ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی اعداد ہیں تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو […]
زنہار (رضی حیدر)

چھپکلی چیختی ہے رفت کی بے خوابی سے ٹڈیاں کاٹتی ہیں رات کے گونگے پن کو سرد صرصر کی زباں رونگٹوں کو چاٹتی ہے لاکھوں زندوں کی تمناؤں کے ڈھانچوں کا ثمر لاکھوں مردوں کی نفس بستہ بقا تکنے کے بعد میں کہ ہوں، ہوں بھی نہیں پھر بھی جیے جاتا ہوں وہ کہ ہے، […]
دیوارِ دوست (زاہد نبی)

تیری دیور پہ لکھا ہے سارے دکھ اندر نہیں تھوکے جا سکتے میرے دوست! میں تیرا اگال دان ہوں اور گرتی ہوئی دیوار کا سایہ سنبھالنے آیا ہوں کسی جا چکے دوپہر کے لیے جانے کتنی مکھیاں اڑانا ہوں گی یہاں کی بھیڑ میں نگاہ بھر جگہ بنانے کو اور اس میں چنوائی ہوئی سرگوشیاں۔۔۔ […]
ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“1/2”][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1475943083005{background-color: #e0e0e0 !important;}”] Heritage Life was bequeathed a love of mirrors And mirrors hold her love’s reflections. Life will ever gaze at reflections, Will ever kiss Love’s frozen shapes. Smash the mirrors to touch Love’s warmth! But Life was bequeathed a love of mirrors. Translation: Dr. Rizwan Ali […]
ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں لیکن اکاس گنگا کے اَن گنت اَن بُجھ ستارے لُک چُھپ لُک چُھپ کھیلتے رہتے ہیں!! Image: Suzanne Wright Crain
دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں ادھوری لذت سو رہی ہے میں اِس کی نیند کو طُول دینا چاہتا ہوں لیکن ایسا مُمکن نہیں اپنے طے شُدہ اوقات میں یہ بیدار ہو جاتی ہے اپنی تکمیل کی جُست جُو میں اُس بدن کے حُصول میں لگ جاتی ہے جس میں ادھوری لذت کا بقیہ حصہ سویا ہوا ہے دو […]
ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے ادنیٰ ہونے کا مطلب؟ تو سنو! یہ ایسے ہے جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد تم کھڑکی کے قریب پہنچو اور ایک پُر رعونت بوڑھا چھڑی کے اشارے سے تمہیں ایک جانب ہٹا دے جیسے پولیس والا تمہیں بھیڑ میں سونگھ کر الگ کرے اور جامہ تلاشی پر دس […]
آسان رستے کا مسافر

حسین عابد: خون کی ہولی کھیلتے
اس کی چمکتی بتیسی میں
مردہ آدمی کے دانت کچکتے رہتے ہیں
آزُوقہ

نصیر احمد ناصر: ایک زمیں کے ٹکڑے سے بھی
کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے!
خوشی/ اداسی

جیون ایسی کتھا جس میں خوشی اور اداسی کے سائے ہمہ وقت گڈمڈ رہتے ھیں پل دو پل کو خوشی کا سورج افق کے پار ابھرے تو اداسی اپنے طویل پنکھ پھیلاتی ھے اور دل پر اندھیرے کا کبھی نہ ختم ھونے والا راج پاوں پسار لیتا ھے مگر پھر کوئی ننھی کرن مسکراتی ھے […]
بلبلے

سلمیٰ جیلانی: بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے
گالی

مصطفیٰ ارباب: میں
کبھی نہیں جان سکا
گالی
جذبے کی کون سی سطح ہے
اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

کومل راجہ: اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

سرمد بٹ: یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں
اب جان کر کیا کرو گے؟

نصیر احمد ناصر: درد کی لَے میں
ہوا صدیوں پرانا گیت گاتی ہے