اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے اِک اکلوتی پینٹنگ […]
آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے جس پر تم ہو اس اونچائی کے نیچے بہت سے درخت ہیں انسان ہیں اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں مگر تم اوپر ہو اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں تم […]
آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے ‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’ ماٹی قتل کریندی یار آدمی سو رہا ہے آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے آدمی جاگ رہاہے آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے بچہ تصویر بناناکھیل رہا ہے بچہ آدمی کی تصویر بنا رہا ہے بچہ فیڈر پی رہا ہے […]
Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں مگر تم نے کبھی سوچا ہے! تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر […]
جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ بلاشبہ وہ بہت اچھا ہے میری کتھا سن کر رودیتا ہے آج کل اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔ ونٹر کی چھٹیوں میں اسے گھمانا ایک الگ کام ہے روز شام کو یہ کہتے ہکلا جاتا ہے کہ آج کسی کو ڈنر پہ لے جانا […]
خواب اور دیگر عشرے (رحمان راجہ)

ع//خواب کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب اپنے پورا ہونے کے امکانات ساتھ لیے پھرتے ہیں تمھارے خواب دیکھنے کے لیے میں رات کا انتظار نہیں کرتا نرم بستر آنسووں کو خوابوں سمیت جذب کر لیتے ہیں تمھارے خواب تنہائی یا ہجوم کہیں بھی دیکھے جا سکتے ہیں میں تمھارا خواب کینٹن میں تمھارے […]
سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں […]
ایک لمحہ کافی ہے (حسین عابد)

کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی ہنسی پر ٹھٹھکتے محبوب آنکھوں میں جھانکتے پکی خوشبو اور معصوم آوازوں کے شور میں بدن سے دن کی مشقت دھوتے یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی ندی کے ساتھ چلتے جس کے کناروں کی گھاس پانی میں ڈوب رہی ہو وقت کی دھڑکتی تھیلی میں پڑا ابدی […]
میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے جب اس کا دم گھٹنے لگے تو کھڑکی پہ پردہ ڈال کر مدھم روشنی کو اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے ایک آخری کام رہ گیا ہے تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر زمانے […]
سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ تمہارے لہجے کی طرح نیلا کیوں ہے؟ ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے […]
میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر دم سادھے چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں میں کھلے اور پھیلے ہوئے برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا معذرت کے ساتھ مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے […]
جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Eugenia […]
زندگی کی کشمکش (رضوان علی)

مجھے ہر سمت سے کھینچا جا رہا ہے رسیاں میرے نتھنوں میں بھی نکیل بنا کر ڈال دی گئی ہیں میرے جوڑ اب مجھ سے الگ ہونے والے ہیں کیا میں یہ سب کچھ سہہ پاؤں گا؟ میں تھکنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتا لیکن مجھے مرنے سے پہلے تھکایا جا رہا ہے کبھی اس […]
hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا نصف صدی کا عرصہ انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا […]
سیدھی بارش میں کھڑا آدمی (حسین عابد)

بارش بہت ہے وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی دماغ کے گودے میں اور دل کے پردوں میں چھید کرتی پیروں کی سوکھی ہڈیاں چھید رہی ہے میں چاہتا ہوں چھت پہ جا کر لیٹ جاوں اور سوراخوں کو چھلنی وجود کے بوجھ سے بند کردوں مگر سیدھی بارش کی میخوں نے پاوٗں بہتے فرش […]