Laaltain

چلو کوئی بات نہیں

میں سکوت کے آخری چند لفظ کی استعارہ آواز میں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں

انصاف کی بات کرو بھائی

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں