Categories
شاعری

بھینسے کا خدا

بھینسے کا خدا
حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل
قوی سُموں کی دھمک سے
پھاڑ دیتا ہے رقیب کی پیشانی
اپنی عظیم ٹکر سے
جس کے سینگ شش جہت میں پھیلے ہیں
چمکیلی انیوں میں
ایسے رحمِ مادر پروئے
جن میں رقیب کا جنین پل سکتا
آفاق کی سرخی سے لبریز
اس کی آنکھ
ماداوٗں کی پُشتیں گھیرے رہتی ہے
مکھیاں گھس آتی ہیں
ہر سوراخ میں
ان کا کاٹا اپنی موٹی کھال پہ لکھتا ہوں
مگر خداوند
ان کی بھن بھن میری حمد کو چھلنی کر دیتی ہے

Image: Vasko Taškovski

Categories
شاعری

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے
معمول کی کوئی خبر سن کر بھی
جب خاموشی کا بوجھ میرے سینے میں اٹکنے لگے
میری ہتھیلیاں آپس میں جڑ جائیں
انگوٹھے اُن کی پشت اور کلائی پر جمنے لگیں
میں ہتھیلیوں کو آہستگی سے الگ کرتا ہوں
اور پھر ایک اضطراب میں
وقفے وقفے سے
بے اختیار اُنہیں رگڑنے لگتا ہوں
پہلے آہستہ آہستہ
پھر تیز
پھر اور تیز
میں بے دھیانی میں اُنہیں رگڑتا چلا جاتا ہوں
ایک الاؤ کے بھڑکنے تک
شعلوں کےاس جنگل میں
میری روح اور جسم اکھٹے اترتے ہیں
اُس شام کی طرح
جس کے سنگم پر
دن اور رات کا محتسب دھندلکا
خون میں تیرتا رہتا ہے
اس جنگل میں کچھ جلتا ہے
جس کی راکھ سے وقت ایسے پرندے بناتا ہے
جو مجھ میں چاروں طرف اڑتے
اور میری ذات کی دیواروں پرپیہم ٹھونگیں مارتے ہیں
میں نقرئی آگ کے سمندر میں
نمک کی طرح پگھلتا
اور ساحل کی ہوا سے ہمکلام ہوتے ہوئے
خوابوں کا گرم موم اپنے سر پر ٹپکتا محسوس کرتا ہوں
اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دیکھتا ہوں
اور ڈر جاتا ہوں
کہ اُن کی پوریں
تعبیروں کے اس پُل کی طرح ہیں
جس کی ریلنگ کے حصے
بصارت سے محروم آنکھوں سے بنے ہوں
اور جو سر کٹے بھتنوں کی طرح
مجھ پر دانت نکوسنے میں مصروف ہوں
جنگل کی بھڑکتی آگ میں
بن بلائے موسم شعلے پھلانگتے
زندگی کا قرض چکانے
کہیں دور نکل جاتے ہیں
اُن تمناؤں،امیدوں اور یادوں سے دور
جو اپنے اعمال کا بوجھ اٹھائے
گیلی لکڑیوں کی طرح سلگتی رہتی ہیں
میں سارے ایندھن کا شور
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے
اور میرے تلووں تلے انگارے سر اٹھا کر کہتے ہیں
یہاں تمہارے سوا کوئی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر
یہ جہنم
جو میری ہتھیلیوں میں چھپی ہے؟

Image: Dgigliello

Categories
شاعری

بارہ سال کی ماں


[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بارہ سال کی ماں

[/vc_column_text][vc_column_text]

دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

 

آج گلی میں کچھ منٹ کے پھندے سے
جھولتی لاش کو تالیاں بجاتے دیکھا ہے
ایک طمانیت اتری ہے غلط جگہ پر
موبائل فون کے ٹاور پر چڑھ کر نوعِ انساں
اناالحق کے نعرے لگاتی ہے
تمام آوازیں ٹکرا کر واپس آجاتی ہیں
وقت اپنے بچے کھا کر اتنا بڑا ہوا ہے
میرا عضوِ تناسل، میرا بچہ
وقت کو للکارتا ہے

 

زمین چپٹی ہے
اس پر بسنے والے تمام ہنسنے والے چپٹے ہیں
خدا ایک بھوت ہے
اور جو ہے وہ بھوت بنگلہ ہے
جس میں تمام شخصی سچائیاں جھوٹی پرچھائیں پہن کر
چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں
خدا بارہ سال کی لڑکی ہے
میں بھی بارہ سال کی لڑکی ہوں
میں نے مرد کا خون پیا ہے
میں نے اپنا باپ کھا کر خود کو جنا ہے
میں جاپانی جنسیات کی وحشت پر کھلتا ہوا پھول ہوں
میں ندامت ہوں زانیوں کی، حرامیوں کی
شرابیوں کی، دیواروں کی
اور ان دیواروں میں چنی ہوئی عورتوں کے تھوک کی گلابی خوشبو کی
میری روح میرے بدن سے چھوٹی ہے
میرا عیش گرتی عمارتوں کی چیخیں ہیں
میں نے چائنا کے خداؤں کی چڈھیوں میں دیکھا ہے
کالا دھواں، دھرتی ماں کا غصہ

 

دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

 

خدا کرے میری پستان میں وہ کشادگی پیدا ہو
کہ میں ہر ایک نظم کو اپنے ابلتے جسم میں چھپا لوں
خدا کرے میرے ہاتھ فولاد کی چیخیں بن جائیں
میرے دانت جوہری دھماکوں سے پرورش پائیں
اور میں ایک ایک ہندسہ چبا کر تھوک دوں
میں ہندسوں کی بھوک جس سے بلکتی ہے نظموں کی چھوٹی روح
میں انکا گلا گھونٹ دوں
کاش میں ایسی ماں بن سکوں
جس نے کہکشاں پھٹنے سے جنم لیا ہو
جو کبھی ایک کو دو نہ ہونے دے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

[/vc_column_text][vc_column_text]

کئی زمانوں سے
مسلسل جاگنے کے باعث تھک گیا ہے
ہنگامی حالت کے باعث
انگڑائی لینے تک کی اجازت نہیں دی گئی
اُسے
کس غم میں، کس انتظار میں،
کس خیال میں مسلسل جگایا جا رہا ہے
یہ بھی نہیں بتایا گیا

 

کئی بار اس نے چاہا
چاند، سورج اور ستاروں کو نوچ کر
ایسے ڈسٹ بن میں ڈال دے
جو کسی سے کھل نہ سکے
دھوپ اور چاندنی کو موڑ توڑ کر
کسی تھیلے میں ڈال کر
اس پر اتنا کودے
کہ ان کے سارے کس بل نکل جائیں
لیکن نہیں
کبھی سوچتا ہے
کہیں کوئی چاندنی کا لطف نہ اٹھا رہا ہو
محبوبہ کا چہرہ نہ دیکھ رہا ہو،
ہو سکتا ہے یہ اس کے آخری پل ہوں
دھوپ میں سُکھا رہا ہو کوئی
اپنے بھیگے ہوئے خواب
مجھ سے پوچھتا ہے:
یہ کیسا کانٹا ہے
جو روح میں اٹک گیا ہے
لہو لہان کر رہا ہے میرا دل
قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے
ریزہ ریزہ ہو رہا ہے
کچھ پتا نہیں روح بھی ہے یا نہیں
اور دل یا دماغ بھی
یہ میرا عدم ہے یا وجود
یا دونوں مل کر ایک ہی ہیں
کہیں کوئی دروازہ بھی نہیں اس دیوار میں
مل بھی گیا تو کیا کروں گا
کس کا نام لے کر دستک دوں گا
کیا کہوں گا
اور کوئی آ بھی گیا تو؟

 

کچھ نہیں بس اتنا چاہتا ہوں
کچھ دیر کے لیے سمٹ جاؤں
کچھ دیر کے لیے
پاؤں پسار کر آنکھیں موند لوں
اور اس سے پہلے دیکھوں
کیسا لگتا ہے سب کچھ
میرے بغیر

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب گہری کھائیوں سے کسی کے چیخنے کی
آواز آتی ہے
ہم ہتھیلی پہ ایمبولینیس بناتے ہیں
بے ساکھیاں اونچے نیچے رستوں پر
جھک کر چلتی ہیں
تو بادل ہمارا ہاتھ پکڑ کر بھاگنے لگتے ہیں
پہاڑ ہمیں ایسے کیوں گھورتے ہیں
جیسے ان کے پاؤں میں زنجیریں ہم نے ڈالی ہوں
کوئی ہمارے کانوں پہ پردہ بھی تو ڈال سکتا ہے
کیا ضروری ہے ۔۔۔۔
کہ
ہمارے جسم کونوں کھدروں میں ڈال کر
موت کے گیت گائے جائیں
ہم بہرے بھی تو ہو سکتے تھے !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]