Laaltain

تحقیق کا سائنسی طریقہ کار

تالیف حیدر: کسی چیز کی تلاش اور حقیقت کی وضاحت، پرانے نظریات کی نئے حقائق کی روشنی میں از سر نو چھان پھٹک اور جدید نظریات کی تطبیق یہ تمام چیزیں سائنسی تحقیق کی اساس ہیں۔

رشتے کا ایک برس

تالیف حیدر: موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔

کیا آپ نے ہندوستانی یونیورسٹیز میں رائج اردو کا نصاب دیکھا ہے؟

تالیف حیدر: یونیورسٹیز کے نصاب کو سرے سے کاٹ کر نئے طور پر مرتب کرنے کی ازحد ضرورت ہے اور نئے ذہنوں کو ہندوستانی یونیو رسٹیز کے شعبوں میں جگہ دینے کی اور پرانے اور فرسودہ ذہن جو گدیوں پر براج مان ہیں ان کی از سر نوذہنی تربیت کر نے کی۔

کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

تالیف حیدر: اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

تالیف حیدر: ادب ایک بڑا شعبہ ہے۔ زندگی کا بھی اور موت کا بھی۔ لہذا اس کو پڑھنا بھی ہر شخص اور جماعت کے نزدیک ایک الگ تقاضہ رکھتا ہے۔

ذہن جدید والے زبیر رضوی

تالیف حیدر: میں نے ہمیشہ زبیر صاحب کے اندر ایک متحرک ادیب، ایک علم دوست انسان اور ایک نہایت سلجھا ہوا شخص دیکھا۔ ان کی گفتگو بتاتی تھی کہ وہ اپنے موضوعات کے حوالے سے کتنا زیادہ غور کر چکے ہیں اور اس غور و فکر کی بنیاد پر انہوں نے ایک موقف قائم کر لیا ہے۔

بھائی صاحب کا مذہب

تالیف حیدر: میں اس کو مذہب سے انحراف پر کبھی کبھی ٹوکتا بھی ہوں، اس سے بحث بھی کرتا ہوں، مگر اس کے اس سفر کو کبھی فراموش نہیں کرتا

سرور صاحب سے ایک اور ملاقات

تالیف حیدر: بہت سے لوگ اپنے مطالعے کو وسیع اور کثیر جتانے کے لئے حافظ، سعدی ، رومی، انوری، خسرو، بیدل ،امرالقیس اور متبی وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں ، کبھی وہاں سے اچانک مغربی ادب پر کود جاتے ہیں اور کبھی ہندی اور سنسکرت کے ادیبوں کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں ۔ سرور صاحب کو میں نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا ۔

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

تالیف حیدر: میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔

سر سید کے مذہبی عقائد و افکار: ایک مکالمہ

تالیف حیدر: سر سید کے مذہبی عقائد و افکا ر پر اصل بحث ہمیں اسی مقدمے میں ملتی ہے۔ جس میں تیرہ ذیلی عناوین میں سے چھ عنوانات سر سید کی شخصیت کے مختصر ترین تعارف ان کے ہمعصراوران کے احباب کے ان سے اختلافات، ان کے مذہبی عقائد،علما کے ان سے اختلافات اور اسی طرح کی دیگر بحثوں پر مشتمل ہیں۔

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

تالیف حیدر: میں نے ان لبوں کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ لب جو نیم سرخ اور نیم گلابی ہیں۔جن کی گدازی اور غیر معمولی ملائمیت بلا کی حیرت انگیز ہے۔ میں ان لبوں کا پر ستار،ان کا محافظ، ان کے قرب و جوار سے آگاہ، ان کی سرحدوں کا نگہ بان ہوں۔

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

تالیف حیدر: طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

تالیف حیدر: جان لوکہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو

صندلی ہاتھوں کا سحرستان

تالیف حیدر: ان ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جب میں غور سے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر پھیلی ہوئی ریت کی بے ترتیب بستیاں دنیا کی عظیم جنگوں کی یاد دلاتی ہیں۔