Categories
شاعری

صدف فاطمہ کی دو نظمیں

نظم۔1

تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتے
نہ ہی چھچھلے نمکین پانی سے پاکی ملے گی
میں ایک سیال ہوں
پاک ہونا ہے،مجھ میں سماؤ
زخموں کو بھرنے کی خاطر نمک ہے
دریا نمک کا ،
آؤ سماؤ
پاکی ملے گی

نظم۔2

رات جھپکی نہیں آنکھ
وحشت سفر کرکے آنکھوں میں اتری ہو ممکن ہے
نوحہ کیا ہو نگاہوں نے
بجھتی ہوئی ہر نظر کا
آس کی ان مزاروں پہ
بیٹھی ہوئی یہ مجاور ہیں آنکھیں
خواب تھے ہی کہاں
جس کی خاطر نگاہوں پہ پہرہ بٹھاتے
مگر
ایک الھڑ سا دربان ہے
ان بوسیدہ فصیلوں پہ ٹھہرا ہوا
اس دیے کی حفاظت میں
جس کا ہالہ بنا ہے وفا کی شعاع کا
رخ سیلاب آور دریا کی جانب ہے
اور الھڑ سا دربان بوسیدہ فصیلوں کے ڈھ جانے کے خوف میں
قدموں کو گاڑے ہوئے
ڈھا رہا ہے
Image: Roberto Matta

Categories
نان فکشن

نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام

گزشتہ ایک صدی سے اردو کی نئی شاعری اپنا رنگ سخن دھیرے دھیرے بدل رہی ہے۔ اردو شاعری کا پرانا مزاج اس کے نئے مزاج سے آہستہ آہستہ بہت دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ نئی شاعری میں صرف لفظ، آہنگ، علامت، تشبیہ اور استعارہ ہی وہ عناصر نہیں ہیں جن سے اس کو پرانی شاعری سے ممیز کیا جا سکتا ہے، بلکہ اردو کی نئی شاعری کی فکری اور تہذیبی ترتیب اردو کی پرانی شاعری سے یکسر جدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لفظ کے بدلنے سے اردو شاعری کا راست اظہار متاثر ہوا ہے اور شاعری کے آہنگ کی تبدیلی سے ہمیں  شاعرانہ موسیقیت کی اگلی منزلوں کا سراغ ملا ہے۔ لفظ سے معنی کے نظام نے بھی اپنی ایک الگ دنیا پیدا کی ہے اور اس کے علاوہ شاعری کی من جملہ قواعد کے اطلاقات نے افہام و تفہیم کے نئے گوشے بھی وا کئے ہیں۔پرانی شاعری اور نئی شاعری میں فکری اور تہذیبی ترتیب کو اسی افہام و تفہیم کے عمل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر جب ہم اردو کی نئی شعریات اور اس کی مابعد رمزیت پر غور کرتے ہیں تو چند بنیادی سوالات سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ مثلاً نئی شاعری کی تہذیب کیا ہے؟ اس کے فکری نظام کا سرچشمہ کہاں ہے؟ نیا اظہار ترسیل کے المیے سے کیوں دوچار ہے؟ قدیم استعارے اور علامت کا نئی شاعری میں کیا مقام ہے؟ بیانیہ اور مافوق البیانیہ کا اعادہ کس طور ہوا ہے؟ اسطور کی گمشدگی کیوں کر ہوئی ہے؟ اور بین السطور میں چھپی خاموشیوں کا آہنگ اتنا بلند کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے؟یہ تمام سوالات اردو کے جدید ترین Poetic Structureسے جنم لیتے ہیں۔ لہذا نئی شاعری میں ان ہی استفسارات کی بنیاد پر ایک نوع کا خلفشار پیدا ہو گیا ہے۔دراین اثنا Post postmodern Poeticsمیں اظہار کی مرکزیت کے انتشار کے مسئلے نے بھی سر اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے محمد حسن عسکری کے نشان زد مشاہدات  بھی از کار رفتہ معلوم ہونے لگے ہیں۔ ہر لفظ جو کہ بیسویں صدی تک ایک مردہ استعارہ تھا نئی شعریات کی لا مرکزیت نے اس استعارے کو لفظ کے باطن سے دھکیل دیا ہے۔ اس سے نئی شاعری کی صورت حال کچھ اس طرح کی بن گئی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے ہر لفظ نے اپنا ایک شمسی نظام وضع کر لیا ہے۔ لفظ کی مرکزیت نے اپنے اطراف میں استعارے، تشبیہ، کنایہ، علامت، رمز، مجاز،حقیقت اور اصطلاح کا ایک مضبوط جال بن دیا ہے  اور وہ بھی ایسا جال جو مستقل گردش میں ہے۔اب ایسی حالت میں شعر کی معنویت کے ادراک کے لئے شعور کا اردو کے استعاراتی نظام سے مکمل طور پر واقف ہونا از حد ضروری ہو جاتا ہے، کیوں کہ ترسیل کے عمل میں دیگر کے بالمقابل استعارہ ہی ایک ایسا حربہ ہے جو نئی شاعری کی ما بعد رمزیت کو پارہ پارہ کر کے شعر  کی صداقت تک ہماری رہ نمائی کر سکتا ہے۔

شعر کے متن کے تعلق سے اس بات کا ادراک جنوبی ایشیا کی زبانوں سے متعلق ادیبوں کے بالمقابل مغرب کے تخلیق کاروں کو بہت پہلے ہو چکا تھا کہ شعر میں استعمال ہونے والے تمام الفاظ اپنی اصل میں لفظ نہیں ہوتے۔ شعر میں لفظ کا اطلاق ان الفاظ پر ہوتا ہے جن میں کسی نو ع کی تخئیلیت ہوتی ہے۔اب اردو کے ادیبوں میں بھی گزشتہ چالیس، پچاس برس سے لفظ کی اسی حقیقت کا ادراک روشن ہوا ہے۔ اسی لئے اردو میں لفظ اور معنی کی بحث پر گزشتہ نصف صدی میں ہمارے یہاں جم کر بحثیں ہوئیں۔ البتہ لفظ اور معنی کی اس بحث میں ہم استعارے کو براہ راست شامل کرنا بھول گئے۔ اردو کے ایک نقاد شمس الرحمان فاروقی نے اس طرف کچھ نگاہ کی لہذا انہوں نے انیس کی شاعری میں استعارے کے نظام پر جو مضمون لکھا ہے وہ لفظ کی مرکزیت اور استعارے کی از سر نو بازیافت کے حوالے سے خاصہ اہم ہے۔ فاروقی اس مضمون میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

اچھی شاعری میں استعارے کی کلیدی اہمیت کے بارے میں ہم بہت کچھ جانتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی ہم سب پر واضح ہے کہ بڑے شاعر کے کلام کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کے یہاں بعض استعارے اور علامتی استعارے کلیدی اور مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ کلیدی اور مرکزی اہمیت کے ان الفاظ (استعارہ، علامت، پیکروغیرہ) کی پہچان اور ان کی تفہیم گویا اس شعر کی تمام پیدا و پنہاں معنی کی تفہیم اور اس کی بڑائی کے راز کی نشان دہی کا حکم رکھتی ہے۔(1)

یہ کوئی انکشاف نہیں کہ آج سے دوسو برس پرانی شاعری کو بھی دیکھ لیا جائے تو ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی جس میں ایک شاعر کسی ایک لفظ کو ایک خاص مقصدکے تحت استعمال کرتا ہے اور اپنے استعمال کی مختلف نوعیتوں سے اس لفظ میں استعاراتی اوصاف پھونک دیتا ہے۔مثلاً سامنے کی مثال لے لیجئے کہ خودی کے لفظ سے گزشتہ صدی میں ہم اقبال کو شناخت کر پائے، اقبال کی مثال خود فاروقی نے بھی دی ہے تو ہم ان کے بالمقابل ذوق کی مثال لے لیتے ہیں جن کے انتخاب الفاظ کی وجہ سے آل احمد سرور نے انہیں پنچایتی شاعر کہا تھا،یا پھر حالی، میر، شوق لکھنوی، یقین، جعفر زٹلی اور چرکین کو بھی پیش نظر رکھا جا سکتا ہے۔لفظ کا استعارہ یا علامت بننا اور ایک خاص معنی میں استعمال ہو کر ایک اصطلاح بن جانا اس کی دریافت فاروقی کے عہد تک ہی کرشمہ تھی، فاروقی کا اصل کارنامہ اس اقتباس میں یہ ہے کہ انہوں نے لفظ کی مرکزیت اور اس کے باطن کے حوالے سے خیال کیا۔ اگر وہ یہ بات نہ کہتے کہ لفظ کے باطن میں یہ تمام کے تمام داخل ہو سکتے ہیں یا پائے جاتے ہیں تو فاروقی کی بات کسی طور دوسروں سے مختلف نہ ہوتی، مگر انہوں نے اس امر کو جانا  کہ ایک لفظ بیک وقت استعارہ، علامت اور پیکروغیرہ ہو سکتا ہے، جس سے لفظ کے خالی پن تک شعور کی رسائی ہوتی ہے۔ نئی شاعری میں لفظ کے خالی پن اور اس پر استعارے کی تیز روشنی کا جو مرحلہ ہے اس کا ادراک ہمارے گزشتہ ناقدین کو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔کیوں کہ گزشتہ صدی میں استعارے سے بڑی حقیقت خواہ کوئی اور رہی ہویا نہ رہی ہو، لفظ کا وہ شمسی نظام وضع نہیں ہوا تھا جو موجودہ صدی میں ہوا ہے۔ میں یہاں نئی شاعری کی ایک مثال دے کر اپنی بات کو مزید واضح کرتی ہوں۔ ذوالفقار عادل کا ایک شعر ہے کہ:

اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے

ہمیں کمرے کو خالی چھوڑ کر جانا پڑے گا

اس شعر میں کل چار لفظ ہیں، اداسی، وزن،کمرہ، خالی۔اس کے علاوہ کو ئی لفظ اس شعریاتی تفہیم میں لفظ نہیں کہا  جا سکتا جس سے نئی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اداسی کو شعر سے الگ کیجیے تو اس کی ایک lexical valueآتی ہے، مگر اس شعر میں وہ Symbolical Metaphor کا کام کر رہا ہے،کیوں کہ اردو میں اداسی بطور اسم کیفیت رائج ہے مگر اس شعر میں اس کی معنیاتی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ اداسی کو ذوالفقار عادل نے بیک وقت صفت ذاتی، اسم معرفہ، ظرف زماں،تفضیل  اور تجنیس کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اداسی نے اس سے قبل وزن رکھا ہو گا  اور لازماً جگہ بھی گھیری ہو گی، مگر ان دونوں اوصاف کے ساتھ اتنی شدت کے ساتھ صفت موصوف نہیں بنی ہوگی جس طرح  نئی شاعری نے اسے بنایا ہے۔ اگر شاعر اداسی کے ساتھ وزن کی شرط نہ لگاتا تو شعر میں اتنی معنیاتی گرہیں نہ پڑتیں اور لفظ اداسی  استعارے کے قالب میں نہ ڈھلتا اور نہ ہی اس میں کنایہ سے لےکر مجاز مرسل تک کسی وصف کی بوقلمونی پیدا ہوتی۔ چونکہ شاعر گزشتہ تجربات سے گزر کے یہاں تک پہنچا ہے اور اس کی فکری اور تہذیبی ترتیب اس سے اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ شعر کی بالیدگی میں اگلوں کی تقلیب کرے اور شعریات کا نیا نظام وضع کرے اس لئے اس نے اداسی کو لفظ کے شمسی نظام کے اس چاک پر اتار دیا جہاں اداسی مسلسل اپنے اوصاف تبدیل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ صرف استعارہ ہی ایک ایسی شئے ہے جو اداسی لفظ کی تہوں میں اپنی جڑیں پیوست کیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نئی شاعری میں استعارے کا کردار دیگر تمام قوائدی اجزا سے زیادہ نظر آتا ہے۔ کیوں کہ اداسی کے ساتھ  ساتھ وزن، کمرہ اور خالی میں بھی استعارہ بہت دیر تک Blink کرتا رہتا ہے۔

نجم الغنی نے بحرالفصاحت میں استعارے کی جو تعریف پیش کی ہے استعارہ یقینا اس سے بہت آگے نکل چکا ہے، کیوں کہ ہماری نئی شاعری میں استعارہ صرف ایک جزو نہیں ہے، وہ ہماری معاشرت اور ہمارے اجتماعی لا شعور کا حصہ ہے، استعارہ نئی زندگی کا سب بڑا موضوع ہے کیوں کہ انسان نے جب سے نئی دنیاوں کی کھوج کرنا شروع کی ہے اس کا حقیقت اور مجاز  دونوں پر یقین متزلزل ہو گیا ہے، ایسے میں ہم استعارے کے سہارے ہی زندہ ہیں، کیوں کہ اکیسویں صدی میں ہم اپنے اطراف کو اپنے اندرون اور اندرون کو بیرون سے وابستہ نہیں کر پا رہے ہیں، کسی شئے پر انسان کو قدرت کاملہ حاصل نہیں ہے، لہذا وہ اشیا کے درمیان متحیر سا بیٹھا خود کو استعارے کی مدد سے قابو میں  رکھے ہوے ہے اور استعارے کی وجہ سے اس کے خود پر قابو پا لینے کی صرف یہ وجہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ استعارہ جتنا مجاز ہے اتنا حقیقت، جتنا سچ ہے اتنا جھوٹ، یہاں سب کچھ ممکن ہے ، خواہ انسان ہوا میں قلابازیاں لگائے، زمین سے سورج نکالے، دریا میں چاندی پھینکے، جسم پر سونا چنے اور آسمانوں پر قلعے تعمیر کرے۔ نئی دنیا اور نئی شاعری بالکل ایک جیسی ہیں۔ اب ایسے میں نجم الغنی کی یہ باتیں کہ:

استعارے میں مشبہ کو بعینیہ مشبہ بہ ٹھہرا لیتے ہیں، یعنی بہادر کو بے یعینیہ شیر سمجھ لیتے ہیں۔(2) یا پھر استعارہ اسے کہتے ہیں کہ تشبیہ میں مبالغے کی غرض  سے حقیقت کے معنی کا کسی چیز میں ادعا کرنا اور مشبہ کے ذکر کو لفظا ً یا تقریراً  تر ک کر دینا۔(3)

کس حد تک ہمارا ساتھ دے سکتی ہیں۔میں یہ نہیں کہتی کہ یہ باتیں ہر طور غلط ہیں، بس یہ تعریفیں استعارے کی موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے از کار رفتہ معلوم ہوتی ہیں۔بحر کیف نئی شاعری کی چند ایک مثالیں اور دیکھئے:

یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لمس

اب کسی اور کا ہو نا مرا ہونا ہے یہاں

(شارق کیفی)

یہ بھی ممکن ہے کہ تم دور کے لوگ

اس الاو کو ستارہ سمجھو

(ادریس بابر)

ایک وحشت ہے کہ ہو تی ہے اچانک طاری

ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے

(عرفان ستار)

حریم دل کہ سر بسر جو روشنی سے بھر گیا

کسے خبر میں کن دیوں کی راہ سے گزر گیا

(علی اکبر ناطق)

میں اپنی دھوپ میں زندہ تو اپنے سائے میں

اس اختلاف سے باقی وجود ہمارا ہے

(تصنیف حیدر)

سطح احساس پہ ٹھہرا نہیں سکتے جس کو

ایک اک خط میں توازن ہے کچھ ایسا اس کا

(سید کاشف رضا)

روشنی میں لفظ کے تحلیل ہو جانے سے قبل

اک خلا پڑتا ہے جس میں گھومتا رہتا ہوں میں

(مہندر کمار ثانی)

اگر ذرا غور سے دیکھئے تو ان تمام اشعار میں آپ کو چند باتیں مشترک نظر آئیں گی۔جس کی بنیاد پر انہیں نئی شاعری کہا جا رہا ہے۔ مثلاً:

1-کسی بھی شعر میں کسی ایک کہانی یا واقعے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے۔

2-ہر شعر میں الفاظ کی ایسی شعوری کار کردگی نظر آتی ہے جس سے اشعار کی فضا میں گندھی ہوئی لغات ایک نوع کے ابہام سے وابستہ ہیں۔

3۔ شعر میں زبان اور بیان دونوں کو ایک سطح کا معیار بخشنے کی کوشش کی گئی ہے۔

4۔کوئی بھی شعر اپنی اگلی شاعری کے عین مطابق نہیں ہے۔

5۔ ہر شعر میں وجدان اور الہام کے بالمقابل علمیاتی (Epistemology)تناظرات زیادہ ہیں۔

6۔ہر شعر میں جدید استعاراتی مفاہیم پوشیدہ ہیں۔

اس کے علاوہ بھی بہت  سی چیز یں ہو سکتی ہیں مگر یہ چند باتیں بہت واضح اور صاف ہیں۔

نئی نئی کی پکار صرف یوں ہی نہیں کہ شاعری میں نیا پن اس وقت تک پیدا ہی نہیں ہو سکتا جب تک کسی شعر میں پرانے سے شعوری طور پر اجتناب نہ برتا گیا ہو۔یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہر نیا نیا نہیں ہوتا کسی بھی نئے کے وجودکا ادراک پرانے سے تمیز کرنے کے بات ہی ثابت ہوتا ہے۔ حالی اور میر مہدی مجروح میں مجروح کے بالمقابل حالی نئے تھے، لیکن غالب اور حالی میں حالی کے مقابلے پر غالب زیادہ نیا تھا۔ نئے کا تعلق زمانے سے کم ارادے اور ادراک سے زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا اوپر پیش کی ہوئی مثالوں میں نئے کا ارادہ اور ادراک دونوں نظر آتے ہیں اس لئے یہ نئی شاعری ہے۔ حالاں کہ اس شاعری میں بہت سے لوازمات پرانے بھی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی مجموعی حیثیت اس نوع کی ہے کہ ان پرانے لوازمات سے نئے کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر نئی شاعری کا دلجمعی سے مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کے نئی شاعری میں معنیات کی سطح پر بکھرنے کا جذبہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے کم الفاظ میں کئی دنیاوں کے راز چھپانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ ان اشعار میں بھی اسی طرح کا شعوری عمل نظر آتا ہے۔ جس میں ہر شاعر نے الفاظ کے نظام کو چیستاں بنا کر ایک کھونٹے سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ ڈور کو ذرا سا کھینچتے ہی رنگ و نور کے مختلف جہانوں سے قاری کا تعارف ہو جاتا ہے۔یہ غالب سے آگے کا عہد ہے اور میر سے پہلے کا جس میں خورشید اکرم اور شہرام سرمدی جیسے شعرا پیدا ہو رہے ہیں جن کی تخلیقات کے ماتھے پر غالب کا یہ شعرواضح طور پر چسپاں نظر آتا  ہے کہ:

بہ فیض بے دلی،نومیدی جاوید آساں ہے

کشاکش کو ہمارا عقدہ مشکل پسند آیا (4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:

1-ص: 429،میر انیس کے ایک مرثیے میں استعارے کا نظام، شمس الرحمان فاروقی،شعر غیر شعر اور نثر

2-ص:1090، دوسرا باغ:استعارے کے ذکر میں، بحر الفصاحت، نجم الغنی رامپوری

3- ص:1090،مولف:حسن التوصل الی صناعۃ الرسل دوسرا باغ:استعارے کے ذکر میں، بحر الفصاحت، نجم الغنی رامپوری

4۔دیوان غالب اردو

 

Categories
فکشن

ذائقہ

“اے بیٹا قورمے میں ذرا بھی روغن نہیں ہے ، دلہن سے کہنا تو کہ اللہ کا دیا بہت سا ہے ذرا فراوانی سے ڈالا کریں ۔”
“جی دادی۔”رمشہ نے حامی بھری اور چلتی بنی۔

رمشہ کی دادی آزر کی ماں اور انیسہ کی ساس،ابھی چند ہی مہینوں پہلے اپنے بہو، بیٹے کے پاس رہنے آئی تھیں۔ ان کے شوہر زندہ تھے، لیکن اب وہ شہر کے مزے لینا چاہتی تھیں ، دیہات کے روز مرہ سے ان کا دل کچھ اس درجہ اچاٹ ہو چکا تھا کہ اپنے شوہر کو بے یار و مدد گا، اپنے بڑے بیٹے کے پاس چھوڑ کر ، چھوٹے بیٹے کے پاس آ گئی تھیں۔ بڑے بیٹے کے پاس باپ کو چھوڑنا ، بے یار و مدد گار ہی چھوڑنا تھا، کیوں کہ وہ اوران کا پورا کنبہ بوڑھے باپ کی پینشن پر پل رہے تھے۔ ان کا خیال خود عفن میاں رکھ رہے تھے۔ کوئی انہیں کیا سنبھالتا۔

نقل مکانی کسے راس آئی ہے ۔ تبدیلی ہوا نے البتہ امکانات رکھے ہیں ، لیکن اب ان کا اختیار اور ہاتھ دونوں ہی تنگ ہو چکے تھے ، اب انہیں کھانا پروسا جاتا تھا ، وہ خود نہیں پروستی تھیں ۔ انیسہ بہو، ساس کے برابرآکر کھڑی ہوئیں، ساس نے پھر وہ ہی راگ الاپنا شروع کر دیا ، لیکن اس کے سر وہ زیادہ لمبے نہ کھینچ سکیں ۔ آخر اب راج رانی بہو تھیں ، کچھ کہتے کہتے دل مسوس کے رہ گیا۔
بہو ، بیٹے کے پاس آنے کے بعد سے دادی کا یہ معمول بن گیا تھا، کہ وہ رمشہ کے پاس بیٹھ کر اپنے پچھلے وقت کے کھانوں اور ان کے ذائقوں اور ان کے پکانے کی تراکیب پر ہی باتیں کیا کرتی تھیں ۔ کبھی کہتیں ۔ “اے بیٹا قورمہ ایسے تھوڑی نہ بنتا ہے۔”اور کبھی کہتیں کہ “اے بیٹا جب دلہن نہ ہوئیں تو کسی روز ہم پکا کر کھلائیں گے۔” اور کسی روز کے فراق میں وہ لمبی لمبی آہیں بھرتیں۔ اپنے سامنے رکھے کھانے کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھتیں ، جب کبھی بہو بیگم کے بنے ہاتھ کا کھاناان کی حلق سے اترنا مشکل ہوجاتا تو چپکےسے رمشہ سے شکر منگوا لیتیں اور شکر روٹی سے ان کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں نمی اتر آتی۔

ان کے اس معمول میں ایک عرصے تک ذرا بھی تبدلی نہیں آئی ۔ کھانے کی شوقین وہ ہمیشہ سے تھیں ۔ جب تک ساس کے عہدے پر بحال رہیں تب تک انہوں نے بہتر سے بہتر پکایا اور کھایا۔ پکانے کے معاملے میں وہ بڑی دلدار تھیں، البتہ کھلانے میں کچھ تنگ دست واقع ہوئی تھیں ۔ان کی تنگ دستی سے سبھی لوگ واقف تھے ، لیکن رمشہ نے اس کے برعکس کبھی کبھی ان کی سخاوت کے نظارے بھی دیکھے تھے۔ وہ روغن اور مال ، میوہ ڈال کر کچھ پکاتیں تو سب سے بچ بچا کر رمشہ کو کھلا دیتیں ، لیکن یہ بات اس وقت کی تھی جب ساس راج تھا، اب بہو رانی تھی۔ ساس محض تماشہ بیں۔

بڑھاپے میں جسم کے سارے تقاضے زبان میں منتقل ہو کر ذائقے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ رمشہ کی دادی نے بھی سارے تقاضوں کو ذائقوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ کبھی رمشہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھتی تو اسے یوں محسوس ہوتا کہ وہ زہر مار کر رہی ہوں اور کبھی وہ کھانے کو چھوڑ کر چھت کو تاکنے لگتیں ۔

واپس جا کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہونا تھا،کیوں کہ وہ اختیار بڑی دلہن نے لے لیا تھا کہ جو ہے وہ خود پکائے اور کھلائے۔ ذائقہ ان کے لیے بڑی چیز تھی۔ اچھے کھانوں کے سوا ان کے لیے کوئی شئے معتبر نہ تھی۔ خدا کے پاس جاتے ہوئے بھی وہ تندرست ہی نظر آنا چاہتی تھیں۔ اسی لیے صرف ایک ہی مقولہ ہمہ وقت ان کے لبوں پر جاری رہتا۔”اے بیٹاکھایا پیا ہی تو ساتھ جاتا ہے۔”اعمال پر کچھ خاص نظر نہ تھی،البتہ بدن کی چستی تندرستی کو وہ سب سے زیادہ اہم گردانتی تھیں ۔ دلہن کے ہاتھ کا کھانا انہیں کبھی پسند نہیں آیا۔ ایک عرصے تک برداشت کرتی رہیں، مگر ایک روز تھک ہار کر انہوں نے واپسی کا ارادہ کر ہی لیا اور ان کے اس فیصلے کو جلد از جلد پائے تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔ انہیں دوبارہ اپنے شوہر کے پاس پہنچا دیا گیا۔ ابھی وہ اپنے شوہر کے یہاں پہنچی ہی تھیں کہ ایک سانحہ یہ پیش آیا کہ عفن میاں میں چل بسے ،عفن میاں کے چند روز بعدہی خود رمشہ کی دادی بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ آزر ،انیسہ کے ساتھ رمشہ بھی دادی کی تندرستی کے زوال کو آخری مرتبہ دیکھنے پہنچی،لیکن رمشہ یہ دیکھ کر بھونچکی رہ گئی کہ دادی کے مقام پر صر ف ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا۔

مرنے والے کی اچھائیوں کا ذکر چھیڑا جانے لگا، ان میں سے کسی نے کہا، “یہ تو آخر عمر میں پاگل ہو گئی تھیں۔اپنے سارے بال خود ہی نوچ ڈالے۔اسی لیے ان کی بڑی دلہن نے انہیں گنجا کروا دیا تھا اور تو اور یہ تو زمین سےچن چن کر کیڑے مکوڑے اور مٹی کھانے لگی تھیں۔ یہ سنتے ہی رمشہ کو یہ محسوس ہوا کہ جیسے اس کا منہ کیڑوں اور مٹی سے بھر گیا ہو۔ اسے کہیں دور سے یہ آواز آتی محسوس ہوئی۔

“اے بیٹا،میں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی، میں ذائقہ ڈھونڈ رہی تھی۔تمہاری ماں کے پاس ذائقہ نہ تھا، بڑی دلہن کے پاس کھانا نہ تھا، اسی لیے ان کیڑوں میں ذائقہ تلاش کر رہی تھی۔ اے بیٹا مزا تو اچھا نہ تھا ، لیکن بھوک بہت لگتی تھی، اسی لیے کھالیا، اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی،اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی ، اےبیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے پاس تو کھایا پیا ہی جاتا ہے۔ “تقریباً چیخ پکار کی مانند یہ آوازیں اسے جھنجھوڑ رہی تھیں اور وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دادی کے گنجے سر اور ہڈیوں کے ڈھانچے کو تکے جا رہی تھی۔

Image: Rina Bhabra