Categories
شاعری

اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں
ابھی تو جنگ جاری ہے
ساری فوج تمہاری ہے
پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے
باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے
میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے
میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے
تم پر خدا کی عنایت ہے
میں رجیم کا شہنشاہ ہوں
تم ستم شاہ گناہ سے ماورا
تمہارا ستم اندھا دھند دھندلاتا ہوا
میری کوکھ میں میرے ادھ مرے بچوں پر
بارشوں کا برسنا لے کر اترا ہے
مگر فکر نہ کر میرے دوست
میری ایک زبان باقی ہے
میری انگلیوں میں کچھ سانس آتی ہے
میں بوڑھی عورتوں کے سینے میں سے
ہمکتی بددعا بن کر چمٹ جاؤں گا
جراثیم تک کی حد تک اتر آؤں گا
کیونکہ میں جیت سے ہار تو گیا ہوں
ہار مگر مانا نہیں ہوں
اسی ضد سے آؤ کرو عہد مجھ سے
ابھی تو جنگ جاری ہے
موت موت ہے اسے مارو گولی
جنگ جنگ ہے
اور جنگ جاری ہے
Image: Fadi Abou Hassan

Categories
شاعری

کفارہ

ایک شور ہے
ہمارے درمیان
چپ چاپ بیٹھا ہوا
جیسے
کسی کائنات کا وقت ہو
چپ چاپ بیٹھا ہوا
نہ تماشائی ہے
نہ مداری ہے
یہ کہانی کار ہے
یہ توڑنے جوڑنے کی خصلت کی قدیم روایت
کا باپ ہے

میں بزدل نہیں ہوں
میں اپنے گناہ کی گرفت میں ہوں
میں اعلانیہ کرتا ہوں
اپنی بقیہ روح کا سودا
صرف پانچ سال دے دو
کچھ چیزیں پیچھے توڑ آیا ہوں
کچھ غلطیاں جوڑ آیا ہوں
تم خدا ہو ماؤں والے تو جانے دو
مجھے اپنے پرانے ہاتھ توڑ کر آنے دو
اپنے شکار واپس جوڑنے دو
اگر تم خدا ہو ماؤں والے
تو کرلو سودا
تمہارا کیا جاتا ہے؟
تم تو شور ہو
چپ چاپ بیٹھے ہوئے
تمھارے توڑنے جوڑنے کی کونسی پکڑ ہونی ہے
پکڑ ہونے کے لیے دل ہونا چاہیے

Image: Andrey Bobirs

Categories
شاعری

چورن

چورن

زندگی جس چوک پر زور و شور سے
لگی ہوئی، پھٹی پڑی ہوئی ہے
اس طرف جانے کی گلی نہیں ہے
وہاں زندگی شیشوں میں کھڑی ہے
الیکٹران اور فوٹان نے جنی ہے
ان میں ہمارے عکس گلے ملتے ہیں
پھر واپس اندر آکر بیٹھ جاتے ہیں

ویسے بھی
یہ زمین
یہ نیم گرم پتھر
بنتِ مہاتما کنکر
ایک دھماکے میں لٹکی ہے
سلو موشن میں چلتی ہے
جیسے کوئی متعجب ماں کھڑی ہے
مادر خور بچہ جن کر

اس پر پھرتا ہے
میرا اور تمہارا
آدمی کی شکل کا آدمی
آدمی کا دھبہ آدمی
جو زندگی کی طرح کی
ایک اور چیز جی رہا ہے

میرے اور میرے واقعہ کے درمیان
واقعہ کی تصویر کھڑی ہے
تصویر نے مصّور کو گھڑا ہے
مصّور تصویر کی دائی تھی پچھلے جنم میں
تصویر کے سامنے
آدمی کی شکل کا آدمی کھڑا ہے
تھو! تھو! کا مجسمہ کھڑا ہے
آدھا تیتر اور باقی
گیدڑ کھا گیا بٹیر
معاملہ بہت بکھرا ہوا ہے

ہر کوئی زندگی میں بھرتی ہو رہا ہے
دھرتی دھرتی بھرتی ہو رہا ہے
زندگی ڈکار مار کر، وحشی
جس چوک میں کھڑی ہے
اس طرف جانے کی گلی
شاہراہ بن گئی ہے
آئینے کو بولو
عظیم عفریت
السلام علیکم

چودہ ارب سال
مجھے پتہ چلنے سے پہلے
ایک لمحے میں گزرے ہیں
میں اور تم
اب دوسرا لمحہ ہیں
ہم دیواریں ہیں
لمحہِ دھڑام میں بند
اپنے انتظام میں بند

اور چودہ ارب سال گز لمبی
ایک ڈوری
میرے بھی پاؤں میں بندھی ہے
اور میں ایک دھماکے میں کھڑا ہوں
تم بھی وہاں اپنے دماغ کے اندر
کسی ایسی ہی جگہ کھڑے ہو؟

ہماری آنکھیں
جدی پشتی حیرت کی ماری
ہانپتی کانپتی
سستی ہو گئی ہیں
کیونکہ کائنات کا مقصد ہے
شاید چیزوں کا سستا ہو جانا

ہم گونجتے ہوئے لوگ
نہیںِ مجسم
ہم وہ بیمار راتیں بن گئی ہیں
جو اپنے چاند کو پناڈول کی طرح
غٹک جاتی ہیں
پھر اندھیرے کو کھا جاتی ہیں
اکیلی رہ جاتی ہیں

خالقِ سانسِ اول
گوشت کی اماں پتھر بزرگ
جیسے کوئی جیم کھڑا ہے
اپنے باغی نقطہ کو
محبّت سے گھیرے میں لے کر

جیسے رات ساڑھے گیارہ بجے
چھوٹے چھوٹے جیم
چھوٹے چھوٹے اکیلے پن میں
ٹریفک میں پھنسے
اپنی ہی گاڑیوں کے نرغے میں
چپ بیٹھے ہوئے ہیں

Categories
شاعری

بڑے دشمن کی دھوپ

آج صبح خبر نے کھایا ہے
میرا ایک اور دشمن
جو دوست
کسی گلی کے شرمناک میدانِ جنگ سے
تم نے کل رات اٹھوایا ہے
وہ پودا جس کی پکڑ سے پکڑنی تھی
میں نے اپنی ڈگر
تم نے اس کے پھول پر کانٹا مروایا ہے
میں تب سے اسکا خاموش لمحہ
گلے لگا کر بیٹھا ہوں
تم نے اسے خوف سے چپ کروایا ہے

یہ دیکھو
یہ دھیرے دھیرے اجڑتا ہوا
میری افزائش کا اسمِ اعظم
وہ سکتہ مجھ میں بھی اتر آیا ہے
جو تم نے اس کی سوچ میں چنوایا ہے
تمھیں سخت ضرورت ہے نہار منہ
خدا کا خوف کھایا کرو
کس باوقار نے آج تک
ایسے اپنا دشمن سدھایا ہے؟

تم میں اترنا باقی ہے
ایک لازوال نمو کا کلیہ
قسم ستارے کو توڑنے والے کی
بڑا دشمن
میرا سب سے اہم سرمایہ ہے
کبھی وہ دھوپ ہے
کبھی وہ سایہ ہے
یہ جنون میں نہیں لکھ رہا ہوں بھائی
میں نے اسے ایسے ہی نہیں اپنایا ہے

جس دیوار پر تھی میرے سر کی نظر
کس دل سے تم نے اسے گرایا ہے؟
جس کوکھ کی مہک سے دہکتا تھا میں
تم نے اس میں
موت کا بیج ڈالا ہے
کیسا منحوس حمل ٹھہرایا ہے؟
تم دیکھنا
جب اس سطح کی فتح کا جشن
تھم جاۓ
تو تم دیکھنا
تم نے خود کو وہی بنایا ہے
جس سے تم نے دامن بچایا ہے

میں اسی لیے محبت لگا کر لہجے پر
کہتا ہوں کہ اے میرے دوست
مرد کے بچے!
مرد کے بچے
بنو
یہ میرا بدن ہے
یہ میرے وقار پر لگا زخم ہے
جو تم نے میرے دشمن کی
پیٹھ کے پیچھے
دبنگ بدصورتی سے
غلط گھاؤ لگایا ہے

قسم ہے ستاروں کو جوڑنے والے کی
بڑا دشمن
دھوپ لگی مٹی ہوتا ہے
خدا نہ کرے تم پر اترے نصیب
کسی کا چھوٹا دشمن ہونے کا
یہ اپنی نوعیت کا
عجیب ہی عذاب ہوتا ہے

Image: Salvador Dali

Categories
شاعری

بارہ سال کی ماں


[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بارہ سال کی ماں

[/vc_column_text][vc_column_text]

دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

 

آج گلی میں کچھ منٹ کے پھندے سے
جھولتی لاش کو تالیاں بجاتے دیکھا ہے
ایک طمانیت اتری ہے غلط جگہ پر
موبائل فون کے ٹاور پر چڑھ کر نوعِ انساں
اناالحق کے نعرے لگاتی ہے
تمام آوازیں ٹکرا کر واپس آجاتی ہیں
وقت اپنے بچے کھا کر اتنا بڑا ہوا ہے
میرا عضوِ تناسل، میرا بچہ
وقت کو للکارتا ہے

 

زمین چپٹی ہے
اس پر بسنے والے تمام ہنسنے والے چپٹے ہیں
خدا ایک بھوت ہے
اور جو ہے وہ بھوت بنگلہ ہے
جس میں تمام شخصی سچائیاں جھوٹی پرچھائیں پہن کر
چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں
خدا بارہ سال کی لڑکی ہے
میں بھی بارہ سال کی لڑکی ہوں
میں نے مرد کا خون پیا ہے
میں نے اپنا باپ کھا کر خود کو جنا ہے
میں جاپانی جنسیات کی وحشت پر کھلتا ہوا پھول ہوں
میں ندامت ہوں زانیوں کی، حرامیوں کی
شرابیوں کی، دیواروں کی
اور ان دیواروں میں چنی ہوئی عورتوں کے تھوک کی گلابی خوشبو کی
میری روح میرے بدن سے چھوٹی ہے
میرا عیش گرتی عمارتوں کی چیخیں ہیں
میں نے چائنا کے خداؤں کی چڈھیوں میں دیکھا ہے
کالا دھواں، دھرتی ماں کا غصہ

 

دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

 

خدا کرے میری پستان میں وہ کشادگی پیدا ہو
کہ میں ہر ایک نظم کو اپنے ابلتے جسم میں چھپا لوں
خدا کرے میرے ہاتھ فولاد کی چیخیں بن جائیں
میرے دانت جوہری دھماکوں سے پرورش پائیں
اور میں ایک ایک ہندسہ چبا کر تھوک دوں
میں ہندسوں کی بھوک جس سے بلکتی ہے نظموں کی چھوٹی روح
میں انکا گلا گھونٹ دوں
کاش میں ایسی ماں بن سکوں
جس نے کہکشاں پھٹنے سے جنم لیا ہو
جو کبھی ایک کو دو نہ ہونے دے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جب میں ہارا تھا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جب میں ہارا تھا

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں بوتل میں بند کیڑا ہوں
پانی کے الٹے گلاس میں بلبلاتی مکڑی
اب آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں
مگر آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے
البتہ میں تمہیں
بارشوں کی موسیقی
اور بادلوں کی ہچکیوں میں
آج بھی دیکھ رہا ہوں
دو قدیم نو آموز رقاص
ٹوٹتے سروں میں ایک سے دوسرے میں
تحلیل ہوتے ہوئے

 

میری تمام ڈوریوں کے سرے
یہ میرے کیڑے بننے سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو
تمہارا ستارہ
تم ہی میں بند ہے
تمہیں ستارے سیارے اچھے لگتے ہیں
تب میں بھی ایک سیارہ تھا
لیکن اب بات بدل گئی ہے
تقدیر کے حاشیوں میں
باتیں بدلنے کی ریت ابھی تک زندہ ہے
اب میں کیڑا بن کر بوتل میں سرپٹ
مکڑی کی ندامت
بس تمہیں دیکھ سکتا ہوں
خدا کرے
خدا نہ کرے
تم اوجھل ہو جاؤ

Image: Joan Miro
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گندی روح روتی رہے گی؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گندی روح روتی رہے گی؟

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم
جس کی ہڈی ہڈی پر
گوشت اور چربی پر
روح اور گرمی سردی پر
میرے تمام گناہ فرض ہوئے ہیں
تم
سانسوں کی مشقت میں گھنٹی بجو گی؟

 

قصّے مختصر کرنے والے
میری کہانی میں جان ڈال دے

 

اے چشمِ قدر
تمھاری بینائی نے مجھے جنا ہے
خدا کے لیے
اب پلک جھپک لو
خدا کی قسم
میرے ماں باپ نے جھوٹ بولا ہے
میں نے اس دلدلی گہرائی سے جنم لیا ہے
جس کے پانیوں پر زندگی مایوس بیٹھی ہے
میرے سینگوں پر شیطان کے بھجن لکھے ہیں
میری زبان پر خدا کی حمد و ثناء ہے
جسم رکا ہوا اور روح رواں ہے
میں کھینچا تانی سے بنا ہوں
مجھے توڑ کر دیکھو
ایک حیران دباؤ ہے بڑھتا ہوا
میں اپنے واقعے سے الجھا ہوا ہوں
تم مجھے بچا سکتی ہو

 

فرشتے
اپنے پروں کو آگ لگا کر
وقت کا سور بھون رہے ہیں
ایک جانور
اپنی زمین پر تھوک کر
مرنے چلا ہے
اور خدا کی تمام نظمیں
لمبائی میں لیٹی
دھوپ سینک رہی ہیں
گرد و غبار میں اٹا ہوا
یہ منصوبہ نفرتوں کا
محبتوں سے سینچا ہوا
اپنے اختتام کو کھرچتا ہوا
پوچھتا ہے
مجھ پر انصاف کون کرے گا؟
ہے کوئی کالی روح کا سفید جسم؟
جس کی آواز میں
گھنٹی بج سکتی ہے
جو مجھ پر
سورج چھڑک سکے
یا یہ گندی روح روتی رہے گی؟

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بکھراؤ کا مرکز

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بکھراؤ کا مرکز

[/vc_column_text][vc_column_text]

آنکھیں ٹھنڈی پڑی ہیں
انگلیاں پکے پھلوں کی طرح
ایک بٹن سے گر کر
تمہاری دیوار پر اترتی ہیں
جیسے کوئی لال بیگ
سوچ کے بدن پر چلتا ہو
جیسے ایک آدمی، آخری بار
جلتا ہوا
میں کہتا ہوں خدا کے لیے!
اپنے لیے!
مجھے!
میرا منظر تو دیکھو!

 

محبت کی پری
سر کٹی
دیوار سے لگی
ہاتھ جوڑ کر روتی رہی
جیسے انکساری
سہیلیوں سے عاری
ہاتھ پیر پھینک کر پڑی ہوئی
اور غرور کی ڈھیری سے اس پر چھلانگ لگاتے
یہ میرے وقت کے فرعون، یہ موسیٰ
یہ خضر، یہ خدا کے سینے پر دلتے ہوئے
مونگ کی دال، یہ انگارے، ان کی ڈھیٹ ننھی سی آگ
یہ کانٹ کی ہڈیوں سے جادو کر دیں
یہ گوتم کو گھول کر پی کر الٹی کر دیں
سات ارب بکریوں کی میں میں
طوطوں کی ٹیں ٹیں
خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو
سعد بھائی! میرا گلا گھونٹ دو
مجھ سے اور نہیں دیکھا جاتا
یہ توجہ کا بازار ،گرم، اس کا جسم، گرم
اور اس پر پھنکارتے لوگوں کا جھنڈ
اور ان لوگوں میں ٹھٹھے آدمی
گرم محبت کی پری کا گلا کاٹ رہے ہیں
اور تمہیں کیا؟
تمہارے لیے تو سب غیر اہم ہے
منگل کے دن کی طرح

 

مٹ گیا ہے مجھ پر سے
خدا کا دستخط
مٹی منہ بنا کر کھڑی ہے
بڑے افسوس کی بات ہے
میرے گوشت پر خدا نے جان لگا دی ہے
میں تو رگڑ رگڑ کر اس میں سے جن نکالتا ہوں
یہ سانس دھکّے سے بنی ہے
میں اپنی باتوں کا خون بیچ کر
اپنا دن خریدتا ہوں
یہ لاکھ کا لفظ
دو روپے کا ہے

 

چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے

 

اور یہاں
اس درویش زنانیت میں چودہ طبق ہنہناتے ہوئے
روز ایک چاند ذبح کرتے ہیں
میرے غسل کے لیے لال چاندنی
رات کی لاش پر بہتی ہوئی
اور سورج، کتنے ہی
اپنی دھوپ چھڑکتے ہیں
مگر
جیسے وقت ٹوٹا تھا
پہلی دفعہ
زندگی کا یہ ریسر
سفید ربن
اپنے سینے پر توڑے گا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

چلو کوئی بات نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

چلو کوئی بات نہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

ڈھا دو یہ دن اور اس دن کی آستین میں بلکتے سانپ
اور ان کے سنپولوں سے میری پرانی دوستی کی دیوار
اور بہا دو مجھ پر رات اور رات کے اکیلے جنازے
جن میں کھڑے لوگوں کے آدھے جڑے شانے
اور ان شانوں پر کئی سورجوں کی مکّاری کا بوجھ
میں کہتا ہوں کہ تم ڈھا دو بہا دو مجھ پر
میں وقت کی لکیر، وہ ممکناتِ عدم سے کھنچی ہوئی
وہ شہرِ ششدر کی فصیلوں پر بجھی ہوئی
اس لکیر کی پیمائش پر مامور حیرت
اور اس کا پہلا آخری سفر
میں اس پر چمٹ کر بیٹھا ہوا
نرم پانیوں کا کچھوا
میں سکوت کے آخری چند لفظ کی استعارہ آواز میں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں

 

تمہیں کیا پتا میں نے کتنی زمینیں
اور ان زمینوں کے حاتم آسمانوں میں کتنے سناٹے سیاروں کے
بھیک مانگتے اندھیرے
جلا دیے ہیں
ایک “چلو کوئی بات نہیں” کو ڈھونڈتے مانگتے
میں نے ہدایتوں کے شکایتوں کے
وہ دیوان کیے ہیں مرتب
کہ سفینہِ نوح کے لواحقین
ٹوٹتے سورج تک نصیحتوں کے لیے
آسمان کی چادر نہیں کھینچیں گے
تمہیں کیا پتا ان دلدلوں کا کہ جن میں
اپنے ہزار اجسامِ فلکی و مٹی
میں ڈوبتے چھوڑ آیا ہوں
وہ دیواریں کہ جن کے مرکز کی آخری اینٹ میں دبی ہے اندوہناک خاموشی
اور ادھر اس خاموشی کے پہلو میں چنا ہوا
ادھر آگے تم سے ہمکلام ہنستا ہوا
میں المیہ ساز، کہانی باز
اپنے سراب چھوڑتا ہوا جا رہا ہوں

 

تم میری جیب میں چھنکتی دھوپ کو دیکھو
یہ منحوس روشنی میری تمہاری ہوئی یہ لو!
میری جرابوں میں اڑسے اندھیرے
ایک “چلو کوئی بات نہیں” پر دان ہوں گے
تمہارے ہاتھوں کی لکیروں کے تخیل میں ڈوبتے جہازوں پر کھڑا ملاح
میری کشتی کو مانتا نہیں ہے کشتی
مجھ فقیروں کے سناٹے قافلے
رکا نہیں کرتے
ایسی لکیروں سے جڑا نہیں کرتے

 

اے محبت کے راگ اور تمہاری الاپ
تمہاری کاٹ اور جوق در جوق کٹتے پھوٹتے ہوے آدمیوں
کی بھاپ
تمہاری بند آنکھیں
ان سے وضو کرتے پتھر
اور ان پتھروں کے مقدر میں لکھے سر
ان سروں کی قسم
یہ میرے ڈوبنے کا منظر ہے
یہ رات کا پینتالیسواں گھنٹہ
ہزارویں دفعہ بجا ہے
اور تم اترتے ہو
میرے اثرات کے پردے سے
ایک خداِ بزرگوار کی طرح
ہاتھ بڑھا کر تھامتے ہو
مسکرا کر کہتے ہو
“چلو کوئی بات نہیں”
اور جرابوں میں اڑسا
اندھیروں کا ملبہ
پہلی اینٹ پر
رکھتا ہے
دوسری اینٹ کا تصّور

Image: Daehyun Kim
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

سرمئی شام میں گھٹی چیخیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سرمئی شام میں گھٹی چیخیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

دھلے ہوے اجلے روشنی میں اٹے ہوے
لفظ لکھ کر کیا بتاؤں؟
میں ایک دفعہ پھر ہار گیا ہوں؟

 

میں نے سنا ہے
ایک شام ہے سرمئی سی سبز قدم
جو آتی جاتی رہتی ہے
اس شام نے مستقل
مجھے دیوار چنا ہے

 

میری ہڈیوں کے ایمان لرز گئے ہیں
جیسے شہروں میں زلزلے آ جائیں
میرا گوشت گھبرا گیا ہے
پرانی شکار گاہ میں جیسے
کوئی پتہ ہلا ہو

 

تمہیں لگتا ہے میں گر گیا ہوں
میں تو مستقل گر رہا ہوں
میری ہر دھڑکن اپنی
کلایاں کاٹ کر نکلتی ہے
سانس کا نیزہ
حلق کے دروازے پر رگڑتا ہوا
لفظ بن رہا ہے
اور ہر لفظ،
لشکری
مجھ سے دشمنی پر اترا ہوا ہے
یہ بول نہیں رہے
میں چنا گیا ہوں
کہ میں کتنا چلا رہا ہوں
کیا آفت ہے جو میرے معانی میں مچی ہے

 

میں بھوت ہوں
میں نے بھسم ہو جانا ہے
ایک دن چلتے ہوئے
اربوں کھربوں حصّے میرے
یوں
الگ ہو جائیں گے
تم ان کے ٹوٹے ہوئے رشتے یاد رکھنا

 

ہاتھوں کا وہ آخری بار مسلنا
وہ گردن کے اندر
مایوس سا درد
ہارتے جانے کا ڈر
جو اب تمہاری قسموں سے نہیں جاتا
وہ کہیں جانا ہی نہیں چاہتا
سرمئی شام نے مجھے مستقل
دیوار چنا ہے

 

یہ اندر بیٹھے ہوے لوگ
یہ باہر بیٹھے ہوے لوگ
یہ سب کے سب پاگل ہیں
کم یا زیادہ
آنکھیں دیکھنا ان کی
آنکھیں ہیں یا اینٹ پتھر کنکریٹ؟
ہم سب کی
ان پھٹی ہوئی آنکھوں پر
میں اور تم بھی ہارے ہیں

 

آج تیسویں سال کے چھٹے مہینے میں بھی
میں ہارنے کی روایت کا جھنڈا گاڑ کر کھڑا ہوں
مجھے لگتا ہے ہم سب ایک جنگِ عظیم کے
ہراول دستوں میں بھاگ رہے ہیں
ایک سرمئی شام کے اندر
ساکت جسم دیوار کے اندر
ایک جست کا خواب دیکھ رہے ہیں

Image: Devon Raines
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اس بڈھے کا وائرس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اس بڈھے کا وائرس

[/vc_column_text][vc_column_text]

راوی کے کنارے
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود!

 

انسانیت کی چھینٹوں میں
بٹن دبا کر
آدم زاد
الو کے پٹھوں کو
اپنے بدن جلا کر
اپنی خاک کی روشنائی
انگلی پر لگا کر
اپنے ماتھے پر
“زندگی زندہ باد!”
کا کتبہ لکھتے دیکھتا ہے
یہاں تک کہ
شہر کے قبرستان ڈکار مار کر
بدہضمی کے لیے
حکیم ہلاکو خان کے آگے
ماتھا ٹیک کر کہتے ہیں
“زندگی زندہ باد”

 

بادشاہ سلامت
مینڈک والی سرکار
سیڑھی بنانے کے نسخے
نگل کر کہتے ہیں
“یہ دیکھو!”
“وہ دیکھو”
اور آدم زاد
الو کے پٹھے
بھول جاتے ہیں
اپنا خلائی مخلوق ہونا
سیڑھی اندر پڑی ہے
اٹھا کر لاؤ باہر

 

ہر شہر
بغداد کا شہر ہے
ہر شہر کے باہر
ہلاکو بیٹھا ہے
کندھے سے بندوق لگا کر
پھلجھڑیوں والی
بہت دور تک اندر
شکار کے لیے اترتا ہے
میں کہتا ہوں کہ بولو!
آدم زاد الو کے پٹھوں
“ہلاکو زندہ باد”

 

راوی کا پاگل بڈھا
بیڑی میں میرے بھائی بہنیں
میری ماں اور بچے
لپیٹ کر کش کرتا ہے
جیسے کوئی بیڑی پیتا ہے
جھگّی میں ایک عورت اٹھتی ہے
بودلائی ہوئی

 

یہ مندر
ہرا ہرا مندر
پھانسی پر چڑھی گھنٹی
بابا جی کی جھنڈی
ہری ہری جھنڈی

 

میں دیکھو ایستادہ
بے ستونی سے
سکونی کھا گئی مجھے
اتنی مہنگی
ہلاکو کی گولی
ہولی ہولی
شہریلی گولی
کبھی میرا “س” گرا دے
میرا “د” گرا دے
مگر خبردار
جو میرا “عین” گرا ہو

 

راوی کا بڈھا
کہتا ہے “بیٹا
میں پورے چاند کے نیچے
بھیڑیے ذبح کر دیتا ہوں
اعصاب شل کبھی شیل کر دیتا ہوں
اپنے پتھر کھیتوں کی
آدمیاری کرتا ہوں
تم کس ہاتھ کی انگلی ہو؟”

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خدا یہاں تو نہیں ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خدا یہاں تو نہیں ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

زمین، موٹی کالی غریب عورت
گرمیوں کی دوپہر میں
جھنجھلا کر
آسمان کی طرف دیکھتی ہے

 

اس غریب کی بچی کو
سرطان کھا گیا
یہ اپنے بھوکے بیٹوں کے لیے
ناچ رہی ہے

 

زندگی کی موٹی تازی بھینس
میرے کندھوں پر چڑھ کر
“جیے سعد منیر!”
کے نعرے لگا رہی ہیں
کتنا بیمار منظر ہے

 

گوشت منا رہا ہے روحوں کا قحط

 

آنا(ر) کی انگلی
اور اس پر ناچتی ریت کی روحیں
سورج کا انجن
کونے میں گڑگڑاتا ہوا
اور ادھر سینے میں لگا جگاڑ
اپنی سے ایک کوشش میں
مجھے تمہیں جھونک رہا ہے
کچھ بھی نہیں ہونا
خدا کانٹا مار کر چلا گیا ہے

 

ایک ہی اندھیرے میں
ایک ہی صحرا ہے
تم یہاں بیٹھے ہو
میں وہاں بیٹھا ہوں
آواز دے کر دیکھ لو

 

خدا البتہ گزر گیا ہے
آگے نکل گیا ہے

 

ایک ایک طوفانِ دہشت میں لپٹا ہوا آدمی
خلا کے چوراہے پر بیٹھا
مٹی کو کندھا دے کر
دھاڑیں مار کر رونے دے

 

ہم مسلسل جنازہ ہیں
بے خدا دعاؤں کی طرح
بے خدائی کے منظر میں
سر پیٹتے ہوئے
دروازہ ڈھونڈتے ہوئے

 

دروازے پر کانٹا لگا ہوا ہے

 

تم اب مجھے مرتے ہوے دیکھنا

 

میں تمہیں دیکھ رہا ہوں
لفظ سے لفظ تک پھیلتے ہوئے
آگے کے تمام صفحات پھٹے ہوئے
اندر پڑے ہیں
جیسے سارے لوگ پھٹے ہوئے
باہر پڑے ہیں

 

تم نے میرا
میں نے تمہارا
خدا کِرکِرا کر دیا ہے

 

میں روح کا کھوٹا سکّہ چلا لوں گا
اپنے چھکے چھٹوا لوں گا
اس سنگترین رستے پر
دل چٹخا لوں گا
تڑخ گئی ہیں بھٹی میں سانسیں
ایک سستا شعلہ بھڑکا ہے
دل سینہ تڑا کر بھاگا

 

تقدیر ہکابکا
کچے کاغذ پر
گھڑی کے تیزاب سے
آپ بیتی لکھے

 

آنکھوں پھٹی ٹھنڈک ہے
اس خاموشی میں
ایک چیخ تنی ہے
بدن
بدن کر

 

جسم سجدے تان کر لیٹا ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے
سو
خدارا!
چلو اب تم کچھ بولو

Art work: Aluminum Boys by Gregor Gaida
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

موم بتی سے معاشقہ، اندھیروں کے بغیر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

موم بتی سے معاشقہ، اندھیروں کے بغیر

[/vc_column_text][vc_column_text]

اندھیرے
موم بتی کے
جنازے پڑھاتے ہیں
کوئی نہیں جانتا
موم بتی
اپنے شعلے نگل کر
اپنی بتی سے لٹک کر
خودکشی کر کے مری ہے
یا ناحق معصوم جلی ہے
ہو سکتا ہے
اپنے کفن میں دم گھٹ کر گھلی ہو؟

 

کوئی کیا کہہ سکتا ہے
اندھیرے کے امام بتاتے ہی نہیں
یہ شہید کی نمازِ جنازہ ہے
یا موم بتی کی سرکٹی لاش
خدا کی بستی کے سرہانے کھڑی ہوگی
یہ کرسچین قبرستان میں دفنائی جاۓ گی
یا باوضو مری تھی
اندھیرے کے امام کچھ نہیں بتاتے

 

مجھے لگتا ہے
موم بتی کی روح
سردیوں والی دھوپ میں
خدا کے زمینی چمکیلے دربار میں
رقاصہ بن جاتی ہے

 

مجھے لگتا ہے
موم بتی گونگی نہیں مرتی
اس کی سماع کی آخری محفل میں
اندھیروں کے رسولوں کی
جھوم دیکھو
ایسا لگتا ہے چاند
اپنی زمینوں سے باتیں کر رہے ہوں

 

موم بتی میں برقی روشنیوں کا چھوٹا پن نہیں
یہ رات کے آخری مورچوں میں
اندھیروں سے
آدھی جیت
آدھی ہار جاتی ہے

 

تم موم بتی کی نسل میں سے ہو
تمہیں تو پتا ہے
اندھیروں کی اپنی روشنی ہوتی تھی
جن کی ڈکاریں
اب برقی روشنیاں مارتی ہیں
موم بتی
انصاف پسند ہے
اس کی خودکشی حرام نہیں ہے

 

تمہیں معلوم ہے
موم بتی کے انصاف سے لے کر
امر برقیات کے جہنم پیٹ تک
آدمی کتنا آدھا، کتنا اندھا ہوگیا ہے
اندھیرے چھانٹ چھانٹ کر
میرے بچے ادھورے، امر روشنی کے سامنے
اکڑوں بیٹھے
حیوان گھنٹوں کی اذانیں دے رہے ہیں

 

انہیں کیا معلوم اندھیرے
موم بتی کے جنازے کیوں پڑھاتے ہیں
میرے اور ان کے کمرے کی برقی روشنیاں
سالی
مرتی ہی نہیں
کمروں کے اندھیرے چہرے
پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں
جیسے شہر کے آسمان روتے ہیں

 

تم نے اندھیرے میں اپنی
آنکھوں کے چھکے چھوٹتے دیکھے ہیں؟
بینائی کی توبہ کی آواز سنی ہے؟
اندھیرے میں انسان
اپنی اوقات سے لپٹ کر سو جاتا ہے

 

میں کیسے سمجھاؤں کہ کبھی
دیکھنے کے لیے روشنی بجھانی پڑتی ہے
عالمِ دید
منظروں کے دل
اندھیرے کے سینے پر بلکتے ہیں

 

تم زمین کو ٹھونک بجا کر دیکھ لو
کائنات کی پہلی سانسیں
آخری سسکی سن لو
کچھ مکمل نہیں ہوتا
اندھیروں کے بغیر

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

تمہاری گھٹن، تمہارے اندھیرے کے نام

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

تمہاری گھٹن، تمہارے اندھیرے کے نام

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم جو اندھیروں میں جا کر بیٹھ گئے ہو
تم اپنی کشتی کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہے ہو
تم
راتوں کے ساتھ تاش کھیلتے رہتے تھے
مجھے پتا ہے
تمہیں کیا ہو گیا ہے
میں تمہاری تاریکی کو جانتا ہوں
یہ میں تمہیں لکھ رہا ہوں
پہلے حرف سے آخری حرف تک
صرف تمہیں بتا رہا ہوں
میں صیغہِ غم میں دیکھ رہا ہوں تمہیں
ہچکیاتے ہوئے

 

تم جو کچھ سال کمروں میں بند بیٹھے ہو
تم جو پہاڑوں سے اتر کر آئے ہو
تم چھٹیوں میں مریخ پر جاتے ہو
لوگ تمہیں سمجھاتے ہیں
تم گلے لگانے کو
سینے ڈھونڈتے ہو
تمہاری پیشانی پر
مہر لگی ہے
“یہ ہم میں سے نہیں ہے”

 

بھوت، بھوت رہے ہیں تمہارے آنگن میں
چڑیل، چڑیل رہی ہے تمہاری شاموں میں
تمہیں آگ لگی ہے
بھسی ہوئی، پانی سے دم گھٹی ہوئی
آؤ دیکھیں
کیسے ایک روشنی سے
دوسری روشنی میں جایا جاتا ہے

 

آج بھی ہم اکیلے ہیں
ہمیں اپنی یاد نہیں آتی؟
میں تمہیں دیکھ رہا ہوں
تم ایک گمنام پہاڑ کی
چوٹی سے گر رہے ہو
اور کیا تم مجھے دیکھ رہے ہو؟
ہوا کو چیرتے ہوے تم
زمین کو آ رہے ہو
تمہارے مشرق
مکّمل ہو رہے ہیں
تمہارے مغرب
ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہیں
تم سن رہے ہو نا؟
میں تم سے مخاطب ہوں
تم جو اندھیروں میں جا کر بیٹھ گئے ہو

 

لوگ اس دقیق اندھیرے میں
دنیا کے ٹیلے پر
کھڑے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں
“اور سناؤ؟”
جبکہ “اور” نام کی کوئی چیز
سرے سے ہے ہی نہیں
ہر کوئی
گھڑیوں کے دربار سے
اناج کی طرح کندھے پر
تنہائی اٹھا کر لے جا رہا ہے
خلا کے تیکھے موسم میں
مجھے تمہاری فکر رہتی ہے

 

تم وقت کی غلطی سے پیدا ہو گئے
تمہیں قیامت کے اگلے دن
جب سب اپنے گھروں کو چلے جائیں گے
روشنی بھجھا دی جاۓ گی
تمہیں اُس قیامت کی خاموشی میں
پیدا ہونا تھا
ہر کوئی اپنے وقت کا بھائی ہوتا ہے
ورنہ تم تو چودہ ارب سال سے
پیدا ہوتے آ رہے ہو
ہاں آنکھ اب جا کر کھلی ہے
سانس ابھی ابھی بھری ہے
مگر یہ آج
یہ آج تو میرا اور اِس کا آج ہے
تمہیں یوں جم کر کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں
تم تحلیل بھی ہو سکتے ہو
مجھے خلاؤں کا تجربہ ہے
میں نے بلیک ہول گودوں میں کھلائے ہیں
میں تمہارے حال کو سلا سکتا ہوں
جیسے قبرستان میں مردے نہیں
مرے ہوئے لوگ سو رہے ہوتے ہیں

 

وقت کمند اور کمک کے ساتھ
چڑھائی کرنے آیا ہے
تم گھبرانا نہیں
اس آج کے، اس ابھی کے
میدان جنگ میں
جو ایک کے بعد دوسرا لمحہ گرتا جا رہا ہے
یہ دوسرا کسی دن نہیں گرے گا
وقت اس کو دیکھ کر رو پڑے گا
میں کیا
تم بھی رو پڑو گے
ساری حسّاسیت
گول دائرے میں بیٹھ جاۓ گے
پھر جشن ہوگا
یا بھسم ہوگا
زمین میں دروازہ بن جاۓ گا
تم بس حوصلہ رکھو
میں ہوں نہ تمہارے ساتھ
مجھے تم نظر آ رہے ہو
تم آنکھوں کا فریب نہیں ہو
میں تم ہی سے مخاطب ہوں
تم جو اندھیروں میں جا کر بیٹھ گئے ہو

 

میں بھی تم سب کی طرح
تاریکیوں کو دیکھ سکتا ہوں
میری مٹی اور تمہاری مٹی
میری اور تمہاری ہونے سے
پہلے سے
ایک دوسرے کو جانتی ہیں
ان کی تہذیب ایک ہی ہے
ان کو ایک ہی خواب
آدھا آدھا آتا ہے

 

تمہاری آواز میں ایک تہہ خانہ ہے
تم وہاں چھپ کر بیٹھو ہو
تمہاری روح تمہارے اندر بھٹکتی پھرتی ہے
اسے تم مل نہیں رہے آسیبیانے کو
باہر بہت ہی ہنگامہ ہے
ہنگامے کا سنّاٹا
سب سے گہرا ہوتا ہے
تم “نہیں” کے “ن” کا نقطہ ہو
تم “آج” کے “ج” کا نقطہ ہو
تم بہت مشکل سے ہو
تم جو اندھیروں میں جا کر بیٹھ گئے ہو

 

مگر یہ “یہاں” کا ساحل
بس آنکیں موند کر لیٹا ہے
ابھی دیکھنا قہقہے لگاتا ہوا
اٹھ کر بیٹھ جاۓ گا
“وہاں” کے سمندر کے
ہاتھ پر ہاتھ مارے
جھک کر داد لے گا
اجازت لے گا
چلا جاۓ گا

 

صحرا اپنے لفظ ڈھونڈ رہا ہے
تمہیں کیا کیا بات بتانے کے لیے
تم ننگے پاؤں کی روح ہو
تمہارے لہجے
اس زمین پر اترے ہی نہیں
کچھ دوریاں ایسی بھی ہیں
جنہیں ابھی دیکھا نہیں جا سکتا
کسی کو انہیں ناپنا نہیں آتا
لیکن میں تمہیں پہچانتا ہوں
مجھے نہیں معلوم کیوں؟
شاید میری اور تمہاری
تھاپ ایک ہی جیسی ہی
جب ملیں گے کبھی
تو دیکھ لینا
پورا عالمِ صوت
کراہ ہے
بے پناہ فاصلوں میں ڈوبتی ہوئی

 

تمہاری زندگی پر بھی
ایمرجینسی نافذ ہے؟
جیسے صحرا پر
گھبراہٹ نافذ ہے؟
تم رک جاؤ نا کچھ دیر کے لیے
اور دیکھو
بڑے بڑے
چھوٹے آدمیوں میں
گھٹن کی تمغہ بازی ہو رہی ہے
کل شاید ہم بھی
گھٹن کے تعویذ باندھ رہے ہوں
ایک دوسرے کے ہاتھوں پر
اور پس منظر میں
ایمرجینسی نافذ رہے گی

 

تم ابھی ایک دفعہ
اپنے “تم” کو مسکرا کر دیکھو
اس سے پوچھو
‘تم ٹھیک ہو؟’
تم ٹھیک ہو؟
تم ٹھیک ہو
تم جو اندھیرے میں جا کر بیٹھ گئے ہو
ہاں
تم ٹھیک ہو

 

کائنات کی بستی میں لائٹ گئی ہوی ہے
ہم ایک دوسرے کو
آوازیں پہچان کر بلا رہے ہیں
خیریت معلوم کر رہے ہیں
زندگی
خوفناک حد تک
ڈری ہوئی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

انصاف کی بات کرو بھائی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

انصاف کی بات کرو بھائی

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں

 

کاغذ پر رینگتے لفظوں پر
نمک چھڑک کر
ان کی خود لذّتی کی سسکیاں سنتا ہوں

 

انرجی ڈرنک کے گھوڑوں سے
سطر کے بازو باندھ کر کھینچتا ہوں
چیتھڑوں کو تحریر کہہ دیتا ہوں

 

دردکش دوائیوں کے سنّاٹے میں
اپنی بات کا جسم گھڑتا ہوں
پھر انہیں جنگلوں میں چھوڑ کر ان کا شکار کرتا ہوں

 

میری بات کا منہ پیلا ہے
سینہ نیلا ہے
جدیدیت کا رنگ گیلا ہے

 

میرا قلم میری آواز کی زبان کو دبوچ کر
بلاتکاری زمینوں سے اتارتا ہے
ایک تڑپتا ہوا مخبوط الحواس آہنگ

 

میرے معانی
گیراج کے شٹر کے پیچھے
سپرٹ پی کر مر جاتے ہیں

 

میری نثر کی غیرت اخباری لہجے کی دندناہٹ میں
مل ملا کر پتلی ہوگئی ہے
آپ صبح صبح میرے مضمون پڑھا کیجیے
غرور کے قبض کو افاقہ ہوگا
میں اپنی شفاء کے لیے
کئی بے غیرتوں کو پڑھتا ہوں

 

ایسے ہی میری نظمیں بیک وقت
“میں” کے بواسیر سے تڑپتی ہیں
اور “آپ” کے بواسیر کا علاج بھی کرتی ہیں

 

میری مفلوج سوچ کا ہیجڑا
مجرا کرتا ہے میرے سامعین، میرے قارئین کے آگے
لوگ داد پھینک کر چلے جاتے ہیں
میں اپنی نظموں کی لاشوں کے درمیان سے
واہ واہ
چن چن کر گنتا ہوں

 

لکھاری غیرت بیچ کر
اپنا پہلا قلم خریدتا ہے

 

جھوٹا ہے وہ شخص

 

اور وہ بھی
جو اب کہتا ہے
لفظ مقدس ہیں

 

لفظ جوس کے ٹھیلے پر کانپتے کنّوں ہیں

 

چند ٹکوں میں
دو بار جسم بیچ دینے والی طوائفیں ہیں
اور تم جو کرتے ہو لفظ کے ساتھ
پھر میں دو بار بھی نہ کروں؟

 

انصاف کا دور ہے
انصاف کی بات کرو بھائی

Image: Joan Miró Harlequin
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]