Categories
نان فکشن

تحقیق کا سائنسی طریقہ کار

سائنسی تحقیق :

جستجو یاتجربہ جس کا مقصود ہوتا ہے۔کسی چیز کی تلاش اور حقیقت کی وضاحت، پرانے نظریات کی نئے حقائق کی روشنی میں از سر نو چھان پھٹک اور جدید نظریات کی تطبیق یہ تمام چیزیں سائنسی تحقیق کی اساس ہیں۔ اس کے علاوہ نئی معلومات کو جمع کرنے کا وہ طریقہ جس سے نئے حقائق سامنے آئیں یہ بھی سانئسی تحقیق میں شامل ہے۔

بنیادی طور پرسائنسی تحقیق کے طریقہ کار کے مندرجہ ذیل چار مدارج ہیں :
1-Observation
2-Hypothesis
3-Testing
4-Predictions

یہ چاروں اقدامات کسی بھی تحقیق میں متواتر چلتے رہتے ہیں، مثلاً اگر اس سائنسی طریقہ کار سے کسی موضوع پر اولین صورت میں غور کر کے اس پر چند ایک مفروضات قائم کر لئے گئے، پھر ان مفروضات کی جانچ کی گئی اور اس کے نتیجے کے طور پر اس پیشن گوئی پر پہنچنا ممکن بھی نظر آیا کہ اس پورے عمل سے حقائق کا اظہار ہو رہا ہے، تو بھی اس کے باوجود ایک محقق کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ Predictionsکی منزل سے دوبارہ حاصل شدہ نظریہ کے مفروضات کی جانچ کرے اور اس چانچ کے دوران صحیح اور غلط نتائج پر از سر نو غور کرے۔ اس سے یہ سلسلہ سائنسی تحقیق میں مستقل جاری رہتا ہے تاکہ بدلتے ہوئے حقائق پر ایک محقق کی گرفت کمزور نہ پڑے۔ اگر تجربات کے ذریعے مفروضات سے کسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے،تو وہ اولین صورت میں ایک قانون یا نظریہ کی شکل اختیار کر لے گا، لیکن اگر مفرضات سے حقائق کا اظہار نہ ہو سکاتو اس سے مفروضات کا رد ہونا طے ہے یا پھر دوسری صورت میں ان مفروضات کی دوبارہ جانچ کے عمل کو دہرایا جائے گا۔ سائنسی طریقہ کار کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو حقیقت تک رسائی بلا شبہ ممکنہ حد ہوجاتی ہے، لیکن اگر اس طریقہ کار کے استعمال کے باوجود بھی حقائق تک رسائی ممکن نہ نظر آئے تو ایک محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفروضات پر غور کرے۔ آیئے اب چاروں اقدامات پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں جس سے ان کے اصل معنی تک رسائی حاصل ہو سکے۔

Observation:
اس کے لغوی معنی مشاہدہ ہیں۔ اس ضمن میں حقائق کو اولین صورت میں جاننے اور سمجھنے کا عمل ہوتا ہے۔ جس سے حقائق کو ادراک کی کسوٹی پر کسا جاتا ہے۔ مشاہدہ سے کسی بھی حقیقت تک رسائی نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے حقائق کو جاننے کی جستجو بیدار ہوتی ہے۔ مشاہدے کے عمل کے بعد ہی حقائق کو جاننے کے ماخذات کی جانب قدم بڑھایا جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق میں Observationکو اول اول دو خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جسے اصطلاحاً Use full Observationاور Not Use Full Observationکہا جاتا ہے۔ اس میں سوالات کو دو خانوں میں بانٹاجاتا ہے۔Use Full Observationکے سوالات سے ایسے مفروضات قائم ہوتے ہیں جن سے نتائج کے حصول کی امید ہوتی ہے اور دوسری صورت میں Not use full Observationوہ ہوتی ہے جس سے کسی نئے نتیجے پر پہنچے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس سے ایسے مفرضات پیدا ہوتے ہیں جن پر پہلے ہی کئی محققین غور کر چکے ہوتے ہیں۔

Hypothesis:

مفروضہ جو مشاہداتی اور تجرباتی نتائج کی جانچ کے لیے ہو۔ اچھے مفروضے کی جانچ تجربہ اور احتساب سے کی جا سکتی ہے۔اس میں بہت غور و فکر اور مطالعہ درکار ہوتا ہے۔مشاہدے سے مفروضے تک غور و فکر کا عمل از حد ضروری ہے، کیوں کہ اسی کی بنیاد پر کسی نو ع کا تحقیقی کام اگلی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ مفروضے کی ایک واضح تعریف مندرجہ ذیل ہے:

  1. an assumption or concession made for the sake of argument
  2. an interpretation of a practical situation or condition taken as the ground for action
  3. a tentative assumption made in order to draw out and test its logical or empirical consequences
  4. the antecedent clause of a conditional statement
    (Merriam-Webster Dictionary: Definition of Hypothesis, Since 1828, merriam-webster.com)

مفروضے کی تعریف کو جاننے کے بعد ایک سب سے اہم بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ سائنسی تحقیق میں کسی بھی ایسے مفروضے کو قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا جس کی بنیاد پر منطقی اور تجزیاتی نوعیت کے اشکالات سے بحث نہ کی جا سکے۔ کوئی بھی مفروضہ اسی صورت میں مفروضہ ہوتا ہے جب اس کے نتائج خواہ وہ نظریہ اور قانون کی شکل اختیار کریں یا نہ کریں پر اپنی اولین صورت میں غیر منطقی اور غیر تجزیاتی نہ ہوں۔ مفروضہ سائنسی تحقیق کا سب سے بنیادی عنصر ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی نظریہ کی تشکیل کا دار و مدار ہوتا ہے۔

Testing:

جانچ کاکام نتائج کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور نتائج کا تجریہ اس ضمن میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔صحیح تجزیہ ہی مفروضے کو صحیح یا غلط ثابت کرتا ہے۔حالاں کہ کوئی بھی مفروضہ پوری طرح غلط ثابت نہیں ہوتا ,لیکن پھر بھی صحیح تجزیہ سے مفروضے کے اہم حصوں کے درست اور نا درست ہونے کا ادراک ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں اس بات کو مد نظر رکھنا سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے کہ جن حصوں کے غلط ہونے کا ادراک ہو جائے اس پر ازسر نو کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ہی جانچ کا اصل مقصد ہے۔

Prediction:

اس کا اردو ترجمہ حالاں کہ پیشن گوئی ہے۔ پھر بھی اس کی تعریف کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک قسم کا اعلان ہے جو پہلے سے کسی بات کی نشان دہی کرتا ہے۔ خاص کر مشاہدے، تجربے اور سائنسی بنیادوں پر۔

ان چار بنیادی باتوں کے علاوہ سائنسی تحقیق کے عمل میں ہمیں چند ایک اہم باتوں کی جانب بھی اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے جس سے سائنسی تحقیق کا براہ راست تعلق ہے۔ ایسی بنیادی باتیں مندرجہ ذیل ہیں :
٭ predictionحالاں کہ آخری مرحلہ ہے پر اس کی بھی مفرضے کے خلاف چانچ کی جا سکتی ہے۔
٭ اس پورے عمل کو ریاضیاتی انداز میں برتنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ حاصل کے طور پر کسی بھی طرح کا Prediction
غلط ثابت نہ۔ اس لیے سائنسی تحقیق کا عمل ریاضیاتی عمل سے مشابہ ہوتا ہے۔
٭ یہ بات سب سے اہم ہے کہ کسی بھی موضوع کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں وقت برباد نہیں کرنا چاہیئے، اس کے بر عکس اپنے موضوع پر گرفت رکھتے ہوئے اس سے متعلق چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھنا چاہیئے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں آخر میں جا کر بہت اہم ثابت ہوتی ہیں۔
٭ اگر کسی طور مفروضہ ناکام بھی ہوجاتا ہے تو اپنی تحقیق کی رپورتاژ ضرور مرتب کرنا چاہیئے تاکہ اس موضوع پر کام کرنے والے اگلے محقق کو اس تجربہ سے روشنی حاصل ہو سکے۔
٭ اس رپورتاژ کو ایسے مرتب کیا جانا چاہیئے تاکہ مستقبل میں اس سے کام لیا جا سکے۔

آخر میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ اردو میں ان اصولوں کی روشنی میں ہونے والے تحقیق کام بہت کم ہیں، جس کے بر عکس مغرب میں ان اصولوں کو نہ صرف یہ کہ وضع کیا گیا ہے بلکہ ان کو تحقیق پر Applyبھی کیا گیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے طریقہ کار کو اردو زبان و ادب سے متعلق طلبہ کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسل اس امر کی تلافی کر سکے۔

Categories
نان فکشن

رشتے کا ایک برس

موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں اچھا اور برا، آسان اور مشکل دن نہیں دیکھا۔ زندگی انہیں گورے، کالے سورجوں سے چڑھتی ،بڑھتی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اک روز آتا ہے جب ہم سب زندگی کے ایک ایسے روشن مستقبل کی آغوش میں کہیں کھو جاتے ہیں جہا ں سے ہماری سانسوں کی حرارت کا سراغ تک نہیں ملتا۔ میں نے کئی بارشیں دیکھی ہیں، کئی راتوں کی الجھنوں کا سکون پیا ہے اور کتنے ہی ان دیکھے خوابوں کی ہوا کا جھونکا اپنے بدن کی مٹی سے لگتا ہوا محسوس کیا ہے۔ مگر میں نےکوئی پانی کی بوند ایسی نہیں دیکھی جس میں خاک کا عکس نہ ہو، کوئی کپاس کا ریشہ ایسا نہیں چھوا جس میں پتھر کی سلیں نہ ہوں اور کوئی راکھ کی آندھی ایسی نہیں دیکھی جس میں گلابوں کی خوشبووں کا مہکتا رنگ نہ ہو۔ اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھنے اور بہت کچھ نہ دیکھنے کے احساس میں میں دور تک گیا ہوں، انجان گلیوں کی خاک چھانتا، نمکین پسینوں کا دھواں تلاشتا اور نئے پتوں کی سرسراہٹ کا نغمہ سنتا، کوئی تھا جو وقت کی اس ریت پر، مجھے ہمیشہ ایک تازگی محسوس کرواتا رہا، میری آنکھوں سے اوجھل، میرے ماضی سے دور اور حال سے آگے۔ کس کو علم ہوتا ہے کہ اس کے خواب کی تعبیر زمین کے کس حصے کی مٹی تلے دفن اس کو پکار رہی ہے۔ وقت گزرتا ہے اور ہم زندگی کے نئے منظر کی نذر ہوتے چلےجاتے ہیں۔وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ کب آنکھوں کے پیالوں نے اپنا چراغ خود بجھا دیا، کب بدن کی توانائی کو حالات کی دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیا اور کب ان سرمئی اور معصوم خواہشوں کو ہوس کے ناگوں نے نگل لیا جن سے زندگی میں ٹھنڈی ہواؤں کے لچکتے ہوئے تھپیڑوں نے اک رمق پیدا کر دی تھی۔ کئی دن کا خواب ایک دن میں چور ہوتا ہوا دیکھا تو لگا کہ غالبا اب زندگی دوبارہ موقع نہیں دے گی۔ کون اٹھنا چاہتا ہے اس ریت پر سے جس کے ٹیلوں پر بادلوں کا سایہ ہو اور جس کی آغوش میں پانی کی وہی میٹھی کلکاریاں ہوں جن سے جلتے ہوئے جسموں کا دھواں بجھ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا، بس خاموش نظروں سے اس پیالے کو دیکھا اور دیکھتا رہا کہ وقت کی ریت اسی پیالے میں اک روز میرے نورانی دھندلے خوابوں کو سجانے والی ہے۔ دونوں جانب ایک ہلکی سی خاموشی تھی ، جس کے زیر زمیں کئی آوازیں روز بیان کا پتا دیتی ہوئی اپنی زندگی کا اثبات کروانے میں لگی ہوئی تھی۔ میں نے وقت کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کیا اور اس کی دم پر ایک آہنی تازیانہ لگا کر اسے ہوا کے سپرد کر دیا۔ اس کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ اسی سے ہمیں تسکین مل سکتی ہے۔ پھر وہ سب ہوا جس کا ہم دونوں کو انتظار تھا۔ کچھ سورج میری چھاتی سے اگے، کچھ اس کی ناف کے اندھے غاروں میں مدغم ہوگئے۔ کبھی چاندنی کا دھواں ہماری رانوں کے دمیان کلبلایا تو کبھی ارتعاش اور محبت کے ہوس ناک تیر ہم دونوں کے کلیجوں میں اترتے چلے گئے۔ درمیان میں کنوئیں آئے، جھیلیں پڑیں اور ان جھیلوں سے اچھلتی، کودتی مچھلیوں نے ہمارے منہ چومے، کوئی نہنگ ہماری قدموں کو چھوتا ہوا گزر گیا اور کسی ویل نے ہماری سانسوں کا ریشم نوچ کھنسوٹ دیا۔ ہم سمندر کی گہرائی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ آسمان کی تیسری منزل سے کسی نے ہاتھ دے کر ہمیں اوپر اٹھا لیا، کون جانتا تھا کہ رگ جاں کا تصور اسی نارنگی اور سرمئی آستینوں سے لپٹا ہوا ہے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ نور کے سائبان تلے ایک خاموش بستی ہےجس میں ہم دونوں کو ایک روز دفن ہو جانا ہے۔ اس نے ذرا سا زور لگایا اور میری پلکوں کا پانی جھڑ کر اس کے شاخ شاخ بدن پر تیر گیا اور میں نے تھوڑی سی کوشش کی اور اس کے پہاڑوں میں سوراخ ہوگئے۔ وہ دن بھی آیا جب میں ہانپتی کانپنی زلفوں کو سہلاتا ہوا ، افشاں کے باریک روشن نکات کو چومتا ہوا گیلی مٹی پر اوندھے منہ سو گیا اور وہ رات بھی آئی جس میں برف کی چٹانوں نے میرے لہوکو مجھ میں جما دیا ۔کبھی کوئی راہ گیر میرا ہمسایہ بنا اور کبھی کوئی جانور میرے قدموں تلے روندا گیا۔ کسی نے پیاس کی شدت میں پانی کا ایک گھونٹ دیتے ہوئے اپنے احسان کی چھریاں میرے گلے پر رکھ دیں اور کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک اجنبی خیال نے میرے لبوں پر مسکان دوڑا دی۔ کسی موسم کا میں خواہش مند نہیں، کسی فکر کے الجھاوے کا اسیر بھی نہیں ،لیکن ایک آنکھ نے مجھے ایسا باندھا اور ابرو نے مجھے ایسا کھینچا کہ میں زمین کی آخری پرت تک اترتا چلا گیا اور سویا تو صدیوں کے لیے سوتا ہی رہا کہ سکون کی نیند ابدی تھی اور جاگا تو آسمانوں کی سیر کر لی کہ وقت کا بھنور یہ ہی تھا۔ نہ کوئی لمس ، نہ کوئی چشمہ، نہ کوئی لٹ اور نہ کوئی صدائے دلبر ، ایک برس جس میں تیرتے ہوئے بادلوں کا احساس تھا، جھومتی ہوئی ندیوں کا سرور، کھیلتے ہوئے بچوں کی شرارت اور ناچتے ہوئے مور کی تشنگی،اس کا ہاتھ میری کلائی سے بندھا رہا اور میں اہراموں سے اونچا ہوا کی تاریکی میں معلق ہوتا چلا گیا۔اس کی پلکیوں کی چاندنی میرے کندھوں پر بکھری رہی اور میں رات کے کلیجے سے لگا نیند کی نازکی کو محسوس کرتا رہا۔ ایک دبیز سی لہر، ایک گدگداتی ہوئی موج ،میرے اندر کہیں سفر کرتی اور مجھے ان حقائق سے دور لے جاتی جن کی مشعلوں سے میں برسوں تپتا رہا، اپنی ہی انگلیوں سے اپنے اندرون کو نوچ نوچ کر پارہ پارہ کرتا رہا۔ سب کھو گیا، وقت ہوا ہوا، احساس بجھ گیے ،مگر وہ ایک برس جو ریت کی طرح آیاتھا وہ میری پیشانی کی خواب آور لکیروں میں کہیں جذب ہوگیااورمیرے ستاروں میں شامل ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

کیا آپ نے ہندوستانی یونیورسٹیز میں رائج اردو کا نصاب دیکھا ہے؟

مجھے تو اس وقت بھی حیرت ہی ہوتی تھی جب میں بی-اے سال اول کا طالب علم تھا کہ آخر یہ کن باتوں پر اردو زبان و ادب کی بنیاد قائم کی جارہی ہے جس کو پڑھ کر اردو کے طلبہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کا ذہن کسی طرح کے اکتسابی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگر آپ نے ہندوستانی ہونیور سٹیز میں رائج اردو زبان و ادب کا نصاب نہیں دیکھا ہے تو ایک بار اس کو دیکھنے کی کوشش کر لیجیے۔ نہایت افسوس کے ساتھ آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ اردو کے زوال کا اولین سبب ہندوستان میں یہ ہی نصاب ہے۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اردو میں اس نصاب میں غزل اور نظم کی جو تنقید ہے اور جس طر ح کے افسانے ، ناول اور تنقیدی مباحث یہاں پڑھائے جاتے ہیں اسے کوئی بھی معمولی درجے کا نصاب پڑھنے والا پڑھا سکتا ہے ، لیکن ہماری یونیورسٹیز میں اس بات پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد طلبہ کی بصیرتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیسرے درجے کی ادبی اور علمی لیاقت رکھنے والے لوگوں کے ذریعے تیار کیے ہوئے اس نصاب میں سوائے پرانی ، فرسودہ اور رٹی رٹائی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ وہی عام سوال و جواب پر مبنی تنقیدی کتابیں ، وہیں ہزار بار کی پڑھی ہوئی غزلیں اور نظمیں اور وہی قصیدے۔ اردو کے نصاب میں اس درجہ اسفل اور سطحی چیزیں شامل ہیں جس کو پڑھ کر کوئی بھی سال اول یا دوئم کا طالب علم ذرا سی کوشش کرے تو نقاد بن سکتا ہے اور صورت حال بھی کچھ یہ ہی ہے کہ ہماری یونیورسٹیز سے ایسے ہی نقاد پیدا ہو رہے ہیں۔

آپ کو جان کر حیرت ہو گی ہندوستانی یونیورسٹیز میں اردو کے نصاب میں سال اول سے سال آخر تک (بی-اےمیں) اور اس کے بعد ایم-اے کے دونوں برسوں میں غزل اور نظم کی تعاریف پر سولات کیے جاتے ہیں ، نظم کیا ہے؟ اس کی بہت ہی سطحی بحث ہوتی ہے۔ افسانوں کے نام پر منٹو ، بیدی ، کرشن چند اور عصمت یا عینی کے دو ، دو ، چار ، چار افسانے پڑھائے جاتے ہیں ۔ناول میں ہادی رسوا کا امراو جان اور باغ و بہار یا فسانہ عجائب کی تلخیص کو روا رکھا ہوا ہے اور تنقید کے نام پر وہی الٹے سیدھے فاروقی ، نارنگ اور دوسرے درجے کے مباحث چھیڑنے والے نقاد ،جن میں کسی بھی شعر کو کسی بھی طرح سے بیان کر دینے کی صلاحیت موجود ہے۔کے مباحث پڑھائے جاتے ہیں۔ ڈرامے کے نام پر آغا حشر اور حبیب تنویر کی کچھ نگارشات اور تاریخ میں نور الحسن نقوی کی چھوٹی سی تاریخ ادب اردو سے کوئی بھی طالب علم پانچ برسوں میں اردو ادب پر با آسانی اچھے نمبروں سے ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔ جن کتابوں کو اردو نصاب میں معاونت کے نام پر شامل کیا جاتا ہے ان میں زیادہ تر اردو کے پروفیسروں کی کتابیں ہوتی ہیں جو انہوں نے انہیں الٹے سیڈھے ناقدین کی کتابوں کو پڑھ کر لکھی ہوتی ہیں اور اس کے علاوہ جو کچھ ہوتی ہیں جن میں گیان چند جین اور محمد حسن جیسے اساتذہ کی کتب کو شامل کیا جاتا ہے جو نصاب کے نام پر یوں بھی ناقص ہوتی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ خود اساتذہ نے بھی ان کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا اور اگر کیا بھی ہوتا ہے تو بہت سرسری۔ اردو کے نصاب کی ہی یہ دین ہے کہ کوئی بھی شخص یونیورسٹی میں استاد کی حیثیت سے بحال ہو جاتا ہے ، کیوں کہ پی ۔ایچ ۔ڈی تک پہنچتے پہنچتے اردو کے ہر طالب علم میں اس کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جس طرح گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے استاذ ہمیں زبان و ادب کے نام پر بے وقوف بناتے ہوئے جو کور چشم باتیں پڑھا اور سمجھا رہے ہیں وہ کس طرح ہمیں اگلوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے حاصل کے طور پر یونیو رسٹیز میں جو اگلی نسل آتی ہے وہ اس سے زیادہ کور چشم ہوتی ہے۔ لہذا غزل میں محبوب کی باتیں اور نظم کے نام پر اخترالایمان یا فیض کی یا حالی اور نظیر اکبر آبادی کی بہت مشہور نظموں کے دو چار اشعار پر ایک دوسرے سے بات کرنے کو زبان و ادب کی خدمت سمجھتی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ لوگ جن کا یونیورسٹیز سے کوئی تعلق نہیں صرف یونیورسٹیز کے چند اساتذہ کے ساتھ جن کا اٹھنا بیٹھنا ہے وہ تک اردو و زبان و ادب کے نام پر چند ایک مشہور شاعروں اور ادبیوں اور نقادوں پر پندہ ، بیس لوگوں سے مضمون لکھوا کر ادب کی خدمت کا دم بھر نے لگتے ہیں ۔ ہندوستان میں اردو کے نصاب کی پیدا کی ہوئی کور چشم عوام کا ایسا راج ہے کہ اردو ادب کے نام پر نہایت بھونڈی کتابیں آئے دن سامنے آتی ہیں ۔ نئے افسانہ نگار اور نئے ادیب بھی اردو میں وہی ہوتے ہیں جنہوں نے اس مردہ اور بے جان نصاب سے فیض حاصل کیا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ کی اردو ادب کا یہ نصاب پڑھنے کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ وہ کسی بھی اچھے اور پڑھے لکھے ادیب سے رائی برابر واقف نہیں ہوتے۔ ذرا مشکل ادب تک ان کی رسائی نہیں ہوتی اور کسی بھی نظم کے پیچیدہ شاعر کو تو وہ اٹھا کر ہی نہیں دیکھتے۔ اس کے علاوہ ادب کے ساتھ شاعری اور افسانہ نگاری سے باہر قدم رکھنا تو ان کی شریعت میں حرام ہوتا ہے۔ ٹیکنکل ہینڈ اتنا کمزور کہ کسی بھی ویب سائیٹ کو کس طرح اوپن کرنا ہے۔ اس سے کس طرح استفادہ کرنا ہے اور اردو میں کس طرح نئے تکنیکی خیالات شامل کرنا ہے اس سے ذرا واقفیت نہیں ہوتی۔ ہندوستانی یونیورسٹیز میں صرف ایک شخص خواجہ اکرام کو اگر نکال دیا جائے تو کوئی شخص اردو کے نئے تکنیکی ارتقا سے واقف نہیں ۔ بعض اساتذہ کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنی ای –میل آئی ڈی تک اوپن نہیں کر سکتے۔

یہ تمام باتیں کہیں نہ کہیں اردو کے اس فرسودہ نصاب سے ہی لگا کھاتی ہیں جن کو پڑھ پڑھ کر اور پڑھا پڑھا کر اردو کے اساتذہ اور طلبہ دونوں کور چشم ہو چکے ہیں ۔ ذرا سا نیا خیال اور نئی صورت حال ہمارے طلبہ اور اساتذہ کو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ اردو کے بہت سےطلبہ اور اساتذہ ہندوستان میں ایسے ہیں جنہوں نے کشور ناہید، فہمیدہ ریاض ، سعید الدین، نیر مسعود، سی-ایم نعیم ، اجمل کمال، محمد خالد اختر ، افضال احمد سید اور ذیشان ساحل وغیرہ جیسے کتنے شاعروں افسانہ نگاروں اور ادیبوں کا نام تک نہیں سنا۔ کسی بھی نئے اور اچھے لکھنے والے کو تو دور اردو کی یونیورسٹیز کے نصاب میں کھوئے ہوئے طلبہ اور اساتذہ اردو کی اچھی نثر اور نظم لکھنے والوں کی ہوا تک سے محروم ہیں ۔ ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ نصاب میں بھی شامل کتابوں کو اردو والے ڈھنگ سے نہیں پڑھتے جن میں کہیں کہیں حالی اور شبلی کے یہاں ایک دو باتیں کام کی مل جاتی ہیں یا سر سید اور خطوط غالب میں کچھ رمق موجود ہے اس تک بھی ان کی رسائی نہیں۔

اردو نصاب کی صورت حال تو ابتر ہے ہی اس کو تیار کرنے اور رائج کرنے والوں کی حالت اس سے بھی خراب ہے۔ ادب کے نام پر تاریخ کے دو چار ادیبوں کے کارناموں کو رٹنے کے علاوہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ نے گزشتہ کئی برسوں سے کچھ نہیں کیا ہے۔ جس سے بہت ہی خراب صورت حال یہ ابھر کے آئی ہے کہ نئے طلبہ سرے سے کورے ہوتے ہیں اور کھل کربات کرنے اور علمی انداز میں اختلاف مباحث کے آداب سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں نئے نصاب کے طور پر اردو میں جو چیز یں اور کتابیں رائج ہونا چاہیے ان کی طرف کسی بھی شخص کی نگاہ نہیں۔ ادب کے تنقیدی مباحث سے گریز کرنے کا بھی کوئی خیال نہیں اور تحقیق کے پرانے خیالات کو القط کرنے کا بھی نہیں۔ جہاں ہندوستان کی یونیورسٹیز کے نئے شعبوں میں ادب اور آرٹ کی نئی معنویت پر بہت غور و فکر کیا جا رہا ہے اس میں آزاد ی رائے اور آزاد ی خیال اور طرز حیات پر غور کر کے بہت فری ماحول پیدا کیا جا رہا ہے وہیں ہندوستان کی یونیورسٹیز اردو کے شعبوںمیں بہت پچھڑے ہوئے ماحول کو ہوا دی جا رہی ہے اور اس کو رائج رکھنے کی کوشش میں دن رات محنت ہو رہی ہے۔ اردو زبان و ادب کے ایسے دور میں یونیورسٹیز کے نصاب کو سرے سے کاٹ کر نئے طور پر مرتب کرنے کی ازحد ضرورت ہے اور نئے ذہنوں کو ہندوستانی یونیو رسٹیز کے شعبوں میں جگہ دینے کی اور پرانے اور فرسودہ ذہن جو گدیوں پر براج مان ہیں ان کی از سر نوذہنی تربیت کر نے کی۔

Categories
نان فکشن

ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری

یہ دونوں باتیں بنیادی طور پر متضاد ہیں ، مثلا ً ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری میں جب ادیب کی سر پرستی کا تصور ابھرتا ہے تو واضح طور پر ان تمام تاریخی روایات پہ یکبارگی نگاہ چلی جاتی ہے جہاں سرکاروں درباروں سے متعلق ادبا اور شعرا اپنے فن پارے ترتیب دے رہے تھے ، جن کی بنیاد میں بادشاہ وقت یا اسی نوع کے کسی دوسرے پروردہ صفت شخص کی منشا یا خوشنودی شامل تھی۔ یہ ایک واضح تصور ہے ، حالاں کہ اس کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں اس خیال کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں ، اس کے بر عکس جب ادیب کی خود مختاری کی بات ہوتی ہے تو ان فن پاروں کی طرف ذہن جاتا ہے جو کسی بھی طرح کی سرپروستی (یعنی دربار سرکار کی وابستگی ) قطع نظر آزادانہ طور پر تخلیق کئے جا رہے تھے۔ یہ باتیں ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے ذیل میں سب سے پہلے ذہن میں آتی ہیں۔ اس کے بعد اس کے مشتقات پرغور کیا جائے تو اولین صورت میں ان اشکالات کی جانب ذہن جاتا ہے کہ:

ادیب اگر کسی نوع کی سرپرستی سے اپنا ادب ترتیب دے رہا ہے تو وہ کتنی فی صد خود مختاری کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟ ادبی سر پرستی میں کس نوع کا ادب وجود میں آتا ہے؟ادبی سر پرستی کی اقسام کتنی ہیں ؟خود مختاری کیا ادیب کا مقدر ہو سکتی ہے ؟ اور ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے مثبت اور منفی پہلو کیا کیا ہیں ؟

ان اشکالات پر کچھ کہنے سے قبل اس حوالے سے مزید چند ایک سوالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو بہتر ہے ،جو محمد حسن صاحب نے جو کہ اردو زبان میں ادبی سماجیات کے حوالے سے خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں اپنی کتاب میں گنوائے ہیں :

“ادبی سماجیات کا دوسرا دبستان وہ تھا جس نے ادب کا جمالیاتی فن پارے کے بجائے مال تجارت کی حیثیت سے مطالعہ کیا۔ان کے نزدیک اہم مسئلہ یہ تھا کہ کسی دور میں ادب کی سر پرستی کن طبقوں کے ہاتھ میں ہے اور کیوں؟ادب کی اشاعت کا صرفہ کتنا ہے اور اس پر کس طبقے کا قبضہ ہےیا اس کی نوعیت کیا ہے ؟ذرائع ترسیل عامہ کا اس میں کتنا حصہ ہے؟ اس سلسلے میں مشہور فرانسسی ادبی سماجیات کے ماہر رابرٹ اسکاٹ نے نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں ۔”
(ص:12،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

محمد حسن صاحب کے سوالات بہت بنیادی ہیں ۔ اس کے جوابات پر غور کیا جائے تو سیدھے طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری تاریخ (ہماری سے مراد اردو زبان و ادب کی) اس بات کی شاہد ہے کہ جس عہد میں اردو زبان کا ادب ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا اسی عہد سے صوفیوں اور سنتوں نے اس زبان کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اگر ہم واضح طور پر اس کا حوالہ تلاش کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بارہویں صدی عیسوی ایک طرف دہلی اور پنجاب میں امیر خسرو اور مسعود سعد سلمان جیسے تصوف کی تعلیمات کے پروردہ اشخاص اس زبان کو میسر آئے تو دوسری جانب ہندوستانی زمین اور مزاج سے جڑے ہوئے ناتھ پنتھی سادھوں نے اس زبان کا خمیر تیار کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اردو کے باطن میں مذہبی عقائد سے جڑی اصطلاحات کاعنصر جس گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے اس کا راست تعلق اسی مذہبی اور صوفیانہ سر پرستی سے ہے جو اس زبان کو اپنی اولین صورت میں نصیب ہوا تھا۔ یہ سر پرستی حالاں کہ خالص لسانی قسم کی ہے لیکن بعد کے زمانے میں ادب کی تشکیل کا کام جب واضح طور پر ہونے لگا تو اس لسانی حقیقت نے ادبی حقیقت نگاری میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ بات کچھ معمولی نہیں کہ اردو کا اولین شاعر ہم آج بھی خسرو کو تسلیم کرتے ہیں اس کے اولین نظمیہ نقوش ہمیں کربل کتھا اور مذہبی گیتوں کی صورت میں ملتے ہیں ۔ اس کی نثر کا آغاز معراج العاشقین جیسی کتابوں سے ہوتا ہے یا شمال سے دکن تک اس کو اپنی پہلی منزل پر گیسو دارز بندہ نواز، میراں جی شمس العشاق، امین الدین اعلی اور اسی نوع کے وہ تمام دکنی صوفیہ جن کی پچاسوں کتابیں محی الدین قادری زور نے مخطوطات دکن میں گنوائی ہیں ایسی شخصیات نصیب ہوتی ہیں ۔ دراصل یہ ایک مستقل سلسلہ ہے جو اردو کو ہر طرح کی سرپرستی بخشنے والے طبقے سے متعلق ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی ادیب صوفیانہ تعلیمات سے قطع نظر اگر کوئی الگ راہ نکالتا ہے تو اس کو ادیب کی خود مختاری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان جو ایک خاص قسم کی معاشرتی فضا میں ترتیب پا رہی تھی اس کا مزاج یہ تھا کہ اس میں اگر اس سر پرستی کو قبول کرتے ہوئے جس ذہنی سر پرستی کو ہندوستانی مذہبی طبقے نے وضع کیا تھا کوئی فن پارہ ترتیب دیا جاتا تو اس میں فن پارے کی تشکیل کے امکانات بہت تھے۔ تحسین کے امکانات بہت تھے اور انعام و اکرام کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس فضا سے قطع نظر کوئی ایسا فن پارہ تشکیل دیا جائے جس میں ان سارے لوازمات سے اجتناب برتا جائے تو اس کے لئے ادیب کو نہ صرف یہ کے اپنی معاشرتی فضا سے بغاوت کرنی پڑے گی بلکہ اس لسانی ڈھانچے سے بھی بغاوت کرنا ہوگی جو ایک خاص قسم کی لغت اور اصطلاحی نظام سے وضع ہو اہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شمالی ہند میں ہمیں سترویں صدی میں ایک ایسی واضح مثال ملتی ہے جس نے کسی نوع کی سر پرستی کے بر عکس خود مختاری کو چنا اور حاصل کے طور پر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ مثال جعفر زٹلی کی ہے ۔ جعفر کے کلا م کو بغور پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اس شخص نے فرخ سیر کے عہد میں کتنی جرات اور اجتحادی صلاحتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کے جدید نظام لغت کو وضع کرنے کی سعی کی تھی ۔ جو لغت اس نے خالص ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ کو اردو کے خمیر میں گوندھ کر تیار کی تھی ۔ جعفر زٹلی اردو کی ادبی تاریخ میں اتنا سراہا اس لئے نہیں گیا کیوں کہ اس سے سترہویں صدی میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو عام مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ ہی اس کی ادبی خود مختاری تھی۔

محمد حسن صاحب نے جو سوالات قائم کیے ہیں اس میں ادب اشاعت کے صرفے سے متعلق جو سوال ہے وہ بہت اہم ہے، کیوں کہ ادبی سر پرستی میں اس بات کا بہت زیادہ خیا ل رکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر جو ایک حاکم یا ایک بادشاہ یا پھر کسی نوع کی Super Power کے افکار و نظریات کی تائید میں لکھا جاتا ہے اس کو اشاعت کے مرحلے سے گزرنے میں پریشانیوں کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا جس کے برعکس کوئی ایسا فن پارہ جو اس طاقت کے تردید کر نے کے لیے لکھا جاتا ہے یا تردید سے قطع نظر صرف اس صورت میں ہو جو اس عہد کی عظیم طاقت کی تائید میں نہ ہو تو اس کی اشاعت کے لیے صرفے کا سوال قائم ہو جاتا ہے۔ لفظ صرفہ کی یہ خاصیت ہے کہ جب اس لفظ کو خرچ کے معنی میں برتا جاتا ہے تو اس میں منافع کے معنی از خود در آتے ہیں ۔ اس لیے یہ جاننا زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ وہ ادب کس طبقے یعنی Divisionسے تعلق رکھتا ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے۔ اسی لئے محمد حسن صاحب نے ان تینوں باتوں کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔

ادبی سر پرستی کے تعلق سے یہ بات بھی کم لائق توجہ نہیں کہ یہ مال تجارت کی نوع کی چیز ہے ۔ اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی وہ یکسر تنقیدی نوعیت کا ہوتا ہے۔ خالص احساسات ترجمان ہوتا ہے ، کسی پولیسی پر کھرا نہ اترنے والا اور واحد الاصل ہوتا ہے ۔ اس کی نظیر اپنے عہد میں کم ملتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کی قبولیت کا گراف بھی بہت کم ہوتا ہے۔ ادبی سر پرستی سے ادیب کی خود مختاری تک معیار کا سوال بالکل الگ نوعیت سے پہنچتا ہے ۔ مثلاً یہ ایک واحد ایسی چیز ہے جس پر ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری دونوں راست انداز میں اثر نہیں ڈال پاتے ۔ معیاری کلام خواہ وہ کسی بھی اعتبار سے ہو وہ ادبی سر پرستی سے بھی ترتیب پا سکتا ہے اور ادیب کی خود مختاری سے بھی ، حالاں کہ ہندوستانی تاریخ جس استادی اور شاگردی کے فلسفے سے ایک عرصے سے چمٹی ہوئی ہےاس روایت کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادب جو کسی نوع کی سر پرستی سے وجود میں آیا ہے اس میں متاثر کن لوازمات زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ خود مختاری سے بہت کم فن پارے اس درجے کو پہنچتے ہیں جن کو فن پارہ تسلیم کرنے میں تامل نہیں برتا جاتا۔ اس کی واضح مثال ہمارے یہاں غالب اور ذوق کی ہے ۔ غالب کا کوئی استاد نہ تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں غزل کے جتنے شعر کہے وہ ہر طرح کی ادبی سر پرستی سے آزاد قرار دیئے جا سکتے ہیں ،جبکہ ذوق کے معاملے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ذوق ، نصیر کے شاگر بھی تھے دوسرے دربار مغلیہ سے وابستہ بھی تھے اس لئے انہیں غزل کا شعر کہتے ہوئے دو پابندیوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا تھا۔ اس میں ایک اہم عنصر اس بات کا بھی شامل ہو جاتا ہے کہ ذوق کو شعر کہتے وقت اپنی استادانہ حیثیت کے تکلفات کو بھی نظر رکھنا پڑتا ہوگا ، جبکہ غالب ان سارے تکلفات سے غزل کی حد آزاد تھے۔

یہ سب باتیں تو پھر بھی صنعتی انقلاب سے پہلے کی ہیں لیکن صنعتی انقلاب کے وجود میں آنے کے بعد اس سلسلے میں جو اہم سوالات قائم ہوئے یعنی ادبی سر پر ستی کے ذیل ا س میں ادیب کی حیثیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا۔ مثلا ً صنعتی انقلاب سے پہلے ادیب اور ادب یہ دونوں خواہ رزیر پرستی ہوں یا اس سے جدا پر یہ دونو ں دو خانوں میں نہیں بٹے تھے۔ لیکن یہ صورت حال نئی دنیا میں یکسر تبدیل ہو گئی یہاں میں اس کی ایک واضح مثال اس ضمن میں پیش کر رہا ہوں جو محمد حسن صاحب نے اپنی کتاب ادبی سماجیات میں اس حوالے سے پیش کی ہے ۔ فرماتے ہیں :

“اس ضمن میں ادیب اور اس کی تخلیق اور اس تخلیق کے ذریعے اس کے قاری تک اس کے نتیجے تک پہنچنے کے مسائل بھی سامنے آئے اور بیگانگی کا سوال بھی اٹھا ۔ ادیب صنعتی دور میں اپنے فن پارے سے بڑی حد تک کٹ کر رہ گیا ہے اور غیر متعلق اور بیگانہ ہو گیا ہے ، اس کی تخلیق صنعتی دور کے ذرائع ترسیل عامہ میں یکسر اس کی ذات کا اظہار نہیں رہ جاتی بلکہ اس کی ذات سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ اس کی سب سے واضح مثال فلم کے لئے گانا لکھنے والے شاعر کی تخلیق ہے ، یہ گانا اکثر اپنی ذات کے اظہار یا اپنے جذبات و احساسات کے لئے بلکہ دی ہوئی صورت حال پر پروڈیوسر یا ڈائرکٹر کی فرمایش کے مطابق لکھتا ہے ۔ جس کی دھن اکثر میوزک ڈائرکٹر پہلے ہی فراہم کر دیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر جب اپنا گیت مکمل کر کے لائے تو میوزک ڈائر کٹر یا صلاح کاروں کے مشورہ سے گیت کے بولوں میں تبدیلی کر دی جائے یا ایک دومصرعوں یا لفظوں کا اضافہ کر دیا جائے ۔ جب یہ گیت پردہ سیمیں پر پیش ہوگا تو شاعر کا گیت کوئی اداکار یا اداکارہ کسی دوسری گلو کار مغنیہ کی آواز میں میوزک ڈائرکٹر کی دھن پر گا رہا ہوگا۔ یا گارہی ہوگی اور اس کا گیت اب صرف اس کا اپنا نہیں ہوگا اس میں بہت سے دوسرے فن کار بھی شامل ہوں گے اور شاعر کی شخصیت اس منزل تک پہنچتے پہنچتے گیت سے تقریبا بے گانہ ہو چکی ہو گی گویا گیت اب اس کے لئے ذریعہ اظہار نہیں مال تجارت بن چکا ہوگا۔”
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

یہ صنعتی انقلاب کے بعد کے ادب کی جو صورت حال ہے اس کی سب سے بہتر مثال قرار دی جاسکتی ہے۔ جس میں ادبی سر پرستی کا دائرہ اتنا زیادہ پھیل گیا ہے کہ اب Imperial Supervisionکا تصور مستحسن معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ تعین قدر کا مسئلہ تھا یا پھر شناخت کے حصول کا لیکن اس طرح توادیب کی حیثیت اتنی Secondary ہوجاتی ہے کہ شناخت کا مسئلہ ہی نہیں رہ جاتا ۔ ا س کا اگلا اقتباس بھی ملاحظہ کیجیے تاکہ بات مکمل صورت میں سامنے آجائے ۔ آگے فرماتے ہیں :

“ظاہر ہے یہ سوال محض ادب کی سر پرستی کا نہیں ہے بلکہ پورے تخلیقی عمل کو متاثر کرنے کا ہے اور اس کی جڑیں ادبی تنقید کے بنیادی مباحث تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس نظریہ کی بنا پر ماں ؔہیم نے ادیبوں کو ایک گھومنے پھرنے والی ایسی دانش ورانہ مخلوق قرار دیا تھا جو اپنی جڑوں سے کٹ چکی ہے اور جس کی ادبی تخلیق اب مال تجارت بن چکی ہے ۔ اس کے بر خلاف لیوسؔی گولڈ مان نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ یہ صورت حال صرف ادنی درجے کے ادیبوں کو پیش آتی ہے جب کہ اعلی ادیب کبھی بازار کے لیے نہیں لکھتا اور اس طرح وہ ناشر ، مصنف ، قاری کے جبر سے نکل جاتا ہے اور اپنی تخلیقات کو مال تجارت نہیں بننے دیتا۔ ”
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

بس لیوسی گولڈ مان نے جو بات کہی ہے ادیبوں کا ایک بڑا طبقہ اسی کے ساتھ ہے اور یہ بات کسی طور فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اعلی اور ادنی ادب کی جدید تعریف انہیں واقعات کی روشنی میں متعین ہوتی ہے ۔ یہ ہی وہ خود مختار ادیب ہے جس کو گولڈمان نے اپنے بیان کے ذریعے بازار سے دور بتایا ہے ۔ معیار کا جو جدید تصور ہے وہ بھی اسی سے طے ہوتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صنعتی انقلاب سے پہلے معیار کی وہ بحث جو شاہی نظام کے تحت فروغ پاتی نظر آتی ہے ۔ جس میں لفظ کی صحت اور بلاغت کلام کو زیادہ معنویت حاصل تھی وہ صنعتی انقلاب کے بعد یکسر تبدیل ہو گئی ۔خود مختار ادیب کی حیثیت اس لیے بھی اس دور میں زیادہ با وقار معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس عہد میں ادب کی حفاظت کا ذمہ لے رہا ہے جہاں ادب کی حفاظت سے اسے سوائے خسارے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔

Categories
نان فکشن

کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

اسید الحق قادری کے متعلق یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انھیں خدا نے شعر کہنے کی صلاحیت بھی عطا کی تھی۔یہ بات الگ ہے کہ موزونی طبع کے باوجود شعر و شاعری کو انھوں نے کل وقتی مشغلہ نہیں بنایا اور بہت کم شعر کہے۔ لیکن ان کے جتنے اشعار ہمیں دستاب ہیں اس سے ان کی شعری صلاحیتوں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔اسید الحق صاحب کا جتنا کلام اس وقت میرے سامنے ہے اس میں ایک حمد،چار نعتیں ،ایک منقبت اور چھ دیگر نظموں کا شمار ہوتا ہے۔شاعری ان کے معمولات زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتی تھی ،لیکن اس ثانویت کہ باوجودجتنا کلام وہ زینت قرطاس بنا گئے وہ ایسا انتخاب ہے جو بڑے سے بڑے حمد ،نعت اور منقبت نگاروں کے کلیات پر بھاری ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کلام بھی انھوں نے اپنے اس عہد میں کہا تھا جس دوران وہ اکتساب فیض کر رہے تھے اور ان کا تعلیمی سفر جاری تھا ۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد ان کا سارا دھیال دینی علوم اور اپنے اکابرین کی کار گزاریوں کی طرف مبذول ہو گیا ۔پھر اس کام میں وہ ایسے مصروف ہوئے کہ ’غالب خستہ کہ بغیر کون سے کام بند ہیں ‘کے مماثل شاعری کی جانب نگاہ کرنا ہی چھوڑ دی۔جن جن لوگوں نے اسید الحق قاردی سے ملاقات کی ہے وہ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ اسیدالحق صاحب مزاجاً ایک قادر الکلام شاعر معلوم ہوتے تھے۔ خود میں نے کئی بار اس بات کا ذکر ان سے کیا تھا کہ آپ کو اس کوچہ جاناناں کی سیر میں ہمہ وقت مصروف رہنا چاہئے کیوں کہ آپ کو اللہ نے شعر کہنے کی جس صلاحیت سے آراستہ کیا ہے آ پ اس کا حق ادا کر سکیں ،اس کے جواب میں وہ اپنے مخصوص تبسم کے ساتھ کیا فرماتے تھے ،اس بات کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں لیکن یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسیدالحق قادری ایک ایسی شخصیت کا نام تھا جو’ کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر‘ کہا جا سکتا ہے۔

اسید الحق کا ادبی مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ تو کیا ہی تھا لیکن اردو ادب پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی ۔اردو کے کئی کلاسکی شعرا کا کلام ان کی نوک زبان پر رہتا تھا ۔حالاں کہ اسید الحق نئی نسل کے نمائندے تھے لیکن جس علمی اور ادبی سر زمین(بدایوں) اور خانقاہ(عالیہ قادریہ، بدایوں) سے ان کا تعلق تھا اس سے بعید از قیاس نہیں کہ انھیں اتنے اشعار کیسے یاد ہو گئے ہوں گے۔پرانے شعرا ایک دوسرے کو شاعر تسلیم کرانے کے لئے جس کلیہ کو ایک دو سرے پر منطبق کرتے تھے کہ’ اس وقت تک سامنے والے کو شاعر تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک اسے پانچ ہزار شعر یاد نہ ہوں ۔‘اس کلیہ کو آج کے شعرا پر منطبق کیا جائے تو صف اول کے بہت سے شعرااس حلقے سے باہر ہو جائیں گے ۔یہ کلیہ کہا ں تک درست ہے ؟یہ ایک الگ بحث ہے۔لیکن اسید صاحب کی شخصیت اس عہد میں میرے علم کے مطابق ان دو چار حضرات میں شمار ہوتی ہے، جسے پانچ ہزار نہیں تو اس کے اریب قریب اشعار تو یاد ہی ہوں گے۔ اس سے ان کی موزوں طبیعت کا علم ہوتا ہے ۔اکثر اوقات وہ شکوہ شکایت بھی شعر یا مصروں کے ذریعے کیا کرتے تھے ۔جس دوران دہلی میں اسید الحق صاحب اور خوشتر نورانی کی علامہ فضل حق خیرآبادی پرکتابوں کی رسم اجراعمل میں آئی اس کے بعد ان سے چھ ،سات مہینے تک میری کوئی گفتگو نہ رہی۔میں اپنے کاموں میں مصروف تھا وہ اپنے کاموں میں کہ اچانک ایک روز انھوں نے فیس بک پر مجھے میسج کیا کہ ’میں وہی ہوں مومن مبتلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘میں بہت شرمندہ ہوا اور فوراً ان کا حال احوال طلب کیا۔‘ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ انھیں موضوع کے مطابق کتنے اشعار یاد تھے۔بہر کیف مجھے ان کو شاعر ماننے میں کچھ کلام نہیں۔ لیکن شاعری کوئی تمغہ نہیں ہے جسے عطا کر کے یہ کہہ دیا جائے کہ فلاں صاحب شاعر ہیں کیوں کہ ان کے پاس شعر کہنے کی سند ہے۔ہر شاعر اپنے کلام سے اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اس میں شعر کہنے کی کتنی صلاحیت پوشیدہ ہے ۔وہ کس معیار کے اشعار کہہ سکتا ہے ،اس کا کلام اپنے بعد آنے والی نسلوں کو اور خود اس کے معاصرین کو کس حد تک متاثر کرتا ہے ۔اسید الحق قادری کی شاعری پر بھی بہت سے سوال قائم ہوتے ہیں مثلاً وہ شاعر تھے تو کس معیارکے اشعار ان کے وہاں پائے جاتے ہیں؟ ان کے اشعار آفاقی تناظر میں شعر کی تعریف سے کتنے قریب ہیں؟ ان کے کلام میں کس جذبے کی مقدار زیادہ ہے؟اور کیا انھیں ایسا شاعر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ان کے کلام سے کسی نوع کا ادبی ، علمی،فکری،جذباتی اور مشاہداتی استفادہ کیا جا سکے؟یا انفرادی طور پر ان کے کلام کی اپنی کوئی اہمیت ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

شعر کو کن بنیادوں پر شعر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اس پر بہت سے مفکرین اور شعرا نے اپنی آراء درج کی ہیں۔جن میں اصمعیؔ ،ابن رشیقؔ اور ملٹنؔ کی رائے میرے نزدیک زیادہ معتبر ہیں ۔اصمعی ؔ کہتا ہے:

’شعر وہ ہیں جس کے معنی الفاظ سے پہلے ذہن میں آجائیں ‘
ابن رشیق ؔ فرماتے ہیں:

’ شعر وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ میں بھی ایسا کہہ سکتا ہوں ۔مگر جب ویسا کہنے کا ارادہ کیا جائے تو معجز بیان عاجز ہو جائیں۔‘
اور بقول ملٹنؔ :

’شعر وہ ہے،جوسادہ ہو ،جوش سے بھرا ہوا ہو، اور اصلیت پر مبنی ہو‘

ان تینوں بنیا دوں پر کھرا اترنے کے باوجود بھی اگر شعر، شعر نہیں ہے تو اس کے متعلق کسی اور رائے پر غور کیا جائے گا ۔اس بات کی وضاحت یہاں ضروری ہے کہ جن اشعار میں کسی قسم کا عیب یا سقم موجود ہو یہاں ایسے اشعار کی گفتگو نہیں ہو رہی بلکہ جوا شعار اپنی مبادیاتی سطح سے ہر طور کامیاب ہو کر اس صف میں شامل ہوجائیں جس پر علویت کے ساتھ شعر اور غیر شعر ہونے کی بحث ملحوظ ہو ۔یہاں ایسے اشعار کی بات ہو رہی ہے۔اب اسید صاحب ان شرائط پر کس حد تک کھرے اترتے ہیں اس کا فیصلہ ان کی شاعری سے کیا جا سکتا ہے۔ان کی ایک نظم ’نالۂ درد‘ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے جس سے سادہ اسلوب،جوش بیان،اصلیت پسندی،اصمعی کی رائے اور ابن رشیق کے خیال کی ترجمانی ہوتی ہے۔اس نظم کا مطلع ہے:

مجھ سے احباب یہ کہتے ہیں قصیدہ لکھو
عید کا دن ہے مسرت کا ترانہ لکھو

اب اشعار ملاحظہ کیجیے:

مگر افسوس میں کس دل سے کروں یار کی بات
کس زباں سے میں کروں زلف ترحدار کی بات
کس قلم سے لکھو رعنائی گلزار کی بات
کیسے لکھوں گل و بلبل لب و رخسار کی بات
مجھ کو آتا ہے فلسطین کے بچوں کا خیال
ان کے سینوں میں اترتے ہوئے نیزوں کا خیال
نوجواں بیٹوں کو روتی ہوئی ماؤں کا خیال
خون سے بھیگی ہوئی ان کی رداؤں کا خیال
غرب اردن کے شہیدوں کا خیال آتا ہے
کبھی غزہ کے یتیموں کا خیال آتا ہے
ان کی مایوس نگاہوں کا خیال آتا ہے
گریہ کرتی ہوئی آنکھوں کا خیال آتا ہے
میرے بغداد پہ چھائے ہیں قضا کے بادل
ظلم کے جور کے وحشت کے جفا کے بادل
فقر و افلاس کے فاقے کے وبا کے بادل
آفت و رنج و مصیبت کے عنا کے بادل
میرے گجرات میں انسانوں کے کٹتے ہوئے سر
بے کسوں مفلسوں مجبوروں کے کٹتے ہوئے سر
بھوک اور پیاس سے بچوں کے بلکنے کا خیال
خاک اور خون میں لاشوں کے تڑپنے کا خیال
میرے کشمیر سے رونے کی صدا آتی ہے
میرے قندھار سے آواز بکا آتی ہے
میرے کابل میں مکانوں سے دھواں اٹھتا ہے
میرے شیشان کی گلیوں میں لہو بہتا ہے
پھر بھی احباب یہ کہتے ہیں قصیدہ لکھوں
عید کا دن ہے کوئی شوخ سا نغمہ لکھوں

ان اشعار کے مطالعے سے خود اندازہ ہو جا تا ہے کہ شاعر نے کس شدید جذبے کو اپنے الفاظ کے ذریعے کامیابی سے بیان کیا ہے ۔اک عجیب سا تسلسل ہے جو کہیں منقطع نہیں ہوتا ،ایسامحسوس ہوتا ہے کہ شاعر کو ان تمام علاقوں میں اور ان تمام بستوں میں ہونے والے حادثات اپنے گھر میں ہوتے معلوم ہو رہے ہیں۔ایک گہرا کرب ہے جس میں ڈوب کر وہ ان اشعار تک رسائی حاصل کر رہا ہے ۔اس نظم میں اسید صاحب نے اپنی جود ت طبع سے اس بات کا احساس بھی دلایا ہے کہ شاعر کتنا حساس ہوتا ہے ۔نظم کا کردار جو بنیادی طور پر شاعر ہے اس سے اس کے احباب مطالبہ کر رہے ہیں کہ عید کا موقع ہے اسے اس خوشی کہ موقعے پر کوئی قصیدہ رقم کرنا چاہئے ۔اس میں بھی کئی پہلو پوشیدہ ہیں کہ شاعر یہ پیغام دے رہا ہے کہ قصیدہ جو شاعری کی ایک صنف ہے اس کا کہنا اس دور میں یا اس عہد میں درست نہیں کیوں کہ ہماری قوم پوری دنیا میں جس ظلم و استبداد کا شکار ہو رہی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم کچھ عملی کام کریں نہ کہ قصائد اور غزل خوانی میں اپنا وقت ذائع کیا جائے۔

بہر کیف ہم شاعر کے حساس ہونے کی بات کر رہے تھے ۔ظاہر ہے کہ جو احباب شاعر سے قصیدہ رقم کرنے کو کہہ رہے ہیں وہ خود قصیدہ کہنے کی صلا حیت نہیں رکھتے لہٰذا وہ غیر شاعر ہیں اور شاعر جو اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اپنے دوستوں کو ان کی بے حسی پر شرمندہ کر رہا ہے کہ تم جس دن کوخوشی کا دن سمجھ رہے ہو حقیقتاً وہ غم کا دن ہے کہ ہماری قوم پر ہر طرف سے مصیبت کے بادل چھا تے چلے جا رہے ہیں ،جس کا ہم لوگوں کو رائی برابر احساس نہیں ۔ یہ وقت اس کا نہیں کہ خوشیاں منائی جائیں یہ تو تدابیر کا وقت ہے اپنے احتساب کاوقت ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ آخر ہم اتنے مظالم کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔یہ اور اس طرح کے کئی پہلو اس نظم میں پوشیدہ ہیں جس کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس ایک نظم پر طویل سے طویل تر گفتگو کی جا سکتی ہے ۔ایک اہم بات اور ہے کہ شاعر کی لفظیات پر غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس کو الفاظ کے برتنے کے فن پر کتنی قدرت حاصل تھی۔مثلاًزلف ترحدار،رعنائی گلزار،گل و بلبل ،لب و رخسار،آفت و رنج و مصیبت اور آواز بکا یہ ایسی تراکیب ہیں جو ہماری کلاسکی شاعری میں کثرت سے استعمال ہوئی ہیں اور ہم کئی حوالوں سے ان تراکیب کا مطالعہ کر چکے ہیں ۔پھر بھی اسید صاحب کے کلام میں یہ مختلف انداز میں نہ صحیح تو اتنی بر محل نظر آتی ہیں کہ ایسے الفاظ بھی جن سے نئی شاعری کے خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس کے بر عکس ان تراکیب کے استعمال سے یہ اشعار بھلے محسوس ہوتے ہیں ۔اسی طرح دوسرے الفاظ بھی اتنے تنوع اور جامعیت کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں کہ نظم میں پر فیکشن پیدا ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے احوال شہر کو اسی ترتیب سے باندھا ہے جس ترتیب سے ان شہروں کے غمو ں کا احساس کسی حساس شخص کو مغموم کر سکتا ہے۔ہم شعری آہنگ کو نظر میں رکھیں تو شاعر نے جس ترتیب سے شہروں کو بیان کیا ہے اس کی حکمت بھی ہماری سمجھ میں آ جائے گی ۔مثلاً فلسطین،اردن ،غزہ، بغداد، گجرات ،کشمیر ،قندھار ، کابل اور شیشان یہ ترتیب نظم میں اس طرح استعما ل ہوئی ہے کہ شعر کا آہنگ اس سے بتدریج بلند ہوتا جا رہا ہے اور المیے میں جس قسم کے آہنگ کی ضرورت ہوتی ہے یہ اسماء اس آہنگ کو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔دیگر الفاظ پر نظر کیجئے تو آپ کو اندازہ ہو جائے کا کہ کس طرح شاعر اسماء اور الفاظ کے اشتراک سے اس نظم میں المیے کی کیفیت کو بام عروج تک لے جاتا ہے ۔ہر نئے شہر کا نام اس جگہ استعمال میں آیا ہے جس جگہ شاعر کو اس بات کا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب واقعے کو بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ بحث میں تاثیر قائم نہ رہے گی ۔یہ ہی ایک شاعر کی پہچان ہے کہ وہ اپنے کلام کے ذریعے قاری کو باندھنا جانتا ہے ۔اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کس حد تک ایک قاری کا ذہن کسی واقعے سے محظوظ و منغض ہو تاہے اور کس مقام پہ طبیعت کو تغیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ شاعر کا کوئی فعل مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لیکن وہ مصلحت اتنی تیزی سے عمل میں آتی ہے کہ اس کے شعوری ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔یہ سب شاعر کی ذہنی کار کر دگیوں اور اس کی ذہنی اپج کی قوت کا کمال ہے اور اسی سے کسی شاعر کے اعلی و ادنی ہونے میں تمیز کیا جا سکتا ہے ۔اسید صاحب کے ذہن پرخیالات کا بہت تیزی سے نزول ہوتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس آمد کو اسی سلیقے سے تر تیب دینے کے فن سے آشنا ہیں جس تیزی سے وہ خیالات ان پر اتر تے ہیں۔

یہ بات صرف ان کی نظموں ہی میں نہیں ہے ۔بلکہ دیگر اصناف میں بھی وہ اسی قدرت کے ساتھ شعر کہتے ہیں ۔زندگی نے اسید صاحب کا ساتھ بہت جلد چھوڑ دیا ورنہ مجھے یقین تھا کہ ایک نہ ایک روز اسید صاحب اس فن کے لئے بھی وقت نکالیں گے اور کسے معلوم کتنے اشعار وہ روز کہتے ہوں جسے یہاں وہاں لکھ کر چھوڑ گئے ہوں یا صرف ذہن میں ان اشعار کا نقش محفوظ ہو جو صاحب ذہن کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ہم سے دور ہو گیا ۔میں اوپر گنوا چکا ہوں کہ ان کا کتنا کلام مجھ تک پہنچا ہے ۔لیکن اس قلیل عرصے میں وہ تین اصناف پر طبع آزمائی کر چکے تھے اور ان تینوں اصناف کے ذریعے با مقصد اشعار کا انتخاب ہم تک منتقل کیا ۔اسید صاحب کو غزل سے بھی لگاؤ تھا لیکن صرف ایسی غزل جو فنی اعتبار سے مکمل ہو ۔انھیں اپنے سے پیشتر شعرا میں احمد فراز کی بعض غزلوں نے متا ثر کیا جس میں سے احمد فراز کی ایک مشہور غزل کی ردیف پر انھوں نے چند نعتیہ اشعار کہے اس میں سے دو شعر ملاحظہ کیجئے:

خرام ناز پہ نبض جہاں ٹھہرتی ہے
فرشتے عرش کے پہلو بدل کے دیکھتے ہیں
وہ بخش دیتے ہیں قدموں پہ گرنے والوں کو
سو ہم بھی قدموں پہ ان کے مچل کے دیکھتے ہیں

یہ اشعاراس بات کا ثبوت ہیں کہ اسید صاحب کو نعت و منقبت سے جو لگاو تھا وہ دیگر اصناف سے نہ تھا۔ایک اور منقبت جو ’استمداد بحضور غوث الثقلین‘کے عنوان سے انھوں نے کہی ہے اس میں ایک مقام پر اپنے چار مصروں کے ساتھ شاہ حمزہ عینی مارہروی کے مشہور شعر کی جو تضمین کی ہے وہ اس خیال کو تقوت پہنچاتی ہے۔اشعار دیکھئے:

تو بھی گر چاہتا ہے غم کا مداوا یوں کر
ایک جملے میں علاج غم فردا یوں کر
دل بیمار کو اک آن میں اچھا یوں کر
آ در غوث پہ اور عرض تمنا یوں کر
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلہ جاں مددے کعبہ ایماں مددے

اسید الحق قادری کا شعر مزاج ان کے آباو اجداد کی شاعری سے ملتا جلتا ہے ۔وہ اپنے خاندانی بزرگ شعرا کے شعری اسلوب سے ہم آہنگی کو اپنے لئے باعث افتخارسمجھتے ہیں جس کا اعتراف انھوں نے اپنی ایک نظم ’میں اپنی عظمت رفتہ تلاش کرتا ہوں‘ میں کیا ہے ۔یہ بات صرف شعر و شاعری کی حد تک محدود نہیں ۔بلکہ جملہ اوصاف کو وہ اپنے خانوادے سے اخذ کرنا چاہتے ہیں اور عادات و اطوار سے لے کر علوم و فنون تک ہر ایک چیز کے لئے دست بہ دعا ہیں کہ اپنے اکابرین سے کچھ حصہ ان کو بھی نصیب ہو ۔مذکورہ نظم کو پڑھتے وقت ایسا لگتا ہے کہ شاعر کی پر ورش جس ماحول میں ہوئی ہے اس نے شاعر کو اس بات کا احساس دلا دیا ہے کہ یہاں زندگی کو آراستہ و پیراستہ کر نے کی ہر شئے موجود ہے ۔بس ان اوصاف کو اپنے باطن میں روشن کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک با وقار اور پر سکون زندگی حاصل کی جا سکتی ہے ۔لیکن یہ ان کی حقیقت پسندی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے او صاف حمیدہ کو اپنے اندر جتنا بھی پاتے ہیں وہ نا کے برابر ہے ۔انھیں کسی طرح کی خوش فہمی نہیں ہے کہ نسل در نسل وہ اوصاف سب میں منتقل ہوتے چلے گئے ہیں ۔بلکہ وہ اسے انفرادی ارتقا کے زمرے میں شمار کرتے ہیں ۔انھیں اطمنا ن ہے کہ ان اوصاف سے جس طرح ان کے دیگر اہلہ خانہ متصف ہیں وہ بھی ایک دن اپنی کوشش سے ان اوصاف کو خود میں روشن کر لیں گے ۔یہ حقیقت پسندی ہی انھیں دوسروں سے الگ کرتی ہے ۔اس نظم کا پہلا قطع دیکھئے جس میں وہ کس امید اوربھروسے کے ساتھ ان چیزوں کو تلاش کر رہے ہیں جو ان کے خون میں شامل ہیں۔

میں تیز دھوپ میں سایہ تلاش کرتا ہوں
سیاہ شب میں اجالا تلاش کرتا ہوں
نشان پائے مسیحا تلاش کرتا ہوں
ہلال عید تمنا تلاش کرتا ہوں
میں زندگی کا قرینہ تلاش کرتا ہوں
میں اپنی عظمت رفتہ تلاش کرتا ہوں

دیکھئے کہ شاعر کسی باہری دنیا سے کچھ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہا ہے اور اسے اس بات کا بھر پور احساس ہے کہ جو عظمت اور جو زندگی کا قرینہ اسے تلاش کرنا ہے وہ اس کا اپنا اثاثہ ہے۔ یہ اظہار ہمیں دھوکے میں ڈال سکتا ہے لیکن یہ کمال شعر ہے کہ ایک ہی مصرعے میں شاعر اپنی اس شئے کو تلاش کرنے کی بات کر رہا ہے جو خود اس کی اپنی ہے ۔ظاہر ہے کہ عظمت رفتہ کوئی لکڑی کا کھلونا نہیں ہے نہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جسے کوئی چرا سکے ۔وہ تو صرف ایک احساس ہے جو رد عمل کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے ۔جس کا حصول شاعر کو ان اعمال کی طر ف ڈھکیل رہا ہے جہاں اسے اپنے مقصد میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ایک بات اور غور طلب ہے کہ شاعر کو اس بات کا شکوہ نہیں ہے کہ وہ اپنی بے تو جہی کی وجہہ سے اس عظمت کو کھو چکا ہے بلکہ اسے اس یہ خیال پر یشان کر رہا ہے کہ یہی وہ عمر ہے جس عمر میں اپنے اجداد کے ورثے کو خود میں منتقل کیا جا سکتا ہے ۔یہی وہ زمانہ ہے جس زمانے میں اپنے مشاہدات اور مجاہدات سے اس عظمت کے حصول کی طرف قدم بڑھا یا جا سکتا ہے ۔جس میں سخاو ت عثمان ،حضور غوث کے فیضان،معین حق کے قلم دان ،جناب شیخ کے دامان اور نگاہ مقتد آقاوغیرہ جیسی بیش قیمتی اشیاء محفوظ ہیں ۔جو اس بات کی منتظر ہیں کہ ان کا وارث انھیں حاصل کر کے زمانے میں اپنی مثال قائم کرے۔اسید صاحب کی شاعری اتنی جذباتی اور معنی خیز ہے کہ اس پر سیر حاصل گفتگو کی جاسکتی ہے ۔اس کم سے کم کلام میں اتنے سر چشمے پو شیدہ ہیں جو ایک متلاشی کو حیران کر دیں گے ۔ اسیدصاحب ایسے شاعر نہیں ہیں جن کی شاعری سے صرف محظوظ ہوا جا سکے یا کسی نوع کی ذہنی آسودگی حاصل کی جاسکے بلکہ ان کے اشعار ذہن کو سوتے سے جگاتے ہیں ۔فکر کی دعوت دیتے ہیں ،جھنجھوڑتے ہیں اور اپنے مقصد زندگی کی طرف مائل کرتے ہیں ۔ان کے کلام سے ایسے لوگ ہر گز محظوظ نہیں ہو سکتے جو شاعری کو صرف تفنن طبع کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس کے بر عکس ان کی شاعری کو ایسے اشخاص اپنی پلکوں پر اٹھا تے پھریں گے جو بامقصد زندگی گزارنہ چاہتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اشعار کا بغور مطالعہ کیا جائے ان کی زندگی کے ہر ہر پہلو سے آشنا ہوا جائے۔ اس عہد میں انفرادیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لہٰذا انفرادی سطح پر اپنے اعمال کا احتساب کرنے والوں اور اجتماعی سطح پر ایک متحرک کی مانند اپنے مزاج کو تشکیل دینے والوں کے نزدیک اس طرح کی شاعری اہم قرار پاتی ہے ۔اپنی ایک چھوٹی سی نظم ’دوستی کا ہاتھ ‘ میں جو پیغام انھوں نے دیا ہے وہ اس بات کا ضامن ہے کہ ایسی شاعری بہت کار آمد ثابت ہو سکتی ہے جو تالیف قلب کا کام انجام دے ۔احمد فراز کے شعر پر ختم ہونے والی اس نظم میں شاعر نے جس اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک بڑے ذہن کی علامت ہے ۔ یہاں نظم کے اقتباس سے بات سمجھ میں نہیں آئے گی لہٰذا پوری نظم ملاحظہ فرمائیں:

مرے عزیز مرے دوست میرے ہم سایہ
ہمارے بیچ جدائی کو اک صدی گذری
نہ تم کو مجھ پہ بھروسہ نہ مجھ کو تم پہ یقیں
اسی نفاق و عداوت میں زندگی گذری
وہ جس کا نقشے کف پا ہمارے سینے میں
اسی کی یاد سے آباد تیرا سینہ ہے
وہ جس کے فیض سے ہم نے بلندیاں پائیں
اسی کا نام مبارک ترا وظیفہ ہے
ہماری کشت پہ برسا ہے جو سحاب کرم
اسی کے فیض کی بارش تمھارے آنگن میں
وہ جس کی بو سے معطر مشام جاں ہے مرا
اسی گلاب کی رنگت تمہارے گلشن میں
وہ بادہ خانہ جہاں ہم نے مئے گساری کی
شراب تم بھی اسی میکدے کی پیتے ہو
ہے جس نگاہ کی مستی ہماری آنکھوں میں
اسی نگاہ سے مخمور تم بھی رہتے ہو
جو عندلیب مرے باغ میں چہکتا ہے
اسی کی نغمہ سرائی ترے گلستاں میں
وہ شمع جس سے منور ہے طاق دل میری
سی کی ضو سے اجالا ترے شبستاں میں
وہ بجلیاں جو مرے آشیاں کو تکتی ہیں
وہی حریف تمہارے نگار خانے کی
تمہارا گلشن صد رنگ جس کی زد پر ہے
وہی خزا ہے عدو میرے آشیانے کی
غرض کہ فرق نہیں کوئی ہم میں بنیادی
نہ فکر میں نہ عقیدے نہ دین و مذہب میں
نہ اختلاف خیالات کا نہ مسلک کا
نہ کوئی فرق ہمارے تمہارے مشرب میں
اگر یہ سچ ہے تو اے محترم حریف مرے
کوئی جواز نہیں ہم میں دشمنی کے لئے
’اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لئے‘

میں اس بات سے آشنا ہوں کہ اسید صاحب نے کس اعلی ظرفی کا مظاہرہ اس نظم میں کیا ہے لیکن پھر بھی اس کے اظہار سے پیغام کو محدود نہیں کرنا چاہتا ۔یہ نظم ہر اس شحص ہر اس جماعت اور ہر اس ملک کے لئے سبق آموز ہے جو کسی بھی قسم کی عداوت اور نفاق میں مبتلہ رہتاہے اور صرف اپنی انا کی بنیاد پر اس لڑائی کو نسل در نسل منتقل کرتاچلا جاتا ہے ۔یہ آفاقی تناظر اور آسان زبان میں کہی گئی ایک ایسی نظم ہے جس سے ہر رنگ و نسل کے اذہان مستفید ہو سکتے ہیں ۔ایک بات اور غور طلب ہے کہ جس شخص کو کسی طرح کا سبق حاصل کرنا ہے یا اپنی زندگی کو کسی اصول سے مزین کرنا ہے تو اس کے لئے ایک واقعہ ہی کافی ہے اور جسے کسی طرح کی نصیحت درکار نہیں اس کے لئے پند و نصح کی تمام کتب بیکار محض ہیں۔اسید صاحب کی اس نظم سے جن لوگوں کو سبق حاصل کرنا ہے وہ کر لیں گے اور جنہیں نہیں کرنا وہ صرف اسے تنقید کا نشانہ بنا کر آگے بڑھ جائیں گے۔

(۲)

میر نے ہر صنف میں شعر کہے ہیں ۔اس لئے بھی انھیں اردو کا بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے ۔لیکن جن شعرا کے یہاں اس احتمام کا فقدان ہے ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کی عظمت پو شیدہ ہے ۔ ایسے شاعر اپنی اسی صنف کے حوالے سے مشہور ہوئے ہیں جس میں انھوں نے کمال دکھایا ۔مثلاً انیس کو دنیا مرثیے کے حوالے سے جانتی ہے۔سوداؔ کوقصائد کے حوالے سے میر حسن ؔ کو مثنوی کے حوالے سے اورامجد حیدرآبادی کا رباعی کی وجہ سے۔یہ بات الگ ہے کہ ان شعرا نے من جملہ نہ سہی دیگر کچھ اور اصناف میں بھی اشعار کہے ہیں لیکن یہ تمام شعرا کسی ایک صنف کے حوالے سے زیادہ مقبول ہیں ۔میرؔ نے بھی اپنی غزل کے ذریعے جو شہرت حاصل کی وہ دوسری اصناف سے انھیں حاصل نہ ہو سکی ۔لیکن نعت اور منقبت میں اس قد کے شعرا بہت کم نظر آتے ہیں۔نعت کے حوالے سے اگر محسنؔ کاکوروی کو اردو ادب کی تاریخ سے نکال دیا جائے تو ہمارے لئے دوسرا نام تلاش کرنامشکل ہو جائے گا۔اس کی کیا وجوہات ہیں اس سے قطع نظر یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو شاعری محسن کاکوروی کو چھوڑ کر حمد و نعت و منقبت کے حوالے سے ہوئی ہے اوربہت! اور بہت اچھی ہوئی ہے۔جس کا مطالعہ کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح عشق کے حقیقی جذبے کے بنا غزل اور قصیدہ نہیں کہا جا سکتا اسی طرح حمد ،نعت اور منقبت بھی نہیں کہی جا سکتی ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ایک طرف عشق مجازی ہے تو دوسری طرف عشق حقیقی۔جب ہم غزل میں اس تخصیص کے قائل ہیں کہ مجازی کا اطلاق حقیقی کے معنی پر بھی کیا جا سکتا ہے تو جو اشعار کلیتاً اس بو قلمونی سے آراستہ ہیں ان کو اتنی اہمیت کیوں نہ دی جائے۔انسان کی ذہنی و دلی وابستگی جس شئے سے ہوتی ہے وہ اسی کی جانب مائل ہوتا ہے ۔ اسید الحق نے جو نعتیہ کلام اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ کسی طور ایک اچھے غزل گو یا ایک اچھے نظم نگار سے کم رتبہ نہیں ۔یہ ان کے رجحان کی بات ہے کہ انھوں نے اپنی صلاحیت کو ایک مقدس ہستی سے منسلک کیا اور اپنے اشعار میں ان کی مدح سرائی کو اپنے لئے بہتر جانا ں۔صرف اس لئے اگر کسی شاعر کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جائے کہ اس نے محدود دائرے میں رہ کر شعر کہے ہیں یا کسی فرد واحد سے منسلک ہو کر اس فن میں طبع آزمائی کی ہے تو دنیا کی کئی زبانوں میں ہونے والی شاعری کا ایک بڑا ذخیرہ بے کار ہو جائے گا جو اس انفرادیت کو ملحوظ رکھ کر کہا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے۔ ہر محدود نقطہ نظر میں اک آفاقیت پو شیدہ ہوتی ہے اور اسیدالحق عاصم القادری کی شاعری اسی آفاقیت کا خزینہ ہے ۔جو ایک محور تک محیط ہے لیکن اس احاطے میں ایسے مذہبی و ثقافتی اصول پوشیدہ ہیں جو انسانی زندگی میں بہت کار آمد ثابت ہوئے ہیں ۔ان کے چند نعتیہ اشعار ملا حظہ کیجئے ۔ان اشعار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسید الحق جیسے اذہان جس سمت اپنی فکر کو موڑ دیں وہاں کیا کیا گل کھلا سکتے ہیں:

رسول وہ جو رسولوں کا تاجدار ہوا
وہ جس کا ذکر دوائے دل فگار ہوا
رسول وہ جسے محبوب کردگار کہیں
رسول وہ جسے قدرت کا شاہ کار کہیں


جب تصور میں بسالیں آنکھیں
ساری دنیا سے اٹھالیں آنکھیں
خاک طیبہ ہے خبر دار قمر
اس کی آنکھوں میں جو ڈالی آنکھیں


سنا ہے لالہ طیبہ کی تازہ کاری کو
لباس گل سے شگوفے نکل کے دیکھتے ہیں
خرام ناز پہ نبض جہاں ٹھہرتی ہے
فرشتے عرش کے پہلو بدل کے دیکھتے ہیں


تابانی در عدن رخشانی لعل یمن
دندان انور کی ضیا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
تاج سر کسریٰ کہاں پیشانی زہرہ کہا
نعلین پاک مصطفی یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں


بصارت کر رہی ہو گی طواف گنبد خضرا
بصیرت کی جبیں پر عکس روئے مصطفی ہوگا
بوصری، جامعی و قدسی قصائد لکھ رہے ہوں گے
کوئی حسان نعت سرور دیں پڑھ رہا ہوگا

اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے ۔اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔ اس بات کو میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ اسید الحق جس عہد میں شعر کہہ رہے تھے وہ ان کا عہد طالب علمی تھا ۔اس عہد میں زیادہ تر لوگ انھیں شعرا سے متاثر ہوتے ہیں ۔لہٰذا اسید صاحب بھی اسی رنگ میں شعر کہتے نظر آتے ہیں ۔لیکن یہ اشعار تجرباتی نوعیت کے ہیں پھر بھی ان میں اتنا بلند آہنگ پایا جاتا ہے۔ اگر وہ مسلسل شعر کہتے رہتے تو یقیناًاپنے عہد کے بڑے شعرا میں ان کا شمار ہوتا۔

اخیر میں اس بات کا اظہار کرنا بھی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اسید الحق جتنے اچھے شاعر تھے اس سے کہیں زیادہ اچھے انسان تھے ۔اچھا شعر کہنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا ایک اچھا انسان کہلانا ہے ۔اسید الحق صاحب نے جیسے اشعار کہہ ویسے یا اس سے بہتر اشعار کہے جا سکتے ہیں میرا طلسم اس دن ٹوٹے گا جس دن میں ان سے بہتر انسان دیکھوں گا۔

Categories
نقطۂ نظر

میں گہری مایوسی میں ہوں

ایسا کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔یہ کوئی طے شدہ معاملہ نہیں ہے۔ یعنی کھاتے وقت، کہیں سفر کے دوران، اپنے بستر پر آرام کرتے وقت یا ان احباب کے بیچ جن کے ساتھ میں زور زور سے ٹھٹھے مار کر ہنس رہا ہوتا ہوں ۔ میری مایوسی ایک عجیب و غریب سرور کی طرح ہے، جو ایک لذت کی طرح مجھ پر اترنا شروع ہوتی ہے۔ مجھے بہت اہم چیزوں سے یا اپنے آس پاس کے ان کار آمد اشخاص سے انجان کرنے لگتی ہے اور پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ میں جو کہ محفل میں شان جمانے میں ماہر ہوں، لوگوں کے لبوں پر ہنسی بکھیرنے میں مشاق بس ایک طرح کے اندھیر ے میں اترتا چلاتا جاتا ہوں۔ اس کو دو اور دو چار کی طرح بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن یہ کچھ ایسی غائب شئے بھی نہیں جس کا ادراک مشکل ہو۔ میں نے گھنٹوں ، نہیں! بلکہ دنوں ، ہفتوں اور مہینوں اس پر غور کیا ہے۔ آپ نے سورج دیکھا ہے۔ یہ مایوسی بالکل سورج کی مانند ہے۔ وہ شباب کے وقت کا سورج ۔ مثلا! ً یہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ میں !بارہ بجے دن کے کسی کو سورج کی طرف دیکھ کر یا دکھا کر یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ موجود ہے۔ کیوں کہ اس کے ہونے کا اثبات اتنا شدید ہے کہ مجھے اس عمل سے گزرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ بس سب اچانک یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ سورج ہے۔ اسی طرح ،بالکل اسی شکل میں، میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستے بولتے، لڑتے لڑاتے، کھیلتے گاتے مایوس ہو جاتا ہوں۔ پھر وہ مجھ سے یہ نہیں پوچھتے کہ تم مایوس ہو۔ بس انہیں محسوس ہو جاتا ہے۔ میں اس معاملے میں بھی اللہ جانے کس مخلوق پر پڑا ہوں کہ اپنی مایوسی کے اثبات سے اپنے اطراف کے لوگوں کو نا بلد نہیں رکھ پاتا۔ مجھے اس کا کچھ خاص قلق نہیں ،مگر کسی شاعر کا شعر پڑھا تھا جس کا مفہوم کچھ یہ تھا کہ اگر تم نے اپنی مایوسی کو لوگوں پر ظاہر کر دیا تو یقین جانو کہ تم مایوس ہونے کا بس ڈھونگ کر رہے ہو۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ ایک پیچیدہ سوال ۔ کیا کوئی مایوس ہونے کا ڈھونگ کر سکتا ہے؟ بھلا اس میں بھی کسی نوع کی کامیابی ہے؟ یہ تو بس زندگی کا ایک پژمردہ احساس ہی ہو سکتا ہے کہ انسان مایوس ہو جائے۔ نہ اس کی کوئی قواعد ہے اور نہ اس کے ظہور کی کوئی نشانی اور پھر اس سے انسانی مفاد کی کوئی لہر بھی تو وابستہ نظر نہیں آتی۔ پھر اس میں ڈھونگ کا سوال چہ معنی دارد۔ عین ممکن ہے ڈھونگ ہی ہوتا ہو۔ انسان جو خود اپنے عرفان سے نا بلد ہے اس کو کسی بھی شئے کے ڈھونگ ہونے میں کچھ کلام نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ جانے کسی دن کوئی آسمانی ندا آ جائے اور ہم سب کو جو ایک دوسرے کو بہت رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ایک دوسرے سے جلتے، لڑتے اور ایک دوسرے پر قابض ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، معلوم ہو کہ ہم تو ہم ہیں ہی نہیں بلکہ ایک نوع کا ڈھونگ ہیں ۔بہر کیف اگر میں اپنی مایوسی کو ایسا کوئی لفظ سمجھ بھی لوں تو کیا اس سے اضمحلال کا اثر جاتا رہے گا۔ میری مایوسی بعض اوقات بہت بڑھ جاتی ہے۔ اتنی کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح، بس کسی طرح اس کا گلا گھونٹ دوں، پھر خواہ اس کے لیے مجھے کوئی غیر فطری عمل ہی کیوں نہ کرنا پڑے یا کسی مضحکہ خیز صورت حال سے ہی کیوں نہ گزرنا پڑے۔ مگر اس کا فوت ہونا شرط ہے۔ مجھے گناہوں سے مایوسی کا علاج معلوم ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ایک عدد گناہ جس کو میرا اطراف یا وہ ضمیر کی آواز جس سے میں اکثر اپنی آنکھیں چراتا ہوں وہ منٹوں ، سکنڈوں میں میری مایوسی کا علاج کر دے گی۔ جز وقتی ہی سہی اور جز وقتی میں ایسی کچھ قباہت بھی تو نہیں کہ مایوسی تو خود جز وقتی ہے۔ یہ تو ابھی گہری ہو رہی ہے۔ گہری ،پھری مزید گہری اور پھر مزید گہری۔مجھے بازار میں بھی وحشت ہو سکتی ہے اور تنہائی میں بھی ۔محبوب کے پہلو میں بھی اور وصل کے عین عالم شباب پر بھی۔ کوئی ایسا لمحہ نہیں جو اس کمبخت روگ سے بچا ہوا ہو۔ دس برس قبل یہ صرف راتوں میں اس وقت ہوا کرتی تھی جب میں ایک حرارت مائل سفید پانی سے شرمندہ ہو جاتا تھا۔ پھر ان لمحوں میں بھی ہونے لگی جب شام کے وقت کوئی چھت پر شور مچائے اور میں اپنے گھر کے باہری کمرے میں آرام سے ٹی وی نہ دیکھ پاوں۔ اس وقت تک میری مایوسی کے اسباب تھے اور میں اس صورت حال سے اتنا ناخوش بھی نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے واقف تھا۔ مگر پھر دس برس انہیں الجھنوں اور وجوہات کے جھگڑوں میں گزر گئے۔ایک روز جب میں اپنے بھائی کے چشمے کا یا شائد وہ میرا اپنا ہی چشمہ تھا اس کا ٹوٹا ہوا کانچ لگوا رہا تھا کہ اس نے، مایوسی نے ،بے وقت حملہ بولا۔ میں حیران ہوا، پھر خوش ہوا اور پھر مزید حیران ہوا۔ اس روز سے ایسا کئی بار ہوا۔ یہ سلسلہ راتوں کی نیندوں سے بھاگنے کا ایک بہانا بھی بننے لگا۔ پھر لوگوں کے درمیان مذاق بننے کا۔ پھر معاشرے سے کٹنے کا، پھر اپنے اندر سے بھاگ کر کہیں تاریکی میں چھ جانے کا۔ مذہب نے میری اس مایوسی کو ابھارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ بات کسی کو سمجھ میں نہ آئے لیکن اگر کسی دن دنیا میں یہ خبر عام ہو جائے کہ کشمیر اور فلسطین ان دونوں نے ایک ساتھ اپنی ہار تسلیم کر لی ہے تو شائد میری مایوسی میں کچھ کمی آ جائے۔ یا اگر کسی صبح میری آنکھ کھلے اور مجھے یہ معلوم ہوکہ دنیا بھر کے تمام یہودیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو بھی ممکن ہے اس مایوسی کا کچھ علاج ہو جائے۔ایسے ہزاروں چٹکلے ہیں۔ اسی طرح جس طرح ہم سائنس کے آئے دن نئے نئے چٹکلے سنتے رہتے ہیں۔ میں ان چٹکلوں کو اپنی مایوسی کا ایک چھوٹا علاج ہی تصور کرتا ہوں۔ انسان بھی بڑا حمق ہے اسے اس بات کو جاننے میں زیادہ دلچسپی ہے کہ اس کے اعتراف کی کہکشاوں میں دنیائیں آباد ہیں کہ نہیں جبکہ وہ اپنی دنیا سے خود اتنا اکتایا اور گھبرایا ہوا ہے کہ اس کا بس چلے تو اسے کسی بلیک ہول کی نذر کر دے۔ میں اللہ سےیا رسول سےمایوس نہیں میں ان کے ماننے والوں سے مایوس ہوں۔ شنکر اور ہنومان سے سے نہیں بلکہ ان کے نام پر لوگوں کو ہتھیار بنانے والوں سے مایوس ہوں۔ اچھی کہانیاں نہ پڑھنے والوں سے اور برے شعروں پر داد دینے والوں سے۔ میں ہر اس شخص سے مایوس ہوں جو بنا سوچے سمجھے اور بنا اپنے آپ کو جانے جیتا چلا جا رہا ہے اور ان سے بھی جو اپنے آپ کو جاننے اور جنوانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔میری ایک دوست ہے، چھوٹا قد ، سانولارنگ، بھدی شکل صورت اور بد صورت چال چلن والی۔ مگر میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ میری مایوسی کی طرح اس دنیا میں بے معنی ہے،بلکہ اس لیے کہ وہ خود سے مایوس نہیں۔ خوش ہے۔ ایک غیر مانوس اور انجان چیزوں سے ہی صحیح مگر خوش۔ اس کو کسی چیز سے کچھ شکائت نہیں۔ وہ ہنستی ہے۔ کھلکھلا کے اور بعض اوقات گاتی بھی ہےجیسے کوئی پوکیوپائن چیخ چیخ کر نکی مناج کی پال البم گا رہا ہو اور بلا وجہ ناچ بھی لیتی ہے۔ مایوس نہیں نظر آتی ۔ پھر میں اس کو خود سے بہتر مان لیتا ہوں اور مزید مایوس ہو جاتا ہوں۔ میں کسی ایک خاص وجہ سے مایوس نہیں بس مایوس ہوں۔ خود سے اپنے اطراف سے۔ دنیا سےاس کو بگاڑنے والوں سے ہر اس شخص سے جو مر رہا ہے اور ہر انسان سے جو پیدا ہونے کوشش میں لگا ہے۔ ان سب کی وجہ سے میں مایوسی میں ہو۔گہری اور تیزی ہوتی ہوئی مایوسی میں۔
Image: Edward Munch

Categories
تبصرہ

آج شمارہ 1: وہ من گھڑت سی کہانی تھی اک فسانہ تھا

• جلسہ گھرتارا شنکر بنرجی” کی کہانی ہے جو بنگالی زبان کے بہت مشہور و معروف کہانی نگار تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ساٹھ سے زیادہ ناول لکھے اور پچاس سے زیادہ افسانوی مجموعے تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ ڈرامے، سوانح اور سفرنامے بھی لکھے ہیں ۔ تارا شنکر نے ایک فیچر فلم امر پالی جو بنگالی زبان میں تھی اسے بھی دائریکٹ کیا تھا۔ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر انہیں خاصے اہم ہندوستانی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ تارا شنکر 23 جولائی 1898 میں پیدا ہوئے تھے اور 14 ستمبر 1971 میں ان کا انتقال ہوا۔اجمل کمال صاحب نے ان کی کہانی جلسہ گھر کا انگریزی زبان سے ترجمہ کیا ہے ۔ یہ کہانی 1938 میں ان کے ایک افسانوی مجموعے “جلسہ گھر” میں شامل تھی۔اس کہانی کا بنیادی کردار بشومبھر رائے ہے جو رائے خاندان کا آخری والی وارث ہے۔اس کے علاو ہ تین، چار کردار اور بھی ہیں جو کہانی میں وقتا فوقتا اہم ہو جاتے ہیں مثلاً گنگولی خاندان کا موھم گنگولی جو گنگولیوں کو نئی جاگیر یں ملنے کے بعد رئیس ہوا ہے اور رائے صاحب کے حریف کے طور پر کہانی میں ابھرتا ہے۔ ایک کردار اننت کا ہے ،جو رائے صاحب کا نوکر ہے اور ان کی خستہ حالت کے تمام تر ادراک کے باوجود ان کا اسی طرح احترام کرتا ہے جس طرح خاندانی رئیسوں کا کیا جاتا ہے۔ وہ ان کی آنکھ کے اشارے پر دوڑتا ہے اور اس کے ذہن پر رائے صاحب کا وہی خاندانی عکس مرتسم ہے جو سات پشتوں کے امرا زادوں کا ان کے نوکروں کے ذہنوں پر ہوتا ہے۔ اننت کے علاوہ بھی کچھ فرمابردار اور نوکر ہیں ، مگر وہ اتنے اہم نہیں ۔ دو کردار تارا شنکر بنرجی نے لاجواب گڑھے ہیں ۔ جن میں ایک طوفان ہے اور دوسرا چھوٹی مالکن ۔ طوفان رائے صاحب کا گھوڑا ہے اور چھوٹی مالکن ان کی ہتھنی جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ ہتھنی کو چھوٹی مالکن کہنے کی روداد بھی خوب ہے۔ وہ سب کے لیے چھوٹی مالکن ہے اور رائے صاحب کے لیے چھوٹی ماں ہیں۔ رائے صاحب کی زندگی اور ان کے ختم ہوتے ہوئے وقار کا نقشہ تارا شنکر نے اس طرح کھینچا ہے کہ کہیں کہیں رائے صاحب کی حالت پہ غصہ آتا ہے اور کہیں کہیں رحم۔ ایک امیر زادہ جو اپنی جاگیر سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور جس کی دولت اس کے اجداد کی عیاشیوں اور حالات کے تقاضوں کی نذر ہو گئی ہے اس کی زندگی غم کے اندھیروں میں کس طرح ڈوبتی چلی جا رہی ہے اس کی نقاشی بڑی مہارت سے کی گئی ہے۔ ساتھ ہی نام نہاد امیری کا بھرم رائے صاحب کو اندر سے کتنا کھوکھلا کررہا ہے یہ دیکھ کر ان امرا کی مصنوعی زندگی پر ہنسی آتی ہے اور ساتھ ہی ان کی نفسیاتی کشمکش پر دکھ بھی ہوتا ہے کہ حقیقت کو تسلیم کرنے میں انسان کو کتنا وقت لگ جاتا ہے۔ رائے صاحب بدلتی زندگی اور مٹتی ہوئی وراثت کا ایک بڑا استعارہ ہیں ۔ اس کہانی میں شرفا کے بدلتے ہوئے معنی کی عکاسی بھی تاراشنکر نے موہوم انداز میں کی ہے۔ کہانی کا اصل حصہ جہاں جلسہ گھر کا منظر دکھایا گیا ہے بہت لاجواب ہے۔ موسیقی اور شائستہ تہذیب کی علامتوں کا مرقع تخلیق کرنے میں تارا شنکر نے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ جلسہ گھر جو کہ رائے صاحب کی مٹتی اور تباہ ہوتی ہوئی حویلی میں سجایا گیا ہے۔ جو ان کا خاندانی جلسہ گھر ہے اور جہاں بیٹھ کر ان کے اجداد نے ہزاروں روپیہ عیش و عشرت کی نذر کردیا وہاں اپنی مسند خاص پر بیٹھ کر جب رائے صاحب اپنے حریف موھم گنگولی کو کنچنی کو سکے دینےپر محویت کے عالم سے باہر آتے ہیں تو یہ دیکھ کر ان کا خاندانی خون جوش میں آ جاتا ہے:”یہ بات آداب کے خلاف تھی۔بخشش دینے کا پہلا حق میزبان کا تھا۔بشومبھر رائے نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا ۔ ان کے سامنے کچھ نہ تھا، نہ چاندی کا طشت ،نہ سکے، جنھیں وہاں ہونا چاہیے تھا۔”(1)اس لمحے میں کہانی کے درمیان میں ایک نوع کی بے چینی کا عالم قاری پر طاری ہوجاتا ہے اور اسے کچھ دیر کے لیے رائے صاحب کی حالت پر رحم آنے لگتا ہے۔ مگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بشومبھر راےاس یاسیت کا شکار ہیں جو ہمارے ان امرا کے حصے میں آئی جن میں حالات کو بدلتے ہوئے وقت کی طرح قبول کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ ایک قاری کی حیثیت سے میں نے رائے صاحب کو ایک ایسے نفسیاتی مریض کی حیثیت میں پایا جو Nostalgiaکا شکار ہے۔ جس پر اس وقت ہزیانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جب وہ کسی بھی عالم میں اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔کہانی کا ترجمہ اجمل صاحب نے خوب کیا ہے۔

• کمال کی بات یہ ہے کہ جلسہ گھر کے فوراً بعد اجمل کمال نے ایک اور چھوٹی سی کہانی جلسہ گھر کا پر پیچ راستہ اس شمارے میں شامل کی ہے جس میں جلسہ گھر کو ایک فلم کے طور پر پیش کرنے والے مشہور بنگالی ڈائرکٹر ستیہ جیت رے کا ایک حیران کن واقعہ ہے۔ اس کہانی کا عنوان جلسہ گھر کا پرپیچ راستہ ہے اور اس میں حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ستیہ جیت رے کی بابت اس کہانی کے مصنف تارا شنکر بنرجی کو خود اپنی کہانی کے اصل کردارتک رسائی میسر آگئی۔ میں نے جب جلسہ گھر کے بعد اپیندر نارائن چودھری کا تذکرہ پڑھا تو یوں محسوس ہوا کہ اجمل کمال نے اسے شامل کر کے ہمیں کہانیوں کو سمجھنے کا ایک نیا طرز عطا کیا ہے۔1958میں ستیہ جیت رے نے اس افسانے پر فلم بنائی جس میں اداکار چھبی بسواس نے رائے صاحب کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم بنگالی سنیما کا ایک ناقابل فراموش اقدام ہے جسے 1959 میں National film award for best feature film in Bengaliملااور اس کے بعد بہترین موسیقی کے لیے First Moscow international film festival awardملا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک انعامات سے اس فلم کو نوازا گیا۔ اس کہانی پر ست جیت رے نے بہت خوبصورت تبصرہ یہ کیا ہے کہ:”یہ ایک ڈرامائی کہانی تھی جسے جائز طور پر ناچ گانے سے سجایا جا سکتا تھااور (اس عہد میں)ڈسٹری بیوٹرناچ گانے کے دیوانے تھے۔ لیکن دوسری طرف اس میں موڈ، ماحول اور نفسیاتی کرید کی بھی بہت گنجائش تھی ۔ میں نے ایک صاف تخلیقی ضمیر کے ساتھ اس کہانی کے حق میں فیصلہ کیا۔ موسیقی کی محفلیں منعقد کرنے کے شوق کے ہاتھوں تباہ ہو جانے والے زمیندار کے مرکزی کردار کے لیے میں نے چھبی بسواس کو منتخب کیا جو ہمارا سب سے عظیم اداکار ہے ۔ لیکن سب سے گمبھیر مسئلہ حویلی کی تلاش کا تھا(2)۔”اور انہیں وہ حویلی نمتیتا کی صورت میں ملی۔

• اس کے بعد اسد محمد خان کی ایک نظم نے ٹو ہوسپی ٹالٹی اور ایک مختصر کہانی برج خموشاں ہے۔ یہ دونوں تخلیقات علامتی ہیں۔ ان میں بہت مبہم سے استعارے ہیں جن میں تاریخی اور طبعیاتی علامتوں کا وفور ہے۔ کہانی تو ایک حد تک سمجھ میں آجاتی ہے، مگر نظم کو سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔ عین ممکن ہے اس میں کوئی اہم بات ہو۔اجمل کمال نے شامل کی ہے توضرور ہوگی اور اسد محمد خان جیسے اچھے لکھنے والے کی تخلیق ہے اس لیے بھی ضرور ہوگی۔بنانے کو تو میں بھی کئی باتیں بنا سکتا ہوں مگر بہتر یہ ہی سمجھتا ہوں کہ کبھی اجمل صاحب سےملاقات ہوئی تو پوچھ لوں گا۔

o اس فقیر کے ایک مہمان لاہور کا ٹکٹ چھاونی کے اسٹیشن پر لینے کے لیے گئے۔ کھڑکی کی قطار میں کھڑے ہوئے ۔ کھڑکی پر پہنچ کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو یا مظہر العجائب، بٹوا غائب۔
o کلفٹن روڈ کا پورا نقشہ۔
o ایک بازار یہاں ویڈیو کی دکانوں کا ہے۔ دنیا جہان کی سب فلمیں یہاں دستیاب ہیں۔ گوکہ ہندوستانی فلموں کو دیکھنا جرم ہے۔ مگر سب دیکھتے ہیں۔ محافظین قانون مناسب معاوضہ لے کر چشم پوشی کرتے ہیں۔
o ہر طبیب اس شہر کا اپنے دور کا مسیحا ہے۔ مردہ تن میں جان ڈالتا ہے۔ بشرطیہ کہ مریض دیر سے نہ پہنچے۔
o اس شہر میں بیسیوں مکتب،درس گاہیں، جامعات ہیں۔ ان کے فیض سے ہر طالب علم طپنچہ و کلاشنکوف صحیح نشانے پر چلانے کی مہارت بہم پہنچاتا ہے۔

• اوپر کی چند عبارتیں “کراچی کا تہذیبی مرقع مع مدد نامہ بے نظیر” سے مقتبس ہیں۔اس پورے مضمون میں محمد خالد اختر نے بلا کی نثر نگاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ قدیم داستانوی زبان میں شہر کراچی کا اس مہارت سے نقشہ کھینچا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ اس نثر میں کہیں کہیں نہایت سنجیدہ مقامات ہیں اور کہیں کہیں لطیف طنزیہ اور مزاحیہ جملے۔ یہ اردو کی شاہ کار تحریر کہی جانے کی مجاز ہے۔ میں نے محمد خالد اخترکی اس تحریر سے قبل ان کےسفر نامے اور چند کہانیاں پڑھیں تھیں ۔ ان کی نثر میں کمال کی قادر الکلامی نظر آتی ہے۔ اسلوب نہایت واضح اور بیان ایسا شستہ کے پڑھنے والا ایک نشست میں پوری تحریر پڑھے بنا بعض نہیں آ سکتا۔ پھر یہ تحریر پڑھ کر تو کوئی بھی ان کا دیوانہ ہو جائے گا۔ خالد اختر نے کہیں کہیں تو داستانوی انداز کو اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ وہ خود ہماری داستانوں میں عنقا ہے اور کہیں کہیں اتنی صاف زبان لکھ گئے ہیں کہ ظاہر ہونے لگتا ہے کہ یہ موجودہ عہد کی ہی زبان ہے۔ من جملہ یہ ایسی تحریر ہے جس کا متبادل اردو میں تلاش کرنا مشکل ہے۔

• اس کے بعد اس شمارے میں ڈونلڈ بارتھیم کی کہانی غبارہ شامل کی گئی ہے۔ غبارہ ایک دلچسپ کہانی ہے، مگر اس میں ابہام بہت زیادہ ہے۔ جملوں اور اقتباسات کا رشتہ مسلسل نہیں ہے۔ کہانی ایک ہے مگر واقعات اور خیالات کا بے ہنگم سا بکھراو ہے۔ یہ ایک عام تصور سے سمجھنے والی کہانی نہیں ہے۔ اس کے لیے کئی نفسیاتی تجربات اور انسانی خیالات کا ادراک ضروری ہے۔ ساتھ ہی نئی زندگی کا شعور ناگزیر ہے۔ ڈانلڈ بارتھیم ایک امیریکی مصنف تھے ،جنہوں نے مابعد جدیدتصور کو اپنی کہانیوں میں روا رکھا ہے۔ لہذا ان سے آسان اور عام فہم اسلوب کی خواہش بھی عبث ہے۔ اس کہانی میں بھی غبارے کے ذریعے انہوں نے انسانی زندگی کے کئی سہل رویوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ :”شروع میں لوگوں کے درمیان غبارے کے معنی پر کچھ بحث ہوئی اور تھم گئی۔ کیوں کہ ہم نے مقصد کو جاننے کی کوشش کیے بغیر جینا سیکھ لیا ہےاور اب تو معنی کی جستجو خال خال ہی رہ گئی ہے، سوائے ان مظاہر کے جو انتہائی سادہ اور یقینی ہوتے ہیں۔(3)۔اسی طرح مختلف مقامات پر اپنےفلسفیانہ اسلوب سے انسانی زندگی کی محرومیوں کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ کہانی بنیادی طور پر ایک غبارے کے ارد گرد گھومتی ہے مگر اس کا اصل مرکز انسانی ذہن و مزاج ہے اور اس امر کا اظہار کہ ہم ایک خاص تاریخی رویہ کا شکار ہیں جس میں ہم اس بری طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ منظر سے آگے کی حقیقت ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ کہانی بہت طویل نہیں ہے اور اس کا ترجمہ زینت حسام نے کیا ہے۔

• اگلی کہانی “وہ آدمی جس کا دل پہاڑیوں میں رہ گیا” کچھ خاص تو نہیں مگر اس لحاظ سے عمدہ ہے کہ ولیم سیرویان نے اپنے ملک میں شعرا کی حالت پر ایک طنزیہ تحریر لکھی ہے۔ اس میں کہانی پن بہت زیادہ ہے جو مکالمے کی بے ضابطگی سے پیدا ہوا ہے۔ مصنف جو خود کہانی کا Narratorبھی ہے وہ ایک آٹھ برس کا بچہ ہے اور وہ شخص جو کہانی میں ایک دلچسپ کردار کہا جاسکتا ہے وہ مسٹر میک گریگور ہیں۔ ایک بوڑھا شخص جس کا دل پہاڑیوں میں رہ گیا۔ وہ گیت گاتا ہے اور بگل بجاتا ہے اور بنجاروں کی طرح زندگی گزارتا ہے ۔ ایک اچھا فن کار جو اپنے فن کے باعث مختلف مقامات پر اجنبیوں کے درمیان خود کو محبوب بنا لیتا ہے۔ فن کی کار کردگی کا یہ اہم نکتہ ہے۔ جبکہ کہانی کار کا باپ بھی ایک شاعر ہے مگر اس کے فن نے اسے زندگی کے لوازمات سے مالا مال نہیں کیا ہے۔ وہ اس سوال پر غور کرتا ہے کہ ایک بھوکا شخص کس طرح اچھی نظم کہہ سکتا ہے۔ ایک دلچسپ کردار اس کہانی میں اس دکان دار کا ہے۔ جس سے بچہ سامان لاتا ہے ہر دفعہ بنا رقم ادا کیے۔کہانی کا ترجمہ افضال احمد سید نے کیا ہے۔

• اس کے بعد افضال احمد سید کی ہی چند چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں ۔جن میں سب سے پہلی “استقبالیہ میں لگا ہوا آئینہ”ہے۔ اس کہانی میں کچھ جملے نہایت دلچسپ ہیں جو کہانی سے الگ قاری پر اپنا ایک تاثر قائم کرتے ہیں۔مثلاً:”آئینے کو اس دیوار کے سیاق سے جس پر وہ لگایا گیا ہو، علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔”(4)۔”حالاں کہ ہوٹل کی فضا اس عبادت خانے کی سی تھی جس سے خدا ابھی ابھی نکالاجا چکا ہو۔”(5)۔اس کے علاوہ اس میں بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کو حل کیے بنا کہانی کے معنی تک رسائی بہت مشکل ہے۔مثلاً:ایسا کون سا بازاری نام ہے جو تین حروف کا ہو اور جسے پڑھنا آسان ہو؟دوسرا نام جو ایک دریا کے نام پر تھا تو ایسا کون سا دریا ہے جس کا نام پانچ حروف کا ہے؟اور تیسرا نام جو بے انتہا خون آلود رنگوں میں آٹھ حروف میں لکھا تھا وہ کیا تھا؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان تینوں میں مناسبت کیا ہے اور کہانی سے اس کا کیا تعلق؟بورڈ کے نیچے سے گزرتے ہوئے ہی سابقہ بیوی کا خیال کیوں آیا؟ اور اس کے ان دو شوہروں کا خیال کیوں آیاجو قید حیات میں ہیں؟”آدمی کو ایسے موقعے پر خواب دیکھنے کے لیے جو ضروری وقفہ ملتا ہے ،وہ مجھے نہیں دیا گیا” اس کے کیا معنی ہیں؟ گھڑی کی سوئیاں جو آئینے کے باہر تھیں وہ ہی اندر تھیں،اس میں حیرت کیسی؟صوفوں پر بیٹھے ہوئے لوگ اسے آتا دیکھ کر کیوں اٹھ کر کہیں چلے گئے؟ہجے معلوم ہونے کے بعد ہی ٹائب رائٹر کے سامنے بیٹھنے والا شخص کیوں بتا پایا کہ دوسری منزل پر؟سڑیوں پر بچھا ہو قالین کیوں معلق رہ جائے گا؟تیروہیں سیڑی پر کوئی کیوں دل میں تیر مارے گا اوردسرے کمرے کے چوبی دروازے سے کوئی نو عمر نیم برہنہ لڑکی چیخ مارتی ہوئی کیوں برآمد ہوگی؟کیوں ابھی ابھی نام لگایا گیا تھا؟جس آدمی سے وہ ملنے آیا تھا وہ سیال تقدیر کیوں تھا؟آئندہ حماقتیں کس طرح یاد کی جاتی ہیں؟اورآئینے میں اس کا عکس اپنی جگہ سے کیوں غائب تھا؟کہانی میں اچھے جملوں سے قطع نظر متذکرہ بالا سوالات بہت اہم ہیں ۔ جب تک ان کا جواب نہیں ملتا تب تک کہانی کا ایک بڑا حصہ سمجھ میں نہیں آسکتا۔ لہذا یہ کہانی اس وقت تک مکمل بھی نہیں ہو سکتی۔اس کے بعد تین مزید مختصر کہانیاں”لاوانیا کے قریب”،”مجھے ایک کانسنی پھول پسند تھا” اور “ملک الشعرا نبار اسباریان کا ایک مطلع ” ہیں۔ جن میں سب سے دلچسپ کہانی آخر الذکر ہے جس کے آخر ی سین پر دل لرز جاتا ہے۔ حالاں کہ اس بات کا علم کہیں نہ کہیں قاری کو خاصہ پہلے ہو جاتا ہے کہ کہانی کا اختتام یہیں پہ ہونا ہے۔

• اس کے آگے ذیشان ساحل کی دو نظمیں دی گئی ہیں ایک سرمہ اور دوسری مجرم۔مجرم موجودہ دنیا کی صورت حال پر ایک نہایت موزوں نظم ہے۔ جس کی پوری فضا شاعر کی معاشرت میں ہونے والے انسان رواداریوں اور انسانی رویوں کے انحطاط کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ اس نظم کے اختتام پر جب شاعر یہ کہتا ہے کہ:

ہم آہستہ آہستہ اپنے شہروں کو جہنم بنا دیں گے
اور خود کو شیطان میں تبدیل کر لیں گے

تو پوری نظم کا کلامیہ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ نظم میں بعض اشارے بہت عمیق ہیں جن میں تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بالمقابل سرمہ ایک لطیف نظم ہے جس سے معنی کے کئی سوتے پھوٹتے ہیں۔ مگر کچھ یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے یہاں یہ خیال ابھی مزید فکری مراحل سے گزرنےکا متقاضی تھا۔

• ذیشان ساحل کے بعد نظمیہ حصے میں متواترنسرین انجم بھٹی کی ایک اورسعیدالدین کی کچھ نظمیں دی گئی ہیں۔نسرین انجم کی نظم کا عنوان چوہے ہے اور یہ ایک طویل نظم ہے۔ جبکہ سعید الدین کی نظموں کے عناوین گاتا ہوا پتھر،نظم،محبت کرنے والے، نظم،نظم،ایک درخت کی دہشت،اندھا اور دوربین،چرواہے کا خواب،دوسرا باغی،جیتی ہوئی ہار،میرے خواب اورچینوٹیاں ہیں۔

• نسرین انجم بھٹی کی نظم چوہے ایک سادہ کیفیت کی نظم ہے جو غربت اور بے چارگی کے منظر بناتی ہے۔ بہت دلچسپ انداز میں نسیر انجم بھٹی نے نظم میں چوہوں کا ہماری زندگی میں جو کردار ہے وہ ظاہر کیا ہے۔ ایک ایسا گھر جہاں افلاس ہے، اندھیرا ہے، بے روز گاری ہے اور بچوں کی افراط ہے، وہاں چوہے ہی گھر کے سب سے بڑے راز دار ہوتے ہیں ۔ ان کی چمکیلی آنکھیں جن میں بھوک تیرتی ہے اور ایک نوع کا تحیر اور ڈر بھی ،وہی عالم کچھ ان بستیوں اور محلوں میں پلنے والے بچوں کا ہوتا ہے جو مفلسی کے عالم میں پلتے بڑھتے ہیں۔ ایک امید اور انوکھے ہزار ہا خواب جن میں بھوک سب سے اہم ہوتی ہے۔ ماں کا پلو اور باپ کا شام کو گھر لوٹنا یہ ان بچوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، جس میں انھیں اپنی بھوک کو مارنے والی غذاوں کے خواب پوشیدہ معلوم ہوتے ہیں ۔ نسرین انجم بھٹی نے نظم کے پورے بیانیے میں چوہے کی رفتار اور بچوں کی حرکات کومنظم انداز میں نظم کیا ہے۔ اس سے نظم میں المیہ کی فضا گہری ہوتی چلی گئی ہے اور جہاں نظم کو ختم کرتے ہوئے باپ کی واپسی پر دیواروں کے لپکنے کا منظر دکھایا گیا ہے،ساتھ ہی ماں کے دوپٹے اور گھر کے چوہے دان میں راکھ بھرنے کا منظر تو اس مقام پر پہنچتے پہنچتے نظم میں جذباتیت اور مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ اس پوری نظم میں ربط بہت زیادہ ہے اور بیانیہ میں متغیر اجزا نام کو نہیں۔یہ نظم کی کامیابی ہے۔

• سعید الدین کی نظموں میں امیجری،تجسس،ناامیدی، اضطراراور المیہ بہت ہے۔ اس شمارے میں ان کی چھوٹی چھوٹی نظمیں شامل ہیں جس میں “محبت کرنے والے ” میں انہوں نے بظاہر سادہ مگر عمیق اور گہرے استعاروں سے اپنی بات کہی ہے۔ نظم میں کچھ نیا نہیں ، نہ خیال اور نہ انداز بیان ۔بس ایک نوع کی شوخی اور لطافت ہے جو المیہ کی صورت میں جاری ہوتی ہے۔ ان کے تخیل میں کج روی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو بیان کر رہے ہیں وہ ان کے اثر ات کا حصہ ہے ۔ محسوس کیے ہوئے جذبات اور مشاہدے سے گزرے ہوئے خیال کو نظم کر دیا ہے۔ نظموں کے اس انتخاب میں “محبت کرنے والے” سعید الدین کے اسلوب اور فکرکا نقطہ عروج ہے۔ اس کے بعد “ایک درخت کی دہشت ” ہے جو بہت رومانی نظم معلوم ہوتی ہے۔ بس اس کا رومان عام فہم اطوار سے ذرا مختلف ہے۔سعید الدین کی ایک نظم چینوٹی بھی اس شمارے میں موجود ہے۔ اس میں انہوں نے ایک بہت بڑے موضوع کو اپنے خیال کا مرکز بنایا ہے۔ چینوٹی کو اپنے مرکز کا استعارہ بنانا اس لیے بھی مشکل ہے کہ اس کے وہ اوصاف جو ہمیں نظر آتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ با وصف ہوتی ہے۔ سعید الدین سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اسے اپنے مشاہدے کے بڑے حصے میں شامل نہیں کیا ورنہ ان کی یہ نظم اس لحاظ سے زیادہ فکری ہوتی کہ چینوٹی جیسا بڑا موضوع چن کر انہوں نے اس کا صحیح استعارہ وضع کیا۔

• اس شمارے میں نیر مسعود کو خاص طور سے شامل کیا گیا ہے۔ جس میں ان کی ایک کہانی وقفہ ، پھر مراسلہ اس کے بعد ساسان پنجم اور جان عالم شامل کی گئی ہیں ۔ وقفہ سب سے پہلے ہے۔ صاف اور سادہ اسلوب میں۔ بہت رواں دواں کہانی ہے۔ جس کو پڑھتے وقت اپنے بچپن اور جوانی کے بے تکے اعمال یاد آجاتے ہیں۔ لطیف فکری انداز میں لکھی ہوئی اس کہانی میں مصنف نے اپنے خاندان کے ایک خاص کردار کو مرکز بنایا ہے۔ مگر یہ بات کہیں واضح نہیں ہوتی کہ مصنف کس کی کہانی لکھ رہا ہے۔ سادہ اسلوب میں پیچیدہ کہانی ہے۔ جس کاہر اقتباس ایک نوع کے تجسس سے پر ہے۔ کہانی کی ساری کڑیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اس کے باوجود پہلی قرات میں یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ آخر کہا نی کا مقصد کیا ہے اور کس نفسیاتی اور تاریخی حالت سے کہانی بحث کر رہی ہے۔ باپ، بیٹے کی اس کہانی کا سب سے اہم تجسس یہ ہے کہ بیٹا خود اپنے باپ کے تئیں مشکوک ہے کہ آیا یہ میرا باپ ہے بھی یا نہیں۔ استاد کا کردار بھی اتنا ہی پر اسرار اور دلچسپ ہے جیسا عام طور پر ایسی خاموش کہانیوں میں نیر صاحب کے یہاں ہوتا ہے۔ کہانی میں کئی مرتبہ اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کسی بھی لمحے میں کہانی ختم ہو جائے گئی۔ پوری کہانی میں کئی مقامات پر کہانی ختم ہوتی معلوم ہوتی ہے اور مکمل بھی ۔خاص طور سے اس وقت جب باپ کی سانسیں اکھڑ رہی ہوتی ہیں۔ پوری کہانی میں ایک نشان کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے جو ایک مچھلی کا نشان ہے۔ وہ ہی مچھلی کا نشان جو لکھنو کی تاریخی عمارتوں پر بنا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کا لکھنو کی تہذیبی تاریخ سے گہرا رشتہ ہے، لہذا اس وقت تک کہانی کے بہت سے گوشے قاری پر روشن ہی نہیں ہوں گے جب تک وہ لکھنو کی ثقافتی تاریخ سے پوری طرح واقف نہ ہو۔جس مچھلی کے نشان کے ارد گرد یہ کہانی گھومتی ہے وہ تاریخی عمارتوں پر تحفظ اور طالع بیداری کی علامت کے طور پر بنایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں ایسے کئی نشانات ہیں جو مختلف عمارتوں پر بنے ہوئے ہیں جن کو ہندو مسلم تہذیب کی مشترکہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ علامتیں ایک زمانے میں شبھ لابھ کے طور پر بنائی جاتی تھیں ۔ لکھنو کی ایسی عمارتوں پر مچھلیوں کے نشانات کے ضمن میں ایشا بسنت جوشی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ:

This was carried in war behind the recipient king or commander. How it came to be a pair of fish instead of just a single fish head can possibly be attributed to a popular story of Nawab Saadat Khan Burhan-ul-Mulk. It is said that after being appointed the Governor of Awadh, on his way to Lucknow from Farukkhabad, he was crossing the river Ganga and two fish leaped into his lap. This was considered a good omen. The two fish, symbolizing good luck reached Lucknow along with Nawab Saadat Khan and thus began the golden era of the history of Awadh. (6)
مزید یہ کہ:

The twin fish gained more prominence in 1819 AD when Court artist Robert Home designed the royal insignia for Nawab Ghaziudddin Haider’s coronation as the first King of Awadh and used the twin fish as one of the chief elements. These fish turned into mermaids- ‘Jal pari’ during the rule of Nawab Wajid Ali Shah۔(7)

واضح رہے کہ یہ وہی ایشا بسنت جوشی ہیں جو آزاد ہندوستان کی پہلی آئیIASافسر تھیں اور جن کا تعلق لکھنو سے تھا۔ کہانی میں دلچسپ موڑ بھی بہت ہیں مگر ایک مبہم سے مقدمے پر اسے ختم کیا گیا ہے۔ جس کے معنی کی تلاش دیر تک قاری کو اپنے نرغے میں رکھتی ہے۔ بعض جملے بہت تخلیقی اور پر لطف ہیں جن میں چند مندرجہ ذیل ہیں:”شہر کے محلوں کا ذکر وہ اس طرح سے کرتا تھا کہ ہر محلہ مجھے ایک انسان نظر آتا تھا۔ جس کا مزاج اور کردار ہی نہیں ، صورت شکل بھی دوسرے محلوں سے مختلف ہوتی تھی۔(8)”۔”جوش میں آ کر استاد یہ دعوی بھی کرنے لگتا تھا کہ وہ شہر کے کسی بھی آدمی کو دیکھتے ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کس محلے کا رہنے والا ہے یا کن کن محلوں میں رہ چکا ہے۔اس وقت میں اس کے اس دعوے پر ہنستا تھا ،لیکن اب دیکھتا ہوں کہ خود مجھ میں یہ صفت کچھ کچھ موجود ہے۔(9)”۔”کئی تکیوں کے سہارے بیٹھنے کے بعد وہ کسی خیال میں ڈوب گیا ۔ اس سے پہلے وہ مجھے سوچنے والا آدمی نہیں معلوم ہوتا تھا، لیکن اس وقت کئی تکیوں سے ٹیک لگائے ، قاعدے کا صاف ستھرا لباس پہنے وہ کچھ سوچ رہا تھا اور اس وقت پہلی بار مجھے خفیف سا شبہ ہوا کہ وہ میرا حقیقی باپ ہے۔ (10)”۔”انہیں سیروں میں مجھے یقین ہوا کہ مچھلی میرے شہر کا نشان ہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے مبہم سے معمے کا حل دریافت کر لیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ مجھے یہ بھی محسوس ہونے لگا کہ حل اصل معمے سے بھی زیادہ مبہم ہے۔(11)”۔”سب سے بڑی کنجی ، جس کے پورے حلقے پر باریک باریک ہندسے کھدے ہوئے تھے، مجھے استاد کے چہرے سے مشابہ نظر آئی لیکن مشابہت کا سبب میری سمجھ میں نہیں آیا۔(12)”۔

• ساسان پنچم کو ایک کہانی تو نہیں کہا جا سکتا ۔ دراصل یہ ایک نوع کی تاریخی بحث ہے۔جس کو ایک دلچسپ موڑ پہ ختم کرتے ہوئے نیر مسعود نے ایک سوال قائم کر دیا ہے کہ جب ساسان پنجم کا وجود ہی مشکوک ہے تو ان کی زبان کے ہونے پر کیوں کر یقین کیا جائے ،پھر بھی کچھ لفظ ایسے ہیں جن کے معنی کا سراغ علما نے لگا لیا ہے ، جو ایک خاص طرح سے استعمال ہوتےتھے اور ان کے کچھ خاص معنی تھے۔ تاریخ البتہ ان کی نہ ملے مگر ان کے ہونے کا اثبات تو اسی امر سے ہو جاتا ہے کہ ان لفظوں نے ایک الگ معنی حاصل کر لیے تھے۔ نیر صاحب نے پہلے بادشاہ مہ آباد کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ صرف پانچویں کا کیا ہے۔ جس کو ساسان پنجم کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر غالبا اردو میں یہ ایک ہی افسانہ ہے۔ حالاں کہ فارسی میں اس پر لکھا گیا ہے۔ زرتشتی مذاہب کےمباحث کے ذیل میں۔

• نیر مسعود کی کہانیاں بہت سے تاریخی ، تہذیبی اور مذہبی مباحث سے نکل کر اپنا ایک الگ وجود قائم کرتی ہیں۔ ان کا مبہم اسلوب مختلف نوعیتوں کے علوم کی واقفیت کا تقاضہ کرتا ہے۔ ان کی ہر کہانی ایک ایسے پوشیدہ راز کی طرح ہے جو ایک خاص علم کے تالے سے مقفل کی گئی ہے اور اس کو کھولنے کے لیے اس کی صحیح چابی تک پہنچنا ضروری ہے۔ نیر مسعود اردو ادب کے ایسے واحد افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اتنی مختلف النوع کہانیاں لکھی ہیں کہ ان کو مکمل گرفت میں لانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک نشست اور ایک قرات میں ان کی زیادہ تر کہانیاں نہیں سمجھی جا سکتیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کہ کہانی کو کئی بار پڑھا جائے اور اس میں معنی کے تنوع کو سمجھا جائے اور اس علم سے خاص طور پر ایک رشتہ قائم کیا جائے جس کے حصول کے بنا اس کہانی کے اصل معنی تک پہنچنا نا ممکن ہے۔ بہت سادہ اسلوب میں نیر صاحب نے اردو کو بہت عمیق کہانیاں دی ہیں ۔ لہذا اگر ان کو روا روی میں پڑھا جائے تو کچھ یو محسوس ہوتا ہے کہ گویا پڑھا ہی نہیں ہے۔ نیر مسعود ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرتے ہوئے یا بازار میں کسی دکان پر بیٹھ کر نہیں سمجھے جا سکتے اس کے لیے کتابوں کی وہ الماری درکار ہے جس میں مختلف النوع علوم کی کتب قرینے سے لگی ہوں ۔ کیوں کہ ان کا ابہام ہی ان کی شناخت ہے اور ان کا اسلوب ان کی ترسیل کا حربہ۔

• اسی شمارے میں فروغ فرخ زادکی تین نظمیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کا ترجمہ نیر مسعود نے فارسی سے اردو میں کیا ہے۔ یہ نظمیں آفتاب کی طرح،اندھیری راتوں میں اور ہدیہ ہیں۔ فروغ فرخ زاد فارسی کی بہت مشہور شاعرہ تھی جن کا انتقال 32 برس کی عمر میں ایک حادثے کا شکار ہونے کی وجہہ سے ہو گیا تھا۔ ان کی نظموں میں ایک نوع کی کسک پائی جاتی ہے۔ جیسے بہت کچھ ہے جس کی مخالفت میں فروغ فرخ اندر ہی اندر کسمسارہی ہیں ۔ ان تین نظموں کے مطالعے سے بھی اس بات کا احساس ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹی سی نظم “ہدیہ”دیکھیے:

میں انتہائے شب کی بات کر رہی ہوں
انتہائے ظلمت،انتہائے شب کی بات کر رہی ہوں میں
تم آو میرے گھر اگر تو میرے مہرباں
تمہارے ساتھ اک چراغ بھی ضرور ہو
اور اک دریچہ بھی ہو جس سے جھانک
میں کم سے کم گلی میں دیکھ تو سکوں
کہ میرے گھر کے پاس ہی
بہت سے ایسے لوگ ہیں جو شاد و با مراد ہیں

• اس نظم میں بظاہر ایک طرح کی یاسیت نظر آتی ہے ، مگر یہ واقعہ ہے کہ اس میں اس روشنی اور امید کی جھک زیادہ واضح ہو گئی ہے۔ جس کی خواہش میں شاعرہ اپنے موہوم سے تصور کا اظہار کر رہی ہے۔یہ مطالبہ کہ اگر تم آو میرے گھر تو اک چراغ بھی تمارے ساتھ ہو۔ بصیر ت کا مطالبہ ہے جس سے کور چشمی اور انتہائے ظلمت کو دور کیا جا سکے۔ انتہائے ظلمت بھی خاصہ معنی خیز ہے اس سے مشاہدے کی انتہا بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ بہر کیف نظم سادہ ہے مگر معنی سے بھرپور۔

• اس شمارے کی آخری کہانی بابا مقدم کی پنجرے ہے جس کا ترجمہ فارسی سے نیر مسعود نے کیا ہے۔ پنجرے کے موضوع پر ایسی کہانی اردو میں شاید ہی لکھی گئی ہو۔ اس کو پڑھ کر لکھنو کا وہ ماحول ضرور ی آ جاتا ہے جہاں کے نوابین اور حکمرانوں کو طرح طرح کے پرندوں اور جانوروں کو جمع کرنے کا شوق تھا۔ ایک فلسفیانہ نکتے پر ختم ہونے والی سچی کہانی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
1۔ ص:20،25،شمارہ-1،آج،مدیر :اجمل کمال۔
2۔ ص:25،شمارہ-1،آج،مدیر :اجمل کمال
3۔ ص:38،شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
4۔ ص:52،شمارہ-1،آج، مدیر:اجمل کمال
5۔ ص:53،شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
6۔ Isha Basant Joshi, “Lucknow observer
7۔ Isha Basant Joshi, “Lucknow observer
8۔ ص:79، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
9۔ ص:79، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
10۔ ص:84، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
11۔ ص:84، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال
12۔ ص:89، شمارہ-1،آج،مدیر:اجمل کمال

Categories
نان فکشن

نئے ذہنوں کو خوش آمدید

نئےذہن کسی بھی تہذیب، زبان اور ادب کے لیے بہت اہم  سرمایہ ہوتے ہیں، جس سرمائے کی قدر ہر وہ شخص کرتا ہے جو ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور ان کے ذریعے وجود میں آنے والے نئے انقلابات کی آہٹ کو بہت پہلے سن لیتا ہے ۔ جو قوم اور تہذیب اپنے نئے لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔اس کے برعکس جن اقوام میں نئے اذہان کی خوش آمدید کا ماحول نہیں ہوتا وہ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتیں ۔ نیا ذہن ایک نعمت سے کسی طور کم نہیں ہوتا جس میں ہزاروں ،لاکھوں طرح کی نئی روشنیوں کو اخذ کرنے  کی طاقت ہوتی ہے۔ جس کی بنیاد پر وہ مستقبل کو ماضی سے بالکل جداگانہ انداز میں تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ نئے ذہن میں نئی امنگوں اور خواہشوں کا وفور ہوتا ہے اوروہ نئی بلندیوں کے تصور سے سجا ہوتاہے ۔ اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ زندگی کا نیا معمار بن سکے اور تہذیب کی بے معنی جدلیات کو ازکار رفتہ بنا کر حسن کی نئی کائنات کا تصور پیش کرسکے ۔ کسی بھی قوم اور تہذیب کا ہر نیا ذہن ایک نئے انقلاب کی پہلی آہٹ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی قدر کرنا اپنے آنے والے لمحات کو بہتر اور خوش حال بنانے کے مترادف ہے ۔ ادب، تاریخ ، سیاست ، فنون لطیفہ، زبان اور مذہب زندگی کے ان تمام شعبوں میں نیا ذہن ہی نئی وسعتیں اور نئے راستے بناتا ہے۔ جس کے ہاتھ میں پرانے آلات کا ہنر مند ہتھیار بھی ہوتا ہے اور سوچنے کے لیے امید سے زیادہ رنگین دماغ  بھی،جس کی بنیاد پر وہ ان چاہی خواہشوں کے فراق میں ایک نیا منظر تراشتا ہے۔

نئے ذہن کا استقبال دنیا کو نئی راحتوں کا معیار بخشتا ہے۔اس کے تانوں بابوں کو بنتا ہے اور اس کی افشاں کو آسمان میں بکھیرتا ہے۔ نیا ذہن تعصبات کے پیمانوں سے خالی ہوتا ہے اور ماضی کے گدلے پانی سے پاک ۔ اس میں سڑے ہوئے بوسیدہ خیالات کی بساند نہیں ہوتی اور فرسودہ روایات کا جالا نہیں لگا ہوتا ۔ لہذا وہ نئی اور غیر جانب دار آنکھ سے دنیا کو دیکھتا ہے اور اپنے  چاروں جانب لطیف آب و ہوا کا تصور باندھ کر اس سے ایک حسین کائنات بنانے کا ہنر رکھتا ہے ۔ نیاذہن پرانے اذہان سے ہر طور بہتر ہوتا ہے ، اس لیے بھی کہ اس میں پرانے کی طرح کے مادی تصورات کا غلبہ نہیں ہوتا ۔ وہ چیزوں کو اور خیالات کو ، سچ اور جھوٹ، اچھائی اور برائی کے دو دو خانوں میں تقسیم کرنے کا مجاز نہیں ہوتا ۔ نیا ذہن ایک ستھرا، نور کا پیکر ہوتا ہے، جس میں پرانے الفاظ و نظریات کی کجی کی نہیں ہوتی ۔جس کے باعث وہ ایک ایسی دیوار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو سیدھی ہو اور ثریا تک جا سکے۔

نئے ذہن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ چیزوں کو الٹ کر دیکھنے کا ہنر جانتا ہے ۔ اس میں سیدھے اور الٹے کے کوئی واضح پیمانے نہیں ہوتے ۔وہ تصویر کے ایک رخ کو اس کا اول اور دوسرے کو اس کا آخر نہیں گردانتا ، وہ بہتا ہے اس سیال کی طرح جو ہر طرف سے چاروں جانب بہہ رہا ہے ، کسی سمت کا تعین اور کسی معراج کا خواب اس کے یہاں نہیں ہوتا ۔ وہ خوش اور صحت مند حالت میں سفر کرتا ہے، جس سے کسی طرح کے خطرے اور بیمار تصور کے جنم لینے کا خدشہ نہیں ہوتا ۔ نیا ذہن لفظوں کی ترتیب اور خیالات کی تعظیم سے معرا ہوتا ہے ۔ اس کے یہاں اصول کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ،کسی دوڑ کا کوئی تصور نہیں ہوتا ،اس کے باطن سے ظاہر تک ایک طرح کا اجلا عکس جاری رہتا ہے جس میں بہت سی چیزیں اپنی دلچسپیوں اور تازگیوں کے ساتھ زندہ رہتی ہیں ۔ ان میں بیمار اور تہذیب و لسان کی سطح پر اکھڑے اور اڑے ہوئے نظریات کا گز ر نہیں ہوتا۔ وہ چیزوں کو جوڑ توڑ کر ان میں زندہ رہنے اور رحم و امن کے ساتھ زندہ رہنے والےوسیلے تلاش کرنا جانتا ہے۔نئے ذہنوں کو خوش آمدید کہنے میں ہمیں اس لیے بھی خوش اسلوبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیوں کہ ان میں کوئی ذاتی یا الہامی دوئی نہیں پائی جاتی۔ ان کے ہونے کے تصور کو مزید مستحکم کرنے میں ہمیں یوں بھی کوشاں ہونا چاہیے کہ نیاذہن ان چاہی تبدیلیوں کو مرقع ہوتا ہے ۔

نئے ذہنوں میں دنیا اور کائنات کے نئے تصورات ہوتے ہیں، پھر خواہ وہ کتنے ہی نا قابل قبول معلوم ہوں مگروہ پرانے سے ہزار گنا بہتر ہوتے ہیں ۔ نئے ذہن کی جس نا تجربے کاری کو ہم اس کا سقم سمجھتے ہیں وہ ہی اس کا سب سے بڑا مثبت نکتہ ہے ۔ جو آسمان کو آسمان اور زمین کو زمین نہیں سمجھتا ۔ جو سورج کو صرف آگ پھینکے والا گولا اور زندگی کو قائم رکھنے والا خدا نہیں سمجھتا  جو بارش کو صرف ایک طرح کا موسماتی عمل نہیں جانتا اور جو سردی ،گرمی ،بہار اور خزاں کو چند دنوں اور مہینوں تک محدود رکھنے والا کوئی قدرتی کھیل نہیں جانتا۔ نیا ذہن مشرق اور مغرب کے جھگڑوں سے اور ماکس اور موسی کی حکایات سے افضل ہوتا ہے ۔ اس میں اللہ ،رسول کے ناصحانہ تصورات کی بھیڑ نہیں ہوتی یا معاشی ، اقتصادی اور سماجیاتی تفریقات کا طے شدہ نظام نہیں پایا جاتا ۔ وہ سرحد سے پاک اور تصنعات سے جدا ہوتا ہے ۔ جس کی معصوم ہنسی اور عیار مسکراہٹ میں دنیا کو نئے سرے سے سجانے کی صلاحیت چھپی ہوتی ہے ۔ نئے ذہن کی خوشی اور اس کا استعجاب ہی اس کا سب سے اہم پہلو ہے جس میں حیرتوں کا ٹھاٹھے مارتا سمندر موجزن ہوتا ہے اور جو کہیں اور کسی بھی ساحل کو اپنا کنارہ تصور کر کے اس کی ریت کو نم کردینااپنا فرض سمجھتا ہے ۔ نیا ذہن نئی قدر اور نئی فضا کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ اس کا استقبال نئی رسموں ، رواجوں ، مذہبوں ، تہذیبوں، زبانوں اور خیالوں سے زیادہ پرتپاک انداز میں کیا جانا چاہیے۔ ان کو مذہبوں اور زبانوں کی تقسیم میں بانٹنے کی جلدی میں خود کو ان کے آگے کسی دیوار کی طرح پیوست کرنے ے بجائے ان کی سادگی اور تازہ کاری سے خود کو صیقل کرنے کی سعی کرنا چاہیے ۔ نئے ذہنوں سے نئی روشنی حاصل کرنے کے لیے پرانے اذہان کو ان کے آگے پر امید نگاہوں سے تاکتے رہنا چاہیے۔ ان کے اذہان پر اپنی کائی زدہ فکر کو جمانے کے بجانے ان کے خیال کے پانی سے خود کے زنگ آلود نظریات کو صاف و شفاف کرنا چاہیے ۔ نیا ذہن نئی عمارت کی طرح اجلا اور با رونق ہوتا ہے جس کی دیواروں پر بوسیدہ اورر پرانے خیالات کی سیلن نہیں ہوتی ۔ جس پر جھوٹے رنگوں کا لیپ نہیں ہوتا۔ اس کا رنگ وہی ہوتا ہے جو اولین صورت میں قدرت  نے اسے عطاکیا ہوتا ہے ۔ وہ ان بوسیدہ عمارتوں کی مانند نہیں ہوتا جس پر عقائد ونظر یات کابدبودار روغن چڑھا ہوتا ہے اور جن کے منہ پہ وقت کی کھینچی ہوئی خراشوں کو چھپانے کے لیے مذہبی رسومات کا مسالا بھرا جاتا ہے۔نیا ذہن اس کچی مٹی کی طرح ہوتا ہے جس سے سوندھی سوندھی اور مدہوش کر دینے والی مہک اٹھتی رہتی ہے اور جس میں قبولیت کا ایسا لوچ پایا جاتا ہے کہ کسی حسین تصور کو قبول کرنے کے لیے اسےکسی کی اجازت نہیں لینی پڑتی ۔ نئے ذہن میں جوش جذبہ اور طمانیت تو ہوتی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس میں انکسار ،حلم اورمحبوبیت بھی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے ۔ نئے ذہن کا استقبال نئی قوموں اور نئے دنیاوں کے عروج کی موجب ہے ۔ ان کی تعظیم نئی کائنات  کےروشن نظاروں کی ضامن ہے۔ ہمیں نئے ذہن کا استقبال کرنا چاہئے اور اس  کی آمد کے جشن کو اپنی ذات کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے۔

Categories
نان فکشن

میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

ابھی بس ذہن میں ایک موہوم سا خاکہ ہے کہ مجھے کچھ لکھنا ہے۔ کیا؟ اس کا علم نہیں اور جہاں تک میں اپنے لکھنے کے مزاج سے واقف ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ابھی بہت دیر تک مجھ پر یہ واضح نہیں ہو پائے گا کہ میں آخر کیا لکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ کون سی تحریک ہے جو مجھے اندر سے بار بار کچوکا لگاتی ہے کہ کچھ لکھو۔ ایسا ہر وقت تو نہیں مگر ہر اس وقت ہوتا ہے جب میں سنجیدگی سے کچھ پڑھنے بیٹھتا ہوں یا ان اوقات میں بھی جب میں تنہا ایک کونے میں پڑا اپنے پرانے احباب اور اطراف اور محبوباوں کے بارے میں سوچا کرتا ہوں۔ کچھ لکھنے کا عمل میرے لیے بہت زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے ایسا کہ مجھے اس میں وصل کی سی لذت محسوس ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے وصل کا مزا نہیں چکھا ہے وہ اس سوندھی خوشبو کے سونگھنے سے بھی اس لذت کے متعلق جان سکتے ہیں جو کچی مٹی پر پانی کے پڑنے سے اٹھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ زیادہ الجھی ہوئی تعبیر ہو لیکن مجھے اس وقت اس سے بہتر تعبیر یاد نہیں آتی۔ کچھ لکھنے سے مجھے ایک قسم کی تقویت ملتی ہے، خواہ وہ کچھ بھی ہو۔ اب اس کے معنی یہ نہیں کہ میں کسی دکان دار کا کھاتا لکھنے میں بھی تقویت ہی محسوس کروں گا۔ میری مراد کچھ ایسا لکھنے سے ہے جو میرے ماضی، میرے تعلیمی رشتے یا روحانی تجربے سے جڑا ہو ۔کسی پر تنقید یا تحقیق لکھنے میں بھی مجھے کچھ خاص لطف نہیں آتا۔ مگر میں یہ بھی ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتا کہ کیا کیا لکھنا مجھے پسند ہے ۔ میرے ذہن میں ہزاروں چیزیں چلتی ہیں ، ہر وقت اور میں ان میں سے اپنے مضامین یا اپنے لکھنے کے موضوعات کو چنتا رہتا ہوں۔ بہت سے موضوعات میرے ذہن سے مہینوں چمٹے رہتے ہیں مگر میں ان پر نہیں لکھ پاتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود کو ان موضوعات کے قابل جان کر بھی ان پر لکھنے سے گریز کرتا رہتا ہوں یا پھر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لکھنے کے عین وقت وہ موضوعات خود مجھ سے کہیں دور چلے جاتے ہیں ۔جن موضوعات سے مجھے عشق ہے میں ان پر بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں لکھنے کے لیے اکثر خود کو تیار رکھتا ہوں اور کچھ لکھنے کی خواہش میں ان موضوعات تک پہ لکھ جاتا ہوں جو میری دانست میں ابھی لکھے جانے کے لیے مزید وقت چاہتے تھے۔ مگر میں ان سے لکھنے کے دوران ایسے چمٹا رہتا ہوں جیسے میں ان کے ساتھ وصل کی حالت میں ہوں۔ لکھنا میرے لیے ایک طرح کی غذا ہے اور میں اس کو اپنے لیے ناگزیر تصور کرتا ہوں حالاں کہ مجھے اپنے اطراف میں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو مجھ سے بہتر لکھتے ہیں یا مجھ سے بہتر لکھنے کے متعلق جانتے ہیں مگر لکھتے وقت میں اپنے ان تمام احباب سے نہ خائف ہوتا ہوں اور نہ ان سے کسی اثر کے قبول کرنے کا خواہش مند۔ میں اپنے ذہن پر لکھنے کے اوقات میں بس ایک روحانی اثر محسوس کرتا ہوں اور اس کے زیر اثر لکھتا چلا جاتا ہوں۔

ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔ ان تحریروں کو میں لکھ کر کاٹتا نہیں بلکہ ایک خالی بکس میں بند کر دیتا ہوں۔ یہ خالی بکس میری ہزاروں نا مکمل تحریروں سے بھرا ہوا ہے جو مجھے مکمل تحریروں کے بالمقابل زیادہ لطف عطا کرتی ہیں۔ لکھنے کی خواہش میں میں اکثر موضوعات کا تعین کیے بنا ہی لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور اکثر ایسی تحریریں بھی لکھ کر اٹھتا ہوں جو بلا سر ،پیر مکمل تحریر ہونے کا دعوی کرتی ہیں ۔ میں اپنے لکھنے سے کبھی بیزار نہیں ہوتا بلکہ اس کو میں اپنے لیے ایک قسم کا طلسم تصور کرتا ہوں جس کے کونوں میں میری روح کے ٹکڑے بکھرے ہوتے ہیں ۔ جب جب میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو میرے اندر سے ایک قسم کا اضمحلال جنم لیتا ہے ، ایسا کہ جس سے مجھے مسرت محسوس ہوتی ہے اور جب میں لکھنے کی شروعات کرتا ہوں تو دھیرے دھیرے میرا اضمحلال ایک قسم کی تازگی میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور جب مجھے اپنے لکھنے کے عمل سے اکتاہٹ یا بیزاری محسوس ہونے لگتی ہے یا میں کسی تحریر کو مکمل کر لیتا ہوں تو میں لکھنا فوری طور پر بند کر دیتا ہوں ۔ لکھنا میری ذات کا اسم اعظم ہے جس سے میں اپنا ادراک حاصل کرتا ہوں ۔ مجھے جب تک لکھنے کے عمل سے عشق نہیں ہوا تھا میں پڑھنے کے متعلق اسی قسم کے سحر میں گرفتار تھا مگر جب سے لکھنے کی عادت نے میرے بدن میں پیر پھیلائے ہیں میں لکھنے کو پڑھنے کی اگلی منزل سے تعبیر کرنے لگا ہوں۔

میں ہزاروں موضوعات پر لکھنا چاہتا ہوں ایسے موضوعات جو میرے ذہن کی سرنگوں میں کلبلا رہے ہیں، جن میں لاکھوں طرح کی رنگ برنگی روشن لکیریں ہیں ،جس میں سورج کے مانند حرارت ہے اور خواب کے مانند سحر انگیزی ۔ ایسے موضوعات مجھے مستقل اپنی جانب بلاتے ہیں اور میرے ذریعے صفحہ قرطاس پر بکھرنے کو بے چین رہتے ہیں ۔ لکھنا میرے لیے الہام نہیں نہ یہ کوئی وحی کی طرح کا غائب نکتہ ہے ،بلکہ لکھنا مجھے اپنے حق میں زندگی سے معمور اور حقیقتوں سے آشنا نظر آتا ہے ۔ اس لیے میں لکھنے کے عمل کو ایک رنگین خواب کا عمل سمجھتا ہوں جس میں تعبیر کی ایسی گنجائشیں پائی جاتی ہیں جو ہماری زندگیوں کو راست طور پر متاثر کرتی ہیں ۔ لکھنے کے عمل سے گزرنے سے پہلے جب مجھ میں موضوعات کا وفور ہوتا ہے تو مجھے لکھنا اپنی محتاجی معلوم ہونے لگتا ہے ۔ ایسا کچھ کہ کوئی نوائے سروش ہے جو صریر خامہ کی جانب مجھے کھینچے لیے جا رہی ہے ۔ لکھتے وقت میں خود کو ایک انجان سی طاقت میں گھرا ہوا پاتا ہوں اس لیے بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ میرا لکھا میرا اپنا نہیں بلکہ ایک غیرمرئی قوت کا اظہار ہے۔ مجھے لکھنے کے لیے زبان کا تصنع اور اظہار کی باریکیوں کا سراغ لگانا بھی ضروری معلوم نہیں ہوتا بلکہ سلیس اور سادہ طرز اور اسلوب جس میں اپنے باطن کا عکس اتر آئے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے ۔ جب جب میں لکھنا چاہتا ہوں تب تب میں خود کو انسانوں کے دکھ درد اور خیالات اور نظریات سے قریب پاتا ہوں ،ایک ہیجانی کیفیت میں گرفتار جس میں تاریخ ، سیاسیات ، مذہب ، معاشرتی علوم اور سائنس کی مختلف جہات مجھے انسانی محررومیوں سے آگاہ کراتی ہیں، اس لمحے میں کسی بلا تکان بولنے والے مشاق مقرر کی مانند خود کے باطن میں داخل ہو کر چیخنے لگتا ہوں۔ خود کو الگ الگ موضوعات پر بولتے ہوئے انسان کے دکھوں کے درمیان پھنسا لیتا ہوں اور ان کی تکلیفوں سے گھر کر ان کا مداوا تلاش کرنے کا مشتاق بنا لیتا ہوں۔ لکھتے وقت میں خود میں ہٹلر اور مسولینی ، مارکس اور لینن، محمد اور موسی، کرشن اور ارجن، رام اور بدھ، کبیر اور خسرو، نانک اور جائسی، سارتر اور روسو، ملٹن اور ابوالمعالی ، حالی اور سر سید ،داغ اور امیر مینائی اور غالب، میر اور فیض سبھی کو یکجا پاتا ہوں۔ کسی کو کسی سے دور اور قریب ، ادنی اور اعلی سمجھے بنا میں ان سب کو اپنا دوست ، رقیب اور ہم منصب سمجھنے لگتا ہوں ۔ لکھنے کی خواہش مجھے اند ر سےایک اوتار بنا دیتی ہے یا یوں کہوں کہ ایک انسان جو خود میں سب سے بڑا اوتار ہے۔

میں جتنا کچھ خود سے بولتا ہوں یا خود کو جتنے بولے ہوئے کی گردش میں گھرا پاتا ہوں اس کا ایک فی صد بھی لکھ نہیں پاتا ۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اندر کا وہ شور جو مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے وہ میرے اندر کا ایک انوکھا طلسم ہے جو مجھے اظہار سے تحریر کی وادی تک لاتے لاتے ارسال سےبے بہرہ کر دیتا ہے ، میرے وجود کی گتھیوں سے کھیل کر مجھے کتاب کے اندھے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ، پھر بھی میں لکھتا ہوں کیوں کہ لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے اور میں اس عمل کے تئیں خود کی نکیل کو تھامے رکھتا ہوں ۔ میں لکھنے کو خود سے بہتر اور خود کو لکھنے کے برابر بنانے کے عمل میں سر گرداں رکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں ایک ایسی بات لکھ دینا چاہتا ہوں جس کی تکرار میرے باطن میں کہیں دور تک اور دیر تک کھنکتی رہتی ہے ۔ اسی لیے میں لکھتا ہوں اور اسی لیے میں لکھتے رہنا چاہتا ہوں۔

میں اپنے لکھے سے کبھی پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہوتا کیوں کہ مکمل اطمینان مجھے لکھنے سے دور کرتا ہے۔ ایک منز ل سے دوسری منزل کی جانب جانے سے روکتا ہے ۔ لکھنے کے عمل کو اسی لیے میں مینڈک کی چھلانگ سے تعبیر کرتا ہوں جس میں ابدی اچھال نہیں پایا جاتا ۔ میں جب جب کچھ لکھنے کی شروعات کرتا ہو تو مجھ میں ایسی ہی توانائی جمع ہوتی ہے جیسی ایک مینڈک میں اچھلنے سے پہلے پائی جاتی ہے اس توانائی کا انقطاع مجھے ایک تحریر سے دوسری تحریر کی جانب بڑھنے پر مہمیز کرتا ہے اور اسی سے میں اپنے موضوعات کے تنوع کا سراغ بھی لگا پاتا ہوں۔ ایسی ہزاروں باتیں جو میں لکھنے کے درمیان اور اس سے قبل یا بعد میں محسوس کرتا ہوں انہی باتوں سے مجھے اپنے لکھے پر خوش یا دکھی ہونے کا حوصلہ ملتا ہے ۔ جب میں اپنے کسی لکھے سے بہت زیادہ خوش یا بہت زیادہ دکھی ہوتا ہوں تو میں اس کو قلم زد کر دیتا ہوں کیوں کہ مجھے اس میں اعتدال کا پرتو نظر نہیں آتا ۔ حالاں کہ میں اس زار سے بھی اچھی طرح واقف ہوں کے کسی لکھے کو کبھی کاٹا نہیں جا سکتا ۔ میں لکھنے کی چال بازیوں کو لکھنے کا سب سے گہرا وار کرنے والا ہتھیار سمجھتا ہوں ۔ جو ایسا نوکیلا ہے کہ ایک بار وجود میں آ کر کبھی عدم کا سفر نہیں کرتا۔ دنیا میں جتنے لکھنے والے گزرے ہیں میں ان سے کچھ الگ نہیں لکھنا چاہتا اور نہ ہی مجھ میں کچھ نیا لکھنے کی خواہش ہے ،لکھنے کے حوالے سے میں صرف ایک امر کو سب سے زیادہ معنی خیز سمجھتا ہوں اور وہ امر خود لکھنے کا عمل ہے۔ مجھے لکھنے کی تاریک دنیائیں اپنی طرف بلاتی ہیں اور میں اس بیمار بوڑھے شخص کی طرح تیزی سے اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں جو موت کی جانب سفر کرتا ہے۔ لکھنے کے لیے مجھے نئی دنیاوں اور نئی کہانیوں کی یا نئی مثالوں کی بھی جستجو نہیں ہوتی میں تو بس ایک ایسی بات لکھنے کو ہی سب سے بہتر سمجھتا ہوں جو انسان کی عقلوں کے عین مطابق ہو۔ مجھے زندگی اور لکھنا ایک سکے کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ جب تک انسان لکھنے کے عمل سے واقف نہیں ہوتا وہ زندگی کے نہا خانہ وحشت سے بھی آشنا نہیں ہوپاتا۔ میں لکھنے کی سعی میں خود سے ہزاروں جھوٹ بولتا ہوں جن کو اپنی عیاریوں اور مکاریوں سے خود پر سچ بنا کر نازل کرتا ہوں اور اس سچایوں کی دیواروں سے لگ کو روتے ہوئے نوشتہ دیوار تحریر کرنے میں سر گرداں ہو جاتا ہوں ۔ میں تقدیر سے بہتر اور تعبیر سے گہرا فن پارہ لکھنے کی خواہش میں الجھا رہتا ہوں اور ایسے میں میں کچھ بھی لکھ جانے کو بے کار نہیں سمجھتا اور قاعدوں سے الگ رہ کر لکھنے کو ہر لکھے سے اعلی جانتا ہوں، لہذا !میں ایسا ہی کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔

Categories
نان فکشن

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

مجھے اس بات کا علم ہے کہ یہ جملہ مجھ سے پہلے ہزاروں لوگ کہہ چکے ہیں کہ ادب پڑھنا اور سمجھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اس سے بڑی ذمہ داری ہے ادب کو تخلیق کرنا لیکن میں اس سوال کو اپنے معاشرے اور عہد کے تناظر میں یا پھر اس تاریخی پس منظر میں جس میں عہد بہ عہد اس سوال پر غور کیا گیابہت مختلف اور جداجدا پاتا ہوں۔ ادب ایک بڑا شعبہ ہے۔ زندگی کا بھی اور موت کا بھی۔ لہذا اس کو پڑھنا بھی ہر شخص اور جماعت کے نزدیک ایک الگ تقاضہ رکھتا ہے۔ ہمارے اکابرین نے جب ادب کو پڑھا،سمجھا اور تخلیق کیا تو زندگی کے تقاضے دیگر تھے اور آج کے لوگ جس ادب کو پڑھتے،سمجھتےیا تخلیق کرتے ہیں اس کے تقاضے دیگر ہیں۔ حالاں کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی شخص یا جماعت کس طرح کا ادب پڑھتی ہے یا کیوں پڑھتی ہے مگر انفرادی طور پر ہر اس شخص کو ایک بار ضرور اس بات پر غور کرنا چاہیے جو ادب کا مستقل قاری ہے کہ وہ ادب کیوں پڑھتا ہے؟

میں نے گزشتہ کئی برسوں میں اس سوال پر غور کیا ہے اور کئی مرتبہ کیا ہے۔ اول بات تو یہ کہ تاریخ،مذہب اور سیاسیات کی طرح ادب کو پڑھنا مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ ہر مضمون خواہ وہ کسی بھی راہ علم و عمل سے متعلق ہو ایک نوع کے ذاتی مزاج کے ساتھ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ جس میں ریاضی سے لے کر سائنس، ادب اور جغرافیہ تک تمام مضامین کا شمار ہوتا ہےاور یہ اس ذاتی مزاج کی ہی دین ہے کہ ایک مضمون کو دیگر مضامین سے ممیز کیا جاتا ہے۔ مثلاً جس طرح علم رابطہ (Communications)کا مطالعہ تفسیر البیانات (Data Interpretation)کی طرح نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح علمیات کا مطالعہ ساختیات کی طرح نہیں کیا جا سکتا۔ ہر علم کا ایک طریقہ تحصیل اور طریقہ استفادہ ہے۔ ادب بھی اسی طرح ایک طریقہ علم کے تحت ہی پڑھا، سمجھا اور لکھا جا سکتا ہے۔

ایک مرتبہ مجھ سے مرحوم کمال احمد صدیقی نے تاکیدا یہ کہا تھا کہ اگر ادب پڑھنا چاہتے ہو اور دور تک اس سے محظوظ ہونا چاہتے ہو تو ہر علم کو اپنے مطالعے میں شامل کر لو خواہ کہ وہ مبادیات ہی تک کیوں نہ محدود رہے۔ ان کی یہ بات مجھے خاصی پسند آئی تھی۔جس وقت انہوں نے مجھے یہ نیک مشورہ دیا تھااس وقت میری عمر تقریبا بیس برس تھی۔حالاں کہ اس وقت تک میں کلیات اقبال، مقالات مسعود، اشرف صبوحی، امتیاز علی تاج، عربی ادب کی تاریخ اور اردو اور فارسی ادب کی کئی ایک چھوٹی بڑی کتابیں پڑھ چکا تھا مگر میں نے ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے شعبہ زندگی سے متعلق مختلف طرح کے علوم کی کتابوں کو اپنے معمولات زندگی میں شامل کیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان میں سے بشریات اور تاریخ، سماجیات اور تصوف کی کتابوں سے مجھے دیگر کے بالمقابل زیادہ لطف ملنے لگا تو میں نے ادب کو ثانوی درجے پر رکھ کر انہیں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب تصوف کی الٹی سیدھی اور بے سر پیر کی باتوں سے اور ہندوستانی تاریخ میں میمنہ اور میسرہ کی بکواس سے دل اکتانے لگا تو پھر ادب کی طرف لوٹا لیکن اس بار میں نے ادب کی جو جو کتابیں پڑھیں ان میں مجھے ایک الگ ہی نوعیت کا حسن اور دلچسپی نظر آئی۔ مثلاً کلیات اقبال، مراثی میر انیس، قصائد ذوق، دیوان غالب و میر،دیوان درد سے لے کر جدید شعرا کے کلام تک، ترقی پسندی، مابعد جدیدیت اور نارنگ صاحب کے جلے ہوئے کاغذات تک، آواز دوست، لوح ایام، کئی چاند تھے سر آسماں اور قبض زماں سے ممنوعہ محبت کی کہانی تک ادب کی دنیا میرے لیے بہت مختلف ہو چکی تھی۔ میری دیگر کتب کے مطالعے نے مجھے اس فعل میں کیا کچھ عطا کیا اس کا ادراک مجھے کمال صاحب کے مشورے کے پانچ برس بعد ہوا جب میں نے ادب کو دوسرے دور میں پڑھنا شروع کیا۔لیکن یہ سوال میرے لیے اب بھی خاصہ اہمیت کا حامل رہا کہ میں ادب کیوں پڑھتا ہوں ؟
تاریخ پڑھتے وقت میرے ذہن میں ہمیشہ اس بات کا کہیں نہ کہیں احساس موجود رہا کہ اگر میں کسی بھی نوع کی تاریخ پڑھ رہا ہوں تو اس سے مجھے انسانی زندگی کے گزرے ہوئے حالات کا علم ہو رہا ہے۔ ایسا علم جو مجھے اپنی موجودہ اور آنے والی زندگی میں نئی تہذیب کا ادراک کرواتا ہے۔ یہ ایک نوع کا علم نافع ہے جس کو وقت کا زیاں نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے بالمقابل عصمت چغتائی کا ایک ناول یا منٹو کی ایک کہانی،عین المعارف کی ایک غزل اور آہنگ کی ایک نظم سوائے ذرا دیر کی تسکین کے یا اس حظ اور اضطراب کے کیا دے سکتی ہے جس سے میرا اور انسانیت کا کچھ بھلا نہیں ہوتا۔یہ ہی وجہ ہے کہ ادب کے مطالعے نے مجھے ہمیشہ سائنس کی اہمیت کا احساس دلایا۔ سائنس کی نئی نئی ایجادات اور معجزات سے میں ادب کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ متحیر ہوا ہوں۔ ابھی چند روز قبل کی بات ہے کہ میں نے Jet Packپر پون گھنٹے کی ایک ڈاکیو مینٹری دیکھی جس میں Nick Macomberکی کارستانیوں کو دیکھ کرمجھے انسانی عقل کے ارتقا کی حیرت انگیز مثال ملی۔ اسی طرح ہالی ووڈ کی ایک موویThe Walkدیکھ کر بھی میں متحیر ہواکہ انسان کس کس طرح سے اپنے وجود پر قابو پانے کے قابل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب جبکہ میرے محظوظ ہونے کا عمل ترقی کر کے چشم دید حالات تک پہنچ گیا ہے اور میں انسان کی عقلی معراج کے زندہ کرشموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو ایسے میں یہ سوال میرے لیے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ آخر میں ادب کیوں پڑھ رہا ہوں۔

اس سوال کا جواب ادھر میں نے خود کو کچھ یوں دینا شروع کیا ہے کہ ادب پڑھنا میرے لیے ایک قسم کے ذہنی ارتقا کا باعث رہا ہے۔ میں نے جب جب ادب کے مطالعے کو اپنے لیے غیر اہم تصور کیا ہے تب تب ادب نے کسی نہ کسی طرح مجھے اپنے سحر میں لینے کی کوئی نہ کوئی ادا وضع کر لی ہے۔ ادب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب خواہ ہم شعوری طور پر نہ دے سکیں مگر اس کو ہم اپنے لاشعور میں تحلیل ہوتے ہوئے انبساط سے تو حاصل کر ہی سکتے ہیں کیوں کہ جب تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ ادب آخر ہے کیا بلا تب تک ہم اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں اور کیوں پڑھ رہے ہیں۔ میں نے اس سوال پر غور کر کے اب تک کی زندگی میں یہ جانا ہے کہ ادب ایک ایسی غیر اصولی ترتیب جمالیات ہے جو ہمیں سوائے اپنے احساسات کے کہیں اور نظر نہیں آ سکتی۔ انسانی احساسات کی دنیا جتنی متنوع ہے ادب بھی اتنا ہی نوع بہ نوع ہے۔ جس طرح اشیاء کی خارجی حالت خواہ وہ باطن در باطن ہو اس کا تجزیہ اور ادراک سائنس ہے۔ اسی طرح انسانی احساسات کی باطنی حالت خواہ وہ ظاہر ترین ہو ادب ہے۔ میں نے ادب کو جب سے اس اصول کے تحت سمجھنا شروع کیا ہے اس کے مطالعے کا احساس جمال مجھ میں مزید بڑھا ہے۔ انسانی احساسات کو سمجھنا یہ کوئی کمال نہیں کہ اس کی قدرت تو انسانی جبلیت کا حصہ ہے۔ اپنے احساسات کا اظہار یہ کمال فن ہے۔ ادب کو میں نے جب جب اور جہاں جہاں سے پڑھا ہے اور پڑھ رہا ہوں۔ مجھے ہمیشہ حیرت ہوئی ہے کہ انسان نے دھیرے دھیرے اپنے خیالات کو کتنے دلچسپ انداز میں بیان کرنا سیکھا ہے۔ ادب کے مطالعے کا ایک فسوں مجھ پر اکثر یہ بھی کھلا ہے کہ یہ قدیم نہیں ہوتا۔کیا ہی عجیب بات ہے کہ سائنس کی کوئی بھی تھیوری یا تو ماضی ہوتی ہے یا حال۔ مثلاً متذکرہ بالا Jet Packکی ہی مثال لے لیجیے کہ جس حال میں وہ 1961 میں تھا اسی طرح آج بھی ہے 26 سیکنڈ کی اڑان میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن ادب کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ماضی اور حال کے بالمقابل مستقبل ہوتا ہے۔ چاسر یا شیکسپر کی کوئی عبارت ایسی ہو سکتی ہے کہ وہ سلمان رشدی سے بہتر نہ ہو،لیکن یہ ایک عجیب بات ہے کہ ادب میں اکثر اس صورت حال کی تقلیب نظر آتی ہے۔ غالب کی زیادہ تر شاعری راشد یا میراجی سے اچھی نہیں میں اس بات کو نہیں مان سکتا یا فیض اور فراق، جمال احسانی اور فرحت احساس سے بڑھے ہوئے نہیں اس کو بھی نہیں۔ ادب کا ایک فسوں یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں حال سے بہتر ہوتا ہے۔ اس کی ایک زندہ مثال یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو نیاز فتح پوری من جملہ کتب ادبیات کے بالمقابل دیوان مومن پر اکتفا کرنے کا مژدہ نہ سناتے۔

میں ادب کو اس لیے بھی دیگر تمام علوم کے بالمقابل زیادہ اہم سمجھتا ہوں یا اس سے تسکین حاصل کرتا ہوں کیوں کہ اس میں تفریق نہیں پائی جاتی۔ ادب انسان کو اصولوں کے باہر جینا سکھاتا ہے۔ ہمارے ادب کی صورت حال اس سے بظاہر خواہ کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو، لیکن یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ ادب ایک واحد ایسا متن ہے جس کو غیر اصولی طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ سماجی،سیاسی اور سائنسی علوم کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو ادب کی طرح پڑھا جا سکتا ہو۔ مثلا ً اگر ہمیں ریاضی کا علم حاصل کرنا ہے یا سیاسیات کا یا کمسٹری کا تو اولین صورت میں ہمیں اس کی مبادیات سے واقف ہونا پڑتا ہے۔ جب کہ ادب کی مبادیات خود انسان وجود اور اس کے احساسات ہیں۔ میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ ادب کا کوئی طالب علم خواہ وہ ٹالسٹائی سے اپنا سفر شروع کرے یا کافکا سے۔ چی خف کوپہلے پڑھے یا گوگول کو، غالب، کیٹس اور کالی داس کو اولیت دے یا حبیب جالب اور نزارقبانی کو پہنچتا ایک ہی جگہ ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ انسانی احساس جمال ترقی کرتا ہے اور انحطاط کا شکار بھی ہوتا ہے لیکن ادب میں اس کے دائرے دیگر علوم کے بالمقابل بالکل جدا ہیں۔ کب کسی شخص کو متبنی اور امروالقیس پسند آئیں اور کب ابھیشیک شکلا اس کا کوئی تعین نہیں ہے۔ ادب کی جمالیات کی کوئی قواعد نہیں۔ حالاں کہ جہاں مجھے اپنے تجربے سے ایک طرف یہ بات سمجھ میں آئی ہے وہیں دوسری طرف میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ انسانی علم کے ساتھ ساتھ اس کے احساس جمال میں بھی وسعت اور معیار پیدا ہوتا ہے۔ ابھی چند روز قبل کی بات ہے کہ میں اپنے ایک عزیز علی اکبر ناطق کی ایک نظم پڑھ رہا تھا کہ مجھے کئی ایک تاریخی واقعات یا د آ گئے اسی طرح جب میں راغب اختر کی ان نظموں کو پڑھتا ہوں جن میں اسلامی تلمحیات نظم ہوئی ہیں تو بھی کئی ایک واقعات کو ان سے جوڑ دیتا ہوں۔ صدف فاطمہ کی کہانی ذائقہ اور منٹو کی کہانی ٹھنڈا گوشت ان دونوں کے حالات اور واقعات کو تاریخی اور سیاسی حالات سے جوڑنے میں مجھے لمحہ بھر نہیں لگتا۔ اس کی ایک واضح مثال ظفر سید کا قائم کردہ وہ فیس بک ادبی فورم حاشیہ ہے جس پر مختلف شعرا کی مختلف نظموں کا احباب نے مختلف انداز سے جائزہ لیا اور اس کی تشریحات پیش کیں۔ ادب کا میرے نزدیک یہ ہی فائدہ ہے کہ وہ انسانی ذہن کے ارتقا کو کسی طے شدہ دائرے کے تحت ترقی نہیں بخشتا جس طرح دیگر علوم عطا کرتے ہیں بلکہ وہ انسانی فکر اور احساس جمال کو غیر اصولی طور پر بڑھاتا ہے۔

میرے ادب پڑھنے کی ایک بڑی وجہ جھوٹ اور سچ، لیاقت اور عدم لیاقت، شناخت اور عدم شناخت یا اوصاف کی دو طرفہ تقسیم کے قضائے بھی ہیں۔ادبی متن کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ تاریخ کی طرح فیصلے نہیں سناتا یا تہذیبی علوم کی مانند جھوٹ اور سچ کی دو الگ خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ یہاں کسی بھی لیاقت کا کوئی دخل نہیں اگر ہوتا تو ہم کبیر کو سر آنکھوں پر نہیں بٹھاتے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ادب صرف علم ہے تو یہ بھی سراسر غلط ہی محسوس ہوتا ہے کہ ادب کا جتنا تعلق لکھنے، پڑھنے سے ہے اتنا ہی بولنے اور سننے سے بھی ہے۔ ایک اچھا ادیب اور تخلیق کار ہمیشہ لکھنا اور پڑھنا جانتا ہویہ ضروری نہیں۔ اس کی بھی زندہ مثال قرآن ہے جو کہ عربی مبین میں ہے۔ ادب سےمیں نے انسانی اوصاف کی حمیدہ اور رذیلہ تقسیم کو مٹتا ہوا دیکھا ہے۔ جس کی جارہانہ تقسیم علم کلام میں نظر آتی ہے۔ اس کی مثال خلیل جبران کا ڈراما شیطان ہے جس میں ایک پادری اور شیطان کے مکالمے سے ادب کا حقیقی معیار واضح ہوتا ہے۔ میں نے ادب کو مختلف معیارات سے دنیا کے دیگر علوم جن سے میں اپنے محدود دائرہ علم میں اب تک واقف ہوا ہوں بہتر ہی جانا ہے۔ ابھی مزید جان رہا ہوں اور اس جاننے کے اس عمل سے ہی ادب کی مزید فہم بھی پیدا ہو گی جس کو زیر تحریر لانا میں نہایت ضروری سمجھتا ہوں۔ آخر میں اطہر فاروقی سے متعلق ایک دلچسپ واقعے کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ ایک صاحب کے تعلق سے جب میں ان سے گفتگو کر رہا تھا جو بقول خود ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے گزشتہ بیس برس سے روز آنہ پندرہ گھنٹے ادبی متن کا مطالعہ کرتے ہیں اور آئے دن تنقید کی کوئی نہ کوئی کتاب سامنے لاتے رہتے ہیں تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ اگر وہ تنقید کو ادب سمجھتے ہوئے پندرہ گھنٹے ادب کے بجائے علم معالجہ کو وقت دیتے تو بے شک کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتے۔ مجھے اظہر فاروقی سے صد فی صد اتفاق ہے کہ تنقید ہی ادب کی ایک ایسی شاخ ہے جس پر سائنس کیا انسانی علوم کے کسی بھی شعبے کو ہزار گنا ترجیح دی جاسکتی ہے۔

Image: Jeanie Tomanek

Categories
نان فکشن

عجیب الخلقت

کسی کے متعلق کچھ لکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے پوری طرح جانا جائے، لکھنے کے لیے تو بس ذرا سی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اور قلم خود بہ خود چلنے لگتا ہے۔ میں کئی روز سے اپنے ایک دوست یا یوں کہیے کہ دوست نما شخص کو بغور دیکھ رہا ہوں،اس لیے نہیں کہ ان کو دیکھنے سے مجھے کسی طرح کی کوئی خوشی نصیب ہو رہی ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کے عادات و اطوار مجھے کاغذ اور قلم کی طرف مستقل دھکیل رہے ہیں۔ میں حالاں کہ ان پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا ہوں،کیوں کہ ابھی نئے نئے تعلقات ہیں اور اتنی زیادہ بے تکلفی بھی نہیں کہ ان سے کوئی بہت گہرا مذاق کا رشتہ استوار ہو گیا ہو۔ پھر بھی کیا کیا جائے کہ ان کی ذات کے عجیب و غریب حالات مجھے پریشان کئے دے رہے ہیں۔ میری اور ان کی ملاقات کو ابھی صرف چند روز ہی گزرے ہیں اور وہ بھی ایک حادثاتی نوعیت کی ملاقات ہے کہ جناب ایک نازنین کے ہاتھوں تازہ تازہ قتل ہو کر دوستوں کے ساتھ کے لیے پریشان ہیں اس لیے میرا کندھا کبھی کبھی مستعار لے لیتے ہیں۔ عشق کی تفصیل میں نہیں جاوں گا کہ بہت سے احباب و شناسا اس سے واقف ہیں، صرف ان کا ذکر خیر کچھ یوں کرنا مناسب ہے کہ موصوف بلا کےمزیدار انسان ہیں۔ حالاں کہ ہر وقت پریشان رہتے ہیں، نہ دن میں کھانے کا ہوش ہے،نہ رات کو سونے کا، کوئی ایسی اچھی عادتیں بھی نہیں کہ کسی کو انہیں دیکھ کر بہت کچھ سیکھنے کا حوصلہ ملے، اردو ادب کے طالب علم ہیں اور اس کا بھی مطالعہ فکشن کو چھوڑ کر چہار جانب مشکوک ہے۔

یہ تو ان کے ظاہری کوائف ہیں، مگر جو لوگ ان کو ذرا دنوں سے جانتے ہیں وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ کسی بھی صلاحیت کے نا ہونے کے باوجود انسان کس طرح دلچسپ ہو سکتا ہے۔ صلاحیتوں سے میری مراد تخلیقی صلاحیت نہیں ہے کیوں کہ آں جناب کے بقول وہ افسانہ نگار ہیں اور یہ بات خود میں بھی جانتا ہوں کہ ان کے چند ایک افسانے اردو کے مختلف ادبی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں،میرے نزدیک صلاحیت سے تو انسان کی پوری شخصیت مراد ہوتی ہے۔جس میں اس کے ہاو،بھاو سے لے کر اس کا سراپا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا، پھرنا، ہنسنا، بولنا اور جملہ بشریاتی حرکات و سکنات کا شمار ہوتا ہے۔ آں جناب کو اس تناظر میں میں گزشتہ کئی روز سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عشق کا جو تذکرہ میں نے اوپر کیا اس کے حوالے سے اتنا کہنا تو جائز ہے کہ اس کم بخت جذبہ پر شوق میں بری ناکامی کے بات آدمی بے انتہا عجیب الخلقت ہو جاتا ہے اور اگر حضرت کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہے تو وہ اتنا غیر منطقی بھی نہیں کہ علامہ تو پہلے ہی سے اتنے عجیب الخلقت تھے کے نو عمر خواتین اور بچے انہیں کسی طور انسان کی اولاد ماننے کو ہی تیار نہ ہوتے تھے۔ ماں، باپ اگر مار کوٹ کر اپنے تجربات کی بنیاد پر انہیں یہ باور کرا دیں تو کرادیں کہ انسان ایسے بھی ہوا کرتے ہیں تو اور بات ہے۔مگر بچوں کو کسی طور یقین نہ آتا تھا۔ بزرگوں کا معاملہ اس امر میں ذرا مختلف تھا کہ وہ ایسے ہی کسی شخص کو انسان ماننے پر مصر رہتے ہیں جو بلا کا بے ضرر ہو۔

بہر کیف قبلہ سے پہلی ملاقات مجھے اچھی طرح یاد ہے، حضرت مجھ سے بڑے تکلفات سے ملے تھے، علیک سلیک کے بعد میں نے ان سے کافی دیر تک تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا، دیکھنے میں تو نہیں لگے تھے مگر انسان ذہین نکلے اور جلد بھانپ گئے، جلد مجھے اس بات کی اطلاع دے دی کہ میں آپ کے متعلق کافی کچھ جانتا ہوں، لہذا یہ پینترا مجھ پر نہ آزمائیں۔ اس ملاقات کے بعد مجھے لگا کہ انسان خواہ مسکین صورت اور نہ تراشیدہ صفات ہےمگر عقل رکھتا ہے۔ اگلی دو ایک ملاقاتوں میں انہوں نے مزید اپنے اسی امر کا ثبوت دیا۔ سحر اس وقت ٹوٹا جب حضر ت ایک نشست میں کسی بات پر ذرا کھل کھلا کر ہنسے۔ میں تو آج بھی اس ہنسی کو یاد کرتا ہوں تو رواں رواں لرز اٹھتا ہے کہ علامہ ہنسے کیا تھے خود کو ایک مصیبت میں گرفتار کر بیٹھے تھے۔ ہنسنے کی حالت چونکہ زمین پر کھڑے کھڑے طاری ہوئی تھی لہذا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب گرے اور تب گرے۔اس وقت تو میں بہت حیران ہوا کہ اللہ رحم یہ بھی کوئی ہنسی ہے، مگر مزید دو چار ملاقاتوں میں اس بات کا علم ہو گیا کہ حضرت خواہ ہنستے وقت خود پر سے مکمل اختیار کھو بیٹھیں، مگر گرنے کی سعی ہمیشہ ناکام ہی رہتی ہے، در اصل اس ارتعاش مسلسل میں کچھ ان کا بھی قصور نہیں کہ بدن میں سوائے رگوں کے بے ترتیب جال کے خدا نے کچھ رکھا ہی نہیں ہے،جس کے باعث اوپر کا بدن ہنستے وقت الجھی ہوئی ڈور کے گچھے کی طرح نیچے کی طرف گرنے لگتا ہے، چونکہ ٹانگوں کی جگہ دو عدستلی نما ہڈیاں موجود ہیں اس لیے حضرت زمین پہ بکھر نے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ایک آدہ مرتبہ تو میں نے بڑھ کر سہارا بھی دینے کی کوشش کی مگر جب تک میں سہارا دوں دوں حضرت عالم خندہ شوری سے پھر اسی جذبی حالت پر لوٹ چکے ہوتے ہیں جس میں انہیں استقال ہے۔ وہ طبعیتاً ذرا کم گو واقع ہوئے ہیں،ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جن مستند ذرائع سے مجھے ان کے حوالے سے معلوم ہوا تھا اس کے پیش نظر یہ ہی رائے بنتی ہے، مگر میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ علامہ کم گو صرف مجمع عام اور مردوں کے بیچ ہی واقع ہوئے ہیں، جوان اور خوبصورت لڑکیوں کے درمیان تو ان کی چیچاہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ میں جب کبھی اکیلا ان کے ساتھ ہوتا ہوں تو اس بات پر یقین ہی نہیں کر پاتا کہ یہ وہ ہی شخص ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ تو شعر شور انگیز معلوم ہوتا ہے اور اکیلے میں آتے ہی میر کے ان زخم خردہ بہتر نشتروں کی مانند نظر آنے لگتا ہے جن پر کبھی بہارکے آنے کا گمان ہی نہیں بنا۔بہت ہوا تو بات کا جواب ہوں، ہاں میں دے دیا اور پھر وہ ہی قبرستان سی خاموشی۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ منہ میں زبان ہی نہیں ہے، صرف ماتھے پر آنکھیں چپکی ہیں جن سے ہر سوال کا جواب حاصل کیا جا سکتا۔ ان کی ہئیت کا من جملہ بیان تو نا ممکن ہے اور اس عہد میں اس کی کچھ خاص ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کہ تصویر اتروانے کا فن بہت ترقی کر گیا ہے۔ پھر بھی اگر ان کی ذات کو جملوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو کچھ یوں ہی بنتا ہے کہ ایک اکھڑی اکھڑی صورت، جس پر زمانے بھر کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا بوجھ۔ اکہرا بدن اور اتنا اکہرا کہ اکہریت بھی اپنی معنیاتی ترسیل میں اس سے منکر ہو جائے کہ اس کو اکہرا نہیں کہا جا سکتا۔ذرا کچھ دودھ ملائی کھائے تب کہیں جا کر اکہرا ہو۔ الجھے الجھے بال اور اس پر غضب کی بے چارگی۔ سر میں ایک ایک ہاتھ تیل کھڑا کر کے بالوں کی دو طرفہ جڑوں کو اس میں گلے گلے تک ڈبو کر اس طرح دور سے آتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی چال پر آدھے سارس اور آدھے شتر مرغ کا گمان ہوتا ہے۔ پیچھے سے دیکھو تو بالائی بدن گردن سمیت نیچے کی دنیا سے بے خبر معلوم ہوتا ہے۔ ٹانگیں پتلی اور لمبی، کمر اردو غزل کے معشوق کی مانند، بازو اور سینہ کمزوری کے سبب کمان کی طرح آدھے گول اورکناروں پر سے آگے کی جانب نکلے ہوئے اور پاوں کے پنجے ایسے کہ مور بے مایہ بھی شرما جائے۔میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ قبلہ اس جہان فانی میں آپ اپنی شکل کے تنہا ہیں۔ اس پر وہ مسکرا کر شرما سے جاتے ہیں، کیا پتہ ان تک میرے حقیقی جذبہ اظہار کی ترسیل ہوتی ہے یا نہیں، لیکن میرے دو ایک دیگر احباب جوہم دونوں کے مشرکہ دوست ہیں ان کو اس جملے کی زیریں ساخت کا علم بخوبی ہو جاتا ہے۔ ویسے تو اللہ کی بنائی ہر صورت موہنی مورت ہے،لیکن خدا کی پناہ کہ وقنا ربنا عذاب النار بھی تو کوئی چیز ہے۔اگر ایسی خناس صفت اشیا اس دنیا میں نہ ہوتیں تو کسی کو اس کے قہار ہونے پر کیوں کر یقین آتا اور یہ کیا کوئی کم بڑی بات ہے کہ ایک انسان میں کئی ایک چرند، پرند ایک ساتھ جمع ہو جائیں، جس کا تصور بھی باندھنا پکاسو و مانی جیسےتخلیق کاروں کی قدرت صنعائی سےبعید ہو۔ اس میں بھی ایک طرح کا حسن ہی مضمر ے کہ ماتھا بن مانس کا، آنکھیں مرغی کی، گال چمگادڑ کے اور ناک طوطے کی، کانوں کی بناوٹ ہاتھی جیسی مگر اس سےکچھ چھوٹے اور بال اس ڈری ہوئی سیائی کے مانند جس نے عالم خوف میں اپنے کانٹے پھیلا دیے ہوں۔ چہرے کی ہئیت نہ دبی ہوئی نہ لمبی نا گول نہ کھڑی نہ مربع نہ مستطیل نہ مثلث نہ چاندہ نہ پرکار نہ ڈوائڈر ایک بالکل ہی نئی طرح کا زاویہ تھا،جسے فیثا غورث اگر دیکھ لیتے تو ان کی دریافت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔

ان کی کچھ باتیں تو ایسی تھیں کہ اگر مجھے کوئی سوتے سے اٹھا کر پوچھ لیتا کہ یہ اوصاف کس میں پائے جاتے ہیں تو میں اسی عالم استغراق میں ان کا نام نامی پکار اٹھتا۔ مثلا ً کبھی اگر کوئی ایسی بات کہتے جس پر وہ آپ کا اتفاق چاہتے ہوں، یا داد وصول کرنے کے خواہاں ہوں یا پھر تصدیق ہی چاہ رہے ہوں تو جملہ مکمل کر کے اپنی ریڑھ کی ہڈی کو آخری حد تک گول کر کے آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں گے اور اپنی گردن اس طرح سے ہلکے ہلکے گھمائیں گے جیسے گویا ان کے سر پر کسی نے منوں وزنی پتھر رکھ دیا ہو۔اس پر مستزاد یہ کہ آنکھوں پر جوایک عددعینک نہایت موڑے گلاسوں کے ساتھ چڑھی ہوتی ہے وہ اس گردش بےہنگم کی وجہ سے کھسک کر ناک پر اتر آتی۔ اس وقت ایک عجیب مضحکہ انگیز صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ آں جناب کی بات کی تصدیق کرو، داد دو یاصورت حال سے محظوظ ہوتے رہو۔ میں تو اس امر کو بھی اپنی ایک عزیز کے بتلانے پر ہی جان پایا کہ جس موقع پر حضرت اپنے مخصوص انداز میں آ پ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں اور اپنی گردن کو اس جلالی مرغے کی مانند ہلائیں جو ابھی میدان جنگ میں اترا ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ سے اپنے جملے کی دا د چاہ رہے ہیں۔

میں ان کو بعض اوقات گھنٹوں گھورتا رہتا ہوں۔ جس کے رد عمل میں وہ بھی مجھے گھورنے لگتے ہیں۔ جب ذرا دیر ہو جاتی ہے تو میں ان کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود اپنی آنکھیں ایک آدھا منٹ کے لیے ادھر ادھر ہٹا لیتا ہوں، مگر شوق نظر ہے کہ پھر جلد ہی اسی راہ پر لگا دیتا ہے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ میں اسی عالم حیرانی میں انہیں تک رہا تھا جس میں اکثر تکا کرتا تھا کہ مجھ سے استفسار کر بیٹھے کہ کیا گھور رہے ہو۔ میں نے دبے ہوئے لہجے میں کہا کہ آپ میں گھورنے جیسا تو بہت کچھ ہے مگر فی الحال آپ کے افکار کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر دنوں دنوں خاموش رہ کر آپ سوچتے کیا ہیں۔ کہنے لگے تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں نے کہا کہ ایک اچھا افسانہ نگار اس کے علاوہ اور کیا سوچ سکتا ہے کہ تخلیق کے نئے پیرائے کیا ہو سکتے ہیں، نئے کردار کیوں کر وضع ہوں اور کہانی کے جدید سوتوں کا سراغ کیسے ہاتھ آئے۔ کہنے لگے غلط میں ہمہ وقت ان سب بیکار کی باتوں میں ڈوبنے کو فضول جانتا ہوں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر کیا سوچتے ہیں۔ کہنے لگے سوچ رہا ہوں بریلی جا کر کارچوبی کا کام سیکھ لوں تاکہ اگر کوئی کام نہ ملے تو اپنا اڈا لگا کر آرای کا کار خانہ ہی کھول لو۔ میں نے لاحول پڑھی کہ اس میں اتنا غور کرنے کا کیا ہے، حد ہے کہ اگر آری، زردوزی ہی کرنی تھی تو اردو سے ایم۔اے کیوں کیا۔ کہنے لگے پہلے تو یہ ہی لگتا تھا کہ اردو سے ایم۔اے کر کے نوکری مل جائے گی، مگر اب میں کچھ امید نہیں رکھتا، کیوں کہ اردو میں اب صلاحیت کو تسلیم کرنے والے اور سراہنے والے ختم ہوتے چلے جارہے ہیں۔میں نے کہا کہ ایسا بھی کوئی قحط نہیں ہے آپ اپنی پڑھائی جاری رکھئیے اور اللہ کی رحمت سے پر امید رہیے۔ابھی میں انہیں دلاسا ہی دے رہا تھا کہ اچانک زور سے چھینک دئیے او ر چھینک کے ساتھ منہ سے رال کی ایک لکیر بہہ کر ان کی داڑھی پر لٹکنے لگی۔ میں نے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا اورچپ چاپ وہاں سے اٹھ گیا۔ شام کو دوبارہ ان کی طرف گیا تو دیکھا اسی عالم میں بیٹھے ہیں اور خلا میں گھورے جارہے ہیں۔ صبح کی رال داڑھی پر لٹکے لٹکے سوکھ چکی تھی اور اس درمیان میں ان کے بدن سے جتنا پسینا نکلا تھا اس سے کمرے کی فضا معطر ہو رہی تھی۔

نہانے کا انہیں ذرا شوق نہ تھا۔ میں نے آخری بار نہانے کی تاریخ معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کو گزرے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ بدن پر میل کی کئی پرتیں جمع ہو گئیں تھی جس کی وجہ سے صحت نکل آئی تھی۔ بدن پر جگہ جگہ جالے لگے تھے، اور ہاتھ پاوں کا یہ عالم تھا کہ

دیوار و در پہ بن گئیں شکلیں عجیب سی
کچھ راز تھے جو آپ اگلتے رہے مکاں

پسینہ روز اتنی مقدار میں لباس میں جذب ہوتا تھا کہ پیرہن کاغذی ہو چلا تھا۔ بد بو تو اب دور کی خبر ہو گئی تھی، عالم یہ ہو چلاتھا کہ کومہ کے مریض کو اگر ان کے حجرئے مبارک سے آٹھ میل دور لٹا دو تو وہ قے کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہو۔ مرگی کے مریض تو بس خبر سن کر ہی ٹھیک ہوجایا کرتے تھے۔ ان کے پسینے کی مہک اتنی کھٹی اور زہر آلودہ تھی کہ جہنم کا آخری درجہ یاد آجاتا تھا۔ میں نے ایک روز بالاصرار ان سے نہانے کا عزم لے لیا کہ محلے کے بچے طاعون کا شکار ہو رہے تھے اور علاقے کے قبرستان کی زمین مہنگی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ یہ خبر سن کر غسل خانے تک گئے اور یہ کہہ کر الٹے پاوں واپس آگئے کہ موسم سرمہ چل رہا ہے مئی تک رک جاو کہ ذرا دھوپ نکلے تو نہانہ ٹھیک لگے۔

کاہل بھی بہت اعلی درجے کے ہیں۔ جگر کے تعلق سے سنا ہے کہ دار الکہلا کے صدر تھے، اگر یہ صاحب جگر کے معاصر ہوتے تو مجھے یقین ہے کے جگر صاحب بخوشی اپنی نشست خالی کرنے میں لمحہ ضائع نہ کرتے۔ مجھے اس بات کا علم ان کے روز مرہ کے معمولات سے ہوا ہے۔ مثلا ً صبح صادق سے شام تک اورشام سے رات دیر تک ان کا معمول یہ کہ رات بھر جگ کے آرام کرتے ہیں اور صبح میں چھ بجے سونے لیٹتے ہیں، شام کو چار بجے نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور دوسرے دن صبح تک بستر پہ پڑے پڑے اس بات کا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ جب سے وہ حادثا ہوا ہے نیند تو جیسے آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ میں نے ایک روز مشورہ دیا کہ آپ شام کوحجرے سے باہر نکل آیا کریں اور دیر تک سیر و تفریح میں رہیں۔بدن خود اتنا تھک جائے گا کہ بستر پر پیٹھ لگاتے ہی نیند آ جائے گی۔ میری تجویز سے خوش ہوئے اور اگلے روز سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ بھی کیا، مگر تین روز تک نہ چائے خانے پر نظر آئے نہ سیر کے میدان میں۔ میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ حجرے سے باہر نکلنے کی کوشش میں بخار نے آ گھیرا ہے، میں عیادت کو گیا تو کہنے لگے کہ یہ سب تمہارا قصور ہے نہ تم تبدیلی ہوا کا مشورہ دیتے اور نہ میں بیمار پڑتا۔ میں نے حیران ہو کر کہا کہ کیا کمرے سے باہر قدم رکھنے کو تبدیل ہوا کا عمل کہتے ہیں۔ اس پر مزید بپھر کے کہنے لگے ڈاکٹر تو یہ ہی کہتا ہے کہ پچھلے کئی روز سے اس کمرے میں بند رہنے سے باہر کی آب و ہوا آپ کے لیے اجنبی ہو چلی ہے۔ لہذا اگر اب کی باہر جانے کا ارادہ ہو تو پہلے چھتری اور گرم کپڑوں کا انتظام کر لیجیے گا، کیوں کہ اند ر پڑے پڑے آپ نے کمرے کا درجے حرارت اتنا گرا دیا ہے کہ باہر جاتے ہی ٹھنڈ لگنے کا خدشہ ہے۔

اس روز سے میں انہیں کسی بھی طرح کا کوئی مشورہ دینے سے پہلے سو مرتبہ غور کرتا ہوں۔ان کی شخصیت باغ و بہار کی ضد اور چہار درویش کا مرکب ہے۔میرے تعلقات ابھی ان سے نئے ہیں مگر میں کوشش کر رہا ہوں کہ ان کی حالت میں سدھار پیدا ہو۔ اگر مئی تک یہ رشتہ بنا رہا تو اس کے دور تک چلنے کے امکان ہیں۔

Categories
نان فکشن

ذہن جدید والے زبیر رضوی

میں نے اپنے آپ کو اس وقت بہت بے بس محسوس کیا، جب میں زبیر صاحب کے سامنے بیٹھا ان کی عجیب و غریب باتیں سن رہا تھا۔ یہ عجیب و غریب منفی معنی میں نہیں، بلکہ سراسر مثبت ہے۔ وہ ایک شام کا واقعہ تھا کہ میں اتفاق سے اکیلا ہی ان کے پاس کسی کتاب کے سلسلے میں پہنچ گیا تھا، انہوں نے ہمیشہ کی طرح بڑی محبت اور خلوص سے مجھے خوش آمدید کیا اور اپنے باہری کمرے میں جہاں نہ جانے کتنے مختلف النوع موضوعات پر کتابیں کچھ مرتب اور کچھ غیر مرتب انداز میں رکھی ہوئی تھیں بٹھایا۔ میں نے یہ بات اکثر محسوس کی تھی کہ زبیر صاحب اپنے مہمانوں کو خود پانی اور چائے سرو کرتے ہیں، اس لیے میں جب کبھی ان کے یہاں جاتا تھاتوان کے اس عمل سے ذرا سی بے چینی محسوس کرتا تھا کہ وہ ہاتھ میں پانی سے سجی ٹرے لیے چلے آرہے ہیں، اس لمحے میں میں بے چین ہو کر اٹھ کھڑا ہوتا اور وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر مجھے بیٹھنے کو کہتے۔ زبیر رضوی میرے نزدیک ایک معمہ رہے۔ میں ان کو اکثر دیکھتا تھا کہ وہ کس طرح ذہن جدید کے لیے تگ و دو کرتے ہیں، کتنی مشقتوں سے پرچہ تیار کرتے ہیں اور کتنے جتن سے اسے چھپوا کر اپنے قارئین تک پہنچواتے ہیں۔ ایک سچا تخلیق کار جس نے دنیا جہان کی اچھی اور اچھی سے اچھی نظمیں کہیں ہوں، جس کا مطالعہ مختلف میدانوں میں اتنا وسیع رہا ہو، جس نے گردش پا جیسی معرکہ آرا کتاب تخلیق کی ہو، وہ ایک پرچے کے لیے اتنی بھاگم دوڑ کیسے کر سکتا ہے۔ کیا اردو میں پرچہ نکالنے والا ہر مدیر اتنی ہی پریشانیا ں جھیلتا ہے، کیا وہ اتنے ہی مصائب کا سامنا کرتا ہے اور اگر کرتا بھی ہے تو کیا ان میں سے کوئی زبیر رضوی بھی ہے۔

اپنےوالد یا غالبا چھوٹے چچا سے میں نے زبیر صاحب کی جوانی کے دو ایک واقعات سنے تھے، ان کی شراب نوشی کے۔اس وقت تک میں نے زبیر صاحب کو ٹھیک سے دیکھا تک نہیں تھا۔ لہذا میرے ذہن میں ان کے تعلق سے ایک بے وقعت انسان کی شبیہ پائی جاتی تھی، میں چونکہ بچپن سے چند ایک اردو ادیبوں کے عجیب وغریب واقعات سنتا آیا ہوں اور وہ بھی منفی عجیب و غریب اس لیے انہیں اصل میں جاننے سے پہلے تک بے وقعت محض ہی تصور کرتا رہا، مثلا ً ندا فاضلی، قمر رئیس، خلیق انجم، رشید حسن خاں،فکر تونسوی، رفعت سروش اور اسی قسم کے دو چار اور ادیب۔ انہیں میں ایک نام زبیر صاحب کا بھی ہے، چونکہ ان تمام لوگوں سے میرے والد اور دونوں چچاوں کے پرانے اور دوستانہ تعلقات تھے اس لیے جس بے تکلفی سے ان حضرات کا ہمارے گھر میں ذکر ہوتا تھا اس کے باعث میں انہیں بالکل ناکارہ سمجھنے لگاتھا۔

پہلی مرتبہ میں نے زبیر صاحب کو ٹھیک سے اور غور سے 2012 میں دیکھا جب ہم ان کے پڑوس میں آباد ہوئے۔ایک روز جب میں اپنی نوکری کی تلاش میں گھر سے نکل رہا تھا تو زبیر صاحب ہمارے گھر میں داخل ہو رہے تھے، انہیں دیکھ کر میں کچھ دیر کے لیے رک گیا۔ وہ اس وقت والد صاحب سے ملنے آئے تھے، میں ان کو دیکھ کر اندر گیا اور امی سے یہ کنفرمیشن لیا کہ یہ زبیر صاحب ہیں، امی نے حامی بھری تو دوبارہ باہر والے کمرے میں آ کر انہیں دیکھنے لگا، اس وقت وہ ابا کے ساتھ بیٹھے گفتگو کر رہے تھے اور مجھے نہ جانے کیوں اس بات پر خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ میں نے آج پہلی بار زبیر صاحب کو ٹھیک سے دیکھ لیا۔ ابا سے ان کی بے تکلفی پر مجھے کچھ حیرت نہ تھی، بس یہ سوچ سوچ کر ایک مسکراہٹ بار بار میرے ہونٹوں پر بکھر جاتی تھی کہ ذہن جدید کا مدیر ہمارے گھر میں بیٹھا ہے۔ میرے سامنے، میرے ابا کے ساتھ۔ اس کے بعد تو زبیر صاحب چار پانچ مرتبہ ہمارے گھر آئے اور ان سے کچھ کچھ میری بھی رسم و راہ ہونے لگی۔ وہ بہت کم بولتے تھے، آہستگی جیسے ان کے مزاج کا حصہ ہو۔ میرے باپ اور چچا نے خواہ انہیں کبھی چیختے پکارتے یا جلال کے عالم میں دیکھا ہو، لیکن میں نے جب جب انہیں دیکھا مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ زندگی کے تمام اضطرابات کو زبیر صاحب کی تسکین نے زندہ نگل لیا ہے۔ ان کے چہرے پر بلا کی متانت تھی، کبھی کبھی کچھ سوچتے اور گفتگو کے دوران خاموش ہوتے تو متانت کے اثرات مزید گہرے ہو جاتے۔ جتنے لوگوں سے زبیر صاحب کے ملاقاتیں رہیں ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ زبیر صاحب اپنی بات کہنے میں ذرا بھی ہچکچاتے یا جھجھکتے نہیں تھے۔ بے تکلفی سے اپنی بات کہتے تھے، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہو۔ ان کی باتوں میں سنجیدگی رچی ہوتی اور ساتھ ہی لطیف مزاح بھی، جس کو وہ ہر کسی پر آشکار نہیں کرتے تھے۔ زبیر صاحب کا تصور ادب، اردو کے سنجیدہ ادیبوں سے خاصہ مختلف تھا۔ کبھی کبھی جب وہ کسی ادبی، علمی موضوع پر بات کرتے یا زندگی کی الجھی ہوئی سچائیوں پر بولتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں، ان کے اندر ایک قسم کا ابال تھا جس سے وہ ذرا سے مایوس نظر آتے تھے، اپنے اظہار میں وہ بعض اوقات وقت سے بہت آگے نکل جاتے تھے اور اپنی تہذیب اور معاشرت سے نالاں ہو کر سنجیدہ اور ساکن جھڑکیوں کا سہارا لینے لگتے تھے۔

زبیر صاحب کو عمریں بڑی کھلا کرتی تھیں وہ کسی بھی بات کے اظہار میں عمروں کا عمل دخل بے کار سمجھتے تھے، ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ ہم لوگ جس وقت لکھنا سیکھ رہے تھے اس وقت دنیا مختلف تھی، لیکن آج کا سیکھنے کا عمل اس سے یکسر تبدیل ہو چکا ہے، پھر کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دو چار ہندی کے ادیبوں کا نام لے کر پوچھنے لگے کے کیا آپ ہندی پڑھتے ہیں، میں نےانکار کیا تو برا سا منہ بنا کر پہلو بدلا اور ہنسنے لگے۔ میں اپنی کم علمی کے باعث زبیر صاحب سے کم ہی ملتا تھا، اس لیے نہیں کہ ان سے مل کر کسی طرح کی الجھن یا پریشانی کا احساس ہوتا ہو، بلکہ اس لیے کیوں کہ ان کا میدان علم و عمل اتنا وسیع تھا کہ ان کا شریک گفتگو ہونا ناممکن ہو جاتا تھا۔ پھر وہ ایسے مزاج کے شخص بھی نہیں تھے کہ اپنے سے نہایت چھوٹوں سے بھی پند و نصائح کی باتیں کرتے رہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے مجھے کبھی کسی کتاب کو پڑھنے کا مشورہ دیا ہو، وہ کبھی اس طرح سے پیش ہی نہیں آتے تھے کہ ان کے بزرگ ہونے کا خیال دل میں گھر کر جائے۔ ایک روز اچانک جنسیات پر گفتگو کرنے لگے، اورمسلم معاشرے میں جنسی خوف پر بے تکان بولتے رہے۔ اسی دوران ان کی ایک نواسی جو غالبا چار، پانچ برس کی رہی ہو گی کھیلتی کودتی باہری کمرے میں آ گئی تو اس کی طرف دیکھ کر مجھ سے کہنے لگے۔ آپ ذرا غور کیجیے کہ ہم اپنے بچوں کو جنسی اعضا کے تعلق سے بتاتے ہوئے بھی اتنا خوف زدہ رہتے ہیں کہ شعوری عمر تک ان کا خیال جنسی اعضا کی جانب سے ہٹاتے رہتے ہیں، مگر میں اس کا ذرا بھی قائل نہیں، پھر اس بچی کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ اگر کبھی میرے پاس آکر اپنے مخصوص مقام کی جانب اشارہ کر کے مجھ سے پوچھتی ہے کہ نانا یہ کیا ہے تو میں اسے بتاتا ہوں کہ یہ کیا ہے۔ جب انہوں نے اپنی بات ختم کی تو میں کچھ دیر تک ان سے نظریں نہیں ملا سکا، مجھے ایک قسم کی جھجھک محسوس ہو رہی تھی، مگر زبیر صاحب اس وقت بھی بالکل پر سکون تھے، وہ اکثر مجھ سے کہا کرتے تھے کہ اردو زبان میں Virginکے لیے اتنا پیارہ لفظ ہے باکرہ،لیکن اس کا استعمال کرتے ہوئے مسلم گھرانوں کی تہذیب یافتہ عورتوں اور مردوں کی کان کی لوئیں گرم ہو جاتی ہیں۔میں ایسی باتوں میں زبیر صاحب کا کچھ خاص ساتھ نہیں دے پاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ بولتے بولتے خود گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیتے تھے۔

میں نے ہمیشہ زبیر صاحب کے اندر ایک متحرک ادیب، ایک علم دوست انسان اور ایک نہایت سلجھا ہوا شخص دیکھا۔ ان کی گفتگو بتاتی تھی کہ وہ اپنے موضوعات کے حوالے سے کتنا زیادہ غور کر چکے ہیں اور اس غور و فکر کی بنیاد پر انہوں نے ایک موقف قائم کر لیا ہے۔ میں نے انہیں کبھی ہنگامی حالات میں زور و شور کی گفتگو کرتے نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں تکلفات میں گھرا پایا۔ اکثر وہ ذاکرنگر کی گلیوں میں نائٹ ڈریس پہنے سڑکوں پر ٹہلتے نظر آ جاتے تھے، کبھی راستے پر ملاقات ہو جاتی تو واجبی بات کر کے آگے بڑھ جاتے۔ ایک روز میں اے ٹی ایم کی لائن میں کھڑا اپنی باری کے آنے کا منتظر تھا کہ اچانک مجھے پیچھے جانی پہچانی آواز سنائی دی، میں نے مڑ کر دیکھا تو زبیر صاحب کسی سے محو گفتگو تھے، میں اسی وقت قطار سے ہٹنے لگا تو انہوں نے میرا کندھا پکڑ لیا، بات کر چکے تو میں نےکہا کہ انکل آپ آگے آجائیں، مگر انہوں نے مسکرا کر انکار کر دیا اور حال احوال طلب کرنے لگے۔ زبیر صاحب کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی، جو عام طور پر اردو کے ادیبوں میں مفقود ہوتی ہے۔ وہ اپنی تمام تر مشقتوں اور محنتوں کے بعد بھی ابتر یا ہراساں نظر نہیں آتے تھے، بلکہ ان کو ہر بار دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ اردو کے مکمل ادیب کو اگر کسی طرح ہونا چاہیے تو زبیر رضوی کی طرح۔ میں نے جتنے ہی ادیبوں کو اپنی اب تک کی زندگی میں دیکھا ہے، پھرخواہ ان میں علی امام نقوی ہوں یا ندا فاضلی، شمس الرحمان فارقی ہوں یا باقر مہندی، سید محمد اشرف ہوں یا شمیم حنفی،شجاع خاور ہوں یا سلام بن رزاق ہر کسی میں کوئی نہ کوئی کجی نظر آئی ہے۔ بحیثیت ادیب زبیر صاحب مجھے ہمیشہ مکمل معلوم ہوئے۔ کردار، گفتار، فہم وفراست، بے تکلفی، سنجیدگی، علم اور حلم اور اخلاق اور بے باکی میں زبیر صاحب عدیم المثال تھے۔ نئے لوگوں سے ان کی وابستگی دوسروں کے مقابلے کم تھی، لیکن پھر بھی جو لوگ اچھا لکھتے تھے انہیں زبیر صاحب ہمیشہ تذکرے میں رکھتے تھے۔ گردش پا میں انہوں نے بعض باتیں ایسی لکھیں ہیں جس سے ان کی شخصیت کے وہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں جس کا تذکرہ کرنا بھی ہمارے ادیب اپنی بے عزتی اور کسر شان تصور کریں گے، مگر زبیر صاحب ہر بات کو پوری صداقت سے بیان کر گیے ہیں اور یہ ہی ان کی ذات کا سب سے اہم پہلو ہے۔ مجھے زبیر صاحب کے معاصرین کا ان کے ساتھ رویہ کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا تھا، میں نے دو ایک مرتبہ اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے معاصرین ان سے کچھ خفا معلوم ہوتے ہیں۔ وہ خفگی کس بات پر تھی اس کا مجھے ذرا بھی علم نہیں، لیکن ایک روز جب میں غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے زبیر رضوی، کشور ناہید، ندا فاضلی، فیاض رفعت اور مولانا یعقوب کے ہمراہ بیٹھا تھا تو ندا فاضلی نے کسی بات پر زبیر صاحب سے اختلاف کیا، زبیر صاحب ابھی اس کا جواب دینے کے لیے منہ ہی کھول رہے تھے کہ ندا فاضلی نے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ زبیر تم چپ رہو، تم جاہل ہو، اس پر کشور ناہید چراغ پا ہو گئیں اور زبیر صاحب کی طرف سے کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھیں تو ندا فاضلی نے ان کو چپ کراتے ہوئے مزید ایک مرتبہ اسی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ تم تو چپ ہی رہو کہ تم زبیر سے بڑی جاہل ہو۔اس پر کشور ناہید بکھر سی گئیں، مجھے ندا فاضلی کا وہ رویہ اس وقت بڑا عجیب لگا، لیکن میں زبیر صاحب کا رویہ دیکھ کر اور زیادہ متعجب ہوا کہ زبیر صاحب اس جملے کے بعد بحث سے بالکل لاتعلق سے ہو گئے۔ یہ ان کی ذات کا ٹھہراو تھا کہ وہ کسی بھی بات پر اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے بحث و مباحثے میں نہیں پڑتے تھے اور اس کی وجہ ان کے پر سکون چہرے کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتی تھی کہ ان کو اپنی بات کے درست ہونے کا آخری حد تک ادراک ہوتا تھا۔ علمی، ادبی مباحث انہیں علمی ادبی رویوں کے ساتھ بھلے لگتے تھے۔

میری زبیر صاحب سے جتنی ملاقاتیں رہیں، اس میں میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، لیکن سب سے بڑی چیز اگر وہ کچھ سکھا گئے تو وہ اپنی ذات کا ٹھہراو اور منطقی طرز استدلال ہے۔ جس کے سہارے انہوں نے اردو زبان و ادب کی تخلیقی اور تہذیبی تاریخ میں اپنا ایک مقام متعین کیا۔ اب زبیر صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن جب کبھی میں تنہائی میں بیٹھ کر ان کی دلچسپ باتیں یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہیں آس پاس ہی ہیں اورمجھے دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرا رہے ہیں۔

Categories
نان فکشن

بھائی صاحب کا مذہب

تصنیف کے لیے اکثر لوگ مجھ سے کہا کرتے ہیں کہ یہ شخص مذہب کے تعلق سے جیسی باتیں کرتا ہے ا س سے سوائے غیر ضروری جھگڑوں ، لڑائیوں اور تنازعات کے اور کچھ حاصل نہیں۔ کبھی بھی کچھ بھی کہہ دیتا ہے، مذہب کو گالی دیتا ہے اور ننگی ننگی عورتوں کی تصویروں کو پوجتا ہے۔ایک روز ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ معاف کیجیے گا ، بھلے سے وہ آپ کا بھائی ہے ، لیکن جس دن وہ میرے ہاتھ لگا میں اس کی گردن مار دوں گا۔ ایسی باتیں میں تصنیف کے تعلق سے اکثر سنتا رہتا ہوں ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرے تعلقات مذہبی لوگوں سے ذرا زیادہ ہیں ۔ میں تصنیف کو کبھی ان باتوں کے متعلق کچھ نہیں بتاتا ، نہ اس سے اس بات کی تلقین کرتا ہوں کہ تم اپنے خیالات بدل لو کیوں کہ دنیا والے تمہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ میں کہوں بھی تو کس منہ سے کیوں کہ میں تصنیف اور اس کے اطراف میں بسی اپنی دنیا کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں ، مذہب کے منہ لگے اور اس سے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے والوں کے اعمال سے بھی واقف ہوں اور تصنیف کی زندگی کےبدلتے ہوئے رنگوں سے بھی۔ آج سے تقریبا ً سولہ ، سترہ برس قبل کی بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں میں ایک روزاپنے ایک دوست کے گھر مغرب کی اذان سے کچھ پہلے پہنچا چونکہ میں روزوں کے معاملے میں شروعات سے بڑا بے نیاز واقع ہوا ہوں اس لیے بڑے دھڑلے سے اس سے پانی مانگ بیٹھا اس نے مجھے دو چارموٹی موٹی گالیاں دی اور کہا ابے تنو تجھ سے کہیں زیادہ کمزور ہے پھر بھی پورے روزے رکھتا ہے اور ایک تو ہے کہ ایک دن بھی کھائے پیئے بنا نہیں رہ سکتا۔ کیا تجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟ اس نے مجھے پانی دینے کے بجائے اللہ سے ڈرانا شروع کردیا، مگر میں نے اس دوران کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ کیا اللہ سے ڈرنا چاہیے ؟ کیا روزے رکھنا واقعی میں فرض ہیں ؟ فرض ؟ تصنیف رکھتا تھا روزے ، پورے تیس ، میں تو آج بھی اس کے اس جذبے کے بارے میں سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں ۔ کیا تصنیف کو اللہ سے ڈر لگتا تھا؟ بچپن میں تصنیف نے اللہ کو جیسے اپنی زندگی کا محور بنا رکھا تھا، یہ وہ ہی شخص سے جس کی ایک وقت کی نماز قضا نہیں ہوتی تھی ، نہ فجر نہ عصر نہ عشا ۔ دنیا جہان کے وظیفے ، اللہ ہو کی صدائیں ، تسبیح کے دانوں پر آیت کریمہ کا ورد ، درود تاج ، دعائےگنج العرش، سور یسین ، صوفیہ کے قصے ، تاریخ اسلام اور اقبال کی شاعری ، بس یہ ہی سب تو ہمارا معمول تھا، میرا سب سے بڑا بھائی ساحل جو ہمیشہ سے ایک متوسط ذہن کا شخص رہا ہے اس نے ہمیں اللہ کے قریب ہونے کی طرح طرح کی ہدایات کیں ، اسی نے ہمیں ، قوالیوں سے محظوظ ہونا سکھایا اور اسی نے ہمیں غوث اعظم اور خواجہ اجمیری کے مراتب کا احساس دلایا ، وہ تصنیف کا مذہبی معاملات میں پیر ومرشد تھا۔ اب تو ان باتوں پر ہم چاروں پانچوں بھائی بہن ایک کمرے میں بند ہو کر ہنستے ہیں ، پر ہماری ہنسی کمرے سے باہر آتے آتے ختم ہو جاتی ہے ، پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ سارے واقعات تصنیف کے دل میں ناسور بن کے پکنے لگے ۔ اس کا اللہ سے رسول سے قرآن اور مذہب سے گیتا اور بائبل سے سارے معتقدات پر سے یقین ہی اٹھ گیا۔ ہم نے تو بچپن میں ساتھ پرورش پائی ، ساتھ ہنسے کھیلے ، ساتھ مذہب سیکھا، ساتھ دہرئیے بنے ، مگر اللہ کا انکار کرنے اور اسلام کو گالی دینے میں تو تصنیف ہم سے کہیں زیادہ آگے نکل گیا جس کو ہم لوگ ہمیشہ گھر کا سب سے ذہین اور سمجھدار ، سیدھا اور شریف لڑکا کہتے تھے۔ اسکول ، گھر، محلے ، پڑوس میں اگر کبھی مجھے کوئی برا بھلا کہتا تو میرے بھائی کی مثال دیتا۔ تصنیف پڑھائی میں اتنا اچھا اور اس کو دیکھو ، نرا گاودی ، نہ ہندی آئے نہ مراٹھی نہ انگریزی اور نہ اردو ۔ وہ تو نماز روزہ بھی کرتا ہے اور محلے کے گھروں میں گھوم گھوم کر میلا د شریف بھی پڑھتا ہے ۔ ایک بار ایک عورت نے تصنیف کے میلاد پڑھنے پر یہ اعتراض گڑھ دیا تھا کہ یہ میلاد اکبر کی تما م حمدیں ، نعتیں ، منقبتیں اور مناجاتیں ایک ہی انداز میں پڑھتا ہے ۔ تصنیف کو اس میں بڑا مزا آتا تھا، قصص الانبیا پڑھنا ، عیسی ، موسی کے واقعات سنانا، انیس کے مراثی پڑھنا ، اعلی حضرت کا سلام گنگنانا اور مولی علی کے خطبے ابا کی کتابوں والی الماری سے چھپ چھپ کے نکال کر پڑھنا ۔ میں جو ہمیشہ سے گھر میں دوسرے درجے کی اولاد رہا اس کو تصنیف کی مذہبیت نے بڑا نقصان پہنچا یا ، ذلیل کیا اور کسی کی آنکھوں کا تارا نہیں بننے دیا۔ باپ نے اس کی ادب فہمی پر اسے گلے سے لگایا ماں نے اس کی مذہب پرستی اور صوفیہ شناسی کی وجہ سے ۔ خانقاہ قادریہ کے سالم میاں کا ہمارے گھر میں بڑا اثر تھا ، کبھی وہ سلمہ منزل آتے تو اپنے پورے لاو لشکر کو پہلی منزل پر حسین بھائی کے گھر چھوڑ کے دو پانچ منٹ کے لیے ضرور ہمارے چھوٹے سے گھر میں براجتے ، سب کو شفقت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور بچوں کے سروں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر انہیں دعائیں دیتے۔ ان کی دعائیں تصنیف کے لیے کچھ تو معنی رکھتی ہوں گی اسی لیے تو اس نے سالم میاں کی شان میں آٹھ ، دس برس کی عمر میں ہی ایک عدد قصیدہ رقم کر دیا تھا ۔ میں نے تصنیف کو مذہبی دنیا میں نورانی اور چمکتی ہوئی آنکھوں سے گردش کرتے دیکھا ہے ، ادب سے تو اس کا تعلق بعد میں مستحکم ہوا اولیت تو اس کے یہاں مذہب کو ہی حاصل تھی ۔ ایک مولوی کی طرح وہ اپنے پورے خاندان کے سامنے کھڑا ہو کر تقریر کرتا تھا ، کربلا کے واقعات کو رو رو کر بیان کرتا تھا ، عزیز میاں کی قوالیوں پر جھومتا تھا ، یہ تصنیف ہی تھا کہ اس نے اپنی بمبئی کی پوری اٹھارہ سالہ زندگی میں کبھی مذہب کے تعلق سے کوئی الٹی سیدھی بات نہیں کی ۔ پھر وہ آج مجھ سے بات کرتے ہوئے امام اعظم کو جاہل کیسے کہہ سکتا ہے ، قرآن میں غلطیاں کیسے نکال سکتا ہے ، رسول کی احادیث کا مذاق کیسے اڑا سکتا ہے ۔ لوگ صرف ایک حقیقت جانتے ہیں اور اس حقیقت کو سچ کے ترازو میں تو ل کر اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں ۔ تصنیف کی تخریب کا حال اتنا زیادہ پیچیدہ ہے کہ اس کو مذہبی جذبات سے جڑا سیدھا سادہ اور ذہن کو ذرا بھی تحریک نہ دینے والا شخص کبھی سمجھ ہی نہیں سکتا ۔ جو سچ کی تلاش کرتا ہے وہ افکار میں الجھتا ہے ، عقل کے پتھریلے راستوں سے گزرنے کی سعی کرتا اوراپنے اندر کانٹوں بھرے جنگلا ت کی سیر کر نے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے ۔ ایسا عمل کرنے والا لہو لوہان بھی ہوتا ہے ، منہ کے بل بھی گرتا ہے اور اصل راستے سے کبھی کبھی بہت دور بھی نکل جاتا ہے ۔ تصنیف نے مذہب کو گالی دینا مذہب کوماننے کے بعد شروع کیا ہے ، اس لیے اس کے مذہب پہ وہ شخص سوال قائم کرنے کا اہل نہیں جو لکیر کا فقیر ہو جو مذہب کی دنیا میں ایک عقیدے سے جڑ کر اس کے ساتھ پوری زندگی گزار کر جنت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ مذہبی فرقہ پرستی میں الجھنے والے اس سفرکے صرف ایک پہلو سے واقف ہیں ، اسلام کے ماننے والوں کی ایک بڑی جماعت ایسے فرقہ پرستوں سے بھری پڑی ہے ، اہل حدیث،کچڑیلوی ، دیوبندی ، سنی ، معتزلی، ماتریدی ، حنفی ، شافعی، مالکی ، حنبلی یہ سب انہیں بھٹکی ہوئی دنیاوں کے ناکام مسافر ہیں ۔ کوئی ائمہ کی تفریق میں پھنسے تو اس کا مذہب جس طرح ایک دائرہ اعتقاد میں مشکوک ہوجاتا ہے یا جو فقہا اور صوفیہ کے جھگڑوں میں دائرہ مذہب سے باہر ہو جاتا ہے ، تصنیف بھی اسی طرح مذہب کی دنیا سے دور ہوا ہے ۔ تصنیف کا مذہب ایک طویل مسافت کے بعد غیر مذہبی دنیا تک پہنچا ہے ۔ آج جب اس کی لا مذہبیت پہ لوگوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور اس کے خیالات سے ان کو اپنا مذہب خطرے میں نظر آتا ہے تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اس پورے سفر سے لاعلم مذہب کو ماننے والے یہ آنکھوں پر پٹی باندھے لوگ کتنے معصوم ہیں کہ انہیں کسی شخص کے نفسیاتی سفر سے کچھ علاقہ ہی نہیں ہوتا۔ مجھے تصنیف سے اختلاف ہوتا ہے ، میں اس کو مذہب سے انحراف پر کبھی کبھی ٹوکتا بھی ہوں ، اس سے بحث بھی کرتا ہوں ، مگر اس کے اس سفر کو کبھی فراموش نہیں کرتا جو مسنون دعاوں سے شروع کر ، پنچ سورہ، تہجد کی نماز ، نوافل ، فرائض ، روزہ، زکوۃ اور بہجت الا سرار جیسی موٹی موٹی مذہبی کتابوں کا سفر کرتے ہوئے اوشو کی نیم مذہبی دنیا تک پہنچا ہے اور رسوم و رواج کے جنگلات سے گزر کر بے یقینی کی مسحور کن وادیوں تک آیا ہے۔ محرم کے تازیوں ، شعبان کے حلووں ، رجب کی نیازوں اور گیارویں کی دیگوں تک جن کا مذہب قید ہوتا ہے وہ اس سفر کی ذہنی معراج کے بارے میں کیا خاک تصور کریں گے ۔ تصنیف کا مذہب اور اس کا جنون اللہ سے صرف اقبال جیسے جرات رندانہ کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے یا اس کا مذہب لوگوں کی چیخوں میں چھپی خدا کی مجبوریوں پر سوال قائم نہیں کرتا اس کا عقیدہ عقیدت کی دنیاوں سے حقیقت کا مطالبہ کرتا ہے۔تصنیف کا مذہب صرف عقل پرست نہیں حسن پرست بھی ہے اور ہر وہ تصور اس کے مذہب میں حرام ہے جو حسن پرستی کی ممانعت کرتا ہے۔ میں تصنیف کے مذہب کو اس کی مجبوریوں کا حاصل نہیں سمجھتا اس کی فکری بلندیوں کا مصداق تصور کرتا ہوں جس میں کہنے سے نا چوکنے کا حوصلہ ہے ، جس میں سچ کی کڑواہٹ کا مزا چکھنے کی جرات ہے اور جس میں دوسروں سے عقیدے کی جذباتی دنیا سے اوپر اٹھ کر مکمل آزادی کی فضا میں آنکھ ملا کر بات کرنے کی قوت ہے۔ میں تصنیف کو مذہب کی دنیا سے آزاد نہیں سمجھتا ،لیکن اس کو دنیا کے مذہب سے بالا تر جانتا ہوں کیوں کہ میں نے اس جیسا اڑیل انسان اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جو اپنے موقف سے پوری طرح واقف ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دلیل اس کو اپنے مذہب سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کے پائے استقال میں جنبش پیدا کر سکتی ہے۔

Categories
نان فکشن

سرور صاحب سے ایک اور ملاقات

جے این یو کی لائبریری اردو کی کتابوں کے تعلق سے کچھ خاص نہیں ، بہت خراب اور غیر ضروری کتابوں کا ایک چھوٹا سا ڈھیر ہے جس میں کہیں کہیں کام کی کوئی کتاب رکھی نظر آجاتی ہے، حالاں کہ نئے پڑھنے والوں کے لئے تو ندا فاضلی کا شعری دیوان بھی کسی نعمت سے کم نہیں مگر جب کوئی کہنہ مشق پڑھاکو شخصیت جے این یو کی لائبریری میں نظرآجائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ صاحب یہاں کیا کر رہے ہیں۔میں خود جے این یو کی لائبریری سے گزشتہ ایک برس میں کچھ خاص استفادہ نہ کرسکا ،بس میر امعمول تو یہ ہے کہ صدف کے ہمراہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر لائبریری کے ائر کنڈیشن روم میں آکربیٹھ جاتا ہو ں اورریختہ ڈاٹ کام پر اپنی محبوب کتابوں کا مطالعہ کر تا رہتا ہوں ، آج صبح جب میں حسب روایت لائبریری میں داخل ہوا تو کتابوں کی دو الماریوں کے درمیان ڈاکٹر سرور الہدی کھڑے نظر آئے، جب میری نظر ان پر پڑی تو وہ کوئی کتاب دیکھنے میں مصروف تھے، میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کےموجودہ دور کے کثیر المطالعہ شخص کو جے این یو کی لائبریری میں دیکھا تو پہلے چونکا، پھر جے این یو سے سرور صاحب کے پرانے تعلق کا خیال آتے ہی سنبھل گیا کہ یہ تو وہ ہی لائبریری ہے جہاں بیٹھ بیٹھ کر انہوں نے فغاں سے امداد امام اثر تک کا سفر طے کیا ہے۔ سرور صاحب کو دیکھ کر جیسے ہی میں نے ان کی جانب قدم بڑھائے انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا اور ہمیشہ کی طرح پر تپاک انداز میں ملے۔ ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ نوجوانوں سے اکثر بہت محبت سے ملا کرتے ہیں اور خاص کر وہ نوجوان جو اردو زبان و ادب سے کسی طرح کی دلچسپی رکھتے ہوں، یہ ہی وجہ ہے کہ میرا ایک دوست حسین ایاز جو کہ بالکل نووارد ادیب ہے اس سے بھی سرور صاحب بہت محبت کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ ثاقب فریدی، ضیا، نوشاد منظر اور اسی طرح کے دوسرے نوجوان ان سے چمٹے رہتے ہیں اور سرور صاحب بھی ان سے خوب گفتگو کرتے ہیں ۔

بہر کیف ان کے اس طرح اچانک ملنے سے مجھے خوشی اور حیرت ہوئی ،میں نے اور سرور صاحب نے لائبریر ی میں کتابوں کی الماری کے ارد گرد گھوم گھوم کر گفتگو کا سلسلہ شروع کردیا ، مجھے سرور صاحب کی یہ بات بہت پسند ہے کہ وہ کبھی اپنے سے کم عمر لوگوں پر اپنا رعب نہیں جماتے ، ان سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے ہیں ، جہاں اتفاق ظاہر کرنا ہوتا ہے وہاں اتفاق ظاہر کرتے ہیں اور اگر کسی بات سے اختلاف ہوتا ہے تو اپنے مخصوص انداز میں برا سا منہ بنا کر صاف انکار کر دیتے ہیں ۔ میری بھی بہت سی باتوں سے انہوں اختلاف کیا ہے ، مگر میں ہمیشہ ان کے اختلاف کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہوں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اختلاف میں ایک قسم کی منطق ہوتی ہے ، خواہ اس منطق سے کسی تیسرے شخص کو اتفاق ہو نہ ہو مگر وہ ایسی نہیں ہوتی جس کو یک بارگی نظر انداز کر دیا جائے۔ میں نے سرور صاحب سے لائبریری میں کتابوں کی شیلف کے درمیان ٹہلتے ہوئے اپنی موجودہ مصروفیات کے بارے میں بتا یا تو انہوں نے اس کو خاموشی سے سنا اور فوراً کلیم عاجز کا شعری مجموعہ شیلف سے نکال کر اس پر گفتگو کرنا شروع کر دی۔ یہ ان کی عادتوں میں شمار ہے کہ وہ کسی بھی شخص کی ذات پر نہ زیادہ سنتے ہیں اور نہ زیادہ بولتے ہیں ، ادیبوں شاعروں کی ہر طرح کی بات کرتے ہیں ، ان کی برائی بھی کرتے ہیں اور تعریف بھی لیکن سب کی سب ان کے ادبی کاموں، کارناموں اور کوتاہیوں سے متعلق ہوتی ہیں ۔ کلیم عاجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مجھے ان کی ایک غزل پر اپنے تاثرات تحریر کرکے دینے کو کہا اور ساتھ ہی اسلم پرویز کی کتاب گھنے سائے اور خلیل الرحمان اعظمی کی مضامین کے تعلق سے بھی ایک ایک مضمون لکھنے کی ہدایت دی۔دراصل سرور صاحب کا اوڑھنا بچونا یہ ہی ساری چیزیں ہیں ، میں ان سے جب جب ملتا ہوں تو اردو کے پرانے سے پرانے ادیبوں شاعروں سے لے کر موجودہ دور تک کے ادبا پر مختلف حوالے سے گفتگو ہوتی ہے۔ مجھے بعض مرتبہ تو حیرت بھی ہوتی ہے کہ میں جو چیزیں یہ سمجھ کر پڑھتا ہوں کہ غالبا کوئی اردو والا جلدی ان چیزوں تک نہیں پہنچے گا سرور صاحب ان پر بھی بے تکان بول لیتے ہیں ۔ اس سے ان کے مطالعے کا علم ہوتا ہے۔ حسین ایا ز نے مجھے آج سے تقریباً دو برس پہلے یہ بات کہی تھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں اگر کوئی شخص صبح کے نو بجے سے شام کے پانچ بجے تک ادب ادب کرتا رہتا ہے تو وہ سرور الہدی ہی ہیں ۔اکثر تو میں نے سرور صاحب سے امتحاناً بھی بہت سی باتوں کے متعلق دریافت کیا ہے ، مگر وہ ان کا جواب بھی بہت اطمینان سے دیتے ہیں ۔ آج بھی لائبریری کی الماریوں کے درمیان طواف کرتے ہوئے ان سے کلیم عاجز، لطف الرحمان، شکیل الرحمان، شمس الرحمان فاروقی ،علی اکبر ناطق ، ادریس بابر، ریاض مجید ، اسلم پرویز ، جمال احسانی، غالب اور چکبست کے حوالے سے باتیں ہوئیں ۔ سرور صاحب کی ایک عجیب و غیریب بات یہ بھی ہے کہ وہ اردو کےسیمیناراور سمپوزیمس کو بہت زیادہ نظر انداز کرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی ان میں شرکت کرتے ہیں، اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر انہیں اردو کے مختلف موضوعات پر ہونے والے سیمیناروں کی پوری خبر رہتی ہے ۔ اردو کے ان لکھنے والوں کو بھی جانتے ہیں جو بالکل جدید ہیں اور ان کو بھی جو مابعد جدید ہیں ۔ لائبریری کی شیلف میں عزیز نبیل کی فراق گورکھ پوری پر ترتیب کردہ کتاب پر ہاتھ رکھ بولے” یہ دیکھئے آپ کے دوست کا کام”اور جب میں نے ان سے کہا کہ عزیز نبیل ان دنوں پہلے سے بہتر شعر کہنے لگے ہیں ،بس مشاعروں کے چکر میں زیادہ پڑ گئے ہیں تو خاموشی سے دوسری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے سرور صاحب سے ہمیشہ نئے لوگوں کی تعریف اور پرانے لوگوں کی تذکیر سنی ہے۔ وہ ہمیشہ بتاتے رہتے ہیں کہ شہر یار کیسے تھے ، محمد حسن کیا کرتے تھے،وحید اختر کے کیا خیالات تھے، محمود ہاشمی نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے، وارث علوی، باقر مہدی، شمیم حنفی ، شمس الحق عثمانی اور بلراج مین را ان کے فنی کارنامے کیا کیا ہیں ۔

ابھی میں نے گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں میں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ بہت سے لوگ اپنے مطالعے کو وسیع اور کثیر جتانے کے لئے حافظ، سعدی ، رومی، انوری، خسرو، بیدل ،امرالقیس اور متبی وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں ، کبھی وہاں سے اچانک مغربی ادب پر کود جاتے ہیں اور کبھی ہندی اور سنسکرت کے ادیبوں کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں ۔ سرور صاحب کو میں نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا ۔ ان کا ایک مخصوص رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے دائرہ علم کے اندر رہ کر گفتگو کرتے ہیں ، بلا وجہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے انگریزی، جرمنی، فرانسسی اور رشین ادیبوں کا نام نہیں لیتے۔ امداد امام اثر اگر ان کا موضوع ہیں تو ان کا زیادہ تر وقت انہیں پر گفتگو کرتے ہوئے گزرے گا، کبھی جدیدیت کی بات نکلے گی تو الف سے لے کر بڑی ے تک تمام جدیدیوں کے خیالات کو آپ کے سامنے رکھ دیں گے، مابعد جدیدیت یا ترقی پسندوں کی بات کریں گے تو از اول تا آخر سب کا تذکرہ کر جائیں گے۔ حالاں کہ اگر وہ چاہیں تو دنیا کی دوسری زبانوں میں ادب لکھنے والوں پر بھی ایک ، دو کتابیں پڑھ کر بول سکتے ہیں ، مگر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ کبھی اپنے میدان سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے ۔ میں نے بھی کبھی ان سے فاوسٹ، دانتے، بولو، لانجوئنس ، ٹالسٹائی، دوستو فسکی، پیرڈائز لوسٹ، پیر کرم شاہ ازہری ، اسماعیل دہلوی، امام احمد رضا ، اوشا سانیہال اور وارث مظہری کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی ہے تو انہوں نے ہاں ہوں کر کے چھوڑ دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کبھی اس بات کی شعوری کوشش نہیں کرتے کہ سامنے والا انہیں قابل سمجھے ۔ ان کے مطالعے کومیرے بہت سے احباب اکثر محدود کہتے ہیں ، مگر مجھے یہ بات زیادہ اہم لگتی ہے کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ انہیں کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا ہے۔ ان کے یہاں مطالعے کا ایک نظام بنا ہوا ہے جو اردو کے بہت کم ادیبوں کے یہاں نظر آتا ہے۔ میں خود بھی اسی مرض کا شکار ہوں کہ گھوم گھوم کے چیزوں کا مطالعہ کرتا ہوں ، جب کہ سرور صاحب مطالعے کی ایک سیدھ میں چل رہے ہیں ، جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ اتنے کام کر پاتے ہیں ۔

لائبریری میں کتابوں کی الماریو ں کے درمیان چکر لگاتے لگاتے جب میں اور سرور صاحب تھکنے لگے تو انہوں نے مجھ سے قریب کے ایک کینٹین میں چلنے کو کہا،ہم وہاں پہنچے تو ان کا ایک شاگرد نثار اور دو ایک لوگ اور بھی مل گئے ، وہیں انہوں نے جے این یو کے ایک اور رسرچ اسکالر ضیا کو بھی بلوا لیا اور پھر وہاں نئے سرے سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا، ہم نے اسی دوران ہیں بیٹھ کر کھانا کھایا جس میں میری عزیز دوست صدف فاطمہ بھی شامل تھیں ۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے چائے پی اور امداد امام اثر پہ گفتگو ہونے لگی۔ ان دنوں سرور صاحب نےان پر ایک ضخیم کتاب ترتیب دی ہے جو تقریبا دسمبر تک منظر عام پر آئے گی ۔ سرور صاحب اردو گھر سے نکلنے والے ایک پرچے اردو ادب کے معاون مدیر بھی ہیں اس لئے انہوں نے مجھے اس بار کا وہ پرچہ بھی دکھایا جو شمس الرحمان فاروقی کے بیاسی سال کے ہو جانے پر خصوصی شمارے کے طور پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس میں فاروقی صاحب کا بھی ایک مضمون تھا جس میں فاروقی صاحب نے سرور صاحب کی امداد امام اثر پر آنے والی کتاب کی زبان و بیان کو بہت سراہا ہے۔ غالبا فاروقی صاحب نے اس کتاب پر دیباچہ یا پیش لفظ لکھا ہے۔ مگر مجھے فاروقی صاحب کا مضمون پڑھتےہوئے اس بات پر حیرت ہوئی کہ انہوں نے ایک جگہ سرور صاحب کی گرفت کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ سرور صاحب نے کاشف الحقائق کے نظر انداز کئے جانے کی وجوہات پر بات نہیں کی ہے ، میں نے فاروقی کا یہ جملہ پڑھ کے جب سرور صاحب سے اس سے متعلق استفسار کیا تو وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے ، جب میں نے مزید اسرار کیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ نے ایک پوری کتاب ترتیب دے دی اور اتنی سامنے کی بات کو نظر انداز کر دیا ، تو انہوں نے کہا کہ میں فاروقی صاحب پر اس عمر میں تنقید نہیں کرنا چاہتا ، لیکن جب آپ وہ کتاب پڑھیں گے تو آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ جس بات کے فقدان کی بات فاروقی صاحب کر رہے ہیں وہ کتنی جگہوں پر موجود ہے ۔ میں ان کا یہ جملہ سنتے ہی ہنس دیا۔ یہ ایک عجیب رویہ ہمارے ناقدین کا ہے کہ جو باتیں وہ دوسروں کو کرنے سے روکتے ہیں اس کو خود بڑی کثرت سے سر انجام دیتے ہیں ۔ سرسری مطالعے کا رونہ مجھے شمس الرحمان فاروقی، گوپی چند نارنگ ، ظفر اقبال وغیرہ سے بہت زیادہ رہا ہے ۔ مثلا ً یہ بات میں نے سرور صاحب سے بھی کہی کہ نارنگ صاحب کی کتاب کاغذ آتش زدہ ایسی ہے کہ اس کو انہیں جلا ہی دینا چاہئے تھا، مگر انہوں سے اسے چھپوایا۔ خود تو ابواللیث صدیقی کو لکھنو کا دبستان شاعری پر لعن طعن کیا ہے اور یوسف سلیم چشتی کو برا کہتے نہیں تھکے ہیں اور اپنی اتنی ہلکی کتاب کو بھی ضخیم بنا کر سجا سنوار کر سامنے لے آئے ، اگر یہ ہی کتاب جو کہ نارنگ صاحب کی کاوش قلم کا نتیجہ ہے اگر ابوالکلام قاسمی ، شہپر رسول ، ابن کنول ، خواجہ اکرام الدین یا انور پاشا کی ہوتی تو نارنگ صاحب اس کی لاکھ برایاں کرتے ۔ مگر چونکہ وہ ان کی خود کی ہے اس لئے کسی نابغے سے کم نہیں ۔ یہ ہی فاروقی صاحب کا حال ہے کہ تفہیم غالب سے لے کر شعر شور انگیز تک کئی ایک کتابوں میں بلا کا جھول ہے ، مگر اس پر نگاہ ہی نہیں جاتی۔ سرور صاحب جب محمد حسن ، وحید اختر ، محمود ہاشمی اور باقر مہدی کی باتیں کرتے ہیں تو فاروقی کی شخصیت بونا دکھائی دیتی ہے ، مگر یہ ان کا مزاج ہے کہ وہ کبھی فاروقی کے تعلق کوئی تنقیدی جملہ نہیں کہتے۔ بس زیادہ ہوا تو ناصر عباس نیر، خالد جاوید، بورخیس ، عتیق اللہ، نصیر صاحب، عبدالحق اورجے این یو کی پرانی باتوں کا پٹارا کھول دیتے ہیں جس میں سے قہقہے لگانے والی بے شمار کہانیاں کود کود کر باہر آنے لگتی ہیں۔

Categories
نان فکشن

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔ میں خود کو بھی ان بیس میں ہی شمار کرتا ہوں۔ حالاں کہ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں، بس طبیعت کی بات ہے کہ سواد اعظم سے انحراف کو مکروہ جانتی ہے۔ مختلف النوع اور مختلف المزاج جماعت ہے جو اسی سانحہ کی مانند ایک جگہ آ کر جمع ہو گئی ہے جس طرح ہزاروں سال قبل کچھ ستارے آپس میں ٹکرا کر ایک انجم رنگ و نور پیدا کربیٹھے تھے۔ ہر شخص کا اپنا ایک تشخص ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسا نہیں جس کے وجود میں آنے کے لیے نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ نہ روئی ہو،جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے وجود میں آ جانے کے بعد وہی نرگس پر ملال اپنی بصارت چھوڑ بصیرت پہ آنسو بہارہی ہے۔ بہر کیف یہ جملہ معترضہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔ مثلاً باری باری دیکھ لیجیے۔ سر فہرست کلاس کی رونق (رونق رضائی نہیں بلکہ رونق حقیقی)ایک صاحب ہیں جو شعر و شاعری کا ایسا ذوق لے کر پیدا ہوئے ہیں کہ بعض اوقات شعر سنانا شروع کرتے ہیں تو شاعری کی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے، کیسا ستھرا ذوق ہے۔ ایک کے بعد ایک، بنا رکے، میر سے غالب،ولی سے سراج، درد سے سودا، مومن سے شیفتہ،حالی سے جوش اور فراق سے ناصر تک سب سنا دیتے ہیں۔ فیض اور فراز کا کیا ذکر کہ ان دونوں کی روحیں آں جناب کے وجود میں گھٹنوں گھٹنوں تک دھنسی ہوئی ہیں۔ میں ان کا بڑا معترف ہوں کہ رئیس اعظم ہیں اور اکثر میرے شعروں پر بھی خوب داد دیتے ہیں۔ خود بھی شاعر ہیں اور ایسے شاعر کہ شاعر مشرق بھی فن سخن وری میں ان کے سامنے زانو تلمذ طے کرے۔ ان کی سخن وری اور سخن گوئی کی یہ خاص بات ہے کہ شعر کہتے غالب کی طرح ہیں اور پڑھتے مفتی صدرالدین آزردہ کی مانند ہیں۔ اگر کسی صاحب کو یہ نہ معلوم ہو کہ مفتی صاحب کس طرح شعر پڑھا کرتے تھے تو وہ یا تو خلیل الرحمن اعظمی کے بڑے بھائی کی مفتی صاحب پر لکھی ہوئی کتاب پڑھ لے یا ہمارے دوست کو سن لے۔ حالاں کہ بیگ صاحب نے دلی کا آخری مشاعرہ میں مفتی صاحب کے شعر پڑھنے کا جو انداز رقم کیا ہے میں اس سے اختلاف نہیں کرتا پر کیا پتا کیوں مجھے جہلمی زیادہ معتبر معلوم ہوتے ہیں۔

 

وصف شاعری کے علاوہ بھی ان میں بہت سی باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جس سے دنیا و ما فیہا کی رنگارنگی کی جھلکیاں مترشح ہوتی نظر آتی ہیں، مثلاً آںجناب کی چال کو ہی لے لیجیے۔ جس وقت حضرت مستانہ جوگی کی مانند مکمل اطمنان خاطر کے ساتھ دور سے آتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں تو مجھے حالی کی نظم مدوجزر اسلام یاد آجاتی ہے۔ چھوٹا ساقد اس پر بلا کی اچھال کود،کرتا پاجامہ زیب تن کیے ہوئے، بڑی بے پروائی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ میں جب جب ان کو اس عالم میں دیکھتا ہوں تو مجذوب شاعر محمد علی تشنہ کا وہ شعر ذرا سی ترمیم کے ساتھ میرے لبوں پر جاری ہو جاتا ہے کہ:

 

ہاتھ پڑتا ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے
تم کو ہے سب کی خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں

 

دو ایک مرتبہ میں نے رئیس بھائی سے اس کا ذکر بھی کیا ہے کہ آپ کے چلن کا تو مجھے علم نہیں پر آپ کی چال اتنی اچھی ہے کہ میں اس پر ہزاردل و جان سے قربان ہونے کو بھی کم جانتا ہوں کہ بھلا ایسی شاعرانہ اور مستانہ گردش پا کہاں دیکھنے کو ملے گی کہ جس کو دیکھ کر بیک وقت دنیا کے کئی ایک عظیم فن پارے ذہن میں طواف کرنے لگیں۔ چال ڈھال کے علاوہ ان کی گفتار،کردار، خلوص، ناراضگی، جلال، حسن پرستی، محبت،شعلہ بیانی، قد کاٹھی، ہاتھ پاوں، چہرہ مہرہ، چشمہ،رومال،گھڑی سب کے سب اتنے معنی خیز ہیں کہ ناسا والے اگر ان سب کا برسوں مشاہدہ کریں تو بھی کسی آخری فیصلے پر نہیں پہنچ سکتے کہ اسے حیثیت کذائی کے کس خانے میں رکھا جائے گا۔ لہذا رئیس بھائی کی پوری شخص کا تعارف کسی طور ممکن نہیں اس لیے اتنے پر ہی اکتفا بہتر ہے۔

 

علامہ کے بعد فہرست میں جو نام سب سے اوپر ہے وہ ہماری کلاس میں پائی جانے والی ایک ایسی لڑکی کا ہے جس کو شائد اس بات کا علم بھی نہ ہو کہ میں یعنی میں،محترمہ کا ہم جماعت ہوں، یہ کچھ میری ہی ذات تک محدود نہیں، بلکہ مجھے یقین ہے کہ کلاس کا سب سے متحرک اور عزت دار شخص بھی اگر کلاس روم کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر ان سے پوچھ لے کہ کیا آپ مجھے جانتی ہیں تو یقیناً بلا توقف محترمہ انکار میں گردن ہلا دیں گی۔ ان کا یہ انداز بے پروایانہ انہیں کس طرح نصیب ہوا؟ یہ خود اپنے آپ میں بہت دلچسپ سوال ہے۔ حالاں کہ وہ ہمہ وقت بہت سمٹی اور سہمی ہوئی رہتی ہیں پر انہیں غالباً اس بات کا علم نہیں کہ مرکز نگاہ ہونے کے لیے پھیلنے سے سےزیادہ سکڑنا کام آتا ہے اورمیری مشاہداتی رگ تو کچھ اس نوع کی واقع ہوئی ہے کہ جو جتنا سکڑتا ہے میں اس کو اتنا ہی زیادہ غور سے دیکھتا ہوں۔ محترمہ کو شائد اس کا علم بھی نہ ہو کہ میں نے انہیں رجسٹریشن کے اس ہنگامی روز ہی دریافت کر لیا تھا جس دن سب کو اپنے کاغذات بنوانے اور جمع کروانے کی جلدی تھی، اور کیوں نہ کر لیتا کہ جہاں ہر شخص مجھ سمیت ایک قسم کی گھبراہٹ، جلد بازی اور حیرانی و پریشانی کے عالم میں گرفتار تھا، وہاں صرف ایک صورت ایسی نظر آ رہی تھی جس پر تسکین کا ایساجلوہ چھایا ہوا تھا کہ اس روز اگر اس لفظ کے راست معنی کسی کو سمجھانا ہوتے تو میں نور اللغات اور فرہنگ آصفیہ کا سہارا لینے کے بجائے، اس ہنگامی ماحوم میں بس انگلی سے ان صاحبہ کی جانب اشارہ کر دتا کہ دیکھیے تسکین اس کو کہتے ہیں۔ چھوٹا سا منہ، اس پر اسلامی شعائر کی پندہ سو سالہ تاریخ کا بوجھ،سیاہ برقع اور اس پر رنگین اسکارف جس کو دیکھ کر بالکل ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی عربی شیخ نے اپنی مراد بر آنے پر کعبے کے لیے دو رنگی غلاف بنوا کراے۔ کے۔ 47 کےزور پر اس پر چھڑوا دیا ہے۔ سب سے الگ تھلگ ایک کونے میں بیٹھی خدا معلوم کس عالم میں کھوئی ہوئی تھیں کہ یہ شور و غل اور چیخ پکار بھی اطمنان صوری و معنوی میں کسی طرح مخل نہیں ہوتا تھا۔ اس روز تو میں بھی ذرا جلدی میں تھا اس لیے بہت دیر تک ان کی اس کیفیت سے محظوظ نہ ہو سکا پر اگلی مرتبہ تقریبا تین مہینے بعد جب کلاس میں ان صاحبہ کی صورت دیکھی تو حیران رہ گیا کہ جیسا موسم گرما میں چھوڑا تھا ویسا ہی موسم سرما میں پایا۔ رائی برابر بھی کوئی کمی یا زیادتی نہیں آئی تھی،وہی چھوٹے چھوٹے خد و خال،وہی ابتدائے سخن سے اتنہائے سخن تک کی خاموشی، وہی سکون،اطمینان، بے پرائی اور وہی عالم بے نیازی۔ چونکہ مجھے ان کے اس انداز نے متاثر کیا تھا اس لیے دو ایک کلاسوں کے بعد میں نے محترمہ سے کچھ رسم و راہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جانوں تو صحیح کہ آخر اس تسکین مسلسل کا راز کیا ہے۔ پر اس عمل میں میں بری طرح ناکام رہا،اور اسی روز ان کی ایک اور صفت مجھ پہ روشن ہوئی کہ محترمہ صرف پر سکون نظر ہی نہیں آتی ہیں، بلکہ واقعتا ساکن ہیں،کسی سے! مطلب کسی سے بھی، کسی طرح کی گفتگو یا بات چیت کرنا ان کے یہاں قطعا ممنو ع تھا،اور مجال ہے کہ کوئی انہیں اپنے اس فیصلے سے رائی برابر بھی ہلا دے۔ وہ خاموش ہیں اور صرف خاموش۔ شروعات میں تو مجھے یہ اپنا ہی وضع کردہ مفروضہ معلوم ہوا،لیکن دھیرے دھیرے جب میرے چند ایک ہم جماعت دوستوں نے بھی اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا تو میرا یقیں محکم ہونے لگا۔ آپ یقین جانیں کہ چھ مہینے میں میں نے اور میرے من جملہ احباب نے صرف چار مرتبہ انہیں کچھ کہتےسنا ہے۔ اس میں سے بھی تین مرتبہ تو محترمہ نے باعث مجبوری ہی اپنی زبان کھولی کہ ہماری کلاس میں سیمینار پیپر پڑھنے کی جو روایت ہے اس کو پورا کرنا ہر طالب علم پر فرض ہے،لہذا ہر سیمینار کے بعد سوال جواب کا بھی ایک سیشن ہوتا ہےتوآخری بار میں نے ان کے منہ سے صرف یہ جملہ سنا تھا کہ” کوئی سوال ہے؟” اتنا کہہ کے وہ اپنی جگہ سے چل دیں۔ ان کی بلا سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو پوچھا کرے پر انہیں کسی بھی نوع کے جواب سے اپنی خاموشی زیادہ عزیز ہے۔ میں سوالات کاٹوکرا لیے یہ چلاتا ہی رہ گیا کہ اس سوال کا جواب دے دیجیے پر وہ ایک بار اپنی جگہ سے ہٹیں تو گفتار کے سارے سوتے سوکھتے ہی نظر آئے۔ میں اکثر ان کی خاموشی کو دیکھ کر خود سے کہتا ہوں کہ دیکھو یہ ہوتی ہے شخصیت،چپ ہے تو ایسی چپ کہ اس کی داد دیئے ہی بنے اور ایک تم ہو کہ دس منٹ بھی خاموش رہ لو تو تالو میں کھجلی ہونے لگتی ہے۔

 

اب آگے جن صاحب کا ذکر میں کرنے والا ہوں ان کے متعلق میں پہلے ہی یہ بتا دوں کہ میں ان سے واقعتاً بہت ڈرتا ہوں، اس لیے نہیں کہ وہ بہت لحیم شحیم اور لمبے چوڑے ہیں، بلکہ اس لیے کیوں کہ ان کے سامنے کچھ کہنے کے لیے اس وقت تک منہ نہیں کھولا جا سکتا جب تک کہنے والے کو آخری حد اپنی بات کے حدیث متواتر کی طرح مصدقہ ہونے پر یقین نہ ہو۔ غیر معتبر اور غیر معیاری باتوں پہ کان دھرنا ان کے مذہب میں قطعا حرام ہے۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کی کلاس میں کتنے ادیب پائے جاتے ہیں تو میں بلا جھجک اپنے گزشتہ ادیبو ں،صوفیوں،حکیموں،عالموں اور سائنسدانوں کے اس جملے سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کہہ دوں گا کہ ہماری جماعت میں کل ساڑے تین ادیب ہیں۔ دو شخصیات تو بہت ہی گہری اور پیچیدہ ہیں لہذا اس دو غزلہ کا ذکر اپنے مقام پر آگے کیا جائے گاپر آدھا میں خود کو تصور کرتا ہوں کہ ان ادیبوں کی ادبی صلاحیت کو شناخت کرنے کے لیے مجھ میں اتنی ادبیت کا پایا جانا تو اشد ضروری ہے۔ پر تیسرا نام سوائے شاہد ملک کے اور کسی کا نہیں ہو سکتا۔ شاہد بھائی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی موجود گی میں اگر کسی کا وجود مجھے کلاس میں سب سے زیادہ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے تو وہ سامنے بیٹھے اس شخص کاہوتا ہے جو اس بات کا خیال کیے بنا کہ شاہد ملک اس کلاس روم میں موجود ہیں، اپنی پروفیسری کے حق کا استعمال کرتا رہتا ہے۔ کیا ان اساتذہ کو اتنا بھی علم نہیں کہ شاہد ملک کے سامنے کس طرح سے پیش آنا ہے؟ کیا بات کہنی ہے اور کیا نہیں کہنی۔ اس پر میں صرف کف افسوس ہی مل سکتا ہوں کہ شاہد کی ذات کا ادراک ہر کسی کو نہیں ہو سکتا۔ شاہد بھائی کی ادبی فراست کیا ہے ؟اگر یہ بات کسی کو معلوم کرنی ہے تو وہ ایم فل کے ان دو برسوں کے درمیان جے این یو چلا جائے اور ان سے ملاقات کر کے کسی بھی نوع کا ادبی سوال ان سے پوچھ لے۔ اس کو خود ان کی فہم و فراست کا علم ہو جائے گا۔ کسی بھی غیر ضروری سوال کا وہ جواب نہیں دیں گے، اس لیے نہیں کہ انہیں سامنے والے سے کوئی چڑ ہے،بلکہ اس لیے کہ اس سوال کا جواب دینے سے ان کی شخصیت مجروح ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں شدت سے یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اور شاہد ملک کو مرنے کے بعد ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے تاکہ جب منکر نکیر من ربك؟ من دينك؟ اور من نبيّك؟ پوچھتے ہوئے قبر میں داخل ہوں تو شاہد بھائی انہیں ڈانٹ کر بھگا دیں کہ یہ کیا حماقت آمیز سوالات پوچھتے چلے آرئے ہو،دفع ہو جاو اور اب کی آنا تو کوئی ڈھنگ کا سوال نامہ تیار کر کے لانا، ورنہ اس طرف پٹھکنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ شاہد بھائی دیکھنے میں لکھنو اور بولنے میں بنارس ہیں۔ آہستگی سے بولتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فہمیدہ ریاض کو مردانہ قالب عطا کردیا گیا ہے اور زور سے بولتے ہیں شہاب نامہ کی جلالی آئتیں یاد آ جاتی ہیں۔ اکثر اوقات ان کا انداز درمیانہ ہوتا ہے جس میں ان دونوں حالتوں کا امتراج پایا جاتا ہے،لہذاایسی صورت میں شاہد بھائی شمیم حنفی کی جوانی معلوم ہوتے ہیں۔ خوبصورت کرتا اور چوڑی موری کا پاجامہ ان پر بہت کھلتا ہے، حالاں کہ بعض مستند ذرائع سے مجھے اس بات کا بھی علم ہوا ہے کہ علامہ پینٹ شیرٹ بھی پہنتے ہیں، پر میں نے کبھی انہیں اس طرح کے لباس میں نہیں دیکھا۔ ان کا چشمہ ان کی ذات کا استعارہ ہے۔ جب جب وہ اپنا چشمہ اتار دیتے ہیں تو ان کی شخصیت میں ایسا تضاد پیدا ہو جاتا ہے جیسا گوپی چند نارنگ کی تقریر اور فاروق ارگلی کی تحریر میں پایا جاتا ہے۔ حالاں کہ میں ان کے متعلق کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا پر حد ادب بھی کوئی چیز ہے کہ ایک ادیب حقیقی کے تعلق سے تو اس کا پاس رکھنا ہی چاہیئے۔

 

اس کے بعد اس فہرست میں لیاقت کا نام آتا ہے۔ لیاقت کے بارے میں یہ بات سب سے زیادہ درست ہے کہ وہ ایک سچا مسلمان ہےاور صرف مسلمان نہیں بلکہ کشمیری، سنی، بریلوی مسلمان ہے۔ یعنی کریلا وہ بھی نیم چڑھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خواہ اس کا تین وقت کا کھانا چھٹ جائے، پرپانچ وقت کی نماز نہیں چھٹتی، کشمیری سنی اور پوری دنیا میں پائے جانے والے ہر رنگ ونسل کے دیوبندی۔ یہ ہی وہ دو جماعتیں ہیں جن کے لئے علامہ اقبال نے یہ شعر کہے تھے کہ:

 

جاکے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریب
زحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریب
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریب
امرا نشہ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سے

 

یہاں لفظ غریب سے دونوں معنی مراد لیے جا سکتے ہیں اور ملت بیضا علامہ نے دیوبندیوں کم کشمیریوں کے لیے زیادہ استعمال کیا ہے جس کی ایک معقول وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ علامہ کا خاندان کشمیر سے ہی ہجرت کر کے پنجاب پہنچا تھا۔ لیاقت میں تین باتیں بیک وقت ایسی پائی جاتی ہیں جن کا امتزاج بہت عجیب و غریب ہے،عجیب و غریب ان معنی میں کہ میں کبھی یہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ حضرت کے ان اطوار کو کس طرح میں ایک ہی شخصیت کا حصہ سمجھوں۔ نمبر ایک وہ عاشق مزاج ہیں، نمبر دو وہ مقابلہ جاتی امتحانات کی حد تک سنجیدہ طالب علم ہیں،اور نمبر تین وہ بلا کے مذہبی ہیں۔ یہ تنیوں باتیں ایسی ہیں جن کو ملا کر لیا قت بنا ہے۔ مذہب اور عشق ان دونوں کے تال میل کو میں اس تناظر میں تو ایک خانے میں رکھ سکتا تھا جبکہ لیاقت پیلا چوغا اوڑھ کر دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوجاتے اور کم سے کم درجے میں وارثی سلسلے کے صوفی نما لوگوں کی طرح در در بھٹکتے پھرتے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے،علامہ نے عشق کے سلسلے میں ولی دکنی کے اس شعر پر عمل کرنا زیادہ بہتر جانا ہے کہ :

 

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا

 

اور ان کا زور عملی زندگی میں حقیقی سے زیادہ مجازی پر ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک حضرت کسی ایسے معاملے میں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑے گئے پر گمان غالب ہے کہ جلد ہی ایسی کوئی رپورٹ جے این یو کے گلیاروں میں اڑتی نظر آ جائے گی۔ تب ولی کی اسی غزل کا دوسرا شعر بھی ان کی ذات پر صادق آجائے گا کہ :

 

ہر زباں پر ہے مثل شانہ مدام
ذکر تجھ زلف کی درازی کا

 

میں نے لیاقت میں آخری حد تک ایک مخلص انسان کی جھلک دیکھی ہے۔ پر مجھے اس کی دو باتوں پر ہمیشہ غصہ آ جاتا ہے۔ ایک جب وہ اردو بولتا ہے اور دوسرا جب وہ کشمیری میں بات کرتا ہے۔ اس غصے کی وجہ بھی صرف یہ ہے کہ جب لیاقت صاحب اردو بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشمیری بول رہے ہیں اور کشمیری بولتے ہیں تو معلوم ہی نہیں ہوپاتا کہ کیا بول رہے ہیں۔ ان دونوں حالتوں میں میں بس ان کا منہ تکا کرتا ہوں جس کے جواب میں وہ بات کرتے کرتے اپنے مخصوص انداز میں زور سے ہنس دیتے ہیں اور ہماری ناقابل ترسیل گفتگو کا سلسلہ اس ہنسی پر ہی منقطع ہو جاتا ہے۔

 

(جاری ہے)