Laaltain

تازہ ترین

تصنیف حیدر: دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ
31 اکتوبر، 2016
امرتا پریتم نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی
31 اکتوبر، 2016
وجیہہ وارثی: وہ مجھے ڈس رہا ہے کئی برسوں سے تنگ جوتے کی طرح
29 اکتوبر، 2016
علی زریون: راوی رستہ موڑ کبھی اس شہر کی جانب جو جلتا ھے سن زخمی آواز جو سینے چیر رہی ہے
29 اکتوبر، 2016
انور سین رائے: ہمارے اجداد وہ حروف تہجی بھول گئے تھے جن کی مدد سے وہ چیزوں، لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے
29 اکتوبر، 2016
سدرہ سحر عمران:ہوا مجھے آواز دیتی رہی مگر۔۔۔۔ میرے پاؤں نہیں جانتے تھے کہ ایک رستہ پچھلی گلی میں بھی نکلتا ہے
29 اکتوبر، 2016
نصیر احمد ناصر: تم جانتی ہو درد کی ڈوری کا آخری سرا کہاں گم ہوا ہے مجھے معلوم ہے اسے کہاں سے تلاشنا ہے
29 اکتوبر، 2016
ادریس بابر: پھول کفن کے اوپر پھول کفن کے بیچ
27 اکتوبر، 2016
سلمیٰ جیلانی: شکاری چینل کو خبر مل گئی ہے تہذیب و تمدن گلے مل کے روتے ہیں اور اسمارٹ ریموٹ کے بٹن دبا کر
27 اکتوبر، 2016
حاشرارشاد: کتے بھوکے ہیں۔ پیاسے ہیں۔ دریا بہت نیچے ہے۔ پانی نظر تو آتا ہے پر زبان اس تک پہنچ نہیں پاتی۔ جھنجلائے کتے
27 اکتوبر، 2016
نصیر احمد ناصر: صلاح الدین! تمہیں جنگل کی تلاش تھی تمہارا جنگل تمہارا شاوک تھا یہیں کہیں ہو گا
27 اکتوبر، 2016
نصیر احمد ناصر: وہ عجب سا خواب تھا، اس خواب میں آنکھیں بہت تھیں جو اندھیرے میں ڈراتی تھیں ہمہ دم میرے ہونے، کچھ
27 اکتوبر، 2016