۔ روس میں ایک پروفیسر تھا پاولوف، جو ان سب سے اعلیٰ تھا۔ بڑا ہی دھانسو، جیسا کہ امریکہ میں کہتے ہیں۔ اس نے ایک کتے کا دماغ کاٹ کر نکالا، اور پتہ چلایا کہ روح جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ دماغ ایک مشین ہے۔ بالکل automat کی طرح، ادھر تین چھوٹے سکّے پھینکو، ادھر ایک سینڈوچ باہر آ گیا۔ مشین کو آپ کے سکّوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ لکڑی کے قرص بھی اندر پھینک سکتے ہیں۔ بس اس کو بنایا ہی ایسا گیا تھا، اور کوئی بات نہیں۔۔۔”

“تم ایک شریف النفس انسان کا کسی کتے یا کسی خودکار مشین سے موازنہ کر رہے ہو۔ تمہیں شرم آنی چاہیے مِلنِک صاحب۔ مشین ایک مشین ہوتی ہے، انسان کو خدا کے عکس پر خلق کیا گیا ہے۔۔”

“خدا کا عکس! میں ماسکو کے ایک جیل میں بلڈناؤ کے ایک ربی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ سات ہفتوں تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے رہے اور اس تمام عرصے میں وہ ایک ہی کام کرتا رہا: توریت کی تلاوت۔۔۔ اسے بواسیر کی تکلیف تھی، وہ جب بھی برتنِ فضلہ پر بیٹھتا، ایک جانور کی طرح خون کی پیکیں مارتا تھا۔ آدھی رات میں وہ اسے جگاتے اور اس سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔۔۔ میں اس کی چیخیں سن سکتا تھا، اور جب وہ واپس آیا تو پھر وہ کبھی اپنے پیروں پر چل نہیں سکا۔ ان لوگوں نے اسے اس کے حجرے میں دھکیل دیا اور وہ فرش پر گر پڑا۔ ہم نے بڑی مشکل سے اسے ہوش میں لایا۔ سات ہفتوں کی اذیت کے بعد وہ اسے باہر لے گئے، گولی مارنے کے لیے۔۔”

“اچھا، تو کیا اس نے خدا کی ناانصافی کے خلاف کوئی احتجاج کیا؟”

“نہیں، وہ اپنی آخری سانس تک ایک صاحبِ ایمان رہا۔۔”

ربی بیرش بے ساختہ ہچکچایا اور اپنی پیشانی مَلنے لگا۔ “جب کہ خود اختیاری دی گئی ہے۔۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ خبیث انسانوں کے ساتھ اپنی خباثت پر عمل پیرا رہنے کی طاقت ہے، وہ جیسے چاہیں۔۔ یہاں کرّۂ ارض پر بھی کیا حکومت خود اختیاری مہیا نہیں کرتی؟ ہر بدمعاش چوری ڈاکا، قتل کر سکتا ہے جب تک کہ وہ پکڑا نہ جائے۔۔ لیکن جب وہ پکڑا جاتا ہے تب اسے اپنا حساب دینا ہوتا ہے۔۔”

نازیوں کو تو کوئی حساب کتاب نہیں دینا پڑا، ربی بیرش۔ میں میونخ میں تھا جنگ کے خاتمے کے بعد۔ وہ سارے ایک بڑے سے بیئر ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لال تھوتھنیوں والے سؤروں کی طرح ہٹے کٹے، غٹ غٹ ساغر لنڈھا رہے تھے اور ساتھ ساتھ وحشی آوازوں کے ساتھ نازی ترانے گا رہے تھے۔ وہ کھلے عام فخریہ بتائے جا رہے تھے کہ انہوں نے کتنے یہودیوں کے گھر جلائے، گیس میں دم گھونٹ کے مار ڈالا، زندہ گاڑ دیا، اور پھر کتنی یہودی لڑکیوں کی آبرو ریزی کی۔ آپ نے کبھی ان کے قہقہے سنے ہوتے۔۔۔ امریکہ انہیں اربوں ڈالر بھیج رہا تھا اور وہ بویریائی بیئر اپنے حلق سے اتارتے ہوئے سفید وُرسٹ نگلے جاتے تھے۔ فرطِ سرمستی سے ان کی توندیں پھٹ پڑنے کو آتی تھیں۔۔۔ میرے داخل ہوتے ہی وہ پہچان گئے کہ میں یہودی ہوں، اور وہ درندے سے بن گئے۔۔ وہ تو وہیں میرا کام تمام کرنے والے تھے۔۔”

“تو تم ایسی جگہ گئے ہی کیوں تھے؟”

“وہاں ایک جرمن عورت میری دوست تھی۔ میں سونے کی اسمگلنگ کرتا تھا اور وہ اسے چھپا کے رکھتی تھی۔۔۔ ہمارا کاروبار جیسے وہ کہتے ہیں کہ آدھے آدھ کا تھا۔۔۔ ہمارا اس کے علاوہ اور بھی دھندا تھا۔”

“افووہ، تم ان سے ذرا بھی بہتر نہیں ہو۔۔۔”

“میں کیا کر سکتا تھا؟ یہودی لڑکیاں یا تو سب بیمار تھیں یا پھر تلخیوں کی ماری۔۔۔ جب آپ ان کے ساتھ لیٹے ہوتے ہیں تو وہ شکووں کا ایسا تانتا لگا دیتی تھیں کہ آپ کے کان پک جائیں۔ وہ بس اتنا چاہتی تھیں کہ کسی طرح بیاہ رچا لیں اور اپنا گھر بسائیں۔ لیکن میں نہیں۔ ایک جرمن لڑکی سے آپ جو چاہتے تھے وہ بغیر کسی جھنجھٹ کے مل جاتا تھا۔ امریکن سگرٹ کی ایک ڈبیا کے عوض تو آپ کو ہِملر (کوتوال) کی بیوہ بھی مل سکتی تھی۔”

“اچھا، خدارا چپ ہو جاؤ۔ اگر تم مجھے سکون سے میری عبادات پوری نہیں کرنے دے سکتے تو مجھ پر یہ نیکی کرو کہ اس گھر سے کہیں اور چلے جاؤ۔ ہم دونوں کا جوڑ نہیں بننے والا۔۔۔”

“مجھے ڈانٹو مت ربی بیرش۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، آپ صبح سے شام تک نمازیں پڑھتے رہیں، خدا کی چاپلوسی کرتے جائیں، اس کی عظمت، اچھائی اور رحمدلی کی حمدیں گاتے پھریں، وہ تم سب کے لیے ایک اور ہٹلر پیدا کرے گا۔۔۔ وہ (دشمنانِ یہود( اپنی تیاریاں شروع کر چکے ہیں۔۔۔ ایک دن انہیں ایٹم بم بھی مل جائے گا، آپ ہی کے ٹیکسوں سے ربی بیرش، جرمنی کو ایک بار پھر مسلّح کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہی سچی بات ہے۔۔”

ربی بیرش نے اپنی ڈاڑھی کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ “یہ مکمل سچائی نہیں۔ البتہ، آپ براہ کرم اپنے کمرے میں واپس چلے جائیے اور مجھے اپنی نمازیں پوری کرنے دیں۔۔۔”

“ہاں ہاں، پڑھتے پھرو نمازیں۔ تمہارے ساتھ جس بندے کو شکوے ہوں، اس کو اپنے پیٹ میں سے ایک سینگ اگانا چاہیے۔۔”

عبادت کے بعد ربی بیرش باورچی خانے میں چیزیں الٹ پلٹ کر ناشتہ بنانے لگا۔ یہ اصل میں ناشتے اور دوپہر کے کھانے کا مرکّب تھا، چونکہ ربی بیرش دن میں صرف دو بار کھانا کھاتا تھا۔

اس نے مزید کچھ ڈھونڈا اور ایک آہ بھری۔ ڈاکٹر نے ہر وہ چیز منع کر دی تھی جو اسے پسند تھی: نمک، کالی مرچ، کھٹی بھاجی، مولیاں اور سرسوں کی چٹنی، کھاری مچھلی، اچار، یہاں تک کے مسکہ اور کھٹی ملائی۔ باقی رہ کیا گیا تھا؟ توس اور دہقانی پنیر اور چائے کی ایک ہلکی سی پیالی۔ وہ پالک اور گوبھی بھی کھا سکتا تھا، لیکن اس قسم کی غذا اسے کبھی راس نہیں آئی۔ حتٰی کہ امریکی پھلوں میں بھی وہ پرانے وطن والا مزہ نہیں تھا۔ سچی بات تو یہ تھی کہ اس کی بیوی فائیگے مالکے کے انتقال کے بعد سے ہر چیز کا مزا اور رس جاتا رہا تھا:بستر میں آرام کرنا، صبح سویرے جاگنا، انکل سام کا چیک وصول کرنا، یہاں تک کہ یومِ ثبت اور تہواری چھٹیاں بھی۔۔۔ ربی بیرش کئی بار سوچ چکا تھا کہ وہ اپنے مہمانِ خانہ سے کسی قسم کی گفتگو نہیں کرے گا، ایسا بدمعاش جو جہنم سے ہو کر آیا تھا اور پھر بھی ایک شریف آدمی نہیں بن سکا۔ لیکن دستر خوان پر اکیلے بیٹھنا بھی آسان نہیں تھا۔ بہرحال اس شکوہ کیش ہم مسکن کے ترش الفاظ نے پیاز، گھوڑا مولی، لہسن، یا پھر وادکا کی جگہ لے لی تھی۔ وہ اس کے دل کی دھڑکن کو مزید تیز اور اس کے خون کو شریانوں میں کھولا کے رکھ دیتے تھے۔ ربی بیرش نے آواز دی۔ “بھئی میلنِک صاحب، آئیے اور ایک پیالی چائے لیجیے۔۔۔”

میلنِک فوراً آ کر دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنے سر کے گنجے حصے پر پومیڈ کی کنگھی سے بال ٹکا دیے تھے۔ وہ ایک گلابی قمیص، پیلی ٹائی جس پر کالے گول نشان تھے، فوجی خاکی پتلون اور فوجی جوتے پہنے ہوئے تھا جو کوئی بھی سستے میں خرید سکتا تھا۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی پہنے ہوئے تھا جس میں لال ہیرا لگا ہوا تھا، اور کلائی کے گرد ایک گھڑی پر طلائی پٹہ بندھا تھا۔ اس کی قمیص کی جیب میں تین فونٹین پین اور دو پنسلیں تھیں جن پر چاندی جڑی ہوئی تھی۔ ڈاڑھی کی حجامت اور نہانے کے بعد وہ کسی قدر جوان لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے کی جھلیاں بھی کچھ دبی ہوئی سی تھیں اور آنکھیں پہلے کی نسبت صاف نظر آ رہی تھیں۔ ربی بیرش نے اسے تعجب سے دیکھا۔

“اچھا، تو لیجیے ناں کچھ۔۔۔”

“کیا لوں؟ اگر آپ ایسا دسترخوان ان کیمپوں میں سجاتے تو کیا بات ہوتی۔ جب میں وہاں تھا تو ایک یہودی کو صرف ایک آلو چوری کرنے کی وجہ سے مار ڈالا گیا تھا۔ وہ میرا رشتہ دار تھا۔ میرے والے کیمپ میں ایک آدمی تھا جس کی ایک دکان تھی۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس طرح کی دکان ہو گی۔ وہ اپنا سامان اپنی الماری اور اپنے سونے والے بستر پر ہی رکھتا تھا۔ اگر وہ پکڑا جاتا تو اسے وہی گولی مار دی جاتی۔ بلکہ اسے گولی مار دی جاتی تو وہ الٹا خوش قسمت ہوتا، وہ تو اسے اذیت کی موت دیتے۔ لیکن بیوپار، بیوپار ہے۔ میں نے دیکھا کہ کاروبار کی وجہ سے ہی یہودیوں کو یوں شہید کیا گیا تھا۔ گھیٹؤوں میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا، روس میں بھی یہی ہوتا ہے۔ صرف دھاگے کے کچھ گوٹوں اور ایک درجن سوئیوں کے لیے لوگوں کو سزائے موت دے دی جاتی تھی۔ کیمپوں میں ایسے ہی ایک بیوپاری کے پاس کچھ پتّے بند گوبھی اور آلو کے کچھ چھلکے اور کچھ مرجھائی ہوئی مولیاں تھیں: یہی اس کا کل مال تھا۔ لیکن بھوک بھی ایک بری بلا ہے۔ روسی کیمپوں میں وٹامن کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو اسقربوط لاحق ہو جاتا تھا۔ ایسی بیماریوں سے بندہ اچانک مر جاتا ہے۔ میں ایک بار ایسا ہوتے دیکھا ہے۔۔۔”

“ایک لمحہ رکیے، مَیلنِک صاحب، بہتر ہو گا، روٹی کا ایک لقمہ پنیر کے ساتھ چکھیے۔ کچھ چَیریاں لیجیے۔۔۔”

“جی بہت شکریہ۔ تو میں اپنے تختے والے بستر پر پڑا ہوا تھا۔ جاڑے کی رات تھی۔ قازقستان کسی علاقے میں تھا یہ کیمپ۔ اپنے ساتھ کے ہمسائے سے باتیں ہو رہی تھیں۔ سردی اتنی تھی کہ پانی بالٹی میں منجمد ہو گیا تھا۔ ہم اپنے آپ کو اپنے چیتھڑوں میں لپیٹے ہوئے تھے۔ ہر شے پر کہرے کی دبیزتہہ جمی ہوئی تھی۔ ہم بہت بھوکے تھے، لیکن ہم باتیں کیے جا رہے تھے۔ باتیں بھی کیا تھیں، اپنے بیوی بچوں کے متعلق جو جرمنوں کے پاس رہ گئے تھے۔ اس خوشگوار ماضی کی باتیں، اور یہ کہ جب امن و امان لوٹ آئے گا تو ہم کیا کریں گے۔ ہمیں بس ایک ہی کام کرنا تھا: اپنا پیٹ بھرنا۔ ہم سب بھونے ہوئے گوشت اور کیک تصور میں لاتے جسے ہم منہ بھر بھر کھاتے تھے؛ مرغی کا شوربہ، سویّوں کے ساتھ، گوشت بھری ترکاری، مرغی کے تیل میں تلے ہوئے پیاز، آنتوں میں بھرا قیمہ اور آلو کی قتلیاں۔ کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ میں نے اپنے ہمسائے سے کچھ پوچھا لیکن اس نے جواب نہیں دیا۔ شاید سو گیا ہو۔ میں نے سوچا۔ پھر میں نے کان دھرے، وہ عام طور پر خراٹے لیا کرتا تھا، کیونکہ اس کے ناک میں پھنسیاں تھیں۔ لیکن اب وہ عجیب طور سے خاموش پڑا تھا۔ میں ایک نظر ڈالنے کے لیے تختے سے کچھ نیچے پھسلا۔ وہ آدمی مرا پڑا تھا۔ ابھی ایک لمحہ پہلے وہ اچھی بھلی باتیں کر رہا تھا، دوسرے لمحے وہ مر چکا تھا۔۔”

“بھیانک! بھیانک۔۔”

“آپ کیوں سسکیاں بھر رہے ہیں؟ یہی تو انسان ہونا ہے، اشرف المخلوقات ہونا۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ سارے مرد نازی ہیں۔ ہم کون ہوتے ہیں کہ کسی بچھڑے کا گلا کاٹ کر اسے کھا جائیں۔ جس کے ہاتھ میں خنجر ہے وہ تو قتل کرے گا۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہٹلر کا اعتقاد تھا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اب خدا کو ہی لیجیے۔ وہ سب نازیوں کا باپ ہے۔ ہٹلرِ اعظم۔ جتنی طاقت اس کے پاس ہے، کسی کے پاس نہیں۔ اس لیے وہ سب کو اذیتیں دیتا ہے۔ دیکھیے، میں ایک دہریہ نہیں ہوں۔ جہنم وجود رکھتا ہے۔ لوگ صرف دنیا ہی میں کیوں صعوبتیں اٹھائیں؟ انہیں عاقبت میں بھی اذیت دی جاتی ہے۔ خدا کی خود اپنی ایک ٹریبلِنکا عقوبت گاہ ہے۔ مع بھوت پریت، ابلیس، ملک الموت۔ بے چارے گناہ گاروں کو اس میں بھونا جاتا ہے۔ انہیں ان کی زبانوں یا پستانوں سے باندھ کر لٹکایا جاتا ہے۔ ان ساری باتوں کی تفصیلات “تنبیہہ الغافلین” میں لکھی ہوئی ہیں۔۔۔ لیکن جنت جیسی کوئی جگہ وجود نہیں رکھتی۔ جب موت کی بات آتی ہے، تو میں بالکل منکر بن جاتا ہوں۔۔۔”

ربی بریش کھانا چباتے چباتے رک گیا۔

“وہ خالق کائنات اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے؟”

“کیسے نہیں ہو سکتا؟ اس کے پاس بڑی لاٹھی ہے۔ بس وہ اسے گھماتا ہے۔ اس نے ہمیں توریت دی، جسے کوئی بھی قائم نہیں کرتا۔ ہر چھوٹا موٹا ربی اپنا اضافہ کر دیتا ہے۔ اگر آپ ان میں سے کسی ایک حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو آپ اگلے جنم میں ایک سانپ کی کایا میں پیدا ہوتے ہیں۔ مسیحیوں کا ماننا ہے کہ خدا بنی نوعِ آدم کو تب تک پھر سے عِزّ و شرف نہیں دے سکتا تھا جب تک کہ اس کا اپنا اکلوتا بیٹا صلیب پر نہ جھول جاتا۔ وہ بس کسی نہ کسی طرح سے خون کی بھینٹ مانگتا ہے۔۔۔”

“اچھا اب کچھ کھا تو لیجیے۔ حد سے زیادہ باتیں کرنے سے بھی بندہ انصاف میں نہیں رہتا۔۔”

“میں کھا ہی تو رہا ہوں۔۔۔ اور کیا کر رہا ہوں؟ میرے لیے اور رہ بھی کیا گیا ہے، بس کھانا۔ امریکہ میں اچھی عورتیں ہیں ہی نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اچھی عورتیں نہیں رہی ہیں۔ میرے وقتوں میں پھر بھی کچھ وفادار ہوا کرتی تھیں۔ آج کل یہ جنس بالکل ہی غائب ہو گئی ہے۔ جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا ہے آپ نے بھی دیکھا ہوتا تو آپ کی ڈاڑھی سفید سے پھر کالی ہو جاتی۔۔”

“میں اس بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتا۔۔۔”

“میں ان کیمپوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔۔۔ وہاں کوئی بھی عورت اپنی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔ جب جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، مرتا کیا نہ کرتا۔ میں نے ایک ایسی عورت کے بارے میں سنا جو اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ وہ اپنا آپ اس خارش زدہ یوکرینین آدمی کے سپرد کر دے کیونکہ وہ اس کی شوربے والی پیالی میں کچھ دلیہ اور ڈال سکتا تھا۔ اور اس نے یونہی کیا۔ پھر جب نازیوں کو پتہ چلا تو انہوں نے تینوں کو قتل کر دیا۔ ایسے واقعات بھی ذہن پر کوئی خاص نقش نہیں چھوڑتے تھے۔ میں نے اس سے بھی بدتر واقعات اپنی آنکھوں دیکھے ہیں۔ جب ہمیں چھٹکارا ملا تو کسی پر کوئی زبردستی نہیں کی گئی، لیکن لوگ پھر بھی غلاظت کے عالم میں اپنی لڑائی لڑتے رہے۔ ہم تین خاندان ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔ ایک کونے میں ایک عورت ایک دیہاتی سے ہم بستری کر رہی تھی اور دوسرے کونے میں اس کی بہن بھی وہی کر رہی تھی۔ ان سب میں شرم کا احساس ہی جاتا رہا تھا۔ وہ اکٹھے مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے سروں سے جوئیں نکالا کرتے تھے اور اکٹھے ہم بستری بھی کیا کرتے۔ لوگ قندیل کی روشنی میں یہ کام کرنا چاہتے تھے۔۔۔”

“تم چپ کرو گے یا نہیں؟ میں تمہیں آخری بار خبردار کر رہا ہوں۔۔۔”

“کیا تم حقیقت سننے سے گھبراتے ہو؟”

“یہ حقیقت نہیں ہے۔ گناہ جھاگ کی طرح ہوتا ہے۔۔۔ جب آپ گلاس میں بیئر ڈالتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بھر گیا ہے۔ لیکن وہ دو تہائی تو جھاگ ہے۔ جب جھاگ بیٹھ جاتی ہے تو صرف ایک تہائی رہ جاتی ہے۔خدا کی قائم کردہ حدوں سے تجاوز کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ بلبلوں کی طرح پھٹنے لگتی ہیں۔۔۔”

“خوب فرمایا۔۔۔ کیا یہ جناب کے اپنے خیالات ہیں؟”

“میں نے ربی سے سنا تھا۔۔۔”

“اچھی کہاوت ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں ہر چیز ہی کچرا ہے۔ کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں ہے، سب کچرا ہے۔ آپ کا ربی بھی کچرا ہے۔ اس کی ڈاڑھی، اس کے سر کی لٹیں اور اس کے۔۔۔ لباس کے پیچھے ایک مرد ہے جو عورتوں کا رسیا ہے۔ اور اگر وہ کسی حسین عورت سے عقد میں نہیں ہے تو پھر وہ رنڈیوں کے پیچھے بھاگے گا۔۔۔”

“بدمعاش! غدارِ وطنِ عزیزِ اسرائیل!”

“بدمعاش ودمعاش۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں پارسا ہوں۔۔۔ میں وہ سب کرتا ہوں جو میرے بس میں ہے۔ تو اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ بر سبیل تذکرہ، آپ دوبارہ شادی کیوں نہیں رچا لیتے؟ آپ ابھی صحتمند ہیں۔۔۔ میں آپ کو کسی غیر یہودی عورت کے ساتھ ایک منٹ کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”

ربی بیرش ذراسا جز بز ہوا۔ وہ اپنی مٹھی میز پر رکھے ہوئے۔۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے اپنی ڈاڑھی سے روٹی کے ریزے نکالنے لگا۔

“بکواس! تم عورتوں کے بارے نہایت گھٹیا باتیں کرتے رہتے ہو۔ لیکن میری فائیگے مالکے ، خدا اسے اپنے جوار رحمت میں رکھے، ایک پاکباز عورت تھی۔ وہ کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتی تھی۔ وہ بالکل میری ماں اور میری دادی کی طرح تھی۔۔۔ تمہیں پاکباز عورتوں کا کیا پتہ جوان آدمی۔۔۔ وارسا میں قاتلوں نے ایک معزز عورت کو سولی پر چڑھا دیا۔ وہ ایک میر محلہ کی بیوی تھی، ایک پاکدامن بی بی تھی۔ جب اسے دار کی طرف گھسیٹا جا رہا تھا، انہیں ڈر تھا کہ کہیں اس کا لباس اس کے گھٹنوں سے ہٹ نہ جائے اور اس کی بے پردگی نہ ہو جائے۔ تو اس نے اپنا لباس ایک سوئی سے اپنی ٹانگوں میں پیوست کر دیا۔ اور اسی طرح سے اسے سولی پر لٹکایا گیا۔”

“کیا آپ اس وقت وہاں موجود تھے؟”

“دوسرے لوگ وہاں تھے۔ میری خالہ ڈیبرا جو صرف 23 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھی، لیکن پھر دوبارہ کبھی شادی نہیں کی۔ انہیں ایک دولت مند آدمی کے ہاں سے پیغام آیا لیکن وہ بولیں کہ میں اپنے زورخ کے لیے پاک و خالص باغِ فردوس میں پہنچوں گی۔۔۔”

“تو کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اب وہاں اس کے ساتھ ہے؟”

“جی ہاں، مجھے یقین ہے۔۔”

“زورخ وہاں نہیں ہے، اور نہ ہی وہ ہے۔ ان کی باقیات سوائے خاک کی ڈھیر کے اور کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے لاحاصل دکھ جھیلے ہیں۔ مارِس مَیلنِک کا کہنا تو یہی ہے۔ ہمارے شہر میں ایک امیر آدمی تھا، ربی زدوک، ایک عالم۔ وہ مر گیا اور اپنی بیوہ کے لیے بڑا ترکہ چھوڑ گیا۔ آدھا سال گزرا اور اس نے ایک چازکیلی سکاب نامی ایک جاہل قصاب سے شادی رچا لی۔ وہ قصاب کے تختے پر اس کے عشق میں مبتلا ہو گئی تھی۔”

“ہاں، ہر چیز ممکن ہے۔”

“ہر چیز ہی فرسودہ ہے۔”

مَیلنِک خاموش ہو گیا۔ وہ ایک چمچہ لے کر اسے ایک رکابی کے کنارے پر ٹکانے کی کوشش کرنے لگا۔ چمچہ جھول کر ہتھی کی طرف جھکنے لگا۔ مارس مَیلنِک نے جلدی سے نمک کی ایک چٹکی چمچے میں ڈال کر توازن برقرار رکھنا چاہا۔ اس نے اپنے نچلے ہونٹوں کو دانتوں میں دبایا اور اس کی ایک آنکھ چوڑی ہوتی گئی۔ اس نے دوسری آنکھ کو موند لیا جیسے وہ آنکھ مار رہا ہو۔ ایسے لگا جیسے کہ وہ کوئی فال نکال رہا تھا کہ جونہی چمچہ گرے گا اس پر دنیا کے حالات کی حقیقت منکشف ہو جائے گی۔

ربی بیرش نے ایسے سر ہلایا جیسے کہ وہ ایک پرانی کہاوت سے اتفاق کر رہا ہو، جس کی صداقت پر اگرچہ کوئی بھی شبہ کر سکتا ہو لیکن وہ کسی کو بھی افسردہ کر سکتی ہو۔ اس نے اپنی ڈاڑھی کے بالوں کا ایک گچھا اٹھایا اور اس کا جائزہ لینے لگا، یہ تصدیق کرنے کے لیے کہ وہ سفید ہو چکا ہے۔ پھر اس نے کہا:

“ایک کیڑا جو کچرے میں گڑا ہوا ہو، اسے کیا پتہ ہو گا کہ عالیشان مکانات، محلات اور باغات کیسے ہو سکتے ہیں؟ ایک کہاوت ہے: دیوار میں گھسا کھٹمل ناچ کی محفل میں شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ دنیا کے بارے میں لاکھ بک بک کرتے رہیں، لیکن ستاروں، کواکب اورالہامات سے بھرا ہوا فردوس تو اپنی جگہ ہے ہی۔ فرشتے، سِرافیم، مقدس رَتھیں بھی تو ہیں۔ ان کے مقابلے میں یہ دنیا خاک کا ایک ذرّہ بلکہ اس سے بھی حقیر شے ہے۔ کچھ مقدس شرارے ہیں لیکن آنکھ سے اوجھل ہیں۔ کبھی کبھار کیچڑ میں بھی ہیرا مل جاتا ہے۔ اس سب کچرے کے بیچ میں کوئی بال‌شیم، کوئی ربی ایلی ملیخ، کوئی باردیختیور، کوئی کوتزیکر بھی مل جائے گا۔ وہ سب کہاں سے آئے؟ میرے دادا ربی خائم خود ایک ولی تھے۔ پچاس سال تک ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتے رہے۔ ہر روز نیم شب اٹھ کر وہ بیت المقدس کی تباہ کاری کا ماتم کرتے تھے، گرما ہو کہ جاڑا۔ اپنی آخری دمڑی تک انہوں نے خیرات کر دی۔ یہ سب میری آنکھوں دیکھی باتیں ہیں۔”

ربی بیرش اپنے عبائے کے سینے پر ہاتھ مارنے لگا۔ اس کا چہرا لال ہو گیا اور ڈاڑھی لرزنے لگی۔ پھر وہ بولا، “تم گمراہ ہو، مَیلنِک صاحب۔ جو بھی ہو ایک آدمی کے دکھی لمحوں میں اس کا محاسبہ نہیں کیا جا سکتا۔ چلیے اب مجھے کھانے کے بعد کی دعا پڑھنے دیجیے۔۔”

اس نے ایک گلاس سے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور میز پوش سے پونچھنے لگا۔ پھر بہ آواز بلند قرأت کرنے لگا:

“تو رحمٰن و رحیم ہے، اے مالک، ہمارے خدا، بادشاہِ کائنات، جو اپنی ربوبیت سے ہمیں رزق عطا کرتا ہے، خلوص و محبت کے ساتھ۔۔۔”

اسی لمحے میں وہ چھوٹا چمچہ پلیٹ میں گر گیا۔ مورِس مَیلنِک کی زرد آنکھیں قہقہوں سے بھر گئیں۔ وہ اٹھ کر دروازے تک گیا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوا: بس اب جا کے دیکھتے ہیں کہ عورتیں کیا کر رہی ہیں۔۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(انگریزی میں یدش کا ترجمہ مصنّف نے بذاتِ خود کیا ہے )
آیزک بشیوِش سِنگر جو متعدد ناولوں، افسانوی مجموعوں اور بچّوں کی کتابوں کے مصنف تھے، ۱۹۹۱ میں ان کا انتقال ہوا۔

Categories
شاعری

برتولت بریخت کی نظمیں (مترجم: بکل دیو)

ادھر برتولت بریخت کی نظموں کے کئی ترجمے پڑھنے میں آئے۔ ان نظموں کو سیدھے طور پر ترجمہ کہا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں ایک قسم کی موزوں ترجمانی کہنا زیادہ ٹھیک رہے گا۔ بریخت کی نظم کا اصل تاثر گرفت میں لے کر میں نے یہ کوشش کی ہے کہ کوئی اردو شاعر اگر اس قسم کے خیال سے دوچار ہوتا تو اس کا رد عمل کیا ہوتا؟ اردو کی جو کلاسیکی شعری روایت ہے، جو تہذیب ہے، جو آہنگ ہے، جو زبان ہے، اس میں ڈھلنے پر وہ خیال کیسا لگتا۔

ان پانچ نظموں میں سے چار کے ساتھ اصل نظم کے انگریزی تراجم بھی دیے گئے ہیں۔

دیکھا جائے تو لغوی معنوں میں یہ نظمیں بھلے ہی ترجمہ نہ ہوں، لیکن خیال کی سطح پر ترجمہ ہی ہی ہیں۔ اور خیال کی سطح پر ترجمہ ہونے کے بعد بھی ان کا اپنا اسلوب ہے، اپنی زمین ہے۔

 

[divider]نہیں ۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے[/divider]

[column size=one_half position=first ]

نہیں ۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے

زمیں کو سر کرنا چاہتا تھا
تیمور کوئی
سنا ہے میں نے

عجیب لگتا ہے شغل ایسا
کہ ہم زمیں کیا
بھلا بھی سکتے ہیں آسماں کو
ذرا سی مے سے

نہیں۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے

مگر کروں کیا
کہ میں نے دیکھے ہیں فرد ایسے
جو صرف ہونے پہ خوش تھے اپنے

ذرا توقع کے مستحق ہیں
وہ لوگ سارے
تمام دشواریوں کے ہوتے
جو جی رہے تھے
جو جی رہے ہیں

میں سوچتا ہوں
عظیم ہونا بھی شاپ ہے کیا؟

کہ میں نے دیکھا ہے اکثر اکثر
عظیم لوگوں کو
متفق جو نہیں تھے خود سے

دروں میں جن کے کوئی خلا تھا
خلا جسے بھرنے کی قواعد کو لوگ عظمت پکارتے ہیں

اک ایسی عظمت
کہ جس میں سگریٹ کا کش بھی لو تو
سکوں نہ آئے

کہ جس میں ہاتھوں میں جام ہو پر
نہ درد کم ہو نہ لطف آئے

کہ جس میں محبوب کی جبیں پر
نظر پڑے تو
کسی علاقے کی کوئی سرحد
ابھرتی جائے ابھرتی جائے

کوئی بتائے
کہ ایسی عظمت کا مول کیا ہے؟

نہیں۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے
[/column][column size=one_half position=last ]

I’M Not Saying Anything Against Alexander

Timur, I hear, took the trouble to conquer the earth.
I don’t understand him.
With a bit of hard liquor you can forget the earth.

I’m not saying anything against Alexander,
Only I have seen people who were remarkable,
Highly deserving of your admiration
For the fact that they were alive at all.

Great men generate too much sweat.
In all of this I see just a proof that
They couldn’t stand being on their own
And smoking and drinking and the like.
And they must be too mean-spirited to get
Contentment from sitting by a woman.

[/column]

[divider]آنے والی نسلوں کے لیے[/divider]

[column size=one_half position=first ]

مجھے یہ اعتراف ہے
کہ اب مفر کی راہ بھی نہیں بچی
مجھے یہ اعتراف ہے
کہ دل میں اب امید تک نہیں رہی
مجھے یہ اعتراف ہے
میں اپنی غلطیاں بھی خرچ کر چکا
مجھے یہ اعتراف ہے
میں مر چکا میں مر چکا میں مر چکا

سو میری اور سے بیاں ہے آخری
خلا ہمارا ہمقرآں ہے آخری

[/column]

[column size=one_half position=last ]

Future generations

I confess this:
I have no hope.
The blind talk about an escape.
I see.
When the errors are consumed
The nothing will sit next to us as our last companion.

[/column]

 

[divider]شیطان کا مکھوٹا[/divider]

 

[column size=one_half position=first ]

ایک نقاشی ٹنگی ہے
گھر کی اک دیوار پر

اور نقاشی
مکھوٹا ہے کسی شیطان کا
سرخی  مائل سونے کا پانی چڑھا

اور میں حساس دل
تکتا ہوں ہمدردی سے
اس کے ماتھے کی نسیں
پھولی ہوئیں ابھری ہوئیں

اور پھر یہ سوچتا ہوں
کتنا مشکل ہے
جہاں بھر کے اندھیرے کا کوئی عنوان ہونا

سخت اذیت
سخت اذیت کن ہے اک شیطان ہونا

[/column]

[column size=one_half position=last ]

On my wall hangs a Japanese carving,
The mask of an evil demon, decorated with gold lacquer.
Sympathetically I observe
The swollen veins of the forehead, indicating
What a strain it is to be evil.

[/column]

 

[divider]سامان مسرت[/divider]

[column size=one_half position=first ]

صبح کی پہلی کرن باد صبا
پربتوں پر برف کی اجلی قبا

موسموں کے رنگ ان کی آب و تاب
طاق پر مل جائے اک کھوئی کتاب

سگ کا سستانا گلی کی دوب پر
شاعری سے گفتگو اسلوب پر

صبح دم اخبار گرنا صحن میں
کوئی جملہ کوندھ جانا ذہن میں

راستے میں اک گھنے برگد کی چھاوں
خوش ترک اور مخملی جوتوں میں پاوں

جھانکنا بٹوے سے اک تصویر کا
یک بہ یک کھل جائے مصرع میر کا

ہوکے گم پھر کھوجنا جنگل میں راہ
گنگنانا نظم اپنی گاہ گاہ

کوہ سے گرتا ہوا اک آبشار
اک پرانے گیت میں بجتا ستار

دل سے بھی دنیا سے بھی منسوب ہیں
ہم کو سامان مسرت خوب ہیں

[/column]
[column size=one_half position=last ]

Pleasures

First look from morning’s window
The rediscovered book
Fascinated faces
Snow, the change of the seasons
The newspaper
The dog
Dialectics
Showering, swimming
Old music
Comfortable shoes
Comprehension
New music
Writing, planting
Traveling
Singing
Being friendly

[/column]

 

[divider]پامالی کا حسن[/divider]

پیتل کا گلدان پرانا
جس پرکھڈا پڑا ہواہے
میز سے گرجانے کے باعث
جس کی کوریں گھسی ہوئی ہیں

ایک شکستہ بت
ایسا بت
جس کے بازو کٹے ہوئے ہیں
اور ڈھائے جانے پر بھی
جس کی آنکھیں چمک رہی ہیں

ان گن ہاتھوں سے گزرے یہ

چمچ کانٹے چھری پتیلے
مبہم مبہم نقش ہیں جن پر
نرم پڑچکے جن کے ہتھے
ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہیں

آئینہ تمثال ہو چکا
گھاٹ کے زینے کا اک پتھر
ہنستے ہنستے
دھوپ کو جیسے ٹھیل رہا ہے

ایک قدیم عمارت جس کو
کھنڈر کہیں تو ٹھیک رہے گا
کھنڈر کہ جس نے
شکل بنا رکھی ہے ایسی
جیسے اک تصویر مکمل ہونا چاہے

کب سے ہے یہ کیفیت جو
خبر نہیں ہے
لیکن سچ ہے
اک عرصے سے

اشیا جو پامال ہوچکیں
مجھ کو وہ احساس سکوں ہیں
منظر جو ویران ہوچکے
ساماں ہیں تسکین نظر کا

کار نمو سے اوب چکا میں
ایک چٹان سے پیٹھ ٹکائے سوچ رہا ہوں

پامالی کا اپنا حسن ہوا کرتا ہے
پامالی کے ضبط پہ دنیا ٹکی ہوئی ہے

Categories
فکشن

سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)

[blockquote style=”3″]

1999 میں جب بیسویں صدی رخصت ہو رہی تھی اور کرہ ارض کے باسی نئی صدی کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، زرتشت کے سرزمین سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ شیرین نظام مافی بھی بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے ابھرتے سورج کی سرزمین پہنچ گئی۔ کوبے یونی ورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میں داخلہ لیا، یونی ورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ جاپانی زبان میں اتنی استعداد حاصل کر لی کہ اس کی ادب تخلیق کرنا شروع کر دیا۔ 2006 میں جاپان میں مقیم غیر ملکی طالب علموں کا ادبی انعام حاصل کیا۔ 2009 میں بنگاکیکائی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی وہ دوسری غیر جاپانی اور مشرق بعید سے تعلق نہ رکھنے والی پہلی مصنفہ ہیں۔

[/blockquote]

مسٹر تناکا نے ‘درخواست برائے ملاقات’ کے دو فارم پر کیے اور استقبالیہ کھڑکی میں جمع کرائے۔ چند منٹ بعد ہمارے سامنے لوہے کا ایک دروازہ کھلا اور پولیس کا ایک لمبا تڑنگا، ہٹا کٹا سپاہی نمودار ہوا، اس کا جسم اتنا گٹھیلا تھا جیسا کسی جاپانی کا ہونا چاہیے۔ اس کی مچھلیاں اس کی وردی میں پھنسی ہوئی تھیں۔

وہ بولا، “اس طرف آئیے۔”اس نے دروازے کی دوسری جانب ہماری راہ نمائی کی، پھر خود بھی اس جانب آیا اور دروازے کو تالا لگا دیا۔ ہم نے خود کو ایک طویل تاریک راہ داری میں پایا۔ دونوں جانب آہنی دروازوں کا سلسلہ تھا، جس میں کہیں کہیں چھوٹی کھڑکیاں تھیں، اگرچہ دن کا پہلا پہر تھا، لیکن بہت کم روشنی یہاں تک پہنچ پاتی تھی، جس کے نتیجے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ تاہم کہیں کہیں لگے ہوئے چھوٹے بلب صرف اتنی روشنی مہیا کرتے تھے کہ ہم صرف راستہ دیکھ سکتے تھے۔ یہ راہ داری رات کے وقت کسی ڈراؤنی فلم کی طرح اچھی خاصی خوفناک ہوتی ہو گی۔

جسیم سپاہی ہمیں راہ داری سے ملحق ایک کمرے میں لے گیا۔ کمرے کی دیواروں پر بہت سے لاکرز نصب تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ اپنا سامان یہیں چھوڑ دیں۔ جس وقت ہم عمارت میں داخل ہوئے اس وقت بھی میرے بیگ کی تلاشی لی گئی تھی، ہم اپنے موبائل اور چابیاں وہاں جمع کروا آئے تھے، چناں چہ میں سمجھتی تھی کہ ہم تلاشی کے کسی اور مرحلے سے گزرے بغیر ملاقات والے کمرے یک پہنچ جائیں گے۔ مسٹر تناکا بدمزگی سے بڑبڑا رہے تھے۔ انھیں بغیر بیگ کے کئی فائلیں لے جانی تھیں، جو کافی مشکل کام تھا۔ ناگواری سے تلملاتے ہوئے انھوں نے اپنا بیگ خالی کیا۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میرے بیگ کی تلاشی لی جائے گی تو اس میں کاسمیٹکس کا چمک دار گلابی پاؤچ یا نائلون کی اضافی جرابیں نہ لاتی۔ صرف یہی نہیں، نزلے سے میری ناک بَہ رہی تھی اور میرا بیگ استعمال شدہ ٹشوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ جس وقت سپاہی کی نظر ان پر پڑی، میں شرم سے پانی پانی ہو گئی۔

میں نے اپنا ضرورت کی اشیا، لغت اور قلم، اٹھائیں اور کمرے سے باہر آ گئی۔ مسٹر تناکا نے اپنا بیگ ساتھ لے جانے پر بہت اصرار کیا لیکن آخر میں انھوں نے اپنا بیگ لاکر میں رکھا، اپنا قلم اور چند موٹی فائلیں اٹھا لیں۔ ہم جسیم سپاہی کی معیت میں راہ داری میں مزید آگے بڑھے، جہاں پولیس کا ایک اور سپاہی نمودار ہوا، اس نے مسٹر تناکا کا استقبال کیا، ہمارے سامنے والا دروازہ کھولا اور ہٹ کر ایک جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ ہم اندر داخل ہو سکیں۔ مسٹر تناکا کے پیچھے میں بھی کمرے میں داخل ہوئی۔ ہمارے بعد جسیم سپاہی اندر آیا، دروازہ بند کیا اور نگرانی پر کھڑا ہو گیا۔

یہ کمرا نسبتاً اور چھوٹا اور باقی عمارت کی مانند تاریک تھا۔ شیشے کی ایک دیوار سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ کچھ زیادہ ہی چھوٹا لگتا تھا۔ شیشے کی دیوار کے ساتھ تین کرسیاں دھری تھیں۔ مسٹر تناکا نے ایک جانب کی کرسی منتخب کی، درمیانی کرسی خالی چھوڑتے ہوئے میں دوسری جانب بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد شیشے کی دیوار کے دوسری جانب والا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی کمرے میں داخل ہوا، اس نے سر خم کر کے ہمیں تعظیم دی، پھر واپس مڑا اور کسی کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔ اس کے پیچھے درمیانے قد کی ایک دبلی پتلی لڑکی، جس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ پرانے انداز کا ڈھیلا ڈھالا رنگین لباس پہنےہوئے تھی۔ مٹیالے رنگ کے ایک لمبے دوپٹے سے، جس پر چمک دار بیل کڑھی ہوئی تھی، اس نے اپنے بال سمیٹے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر مجھےکہیں دور پار کی خانہ بدوش عورت یاد آگئی، جو آپ کو صرف فلموں میں دکھائی دیتی ہے۔ سپاہی نے دیوار کی دوسری جانب موجود اکلوتی کرسی کی جانب اشارہ کیا اور دروازے کے پاس اپنی مخصوص جگہ لوٹ گیا۔ اب وہ ایک لفظ ادا کیے بغیر، گود میں ہاتھ دھرے، بت بنی، بیٹھی تھی، وہ ہمیں نہیں بلکہ نیچے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ بھی ہم سے آنکھیں نہیں ملائیں، حالاں کہ ہماری نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔

مسٹر تناکا نے کھنکھار کر اپنا گلا صاف کیا اور بات شروع کی۔

“سلام!” وہ دری زبان میں بولے تاکہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ میری نظر ان کے قدموں میں فائلوں کے ایک شفاف فولڈر پر پڑی۔ جس میں بچوں کا ایک رنگین تعلیمی ورق نظر آ رہا تھا، جس پر “ملکوں ملکوں خیر سگالی کے الفاظ” چھپے ہوئے تھے۔
لڑکی نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا، نگاہیں اٹھائے بنا نیچے دیکھتے رہی۔

مسٹر تناکا نے میری جانب دیکھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ترجمے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

“میں تناکا ہوں۔” کچھ تذبذب کے ساتھ وہ بولے، “یقیناً! تمھیں بتا دیا گیا ہو گا کہ یہاں میں تمھارا دفاع کرنے کے لیے آیا ہوں۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، چناں چہ ہمیں چاہیے کے ایک دوسرے سے مل کر کام کریں۔” خیر سگالی کا یہ خالص جاپانی انداز تھا۔ یہ الفاظ، جو وہ کہنا چاہتے تھے، کہنے کے بعد وہ مطمٔن نظر آنے لگے۔ وہ اپنی نشست پر مڑے اور مجھے دیکھا، لیکن جوں ہی میں نے ترجمہ شروع کیا، اچانک وہ، شاید خود سے مخاطب ہو کر “ارے، معاف کرنا” کہتے ہوئے، اپنی نشست سے اٹھے، اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے تعارفی کارڈ نکالا اور شیشے کی دیوار کے سوراخ سے دوسری جانب کھسکا دیا۔ ان کی اچانک حرکت پر وہ اپنی حیرت چھپا نہ سکی اور آنکھیں اٹھا کر اچٹتی ہوئی نظر ہم پر ڈالی۔

یہ صرف ایک لمحے کے لیے تھی، لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے میں لرز گئی۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں دھندلی اور ہر نوع کے تاثر سے محروم تھیں، جیسے ان کی چمک ختم ہو گئی ہو۔ وہ کسی پہلو سے زندہ انسان کی آنکھیں نہیں لگتی تھیں، کچھ ایسے، جیسے پلاسٹک سے بنی ہوں، ان میں کوئی تاثر نہیں تھا، کوئی حرکت نہیں تھی، اور میں سوچے بنا نہ رہ سکی کی کیا وہ ان آنکھوں سے دیکھ بھی سکتی ہے۔

“پلیز!”

مسٹر تناکا کی آواز سے میں اپنے آپ میں لوٹ آئی۔ جب انھوں نے میری جانب دیکھا، میں نے آہستہ آہستہ ان کے الفاظ کا ترجمہ شروع کیا، تاکہ اسے میرا تلفظ سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔

اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا۔ میرا خیال تھا، ایک لمبے عرصے کے بعد دری سُن کر وہ خوش ہو گی لیکن اس نے کوئی دل چسپی ظاہر نہ کی۔ مسٹر تناکا نے مشکوک نظروں نے مجھے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔

“مل کر کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے سب سوالوں کا جواب دو۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں پوچھنی ہیں، ممکن ہے یہ سب تمھارے لیے مشکل ہو، لیکن یہ تمھارے فائدے کے لیے ہے۔ اس لیے کوشش کر کے جواب دو۔”

اب بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مسٹر تناکا نے ٹیڑھی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے دھیمی آواز میں احتجاج کیا، “جو آپ نے کہا، میں نے وہی ترجمہ کیا۔”

اس نے ایک ہاتھ میں مٹیالے دوپٹے کا پلو پکڑا اور اسے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے گرد لپیٹنے لگی۔ دھوپ سے جھلسائے ہوئے، جھریوں والے کھردرے ہاتھوں کی انگلیوں کی جلد پھٹی ہوئی تھی۔ اس کے چھوٹے ناخنوں کے سرے مٹی بھرنے سے سیاہ ہو چکے تھے۔ یہ ہاتھ کسی ایسے فرد کے تھے، جس نے کبھی ہینڈ کریم کا نام نہیں سنا تھا۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھے یا مسٹر تناکا کو نہیں سُن رہی، ان کا تعارفی کارڈ اس کی توجہ سے محروم وہیں پڑا ہوا تھا۔ مسٹر تناکا نے اپنے شفاف فولڈر سے کاغذات کا ایک پلندہ نکالا اور سوالات کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔
“تمھارا نام کیا ہےَ؟”

میں نے اس کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ کیا۔ مختصر خاموشی کے بعد اس نے جواب دیا، “لیلیٰ۔” اس کی مشکل سے سنائی دینے والی آواز حیرت انگیز حد تک خشک اور بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یونی ورسٹی کے طالب عملوں کے لیے یہ کتنی دل فریب اور ہیجان خیز ہو گی۔ جوں ہی انھوں نے اس کا جواب سنا، مسٹر تناکا اس کی طرف جھکے، خوشی سے اسے دیکھا، پھر اپنے کاغذات کی جانب متوجہ ہوئے۔ انھوں نے دوسرا سوال کیا تو ان کے پرجوش لہجے سے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے ان کی بیٹری چارج ہو گئی ہو۔

“تمھارا خاندانی نام کیا ہے؟”
“غلام علی۔”
“تمھاری پیدائش کب ہوئی؟”
“گرمیوں میں۔”
“میرا مطلب ہے۔ تاریخ یا سال۔۔۔” انھوں نے میری جانب دیکھا۔ سیدھے سادے الفاظ “تاریخ پیدائش” کا دری متبادل میرے ذہن سے نکل گیا۔ میں نے جلدی جلدی لغت میں، جو میں بیگ سے نکال کر لائی تھی، اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیا۔ جب مجھے وہ لفظ مل گیا، میں نے مسٹر تناکا کا سوال دہرایا۔ میں نے لغت بند کر کے اپنی آنکھیں اٹھائیں تو اسے حیرت سے اپنی جانب تکتے پایا۔ شاید میرا الفاظ تلاش کرنے کا عمل اس کی دل چسپی کا باعث تھا۔ ہماری نظریں ٹکرائیں تو خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

“مجھے معلوم نہیں۔ میری ماں نے صرف اتنا بتایا ہے کہ میں گرمیوں میں پیدا ہوئی تھی۔”

لیلیٰ نے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اس کے خوب صورت نقوش والے چہرے جلد دھوپ سے جھلسائی ہوئی تھی۔ وہ بولی تو اس کی آنکھوں اور دہانے کے گرد جھریاں نمایاں ہو گئیں۔ وہ جوانی کی حدود میں داخل ہو رہی تھی لیکن اس کی جلد تیس سال کی نظر آتی تھی۔ اس کی عمر زیادہ نہیں تھی مگر اس کی خشک جلد کسی ادھیڑ عمر محنت کش عورت سے زیادہ کھردری تھی۔

مسٹر تناکا متذبذب نظر آئے۔ “کیا تم جانتی ہو، تمھاری عمر کیا ہےَ؟”
اس نے اپنی بھویں اچکائیں۔ “سترہ یا شاید اٹھارہ سال۔”
“کون سی؟”
مسٹر تناکا اس بات پر مایوس دکھائی دیئے کہ ایسی لڑکی کا دفاع کیسے کریں، جو اتنا بھی نہیں جانتی کہ اس کی عمر کیا ہے۔
مجھے پَتا نہیں۔ میرے بھائی کا کہنا ہے، میں سترہ سال کی ہوں لیکن ماں نے ہمیشہ ایک سال زیادہ بتایا۔

پریشان ہو کر مسٹر تناکا نے دروازے کے سامنے کھڑے سپاہی کی طرف دیکھا، جیسے اس سے مدد مانگ رہے ہوں۔ سپاہی یقینی لہجے میں بولا۔ “بہت سے لوگوں کو اپنی عمر کا علم نہیں ہوتا۔ ان کے پاس کوئی مصدقہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نہیں ہوتا۔”
“اچھا! میں کیا کر سکتا ہوں؟”

مسٹر تناکا نے ایک ہاتھ سے اپنا سر پکڑ لیا، پھر تھوڑا سا جھکے، دوسرےہاتھ سے اپنے ٹراؤزر کی جیب سے دستی تولیہ نکالا اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔

“اس قدر محتاط ہونے کی ضرورت نہیں، سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔” سپاہی جو اس نوع کے جوابات کا عادی تھا، کہنے لگا۔
“اچھا! تو سترہ لکھوں یا اس کی ماں کی مانوں اور اٹھارہ لکھوں؟”
انھوں نے اپنے سامنے رکھے کاغذ پر کچھ لکھاَ۔
“تمھاری پیدائش کہاں ہوئی؟”
“مزار شریف۔” اس نے مشکل سے سنائی دینے والی آہستہ آواز میں جواب دیا۔
“مزار۔۔۔” یقیناً، تم کٹھن حالات سے گزری ہو گی؟”
مسٹر تناکا نے اپنے کاغذات پر نظر ڈالی۔
“تم ہزارہ ہو۔ کیا ایسا نہیں؟”
وہ سمٹی، تھوڑی دیر ایک لفظ بولے بغیر اقرار میں سر ہلایا۔
“ٹھیک۔۔۔” مسٹر تناکا بڑبڑائے۔
“تمھارے والدین کہاں ہیں؟”
اس نے فرش کی جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ “ماں مر چکی ہےَ۔”
“اوہ! بڑا افسوس ہوا۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے۔”
اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے وہ ہم دردی کے دو لفظ ادا کرنا نہ بھولے۔ پھر وہ کچھ بڑبڑائے، جس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
“اور تمھارے والد؟”

میں سوال کا ترجمہ کیا تو لیلیٰ نے اچانک نظریں اٹھائیں اور اپنی پراسرار خالی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس رنگ کی آنکھیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ انھیں نہ تو بھورا کہا جا سکتا تھا اور نہ ہی کالا، البتہ اس کے بالوں کے گرد لپٹے مٹیالے دوپٹے کا عکس کہا جا سکتا ہے۔

مسٹر تناکا نے اس کی تشویش کو بھانپ لیا اور تیزی سے کہنے لگے، “تم تو جانتی ہو، ہم دوست ہیں۔ ہم یہاں تمھاری مدد کے لیے ہیں۔ اس لیے مجھے کچھ بتاتے ہوئے نہ گھبراؤ۔”

ترجمہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں بھی دوستوں کے اس حلقے میں شامل ہوں، جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ایک بے کار طالب علم اور ایک ٹھس وکیل، جو ہاتھوں کو ملائم کرنے والی کریم سے ناآشنا اس لڑکی کے دوست ہیں۔

” پاکستان میں ہیں۔”
اس نے اپنی انگلیوں کے درمیان مٹیالا کپڑا لپیٹنا چھوڑ دیا لیکن چمک سے محروم، بے حرکت، خالی آنکھوں سے وہ اب بھی کہیں دور دیکھ رہی تھی۔
“کس لیے؟”
“مجھے معلوم نہیں۔”
“وہ کیا کرتے ہیں؟”

لیلیٰ نے سر جھکا لیا۔ چند منٹ تک کوئی نہ بولا۔ظاہر ہے، وہ اپنے باپ کے بارے میں کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ مسٹر تناکا نے گہری سانس لی۔

“جب تک تم وہ سب نہیں بتاتیں، جو تم جانتی ہو، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”
اس نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہ کیا۔ یقینی طور پر اس نے طے کر لیا تھا کہ اپنے باپ کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔
“تمھارے کوئی بھائی بہنیں ہیں؟”
باپ کو چھوڑ کر مسٹر تناکا موضوع بدل چکے تھے۔
“مجھ سے بڑے دو بھائی ہیں۔”
“اب وہ کہاں ہیں؟”
“ایک مر چکا ہے۔ دوسرا والد کے ساتھ ہے۔”
“اوہ! بہت افسوس ہوا۔ کیا تم بتا سکتی ہو، اس کی موت کیسی ہوئی؟”
“جنگ میں، بم کا ایک ٹکڑا اس کے سر پر لگا تھا۔ میں نے اس کی لاش نہیں دیکھی۔”
جس وقت میں اس کی بلا تاثر آواز میں سنائے گئےتلخ حقائق کا ترجمہ کر رہی تھی، میں نے اپنی ریڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈا پسینہ بہتا محسوس کیا۔
“تمھارا بھائی، والد کے ساتھ کیا کرتا ہے؟”
“وہ میرے والد کی مدد کرتا ہے۔”
“کیا کام کی تفصیل بتا سکتی ہو؟”
ایک مرتبہ پھر لیلیٰ کے کوئی لفظ ادا کیے بغیر کئی منٹ گزر گئے۔
مسٹر تناکا نے اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
“وقت ہو گیا ہے۔”

میں نے ان کی نگاہ کے تعاقب میں ان کی گھڑی دیکھی۔ اتنا وقت ہو گیا! دو گھنٹے گزر چکے تھے لیکن وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ ملاقات کے بارے میں جو ہمارا خیال تھا، اس طرح نہیں ہوا۔ مسٹر تناکا نے مجھے متنبہ کیا تھا کہ پہلی ملاقات ہمیشہ تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بہت سی معلومات حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔

عموماً لوگ پسند نہیں کرتے کہ وکیل ان سے سوالات کریں۔ آپ کو کسی ایسے شخص کے تابڑ توڑ سوالات کا سامنا ہوتا ہے، جسے حقیقت میں آپ نہیں جانتے۔ ان سوالات کا معین جواب درکار ہوتا ہے، جس کے لیے زبردست یاداشت ضروری ہوتی ہے۔ وکیل، جوتوں سمیت آپ کی نجی زندگی میں گھس جاتے ہیں، تاکہ ان معلومات کو حاصل کر لیں، جو عدالت کا متاثر کر سکیں۔ تاہم، آپ نے دیکھا، سوالات اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں کوئی معاملہ نجی نہیں رہتا۔ وکیل نے موکل کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ سوالات کا جواب دیتا ہے، مگر وہ کبھی دل کی بات نہیں بتاتا۔ یقیناً مسٹر تناکا اپنے کام کو سمجھتے اور یہ جانتے ہوں گے کہ انھیں اپنا کام شائستگی سے کرنا ہو گا، تاکہ ان کی موکل اپنے ہاتھ باندھ کر سر ہلاتے ہوئے، منہ بند نہ کر لے۔ انھوں نے مجھے کہا تھا:

“ہم انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں، اس میں کچھ نوجوان اتنے غیر محتاط ہیں کہ اپنے موکل کی ذاتی معلومات اس کے سامنے کمپیوٹر پر ٹائپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ کتنے کٹھور اور سنگ دل دکھائی دیتے ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم موکل کے سامنے معلومات کا اندراج نہیں کرتا۔ اگرچہ بعد میں یاداشتوں کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے، البتہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ میں قیمتی وقت موکل کے ساتھ، دوستوں کی مانند، باتیں کرنے میں گزارتا ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ موکل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں۔ باتیں کرتے ہوئے موکل سے آنکھوں کے ذریعے رابطہ بہت ضروری ہے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو اس قابل ہوں گے کہ مخاطب کےچہرے کے تاثرات اور ردِعمل کو سمجھ سکیں۔ اس کے بعد ہی آپ ہر موضوع پر گفتگو کر سکیں گے۔”

حیرت انگیز طور پر مسٹر تناکا نےاس ملاقات سے قبل پرجوش آواز میں موکلوں کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طریقِ کار کے بارے میں بتایا تھا۔ مگر کیا یہ نسخہ شیشے کی دیوار کے اس پار اپنی نگاہیں جھکائے، انگلیوں کے گرد دوپٹے کا پلو لپیٹتی اس لڑکی پر بھی کار گر ہو گا؟
“آج میرے ساتھ بات کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ میرا ارادہ ہے اگلے منگل کے روز پھر چکر لگاؤں۔”
لیلیٰ سے بات کرتے ہوئے مسٹر تناکا نے اس کے عقب میں کھڑے سپاہی کی جانب دیکھا، جیسے تصدیق چاہ رہے ہوں، کیا یہ ٹھیک ہے۔
“بالکل! باہر ڈیوٹی پر موجود گارڈ کے پاس دراز میں اپنا نام اور وقت چھوڑ جائیں۔”
“شکریہ!” مسٹر تناکا اٹھ کھڑے ہوئے اور کچھ بڑبڑائے۔
سپاہی نے لیلیٰ کو اشارہ کیا اور کمرے کا عقبی دروازہ کھولا۔ وہ ایک لفظ بولے بغیر کھڑی ہوئی اور ہمارے طرف دیکھے بغیر دروازے کے پیچھے غائب ہو گئی۔

ہمارے پیچھے کھڑے سپاہی نے ہمارے دروازے کا تالا کھولا، تھوڑی دیر بعد ہم اس امانت خانے میں تھے، جہاں ہم پہلے آئے تھے۔ ہمارے موبائل اور چابیاں میز پر موجود تھیں۔ ہم نے اپنا سامان وصول کیا اور رجسٹر پر رسید دی۔ مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن تک پہنچانے کی پیشکش کی۔ ہم دونوں عمارت سے اکٹھے نکلے اور ان کی کار میں بیٹھ گئے۔باہر نکلنے سے قبل صدر دروازے پر آخری مرتبہ تلاشی کے مرحلے سے گزرے۔ جہاں عقبی آئینے میں ہمارے پیچھے دیوار پر چمک دار روشن حروف میں کندہ “بارڈر ایجنسی” کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔

مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن چھوڑا لیکن میں اسی وقت گاڑی میں سوار نہیں ہوئی۔ دن کے باقی حصے میں میری کوئی مصروفیت نہیں تھی۔ اس کا مطلب نہیں کہ میں جو چاہے کر سکتی تھی، لیکن میں واپس یونی ورسٹی نہیں جانا چاہتی تھی۔ مجھے تو بس بارڈر ایجنسی سنٹر کے کے باہر تازہ ہوا میں سانس لینے کی طلب تھی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا چناں چہ سٹیشن کے وسیع شاپنگ مال میں لوگوں کا ہجوم تھا، طالب علم جو اپنی کلاسز سے جلد فارغ ہو گئے تھے، دیہاڑی دار جن کے پاس جن کے پاس کرنے کچھ زیادہ نہیں تھا اور نوکری پیشہ افراد کھانے کے ٹھکانے دیکھ رہے تھے، خانہ دار خواتین سپر مارکیٹ میں سودا سلف خرید رہی تھیں۔

صرف چند میل دور واقع تاریک، خوف ناک بارڈر ایجنسی سنٹر کی دنیا یہاں سے بالکل مختلف تھی۔ مصروف سٹیشن، روشن اور فراخ مصروف تھا، جس میں ایک چھوٹا باغیچہ اور پلے ایریا بھی تھا۔ ہر جانب مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرانے والے اسکولوں اور انگریزی سکھانے والےکالجوں کے اشتہارات لگے ہوئے تھے۔ مختلف اقسام کے اتنے اسکول کہ یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر کوئی ایسی لڑکی ہےجو اپنی مادری زبان بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتی۔ وہاں ایزاکائس ، کراووک بار اور وڈیو گیمز سنٹر کے بورڈ آویزاں تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں لیلیٰ نے سنا تک نہیں تھا۔ اس نے تو کبھی ہینڈ کریم بھی استعمال نہیں تھی۔

میں ایک چھوٹی کافی شاپ میں گھس گئی، کافی کا آرڈر دیا اور کھڑکی سے قریبی نشست پر بیٹھ گئی۔ بھنی ہوئی کافی کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ کافی اتنی گرم تھی کہ اس وقت گھونٹ بھرنا مشکل تھا، اس کے تھوڑا ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتے ہوئے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہاں پرسکون ماحول میں بیٹھے ہوئے میں حقیقت کی دنیا میں واپس پہنچ گئی۔ حقیقت کی وہ دنیا، جہاں میں ایک خوش حال ملک میں رہ رہی تھی۔ میں نے کافی کا مگ اٹھایا اور اسے اپنے ہونٹوں کے قریب لائی۔ اس کی مہک لاجواب تھی۔

Categories
شاعری

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے
ایک عورت کو بس
سانس لینا ہی کافی نہیں
اس کو لازم ہے وہ
کوہساروں کی آواز سنتی ہو
نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو
اسے علم ہو
وہ زن باد شب
جانتی ہو کہ
کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے
کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے
یہ سب
یہ سارا کچھ
اس کو معلوم ہو

اس کو لازم ہو
وہ جانتی ہو
اسے سب خبر ہو
مجھے دیکھو
میں بھی وہی ہوں
زن باد شب
لیکن اس آگ کو
میں نے کیسا چراغوں میں ڈھالا ہے
کس طرح اب میری آواز کی
گونج ان بے کراں وسعتوں میں فضاؤں کی

سنو
میں بھی تم میں سے ہوں
کوئی تم سے الگ تو نہیں
مگر میں زن بادِ شب
نیلگوں آسمانوں کا ایک سلسلہ ہوں
میں اب
سینڈیا کے پہاڑوں کی آواز ہوں
ہاں میں وہی ہوں
وہی۔۔۔۔ وہ زن باد شب
ایک اک سانس میں اپنی جلتی تھی جو
Image: firelei baez

Categories
فکشن

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

[blockquote style=”3″]
محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ گو خوابوں میں اس کے خدوخال کچھ اتنے زیادہ صاف نظر نہیں آتے تھے، مگر اس کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اس پر حرارت اور راحت کی ایک فضا سی محیط رہتی۔ چنانچہ جیسے ہی مجھے موقع میسر آیا، میں نے اس کو فی الفور ایسے جھپٹ لیا جیسے میرا جینا اسی پرمنحصر ہو۔

خود میرے لیے یہ سودا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا مگر میری بیوی کے لیے یہ کچھ اتنا حیران کن تھا کہ وہ مارے خوشی کے اپنے آنسو ضبط نہ کر سکی۔ دراصل میں نے خالی خولی ہوائی قلعے کے بجاے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم کی گئی ایک نئی رہائشی بستی کے ایک خالی پلاٹ کے حقیقی بیع نامے کی شکل میں اپنی بیوی کی حیرت کا سامان کیا تھا، ورنہ پھر اس میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی۔

یہ اس دن کی بات ہے جس دن ہمارے بچوں، ہالہ اور ہشام، کی سالگرہ تھی۔ ہماری بیٹی کی عمر چار سال اور بیٹے کی تین سال تھی۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی ماہ کی تھی، گو تاریخیں جدا جدا تھیں، اس لیے ہم دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منایا کرتے تھے۔

اس دن گھر پہنچنے پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بھول گئے تھے کہ بچوں کی سالگرہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو، بھولا تو نہیں،‘‘ میں نے بےچینی کو چھپاتے ہوے آہستہ سے کہا۔
’’اب مجھ سے یہ نہ کہنا کہ تمھارے پلے کچھ بھی نہیں،‘‘ اس نے چھینٹا کسا۔
’’نہیں نہیں، میں قلاش نہیں ہوں۔‘‘

’’ایک وہ ہیں کہ کب سے تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے ان کے واسطے ایک پیاستر کی مٹھائی بھی لانا گوارا نہیں کیا،’’ اس نے میرے خالی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔

’’ان کو خالی خولی مٹھائیاں اور کھلونے دلانے سے اب میں بیزار آ گیا ہوں،‘‘ حیرت پیدا کرنے کی خاطر اس سے بہتر تمہید باندھنے میں ناکام ہو کر میں نے اپنی بغل میں دبا بڑا سا لفافہ نکالا اور بیوی کے حوالے کر دیا۔

’’میرا تحفہ اس لفافے میں ہے،‘‘ میں نے اسے بتایا۔ اس نے کاغذات نکالے اور ان پر نظر دوڑانے لگی، اور میں اپنی اس توفیق پر اتراتے ہوے اس پر نظریں گاڑے رہا۔ بیک نظر ان دستاویزات کی اصلیت کو پانے میں ناکام ہو کر اس نے سوالیہ انداز میں اپنا حسین چہرہ اٹھایا اور چیخی، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ان کے لیے ایک گھر،‘‘ میں نے مسکراتے ہوے کہا۔

ہشام پیچھے سے آیا اور میری ٹانگوں میں اپنا منھ دے کر دھیمے دھیمے ہنسنے لگا۔ میں نے جھک کر اس کو اٹھا لیا اور اپنی بیوی پر ہونے والے غیرمتوقع ردعمل سے بالکل بےخبر، اپنے بیٹے کو پیار کرنے لگا۔

اس پل کے بعد بیوی کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ حد یہ ہے کہ اس نے میری محبت کا وہ پرانا قصہ چھیڑا ہی نہیں جس سے وہ چند دن پہلے واقف ہوچکی تھی۔ پتا نہیں اس نے اسے بھلا دیا تھا یا جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔ بلکہ وہ تو نہایت نرم خو اور بشاش ہو گئی اور شاید ہی ہمارا کوئی عزیز یا جاننے والا بچا ہو جس کو اس نے یہ نہ بتایا ہو کہ ہم اپنا مکان بنانے جا رہے ہیں۔ اصل میں اس کو تو اب مکان کے سوا کوئی اَور بات کرنے میں لطف ہی نہیں آتا تھا۔

ایک دن ہم چاروں اپنا پلاٹ دیکھنے گئے، یعنی بقول اس کے ’’موقعے کا معائنہ کرنے۔‘‘ ہم پلاٹ کے ایک کونے میں جا کر کھڑے ہوے۔ وہ میرے پاس کھڑی مارے خوشی کے پھولی نہ سمارہی تھی۔ دونوں بچے قریب ہی خوش خوش دوڑیں لگا رہے تھے، شور مچا رہے تھے اور گردوغبار کے چھوٹے چھوٹے مرغولے اڑا رہے تھے۔

میری بیوی بتائے جا رہی تھی کہ مکان کس طرح کا ہو گا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے باربار دہرا رہی تھی: ’’ایک منزلہ ہو گا، ہے نا؟ جب بچے بڑے ہو جائیں گے تو ہم ایک منزل اور چڑھا لیں گے۔ ہم اس کو بڑے باغ سے گھیر دیں گے۔ اس کی دیکھ بھال میں خود کروں گی۔ میں اس کو پھولوں سے پاٹ دوں گی۔ تمھیں کس طرح کے پھول پسند ہیں جی؟ ہے نا ہنسی کی بات کہ پانچ برسوں میں میں یہ بھی نہ جان پائی کہ تمھیں کون سا پھول پسند ہے۔‘‘
’’مجھے چنبیلی پسند ہے۔‘‘

’’ہم باغ کو چنبیلی سے پاٹ دیں گے،‘‘ وہ چلّائی۔ پھر بولنے لگی، ’’شہر کے شور اور دھویں سے دور، اس قسم کے مکان کی رہائش بچوں کی صحت کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ میرے دادا کا منصورہ میں بہت پیارا سا گھر تھا۔ ایک ایکڑ کا تو باغ ہی تھا اس میں۔ ذرا سوچو! اور ہاں، اوپر کپڑے دھونے کے لیے کوئی جگہ ضرور نکالنا، اور ایک کمرہ ملازموں کے لیے بھی۔۔۔‘‘

’’ملازموں کے کمرے سے کیا مطلب ہے تمھارا؟‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ ’’میں نے تو اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دیے، اب میں تم سے درخواست کروں گا کہ اس کو فضولیات میں تو نہ بدلو۔‘‘
’’اچھا اچھا، اور گیراج؟ بنگلے میں گیراج تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’مگر میرے پاس کار کہاں؟‘‘

’’کبھی تو کار ہو گی۔ جو گیراج نہ ہو گا تو کہاں رکھو گے بھلا؟‘‘ اس نے پکار کر بیٹی سے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر آ جائے، اور پھر وہ خود تیکھا سا قہقہہ لگاتی بچوں کے پیچھے کسی کمسن لڑکی کی طرح دوڑیں لگانے لگی۔

ان تینوں کو پلاٹ کے بیچوں بیچ اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میرا دھیان بھٹک کر بہت دور نکل گیا اور پھر اسی وقت پلٹا جب میری بیوی پلٹ کر میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور دوبارہ اپنی باتیں کلی پھندنے لگا کر دہرانے لگی، اور میں اپنے دھیان میں کھویا ہوا تھا— نہیں، میں اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا تھا۔

زمان و مقام سے بہت دور مجھ کو ایک پرانا گھر یاد آ گیا۔ مقام تو تھا اسمٰعیلیہ؛ رہ گیا زمانہ تو اس کا اندازہ میں اپنی عمر سے لگا سکتا ہوں۔ میں اُس وقت آٹھ نو برس کا تھا۔ اس بستی میں ہمارا مکان تھا، معمولی سا ایک منزلہ مکان جس کے چہار اطراف ایک مختصر مگر خوبصورت سا باغیچہ تھا۔ بہرحال، اس میں ملازموں کے لیے کوئی کمرہ نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس ملازم ہی نہیں تھے۔ نہ ہی اس میں کوئی گیراج تھا کیونکہ میرے ابا نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ذاتی کار میں قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے باغیچے میں انگوروں کی ایک ٹٹی تھی، آم کے دو پیڑ تھے، لیموں کا ایک جھاڑ تھا، اور مرغیوں کے لیے ایک بڑا سا دڑبہ تھا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آیا کہ ابا کو گھر میں آئے ایک منٹ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کھرپی اٹھا کر باغیچے میں کام سے لگ جاتے تھے جس کی باڑھ چنبیلی کی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھ کو یہ یاد نہیں کہ ہم اس مکان کے مالک کب بنے تھے یا کب اس میں بودوباش اختیار کی تھی؛ پر اتنا یاد ہے کہ ابا کو اس پر بےانتہا ناز تھا اور میری امی اس کے ملکیت میں آنے کو ایک عظیم الشان تاریخی واقعہ سمجھتی تھیں، چنانچہ انھوں نے اس کو خود اپنی اور اپنے کنبے کی زندگی کے دیگر واقعات کا صحیح وقت متعین کرنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ کئی بار میں نے ان کو کہتے سنا، ’’جب ہم اس مکان میں اترے اس وقت فلاں پیٹ میں تھا‘‘، یا ’’جب ہم نے یہ مکان خریدا تو میرے میاں کی تنخواہ اتنی تھی‘‘، اور اسی طرح کی اَور باتیں جن کو یاد کر کے میں اب بھی مسکرا اٹھتا ہوں۔

مجھ کو اُس زمانے کے کوئی خاص واقعات تو اب یاد نہیں رہے، سواے اپنے ایک بھائی کی ولادت کے جو ہم سب میں پانچواں اور نرینہ اولاد میں تیسرا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر واقعات اتنے غیراہم تھے کہ انھوں نے میرے دماغ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا، لیکن مجھ کو یہ یاد رہا کہ جب شام ہو جاتی تھی تو ہمسایوں کی ٹولی میرے ابا سے ملنے آ جاتی تھی اور وہ سب باغیچے میں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر خوش گپیاں کیا کرتے تھے، جب کہ ہم بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے اور بادِ بہاری چنبیلی کی مہک سے بوجھل ہو کر نشے میں جھومتی پھرتی۔ ممکن ہے اس وقت ہمارے گھر میں سدا بہار ہی رہا کرتی ہو کیونکہ میں اب اس زمانے کو بغیر باغیچے کے ان کھیلوں اور چنبیلی کی خوشبو کے یاد ہی نہیں کر پاتا۔

پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے جنھوں نے گو ہماری زندگی کی یکسانیت کو یک دم درہم برہم نہیں کیا، اس وجہ سے وہ مجھ کو پوری تفصیل کے ساتھ تو مشکل ہی سے یاد آتے ہیں، ہاں ان کی مبہم سی بازیافت ہو جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ لفظ ’’جنگ‘‘ انھی دنوں کان میں پڑنا شروع ہوا تھا جو میرے لیے ایک نیا لفظ تھا اور اس وقت گھر میں لفظ ’’روٹی‘‘ کی بہ نسبت کہیں زیادہ استعمال کیا جانے لگا تھا۔ ہماری گلی کے بڑے بوڑھے بھی اب اس کو مستقل بولنے لگے تھے جب کہ میں اس کے معنی ہی نہیں جانتا تھا۔ اسی طرح کے اَور بھی کئی الفاظ تھے جو اجنبی اور مشکل ہونے کے باوجود، صرف تواتر سے بولے جانے کی بنا پر، مجھے ازبر ہو گئے— اتحادی، محوری، جرمن، ماژی نولائین اور نہ جانے کتنے، جو سب کے سب میرے لیے محض ایسے الفاظ تھے جو میرے کان میں پڑتے رہتے تھے۔

ابا اور ہمارے ہمسائے باغیچے میں بیٹھ کر انھی سب پر باتیں کیا کرتے اور باتوں ہی باتوں میں دو گروہوں میں بٹ جاتے۔ ایک انگریزوں کی فتح کا خواہاں ہوتا تو دوسرا جرمنوں کی کامیابی کا دعاگو۔ میرے ابا کا تعلق آخرالذکر گروہ سے تھا، اس لیے میں بھی جرمنوں کی کامیابی کی دعا مانگا کرتا۔ اکثر میں ابا کو کہتے سنتا: ’’جرمنوں کی فتح کا مطلب ہے انگریزوں کا مصر سے انخلا،‘‘ اگرچہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے چچا حسن کو یقین تھا کہ ’’اگر انگریزوں نے مصر خالی کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ جرمن اس میں گھس پڑیں گے۔‘‘ بزرگ اسی طرح دیر تک اپنی زوردار بحثابحثی جاری رکھتے جو ایک رات کو جہاں ختم ہوتی دوسری رات کو وہیں سے پھر شروع ہو جاتی۔ اِدھر ہم بچے کھیل کھیل میں دو ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، ایک انگریز تو دوسری جرمن۔ ظاہر ہے میں دوسری ٹولی سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم اپنی بچکانہ جنگوں میں جٹ جاتے جس کی وجہ سے آخرکار ہم سب ہانپتے کانپتے تھک تھکا کر چُور ہو جاتے تھے۔

جب سونے کا وقت ہو جاتا تو میں اپنے بستر میں جا گھستا اور کچھ دیر تک باغیچے سے آتی بزرگوں کی آوازیں سنا کرتا جن میں مَیں ابا کی آواز کو الگ سے پہچان لیتا۔ پھر لیٹے لیٹے اپنے ذہن میں جرمنوں کی صورت گری میں لگ جاتا۔ میرے تصور میں جرمن نہ تو انگریزوں کے سے ڈیل ڈول کے ہوتے اور نہ ان کی سی شکل صورت کے، بلکہ وہ مجھ کو ان سے کہیں زیادہ لمبے تڑنگے اور شان دار نظر آتے۔

ایک رات ہوائی حملے کا سائرن بج اٹھا۔ یہ بھی اس زمانے کی ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی۔ گلی کوچوں اور گھروں کی بتیاں بجھ گئی تھیں اور ہر سو گہری خاموشی سے بوجھل اندھیرے کی عملداری ہو گئی تھی۔ دروازوں پر آسیبی ہیولے سے جمع ہو گئے تھے اور چنبیلی کی تیز مہک گزری ہوئی راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھی۔

’’جرمن ہوائی جہاز!‘‘ ابا چلّائے۔ آسمان پر نظریں جمائے اور پوری توجہ سے کان لگائے میں اس بےہنگم بھنبھناہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا جو افق کے اس پار سے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آ رہی تھی۔

’’کیا وہ بستی پر بمباری کریں گے؟‘‘ میں نے دہشت زدہ ہو کر امی سے پوچھا۔

’’نہیں،‘‘ ابا نے ایک ایسے شخص کی طرح مطلع کیا جو اس قسم کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہو۔ ’’ہٹلر ایسا نہیں کرے گا۔ وہ تو بس انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

انگریزوں کی چھاؤنی ہمارے چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے گھیرے ہوے تھی، بلکہ تقریباً آ ملی تھی۔ ہم نے ہیبت ناک دھماکے سنے جنھوں نے مجھے نہیں یاد کہ ختم ہونے کا نام بھی لیا ہو۔ ایک ہوائی جہاز آسمان ہی میں پھٹ کر شعلۂ جوالہ بن گیا۔ پھر آسیبی ہیولے اپنی بھاری بھاری چاپ کے ساتھ ہجوم کرتے لوگوں کو یہ بتاتے ہوے گزرے کہ جہاز بستی کو برباد کیے دے رہے ہیں اور مشورہ دینے لگے کہ لوگ اپنے گھروں سے دور دور رہیں۔

آسیبی ہیولوں کے پرے کے پرے گرتے پڑتے گلی کوچوں میں نکل بھاگے۔ ہمارے والدین بھی اٹھ کھڑے ہوے اور ہم سب کو جلدی جلدی سمیٹ کر خوفزدہ ازدحام کے ساتھ اس صحرا کی جانب نکال لے گئے جو بستی کے شمال مشرق میں پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس پناہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی۔

وہ رات قیامت سے کم نہ لگتی تھی۔ ابا اس کو اسی طرح بیان کرتے تھے اور بعد میں امی بھی ان کے یہی الفاظ دہرایا کرتیں۔ لوگ وحشیوں کی طرح آپس میں دھکاپیل کر رہے تھے اور ننگے پاؤں اپنے گھر کے لباسوں میں اس گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ’’محسن، تم کہاں ہو؟‘‘، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘، ’’دروازہ لگا دیا تھا؟‘‘، ’’گھر کو جھونکو جہنم میں، جلدی کرو‘‘، ’’ابا، ذرا رکو تو!‘‘، اور کتے تھے کہ چہار جانب سے بھونکے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنے تین بھائی بہنوں کے ساتھ بھاگتے ہوے روتا بھی جا رہا تھا۔ اس گھنے اندھیرے میں آہ و بکا کرنے والوں میں بچوں کی اکثریت تھی۔

یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اس ابتری کی رات میں کتنی ساری خلقت نے اس صحرا میں پناہ لے رکھی تھی؛ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ تاریک راہگزار لوگوں سے اس طرح پَٹا پڑا تھا جیسے ہم سب کسی بزرگ کے عرس میں آئے ہوے ہوں، جیسا کہ چچا حسن نے زہرخند کے ساتھ کہا تھا: ’’شیخ ہٹلر کے عرس میں۔‘‘

’’زمین کھودنے میں میرا ہاتھ بٹاؤ!‘‘ ابا نے امی سے اس قسم کے امور کے کسی ماہر کے لہجے میں کہا تھا۔ ’’چلو بچّو، کھودو۔ حسن آفندی، اپنے بچوں کے لیے ایک خندق بنا لو تاکہ گولوں کے اڑتے ہوے ٹکڑوں کی زد سے محفوظ رہیں۔‘‘

ہم نے مل کر ایک بڑی سی خندق کھودی جس میں ابا نے ہم سب کو ٹھساٹھس بھردیا۔ اس دوران بستی پر پے در پے دھماکوں پر دھماکے ہوتے رہے اور آسمان پر بے ہنگم گھن گرج چھائی رہی۔ اوپر آسمان بجلی کی طرح وقفے وقفے سے روشنی کے جھما کے ہوتے رہے اور پھر ہوائی جہاز ہمارے اوپر منڈلانے لگے۔

’’بالکل ہمارے سروں پر آ گئے ہیں،‘‘ ابا چلّائے۔ امی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور ہم سب کو چھپا لینے کے لیے ہمارے اوپر اوندھ گئیں۔ ابا نے بھی یہی کیا۔ پورے صحرا میں لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے آوازیں گونجنے لگیں۔ جواب میں ان کو چپ کرانے کے لیے کچھ دوسری آوازیں بلند ہو گئیں۔

میں نے اپنی گردن اچکا کر سر اوپر کو اٹھایا اور ابا کی بغل میں سے آسمان کی طرف دیکھا کہ شاید کسی ہوائی جہاز میں کوئی جرمن دکھائی دے جائے اور میں اپنے تصور میں بنائی ہوئی جرمنوں کی شکل کی تصدیق کر سکوں۔ مگر ابا نے زور سے دبا کر میرا سر ریت میں دے مارا۔

’’اگر ان کی لڑائی انگریزوں سے ہے تو آخر ہم پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ امی نے سرگوشی کی۔ ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کیا ہم ان کے رفیق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دونوں پر اللہ کی لعنت!‘‘ ابا زور سے چیخے۔

ہوائی جہاز زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ان کی تھرتھراہٹوں نے مجھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر یکایک خوفناک روشنی کے جھماکوں نے سیٹیاں سی بجاتے ہوے تاریک صحرا کو بے لباس کر دیا اور پھر تو، جیسا کہ چچا حسن کی بیوی نے، جو اس رات دو برس کے بعد ہم کو ملی تھیں، بیان کیا تھا، ’’لوگوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔‘‘
زمین سے بلند ہوتی ہوئی چیخوں نے آسمان سے آتے ہوے دھماکوں کے ساتھ مل کر شور اور واویلا کا اس قدر ہنگامہ گرم کیا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی وہ اب تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ جب پو پھٹی تو امی نے آس پاس کی دوسری عورتوں کی طرح خود کو جنونی دوروں کے حوالے کر دیا اور ان کو آپے میں لانے کی ابا کی ہر کوشش بیکار گئی۔

آخرکار یہ قتل عام بند ہوا۔ آسمان سے ہوائی جہاز معدوم ہو گئے اور اوپر سے آتی ہوئی تمام آوازوں اور دھماکوں نے بند ہوکر زمین کے وحشیانہ شوروغوغا کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی جو اس وقت تک جاری رہا جب تک دن کی روشنی کا اولیں ڈورا نمودار نہ ہو گیا۔

تکان سے چُور چُور ہم سب اپنی خندق سے نکلے تھے اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے چل دیے تھے۔ ان کے حکم پر ہم نے اپنی آنکھیں کس کر میچ رکھی تھیں تاکہ ہماری نظر گردوپیش کے خون خرابے پر نہ پڑ جائے۔ ہم نے سیدھے اپنے گھر کی راہ لی، مگر وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ہماری گلی میں نہ چچا حسن کا گھر سلامت تھا نہ تیسرا والا مکان اور نہ چوتھے کا آدھا حصہ؛ سب کے سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ملبے کے اس ڈھیر پر جو ہمارا مکان تھا، ہماری ایک بط چکراتی پھر رہی تھی۔ پیچھے پیچھے اس کا ایک بچہ بھی تھا، جبکہ پہلے وہ پانچ تھے۔ ہوا میں چنبیلی کی مہک کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

ابا کسی سراسیمہ شخص کی طرح پہلے تو کھڑے کھڑے اس ملبے کو تکتے رہے اور پھر امی کو ٹکرٹکر دیکھنے لگے جن کو اس ناگہانی نے دم بخود کر دیا تھا۔
اس دن کا آخری اور اندوہ ناک منظر ابا کو روتے ہوے دیکھنا تھا — ایسا منظر جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’زندگی بھر کی محنت پل بھر میں اکارت ہو گئی،‘‘ امی آنسوؤں کی جھڑی میں منمنائیں۔

’’شکر الحمدللہ،‘‘ ابا آنسو پونچھتے ہوے بڑبڑائے۔ ’’شکر ہے کہ ہم اندر نہیں تھے۔‘‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہم پر مسلّط رہی۔ پھر وہ بولے، ’’ اب تم لوگوں کو اندرونِ ملک ترکِ وطن کر جانا ہو گا،‘‘ اور اس طرح میں نے ایک نئی ترکیب ’’ترکِ وطن‘‘ سیکھی۔

’’چلو، جب تک کوئی اور بندوبست نہ ہو، تمھاری پھوپھی کے گھر چلتے ہیں،‘‘ ابا نے بات جاری رکھی، ’’بشرطےکہ وہ بھی ڈھے نہ گیا ہو۔‘‘

غمزدہ جلوس پھر سے مرتب ہوا اور ہم سب مریل چال سے چلتے ہوے روانہ ہو گئے، ’’جیسے کسی میت کے ساتھ ساتھ‘‘ جیسا کہ میں سیانا ہوجانے پر اپنے احباب کو یہ واقعہ سناتے وقت کہا کرتا تھا۔ اپنے مکان کے ملبے کے پاس سے ہٹتے وقت میں نے دیکھا کہ ابا نے باہر کو نکلے ہوے ایک پتھر کو گھسیٹا اور دوبارہ ملبے کے بڑے سے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔

’’جب جنگ ختم ہو جائے گی،‘‘ میں نے ان کو کہتے سنا، ’’تو ہم اس کو پھر سے بنائیں گے۔‘‘
پھر جنگ ختم ہو گئی۔۔۔

کندھے پر ٹہوکا لگا تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی، ’’تم کو کیا ہوگیا ہے؟ سن رہے ہو؟ ہم کب بنانا شروع کریں گے؟‘‘

اس مکان کا آسیب ابھی میرے سر میں موجود تھا۔

’’جن لوگوں نے تباہی کے یہ سب خوفناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں،‘‘ میں بولنے لگا، ’’آخر وہ کوئی ایسی چیز بنانے کی کیوں نہیں سوچتے جو مکانات کو ان کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟‘‘

میری بیوی کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔ اس نے مجھ کو یوں دیکھا جیسے بڑے دُلار سے سوال کر رہی ہو۔ میں مسکرا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھمانے لگا جیسے اپنے خیالات کو اڑا رہا ہوں، اور بولا، ’’فکر کی کوئی بات نہیں؛ میرا اس پر یقین ہے کہ اب جنگ کبھی نہیں ہو گی۔‘‘

اس بات نے میری بیوی کے چہرے کی حیرانی کو اور بھی بڑھا دیا۔

Image: Muhammad Hafez

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

قیدی (لیوس نکوسی)

<

div class=”urdutext”>لیوس نکوسی (Lewis Nkosi) کا تعلق جنوبی افریقہ سے تھا۔ تحریر و تقریر پر عائد پابندیوں کے باعث آپ نے 30 سال جلاوطنی میں کاٹے۔ ادبی تنقید، شاعری، ناول نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نویسی سمیت ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ آپ صحافت کے پیشے سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی اس کہانی کا کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

احمد مبارک کی آواز میں یہ کہانی اب آج کے یوٹیوب چینل پر بھی اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔ آج کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز اپ لوڈ ہونے کا نوٹیفیکیشن بروقت مل سکے۔

تحریر: لیوس نکوسی (5 دسمبر 1936 تا 5 ستمبر 2010)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1
قیدی سب کے سب بنیادی طور پر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، اپنے جیلروں کی طرح۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی جلد کی رنگت کیا ہے، جب ان سے گفتگو کی جاتی ہے تو وہ بےغیرتی سے روتے جھینکتے ہیں۔ ان کے بولنے کے ڈھنگ میں کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو مجھے شدت سے بےچین کر دیتی ہے۔ اس کی نشان دہی کرنا اتنا آسان نہیں۔ اگر میں جواب دینے پر مجبور ہی کر دیا جاؤں تو میں کہوں گا کہ وہ ناگواری اور حیرانی کا آمیزہ ہوتا ہے، احتجاج اور خوشامد کا ملغوبہ جو کہ پرلے درجے کی نامردی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے قیدی کو اپنے رول سے محبت بھی ہو اور نفرت بھی۔ جیسے وہ اپنے جیلر کو ناپسند بھی کرتا ہو اور اس کا احترام بھی کرتا ہو۔ سوچتا ہوں تو یکسر حیران ہو جاتا ہوں کہ تقدیر انسان کو اس نوعیت کے رول میں بھی دھکیل سکتی ہے۔

میں اِدھر جارج کو دیکھتا ہوں۔ پھٹے حالوں، میلا چِیکٹ، بھوک کا مارا، اور دھوپ کی کمی کے باعث جلد بھی تھوڑی بہت پھیکی پھیکی۔ تو میرے آنسو نکل آتے ہیں۔ آخر کو جارج کبھی میرا آقا اور جیلر تھا، حالانکہ آپ اب اس بات کو جان نہیں پائیں گے۔ اس گورے آدمی کے ہاتھ میں بارہ ملین کالوں کی قسمت تھی اور بدنصیبی دیکھیے کہ اس تعداد میں سے بندہ خاص قیدی کی حیثیت سے جارج کے پلّے پڑ گیا۔ جس طرح جارج اپنے پاس آنے والے مہمان سیاستدانوں سے کہا کرتا تھا، یہ اس کے لیے ’’سب سے سخت بےرحمانہ چرکا‘‘ تھا۔ مگر جس وقت وہ یہ شکایت کرتا تو میں اس کے لہجے سے جھانکتے فخر کو تاڑ جاتا۔ وہ مجھ جیسے قیدی کو پا کر خوش تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کو کوئی مجھ جیسا قیدی نہ ملتا، جس پر وہ اپنی مخصوص چھاپ کی عنایات کر سکے، تو وہ کسی حد تک خود کو گھٹا گھٹا محسوس کرتا، اس لیے جب بھی وہ اپنی قسمت کو اس بات پر کوستا کہ ا س کو مجھ ایسے کا آقا بنا دیا گیا تو میں جان جاتا کہ اس کا کیا مطلب نکالوں۔

ان دنوں تمام ’وارے‘ جنوبی افریقیوں کی طرح وہ بھی لمباچوڑا اور دھوپ کھایا ہوا تھا۔ ان دنوں میں سوچا کرتا تھا کہ جارج کے اندر سے ایک نرالی قوت پھوٹتی ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے تیور کسی ایسے شخص کے سے تھے جو حکم چلانے کے لیے پیدا ہوا ہو۔ اس کے اشارے سادہ ہوتے، اس کی آواز حقارت سے پُر ہوتی اور اس کی آنکھوں میں استہزا کی ایک ایسی چمک ہوتی جو بےحد کشش انگیز تھی۔ میں دبے پاؤں باورچی خانے میں گھوم پھر کر جارج کے لیے طرح طرح کے عمدہ کھانے اور لذیذ مٹھائیاں تیار کرنے کے انتظامات میں مشغول رہتا۔ اس کی شخصیت اتنی بات منوا لینے والی تھی۔ اب تو آپ کو اس شخص کا خالی پھوک نظر آتا ہے جس میں کبھی حکم چلانے کا سخت گیر جذبہ جاری و ساری تھا۔ وہ نیلی آنکھیں اب مٹیالی ہو چکی ہیں اور ہاتھ پاؤں ناقابل شناخت حد تک جھَر چکے ہیں۔ خیر، قسمت کے دھنی لوگوں کا تقدیر یہی حشر کرتی ہے۔ جارج کو میں اس وقت اسی قسم کے آدمیوں میں شمار کرتا تھا۔

میں دیکھتا ہوں کہ آپ منھ بنا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اس میں تقدیر کا کچھ دخل ہے۔ شاید آپ تقدیر کو بالکل مانتے ہی نہیں۔ آپ کی مرضی۔ کسی کا کسی بات پر یقین کرنا ضروری نہیں۔ تاہم بعض وقت آپ سوچتے تو ہیں کہ خدا کا کرم شامل حال نہ ہو تو کسی بھی گھڑی کایا پلٹ سکتی ہے، آپ بہ آسانی خود کو زنجیروں میں اس طرح جکڑا ہوا پا سکتے ہیں کہ روٹی، شراب اورحسین عورت کا جسم آپ کے لیے حرام کر دیا گیا ہو۔ بالکل اس اپنے جارج کی طرح۔

جب ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی تب آپ نے جارج کی بیوی کودیکھا ہوتا۔ اب بھی جب وہ یہاں آتی ہے تو اسے دیکھ کر میرے خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے۔ خدایا! کیا خوب انعامی گائے ہے۔ چالیس برس کی ہو کر بھی وہ اپنی نتھری گلابی جلد میں خوب گھٹی گھٹائی اور بھری بھری ہے۔ اس کا ننگا پیٹ سونے کا ایک کٹورا ہے۔ یہ نہ پوچھیے کہ میں یہ سب کیسے جانتا ہوں۔ میں کالا ہوا کروں مگر عورتیں تو عورتیں ہوتی ہیں اور وہ صاحبِ اختیار مردوں کو پسند کرتی ہیں۔ انصاف سے، بعض وقت مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ یہاں جارج کے بجاے مجھ سے ملنے آتی ہے۔ اُدھر پیچھے کی جانب ہمارے پاس سفیدی کی ہوئی ننگی دیواروں اور بُنے ہوے پلنگ پوشوں والا ایک کمرہ ہے۔ میں آپ کو ان بہت سی راتوں کے بارے میں بتا سکتا ہوں جب وہاں لیٹ کر میں اور فرانسِسکا دنیا میں جارج کی حیثیت کے متعلق پریشان ہوا کرتے ہیں۔

فرانسسکا، جس کی آواز بانسری کی سی ہے، آخر میں ہمیشہ آنسو بہانے لگتی ہے۔ ’’قسمت اس کے ساتھ اتنی سفاک کیسے ہو سکتی ہے، مولیلا؟‘‘ وہ اور زیادہ قریب لپٹتے ہوے سوال کرتی ہے۔ جارج کی بیوی کے ساتھ سونا، جب کہ وہ، چیتھڑوں سے ڈھکا اورجوؤں سے اَٹا، اپنی کوٹھڑی میں پڑا پچھلے بارہ برس سے ناآسودہ خواہشات کی ٹیسوں سے تڑپ رہا ہو،عجیب سی بات ہے۔ بسااوقات صرف اس کا تصور کرتے ہی میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسے موقعے آئے ہیں جب میں بھی رو دیا ہوں۔ پرائی پِیڑ…..چاہے گورے، کالے، پیلے کسی کی بھی ہو …. تماشے کے لیے بھلی چیز نہیں، کم سے کم اُس فرد کے لیے جو کبھی اس دُکھیا کا ملازم، غلام اور قیدی رہ چکا ہو۔ فرانسسکا کا شہد کا کٹورا بھی اس احساسِ الم کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ ترس کے اُمڈتے ہوے ریلے کو روکنے کے لیے وہ واقعی ناکافی ہے (گو مدد ضرور کرتا ہے)۔ پھربھی خود کو برتر گرداننے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی جارج پر ترس کھانے کی ضرورت ہے! کیوںکہ کون ایسا جیوَٹ ہے جو یہاں کھڑے ہو کر زمانے بھر کے سامنے یہ اعلان کر سکے کہ اس کو کسی کی رحم دلی نہیں چاہیے؟ میں آپ سے پوچھتا ہوں، بتائیے، ہے کوئی؟ ایسا کوئی بھی نہیں۔ ہم سبھی کو رحم درکار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ گرماگرم، متناسب ہاتھ پاؤں والی، اصیل انعامی گائے فرانسِسکا کو بھی۔

کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ فی زمانہ ہم خود کو محبوب محسوس کیے بغیر محبت کرتے ہیں؟ ہم خدا کے لطف و کرم کا تجربہ تو کرتے ہیں، مگر نجات کا احساس کیے بغیر۔ کبھی کبھار ہم مسرت کا تجربہ بغیر یہ جانے ہوے کر لیتے ہیں کہ حقیقی سرخوشی ہے کیا۔ جتنے بھی جسم درکار ہوں، وافر مقدار میں دستیاب ہونے کے باوجود ہم ہر وقت نااسودہ رہتے ہیں، اور اَور زیادہ کی طلب کرتے رہتے ہیں۔ اگر بیٹی باپ کے ساتھ اور ماں بیٹے کے ساتھ سو جاتی ہے تو کون سی تعجب کی بات ہے؟ میرے خیال میں حقیقت تو یہ ہے کہ ہم لوگ اس جارج کے زنداں سے زیادہ سنگین قیدخانے میں بند ہیں۔ مقابلتاً جارج کا قیدخانہ تو چھوٹی موٹی جنت ہے۔ ایک ایسے جسم کے ساتھ جو سوکھ چکا ہے، اس کی جنسی خواہش اب اپنے اُتار کی حالت میں ہے۔ بعض اوقات مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک کھلا رسیلا سینہ اس کے لیے اب کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ کسی ران کی دہکتی ہوئی جھلکی اس کی راتوں کی نیند حرام کرتی ہے، نہ شہوت کا وہ سیلاب اپنے نکاس کے لیے اس کے جسم کے بند کو توڑتا ہے جو ہم سب کو ہر وقت تباہی و بربادی سے دہلاتا رہتا ہے۔

آپ کو ایک بات بتاؤں۔ افریقہ کی بابت میں سوچا کرتا تھا کہ رہنے بسنے کے لیے اچھی جگہ ہے۔ میں سوچا کرتا تھا کہ یہاں یہ ممکن ہے کہ ہم بس دھوپ میں بیٹھے رہیں، آم کھائیں، اور جب طلب زور کرے تو کسی عورت کو لے پڑیں۔ ایک قسم کا باغِ عدن۔ آپ سمجھ گئے نا؟ لیکن اب صرف اتنا کچھ ہونے سے تسلی نہیں ہوتی۔ اب ہم جوکچھ مانگتے ہیں وہ جسم سے بڑھ کر کچھ اور ہے۔ ہم کو اب خوشنما بھڑکیلے غلاف درکار ہیں۔ بازارمیں کام کرنے والی عورت کے کھلے تھل تھل کرتے سینے کی بہ نسبت اب ریشم سے ڈھکی، الاسٹک کے تاروں اور جالی سے سہارا دی ہوئی گات زیادہ خواہش انگیز ثابت ہوتی ہے۔ کیپ سے لے کر قاہرہ تک اور مڈگاسکر سے لے کر موزمبیق تک، ہم سب اپاہج ہو چکے ہیں، بےچارگی کی حد تک ہماری عادتیں بگڑ چکی ہیں، اور ہم میں بھرپور حقیقی روحانیت کا فقدان ہے۔ تو میرے دوست، آپ ہی مجھے بتائیے کہ قیدی جارج پر ترس کھانے والے ہم کون؟ گو اب میں جارج کا جیلر ہوں لیکن میں بھی سراسر حالات کا اسیر ہوں! میں اپنے بدن کی کال کوٹھڑی میں پھڑپھڑاتا رہتا ہوں، مگر مجھ کو کون آزاد کرائے گا؟

میں جانتا ہوں آپ اسے قریب جا کر دیکھنے کے لیے بیتاب ہو رہے ہوں گے۔ آپ بہ تمام و کمال تفصیل سے اس کی جسمانی حالت کا معائنہ کرنا چاہتے ہیں، جو کہ اس کا جائز حق ہے۔ میں اس بات کی قدر کرتا ہوں۔ بقول آپ کے، سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو اس کی حالت کی طرف سے تشویش ہے، ان تمام بےہودہ افواہوں کی وجہ سے جو تشدد اور دیگر ناقابلِ بیان سفاکیوں کے بارے میں اُڑتی ہیں۔ ویسے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ کے محکمے والے، آپ جیسے پس منظر اور تربیت رکھنے والے لوگ بھی اخباروں میں چھپنے والی ان جھوٹی اور بےبنیاد رپورٹوں سے بالکل گمراہ ہو جاتے ہیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ اخبارات کیسے ہوتے ہیں، افواہوں اور رسواکن مواد کے کوڑے دان، جن کو المیوں اور سنسنی خیز باتوں کی نہ مٹنے والی چاٹ ہوتی ہے۔ ان کے کالم پڑھ کر آپ کو یوں لگتا ہے کہ ان میں کام کرنے والے لوگ اخلاق میں اتنے پست ہیں کہ زنانہ پچھائے کا خفیف سا بھپکا ان پر وجد طاری کر دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

بہرصورت، میرا خیال ہے کہ میں بالکل صاف صاف آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ بجز کبھی کبھار چابک پھٹکار دینے کے، کہ جیل کے ضابطے میں اس کی اجازت ہے، جارج کو کبھی اذیت نہیں دی گئی۔ یہ درست ہے کہ ایک دو بار مجھے مجبور ہو کر اس وقت اس کا انگوٹھا شکنجے میں دابنا پڑا جب وہ مجھے آداب کے مطابق ’’آقا‘‘ کہنا بھول گیا۔ مگر میں کہتا ہوں یہ کوئی تشویشناک بات نہیں۔ علاوہ ازیں، جدید زمانے میں ہم نے اس طرح کی ناخوشگوار باتوں کو ایک قسم کی ضرورت مان کر ان کے ساتھ گزارہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ جارج نے چند ہولناک چیخیں ماری تھیں، مگر جارج تو تھا ہی ہمیشہ کا مار سے ڈرنے والا۔ جن دنوں وہ آقا اور جیلر تھا، اور گوری چمڑی کی حفاظت میں تھا، آپ کو اس بات کی خبر نہیں لگ سکتی تھی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس حقیقت کا بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ جب جارج اس جگہ آقا تھا تب اس کو مخاطب کرتے وقت ’’بوانا‘‘ یا ’’باس‘‘ یا اسی قبیل کا کوئی اور بےکیف لقب بھول جانا پرلے درجے کی حماقت ہوتی۔ جارج میں جو کچھ بھی حسِ مزاح تھی، ان القاب کے معاملے میں اس کا ساتھ چھوڑ جاتی تھی۔ وہ ان مجلسی آداب کو بہت سنجیدگی سے اہمیت دیتا تھا۔ اس لیے اب ہم بھی اس کی کسی فروگزاشت پر درگزر نہیں کرتے! ہم کو اصرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ بھی انھی سماجی فرائض کو پورا کرے۔ ایسے موقعے بھی آئے ہیں جب میں نے اس کو بجلی کے جھٹکے لگانے کی ضرورت محسوس کی تاکہ اس میں اس چیز کا تدارک کر دیا جائے جو بادداشت کی مہلک بھول نظر آتی ہے۔

بےشک، جیل میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، میں اس سے انکار کرنا پسند نہیں کروں گا۔ اگر مجھے صحیح یاد ہے تو دراصل اس قسم کا ایک ناخوشگوار واقعہ پچھلی کرسمس پر ہوا تھا۔ ہم نے جارج کو خوب ساری شراب مہیا کر دی تھی تاکہ وہ اپنے خداوند اور نجات دہندہ کا جشنِ مولود منا سکے۔ مگر یہ دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے کہ جارج بےطرح بدمست ہو گیا۔ کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ وہ ہذیان زدہ جنونی بن گیا۔ جیسا کہ آپ کہہ سکتے ہیں، وہ اُن بیتے دنوں کی نفرت انگیز ہُڑک میں مبتلا تھا جب وہ اِس جگہ کا مالک اور آقا ہوا کرتا تھا۔ جوش میں آپے سے باہر ہو کر وہ کبھی آگے، کبھی پیچھے مارچ کرنے لگا، چیخنے چلّانے لگا، اور منھ سے کف اڑانے لگا۔ ا س کا پورا چہرہ پسینے سے تربتر تھا، آنکھیں باہر کو اُبل کر ہولناک ہو گئی تھیں، اور اس کے جھانگڑ پاؤں چھڑی کی طرح فرش کے تختوں پر کھٹ کھٹ کر رہے تھے۔ میں نے ایسا تماشا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شخص اپنی اس پست حیثیت کو بالکل فراموش کر چکا تھا جس پر تقدیر نے اسے پچھلے برسوں میں پہنچا دیا تھا۔ اس نے کوڑا پھِٹکارنا شروع کر دیا۔ حکم چلانے لگا (وہ بھی پھٹی آواز میں) اور مجموعی طور پر اس نے خود کو تماشا بنا ڈالا۔

جیسا کہ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں، یہ سب کچھ سخت تکلیف دہ بدمذاقی تھی۔ جارج کو اس کی بدلی ہوئی حیثیت یاد دلانے کے لیے مجھے فی الفور عمل کرنا پڑا۔ اس کی یادداشت بحال کرنے کے لیے بجلی کے چند جھٹکے کافی تھے۔ ان چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ جارج کے ساتھ کبھی بُرا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ درحقیقت مجھے ذاتی طور پر فخر ہے کہ میں نے ہمیشہ جارج کے ساتھ بہت شرافت کا برتاؤ کیا۔ خصوصاً اس حقیقت کے پیش نظر کہ کبھی وہ میرا جیلر تھا۔

2

اوہ! یہ میں جانتا تھا۔ مجھے قطعی یقین تھا کہ آپ اس بات پر آئیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ آخر جارج نے اور میں نے اپنے رول کس طرح تبدیل کر لیے۔ سوال دلچسپ ہے، بہت دلچسپ۔ میں صرف اس سوال پر دفتر کے دفتر لکھ سکتا ہوں۔ تاہم، میراخیال ہے کہ اس کا کوئی ایک جواب ممکن نہیں۔

کچھ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بس کایاکلپ کا وقت آ گیا تھا، جو کہ میری نظر میں ہر طرح سے بودی دلیل ہے، کیونکہ حقائق اس قسم کی رائے کی تائید بالکل نہیں کرتے۔ اسی طرح کچھ دوسرے سمجھتے ہیں کہ کامیابی… یعنی دولت، طاقت اور وقار… کا سر آخر نیچا ہو کر رہتا ہے۔ میں اس نوع کی لچر جذباتیت کو بھی قابلِ اعتنا نہیں سجھتا، کہ اس کو تسلیم کر لینا گویا ایک طرح سے یہ اعتراف کر لینا ہے کہ میری نظر میں وہ وقت ہے جب میں خود بھی اپنی اس جیلر کی ڈیوٹی سے سبکدوش کر دیا جاؤں گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بےبنیاد خوش فہمی ہی سمجھتا ہوں۔

تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ جارج کی بربادی کے بیج خود اس کی اپنی فطرت کے اندر موجود تھے! خود اس کے اس نظام میں موجود تھے جس کو قائم و دائم کرنے کے لیے وہ جان لڑائے ہوے تھا: خود ان مابعد الطبیعاتی مفروضوں میں پوشیدہ تھے جنھیں وہ بڑے استقلال سے تھامے ہوے تھا۔ لازماً پوری عمارت جلد یا بدیر دھڑام سے گرنا بھی تھی۔ دیکھیے نا کہ جارج کی اپنی تہذیب کے باطن میں ایک سوچی سمجھی دیوانگی موجود تھی۔

یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ ہم افریقی لوگوں نے ایسا مابعدالطبیعاتی نظام کبھی نہیں بنایا جس نے مادّے کو روح سے جدا کر دیا ہو۔ اسی لیے ہم نے جسم کو روح سے کبھی گھٹیا نہیں سمجھا۔ اسی لیے ہم نے ناقابلِ قبول چیز جان کر کبھی بھی اس نام نہاد ’ناشائستہ طلب‘ سے نفرت نہیں کی جو کہ میری دانست میں جارج اور اس کے بھائی بندوں کی اپنے آپ سے نفرت بلکہ گھن کا اصل سبب ہے۔ وہ ہمیشہ روح یا عقل کو جسم پر فوقیت دیتے ہیں۔ آپ نے کبھی ان کو رقص کرتے دیکھا ہے؟ ان کے بیشتر رقص علامتی زبان میں جسمانی حرکات کی تجرید ہوتے ہیں۔ واہ! موتسارت، واگنر! میں سمجھتا ہوں اس قسم کی موسیقی کی توصیف میں بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ’بلند پرواز‘ ہے! یہ ایسے افراد کی تخلیق ہے جو اپنے جسم سے بلند ہو چکے ہوں، جو اپنے مساموں سے نکلتی بساند سے گھن کھاتے ہوں۔

مثلاً میں سوچتا ہوں کہ جس وقت جارج نے اپنی افریقی ملازمہ زازا پر پہلی نظرڈالی تھی اسی وقت اس نے خود کو آقا بنائے رکھنے اورحکم چلانے اور حکومت کرنے کے ارادے کو تج دیا تھا۔ وہ مغرور آقا بالکل نہیں رہا تھا، بلکہ تب ہی ایک ایسے معذور کے رتبے کو پہنچ چکا تھا جس کو کچھ ایسی نگہداشت اور گرمجوشی درکار تھی جو صرف وہ سیاہ ہنگامہ خیز جسم ہی مہیا کرتا نظر آتا تھا۔ تب وہ ایک ایسے جعلی غم میں مبتلا ہو گیا جس کوغلط کرنے میں ہر ڈھارس بےاثر تھی۔ اس نے اپنے آپ سے نفرت کرنا شروع کر دی، اور ساتھ ہی ہر اس شے سے جو کبھی اس کو عزیز تھی۔ سب سے زیادہ تو وہ اپنی بیوی فرانسسکا کے لیے ناقابل برداشت اور جابر بن گیا۔ بلانوشی اتنی کرنے لگا کہ سِڑی ہو گیا۔ وہ جھگڑالو اوردھونسیانے والا بن گیا۔ میں سمجھتا ہوں یوں اس نے خود کو لوگوں کی ملامت کا ہدف بنا کر چاہا کہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرے اور اس طرح اپنے نفس کو سزا دے جس نے اس کو بھٹکا دیا تھا۔

بس وہ ایک بات بھو ل گیا، جنوبی افریقہ میں نسلی میل جول کے خلاف قوانین بہت سخت ہیں۔ آدمی کو ہرخطا معاف کی جا سکتی ہے سواے اس خون میں ملاوٹ کرنے کے جس کی بابت مقبولِ عام تصور یہ ہے کہ وہ خالص نسلی خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس لیے جارج نے زازا سے کھلے بندوں جس طرح کا ربط جاری رکھا اس سے میں نے تو یہی نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب اس کی اس لاشعوری خواہش کی وجہ سے تھا کہ وہ گرفتار کر لیا جائے اور اسے سزا دی جائے۔ یہ تھا اس کا طریقِ کار اپنے جسم سے بدلہ لینے کا جس کو نہ تو وہ تج سکتا تھا نہ صلیب پر چڑھا سکتا تھا۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ تھا وہ پہلا موقع جو خود اس نے اپنی ذات پر غالب آنے کے لیے مجھ کو فراہم کیا۔

شاید آپ کہیں کہ زازا اور میں نے اس کے لیے جو پھندا تیار کیا وہ خوب سوچاسمجھا بلکہ ذہانت کا شاہکار تھا، مگر مجھے اس پر یقین نہیں۔ یہ تو اتنا ہی آسان تھا جتنا انڈا توڑنا۔ دوسری طرف، میں کہوں گا کہ اس سلسلے میں فقط ایک اور بالادستی جو میں قبول کرنے کو تیار ہوں وہ ان لوگوں کے بارے میں واقفیت حاصل کر لینے کا موقع ہے جو جارج اور اس کی قبیل کے لوگوں نے میرے لیے مہیا کیا۔ پورا نظام تعلیم جو انھوں نے وضع کیا اس کی بناوٹ بھی ایسی تھی کہ اس نے مجھ کو جارج کے بارے میں اتنا کچھ سکھا دیا کہ جارج شاید میرے بارے میں اس کا عشرِعشیر بھی نہ جان سکتا ہو گا۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ میں جارج کی شہزوری اور کمزوری دونوں کے ایک ایک نکتے سے واقف ہو گیا۔ چنانچہ میرے لیے جارج کوئی بند کتاب نہیں تھا بلکہ ایک ایسی نشان زدہ کتاب تھا جس کی ورق گردانی کوئی شخص مستقل کرتا رہا ہو۔

بائبل کے مفہوم میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہبوطِ جارج واقع ہوا۔ اس نے ایک سیاہ فام عورت کو دیکھا جس کی اسے چاہ تھی۔ اپنی قوم کے لازمی مگر غلط تصور پر کہ وہ ارفع و اعلیٰ ہے، قائم رہنے کے بجاے وہ قطعی شرمناک طور پر جسم کی کمزوریوں کا شکار ہو گیا۔ یہی اس کا زوال تھا۔
آپ ضرور دریافت کر سکتے ہیں کہ اس قصے میں میں کہاں آتا ہوں۔ میں کس طرح جارج کا قیدی بنا، یہ بالکل عام سی بات ہے۔ اس کی تفصیلات، جیسی کچھ بھی وہ ہیں، درحقیقت بہتوں کو غیراہم نظر آئیں گی۔ پھر بھی آپ جیسے لوگوں کو میں خوب جانتا ہوں، وہ نسل جو حقائق چٹا کر پروان چڑھائی گئی ہے۔ اجازت ہو تو آپ کو آگاہ کر دوں کہ جارج کا شوق بھی یہی تھا، یعنی حقائق۔ بہرحال، میں آپ کو حقائق سے بے کم و کاست آگاہ کرنے کا پابند ہوں۔ جس سال میں جارج کی خدمت پر مامور کیا گیا، مجھ کو’آوارہ گردی‘ جیسے مہمل الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن دنوں سزا کی مدت قیدخانے میں گزروانے کے بجاے وہ لوگ قیدیوں کو اشراف کے پاس’ارزاں سزا یافتہ مزدور‘ کی حیثیت سے ٹھیکے پر بھیج دیتے تھے۔ یقیناً یہ دوسرے نام سے ایک طرح کی غلامی ہی تھی۔ بہرحال، یوں میں جارج کی تحویل میں آیا اور وہ میرا آقا اور نگراں بن گیا، تاآنکہ تبدیلی کا وہ ناخوشگوار لمحہ آ پہنچا۔

اُس وقت جیسا کہ میں تھا، ذرا تصور کیجیے، زندہ دل، کوچہ گرد، نوجوان، مہذب اور ذہنِ رسا کا مالک تھا۔ اس وقت میں وہ ہوا کرتا تھا جس کو انفلکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی اصطلاح میں ’بےخانماں مقامی‘ کہتے ہیں۔ کسی حد تک درست اس تعریف کے ساتھ انھوں نے ایک ذرا سی تفصیل اور شامل کر لی کہ بظاہر میرا کوئی روزی کا سہارا بھی نہ تھا۔

واقعتاً اس سرکاری اندراج پر میں تو کسی قدر نازاں تھا، کہ ان الفاظ سے مجموعی طورپر ایک مکمل لااُبالی پن کی زندگی کا اظہار ہوتا تھا، جو کہ جارج کی باسلیقہ زندگی سے قطعاً مختلف تھی، اور نظروں کے سامنے ایک ایسے فرد کی تصویرآ جاتی تھی جس کا کوئی مقرر پتا نہ ہو، جس کے اپنوں میں آگے پیچھے کوئی نہ ہو، جس کے پیر میں ہر آن ایک چکر ہو، ایک موسمی پرندے کی طرح، یا بقول کسے ایک ملاح کی طرح۔ اس تصویر کو مکمل کرنے کے لیے مجھے ہر بندرگاہ میں فقط ایک چھوکری کی ضرورت تھی۔ اگر جارج کے زوال کا سبب اس کے جسم کی کمزوری تھی تو میرے زوال کا سبب غالباً میرا متلوّن تخیل اورایک ناقابل اعتبار حسِ مزاح تھی۔

یوں میں ایک طرح سے خوش قسمت تھا کہ مجھے تھوڑی بہت کام چلاؤ تعلیم میسر آ گئی تھی۔ فورٹ ہیر یونیورسٹی کالج میں جو تھوڑابہت وقت میں نے گزارا وہ میری دانست میں کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ ان دنوں ایک انٹلکچوئل کی حیثیت سے میری بڑی شہرت تھی۔ ایک ایسا مفکر جو دور کی کوڑی لائے۔ میرے ان گورے دوستوں کے لیے جو مجھے ایک کتابی کیڑے اور کتابوں پر بھوکے کی طرح گرنے والے کی حیثیت سے جانتے تھے، جن میں سے بہتیروں نے جوہانسبرگ کی ’وائٹ اونلی‘ لائبریری سے اپنے کارڈوں پر میرے لیے کتابیں نکلوائی تھیں، اس حقیقت کو حلق سے اتارنا مشکل تھا کہ میرا کوئی ظاہری ذریعۂ آمدنی نہیں۔ یہ دیکھ کر ان کا دل بجھ جاتا تھا کہ مجھ کو اکثر انفلکس کنٹرول اسکواڈ سے جان بچانی پڑتی تھی، جو جوہانسبرگ کی سڑکوں پر بےروزگار، آوارہ افریقیوں کی پکڑدھکڑ کیا کرتا تھا۔

عام طور پر میں وان ویلف اسٹریٹ کے بیئر ہال کے باہر اپنے سودمند کاروبار سے لگے دوستوں کے انتظار میں منڈلایا کرتا کہ وہ آئیں اور اپنے داموں مجھے ’مکومبوتھی‘ پلائیں۔ میں انھیں دروازے پر ہی چھاپ لیتا اور اس امید پر کہ ان کو میری قلّاشی پر شرم آ جائے گی، میں اپنے کوٹ کی جیبیں باہر کو نکال دیتا۔ شام ہوتے ہی آن پیگی کے اڈے پر جا نکلتا جہاں مجھے بلانوشوں کی اس سے بہتر قبیل میسر آ جاتی، اونچے داموں والی شو گرلز، استاد، سیاستدان اور بیوپاری۔

3

متعدد بار ہیلن مجھ سے کہتی،’’مولیلا، میں تمھاری منّت کرتی ہوں، بس اتنا بتا دو کہ یہ جو تم کو اتنا عمدہ موقع ملا ہے اپنے لوگوں کی مدد کرنے کا، بھلا اس کو کیوں گنوا رہے ہو؟ تم جیسے ذہین آدمی کو تو یورپین لوگوں کو کاک ٹیل پارٹیوں کے مسخرے سے کچھ بڑھ کر ہونا چاہیے۔ ہاں، ڈھونگ ہی تو ہوتا ہے جو تم رچاتے ہو اور اس طرح پیٹی بورژوا لوگوں کی انا کو گدگدا کر خوش کرتے ہو۔‘‘

یہ تسلیم کرتے ہوے مجھے شرم آتی ہے کہ ایسے موقعوں پر میرے پاس بس یہ دیکھنے کا وقت ہوتا تھا کہ ہیلن کی گردن کتنی عمدہ اور چکنی ہے۔ مجھ کو جتنی بھی عورتوں کو ملاحظہ کرنے کا موقع نصیب ہوا، کیا گوری اور کیا کالی، ان میں ہیلن کی کاٹھی سب سے زیادہ عمدہ تھی۔ کاش اس کا دہانہ اتنا تنگ اور حقارت لیے ہوے نہ ہوتا۔ گو اس کی نیلگوں، گمبھیر، چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہر اس مرد کے لیے دلربائی کا سامان تھیں جو اس سے دوچار ہو چکا ہو، مگر مجھ سے باتیں کرتے ہوے وہ ہمیشہ انھیں غیرضروری طور پر سخت کر لیتی تھی۔ میں سوچتا ہوں کہ ہیلن مجھ کو بچانا چاہتی تھی، بس اگر میں بچائے جانے پر رضامند ہو جاتا۔ ہر ضائع شدہ موقعے کے خلاف اس کی دودھیا رانیں سختی سے مستعد رہتی تھیں۔

گوروں کی دعوتوں کو میں مجموعی طور پر ناپسند کرتا تھا۔ کافی رات گزر جانے کے بعد تو کہیں جا کر ان میں جان پڑتی تھی۔ اس وقت تک ہر شخص پی پلا کر اتنا غیں ہو چکا ہوتا تھا کہ کیا لطف اٹھاتا۔ شروع شروع میں یوں لگتا جیسے یہ دعوتیں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہوں، بناوٹی گفتگو کے مرغولوں میں لڑکھڑاتی، ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہوں۔ دیواروں سے پیٹھ لگائے کھڑی لڑکیاں اپنے اپنے جام سختی اور مضبوطی سے اپنے مغرور اور خطرناک حد تک کسے بندھے سینوں پر ٹکائے، یا ان کے درمیان پھنسائے، گیلے کپکپاتے ہونٹوں سے ان نوجوانوں سے محوِ گفتگو ہوتیں جو ان سے رسی تڑانے کے لیے بےچین رہتے کہ کسی طرح جان چھڑا کر کامیابی سے اپنی امّاؤں کی گود میں، اپنے پالنے میں پہنچ جائیں۔ تو یہ تھے وہ لوگ جو، بقول خود ان کے، یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کی شاندار جوان زندگیوں کے ساتھ کیا ماجرا ہوا۔

مجھے لااُبالی، ادھیڑعمر، بےنکاحی عورتیں بھی یاد ہیں، جامعہ والیاں بھی اور سنجیدگی سے پرسش کرنے والی میزبان خواتین بھی جو یہ معلوم کرنا چاہتی تھیں کہ آیا وہ سب کچھ سچ ہے جو انھوں نے ’’جوہانسبرگ کے آس پاس کی کالی بستیوں میں ہونے والی ہیجان خیز کارستانیوں‘‘ کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ عجیب بات تھی کہ وہ یہ پہلے ہی سے باور کر لیتیں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ’’کارستانیوں‘‘ سے ان کی کیا مراد ہے۔ جب بھی میں پلٹ کر پوچھتا کہ بھلا کون سی کارستانیاں؟ تو میرے اس انجانےپن پر وہ بےیقینی سے صرف مسکرا دیتی تھیں۔ آپ شاید یقین نہ کریں کہ ایک مرتبہ لوئر ہاؤٹن کی ایک پارٹی میں ایک بدھو سا نوجوان میرے پیچھے پیچھے غسلخانے تک آیا اور میرے کان میں شرماتے ہوے بدبدایا، ’’ایک بات بتاؤ…‘‘ اس نے کہا، ’’ایک رات میں کتنی بار ممکن ہے؟‘‘ پھر اس کی سانس یا اعصاب۔۔ پتا نہیں کون۔۔ جواب دے گئے۔

میں آپ سے بتاتا ہوں کہ وہ دعوتیں بالکل بور ہوتی تھیں۔ لڑکیاں جب مجھ کو کسی ایسے فرد سے جو واقعی مجھے پسند ہوتا، باتیں کرتے دیکھ لیتیں تو میرے گرد اپنے لجیلے بےڈول جسموں کی بھینٹ پیش کرنے کے انداز میں جمگھٹا لگا دیتیں، حالانکہ یہ صاف ظاہر تھا کہ اتنے جگمگاتے روشن لاؤنج میں کون ان کی اس نوازش سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ میں ان کی آوازیں خوشگوار دھنکی ہوئی رات میں گھنٹیوں کی جھنکار کی مانند اب بھی سن سکتا ہوں۔
’’چلو آؤ مولیلا،‘‘ وہ اپنے لچکدار پیٹ مجھ سے سٹا کر کہتیں، ’’ہمیں اپنا کویل رقص دکھاؤ۔ اوہ، تمھارارقص کتنا شاندار ہے۔‘‘

یا پھر،’’مولیلا، بس کرو، خدا کے لیے، لوگ کیا کہیں گے مولیلا۔دروازے میں سے وہ یقیناً ہم کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘

یا ’’مولیلا، امید ہے تم اسے ذاتی بات نہیں سمجھو گے، میرا مطلب ہے کہ ایمان سے، جو تمھارے بارے میں ویسی نیت رکھتی تو کہہ دیتی، ٹھیک ہے، چلو ابھی گھر چلیں۔ مگر دراصل تمھارے لیے اس طرح محسوس نہیں کرتی۔ بس تم سے باتیں کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

یا ’’مولیلا، تم مجھے انگ لگا لو، ابھی، اسی وقت۔ خراب کر ڈالو مجھے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمھاری نیت ہے۔ اوہ، تم کتنے ظالم ہو۔‘‘ یہ عام طور پر رات تین بجے کا وقت ہوتا تھا، جب پارٹی اپنی آخری سانسوں پر ہوتی اور سفید آدمی کی ذمےداری کا بوجھ ان کے ناتواں کاندھوں کے لیے کچھ زیادہ ہی بوجھل ہو جاتا تھا۔

نہیں جی، مجموعی طورپر میں کالوں کی بزم آرائیوں کو ترجیح دیتا تھا۔ بیشتر گھٹیا شراب خانوں کی کاک ٹیلز کو، جن میں روز کا ٹھیا جمانے والے بھانت بھانت کے لوگ، ہائی فائی لونڈے، تنخواہ دار ڈکیت، چمک چاننیاں اور بددیانت سیاستدان شریک ہوتے۔ اُن دنوں جب مجھے بالکل پتا نہ ہوتا تھا کہ اگلا پیسہ کہاں سے ہاتھ آئے گا، افریقی سیاستدان میرے لیے نعمت تھے۔ تھوڑابہت جیب خرچ کمانے کی خاطر، میں ان کے لیے تقریریں لکھا کرتا تھا، جو وہ سٹی ہال کے سامنے چوک میں کھڑے ہو کر کیا کرتے تھے جہاں سینکڑوں ہکابکا گورے بہت تحسین کے انداز میں کھڑے رہ کر ان کو سنتے، حالانکہ میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر کہیں انھیں اس نری لفّاظی کے دوران غور کرنے کا موقع ملتا تو وہ ان تقریروں میں بیان کردہ احساسات پر بہت ناخوش ہوتے۔
میں نے خاصا مشاہدہ کر رکھا تھا کہ افریقی سیاستدان پیچیدہ فقروں، لچھےدار جملوں اور مسجّع سُریلے محاوروں کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ مجمعے کو اپنے زورِبیاں میں بہا لے جائیں۔ وہ ایسی تقریروں کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے جن میں ٹھوس اور عملی باتیں کہی گئی ہوں۔ سب سے بڑھ کر افریقی سیاستدان عمل کے ذکر پر اعتبار نہیں کرتے تھے۔ بس واضح فقروں کو ناپسند کرنے کا سبب بھی یہی تھا۔ پھربھی، انصاف کی خاطر میں یہ واضح کرتا چلوں کہ تقریر کے لچھے باندھنے کی یہ رغبت افریقیوں میں دراصل شاعری کی روایتی پسندیدگی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ افریقہ کے لوگ زبان کے بڑے دلدادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے سٹی ہال کے سامنے ہفتے کی شام کو ہونے والے جلسے نسلی امتیاز کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے کے ساتھ ساتھ شاعری کا ہَسکا مٹانے کی ضرورت بھی پوری کر دیتے تھے۔

میں گھنٹوں بیٹھا ایسے الفاظ سوچتا رہتا جن میں کافی پھونک بھری ہو، رنگین زیادہ سے زیادہ ہوں تو کیا کہنے۔ میں تلےاوپر ذیلی فقروں کی تھپّیاں جما دیتا یہاں تک کہ کمرتوڑ اصل فقرے کا نقطۂ عروج آ جاتا، جہاں پہنچ کر مقرّر ایک طمانیت بھری شان سے کچھ دیر کے لیے، عموماً ہجوم کی تالیوں کی خاطر، رک جاتا۔

نتیجتاً میں سیاستدانوں میں مقبول ہو گیا اور اس کام کے سہارے تھوڑی بہت رقم پیدا کرنے لگا۔ میں نے تو تقریرنویسی کا باقاعدہ کاروبار جمانے کے بارے میں بھی سوچا۔ حکومت جتنے زیادہ نسلی امتیاز کے قوانین بناتی اُتنے ہی زیادہ احتجاجی جلسے ہوتے اور اُتنی ہی تقریروں کی مانگ بڑھتی۔ میں خود کو تھوڑابہت فنکار سمجھنے لگا تھا، سچ مچ ایک الفاظ گر، اس قسم کی نثر گڑھنے والا جس میں حقیقی ادبی خوبی کے ساتھ ساتھ ہجوم کے لیے ڈرامائی اپیل بھی ہو۔

بعض اوقات بڑی دلچسپ صورت حال ہوتی کہ خام کار افریقی کمیونسٹوں کے ساتھ ہی سیاستدان بن جانے والے ’قزاق‘ بیوپاریوں کی جانب سے بھی تقریر لکھنے کو کہا جاتا۔ بسااوقات مجھ کو دونوں تقریریں بیک وقت لکھنا پڑتیں۔ ایسے لمحات میں معاملہ گویا دائیں ہاتھ کو بائیں کی خبر نہ ہو والا ہوتا تھا۔ کمیونسٹوں کی تقریروں کے لیے میرے پاس گھڑی گھڑائی گالیاں موجود تھیں، مثلاً ’’استعماری قوتوں کے آلۂ کار‘‘، ’’جنگ پرست سامراجی‘‘، ’’دوسروں کی محنت پر پلنے والے سرمایہ دار‘‘۔ مگھم باتوں والے کالے اعتدال پسندوں کی تقریریں چٹپٹی بنانے کے لیے میں اس قسم کی بےمعنی بےضرر باتیں بُرکتا جیسے، ’’خدا وہ وقت نہ لائے کہ ہمارے بچے ہم سے کہیں…‘‘ یا پھر زیادہ قابلِ اعتماد: ’’تاکہ سب بلا تفریقِ رنگ و نسل و مذہب، امن آشتی سے رہ سکیں۔‘‘ اس پرتو ہمیشہ ہی تعریف کے ڈونگرے برستے۔

فقط ایک بار مجھ سے بھیانک گڑبڑ ہو گئی۔ میں دو تقریروں پر محنت کر رہا تھا۔ ایک تو بَبالالا نامی نوجوان کمیونسٹ کے لیے تھی اور دوسری ایک ایسے میانہ رو افریقی سیاستدان کے لیے جو حکومت سے زیادہ الجھنا پسند نہیں کرتا تھا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ گوروں کے علاقوں میں قیمتی تجارتی رعایتوں کو قربان کر دے۔ آخرالذکر وہ شخص تھا جس کی تقریریں لکھنے میں مجھے مزہ آتا تھا۔ انقلابی صورت حال میں غیرجانبدار رہنا میری نظر میں نہایت خطرناک کام تھا، مگر نئے زمانے کا آدمی ہونے کی وجہ سے مجھے بھی ستم ظریفی اور ابہام کا بہت چاؤ تھا۔ چونکہ ان افریقی سیاستدانوں کو بڑی احتیاط کرنا پڑتی تھی کہ حکومت کو ناراض بھی نہ کریں اور ساتھ ہی عوام میں اتنے مقبول بھی بنے رہیں کہ گوروں کی کونسل میں سودے بازی کی قوت ان کے پاس رہے۔ مجھ کو اکثر ایسی طویل بوجھل تقریریں لکھنا پڑتیں جو وزنی بھی ہوں اور ایک ایسی مبہم انقلابیت کی شان بھی رکھتی ہوں جس میں حقیقی کاٹ بالکل نہ ہو۔

بہرطور، ہوا یہ کہ اس تقریر کےمتن کی تیاری کے دوران کسی مضحک سبب سے میں نے اسے نوجوان کمیونسٹ ببالالا کی تقریر کے ساتھ گڈمڈ کر دیا اور اس میں اس قسم کے مارکسی فقروں سے جان ڈالی جیسے: ’’سرمایہ دارانہ نظام کے اندر چھپے تضادات جو بالآخر منتج ہوں گے اس کی مکمل تباہی پر…‘‘ یہ تقریر اس محترم سیاستدان نے بھونچکا ڈائریکٹروں کے اجلاس میں کر دی، جو غصے سے تلملا کر چیخنے چلّانے لگے اور اس بیچارے کو عملاً جوہانسبرگ سکیورٹی پولیس کے حوالے کر دیا۔

تقریرنویسی کا یہ میرا آخری کام تھا، کیونکہ اس کے بعد جلد ہی میں بھی ’’آوارہ گرد اور مشکوک‘‘ ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور، بحیثیت ایک سزایافتہ مزدور کے، جارج ہالنگ ورتھ ایسکوائر کے حوالے کر دیا گیا۔

تو یہ ہے جارج ہالنگ ورتھ ایسکوائر، ایک ایسا شخص جو اب رسوائی اور پستی کی خاک بن چکا ہے۔ اُس وقت جارج ایک باسلیقہ محنتی آدمی تھا، اور ایک الیکٹرونک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اگر وہ خوش نہیں بھی تھا تو اس نے اس بات کو خوش اسلوبی سے چھپا رکھا تھا۔ یعنی کہ زازا کے ورود تک۔ جارج جیسے خوش باش شادی شدہ مرد پر، ایک ایسے شخص پر جس کی خواہشات بھی معقول ہوں اور جو کالے جسم سے خاطرخواہ نفرت بھی کرتا ہو، زازا نے کس قسم کا اثر ڈالا، یہ جاننے کے لیے آپ کو زازا کو دیکھنا ہو گا۔ درحقیقت یہ بات کو گھٹا کر بیان کرنا ہے اگر یہ کہا جائے کہ زازا وہاں آئی۔ اس نے تو دھاوا بول دیا۔ چوبیس برس کی، بوٹا سی، سیاہ فام زندہ دل عورت، نفاست سے گھٹی گھٹائی، بانس کی شاخ کی طرح نازک اندام، خوب اچھی طرح پروان چڑھائے تاکستان کی بوباس لیے اور دوسوتی کے سادہ سے اسکرٹ اور سویٹر میں وہ ایک ایسا بدن چھپائے ہوے تھی جو بہت ہی سیاہ، تقریباً نیلاہٹ مائل، اور جنسی ہول سے چھلکتا نظر آتا تھا۔

جی ہاں، مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جس دن زازا آئی تھی۔ جارج حسب معمول اپنی پسندیدہ کرسی میں بیٹھا باورچی خانے میں کام کرتی فرانسسکا سے باتیں کرتے ہوے شام کے اخبار پڑھ رہا تھا، جبکہ میں آگے کے پورچ میں پھولوں کی دیکھ بھال میں لگا ہوا تھا۔ جس وقت زازا جارج ہالنگ ورتھ کے دیوان خانے میں داخل ہوئی، وہ کاک ٹیل نوشی کا ایسا ملائم کہربائی وقت تھا جب دنیا بہت ہی دلکش لگتی ہے۔ اس ٹھہری ہوئی نیم استوائی فضا میں اس کاعیّار، بےنیاز جسم آفت ڈھا رہا تھا۔ اس کا غم زدہ تنگ دہانہ، بن کمائی تحقیر کے باعث، تقریباً سِرکے کے رنگ کا ہو رہا تھا۔
جارج کھڑا ہو گیا۔ اس نے خود کو سنبھالا اور پھر بیٹھ گیا۔ وہ چلّایا، ’’اندر آنے سے پہلے تم نے کھٹکھٹایا کیوں نہیں؟ آخر تم ہو کون؟ کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میرا نام زازا ہے،‘‘ ہماری آبنوسی وینس نے جواب دیا اور اس کا منھ زمانے بھر کی الجھی ہوئی فکروں سے پٹ گیا۔ ’’یہ مسٹر ہالنگ ورتھ کا دولت خانہ ہےنا؟‘‘

اس گھڑی یوں لگا کہ وہ جگہ ایسے سوالات سے بہت پُرشور ہو گئی ہے جو تادیر حل نہ کیے جا سکیں گے۔ ’’مجھ کو آپ کی خادمہ بننا ہے،‘‘ زازا نے کہا۔ ’’مجھے بیورو نے بھیجا ہے۔‘‘ اور جیساکہ میں نے عرض کیا، یہ ان تمام مصیبتوں کی ابتدا تھی جو گانے کے بولوں کے بموجب، جارج کے اوپر بارش کی طرح برسنے والی تھیں۔

4

اب ہم اندر چل کر جارج کو دیکھیں گے۔ مجھے امید ہے کہ آپ نازک مزاج نہیں ہوں گے۔ اس کا جسم اب قابلِ دید نہیں رہا۔ اس میں ہولناک تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہیں، جو ہم سب کے لیے افسوس کی بات ہے۔

یقیناً آپ اس داستان کا انجام بھی جاننا چاہیں گے۔ میں جانتا تھا کہ آپ اسے سننا چاہیں گے۔ مان لیجیے کہ ہم سب ہی گِدھ ہیں۔ ہم سب غیروں کی بدنصیبیاں سننا پسند کرتے ہیں۔ اور اس میں جاتا بھی کیا ہے! تو قصہ مختصر، اس جارج میں جو غیرمعمولی صاف ستھرا، محنتی آدمی تھا، جو بروقت اپنی فیکٹری میں حاضر ہو جانے کے لیے ہمیشہ علی الصبح اٹھ جاتا تھا، پریشان کن تبدیلیاں نمودار ہونے لگیں۔ علامتیں مانوس تھیں: بھوک مر جانے کی شکایت، گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ہو جانے کا چکر، کھویا کھویا حلیہ اور مکمل ذہنی غفلت۔ اس نے اپنے کام میں دلچسپی لینا چھوڑ دی۔ اکثر وہ اپنے گھر پر ہی پایا جاتا، غالباً طبیعت ناساز ہونے کے بہانے، گو اس کی یہ بیماری باورچی خانے میں کام کرتی زازا کے گرد منڈلاتے رہنے میں رکاوٹ نہ بنتی۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام کے لیے اس کو زازا کی ضرورت پڑتی، جس کی وجہ سے وہ لڑکی دن بھر جارج کے کمرے کے اندر آتی جاتی رہتی۔ جیساکہ ہمیں توقع ہو چکی تھی، جارج جلد ہی زازا کو تحفے دینے لگا۔ وہ اس کے لیے لباس خریدتا، ملائم ریشمی زیرجامے، محرم اور نائیلون کی جرابیں۔ وہ اس کے لیے زیورات اور طرح طرح کے گہنے خریدتا۔ مجھ پر تو بات آشکار تھی کہ چند دنوں بعد افریقہ کی عورت ذات کے لیے سب سے بڑا تحفہ خود جارج کی ذات ہو گی، یعنی وہ شاندار یورپین مردانگی جو اس کی قبیل کے لوگوں کی دانست میں دولت، قوت اور وقار کے سحر سے مالامال ہوتی ہے۔ اس وقت تک زازا نے اور میں نے ایک منصوبہ، یعنی بہت چالاکی سے بچھایا ہوا ایک جال، تیار کر لیا تھا۔ وقت آ گیا تھا کہ میں قیدخانے سے باہر آؤں اور اپنے بجاے ایک نئے باسی کو، یعنی جارج ہالنگ ورتھ ایسکوائر کو، اس میں مقیم کروں۔

میں نے اکثر سوچا ہے کہ جارج کے زوال، یعنی اس تیزرو انتشار کی اصل وجہ۔۔ جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جس وقت اس کی قبیل کے لوگ کسی شے کی شدید خواہش کرتے ہیں اور حصول میں مزاحمت کا احساس کرتے ہیں۔۔ ان کا وہ خیالِ خام ہے جو وہ دل کے بہلانے کے لیے اپنائے رہتے ہیں: یعنی چاہے کتنا ہی بُرا سلوک اس کے ساتھ کیا جائے، ان کا غلام نہ صرف یہ کہ ان پر جان چھڑکتا ہے بلکہ ان کی حکومت کو قائم و دائم رکھنے میں مدد بھی دیتا رہے گا۔ ننھے بچوں کی مانند وہ چاہتے ہیں کہ ان سے پیار کیا جائے، کیونکہ وہ خود کو ناقابلِ بیان حد تک حسین اور دلکش تصور کرتے ہیں۔ چاہے کتنی بھی بدعنوانیوں کے مرتکب ہوں، مگر وہ ایسے میٹھے خوابوں میں مگن رہتے ہیں کہ اپنی غلام عورتوں کی آغوش میں ہمیشہ ہی بسے رہیں گے، اس ہستی کی آغوش میں جو بیک وقت کلوٹی گنگناتی آیا، داشتہ اور ماں، سبھی کچھ ہے، جو اپنے سدا جوان لاڈلے کے لیے ہمہ وقت لوریاں گاتی رہے گی۔

قبل اس کے کہ زازا اس کو شب بسری کا موقع دیتی، ہم نے پہلے ہی سے ایک بیان تیار کر لیا تھا جو اقرارِ جرم کرنے کے ساتھ ہی ساتھ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے لیے پڑا تھا کہ جارج اپنا مکان اور سارا ساز و سامان ہمارے نام کر دے گا۔ یہ انتقالِ جائیداد افریقی وکیلوں کی ایک فرم کے ذریعے ہونا تھا۔ ہم نے پورا اطمینان کر لیا تھا کہ تصویریں بہت ہی صاف آئیں تاکہ باندھ لینے کے لیے ثبوت بالکل پکّا ہو۔ آپ کہیں گے کہ یہ تو صاف بلیک میل کا کیس ہوا۔ تو بھائی، رہنے کے لیے دنیا کوئی اچھی جگہ تو ہے نہیں۔۔ یا ہے؟ یہی تو ہم نے سختیاں جھیل کر سیکھا، جبکہ جارج اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ دنیا بڑی پیاری جگہ ہے اور اس کو زیر کیا جا سکتا ہے۔

ڈرتا ہوں کہ مجھے اب جارج کو یہیں قید رکھنا پڑے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اسے ترجیح دیتا ہے۔ یہاں سے کہیں جانے کے لیے اب اس کے پاس کوئی ٹھکانہ بھی تو نہیں۔ اپنوں کی نگاہ میں اس کے گناہ ناقابلِ معافی ہوں گے، اس کی وراثت بھی جاتی رہی۔ رہی فرانسسکا، تو فرانسسکا کو میں سراہتا ہوں۔ اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عورتیں کس قدر خود کو حالات کے مطابق ڈھال لینے والی اور باتدبیر ہوتی ہیں۔ مجھے تو یہ نظر آتا ہے کہ عورتیں سلطنتوں کے خاتمے پر بھی ہمیشہ باقی رہیں گی۔ وہ صرف اپنی جبلتوں کے زور پر صاف بچ نکلتی ہیں۔

قبل اس کے کہ آپ جارج کے معائنے کے لیے اندر جائیں، میں آپ سے ایک ایسی بات دریافت کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھ کو ہمیشہ الجھن میں ڈالا ہے۔ آپ کے خیال میں مَیں خود کب تک جارج کا جیلر رہ سکوں گا؟ اوہ، جانے دیجیے۔ میں سمجھتا ہوں میری حیثیت نہایت مستحکم ہے۔ جی ہاں، بالکل ناقابلِ تسخیر۔ میں نے ہر طرح سے پیش بندی کر رکھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ان تمام پوشیدہ خطروں اور پھندوں سے بچنے کا پورا انتظام کر رکھا ہے جو جارج ہالنگ ورتھ کو لے ڈوبے۔

اوہ، وہ دیکھیے، جارج کی زوجہ، فرانسسکا! ان ہرنی جیسی ٹانگوں کو، اس کی رانوں کی قوت کو ذرا ملاحظہ کیجیے۔ کیا خوب انعامی گائے ہے!
Art work:Gabisile Nkosi
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔