
ہمیں معلوم ہے یہ شام بکھر جاے گی اور یہ رنگ۔۔۔۔ کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے یہ زمیں دیکھتی رہ جاے گی..
میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں وہ صرف میرے پاس ہیں میں اپنے
معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا
سفر میں کوئی تو ایسی بھی رہگزر دیکھوں کہ تیری زلف کا سایہ شجر شجر دیکھوں خدا کرے کہ تیرے حسن کو زوال نہ ہو
[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950
کلام: محمد ابراہیم ذوق آواز: اقبال بانو لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے بہتر تو ہے
خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے
اپنی فیروز بختی پہ نازاں سیہ پوش دیوار پر آب زرسے لکھے نام پڑھتےہوئے میری آنکھیں پھسلتی ہوئی نیہہ پر جا گریں الغِیاث! الاَماں! ایک
خواہش کی سوکھی ٹہنی جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی
تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز
رپورٹ: اسد فاطمی اپریل 2019، اسلام آباد: اسلام آباد، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سیکٹر ای-بارہ میں رہائشی پلاٹ فروخت کرنے کے لیے پرچیاں اٹھانے کا
وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛ قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے! زبانِ تشنہ کہ پُرسکوں تھی،
