اپریل کی ایک نظم — نصیر احمد ناصر
نصیر احمد ناصر: ہم اپریل میں پیدا ہوئے لیکن ہماری موت پتا نہیں کس ماہ، کس موسم میں ہو گی
نصیر احمد ناصر: ہم اپریل میں پیدا ہوئے لیکن ہماری موت پتا نہیں کس ماہ، کس موسم میں ہو گی
عظمیٰ طور: میں نے طویل چیخ کے بعد چیخ کے خلا کو پر کرنے کے واسطے قہقہوں کے کئی بڑے…
غنی پہوال: اُداسیوں کی بانجھ آنکھیں روشنی کو حاملہ کر کے دیمک کی چال سے اندر بھیج رہی تھیں
ایچ-بی-بلوچ: جب تک ہم زندہ رہیں گے خواہش موت کی أنکھوں میں مکڑی کے جال بنتی اور سنگینوں کی نوک…
سات زمینوں سات آسمانوں کے پار خدا کی انگلیوں پر جو ہمارے گناہ ثواب اپنی پوروں پر گن رہا ہے
اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے…
ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں…
تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام…
بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب چہرے سے چھلکتا ہے، وصل اور ہجر کی درمیانی…