اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)

[blockquote style=“3”] ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب […]
بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=“3”] عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں […]
دنیا بھر کا حسین ترین ڈوب مرنے والا (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=“3”] عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں […]
ہیلو مایا

یہ کہانی کچھ یوں میرے من میں آئی جیسے کسی انجان جگہ سے کوئی ننھی منی، نازک سی چڑیا اڑتی ہوئی آئے اور صدیوں سے چپ چاپ کھڑے برگد کے اس پیڑ کی ایک ٹہنی پر آ ن بیٹھے۔ اور پھر، پل بھر کے لئے سارے ماحول میں شوخ رنگوں اور سریلی آوازوں کا جادو بکھیرکر، جھٹ سے کہیں اُڑ جائے۔۔۔۔۔کہیں دور،بہت دور۔ خیر،آپ کہانی سنئے
نزار قبانی کی رومانی شاعری

نزار قبانی: جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں
نیا والو

لارا سالومن: میرے خاندان میں دل کے امراض عام ہیں۔ میرے والد کو اپنے تیسرے عشرے کے آغاز میں اپنا ایک والو، سور کے والو سے بدلوانا پڑا اور میرے چچا کی وفات پچاس کے پیٹے میں ہارٹ فیل ہونے سے ہوئی۔
روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

نزار قبانی: روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے
نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے
اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے
غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
اسیری

پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا
درد مشترک

ہمیشہ بدمست رہو

اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے
ہمارے لوگ

مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے
بٹوارہ اُس برّعظیم کا

جس کو اس نے کبھی بُھولے سے بھی دیکھا نہ تھا
وہ ان دو قوموں کے درمیان منصفی کرنے کے محال کام سے دو چار تھا
جو باہم خطرناک حریف تھے
اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح
