اس بڈھے کا وائرس

راوی کے کنارے
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود
لاہور کا نوحہ

وہ پیڑ، وہ برگد، وہ گھنے سیر کے رستے
منزل سے کہیں بڑھ کے جو تھے خیر کے رستے
اب قافلہ ان کا رہِ مسموم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے
منزل سے کہیں بڑھ کے جو تھے خیر کے رستے
اب قافلہ ان کا رہِ مسموم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے