ایک بے ارادہ نظم

نصیر احمد ناصر: بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے
خلا میں لڑھکتی زمین

ثروت زہرا: زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
اک کسی دن

سوئپنل تیواری: سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے
ہم اپنے زمانے سے بچھڑے ہوئے ہیں

نصیر احمد ناصر: ہمیں کس نگر میں تلاشو گے
کن راستوں کی مسافت میں ڈھونڈو گے
خواب کا ڈمرو

رضی حیدر: ڈارون کی لاش پہ تانڈو ناچ رچانے والا بندر
پوچھ رہا تھا
نیٹشے کے یبھ کو سن کر زرتشت نے آخر بولا کیا تھا
اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

نصیر احمد ناصر: اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے
مجھے نہیں معلوم

مصطفیٰ ارباب: ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے
شاعر

حسین عابد: دروازوں، رستوں اور پرندوں نے
مجھ سے ایسی باتیں کیں
جو مسحور آپس میں کرتے ہیں
گیت بنتا رہتا ہے

سوئپنل تیواری: انتظار سُر ہے اک
مدّتوں جو اک لے میں
خامشی سے بجتا ہے
وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا
سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!

نصیر احمد ناصر: سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!
مجھے تم دُور لگتے ہو
عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

ادریس بابر: وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں
کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

تالیف حیدر: اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔
کون بتائے گا

ثاقب ندیم: آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے