Laaltain

صدف فاطمہ کی دو نظمیں

صدف فاطمہ: تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتے

جنگل کے پاس ایک عورت

افضال احمد سید: نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی

زہر کی پھانک

صفیہ حیات: ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟

آدمی قید ہے

تصنیف حیدر: آدمی قید ہے
وقت میں، خون میں، لفظ میں
آدمی قید ہے

رات کی بے بسی

صفیہ حیات: میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے
وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر
اپنے گھر کا رستہ بھول جائے

عشرہ // ہمیں دفن کر دو

ادریس بابر: خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟
 اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

مردہ انگلیوں کی وکٹری

سلمیٰ جیلانی: آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں

ہوائیں حاملہ ہیں

ثروت زہرا: ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟

نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام

صدف فاطمہ: اگر نئی شاعری کا دلجمعی سے مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کے نئی شاعری میں معنیات کی سطح پر بکھرنے کا جذبہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو

کچرے کی حکومت

زاہد امروز: جب اس ہنگامے کا شور
ہماری نیند آلودہ کرتا ہے
ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں