ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ مر جاتے ہیں ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں اور […]
اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے تم پر خدا کی عنایت ہے میں رجیم کا شہنشاہ ہوں تم ستم شاہ گناہ سے […]
ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو اپنے جوتوں کی نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر دبائیں تو نفرت کی نیلی نہر پھوٹ پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کی گم شدہ پازیبیں ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں ایک دوسرے کو ہجر […]
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا (سرمد بٹ)

اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار میرے یار تم جیو بہتر سال میری اس wish کے پیپھے ہے ایک selfish cause تمھاری آواز جس میں دیکھی میں نے اپنی ناک نہ تم گرہباں چاک نہ میں گریباں چاک اother is not the hell meri […]
فرق کی موت (حسین عابد)

زندگی اور موت میں ایک سانس کا فرق ہے ایک سوچ کا سانس اکھڑ سکتی ہے انکاری دل کی دہلیز پر پس سکتی ہے آخری دانے کی طرح روزمرہ کی چکی میں ضبط ہو سکتی ہے ہیرے کی طرح بحقِ سرکار چھلنی ہوسکتی ہے سستے مذاق کی طرح امپورٹڈ مشین گن کے قہقہے سے سوچ […]
یہ شام بکھر جائے گی (ابرار احمد)

ہمیں معلوم ہے یہ شام بکھر جاے گی اور یہ رنگ۔۔۔۔ کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے یہ زمیں دیکھتی رہ جاے گی.. قدموں کے نشاں اور یہ قافلہ۔۔۔۔۔ ہستی کی گزرگاہوں سے کسی انجان جزیرے کو نکل جاے گا جس جگہ آج تماشائے طلب سے ہے جواں محفل رنگ و مستی کل […]
خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!! دعا قبول ہوئی ہم ایک نئی سرزمین پر اترے جو بہت حسین تھی پھر ہمیں ایک خدا اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی! ہمارے قدموں […]
واشنگٹن کی کالی دیوار (نسیم سید)

اپنی فیروز بختی پہ نازاں سیہ پوش دیوار پر آب زرسے لکھے نام پڑھتےہوئے میری آنکھیں پھسلتی ہوئی نیہہ پر جا گریں الغِیاث! الاَماں! ایک بستی کے جسموں کا گارا سیہ ماتمی مرمروں کے تلے اس کی بنیاد کا رزق تھے زائرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوُق در جوُق اس غم زدہ دل گرفتہ کو اشکوں کے نذرانے دیتے […]
درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی مگر جب چاہت بھری تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں امید کے پودوں میں پھول لگنے کا موسم آئے تو چپکے سے مجھے کسی کیاری میں بو کر پھر سے […]
ایک خسارے کا احوال (اسد فاطمی)

وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛ قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے! زبانِ تشنہ کہ پُرسکوں تھی، سپاٹ چہرہ، نہ ہاتھ میں کپکپی تھی، آنکھوں میں اضطرابِ شکست کا شائبہ نہیں تھا، کہ جیسے دہقان پکی فصلوں کو مینہہ برسنے کے بعد دیکھے کہ جیسے وہ فرش […]
نظموں کے لیے ایک سباٹیکل (تنویر انجم)

آپ کا کام خاصا توجہ طلب ہے ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے پڑھانا باقی تیس گھنٹوں میں دنیا کے مشہور شاعروں اور ادیبوں پر تحقیق کرنا اور کروانا کانفرنسوں میں جانا سیمینار کروانا پینلز میں شامل ہونا بین الاقوامی جریدوں کے لیے مضامین لکھنا اور آپ کو تنخواہ کے علاوہ ملے گا ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں ایک […]
بہترین/ بدترین وقت (ایچ — بی- بلوچ)

ہمارے بہترین وقت میں ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں اور ہمارے برے دنوں میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے ہمارے برے دنوں میں ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ہماری بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں ایک شہزادی کو انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے ہماری سانسوں میں پتھر باندھ […]
گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا گلوب کے کس حصے میں گرا یا اس کی سطح میں جذب ہو کر رہ گیا جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر زندگی نے اُن کے ٹکڑوں […]
تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر مَیں اکیلا ہی ہوں اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے باقی سب ہمسفر شاید ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگیں گے تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟ کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز […]
خواب میں اِک بازار لگا تھا (عظمیٰ طور)

آنکھ لگی تو خواب میں اک بازار لگا تھا طرح طرح کے اسٹال لگے تھے ایک ریڑھی پر کوئی مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا محبت کی قیمت اتنی کم تھی سنتے ہی میں رو پڑی تھی احساس بیچنے والا مجھ سے نظریں نہ ملا پایا دل کی دھڑکن اپنے بکنے پر نالاں تھی […]