Laaltain

تازہ ترین

ادریس بابر: اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی
16 جولائی، 2017
زکی نقوی: بگل کی آواز پر دیر تک ‘لاسٹ پوسٹ’ کی دُھن بجتی رہی اور موچی کا ہاتھ اسی روانی سے کپتان برنابی کے گھڑسواری
15 جولائی، 2017
ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر اور نہیں جانتے آنکھیں کیا
15 جولائی، 2017
خالد جاوید: اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی
15 جولائی، 2017
علی اکبر ناطق: جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں
15 جولائی، 2017
سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
15 جولائی، 2017
شہزاد نیر: کچھ نہیں، کچھ نہیں آنکھ کی کھیتیوں سے پرے کچھ نہیں ہے
15 جولائی، 2017
سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا تم نے جس کی مزدوری نہیں دی میں دکھ اپنے خواب کا جو تمہارے بدن پر پورا
15 جولائی، 2017
محمد حمید شاہد: اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار
14 جولائی، 2017
افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
14 جولائی، 2017
شارق کیفی:کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلک سچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک
14 جولائی، 2017
علی اکبر ناطق: غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اپنے معاملات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا،چاچا بہزاد،اماں جان کو میں نے پاکپتن کی بجائے کہیں
12 جولائی، 2017