Categories
شاعری

Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو
تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں
مگر تم نے کبھی سوچا ہے!
تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں
نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر دیا تھا
تم نے کبھی دیکھا ہے!
میں بھی وعدوں اور قسموں کے دریا کا صرف ایک حصہ پار کر پائی ہوں
پھر بھی اقرار عنایت احساس کے تحفوں کی میں خود کو زیادہ حقدار سمجھتی ہوں
لگتا نہیں مگر سچ یہی ہے
ہم کہانی بن چکے ہیں
مگر لیلیٰ مجنوں ہو نہیں سکتے
پچھلی چھٹیاں ہم نے پھولوں کے ساتھ گزاری تھیں
پر اِن چھٹیوں سے پہلے ہی ساری خوشبو ختم ہو چکی ہے
کتنی طویل راتوں میں ہم ستاروں کی محفل میں بیٹھے ہیں
مگر تمھاری جیب اور میرے پرس میں روشن لمحوں کی کوئی بچت نہیں ہوتی
جنوری کی پہلی تاریخ پر ہم خوشیوں کی کمیٹی ڈالتے ہیں
اور اکتیس دسمبر تک ایک دوسرے کو گنتی کی مسکراہٹیں دے پاتے ہیں
یوں تو تم فائلوں کے پاس اور میں کچن کی شیلف کے کونے پر خاص دنوں کی فہرست رکھتی ہوں
لیکن زندگی کے ریڈیو پر یاد کا وہ نغمہ ضرورتوں کے گیت کے بعد ہی آتا ہے
ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم محبت کا سمندر نہیں
بس ایک قطرہ ہیں
اور محبت کی ہارٹ بیٹ نارمل رکھنے کے لیے وہی ایک قطرہ ہی کافی ہے
اگر سنبھال لیا جائے ــــــــــــ
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

صدف فاطمہ کی دو نظمیں

نظم۔1

تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتے
نہ ہی چھچھلے نمکین پانی سے پاکی ملے گی
میں ایک سیال ہوں
پاک ہونا ہے،مجھ میں سماؤ
زخموں کو بھرنے کی خاطر نمک ہے
دریا نمک کا ،
آؤ سماؤ
پاکی ملے گی

نظم۔2

رات جھپکی نہیں آنکھ
وحشت سفر کرکے آنکھوں میں اتری ہو ممکن ہے
نوحہ کیا ہو نگاہوں نے
بجھتی ہوئی ہر نظر کا
آس کی ان مزاروں پہ
بیٹھی ہوئی یہ مجاور ہیں آنکھیں
خواب تھے ہی کہاں
جس کی خاطر نگاہوں پہ پہرہ بٹھاتے
مگر
ایک الھڑ سا دربان ہے
ان بوسیدہ فصیلوں پہ ٹھہرا ہوا
اس دیے کی حفاظت میں
جس کا ہالہ بنا ہے وفا کی شعاع کا
رخ سیلاب آور دریا کی جانب ہے
اور الھڑ سا دربان بوسیدہ فصیلوں کے ڈھ جانے کے خوف میں
قدموں کو گاڑے ہوئے
ڈھا رہا ہے
Image: Roberto Matta

Categories
شاعری

کومل راجہ کی نظمیں

ابھی میری دریا سے دوستی نہیں ہوئی

ابھی میری دریا سے دوستی نہیں ہوئی
ابھی میں نے صرف اسکے کنارے بیٹھنا شروع کیا ہے
اسکی بپھری لہریں کس سوز کا ساز بجاتی ہیں؟
ریاضت بنا وہ گنگنایا جا نہیں سکتا
دلوں اور دریاؤں کے سوز ایک ہو جائیں
تو ڈوبے بنا رہا جا نہیں سکتا
ابھی میری انگلیوں نے کنارے کی مِٹی کو چھوا ہے
تہہ ِ دریا میں سیاہ کائی ہے یا نیلا پتھر
ابھی سے بتایا جا نہیں سکتا
دریا کنارے کی مٹی گیلی ہوتی ہے
اس میں کمزور جڑ کا پودا اگایا جا نہیں سکتا
کہتے ہیں لہریں بہا لے جاتی ہیں جس کو چاہیں
مگر لہروں کا چلن جانے بنا کچھ بھی بہایا جا نہیں سکتا

دکھ سچ جتنا سادہ ہے

سنتے آئے ہیں کہ
رنگ و بو، ادا و زائقے
زندگی کی علامتیں ہیں
زندگی جینا اور اسکی علامتوں کو جینا
دو الگ باتیں ہیں
اس فرق کو دلیل نہیں
احساس سے مانا جا سکتا ہے
علامتوں کے سچ کو
صرف دکھ سے جانا جا سکتا ہے
اور دکھ اتنا ہی سادہ ہے
جتنا کہ خود سچ !

نظمیں اور پھول

جب وہ بادلوں کا عاشق
اور میں آوارہ جوگن تھی
وہ اکثر زرد دوپہروں میں
اپنے چھت پر جایا کرتا تھا
اور نیلے حیرت کدے میں پھرتی سفید بدلیوں پہ
پر اسرار نظمیں لکھا کرتا تھا
اور میں سورج ڈھلے سرمئی شاموں میں
خالی سڑکوں کے کنارے گلاب چنا کرتی تھی
شب بھر وہ مجھے اپنی نظمیں سناتا
اور میں ایک ایک کر کے گل اس کے نام کرتی
اس کی بادل صفت خنک نظمیں
میری آنکھوں سے سدا کی راکھ دھو کر
مجھے آسمانوں میں لیے اڑے پھرتیں
اور وہ پھولوں کے رنگوں میں گھل کر
پنکھڑیوں کی نازکی کو
اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرتا
اسکی انگلیاں مسلے جانے کے دکھ سے اتنی ہی واقف تھیں
جتنی میری آنکھیں جھلسنے کے درد سے
وہ اب بھی بادلوں کاعاشق ہے
مگر چھت پر نہیں جاتا
میں اب بھی جوگن ہوں
مگر سڑک کنارے سے پھول نہیں چنتی

نیلا بادل

آدھی رات کے سناٹے میں
دائرہ دائرہ سوچ کے اندر
آنکھ کا کاجل پھیل رہا ہے
میز پہ رکھا کورا کاغذ
پھڑ پھڑ کرتا ناچ رہا ہے
رات کی کالی جھلمل چادر
سو سو جگہ سے ادھڑی ہوئی ہے
چپ کی ڈور میں سانس پروتی
پاگل لڑکی!
الٹی کٹوری کو انگلی سے چھوتی،
نیلا بادل سوچ رہی ہے!

بارش میں ایک منظر

گھر کی اور گھر کی حفاظت میں کھڑی دیوار کے
درمیاں میں ایک مکڑی کا جالا ہے
ایک دیوار بارش میں گیلی اور
دوسری کے سر پر منڈیر کا سایہ ہے
پیڑ سے پتے جھڑ کر جالے میں اٹک گئے ہیں
منڈیر کے کناروں سے پانی کے قطرے پھسل کر
پتوں سے لٹک گئے ہیں
روشنی کے گزر نے جالے کو آئینہ
اور قطروں کو فانوس بنا دیا ہے
دو پتھر کی دیواروں کو ملانے والا پل
گویا کانچ کا ہو گیا ہے

Hysteria

میرا دماغ ایک خالی کمرہ ہے
جس میں شاہی سانپ
میرا بھیجا نگلے،کنڈل مارے، پھن اٹھائے
عین میرے ماتھے کے پیچھے بیٹھا ہے
اسکی دم میرے ہائینڈ برین میں پھنس گئی ہے شاید
میری آنکھ جب بھی کسی ‘درخت’ سے الجھتی ہے
میری ہائینڈ سائٹ میں روشنی کا جھپاکا پڑتا ہے
اور سانپ کے پیٹ میں پانی ٹھاٹھیں مارتا ہے
میرا بھیجا تیر کے اس کے منہ کو آتا ہے
ایک سایہ میرے چہرے پر سے گزر جاتا ہے
بے صوت پسینے کے قطرے میری پیشانی پر
سانس روکے رقص کرنے لگتے ہیں۔ ۔ ۔
سائیکولوجی والے اس واردات کو ہیسٹیریہ کہتے ہیں

Image: Catrin Welz-Stein

Categories
شاعری

محبت کی نظمیں (حصہ اول)

[blockquote style=”3″]

محبت کی نظمیں کسی کے عشق میں گرفتار ہوکر لکھی جاسکتی ہیں۔ یہ نظمیں پچھلے پندرہ بیس دنوں میں فیس بک پر دیوناگری میں پوسٹ کرتا رہا ہوں، اردو میں اب تک کی پوسٹ شدہ ساری نظمیں لالٹین ویب سائٹ پر شائع ہورہی ہیں، یہ بے ترتیب نظمیں ایک لڑکی سے عجیب و غریب قسم کے کہر آمیز رشتے کی دین ہیں، جس کو میں محبت کا نام دے رہا ہوں۔ چنانچہ جب یہ کتابی صورت میں شائع ہونگی تو اسی کے نام انہیں انتساب بھی کیا جائے گا اور ٹائٹل کور پر اسی کی تصویر بھی آراستہ کی جائے گی۔ ابھی تک پچاس کے قریب یہ نظمیں لکھی جاچکی ہیں، جو اسی بیاسی تک پہنچ کر کتابی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ (تصنیف حیدر)

[/blockquote]

(1)

رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو
جیسے سرخ پانیوں میں
سبز پرندوں کا عکس ہو
اس کے لبوں سے لفظ یوں جھڑ رہے تھے
جیسے جھرنوں سے سفیدی
دلوں سے درد
اور بہت جاگی ہوئی آنکھوں سے
خمار ٹپکتا ہے
٭٭٭

(2)

برق ایک بدن کا نام ہوسکتا ہے
ساون دو آنکھوں کا مکین بن سکتا ہے
ابرقوں کی طرح ہتھیلیوں سے شرارے پھوٹ سکتے ہیں
ونڈ چائم ایک ہنسی میں تیر سکتی ہے
تھاپ کو ہونٹوں کی جنبش سے بھی پیدا کیا جاسکتا ہے
سرگم، سروں کی مالا اتار کر لفظ کا زنار پہن سکتی ہے
دھوپ سائبان بن سکتی ہے
دکھ مہربان لگ سکتا ہے
عقل حیران ہوسکتی ہے
اور محبت
سناٹے کے پسینے سے تربتر
سنہرے صحرائوں کے سینے پر
زخم کے بجائے پھول بھی کھلا سکتی ہے
٭٭٭

(3)

تمہاری
ناراضگی
جھپکی کی طرح
پیدا ہوتی ہے
سرد رات میں لمبی اور
سنسان سڑک پر
سواری دوڑاتے ہوئے

قصاب کی دوکان میں
لکڑی کے گول ٹھیہے پر
انگلیوں کے پاس سے
گزرتے ہوئے
دھاردار چھرے کی طرح

آندھی میں کسی
شاخ سے لپٹے ہوئے
پتے کی مانند

اور
اس وقت کی مثال
جو حسرتوں کے بادلوں
میں لپٹی ہوئی چاندنی رات
بن کر نازل ہو
٭٭٭

(4)

محبت میں کبھی
ایسا بھی ہوتا ہے
کہ آس پاس لیٹے
دو انتہائی ننگے بدن
خواب کے
زخم دکھ جانے کے ڈر سے
ایک دوسرے کی آنکھوں پر
ہاتھ رکھ دیتے ہیں
٭٭٭

(5)

باتوں کو
کسی رشتے کی بنیاد
ماننے والی لڑکی
کل رات
بہت خاموش تھی
٭٭٭

(6)

محبت میں غلط فہمیاں
پیٹھ پر
اجالوں کا بوجھ اٹھائے
سینے پر
اندھیروں کا زخم سجائے
دور سے دکھ جاتی ہیں
خلائوں میں
تیرتی ہوئی ان غلط فہمیوں
کا دوسرا نام امید ہے
اور اس امید کا پیرہن
پیچھے سے جل رہا ہے
اور
آگے سے برس رہا ہے
٭٭٭

(7)

خوبصورتی میں اس کی
مثال ڈھونڈھنا
ممکن نہیں

کیوں کہ وہ
کتابوں کی سیلی پر
سجی مہک ہے
سمندری لہراتوں سے
تراشا ہوا
سرمئی پتھر ہے
سرد راتوں میں
سلائڈنگ سے نظر آتی
ہلکی نیلی چمک ہے
چٹخارے کے ٹھیک درمیان
پیدا ہونے والا رس ہے

پھر بھی
اس کافر کو
میرے اس یقین پر
شک ہے
کہ وہ قدرت کی
سب سے حسین تخلیق ہے
٭٭٭

(8)

میں
تمہارے سرمئی سینے پر
اپنی انگلیوں سے
لمس کی وہ دھاریاں بنانا چاہتا ہوں
جنہیں وقت
سانسوں کے دھوئیں سے اتنا سرخ کردے
کہ تمہاری گردن سے رانوں تک
پھیلے ہوئے تاروں میں
میری خواہش کے
گرم سیال کے علاوہ
اور کچھ نہ بہے

میری کروٹوں میں
چٹختی ہوئی دوپہریں
تمہارے جسم کی ان
سرد سسکیوں تک
پہنچنے پر آمادہ ہیں
جن کا رازدار ہوجانا
کانوں کی معراج ہے

وہ دن دور نہیں
جب تصور کا دم
بھرنے والی
دمے کی شکار محبت
تمہارے جسم کے سانولے
عرش تلے لیٹی
تازہ سانسیں لے رہی ہوگی
٭٭٭

(9)

محبت کو
اتنا ہی بے خوف ہونا چاہیے
جتنے سفاک
قدموں سے بھری
اس دنیا میں
مہین کیچوے ہوتے ہیں
٭٭٭

(10)

تم نہیں دیکھ سکتے
اس کو اداس
کیونکہ وہ
ایسے میں
نظر آتی ہے
سبز پہاڑی فرش
اور
تاروں بھرے آسمان
کے بیچ موجود
کسی بینچ پر بیٹھے
تنہا انسان جیسی
٭٭٭

(11)

جب کہا جاچکا ہے
کہ دروازہ بند ہے
جب بتایا گیا ہے
کہ سامنے دیوار ہے
جب لکھا ہوا ہے
کہ آگے راستہ نہیں ہے

پھر یہاں رکنے کا مطلب
پالی ہوئ مایوسی
اور بوئے گئے
افسوس کے سوا کچھ نہیں

تم کیکروں کے بیچ
موجود پانی کی
گونجتی ہوئی لہر نہیں ہو
جس کے نصیب میں
ایک لمبا اور سنہرا راستہ ہو
بغیر رکاوٹ والا
٭٭٭

(12)

وہ ایک کتاب ہے
جسے
حرف بہ حرف
پڑھنے کی میری خواہش

آئنوں کے دل
ہوا کے رقص
اور
رات کے دھندلے سناٹے میں

پہلے سے موجود تھی

مگر ہم سب
صدیوں سے
اسکا چہرہ پڑھے جارہے ہیں

جو تابناکی کا
شہر ہے
سوندھے موسموں کا بازار ہے
نمکین پھولوں سے لدی ہوئی
شاخ ہے
٭٭٭

(13)

ان آنکھوں کی بات نہ کرنا ورنہ نیند نہیں آئے گی

تاروں کے ہمراہ جگیں گے پیتل کے تالاب
ہونٹ کی دھرتی سے پھوٹیں گے شبدوں کے برفاب
جلتا رہے گا رات گئے تک دل کا یہ تنور
شہر کی رات میں خواب لکھے گا سناٹے کا نور
آسمان کی مانگ میں نیلے پانی کا سندور
پنکھے کے بلیڈوں سے رقص اگاتی اک آواز
ڈیسک ٹاپ کے کاندھے پر تنہائی نیم دراز
دیواروں سے ناک رگڑتے گیتوں کے یاجوج
ایک اداس خوشی کے میداں میں سینے کی فوج
اس کی آنکھیں دنیا بھر کے زخموں پر مرہم
سب سے اچھا دنیا میں ان آنکھوں کا موسم
دنیا والو! ان آنکھوں میں ڈوب گئے ہیں ہم
ہم کو کیسا غم
٭٭٭

(14)

جب ایک شاعر
تم سے محبت کرے
تو لازمی ہے
کہ تم قافیوں کی پازیب پہن کر
ذہن کی بے آرام چھتوں پر
رقص کرو
حرف اور لفظ کے بیچ
موجود خلا میں
ٹانگی گئی وقت کی کنجی
اپنی رانوں میں چھپا لو
اور شاعر کی زبان
کھال کی
گرم پرتوں پر لہریں اگاتی ہوئی
تمہارے جسم کے
ان ہلکے سیاہ ہونٹوں تک پہنچ جائے
جو بولنے کے لیے نہیں
دھڑکنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں
٭٭٭

Categories
شاعری

محبت کے بغیر کون جیتا ہے

محبت کے بغیر کون جیتا ہے
دیکھو ڈھونڈو اسے
بچوں کے جوتوں کے تسموں میں
وہ رُل رہی ہو گی ان کی بھاگ دوڑ میں مٹی میں
ہا ں ہاں اور آگے جاؤ
سمندر کے کنارے ریت میں منہ چھپائے پڑی ہو گی
چھپ گئی ہو گی کسی سیپی کے پیٹ میں
یا کسی گھونسلے میں
چڑیا کے بچوں کےننھے پروں میں
اور آگے چلو آگے
جہاں زبردستی حاملہ کی ہوئی عورت کے پیٹ میں کلبلا تی ہوئی زندگی سے چمٹ گئی ہو گی
میں کہتی ہوں ڈھونڈو
کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے
دہشت گردی کا کفن زیب تن کئے ہوئے
تم نہیں جانتے
ابھی وہ ایک کنواری کے چنٹ دار دوپٹے سے کھیل رہی تھی
اور جھولے میں پینگے لیتے بچوں کے قہقہوں میں
ابھی وہ میرے دل میں تھی
وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے
Categories
شاعری

لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

لاہور کو گاڑیاں چبا کر کھا گئیں
ہمشکل گھروں کی شرمندگی اور ڈھٹائی میں
اینٹ کی نظمیں، غزلیں بن گئیں
عمارتیں، پتھرائی
جدید نقشوں میں سلب
اپنی روحوں کی تصویر بناتی رہتی ہیں
مردہ دماغ، نامرد ہاتھ، کھوکھلی کوکھ
ایجاد کے فیصلوں پر حاوی ہو گئے
اور اس رات میں
اس کے اندہوناک غم کی آواز میں
شہر کے ابنِ ٹِک ٹِکوں کے میلے میں
ایک میں سے
ایک تم
لپٹ کر سو گئے
لاہور، البتہ، بحیثیت شہر
اب سو نہیں سکتا
بم کی طرح
ٹِک ٹِک کرتا رہتا ہے

 

میں جانتا ہوں شہروں کی نیندیں اجڑنا عالمی المیہ ہے
مگر بھاڑ میں جاۓ لندن اور نیو یارک کی لال آنکھیں
وہاں کی اینٹوں کی نظموں کا غزلوں میں ڈھلنے کا غم
وہاں کے رہنے والوں کو ہو تو ہو
مجھے نہیں ہے

 

میں ایک عام سا منافق ہوں
جس کا جسم لاہور میں گڑا ہوا ہے
اور روح لندن، نیو یارک میں دفن
میں یہ ماننا ہی نہیں چاہتا کے ہم سات آٹھ ارب لوگ
اب صرف لندن، نیو یارک میں رہتے ہیں
اور اگر نہیں رہتے
تو پھر ہمیں رہنے ہی نہیں دیا جاتا
مگر میری باری ابھی نہیں آئی ہے
میں چھوٹا سا منافق
اس بات سے خوش ہوں کہ
لاہور کا غم میرا ہے
اور میں لاہور میں رہتا ہوں

 

اس نظم میں منٹو کا ذکر نہیں ہے
منٹو کے ذاکر زیادہ سنے جاتے ہیں
منٹو سینے پر لگا لیں تو
چھوٹے منافق بھی بڑے ہو جاتے ہیں
اور کوئی ماننے کو تیار نہیں
کہ منٹو ہم اندھوں کا
کانا راجا ہے

Image: Joshua Wait
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]