میرے پاس کیا کچھ نہیں

ابرار احمد: تمھاری اس دنیا میں میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے
وقت
اور تم پر اختیار کے سوا
ایک وقت آتا ہے

نصیر احمد ناصر: ایک وقت آتا ہے
جب آدمی
سب کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہ جاتا ہے!
ایک گناہ کی اجازت

صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
صلاح الدین درویش:خواب نامے کا دیباچہ

حفیظ تبسم: اے بزرگِ انسان و کائنات
ہمارے خواب حدود سے آگے نکل چکے ہیں
انھیں مرنے سے بچالے
کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی
شام دروازہ بند کر دیتی ہے

سرمد بٹ:
مکھیاں اس سیارے سے اڑ کیوں نہیں جاتیں
اکتا کر
یا بدہضمی کے ڈر سے
یا کم از کم میرے گھر سے
ایک تلوار کی داستان

افضال احمد سید: یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!
کور چشم ولدیت

صفیہ حیات: میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

سدرہ سحر عمران: میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں
آگے بڑھنے والے

ابرار احمد: آگے بڑھنے والے نہیں جانتے
کہ آگے بڑھا جا ہی نہیں سکتا
یاد ایک جھولنا ہے

عمران ازفر: تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے
میں جا چکی ہوں

نسیم سید: میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں
آج کے دن

تنویر انجم:فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو
مٹی کی بد ہضمی

صفیہ حیات: امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ہے