Categories
شاعری

چلو کوئی بات نہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

چلو کوئی بات نہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

ڈھا دو یہ دن اور اس دن کی آستین میں بلکتے سانپ
اور ان کے سنپولوں سے میری پرانی دوستی کی دیوار
اور بہا دو مجھ پر رات اور رات کے اکیلے جنازے
جن میں کھڑے لوگوں کے آدھے جڑے شانے
اور ان شانوں پر کئی سورجوں کی مکّاری کا بوجھ
میں کہتا ہوں کہ تم ڈھا دو بہا دو مجھ پر
میں وقت کی لکیر، وہ ممکناتِ عدم سے کھنچی ہوئی
وہ شہرِ ششدر کی فصیلوں پر بجھی ہوئی
اس لکیر کی پیمائش پر مامور حیرت
اور اس کا پہلا آخری سفر
میں اس پر چمٹ کر بیٹھا ہوا
نرم پانیوں کا کچھوا
میں سکوت کے آخری چند لفظ کی استعارہ آواز میں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں

 

تمہیں کیا پتا میں نے کتنی زمینیں
اور ان زمینوں کے حاتم آسمانوں میں کتنے سناٹے سیاروں کے
بھیک مانگتے اندھیرے
جلا دیے ہیں
ایک “چلو کوئی بات نہیں” کو ڈھونڈتے مانگتے
میں نے ہدایتوں کے شکایتوں کے
وہ دیوان کیے ہیں مرتب
کہ سفینہِ نوح کے لواحقین
ٹوٹتے سورج تک نصیحتوں کے لیے
آسمان کی چادر نہیں کھینچیں گے
تمہیں کیا پتا ان دلدلوں کا کہ جن میں
اپنے ہزار اجسامِ فلکی و مٹی
میں ڈوبتے چھوڑ آیا ہوں
وہ دیواریں کہ جن کے مرکز کی آخری اینٹ میں دبی ہے اندوہناک خاموشی
اور ادھر اس خاموشی کے پہلو میں چنا ہوا
ادھر آگے تم سے ہمکلام ہنستا ہوا
میں المیہ ساز، کہانی باز
اپنے سراب چھوڑتا ہوا جا رہا ہوں

 

تم میری جیب میں چھنکتی دھوپ کو دیکھو
یہ منحوس روشنی میری تمہاری ہوئی یہ لو!
میری جرابوں میں اڑسے اندھیرے
ایک “چلو کوئی بات نہیں” پر دان ہوں گے
تمہارے ہاتھوں کی لکیروں کے تخیل میں ڈوبتے جہازوں پر کھڑا ملاح
میری کشتی کو مانتا نہیں ہے کشتی
مجھ فقیروں کے سناٹے قافلے
رکا نہیں کرتے
ایسی لکیروں سے جڑا نہیں کرتے

 

اے محبت کے راگ اور تمہاری الاپ
تمہاری کاٹ اور جوق در جوق کٹتے پھوٹتے ہوے آدمیوں
کی بھاپ
تمہاری بند آنکھیں
ان سے وضو کرتے پتھر
اور ان پتھروں کے مقدر میں لکھے سر
ان سروں کی قسم
یہ میرے ڈوبنے کا منظر ہے
یہ رات کا پینتالیسواں گھنٹہ
ہزارویں دفعہ بجا ہے
اور تم اترتے ہو
میرے اثرات کے پردے سے
ایک خداِ بزرگوار کی طرح
ہاتھ بڑھا کر تھامتے ہو
مسکرا کر کہتے ہو
“چلو کوئی بات نہیں”
اور جرابوں میں اڑسا
اندھیروں کا ملبہ
پہلی اینٹ پر
رکھتا ہے
دوسری اینٹ کا تصّور

Image: Daehyun Kim
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خُدا اپنا لبا س نہیں بدلتا
ھن لباس لکم وانتم لباس لھن(البقرة:187)

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہماری جگہ کون چلتا ہے
تمہارے دل کی رہداریو ں میں
ہمارے نام کی اجازت سے
کون داخل ہوتا ہے تمہارے کمرے میں
ہماری خوشبو کے دستخط کے ساتھ
کس نے تمہاری رات میلی کی
کون تمہا رے دن دروازے پہ روک لیتا ہے
کون رکھتا ہے انتظار کی میز پر
آنکھوں کے پھول

 

کون دریچے سے سورج اٹھا کر
تمہاری سائیڈ ٹیبل پہ روشن کرتا ہے
کون بجھاتا ہے
تمہارے لباس کی آ گ ۔۔۔۔
کون تصویروں کی ریز گاری سے خریدتا ہے
ایک پھو نکا ہوا ماضی
کون تمہارے سائے سے شام بناتا ہے

 

کون تمہارا نمبر ڈائل کرنے کے بعد
قتل کر دیتا ہے آوازیں
کسے زبانی یاد رہتے ہیں
تمہارے چہرے کے ہجے
کون لکھتا ہے خدا کے خانے میں
تمہارا نام !!

 

کون مٹی کی مورت میں ڈھونڈتا ہے
تمہارا جسم
کون تمہیں بستر میں بھول جاتا ہے

 

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ “موت ”
تمہارے بغیر !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

انصاف کی بات کرو بھائی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

انصاف کی بات کرو بھائی

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں

 

کاغذ پر رینگتے لفظوں پر
نمک چھڑک کر
ان کی خود لذّتی کی سسکیاں سنتا ہوں

 

انرجی ڈرنک کے گھوڑوں سے
سطر کے بازو باندھ کر کھینچتا ہوں
چیتھڑوں کو تحریر کہہ دیتا ہوں

 

دردکش دوائیوں کے سنّاٹے میں
اپنی بات کا جسم گھڑتا ہوں
پھر انہیں جنگلوں میں چھوڑ کر ان کا شکار کرتا ہوں

 

میری بات کا منہ پیلا ہے
سینہ نیلا ہے
جدیدیت کا رنگ گیلا ہے

 

میرا قلم میری آواز کی زبان کو دبوچ کر
بلاتکاری زمینوں سے اتارتا ہے
ایک تڑپتا ہوا مخبوط الحواس آہنگ

 

میرے معانی
گیراج کے شٹر کے پیچھے
سپرٹ پی کر مر جاتے ہیں

 

میری نثر کی غیرت اخباری لہجے کی دندناہٹ میں
مل ملا کر پتلی ہوگئی ہے
آپ صبح صبح میرے مضمون پڑھا کیجیے
غرور کے قبض کو افاقہ ہوگا
میں اپنی شفاء کے لیے
کئی بے غیرتوں کو پڑھتا ہوں

 

ایسے ہی میری نظمیں بیک وقت
“میں” کے بواسیر سے تڑپتی ہیں
اور “آپ” کے بواسیر کا علاج بھی کرتی ہیں

 

میری مفلوج سوچ کا ہیجڑا
مجرا کرتا ہے میرے سامعین، میرے قارئین کے آگے
لوگ داد پھینک کر چلے جاتے ہیں
میں اپنی نظموں کی لاشوں کے درمیان سے
واہ واہ
چن چن کر گنتا ہوں

 

لکھاری غیرت بیچ کر
اپنا پہلا قلم خریدتا ہے

 

جھوٹا ہے وہ شخص

 

اور وہ بھی
جو اب کہتا ہے
لفظ مقدس ہیں

 

لفظ جوس کے ٹھیلے پر کانپتے کنّوں ہیں

 

چند ٹکوں میں
دو بار جسم بیچ دینے والی طوائفیں ہیں
اور تم جو کرتے ہو لفظ کے ساتھ
پھر میں دو بار بھی نہ کروں؟

 

انصاف کا دور ہے
انصاف کی بات کرو بھائی

Image: Joan Miró Harlequin
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!

 

جس پہ نصب تھے ہمارے پاؤں
پا نی میں بہہ گئی وہ سڑک

 

وہ راستے ۔۔۔۔۔۔
ہمارے حافظوں سے کہیں دور نکل چکے
جو ۔۔۔۔ہماری تصویروں سے بھرے رہتے تھے
اب ہمیں کون بتائے گا؟
کہ۔۔۔ ہمارے مکان کا دروازہ
کس سڑک کی سیدھ میں کھلا کرتا تھا؟؟
ہم جو ہمیشہ سے چاہتے تھے
ہمارے مکان کھو جائیں !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]