Categories
شاعری

فراموشی کی مختصر تاریخ

انور سین رائے: ہمارے اجداد وہ حروف تہجی بھول گئے تھے
جن کی مدد سے وہ چیزوں،
لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فراموشی کی مختصر تاریخ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہمارے اجداد وہ حروفِ تہجی بھول گئے تھے
جن کی مدد سے وہ چیزوں،
لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے
اب ہمیں چاہیئں نئے حروف تہجی
تا کہ ہم وہ لفظ بنا سکیں
جو ہمارے دہانوں کے ناپ کے ہوں
ہمیں چاہیئں کچھ گھوڑے
تا کہ ہم اپنے دماغوں کی رفتار جان سکیں
اور ہمیں چاہیئں اپنی امیدوں کے کچھ وارث
ہمارے خوابوں نے کھانا پینا ترک کر دیا ہے
کوئی وجہ بتائے بغیر
وہ صرف اُس لڑکی کے انتظار میں رہتے ہیں
جو لنچ کے وقت صرف ایک پھول خریدنے آتی ہے،
ریجنٹ اسٹریٹ پر
اور سب سے عمدہ پیلے گلاب کا انتخاب کرتی ہے،
اپنی سفید چھڑی سے
یہ تو ہمیں پتا ہے
،موت کا خود رو درخت پوری طرح جڑیں پکڑ چکا ہے
اور اُس کی شاخیں تک دکھائی دینے لگی ہیں
ہمارے خوابوں کی آنکھوں اور کانوں سے
ہمیں اونٹ بنانے کی کوشش مت کرو،
ہم کچھوے ہی رہیں گے
اس ریت پر جو ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی
اور جس دن یہ ریت ہمیں چھوڑ کر چلی جائے گی،
ہم ایک حکایت میں تبدیل ہو جائیں
جو کسی کی سُنی ہوئی بھی ہو سکتی ہے

Image: Daehyun Kim
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By انور سِن رائے

لکھاری اور صحافی انور سن رائے نے کراچی یونیورسٹی سے صحافت کے شعبہ میں ماسٹرز کی۔ انہوں نے نظم اور افسانہ نگاری سے ادبی مقبولیت حاصل کی۔ ان کا ناول "چیخ" سیاسی استبداد، ایذارسانی اور خدّامی کے موضوعات کو چھیڑتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا ناول "ذلتوں کے اسیر" شائع ہوا۔ انہوں نے بی‌بی‌سی کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور نظمیں، افسانے، اور تراجم شائع کیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *