Categories
نان فکشن

وبا کے دنوں کا خواب – تالیف حیدر

میں جانتا ہوں کہ انسان اپنی زندگی میں بہت ساری باتوں کے متعلق سوچتا ہے اس خواہش کے ساتھ کہ کاش وہ سچ ہو جائیں، لیکن ان میں سے اکثر سچ نہیں ہوتیں، اس کے باجود انسان خواب دیکھتا ہے اور اس خیال کو اپنے ذہن سے کبھی نکال نہیں پاتا ہے کہ اس کی سوچی ہوئی باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ یقیناً میں بھی کچھ اسی کیفیت میں ہوں، اس لمحے جب میں سو چنے پہ مجبور ہوں کہ میرا یہ خواب جسے میں اس وبا کے دوران دیکھ رہا ہوں و ہ کیوں کر سچ ہو گا۔ہم اور آپ ان دنوں اپنے گھر وں میں ہیں، دنیا کے زیادہ تر لوگ خواہ وہ امیر ہو یا غریب ایک انجان سی بیماری سے ڈرے ہوئے ہیں۔ موت اور بیماری کا ڈر جو ہمیں ایک کونے میں سمیٹے دے رہا ہے۔ لوگوں سے، انسانوں سے اور اپنوں تک سے دور کر رہا ہے۔ اس لیے ہم اس وبا کو ایک وحشت بھر ی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ زندگی جو ابھی چند مہینوں پہلے بالکل معمول پہ چل رہی تھی کاش پھر سے ویسی ہی ہو جائے۔ لیکن ابھی ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے سوائے اس خیال کے کہ زندگی دوبارہ ڈھرے پہ لانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ میرا خواب اسی ڈھرے سے جڑا ہوا ہے۔

آپ کو شائد کچھ اچھا نہ لگے لیکن میں ان دنوں ایک مصیبت میں مبتلا ہوں کہ میں دوبارہ وہ اپنی ماضی والی زندگی چاہتا بھی ہوں یا نہیں۔ بے شک مجھے ابھی نہیں معلوم کہ یہ وبا کتنی پھیلے گی یا ہم اس کا کوئی کار گر علاج کب تک تلاش کر پائیں گے، میں خود جو اس وقت اپنے خواب کی باتیں کر رہا ہوں وبا کے شکنجے سے محفوظ رہوں گا یا نہیں، اس خواہش کے ساتھ سانس لے رہا ہوں کہ مجھے اپنی ما قبل وبا والی زندگی میں نہیں لوٹنا۔ بے شک سب معمول پہ آ بھی جائے تو مجھے اپنی زندگی کو ایک نئے طرز سے دوبارہ شروع کرنا ہے، میں اس خیال کے ساتھ خود کو نہ جانے کیوں بہت مسرور پاتا ہوں کہ شائد یہ وبا جو ہماری جانوں سے کھیل رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے ہیں اور لگاتار ہو رہے ہیں، ہمیں کچھ سکھا رہی ہے، یہ کسی میڈیا کے اینکر کا چیختا ہوا جملہ نہیں ہے، بلکہ ایک احساس ہے جسے ہمیں اپنے اندرون میں محسوس کرنا چاہئے۔

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ وبا پوری دنیا میں کئی برسوں بعد اس خیال کو پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کس حد تک جڑے ہوئے ہیں۔ انسانیت ایک دوسرے سے کتنی وابستہ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس بیماری کا کوئی پہلو مسرت بخش اور اچھا نہیں گردانہ جا سکتا، لیکن اسے ایک نظریے کےطور پہ دیکھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ ہم نے آخری بار کب اس بات پہ اپنے اندر کوئی تحرک محسوس کیا تھا جب ہم سے ہزاروں کوس دور بیٹھا ہوا کوئی شخص کسی بیماری سے مرا تھا۔ یہ موتیں جو ہمیں آئے دن میڈیا سے سننے کو ملتی ہیں یا وہ لوگ جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس انجانی وبا کا شکار ہو گئے ہیں تو ہم اندر سے دہل جاتے ہیں، وہ بھی صرف یہ سوچ کر نہیں کہ یہ کسی طرح اس شخص سے ہم تک نہ پہنچ جائے بلکہ یہ سوچ کر کہ یہ اس شخص کو اور اس کے اطراف کے لوگوں کو کتنا پریشانی میں مبتلا کرے گی۔ بہت سے لوگ اس بات پہ معترض ہو سکتے ہیں کہ یہ بیماری کسی کی کوتاہی اور لا پروائی سے پھیلی ہے، بہت سے اس بات سے بھی دکھی ہو سکتے ہیں کہ یہ حکومتوں کی چشم پوشی کا صلا ہے، لیکن جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ وبا ہر حال میں دھیرے دھیرے اپنے پاوں پھیلا رہی ہے تو ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ فلاں کو نقصان پہنچائے اور فلاں کو نہیں۔ ہم اور آپ نفرت کی جس عالمی منڈی میں بیٹھیے سیاست کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور جس کے باعث تقسیم اور انتشار ہمارے ذہنوں میں گھر کرتا چلا جا رہا ہے اس وبا نے اسے ختم کرنے کا سامان مہیہ کیا ہے۔ یقیناً یہ انسانوں کا لہو پی رہی ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پوری دنیا اس وقت ایک ایسے انتشار کے عالم میں مبتلا ہے کہ خود ایک دوسرے کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران میں موتوں کی خبر جب ایک ساتھ آتی ہے یا پاکستان اور ہندوستان میں اس بیماری کے متاثریں کا گراف ہمیں نظر آتا ہے تو ہم یکساں طور پہ مغموم ہوتے ہیں۔ حالاں کہ اس امر کی تحقیق جاری ہے کہ آخر یہ وبا چین کی وجہ سے پھیلی یا کسی اور ملک کی وجہ سے، اس کو پیدا کرنے والا کوئی تکنیکی ہتھیار بنا رہا تھا یا سپر پاور بننے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ان سب باتوں کے درمیان ہمیں اس بات پہ بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ وبا جتنے لوگوں کی جانیں لے رہی ہے اس سے ہم ایک نئی زندگی کی جانب اپنا سفر شروع کریں، جو لوگ اس وبا سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ہمیں ان کی موت کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے، ان کی موت خواہ کسی تکنیکی ہتھیار کی سیاسی سازش کے تحت ہوئی ہو یا ایک انجانی وبا کے اصل اسباب کی بنا پہ ہمیں انہیں ان شہدا میں گنا چاہیے جنہوں نے زندگی کے دھارے کو تبدیل کرنے کا کام انجام دیا ہو۔ میرا خواب جس کے تحت میں اپنی ماضی کی زندگی میں نہیں لوٹنا چاہتا اسی خیال سے جڑا ہوا ہے کہ ہم اس نفرت اور حرص بھرے ماحول میں دوبارہ کیوں لوٹیں جہاں سے زندگی کے اس موڑ پہ پہنچ کر ہمیں یعنی تمام انسانیت کو ایک انجانے خوف سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں بند ہو کر اپنے مستقبل پہ غور کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے، خواہ وہ کوئی حکومتی ادارے کا بڑا افسر ہو یا کسی ذاتی کمپنی کا سربراہ، کسی نجی دکان کا مالک ہو یا چار پیسوں پہ گزارا کرنے والا کوئی مزدور۔ ہم سب کو یہ سوچنے کا موقع نصیب ہوا ہے کہ زندگی کے تبدیل کرنے کا راستہ کیا ہوتا ہے۔ ہم سب ایک سی مصیبت میں ہیں اور یہ ایک سی مصیبت ہمیں ایک کرنے میں کوشاں ہے، تو کیا ہم اس امر کی جانب قدم نہیں بھڑانا چاہیں گے جس سے دوریاں اور نفرتیں جو ہمارے اطراف میں خود غرضی کے باعث گھلی ہوئی ہیں انہیں سینیٹائز کر دیا جائے، قومی اور ملی، مفاد، ملکی اور غیر ملکی تعصب،مذہبی اور غیر مذہبی حرکات و سکنات سے آگے نکل کر ہم ایک نئی دنیا کو تشکیل دینے کی جانب قدم بڑھائیں۔

میں اپنے ماضی کی طرف نہیں لوٹنا چاہتا، اس لیے کیوں کہ میں جس ماحول میں سانس لیتا رہا ہوں وہاں مجھے سیاسی الجھنوں کا شکار ہونا پڑا ہے، مذہبی جھگڑوں کا قہر جھیلنا پڑا ہے، بے روز گاری کی مار، حقارت کی نظریں، اونچ نیچ کی بپتا، رنگ، نسل کی تقسیم اور اسی نوع کے بے شمار عذاب برداشت کرنے پڑے ہیں۔ ان دنوں جو میں اپنے کمرے میں قید ہوں تو اس بات پہ میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آتی ہے کہ فی الحال ہی سہی کوئی مذہبی دنگا نہیں ہو رہا ہے، جز وقتی ہی سہی لیکن پڑوسی ممالک سے نفرت کی آگ نہیں بھڑک رہی ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہی سہی ہم لوگوں کے بھوکے پیٹوں کے متعلق سوچ رہے ہیں، مزدوروں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی مدد کرنے میں کوشاں ہیں۔ میں اس ماضی میں نہ لوٹنے کا خواب اس لیے دیکھ رہا ہوں کیوں کہ میں نے وہاں لوگوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ہے اور اس تجربے سے گزرا ہوں کہ ان سے ایک روٹی کو پوچھنے والا کوئی نہ تھا، میں نے اس زندگی میں لوگوں کے چہروں پہ اپنے جیسے دکھنے والے انسانوں کے لیے نفرت دیکھی ہے، اتنی زیادہ کہ جس میں برداشت کا شائبہ تک موجود نہ تھا، میں نے جھوٹے نعرے اور کھوکھلے وعدے دیکھے ہیں، عورتوں پہ ہونے والے مظالم اور بچوں کی لاشوں کے کاروبار دیکھے ہیں۔ میں آج جب اپنی بالکنی پہ کھڑا ہوتا ہوں یا اپنی چھت پہ تنہا ٹہلتا ہوں تو اس بات پہ غور کرتا ہوں کہ اگر یہ وبا چند روز بعد چلی بھی گئی یا ہم نے اس سے لڑنے کا کوئی ہتھیار بنا بھی لیا تو کیا ہوگا۔ ہم دوبارہ اپنی وحشیانہ اور لالچی حرکتوں کے ساتھ سڑکوں پہ اتر آئیں گے۔ حکومتیں لالچ اور مذہب کا کاروبار شروع کر دے گیں۔ لوگوں کے چیخ پکار سے ہوا آلودہ ہونے لگے گی۔ انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ ہونے لگے گا اور اسے عوام پہ ظاہر کرنے کے لیے لوگ راستوں پہ بھیڑ لگا کر جمع ہو جائیں گے۔ حفاظتی دستے اپنی طاقت کا غلط استعمال کریں گے۔ جوان لڑکیوں کی عزت پامال ہوگی اور کمزور وں کو ان کی تہذیب اور ماننیتاوں کے لیے مورد الزام ٹھہرا کر سر عام قتل کیا جائے گا۔ انسان سے زیادہ جانوروں کو اہمیت دی جائے گی۔ پڑوسی پڑوسی پہ چیخے گا، شناخت کے مسائل پھر سر اٹھائیں گے اور انسان بندوق کی نال کو سیدھا کر کے اپنی ناجائز خواہشیں پوری کرتا پھرے گا۔ پھر غریبوں کے بارے میں کون سوچے گا۔ مزدوروں کی دو وقت کی روٹی کی ذمہ داری حکومت کیوں لے گی۔ امیر اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں کے عوض میں انہیں چھٹیاں کیوں دیں گے۔ یقیناً اس وقت زندگی کا پہیا بالکل دھیما پڑ گیا ہے، لوگ اپنے کاموں پہ نہیں جا پا رہے ہیں، طرح طرح کی مصیبتوں کے شکار ہو رہے ہیں، معاشی نظام متاثر ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ بہت دیر تک نہیں چل سکتا۔ یہ وبا خواہ کتنے ہی ہزاروں لوگوں کی جانیں کیوں نہ لے لے، زندگی کو دوبارہ اپنے ٹریک پہ آنا ہے اور وہ یقیناً آ کر رہے گی، لیکن اگر ہم ذرا غور کریں اور اس امر کی جانب ایک قدم پڑھائیں کہ وہ ٹریک جس پہ دوبارہ زندگی کا پہیا دوڑے گا اس کا سفر ظلم و استبداد، حرص و طمع کی طرف نہ ہو کر انسانیت کی طرف ہو تو کتنا بہتر ہے۔ ایسی انسانیت جو بالکل اس وبا کی طرح انوکھی ہو، جس سے ہم اب تک بالکل انجان ہیں اور جس کا کوئی لائحہ عمل بھی ابھی ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن اگر ہم عزم کریں اور دوبارہ اس گھناونی دنیا کی طرف نہ لوٹنے کی سعی کو اپنا لکش بنا لیں تو مجھے یقین ہے کہ جس طرح بارہ مہینے میں ہم اس وبا کی ویکسین بنا سکتے ہیں اسی طرح کوئی نہ کوئی نئی انسانیت کا لائحہ عمل بھی ضرورتیار کر ہی لیں گے۔

Categories
فکشن

رفتار – تالیف حیدر

ناز نے اپنا بستہ درست کیا اس پہ لگی دھول جھاڑی اورلوئر برتھ کے نیچے سے نکال اسے سائیڈ اپر برتھ کی خالی کناری میں گھسیڑ دیا۔ آج بھی اس روٹ(Route) پر آنا اسے کچھ خاص پسند نہ تھا۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ اس کے بوڑھے ماں، باپ اپنےگاوں کو خیر باد کہنے پر راضی نہ ہوئے تھےاور شہر کی زندگی جس میں ناز کو لطف کی جھلکیاں نظر آتی تھیں، اس کے ماں، باپ کو وحشت ہوتی تھی،یہی وجہ ہے کہ ناز سال،چھ مہینے میں اپنے والدین سے اس وقت اپنے چھوٹے بھائی کی نیم شہری علاقے میں واقع رہائش گاہ پر جاکر مل لیا کرتا تھا جب وہ اپنے منجھلے بیٹے کی محبت میں گاوں سے وہاں تک کھنچے چلے جاتے تھے۔ اس کااپنے آبائی مکان تک جانے کا اتفاق کم ہوتا تھا۔ اس مرتبہ بابا کی طبیعت خراب تھی اور ناز کے بھائی،بہن بھی ان سے ملنے گاوں پہنچے ہوئے تھے۔ باعث مجبوری اسے بھی گاوں کا سفر کرنا پڑا۔

ناز اپنے شہر سے گاوں جانے کے لیے سوائے ٹرین کسی اور ذریعے کا استعمال نہیں کر سکتا تھا، کیوں کہ ا س کا آبائی مکان جس گاوں میں تھا وہاں تک پہنچنے کے لیے “چھوٹی لائن “پہ چلنے والی ٹرین سے سفر کرنا ہوتا تھا۔ راستے کچے تھے اور گاڑی سے اس گاوں میں اکا دکا لوگ ہی آیا کرتے تھے۔ جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی زمین کا سینہ گاڑی کے پہیوں کو اتنا اچھالتا کہ اندر بیٹھے لوگوں کا کلیجہ منہ کو آجاتا۔ یوں بھی شہر سےآنے والے ان لوگوں کو جو ٹرین کے بجائے گاڑی کو ترجیح دیتے،گاوں کے لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، اول تو گاوں والے اس کے عادی نہیں تھے، دوسرے انہیں اس طرح کے مہمانوں سے خوف آتا تھا۔ ناز گاوں والوں کی ان نفسیاتی الجھنوں سے واقف تھا کیوں کہ وہ بھی ایک عرصے تک انہیں کے درمیان رہا تھا۔

جس ٹرین سے ناز سفر کر رہا تھا اس میں پریشانی یہ تھی کہ ریزرویشن کی سہولت برائے نام تھی، ہر ڈبہ،فرسٹ کلاس ہو یا سکینڈ کلاس ایک طرح کے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کس کے پاس ٹکٹ ہے اور کس کے پاس نہیں اس کا تصور کر پانا مشکل تھا، جب گاڑی چمن گنج سے ہوتی ہوئی بھدریہ آتی تو گاڑی میں سفید جلیبی نما پگڑی باندھے، مٹ میلے کرتے اور دھوتی میں ملبوس لوگوں کا اتنا اضافہ ہو جاتا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہتی۔ ناز کا گاوں بھدریہ سے چھ گھنٹے کی دوری پہ تھا۔ وہ شہر سے فرسٹ کلاس،رزرویشن کروا کر چلا تھا مگر اس کا ڈبہ تھرڈ ڈویژن بن چکا تھا۔ اسےہر طرف سر ہی سر دکھائی دے رہے تھے، جس نے اسے الجھن میں ڈال دیا تھا۔وہ جلد گھبرا جانے والا کمزور ارادہ شخص تھا۔ مجبوری نہ ہوتی تو وہ اس طرح سفر نہ کرتا۔ باربار اسےخیال آتا کہ اپنے ارد گرد جمع بھیڑ کو ڈانٹ کر دور بھگا دے اور ریزر وسیٹ پہ لیٹ جائے۔ وہ جانتا تھا کہ جس طرح اس نے اپنے سفر کے چھے گھنٹے حبس زدہ ماحول میں گزارے ہیں مزید چھے گھنٹے اسی ماحول میں گزارنا ہیں۔ کسی کسی لمحے میں یہ خیال اسے چڑ چڑا بنا دیتا۔ وہ اپنی سیٹ پر آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنے ماتھے پر ابھرنے والی لکیروں کو ہلکے ہلکے دبا رہا تھا۔ ایک ٹانگ ٹرین کے فرش پر تھی اور دوسری تنگ دستی کے باعث پہلی پر موڑ کر رکھنا پڑی تھی۔ ٹرین جب جب ذرا دھیمی ہوتی تو وہ آنکھیں کھول کر اپنے اطراف کا جائزہ لیتا۔ کچھ میلی کچیلی گردنیں، جن کے گرد سفید کالر کا سیاہی مائل حلقہ اپنی بے چارگی کا اظہار کر رہا ہوتا۔ ابھرے ہوئے پیٹ کی بٹیاں نکالی ہوئی پرانی رنگ برنگی ساڑیوں میں ملبوس عورتیں جن کے چہروں سے مصیبت اور پریشانی کا اندازہ لگا یا جا سکتا تھا۔ جگہ جگہ دو،دو، تین تین برس کے بچے جن میں سے کچھ بھیڑ کی حرکتوں کو حیرانی سے تکتے ہوئے اور کچھ چیخ مار کر روتے ہوئے۔ وہ اپنے اطراف سے بری طرح اکتایا ہوا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ گاڑی کی رفتار کم ہو رہی ہے، اس نے بھیڑ کے درمیانی خلا سے ٹرین کی کھڑکی کے باہر نظر ڈالی، چاروں طرف کھیت ہی کھیت تھے، دور کہیں چھوٹی چھوٹی دو ایک پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں، دھوپ بہت تیز تھی جس کی شدت کھڑکی کے قریب بیٹھے دو چار بوڑھے محسوس کر رہے تھے۔ گاڑی دھیمی ہوتے ہوتے رک گئی۔ ناز تھوڑی دیر تک اسی حالت میں بیٹھا گاڑی کے چلنے کا انتظار کرتا رہا، مگر جب اسے اس حبس زدہ ماحول میں سانس لینا بھی مشکل معلوم ہونے لگا تو اس نے اپنا بستہ اوپر والی سیٹ کی جھری سے کھینچا اسے اپنی نشست پہ رکھا اور اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے شخص سے یہ کہتا ہوا کہ وہ ابھی واپس آ رہا ہے وہاں سے دروازے کی طرف چلا گیا۔ دروازے تک پہنچنے میں اسے خاصی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جگہ جگہ لوگوں سے ٹکراتا ہوا کسی کو دھکا دیتا اور کسی سے معذرت کر کے جگہ طلب کرتا ہوا جب دروازے تک پہنچا تو ہوا کا ایک جھکڑ اس کے چہرے سےٹکرایا۔اس بے وقت کی تازہ ہوا نے اس کے پورے بدن میں ایک خوشگوار لہر دوڑا دی۔ناز نے دو ایک لوگوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ بنا کر وہیں کھڑے رہنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ دیر میں گاڑی دھیمی رفتار سے چلنے لگی اور دھوپ کی شدت میں قدر ےکمی محسوس ہونے لگی۔ عین ممکن ہے دھوپ کی شدت کو گاڑی کی بڑھتی رفتار نے کم کر دیا ہو۔ دھوپ کی تمازت کو کم کرنے میں بادلوں کے وہ دو چار ٹکڑے بھی اپنا کردار ادا کر رہے تھے جو آسمان کی تھالی میں کہیں کہیں روئی کے بکھرے ہوئے گچھوں کی مانند پڑے تھے۔ گاڑی کی رفتار دھیرے دھیرے بڑھتی چلی گئی۔ نا ز ٹرین کے دروازے پراس طرح کھڑا تھا کہ اس کے ایک پاوں کی صرف ایڑی ٹرین کے باہری دروازے کی پائیری پر رکھی ہوئی تھی اورپنجہ ہوا میں تھا۔ وہ کبھی باہر کی بھاگتے ہوئے مناظر کو دیکھتا اور کبھی آسمان میں بکھرے بادل کے گچھوں کو۔ اس کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے کھیت کھلیان اسےدھوپ کے باعث بیزار کن معلوم ہورہےتھے جب کہیں کوئی گائے، بکری یا کتوں کا جھنڈ نظر آتا تو وہ اسے للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتا۔وہ سامنے آتے اور آن واحد میں تیزی سے پیچھے کی طرف چلے جاتے، ناز اپنی گردن گھما کر اس وقت تک ان کا تعاقب کرتا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔ منظروں کی قلت اسے جانداروں کے دیدار میں سکون بخش رہی تھی۔اچانک اسے ایسا محسوس ہوا کہ گاڑی ایک زور دار جھٹکے سے تھرا اٹھی ہے۔ ایک لہر جو اس کے اریب قریب کے لوگوں نے بھی محسوس کی تھی، سب کے منہ سے بیک وقت ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی۔ اب سب ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں چہ مگویاں شروع ہو گئیں۔ ناز بھی حیران تھا۔ اگر اس نے ٹرین کے ہتھے کو مضبوطی سے نہ تھاما ہوتا تو شائد وہ باہر لڑھک جاتا۔ اس نے اپنے برابر والے شخص کو دیکھا جو حیرانی سے اس کا منہ تک رہا تھا۔ “یہ کیا تھا؟”ناز نے استفسار کیا۔”شائد کوئی جانور ٹکرا گیا ہے۔ ایسا اس لائن پہ اکثر ہوتا ہے۔” ناز نے سو چا کہ اگر کوئی جانورٹکراتا تو بھی کیا اتنی زور کا جھٹکا محسوس ہوتا۔ اس نے فوراً اپنی دوسری ٹانگ اندر لے لی اور دروازے کی طرف پیٹھ کر کے اپنے سرہانے موجود آہنی ڈنڈے کو مضبوطی سے تھام کر کھڑا ہو گیا۔ “مجھے نہیں لگتا، شائد زمین ہلی ہے۔” اس نے اپنے مخاطب سے کہا۔ “نہیں بھائی، یہ کوئی بڑا جانور ہی تھا۔”قریب کھڑے لوگوں نے بھی اس کی بات کی تائید کرنا شروع کر دی۔ ناز نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ ہوا میں کسی چیز کے جلنے کی چراند شامل ہو گئی ہے۔ اس نے اپنے نتھنے اپنی جیب میں پڑے رومال کو نکال کر اس سے ڈھک لیے۔ اس کا جی متلا رہا تھا۔ “یہ اسی جانور کے خون کی مہک ہے بابو “اس کے برابر میں کھڑے ایک بوڑھے آدمی نے بتیسی نکالتے ہوئے کہا۔ “ایسا یہاں ہوتا رہتا ہے۔ڈرائیور صاحب بھی کیا کریں گے۔ گاڑی تیز ہوتی ہے اور یہ سسری گائے بھینس بیچ ٹریک پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ لاکھ ہارن دو نہیں سنتی اور گاڑی کی اسپیڈ ان کی وجہ سے بار بار کم کرتے رہے تو ایک دن کا سفر چار دن میں پورا ہوگا۔ “ناز اس بوڑھے شخص کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ گاوں میں انسان اور جانور دونوں کے متعلق اسی طرح سوچا جاتا ہے۔ اگر کوئی گاوں والا بھی اس ٹریک کے درمیان اپنی دھوتی پٹری میں اٹک جانے کی وجہ سے کھڑا ہوتا تو بھی ڈرائور صاحب گاڑی نہیں روکتے۔ اس نے گاوں کو ہمیشہ سے ایسا ہی پایا تھا، جہاں جان کی قیمت شہر کے مقابلے میں خاصی کم تھی۔ اسے یاد آیا کہ جب کبھی وہ بچپن میں اپنے آٹھ،دس دوستوں کے ساتھ املی یا آم کے پیڑ پر چڑھا کرتا اور پیر پھسلنے کی وجہ سے گر جاتا تھا تو اس کے تمام دوست صرف اس پر ہنستے تھے کوئی اسے اٹھانے یا اس کی مدد کرنے آگے نہیں آتا تھا۔ ایک دفع تو” بدھ پورہ” کا ایک لڑکا اسی کے سامنے پیڑ سے گر کر مر بھی کیا تھا اور تمام دوست صرف ہنستے ہی رہے تھے۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ مر چکا ہے تو اسے چھوڑ کروہاں سے بھاگ گئے۔بعد میں باغبان نے اس کی موت کی خبر گاوں والوں اور اس کے گھر والوں تک پہنچائی تھی۔

ناز یہ تمام باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ ٹرین کی ایک زور دار سیٹی نے اس کے تخیل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ گاڑی کی رفتار ایک مرتبہ پھر سے کم ہو رہی تھی۔ اس نے ٹرین کے باہر جھانک کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ کوئی اسٹیشن آنے والا ہے۔ جگہ جگہ لوہے کی پچاس پچاس فٹ لمبی پٹریاں بے ترتیبی سے پڑی تھیں۔ کہیں کچھ اینٹوں کا ڈھیر نظر آ رہا تھا اور کہیں کہیں بالوں، مٹی اور بجری کے تودے دکھائی دے رہے تھے۔بجلی کے کھمبے اب دروازے سے کچھ قریب آگئے تھے۔ اس کے پیچھے سے کچھ لوگوں نے اپنا سامان اٹھا کر دروازے کی طرف آنا شروع کر دیا تھا۔ ناز اور اس کے برابر میں کھڑے شخص نے اندر سے دروازے کی طرف آتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ دیکھی تو کچھ کھسکنے کی کوشش کی۔ ناز کو لگا کہ اس وقت اس ریلے کو پار کر کے اپنی جگہ تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا اس لیے وہ اپنی جگہ کھڑا رہا اس کے برابر والا شخص مشقت کرتا ہوا ریلے کے درمیان کہیں گم ہو گیا تھا۔ ناز نے سوچا میں اگلے اسٹیشن پہ اتر کے اس ریلے کو باہر نکال دوں گا اور دوبارہ سوار ہو جاوں گا۔ اس خیال نے اسے مطمئن کر دیا تھا۔ بھیڑ دروازے تک آچکی تھی۔ دو ایک لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا وہ اترے گا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ گاڑی کی رفتار اب خاصی کم ہو چکی تھی۔ ناز اپنا چہرہ باہر نکال کر آتے ہوئے اسٹیشن کو دور سے دیکھ سکتا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اسٹیشن پر خاصی بھیڑ ہے۔ یہ اندازہ کر پانا مشکل تھا کہ کتنے لوگ گاڑی میں موجود لوگوں کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں اور کتنے اسی گاڑی میں چڑھنے کے لیے۔ اس نے سوچا کہ اس چھوٹے سے گاوں میں بھی کتنے زیادہ لوگ رہتے ہیں کہ ایک ٹرین کے آنے پر اتنی تعداد اس کا استقبال کرنے کے لیے کھڑی ہے۔ناز کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اسٹیشن پہ موجود لوگ ٹرین میں سوار ہونے ہی آئے ہیں اور اس نے وقت پر پیچھے نہ جا کر غلطی کی ہے، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اس کے پیچھے بھی اب خاصی تعداد اترنے والوں کی تھی اور وہ اس بات کا اعتراف بھی کر چکا تھا کہ اسے بھی آنے والے اسٹیشن پہ اترنا ہے۔ گاڑی اسٹیشن پہ پہنچی تو اترنے اور چڑھنے والوں میں ایک ہنگامی لہر دوڑ گئی۔ سب اتنی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے لگے کہ ناز کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس کے پیچھے والے اسے دھکیل کر آگے آنے کی کوشش کر نے لگے۔ دو ایک ہلکی چلتی ہوئی ٹرین سے ہی کود گئے۔ کچھ چلتی ہوئی ٹرین کے آہنی ڈنڈوں سے بھاگ بھاگ کر لٹکنے لگے۔ ابھی گاڑی رکی بھی نہ تھی کہ ایک جم غفیر دونوں طرف سے ٹوٹ پڑا۔ چڑھنے اور اترنے والے دونوں ایک دوسرے میں گندھ گئے۔ناز ان دونوں کے درمیان بری طرح پھنس گیا تھا۔ جب گاڑی پوری طرح رکی۔ ایک ایک دو دو لوگ طاقت لگا کر اترنے لگے۔ ناز نے بھی اسی میں عافیت جانی کہ کسی طرح اتر جائے۔ اس نے اپنے آس پاس والوں کو اپنی پوری طاقت سے دھکیلا۔ کسی پر چلایا، کسی کے کوہنی گڑائی اور نہایت محنت و مشقت کا سامنا کرتے ہوئے اس بھیڑ سے خود کو باہر نکالا۔

دو منٹ تو اس بھیڑ سے الگ ہٹ کر ایک کونے میں گیا اور اپنی سانس درست کی۔ اور اگلے ہی لمحے میں دروازے کی طرف نگاہ کی تو اس کی روح کانپ گئی۔ دروازے پر لٹکے ہوئے لوگ اس طرح باہر کی طرف گرتے ہوئے معلوم ہو رہے تھے جیسے کسی نے زبر دستی انہیں ٹرین کے ڈبوں میں ٹھونس دیا ہو۔ دروازوں پر، چھتوں پر، کھڑکیوں پر ہر طرف صرف آدمی ہی آدمی نظر آرہا تھا۔ ناز کو فوراً اپنی حماقت کا احسا س ہوا کہ اس نے اپنی نشست سے اٹھ کر دروازے پہ آ کے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ وہ حیران اور پریشان تھا کہ اب کس طرح دوبارہ اپنے ڈبے میں سوار ہو۔ پھر فوراً اسے اپنے بستے کا خیال آیا کہ یقیناً اس جگہ پہ بھی اب تک کوئی نہ کوئی بیٹھ چکا ہوگا اور اللہ جانے اس کے بیگ کا کیا بنا ہوگا۔

ناز کچھ دیر اسی حالت میں کھڑا رہا، پھر اس نے کچھ سوچ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو جائے وہ اس ڈبے میں سوار ہو کر رہے گا۔ اس کا گھر پہنچنا ضروری تھا اور وہ اس طرح اپنے سامان کا بستہ ٹرین میں چھوڑ کر کسی انجان جگہ تو نہیں رک سکتا تھا اور اگر رک بھی جاتا تو یہاں سے نکلنے کا یہ ہی ایک طریقہ تھا کہ اگلی ٹرین آئے اور اس میں سوار ہو کر اپنے گاوں جائے اور یقیناً اگلی ٹرین کا بھی یہ ہی عالم ہو گا۔ اول تو اس اسٹیشن پہ ٹرنیں ہی بہت دیر دیر میں آیا کرتی تھیں، پھر بہت کم ٹرینیں تھیں جو یہاں رکتی بھی تھیں۔وہ انہیں سب باتوں پہ غور کرتا ہوا اپنی جگہ سے آگے بڑا اور مشقت کرنے لگا کہ کہیں کسی تھوڑی سی جگہ پہ صرف پیر ٹکانے بھر کا آسرا ہو جائے تو وہ اپنے گاوں تک کاسفر اسی طرح طے کر لےگا۔ لیکن اس کی ہزار کوششوں کے باوجود اسے رائی برابر جگہ نہ ملی۔ ناز نے اپنے ڈبے کے اگلے اور پچھلے ڈبوں میں کونے کھدرے تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہاں بھی ناکامی ہاتھ آئی۔ وہ چھت پہ چڑھنے میں بھی ناکام رہا تھا کیوں کہ چھت کے ہر اس مقام پر جہاں لوگ سوار ہو سکتے تھے سوار تھے، حتی کہ ڈبوں کے درمیان موجود آہنی ستونوں پر بھی دس دس، پندرہ پندرہ لوگ جمے ہوئے تھے۔ ناز کی کئی مرتبہ کی کوششوں کے باوجود بھی جب اسے کامیابی نہ ملی تو وہ ایک اور بار نا امید نظر آنے لگا۔ اسی دوران ٹرین نے روانگی کی صدا بلند کی اور ناز کے دل کی دھڑ کن بڑھنے لگی۔ اس کے ذہن میں برے برے خیالات آنے لگے۔ اب میرا کیا ہوگا؟ میں گھر کیسے پہنچوں گا؟ یہاں کہاں رکوں گا؟ کب تک رکنا ہوگا؟ یہ ٹرین چھٹ گئی تو اگلی ٹرین جانے کب تک آئے گی؟ اسے کئی طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ٹرین نے جوں ہی دوسری سیٹی بجائی کہ اسی کے ساتھ اس میں حرکت بھی پیدا ہو گئی۔ اب ٹرین دھیمی رفتار سے پلیٹ فارم سے آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ناز کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں وہ کچھ دیر تو اپنے ڈبے کے ساتھ چلا پھر، کچھ سوچ کر اپنے ڈبے کی اس کھڑکی کے پاس دوڑا جہاں سے اس نے باہر جھانک کر بھاگتے کھیتوں اور پہاڑیوں کا منظر دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر میں سوار نہیں ہو سکتا تو کسی سے کہہ کر اپنا بستہ کھڑکی سے باہر پھنکوا لوں۔ اس افرا تفری میں وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ لوہے کی سلاخوں سے بستہ کسی صورت باہر نہیں آ سکتا۔ مگر جوں ہی وہ کھڑکی کے قریب پہنچا اسے یہ راہ بھی تاریک دکھائی دینے لگی۔ کیوں کہ کھڑکی سے ڈبے کے اندر کا منظر نہایت وحشت ناک تھا۔ صرف کچھ عورتوں اور مردوں کی کمر کے گرد کا علاقہ کھڑکی سے نظر آ رہا تھا۔ کچھ دیر قبل جو دو چار بوڑھے اس کی کھڑکی سے لگے بیٹھے تھے اب وہ بھی ندارت تھے اور ان کی جگہ سات، آٹھ لوگ بہت مشکل سے کھڑکی کے قریب والی سیٹ پر ٹھنسے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ٹرین کی رفتارمیں اب مزید اضافہ ہو گیا تھا، ناز کچھ دور تک اپنے ڈبے کے تعاقب میں دوڑتا رہا پھر اس سے پیچھے ہو گیا۔ پھر مزید پیچھے اور دیکھتے ہی دیکھتے بالکل آخری ڈبے کے قریب آ گیا۔ ٹرین اب اس رفتار سے چلنے لگی تھی کہ ناز پوری طرح مایوس ہو گیا تھا کہ اچانک اسے آخری ڈبے کے پاس اپنے لیے پاوں ٹکانے کی ایک جگہ نظر آ گئی۔ جوں ہی اس کی نگاہ اس پائدان پر پڑی اس کے بدن میں برق سی دوڑ گئی۔ اس نے نا قابل بیان تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوڑ لگا دی اور آخری ڈبے سے ملحق آہنی ڈنڈے کو تھام کر اس پائدان پر اپنا ایک پیر ٹکا دیا۔ ناز کا پیر ٹکتے ہی ٹرین اپنی مکمل رفتار پر آ گئی۔ اگر اسے ذرا بھی دیر ہوتی تو وہ کسی طرح اس پائدان تک نہیں پہنچ پاتا۔ ناز اب اس آہنی ڈنڈے کو پکڑ کے ایک پیر ٹرین کے پائدان پہ ٹکائے ہوا میں جھول رہا تھا۔ دوڑنے کی وجہ سے اس کا سارا بدن پسینے سے شرابور ہو گیا تھا۔ اس کی سانس تیزی سے چل رہی تھی اور ان کے چہرے پر تھکن کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود وہ اندر ہی اندر بہت خوش تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہے۔ اس کی خوشی کا اظہار اس مسکراہٹ سے بھی ہورہا تھا جو اس کے تھکے ہوئے چہرے پر رہ رہ کر چھا رہی تھی۔ اس بھاگم دوڑی میں کچھ دیر کے لیے ناز سب کچھ بھول گیا تھا کہ وہ کیوں دوڑ رہا ہے، کتنا دوڑ رہا ہے اور اس دوڑنے کا حاصل کیا ہے۔ وہ تو بس دوڑ کر اس پائدان پر اپنا پاوں جمانا چاہتا تھا، جس میں اسے کامیابی نصیب ہوئی تھی اور اس کی پھولتی سانسیں پسینے میں بھیگاہوا سے تروتازہ ہوتا بدن اس بات کا جشن منا رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔ تقریباً پندہ سے بیس منٹ ناز کی یہی کیفیت رہی کہ وہ رہ رہ کر خوش ہوتا رہتا۔ مگر جیسے جیسے وہ اس کیفیت سے باہر آ رہا تھا اسے ایک نئی مصیبت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب گاڑی اگلے چھ گھنٹوں تک چلتی رہے گی یا کہیں رکے گی بھی اسے اس عالم میں ایک ہاتھ سے آہنی ڈنڈا تھامے ایک پاوں ہوامیں لٹکائے کب تک جھولتے رہنا تھا۔ اس خیال نے اسے اندر تک لرزا دیا۔ اس کے آس پاس اور بھی کئی لوگ تھے جو اسی طرح جھول رہے تھے مگر ناز کے مقابلے میں وہ تجربے کار معلوم ہوتے تھے۔ ناز نے ایک بار بغور اپنے اطراف کا جائزہ لیا اس کے آگے فوجی کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان لڑکا تھا جس کی عمر تقریباً بیس یا اکیس برس کی تھی۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کےساتھ زور زور سے کچھ گا رہا تھا۔ ان میں وقتاً فوقتاً کوئی مذاق ہوتا اور سب ایک ساتھ ٹھھٹے مار کر ہنستے۔ ناز نے کافی دیر تک اسی کشمکش میں رہنے کے بعد اس نوجوان سے تقریباً چیخ کر پوچھا کہ گاڑی اب کہاں رکے گی۔ فوجی نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔” بھیم پورہ” یہ سنتے ہی ناز کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ کیوں کہ یہ خود اس کے اپنے گاوں کا نام تھا۔ اس نے دوبارہ ہمت جٹا کر پوچھا ” کیا اس سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔” لڑکے نے اپنے علاقائی لہجے میں کہا”کہ اگر رکنا چاہے گی تو رک جائے گی، البتہ اگلا اسٹوپ تو و ہی ہے۔ ”

یہ سننا تھا کہ ناز کی الجھن انتہا تک پہنچ گئی۔ وہ اب اپنی ٹرین پکڑنے کی خوشی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے دانت مضبوطی سے بھنچے ہوئے تھے اور اس کا بدن ایک انجان غصے میں کانپ رہا تھا۔ اس نے خود پر لاکھ لعنت، ملامت کی، اس سفر کو ہزاروں صلواتیں سنائیں اور گاوں کی ولدیت پہلے وضع کی پھر اس میں کئی مرتبہ ترمیم کی۔ اسے خو د پر بھی بہت غصہ آ رہا تھا۔ آخر ایسا کیا تھا کہ وہ ٹرین چھوڑ نہیں سکتا تھا، وہ اپنے گذشتہ فیصلے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ خود کی حماقتوں کو دل ہی دل میں گالیاں دینے لگا۔ اسے شدت سے محسوس ہوا کہ اپنی نشت سے اٹھ کر اس نے بہت بڑی غلطی کی تھی، مگر اب ان تمام باتوں سے کیا ہو سکتا تھا، اس کو اسی طرح لٹکا رہنا تھا، اسی طرح جھولتے ہوئے چھ گھنٹوں کی مسافت طے کرنا تھی، اس کا یہ ارادہ کہ اب کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار یا خاندان والا خواہ مر بھی کیوں نہ جائے وہ اس گاوں کا سفر کبھی نہیں کرے گا۔ لیکن اس سے بھی اس کی تکلیف میں کمی پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ اپنے مزاج سے واقف تھا کہ اسے کتنی دیر تک اپنی حماقتوں پر غصہ آتا رہے گا۔ ساتھ ہی بدن کو مشقت میں ڈالنا بھی اسے کچھ خاص پسند نہ تھا۔ چھ گھنٹے تک آدھے بدن کے ساتھ ہوا میں جھولتے رہنےکا خیال ہی اسے پریشان کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ناز اسی عالم میں گھبراہٹ کا شکار ہو رہا تھا۔ جوں جوں ٹرین کسی موڑ پر جھٹکا کھاتی یا پٹری بدل کر ہلکا سا لڑ کھڑاتی تو اسے محسوس ہوتا کہ اس کی جان پورے بدن سے کھنچ کر گلے میں آ گئی ہے۔ وہ ایک طرح کی سرد لہر ایسے موقعوں پر اپنے بدن میں دوڑتی ہوئی محسوس کرتا۔ پھر جب ٹرین دوبارہ اعتدال سے چلنے لگتی تو اسے اپنی غلطیوں کا احساس ستانے لگتا۔ سورج کی تپن اب کچھ کم ہونے لگی تھی اور اس کی جگہ سایہ لے رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو یوں لگا جیسے آسمان اس کی حماقتوں پر قہقہے لگا رہا ہے۔ ناز کے باطنی حالات اس دورانیے میں خاصی پیچیدہ کیفیات سے دو چار ہو رہے تھے۔ جس میں نفرت کا جذبہ واضح طور پر اس کے دل پر چھا رہا تھا۔ وہ جب غور کرتا کہ اس نے اپنے والدین سے کئی مرتبہ کہا کہ وہ گاوں کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیں اور اس کے ساتھ شہر میں رہیں، جہاں ان کے لیے ہر طرح کی سہولیات مہیا تھیں،مگر اس معاملے میں انہوں نے اس کی ایک نہ سنی،تو اس کا غصہ مزید بڑھ جاتا،وہ ماں، باپ کو جاہل اور دیہاتی تصور کرنے لگتا، جو ایک ایسے کھونٹے سے بندھے رہنے کو سب کچھ سمجھتے تھے جہاں زندگی کی معمولی سے معمولی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں۔ اسے اپنے بھائی، بہن پر بھی غصہ آ رہا تھا جنہوں نے اجتماعی طور پر اسے گاوں آنے کی دعوت دی تھی۔ جب جب ناز کو ایسا لگتا کہ اس کا پاوں ہوا کے تیز جھونکے سے پائدان پر سے کھسک جائے گا تو اس کے تمام احساسات ہوا ہو جاتے اور اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا۔ اس درمیان میں اس نے اپنے سے آگے لٹکے ہوئے لوگوں سے کئی بار منتیں مانگ مانگ کر گڑگڑاہٹ کے ساتھ کچھ اندر کھسک جانے کی التجائیں بھی کی تھیں، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔ دو ایک مرتبہ جب اس نے رو دینے والے انداز میں اس فوجی لباس میں ملبوس نوجوان سے استدعاکی تھی تو اس نے پلٹ کے ہنستے ہوئے کھرا سا جواب دے دیا تھا کہ” لٹکا رہنا ہے تو رہ نہیں تو کود جا۔” پھر اپنی علاقائی زبان میں اپنے تمام دوستوں سے کچھ کہا جس پر سب ایک ساتھ روز سے ہنسے۔

ناز کو تھوڑی تھوڑی دیر میں گھبراہٹ کے باعث اپنی انگلیوں میں پسینے کی بوندوں کے ابھرنے کا خدشہ بھی محسوس ہوتا تھا۔ وہ خود پر قابو پانے کے لیے اپنے ہوا میں جھولتے ہوئے ہاتھ کو با ر بار اپنے چہرے پر پھیرتا، بدن کو اکڑا کر ہاتھ کی گرفت میں مضبوطی پیدا کرنے کی سعی کرتا اورپاوں گا اگلا حصہ جو پائدان پر ٹکا ہوا تھااس کو ہلکی ہلکی جنبش سے آگے بڑھانے کی کوشش کرتا رہتا۔ وہ اس وقت جس حال میں تھا اسے اپنے بدن کی گردش اور قوت کی سلامتی پر بھر پور توجہ صرف کرنی پڑ رہی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی ذرا سی غفلت اسے موت کے اندھے غار میں کہیں گم کردے گی۔ انہیں حرکتوں کے درمیان جب اسے لمحے بھر کا سکون ملتا یا ڈر کی کیفیت پر ذہن جوں ہی قابو پاتا تووہ اپنی زندگی سے متعلق لوگوں کے بارے میں سوچنے لگتا کہ اگر اس کی ہمت جواب دے گئی، اگر اس کا ہاتھ چھٹ گیا تو اس کے خاندان اور گھر بار کے تمام لوگ کیسا محسوس کریں گے۔ کیا اس کی موت سے اس کے والدین اور بھائی بہن کو صدمہ پہنچے گا؟ کیا اسے اجتماعی طور پر گاوں بلوانے کی تجویز پر سب کف افسوس ملیں گے؟ کیا وہ شدت غم سے خود اسی کی طرح موت کے اندھیروں میں کہیں کھو جائیں گے؟پھر جوں ہی خیالات کے بھنور پر ہوا کا ایک تیز چھپکا پڑتا تو سارے تصورات رخصت ہو جاتے وہ پھر ہاتھ کی گرفت اور پاوں کو آگے کھسکانے کے متعلق غور کرنے لگتا۔ ناز اس دورنیے میں اپنا بدن آخری حد اکڑائے ہوئے تھا جس کی وجہ سے اس کی پسلیوں میں ہلکا سا درد سرایت کرنے لگا تھا۔ پٹھے آہستہ آہستہ اکڑ رہے تھے، جب اس کا ذہن بدن میں درد کے گھروندے تعمیر کرتی ہوئی لہر پر جاتا تو وہ زور سے چیختا جس پر اس آگے لٹکے ہوئے نوجوان بھی یک زبان ہو کر اس کی صدا کا ساتھ دیتے پھر اجتماعی طور پر ہنستے اور ناز بیچارگی کے عالم میں ان کی ہنسی کی صدا پر دل ہی دل میں روہانسا ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اس چیخنے کے عمل سے اسے نہ جانے کیسے ایک انجانی طاقت حاصل ہو تی، وہ چیخنے سے پہلے اور اس کے بعد کی توانائی میں خاصافرق محسوس کرتا۔ اسے لگتا جیسے چیخ کر اس نے اپنے بدن پر رینگتے ہوئے کمزوری کے کیڑوں کو اس طرح جھاڑ دیا ہے جیسے کوئی بھیڑ،بکری یا کتا اپنے بدن سے لپٹی گندگی کو خود سے دور کر دیتا ہے۔

وہ اسی عالم میں اپنی نفسیاتی الجھنوں سے جوجھتے ہوئے اور اپنی گرفت کو مضبوطی سے برقرار رکھے ہوئے تقریباً ایک گھنٹے تک لٹکا رہا۔ اس دوران ٹرین مستقل ہوا سے باتیں کرتی رہی، کبھی ندی، تالاب اور جھیل کے اوپر سے گزرتی، کبھی دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں میں ترچھی،بانکی ہو کر دوڑتی رہتی، کبھی کسی نیم آباد گاوں کی جھوپڑیوں اور پھوس کے چھپروں سے مزین گھروں کے درمیان سے نکلتی اور کبھی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے بیچ ناگن کی طرح لہراتی ہوئی آگے کی طرف بڑھتی۔ ناز اب اس لمحے کے بارے میں رہ رہ کر سوچ رہا تھا جب وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا بھیڑ کی آوازوں سے اکتا رہا تھا۔اسے محسوس ہو رہا تھا کہ ان لمحوں میں کیسا سکون تھا، کتنی بے پروائی اور کیسی اندورنی خاموشی جس میں مشقت کا شائبہ بھی موجود نہ تھا۔ ان لمحوں میں اس کے لیے زندگی کی قیمت دو کوڑی کی تھی۔ وہ اپنے ہونے کو بھی کچھ خاص اہمیت نہیں دے رہا تھا اور اب جبکہ اس کے بازو تکلیف سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ بدن تھکن کے باعث ڈھیلا پڑتا چلا جا رہا ہے، سانسیں تیز ہوا سے الجھ کر اپنی حقیقت سے نا آشنا ہو رہی ہیں، زندگی اس کے لیے ایک قیمتی شے بن گئی ہے۔ اسے معلوم تھا کہ وہ تھک چکا ہے، مگر اپنی گرفت کو ڈھیلا نہیں کرسکتا، وہ جانتا تھا کہ اس کی پیٹھ،گردن اور رانوں کے پٹھے تن گئے ہیں مگر انہیں خاطر میں نہیں لا سکتا تھا، جبکہ اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کی آوازیں اور ان کی قربت اسے اتنی گراں گزر رہی تھی کہ وہ حبس دم میں مبتلا ہوتا چلا گیا تھا۔ ناز کو احساس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے اطراف سے کتنی جلد اکتا گیا تھا جبکہ وہ اطراف اس کے لیے کسی مصیبت کی وجہ نہ بنا تھا۔

ٹرین کی رفتار دھیمی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، سورج اب مغرب کی طرف اتنا جھک گیا تھا کہ آسمان کی کناری پہ شام کی لالی ابھر آئی تھی۔ ٹرین کی رفتار سے ہوا میں جو ارتعاش پیدا ہورہا تھا اس کی لہر آس پاس کے منظرکو متحرک بنا رہی تھی۔پرندوں کی غور ہوا میں تیرتے ہوئے جب ٹرین کے قریب سے گزرتے تو ان کے پروں میں تھرتھرا ہٹ پیدا ہو جاتی۔ ابھی سایہ اتنا دراز نہیں ہوا تھا کہ پہاڑیوں کی کھوہ میں لٹکے ہوئے چمگاڈر اپنے پنچے ڈھیلے کر دیں۔ مگر اتنا تو ہو چلا تھا کہ مغرب میں دور کا منظر جلتا ہوا دکھائی دے جائے۔ سورج جیسے جیسے اپنے پر سمیٹ رہا تھا، ویسے ویسے ناز کی تکلیف شدت کو عادت کی طرح قبول کرتی چلی جا رہی تھی۔ لوہے کاوہ آہنی ڈنڈا ب جو ناز کی گرفت میں تھا اس کی گنگناہٹ، ٹھنڈک میں تبدیل ہونے لگی تھی، پاوں کا وہ حصہ جو اگلے مسافر کی کولوں سے مس تھا اس کی گرماہٹ میں اعتدال پید ا ہو گیا تھا اور ناز کے پٹھے اتنے تن گئے تھے کہ اب ان میں مزید تناو پیدا ہونے کی گنجائش نہیں بچی تھی۔ ناز کو تقریباً اسی عالم میں بیس، پچیس منٹ مزید لٹکے رہنے کے بعدکچھ عجیب سا محسوس ہوا کہ جیسے ہوا اس کے سفر کو آسان بنا رہی ہے۔ یہ خیال خود اسے چونکا دینے کے لیے کافی تھا کہ ہوارہ رہ کر گیلے موگھرے کے مٹھی بھر پھولوں کی طرح اس کے چہرے سے ٹکرارہی ہے۔ اس کے کپڑوں میں داخل ہو کر اس کے بدن پہ پھیلنے والے پسینے کو سکھانے کی جلد بازی میں اسے ایک انجانا سکون بخشتی رہی ہے، ہوا کی رفتار سے اس کا پھولا ہوا لباس اس کی رگوں میں شادمانیاں گھول رہا ہے۔ اس کا ذہن آہستہ آہستہ ان دھڑکوں سے خالی ہو رہا ہے جو اسے زندگی کی چاہت میں لرزہ بر اندام کر رہے تھے۔ یہ خیالات اس کے لیے ایک انجان سی مسرت بھی لے کر آئے تھے، دو ایک مرتبہ جب اسی عالم میں اس نے اپنے آگے لٹکے ہوئے نوجوانوں کو ہنتے کھلکھلاتے سنا تو یکبارگی اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ چھا گئی۔ اب اسے ان کی آواز میں زہر کے بجائے نغمگی محسوس ہو رہی تھی۔ اب جتنی دیر وہ خاموش رہتے اسے تنہائی کا احساس ہوتا،وہ اپنے نوجوان ساتھیوں کے قہقہوں کا منتظر تھا کہ وہ کب ہنسیں اور کب اسے دوبارہ اسی لذت کا سرور حاصل ہو۔ اس نے دو ایک بار انہیں ہنسانے کی مصنوعی کوشش بھی کی تھی جس پر وہ ہنسے تھے اور اسے اپنے لٹکے رہنے کے احساس کو بھلا دینے والی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ ناز جب کچھ دیر تک یوں ہی ان کی صداوں میں گم ہوتا رہا تو اسے لگا کہ اب اس کا ڈر بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس کا بدن اس سے بغاوت نہیں کر رہا ہے، اس کا جھولتا ہوا آدھا جسم اسے ہوا میں تیرتا ہوا محسوس ہونے لگا، اس نے اپنا وہ ہاتھ جو ہوا میں لٹکا ہوا تھا اسے ہلکے ہلکے دراز کرنا شروع کیا، جب ہاتھ پوری طرح کھل گیا توہوا میں جھولتی ہوئی ٹانگ کو بھی ہلانے لگا۔ دو ایک مرتبہ اسی طرح کرنے پر اس کاخوف بالکل کافور ہوگیا اور وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔اس کی ہنسی کی آواز اب اتنی تیز تھی کہ اس کے نوجوان دوست اس پر پہلے تو زور سے ہنسے پھر اسے تنہا ہنستا ہوا چھوڑ کر خاموشی کے دریامیں غرق ہو گئے۔ ناز کو اب ان کی خاموشی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، اب تو اسے اپنی خوشی سے سروکا ر تھا۔ اس کے لیے یہ ایک خوش گوار تصور تھا کہ اسے رائی برابر بھی ڈر نہیں لگ رہا ہے، اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا ایک ہاتھ اور ایک ٹانگ کسی نے مضبوطی سے تھا م رکھی ہے اور اسے ہوا میں جھولنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اب ناز اپنے اطراف پر زیادہ غور کر سکتا تھا، وہ دیکھ سکتا تھا کہ سورج کے ڈوبتے ہوئے منظر میں چلتی ہوئی ٹرین نے وہ حسن پیدا کر دیا ہے جو اس نے کبھی اپنی عمارت کی چھت پہ نہیں دکھا تھا۔سورج اور ٹرین کے درمیان حائل ہوتے پہاڑ ان کے آگے پھیلی ہوئی سبز اور کھردری زمین، کہیں کہیں کھیتوں میں کھڑے مصنوعی انسان آسمان کی گود میں چھلانگ لگاتے پرندے اور دور تک لہراتی اور بل کھاتی ہوئی ٹرین اور اس پر لدے بے شمار انسان سب ایک نقلی منظر بنا رہے تھے، ایسا نقلی منظر جو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے لگا کہ شائد اگر میں اس وقت ٹرین میں دوڑ کر سوار نہ ہوتا توزندگی کے اتنے حسین پل سے ہمیشہ کے لیے محروم رہ جاتا۔ یہ سوچ کر اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا جس پر اس کے آگے والے شخص نے چیخ کر اسے ماں کی گالی دی۔ ناز کو اب یہ گالی بہت حقیر معلوم ہو رہی تھی، کیوں کہ وہ فطرت کی حسین پالکی میں سوار ہو کر خوش نما نظاروں کا لطف لے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ کتنا احمق ہے کہ ایک ایسے منظر تک پہنچنے کے خطروں سے ڈر رہا تھا، وہ کتنا لا علم تھا کہ اس ظاہری خوف میں مبتلا ہو کر اس مقام تک آنے سے کترا رہا تھا۔ اسے اپنا ٹرین کو دوڑ کر پکڑنے والا فیصلہ اچانک انوکھا اور اچھوتا معلوم ہونے لگا۔ اس نے ایک بار دل ہی دل میں خود کو شاباشی دی۔ اپنے ماں اور باپ، بہن اور بھائیوں کو دعائیں دیں کہ انہوں نے اسے گاوں بلوایا۔ وہ اب اپنے والدین کے متعلق سو چ رہا تھا کہ اگر وہ گاوں میں نہ رہتے تو اسے ہر گز ان فطری مناظر کی جھلک نہ دیکھنے کو ملتی۔ اس نے اپنے تمام گذشتہ خیالات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور خود کو اپنے اطراف کے حوالے کر دیا۔

گاڑی دیر تک اسی طرح چلتی رہی اور ناز اسی طرح ایک ہاتھ سے جھولتا رہا۔اب شام کا دھندلکا ہو چلا تھا آسمان پر ستاروں کا ظہور ہونے لگا تھا، آسمان کے تھال میں چاندی کا ایک بڑا سکہ اپنی ٹمٹماہٹ چاروں طرف مترشح کر رہا تھا۔ ناز کو لگا جیسے گاڑی کی رفتار اچانک کم ہو رہی ہےکیوں کہ اس کی پٹریوں سے اٹھتی ہوئی گڑ گڑاہٹ مدھم ہونے لگی تھی۔ ناز کی نظر یں آسمان کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھیں اس نے گاڑی کی دھیمی رفتار کو محسوس کرتے ہوئے بھی اپنی نظریں نیچی نہیں کیں، کچھ دیر بعد، لوہے کی موٹی سلاخوں کا ڈھیر آیا،پھر بالوں کے کچھ تودے پڑے، سمنٹ کی بوریوں کا جتھا دکھائی دیا مگر ناز اسی منظر میں کھویا رہا تھوڑی دیر بعد ٹرین کی رفتار خاصی کم ہو چکی تھی لوگوں کی طرح طرح کی آوازوں کا شور ناز کے کانوں سے ٹکرانے لگا تو اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا اس نے حیرانی سےنیم خوابیدہ حالت میں اس طرح اپنے اطراف پر نظر ڈالی جیسے ابھی کسی خواب سے جاگا ہو۔جوں ہی اس کی نظر سامنے موجود تختی پر پڑی اس پر ایک قسم کی مایوسی چھا گئی کیوں کہ تختی پر جلی حروف میں “بھیم پورہ” لکھا ہوا تھا۔

Categories
نان فکشن

رسالہ آج کل کا مختصر تعارف – تالیف حیدر

ہندوستان میں اردو زبان کے ادبی رسائل کی ایک عظیم تاریخ ہے۔اردو ہندوستانی زبان ہے، لہذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہاں سے اس زبان کے رسائل و اخبارات جاری ہوں۔ البتہ تعجب اس بات پر کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کی جن عظیم زبانوں نے اردو کے ساتھ جنم لیا ، کیا ان زبانوں میں بھی اردو کی طرح رسائل و اخبارات کا سلسلہ رہا ہے۔ ہمیں لا محالہ اس بات پر تعجب کرنا چاہیے کہ یہ زبان جس کے ادبی سرمائے کے طور پر ہم نے گزشتہ تین سو برس میں خاصہ ذخیرہ جمع کیا ہے ، اس زبان میں رسائل اور اخبارات کی کثیر تعداد موجود ہے۔ ان میں بے شمار ایسے ہیں جن کی اپنی ایک تاریخ ہے اور جو مستقل و مسلسل تقریباً ایک صدی سے نکل رہے ہیں۔ ایسے ہی عظیم اور مسلسل رسائل میں آج کل کا بھی شمار ہوتا ہے۔”آج کل” اردو زبان و ادب کا ایک وقیع رسالہ ہے جس نے ہندوستان میں اردو زبان کو ارتقا بخشنے اور اس کے ادبی مسائل کو وسعت دینے میں کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ اس رسالے کی ابتدا 1942 میں ہوئی تھی اور تب سے اب تک یہ مسلسل جاری ہے اور علمی و ادبی خدمات انجام دے رہا ہے۔تقریباً 77 برس میں اس رسالے نے بے شمار ادبی و علمی مباحث کو جنم دیا ، اس کے فروغ کا سامان بہم پہنچایا اور ادب و زبان کے ارتفا ع سے ہمارے ذہنی ارتقا میں کوشاں رہا۔

آج کل“کی ابتدا 25 نومبر 1942 کو ہوئی، آج کل کی ابتدا کے سلسلے میں ذرا سا اختلاف پایا جاتا ہے، کیوں کہ 25 نومبر 1942 سے قبل بھی یہ رسالہ جاری ہوا ہے لیکن کسی، دوسرے نام اور فکرکے ساتھ۔ اگر ہم اس کی ابتدائی کڑی کو باقاعدہ تلاش کریں اور تعین کرنے کی کوشش کریں تو متذکرہ بالا تاریخ اور سن ہی طے پائے گا۔ اس تاریخ کو جاننے کے بعد ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ آج کل ہندوستان کے کس سیاسی و سماجی خلفشار کے عہد میں جاری ہونا شروع ہوا تھا ۔ اسے نظر انداز کرنا ہماری کم نظری ہوگی۔ کیوں کہ اس رسالے کے مضامین اور رجحانات کا تعین اسی سے ہوتا ہے۔ یہ تاریخ ان دونوں حوالوں سے ہمیں یہ سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے کہ ادب سے پہلے آج کل کا رشتہ کن موضوعات سے استوار تھا۔

بہر کیف یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آج کل کی ابتدا برطانوی عہد میں ہوئی تھی ۔اس کا مزید پس منظر جاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت برطانیہ نے دلی میں ایک ادارہ دوسری جنگ عظیم کے دوران یونائیٹڈ پبلی کیشنز (متحدہ مطبوعات) کے نام سے قائم کیا تھا۔ جس ادارے کے ذمہ کئی ایک صحافتی و ادبی کام آئے تھے۔ ہندوستان کی مختلف ملکی و سرحدی زبانوں میں اس ادارے سے رسالے جاری کیے گیے تھے۔ انہیں میں پشتو زبان کا ایک رسالہ بھی شامل تھا جس کا نام نن پرون تھا۔ یہ نام اردو والوں کے لیے غیر معروف ہے، مگر اس لفظ کے لغوی معنی آج کل کے ہی ہوتے ہیں۔ نن پرون 5 مئی 1941 کو پہلی مرتبہ جاری ہوا، جس کی مقبولیت اور کامیابی کو دیکھ کر اور سرحدی علاقے میں رہنے والے عوام کی خواہشات اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا ایک اردو ایڈیشن بھی 10 جون 1942 سے جاری کیا گیا۔ اس وقت جب آج کل، نن پرون کے نام سے نکلنا شروع ہوا تو اس کے صفحات کی تعداد صرف 25 تھی ۔ہر پندرہ روز بعد شائع ہوتا تھا اور ہر ماہ کی 10 اور 25 تاریخ کو نکلتا تھا۔

نن پرون نام سے اردو زبان میں آج کل کے گیارہ شمارے نکلے، مگر اردو حلقے میں ان گیارہ شماروں میں بھی یہ نام اپنی جگہ نہیں بنا سکا، لہذا اس کی تبدیلی پر غور کیا گیا اور جلد ہی اس علاقوں میں جہاں نن پرون نام کی اجنبیت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا اس کا نام بدل کر آج کل کر دیا گیا۔ آج کل کے نام سے پہلا رسالہ 25 نومبر 1942 کو جاری ہوا، اور سرحدی علاقوں میں بھی اس نن پرون کے اردو ایڈیشن کا نام آج کل کر دیا گیا۔ پشتو زبان کے رسالے کی وہ جھلک جو نن پرون نامی رسالے میں باقی تھی اس کے نام کی تبدیلی کے باعث وہ یکسر ختم ہو گئی اور اردو کے حلقے کو باقاعدہ ایک نیا اور رسالہ اپنی نئی شاخت کے ساتھ حاصل ہوا۔

آج کل کو نن پرون سے کلیتاً جدا کرنے کے لیے اس کی اشاعت کی تاریخ 4 مئی 1943 سے بدل دی گئی۔ جو رسالہ پہلے ہر ماہ کی 10 اور 25 کو نکلتا تھا اسے 4 اور 20 کو جاری کیا جانے لگا، لیکن تاریخوں کے سلسلے میں استقامت پیدا نہ ہو سکی اور اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی آتی رہی،مثلاً جو رسالہ 4مئی 1943 کی 4 اور 20 تاریخ کو جاری ہوا تھا وہ ایک ماہ بعد 4 جون کے بجائے 1 جون کو جاری کیا گیا اور 20 جون کو نکلنے والا شمارہ 15 جون کو منظر عام پر آ گیا۔ یہ تاریخیں اردو رسالہ کو ہر ماہ کے دو شماروں میں تقسیم کرنے کے لیے کی گئیں تھیں اور اس سے ایک واضح اثر یہ بھی مرتب ہوا کہ جو لوگ آج کل کو اب تک نن پرون کا اردو ایڈیشن سمجھ رہے تھے ان کی ذہنیت بھی بدل گئی۔

1 جون 1943 کا شمارہ آج کل کا اہم ترین شمارہ تھا ، کیوں کہ اسی شمارے سے آج کل صوبہ سرحد)موجودہ خیبر پختونخوا( کے علاقوں سے نکل کر ملکی سطح پر چھا گیا اور اس کو برطانوی حکومت کا ملکی رسالہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس سے شمارے سے قبل جتنے شمارے نکلے تھے وہ اردو پڑھنے والوں کے ایک بڑے حلقے تک نہیں پہنچتے تھے۔ صرف سرحدی صوبے کے اردو داں حضرات تک اس کی رسائی تھی۔ ان سرحدی علاقوں میں اردو بولنے اور پڑھنے ، لکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی ،اسی وجہ سے یہ رسالہ ان علاقوں میں جلد مقبول ہو گیا تھا۔ مگر ملکی سطح کا رسالہ ہو جانے کے بعد آج کل کی اہمیت بہت بڑھ گئی اور اس میں لکھنے اور اسے بڑھنے والوں کی تعداد میں سیکڑوں گنا اضافہ ہو گیا۔ اس میں اردو کے بڑے ادیبوں اور شاعری کے کلام اور تحریروں کو جگہ ملنے لگی ساتھ ہی اس کے موضوعات میں بھی تنوع پیدا ہونے لگا۔ اول اول یہ رسالہ صوبہ سرحد )موجودہ خیبرپختونخوا(کے سیاسی مسائل کا احاطہ کرتا تھا اور ساتھ ہی اس میں کچھ ادبی مواد بھی شامل کر دیا جاتا تھا ، مگر 1 جون 1943 کے بعد اس کی سیاسی حیثیت یکسر ختم ہو گئی اور یہ خالص ادبی وعلمی مسائل کا رسالے میں تبدیل ہو گیا۔ حالاں کہ آج کل کی اہمیت اور حیثیت میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی تبدیلیاں واقع ہوئیں جن کا ہم بتدریج تذکرہ کریں گے۔

آج کل جس وقت سے جاری ہوا اس وقت سے مستقل نکل رہا ہے، صرف درمیان میں یہ تین ماہ کے لیے بند ہوا تھا وہ بھی ملک کی سیاسی اور سماجی صورت حال میں ایک بڑا انقلاب رو نما ہونے کے باعث ۔جون 1943 سے جولائی 1947 تک کے شمارے مستقل نکلے مگر اگست 1947 میں جب ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کا واقعہ پیش آیا تو یہ رسالہ تین ماہ کے لیے بند ہو گیا اور دسمبر 1947 تک اس کا کوئی شمارہ منظر عام پر نہیں آیا۔ اس عرصے میں ملک کی جو صورت حال تھی اس کے پیش نظر یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے ،مگر اس کے بعد اتنی جلد اس رسالے کا دوبارہ جاری ہوجا نا ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اسے ہندوستان میں کتنی مقبولیت حاصل ہو گی کہ صرف تین ماہ بعد ہی یہ دوبارہ منظر عام پر آنا شروع ہو گیا۔

دوبارہ جب آج کل کی ابتدا دسمبر 1947 میں ہوئی تو اس میں ایک بڑا تغیر یہ پیش آیا کہ اب یہ پندرہ روزہ کی بجائے ماہنامہ بن چکا تھا ۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس عہد کے ماہنامہ شماروں پر بھی پندہ روزہ ہی تحریر ہے۔ عین ممکن ہے کہ سرورق جس انداز میں شائع ہو رہا تھا اس کی عبارت میں کوئی تغیر نہ کرنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ کیوں کہ اس وقت آج کل لیتھو میں شائع ہوتا تھا۔ ماہنامہ ہو جانے کے بعد جنوری اور فروری 1948میں آج کل کا صرف ایک شمارہ سامنےآیا، مارچ سے پھر یہ مستقل ہو گیا اور اگست تک مستقل جاری رہا۔ اگست 1948 میں گاندھی جی کے قتل کا حادثہ پیش آیا تو آج کل کا ایک مستقل شمارہ انہیں کے لیے جاری کیا گیا۔ جس پر کسی مہینے یا تاریخ کا اندرا ج نہیں تھا۔ اگست کے مہینے میں اس طرح دیکھا جائے تو دو شمارے منظر عام پر آنا چاہیے تھے، مگر ایک ہی آیا۔ اسی ماہ سے اس کے سر ورق میں بھی تبدیلی کی گئی اور اس پر شائع ہو نے والی پندہ روزہ کی سرخی کو ماہنامے کی سرخی بنا دیا گیا۔

آج کل کا یہ شمارہ ایک اور اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ جولائی 1948 تک آج کل کا دفتر 15 راجپوت روڈ، دلی پر تھا، یہاں سے آج کل چھپتا بھی تھا اور تقسیم بھی ہوتا تھا، اگست 1948 سے ہی اس کا مستقل پتہ یہاں سے تبدیل کر کے پبلی کیشنز ڈویژن ، پوسٹ باکس نمبر 166 دلی /6 کر دیا گیا۔ پرانی دلی کا یہ پتہ آج کل کے قدیم شماروں پہ تحریر ہے۔ اس پتے کو تبدیل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ راج پوت روڈ پر برطانوی حکومت نے جس ادارے کے تحت اس رسالے کو جاری کیا تھا ، وہاں سے اس ادارے کو ختم کر کے ہندوستانی حکومت نے پبلی کیشنز ڈویژن کے نام سے جو نیا ادارہ قائم کیا تھا اس کا مرکزی دفتر پرانی دلی میں بنایا گیا تھا اور یہیں سے حکومت ہند کے تمام رسالے اور اخبارات شائع ہوتے تھے۔ آج کل کے ساتھ اس دور کے دوسرے رسائل اور اخبارات پر بھی یہ دونوں پتے یکے بعد دیگرے تحریر کیے ہوئے مل جاتے ہیں۔

اسی برس ایک اور واقعہ یہ پیش آیا کہ آج کل کے ماہنامہ کو دسمبر 1948 سے دوبارہ پندہ روزہ کر دیا گیا۔ اس کے سر ورق پر پانزدہ روزہ کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس کی کوئی ٹھو س وجہ تو سمجھ میں نہیں آتی، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس کی مقبولیت کے باعث ایسا کیا گیا ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سیاسی وجوہات کی بنا پر مختلف معیار سے ترتیب دینے کے لیے ایسا کیا گیا ہو۔ یہ سلسلہ زیادہ نہیں چلا پھر بھی پورے ایک برس تک ایک مہینے میں آج کل کے دو شمارے نکلتے رہے۔ پانزدہ روزہ کی تحریر سال نامہ میں نہیں ہوتی تھی۔ کیوں کہ اگست 1949 کے شمارے میں ہر مہینے کی پہلی اور پندرھویں تاریخ کو شائع ہونے والا مصور رسالہ تحریر کیا گیا ہے۔ دسمبر 1948 سے یہ سلسلہ دوبارہ ماہنامے میں تبدیل ہو گیا اور 15 نومبر 1949 سے یہ اب تک ایک ماہنامے کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس ایک برس کے دوران جتنے شمارے منظر عام پر آئے ان میں سیاسی نوعیت کی تحریریں زیادہ نظر آتی ہیں ۔ اس لیے گمان گزرتا ہے کہ اسی وجہ سے اس کو پندرہ روزہ کیا گیا ہوگا۔

اس رسالے کے ساتھ ابتدا سے کئی ایسے معاملات پیش آئے ہیں جو عام طور پر کسی رسالے کے ساتھ نہیں آتے۔ مثلاً اس کے نام اور اس کی شروعات کے متعلق ہم اوپر تذکرہ کر آئے ہیں ، اسی طرح اس کے نکلنے کی تاریخ اور اس کے سر ورق کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ ان تمام باتوں کے ساتھ اس رسالے کے صفحات بھی اول روز سے متنازعہ فی رہے ہیں ۔ یہ پرچا کئی مرتبہ اپنے صفحات کی تعداد تبدیل کر چکا ہے۔ کبھی مستقل ایک سلسلہ نہیں رہا اور ایک سلسلہ بنا بھی ہے تو کافی عرصے بعد ۔ مثلا ً :

ابتدا سے دسمبر 1942 تک آج کل25 صفحات پر مشتمل تھا۔20 جنوری 1943 سے 4 مئی 1943 تک 28 اور 30 صفحات رہے۔ 1 جون 1943 سے اگست 1944 تک 40 ، 42، 43 صفحات ہوئے۔دسمبر 1944 سے 52 صفحات کا ہو گیا۔15 جون 1945 سے نومبر 1948 تک 60 صفحات کا ہوگیا۔15 دسمبر 1948 سے 36 صفحات کا ہوگیا۔دسمبر 1949 سے پھر 60 صفحے کا ہوا۔مارچ 1950 سے 8 صفحے بچوں کے گوشے کے نام پر مزید بڑھا دیئے گئے اور رسالہ 68 صفحے کا ہو گیا۔اکتوبر 1956 میں رسالہ پھر 60 صفحے کا ہو گیا اور بچوں کا گوشہ ختم ہو گیا۔دسمبر 1956 میں یہ 58 صفحے کا ہوگیا۔مارچ 1969 سے یہ 48 صفحوں کا ہوگیا اور خصوصی شمارے چھوڑ کر اتنے ہی صفحوں کا مسلسل نکل رہا ہے۔

ان تمام تفصیلات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وقت کی ضرورت کے تحت اس سالے میں صفحات کی کمی اور بڑھوتی کی جاتی رہی ہے، اس کے تمام مدیران نے اس کی بہتری کے لیے بہت کچھ کیا ہے اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کسی منصوبے کے تحت اس کے صفحات بڑھا کر گھٹائے گئے۔ زیادہ تر اس کے صفحات کی تعداد کو بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ ایک اور بات غور طلب ہے کہ ابتدائی ایام میں ہی صفحات کی تبدیلی اور تواریخ کی تبدیلی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ آزادی کے فوراً بعد کچھ عرصے تک کاغذ کے موصول ہونے کی پریشانی کی وجہ سے اس کے صفحات میں تخفیف کی گئی ہو گی۔ بعدازاں جوں جوں کاغذ دستاب ہونے لگا ۔ اس میں اضافہ کر دیا گیا۔ بچوں کے صفحات کے سلسلے میں بھی یہ امر پیش نظر رکھنا چاہیے کہ آج کل کا 1947 کے بعد سنجیدہ ادب کی طرف رجحان زیادہ رہا ہے ، اسی باعث اسے ہم بچوں کا رسالہ نہیں کہہ سکتے۔ اس میں جو گوشہ وقتاً فوقتاً شامل کیا گیا اس کی ناکامی کی ایک وجہ بھی یہ ہی ہو سکتی ہے کہ سنجیدہ ادب پڑھنے والے ہی اس کے زیادہ خریدار تھے۔ بچوں کے 8 صفحات بڑھانے کے بجائے ڈویژن پبلی کیشنز نے بچوں کے لیے جلد ہی ایک مختلف رسالہ جاری کر دیا اور اس گوشے کو کلیتا ً ختم کر دیا گیا۔ آج کل کا سائز ابتدائی دنوں سے تقریباً ایک جیسا رہا ہے۔ جس سائز اور جس فونٹ میں اسے شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں 48 صفحات بالکل درست معلوم ہوتے ہیں ۔ غالباً اسی بنیاد پر مدیران نے 60 صفحات سے کم کر کے اسے 48 صفحات کا بنا دیا جو تب سے اب سے اسی طرح جاری ہے۔

پرانے زمانے میں زیادہ تر کتابیں لیتھو(کانٹے کی چھپائی) پر چھپا کرتی تھیں۔ یہ چھائی کی ایک مشین تھی جس میں پتھر لگا ہوتا تھا، تقریباً چالس، پچاس برس پہلے تک ہندوستان میں اسی مشین سے کتابیں چھپتی تھی۔ اردو کی بھی قدیم کتابیں اسی تکنیک سے چھپی ہوئی موجود ہیں ۔ آج کل کی اتبدا بھی اسی لیتھو پرنٹنگ سے ہوئی۔ 1942 سے جب آج کل الگ ہو ا تب سے 1966 تک ہر شمارہ لیتھو مشین سے چھپا، جنوری 1967 سے اس میں تبدیلی واقع ہوئی جب جدید تکنیک کی مشین آفسٹ پرنٹر آج کل کے پریس میں لگ گیا۔ آفسٹ پر چھپنے سے رسالے کی عبارت مزید صاف اور دلکش ہو گئی۔ اب تک جو عبارت چھائی کے باوجود ذرا گنجلک ہوا کرتی تھی اس میں سدھار پیدا ہوگیا اور پڑھنے والوں کے لیے آج کل مزید محبوب پرچہ بن گیا۔ اس تغیر سے رسالے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ ہم سب سے ابتدائی قیمت دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسالہ 1942 میں 2 آنے فی پرچہ اور تین روپیہ زر سالانہ پر حاصل ہوتا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کی فی پرچہ قیمت چار آنے ہوگئی زر سالانہ 5 روپیہ اور آفسٹ کے بعد قیمت مزید بڑھ کر 60 پیسہ اور زر سالانہ 7 روپیہ ہوگئی تھی۔ اس کے بعد مستقل بڑھتی گئی اور موجودہ عہد میں اس کی قیمت 20 روپیہ فی پرچہ ہے۔

اس تعارف کے اختتام پر ہم اس رسالے کے مدیران کی فہرست پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ بحث مکمل ہو جائے۔25 نومبر 1942 سے 4 مئی 1943 تک آج کل کے مدیر مولانا عبدالقادر خاں صاحب رہے جن کا مدیر کی حیثیت سے کبھی نام شائع نہیں ہوا۔4 مارچ 1943 میں شائع ہونے والے ایک خط سے ان کا نام معلوم ہوتا ہے۔1 جون 1943سے شائع ہونے والے نئے دور کے مدیر اعلی آغا محمد خاں داشی تھے، نائب مدیران شان الحق حقی اور شیش چند سکسینہ تھے۔15 اکتوبر 1946 کو سید وقار عظیم آج کل کے مدیر اعلی ہوئے اور 15 اگست 1947 تک رہے۔ان کے ساتھ نائب مدیر کی حیثیت سے فضل حق قریشی، سید آفاق حسین، بھگت سروب کھلر اور رگھوناتھ رینا وغیرہ رہے۔دسمبر 1947،جنوری ،فروری1948 اور گاندھی نمبر کے مدیر رگھوناتھ رینا اور شیش چندر سکسینہ طالب دہلوی تھے۔ اگست 1948 سے جوش ملیح آبادی آج کل کے نئے مدیر اعلی بنے اور 1955 تک 7 سال مدیر اعلی رہے۔1955 سے عرش ملسیانی اس کے مدیر اعلی ہوئے اور 1967 تک رہے۔ان کے ساتھ مظفر شاہ، مہدی عباس حسینی اور شہباز حسین نائب مدیر کی حیثیت سے رہے۔اکتوبر 1967 میں شہباز حسین مدیر اعلی بنے۔ان کے نائب مدیرراج نارائن راز اور نند کشور وکرم تھے۔ اپریل 1972 تک شہباز صاحب اسی عہدے پر رہے۔مئی 1972 سے عباس حسینی مدیر اعلی ہو گئے۔ نند کشور وکرم نائب مدیر ہوئے۔مارچ 1976 تک رہے۔اپریل 1976سے شہباز حسین دوبارہ مدیر اعلی بنے اور مارچ 1981 تک رہے۔ان کے ساتھ بھی نند کشور وکرم اور محمد عادل صدیقی رہے۔اپریل 1981 سے راج نارائن راز اس کے مدیر اعلی ہوئے اور ان کے ساتھ سو ناتھ سکہ اور عابد کرہانی نائب مدیر رہے، مئی 1987 میں خورشید اکرم بھی نائب مدیر ہو گئے۔نومبر 1989 میں ان کی ادارت کا دور ختم ہوا۔پھر دسمبر 1989 سے جون 1990 تک وہی مہمان مدیر رہے۔اگست 1990 میں محبوب الرحمان فاروقی مدیر اعلی ہو گئے اور جون 1992 تک رہے۔جولائی 1992 سے عابد کرہانی مدیر ظاہری ہو گئے اور جولائی 1993 تک رہے۔اگست 1993 میں محبوب الرحمن فاروقی پھر سے مدیر اعلی ہو گئے اوردسمبر 2002 تک رہے۔جنوری 2003 میں ابرار رحمانی مدیر اعلی بنے اور جولائی 2003 تک رہے۔اگست 2003 سے عابد کرہانی مدیر اعلی بن گئے اور دسمبر 2003 تک رہے پھر نائب مدیر ہو گئے۔جنوری 2004 سے وسوناتھ رام سیش مدیر اعلی بن گئے۔سیش کے بعد پھر عابد کرہانی مدیر اعلی ہو گئے اور جنوری2006 تک رہے۔فروری 2006 سے حسن ضیا مدیر اعلی ہوگئےجولائی 2006 تک رہے۔اگست 2006 میں ابرار رحمانی مدیر اعلی ہو گئے جنوری 2007 تک رہے۔ان کے بعد فروری 2007 میں خورشید اکرم مدیر اعلی ہو گئے۔مارچ 2009 تک رہے۔جولائی 2009 سے ابرار رحمانی مدیر اعلی ہوئے اور2016 تک رہے۔ان کے بعد حسن ضیا مدیر اعلی ہوگئے تا حال ہیں۔

بہر کیف 1942 سے اب تک آج کل کا ایک طویل سفر رہا ہے ، جس سفر میں اس رسالے نے کئی ادبی و علمی تحریریں شائع کیں اس کے علاوہ اپنے اب تک کے سفر میں آج کل نے تقریباً 90 خاص نمبر شائع کیے ہیں۔

Categories
تبصرہ

اس چھپی ہوئی کھڑکی سے جھانکو (تجزیہ: تالیف حیدر)

آج کے شمارہ نمبر 105 میں شامل کوشلیہ کمارہ سنگھے کا ناول” اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو “مجھے آج سے تقریباً کچھ دو یا ڈھائی ماہ قبل ملا تھا، ان دنوں یہ بات میرے معمول میں شامل ہے کہ میں آج کے گزشتہ شماروں کا مطالعہ ایک ترتیب سے کر رہا ہوں، لہذا جب اس کے دو تازہ شمارے، شمارہ نمبر 104 اور 105 مجھے حاصل ہوئے تو مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ چلو اب انہیں تاریخ بنا کر نہیں پڑھنا پڑھے گا، لہذا جوں ہی یہ شمارے ہاتھ لگے میں ان کے مطالعے میں جٹ گیا، 104 والے شمارے میں حسن بلاسیم کی کہانیوں نے متاثر کیا جن کا ترجمہ ڈاکٹرارجمند آرا نے کیا ہےاور 105 کے شمارے میں کوشلیہ کمارا سنگھے کے ناول ” اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو” نے۔کوشلیہ کمارا سنگھے کے اس ناول کو میں نے اس دورانیے میں تقریبا ً تین مرتبہ پڑھا ہے۔ یہ ناول جو اصل میں سری لنکن سنہالا زبان میں لکھا گیا ہے۔ اس کی کہانی مجھے اپنی تہذیب سے بہت قریب اور شناسا معلوم ہوتی ہے، یقیناً یہاں میں اپنی تہذیب کے طور پر صرف اس ماحول اور معاشرے کی بات نہیں کر رہا ہوں جو میں نے بچپن سے اپنے ارد گرد دیکھا ہے، بلکہ اس تہذیب میں میرے وہ تمام مشاہدات، تجربات اور مطالعات بھی شامل ہیں جو دنیا کی مختلف تہذیبوں سے مل کر متشکل ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے کوشلیہ کایہ ناول جو غالباً میرے مطالعے کی فہرست میں پہلا سر لنکن ناول ہے، جو خاصہ جانا پہچانا محسوس ہوتا ہے۔

اس ناول کی کہانی جیسا کہ میں نے محسوس کیا اس کے کرداروں کی مختلف سیاسی، سماجی، ذاتی، اقصادی، تاریخی اور تہذیبی حالتوں میں ڈھل کر تیار ہوئی ہے۔اس میں کسی ایک شخص کی داستان زندگی یا اس کی نفسیاتی حالت کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ مختلف کہانیوں کے ادھورے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مکمل کہانی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہانی کے بنیادی کردار: تیوانکا، کیشانی، اسی، اونی، ٹنیکا،کمل، پدمی، چھٹکی، داسن، رالیکا، ٹانیا،ڈیلان، سندا اور نیترا وغیرہ ہیں،جن میں بیشتر نام ہندوستانی سماعتوں کے لیے نئے ہیں۔کہا نی کا اصل کردار میری نظر میں تیوانکا ہے اورسب سے معصوم اور دلچسپ کردار اونی۔ چند روز کے واقعات پر مشتمل اس ناول میں متذکرہ بالا کرداروں کی زندگی کے مسائل و معاملات کی جھلکیا ں دکھاتے ہوئے مصنف نے بڑی مہارت سے سری لنکن تہذیب،تاریخ اور سیاست وغیرہ کی پیچیدہ گتھیوں کو سادہ اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہانی میں بیانیے کی سطح پر بہت زیادہ الجھاو کہیں نظر نہیں آتا، فکر انگیز مکالمے اور عام فہم فلسفیانہ بیانات پائے جاتے ہیں،لیکن وہ کرداروں کے حالات کو الجھاتے نہیں ہے، بلکہ پڑھنے والے سے یکسوئی کا مطالبہ کرتے ہیں،جیسا کہ عام طور پر کسی اچھی آرٹسٹک فلم میں بہت سے مناظر ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہونے کے باوجود الگ الگ ہوتے ہیں اسی طرح کوشلیہ نے بھی کہانی کی بیرونی فضا کو خط ملط کرتے ہوئے بھی اسے بہت سلیقے سے الگ الگ رکھا ہے۔ ناول کی تکنیک بظاہر الجھانے والی معلوم ہوتی ہے، لیکن ذرا غور کرو تو محسوس ہوتا ہے کہ اسے مکمل فلمی انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔

میں جب اس ناول کا مطالعہ کر رہا تھا تو مجھے بار بار ایک ہندوستانی فلم “لائف ان اَ میٹرو” یاد آ رہی تھی۔ یہ فلم بھی اسی ناول کی طرح مختلف کرداروں کی زندگی کے واقعات پر مشتمل ہے۔ مطالعے کے دوران کئی ہندستانی اور بالخصوص اردو کہانیاں بھی یاد آئیں جن کا وقتاً فوقتاً مکالموں اور منظروں سے کچھ رشتہ محسوس ہوا۔ میری دانست میں کوشلیہ کا یہ ناول ایک ایسے سوالیہ انداز بیان میں تحریر کیا گیا ہےجن سوالوں میں ایک نوع کی مثبت بے یقینی شامل ہے۔ ابتدا سے انتہا تک تین چیزیں ناول میں ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتیں پہلے یہ ہی سوالات، دوسرا تتلیوں کا استعارہ اورتیسرا ولڈ ٹریڈ سینٹر۔یقیناً ان کا ناول سے کوئی گہرا تعلق ہے جس پر ہم غور کریں تو کسی نہ کسی معنویت تک پہنچ ہی جاتے ہیں، ایک اچھی بات اس ناول کے وہ فلسفیانہ تبصرے ہیں جو مصنف نے قدم قدم پر تحریر کیے ہیں، مثلاً کیمرہ کی وہ آنکھ جو کسی نادیدہ ڈرون کی طرح کہانی میں سفر کر رہی ہے وہ جہاں جہاں جاتی ہے مصنف وہاں کے حالات اور مناظر بیان کرتے ہوئے جتنے سوال قائم کرتا ہے اتنے ہی فلسفیانہ نکتے بھی بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح مصنف کی کچھ شعوری کوششیں بھی ناول میں قاری کے لیے کچھ دلچسپ نشانات وضع کرتی چلی گئی ہیں،مثلاً ان برینڈز اور کمپنیز کے نام جو ناول کے مرکزی کرداروں کے ارد گرد پائے جاتے ہیں۔ جن میں سیم سن،سونی، ایپل، ایچ-ٹی-سی،ہیرو ہونڈا،نوکیا، کالسبرگ،مالبرو،بلیک لیبل،کوکا کولا،ماروتی، مرسڈیز،کیااور متسبشی وغیرہ شامل ہیں۔ایک خاص بات یہ ہے کہ ان برینڈز اور کمپنیز کے نام ناول میں کسی بھی غیر ضروری کردار کے ساتھ نہیں ابھرتے جن کا ناول کی اصل کہانی سے کوئی واستہ نہیں ہے،اس کی وجہ یہ محسوس ہوتی کہ موجودہ عہد میں ہم برینڈز اور کمپنیز کے ناموں سے ایک ایسی شناخت میں ڈھل جاتے ہیں جس سے ہماری سطح زندگی کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے، مصنف کو جہاں محسوس ہوا ہے کہ موبائل اور کیمرے کے ساتھ جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ یہ کس کمپنی کا ہے تو اس سے معنی کی ترسیل میں خلل واقعے ہو سکتا ہے، لہذا ایسی جگہوں پر اس نے شعوری طور پر اس کا الترام کیا ہے۔ایسے بہت سے مقامات پر اسے غیر ضروری تفصیلات بھی دینا پڑی ہیں، ساتھ ہی مصنف نے منظر نگاری اور سرپا نگاری میں بھی ان غیر ضروری تفصیلات کو روا رکھا ہے جس سے بعض اوقات ناول میں بوجھل پن کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ ناول کی تکنیک سے اس کے بعض حصوں میں ایک طرح کی تجزیاتی بے اعتدالی بھی پیدا ہوگئی ہے، جس سے مصنف کی رائے کہیں کہیں اطمینان بخش نہیں لگتی۔ مصنف نے شعوری طور پر بھی ایک دو جگہ اس تجزیاتی بے اعتدالی کا اظہار کیا ہے جس سے جذباتی کڑہن کے اثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ناول کے ابتدائی حصے میں جہاں وہ اپنے مرکزی کردار کو چن رہا ہے، ایک شخص کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے اوراس کے برابر میں بیٹھی ہوئی لڑکی کےمتعلق بعض پیشن گویاں کرتا ہے اور آخر میں ان تمام باتوں کو خود رد کرتے ہوئے صورت حال کی تقلیب کر دیتا ہے۔ تکنیک کے متعلق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اچھی ہالی ووڈ فلم کی طرح اپنے ناول کو ایڈیٹ کرنے میں کوشاں ہو۔ مصنف کا ہالی ووڈ کی فلموں، گانوں اور انگریزی کے پوپلر لڑیچر سے گہرا تعلق محسوس ہوتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے بہت سے استعاروں اور تشبیہوں کو سنوارنے کے لیے ان سے مثالیں لاتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ کوشلیہ نے اپنے ناول میں جتنے گانوں کا تذکرہ کیا ہے یا جن گانوں کے اقتباسات نقل کیے ہیں وہ اس کی فنی جمالیات سے بہت مشابہ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ زندگی کے سنجیدہ مسائل اور پریشانیوں سے نبرد آزما نظر آتا ہے وہی دوسری طرف لذت کے منہ زور سیلاب میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تیوانکا جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے اس کی ذات میں یہ دونوں حالتیں ضم ہو جاتی ہے۔ پدمی جو ناول میں المناک حالتوں کو جذب کرنے والی پتنی دیوی ہے جو بڑی شدت سےاپنی جذباتی سوزش میں گھٹ کر اپنی بائیں چھاتی نوچ کر پورے شہر پر پھینکنا چاہتی ہے تاکہ وہ جل کر راکھ ہوجائے، تنوانکا اس کے بالمقابل اپنی بنی بنائی دنیا کو جلتا ہوا دیکھ کر تلذذ کے نئے سوتوں کا متلاشی نظر آتا ہے۔ ناول میں کہیں کہیں فضا جب بہت بوجھل ہو جاتی ہے تو دو چیزیں اس کو معتدل کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں ایک مصنف کا آڈیو اور وڈیونیریٹو ایفکٹ اور دوسرا تیوانکا کا کردار۔ مصنف یا مترجم نے ناول کے بہت سے حصوں کی زبان انگریزی رکھی ہے جس سے مکالموں میں روانی پیدا ہوتی ہے اور بناوٹی انداز شامل نہیں ہوتا، ناول کے کچھ پاسنگ کردار جو صرف ذرا دیر کے لیے ناول کی اصل کہانی کا حصہ بنتے ہیں انہیں بھی مصنف نے بڑی مہارت سے آخر تک اہمیت دیتے ہوئے کسی نہ کسی طرح شامل رکھا ہے جس کی بہترین مثال وہ بڑھیا ہے جو جنت نشان پر امن تتلیوں کا گیت گا رہی ہے۔ زبان کی سطح پر کچھ الفاظ اور تراکیب مصنف کے کم مترجم کے زیادہ محسوس ہوتے ہیں، مثلا ایک جگہ صفحہ نمبر 31 پہ مصنف نے ایک ترکیب شہادت کی انگلی کا استعمال کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ غالباً مصنف کو اس بات کا شائد علم بھی نہ ہو کہ انسانی بدن میں ایسی کوئی انگلی بھی پائی جاتی ہے۔ ناول میں ایک جاندار کردار کیشو کا بھی ہے جو ایک برد بار اور عقل مند عورت ہے، حقیقتوں کو تسلیم کرنے والی اور سچی دوستی کی تلاش میں سرگرداں اس عورت کو ناول کا دوسرا مرکزی کردار کہا جا سکتا ہے، ایک مقام پر جہاں وہ اپنے بائے فرنڈ اسی کو یہ بتاتی ہے کہ اس نے کیسے اتنی آسانی سے کیشو کو اپنے جال میں پھنسا لیا تو ایسا لگتا ہے جیسے عورت کی زندگی کی تلخ حقیقتیں بیان کر رہی ہے۔ ناول میں کرداروں کے ذریعے جس عجیب و غریب محبت اور جلن و حسد کا مادہ دکھایا گیا ہے وہ خاصہ ہندوستانی ہے اور جہاں ہندوستانی منشیات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ ہندوستانی کرپشن کا نقطہ عروج ہے۔ صفحہ نمبر 68 اور صفحہ نمبر 158 پر فلسفہ عشق کے دو بالکل مختلف تصورات پیش کیے گئے ہیں۔ ایک جگہ ایک مرد کی زبانی جب ڈیلان تیوانکا کو سمجھا رہا ہے کہ عشق وشق سب پرانے تصورات ہیں اور آج کل ہر کوئی صرف فیشن کے طور پر عشق کرتا ہے اور دوسری جگہ ایک عورت کا تصور عشق کہ جب ایک ٹی –وی رپوٹر اس سے محبت کے متعلق پوچھتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ سچی محبت کا مطلب ہے آنسو اور یہ کہہ کر مسکرا دیتی ہے۔مجھے مصنف کا یہ انداز اچھا لگا کہ اس نے ایک مرد اور ایک عورت دونوں کے تصور عشق کی جھلکیاں پیش کر دیں۔ ناول کے تین وقتی مگر نا قابل فراموش جذباتی کردار چنگی، جینت اور نرملی بھی ہیں جو دوستی کے فلسفے کی مثال ہیں۔ ان چند سطور میں جہاں مصنف نے ان تینوں کرداروں کا ذکر کیا ہے رقیق جذبات کی نازک رگوں پر اپنی گرفت نہایت مضبوط کر دی ہے۔ ناول میں مختلف کتابوں،مصنفوں، منشیات، اداکاروں، گانوں، دیوی دیوتاوں اور رقص کی قسموں وغیرکا تذکرہ بھی کثرت سے کیا گیا ہے، جس سے پڑھنے والے کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے، مثلاً مجھے اس ناول کے مطالعے سے پہلے یہ بات بالکل نہیں معلوم تھی کہ کوئی رقص گیگنم اسٹائل کا بھی ہوتا ہے یا فرسٹ ٹیچر نام کی بھی کوئی کتاب ہے جسے ایک کزاکستانی مصنف چنگیز اعتماتوف نے لکھا ہے، سرلنکن فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی 62 فی صد آبادی کام کرنے کے دوران بالی ووڈ کے گانے سننا پسند کرتی ہے یا آرسینک اِٹومک نمبر 33 بھی کوئی بلا ہے جو پانی میں مل جائے تو وہ پینے کے لائق نہیں رہتا۔ کسی اچھے ناول نگار کا مطالعہ اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے تاکہ وہ دنیا کی مختلف اشیاء اور حقیقتوں سے ہمیں واقف کروا سکے۔ کوشلیہ کمارا سنگھے کے اس ناول میں مجھے داستانی عنصر بھی خاصہ نظر آیا ہے، عین ممکن ہے کہ یہ ان کی شخصیت کا حصہ ہو یا وہ کچھ ضعیف الاعتقاد ہوں یا آسمانی اور ہوائی مخلوقات پہ ان کا گہرا یقین ہو، کیوں کہ پورے ناول میں پری، بھوت، آتما، آسیب، دیو، راکشس اور آسمانی مخلوقات وغیرہ کا تذکرہ کثرت سے کیا گیا ہے۔ کوشلیہ نے اپنی بہت سی تشبہیں انہیں مخلوقات کی ہئیتوں سے وضع کی ہیں۔ مثلاً وہ ولڈ ٹریڈ سینٹر کو ایک ایسا دیو کہتے ہیں جس کی دونو ں ٹانگیں جب چاہیں شہر کو کچل دیں اور چڑیوں کی داستان میں سنہرے پروں والی پری کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے وہ کوئی حقیقی مخلوق ہو۔ چڑیوں والی پر ی اور خوبصورت جھیل کا جو واقعہ کوشلیہ نے بیان کیا ہے وہ سبع معلقہ کے امر القیس والے قصیدے کے قصے اور عصمت چغتائی کے افسانے امر بیل کی کہانی سے بہت لگا کھا تا ہے۔ ناول میں ایسی اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کو مختلف کہانیوں سے ملا یا جا سکتا ہے، لیکن میں یہاں ان کا تذکرہ نہیں کروں گا، میری دانست میں یہ ناول خواہ دنیا کے کسی ادبی فن پارے سے ملے کوشلیہ کی اپنی تخلیق ہے، کیوں کہ انہوں نے کہانی کو جس ڈھنگ سے مرتب کیا ہے اس سے ان کی تخلیقیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک پہلو جس کا کوشلیہ کو ناول کی ابتدا سے بہت احساس ہے کہ کوئی پڑھنے والا یا سننے والا ان کے اس ناول سے کسی قدم پر بور تو نہیں ہوگا اس کا مجھے پورے ناول میں کہیں کوئی شائبہ بھی نظر نہیں آیا۔ اس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو اپنے عنوان سے قاری کے لیےجس تجسس کی فضا مرتب کرتا ہے وہ متن کے اختتام تک قائم رہتی ہے۔ چونکہ اس ناول کا کوئی حتمی اختتام نہیں اس لیے اس سے ناول کی ایک بنی بنائی شناخت کہیں مجروح نہیں ہوتی پورے ناول میں کوشلیہ نے سیکس پوزیشن کے مناظر اور پروٹیسٹ کے ماحول میں جو اعتدال قائم کیا ہے اس سے سوا دو سو صفحات کا یہ ناول کب ختم ہوجاتا ہے ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا، یہ ہی وجہہ ہے کہ میں نے اسے ایک بار نہیں بلکہ تین بار پڑھا اور ہر بار اسی لذت بیانی سے محظوظ ہوا۔

Categories
فکشن

چالیس برس کے بھیا (تالیف حیدر)

کل رات کی بات ہے کہ میں اپنے بہنوئی دانش بھائی کے نئے مکان میں بیٹھا بھائی جان اور آپا کی باتوں پر ہنس رہا تھا کہ اچانک بھابی نے خبر سنائی کہ کیک آ رہا ہے، زرناب اور عارج خوشی سے ادھر ادھر کودتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے،میں جو نیم دراز تھا اٹھ بیٹھا اور بھابی ایک تھالی میں کیک سجا کر لے آئیں۔یہ کیک بھیا کی چالیسویں سالگرہ کا کیک تھا، میں جو کہ کیک کا ذرا زیادہ ہی عاشق ہوں اس کے پلاسٹک کے اسٹول پر لگتے ہی اس پر جھک گیا۔ دیکھا تو اوپر ہی دانش بھائی کا نام، جنم دن کی مبارکباد اور40 کا عددلکھا ہوا تھا۔ چالیس کے ہندسے پر نظر پڑتے ہی میں سب کچھ بھول بھال کر ایک دم اس سوچ میں ڈوب گیا کہ بھیا !جن سے میری تقریباً پندہ برس پرانی شناسائی ہے وہ آج چالیس برس کے ہو گئے۔ بظاہر تو اس میں کوئی حیرت کا نکتہ نظر نہیں آتا، مگر میں اس لمحے کافی دیر تک ا س خیال میں ڈوبا رہا کہ ایک انسان جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ عجیب و غریب مسائلِ زندگی سے نبرد آزما ہوتے ہوئے گزار دیا آج اس کی عمر کے چالیس برس مکمل ہو گئے ہیں۔

میں نے فوراً بھیا کو آواز دی ان کے سامنے اپنے تحیر زدہ لہجے میں تقریباً تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا :
بھیا آج تم چالیس برس کے ہو گئے؟

اس جملے کا انداز سوالیہ تھا کیوں کہ مجھے ایک لمحے میں قطعی یہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ و ہی دانش بھائی ہیں جنہیں میں نے 25 برس کی عمر میں پہلی بار دیکھا تھا۔ وقت کے دبے پاوں گزر جانے کا خیال اتنا حیران کن تھا کہ میں اسی سوچ میں ڈوبتا چلا گیا۔

دانش بھائی اور میرا تعلق کیا ہے؟ یہ میں کبھی خود بھی نہیں سمجھ پایا۔ یوں تو رشتے میں وہ میری سگی بڑی بہن کے شوہر ہیں اور دوسری طرف میری ایک دوسری پھوپھی زاد بہن جن سے ہماری رشتہ داری اگر بہت نزدیک کی نہیں تو بہت دور کی بھی نہیں ہے ان کے بڑےبیٹے بھی ہیں۔ میں ان دونوں رشتوں کی وجہ سے ہمیشہ کنفیوز رہا کہ انہیں اپنا جیجا کہوں یا بھانجا۔ دوسری طرف یہ شخص میرا دوست، میرا دشمن، میرا حریف، میرا دردمند، میرا ہم خیال اور میرا متضاد سبھی کچھ ہے۔ لہذا میں نے کبھی دانش بھائی کو صرف اپنی بہن کے شوہر کی شکل میں نہیں دیکھا اور شائد میرے تینوں بھائیوں نے بھی انہیں کبھی صرف اپنا جیجا نہیں سمجھا۔ جیجا یا بہنوئی کا جو عام تصور ہندوستانی گھرانوں میں پایا جاتا ہے بھیا اس طور کے کبھی خود بھی نہیں رہے۔ اب اسے ان کی شخصیت کا خاصہ کہو یا کمزوری کہ انہوں نے ہم سے کبھی سالوں جیسا سلوک نہیں کیا۔ نہ کبھی کسی چیز کے خواہش مند رہے، نہ مصنوعی عزت کے طلب گار، نہ ساس سسر کے چہیتے بننے کی کوشش کی، نہ دکھاوے کی محبت۔بھیا کی شخصیت ہم لوگوں کے لیے کچھ اس قسم کی رہی ہے کہ انہوں نے ہماری زندگی میں صرف ایک دوست کا کردار ادا کیا ہے یا اس سے کچھ مزید آگے بڑھے ہیں تو بھائی بن گئے ہیں۔ اُسی طرح ہم سے لڑے ہیں جس طرح ایک سگا بھائی لڑتا ہے، اُسی طرح ہماری پروا کی ہے جس طرح ایک دوست کرتا ہے، ویسے ہی ہمارے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں جیسا کہ ایک رفیق کا فرض ہوتا ہے اور اُسی طرح ہمیں ہمیشہ سے اپنی طرح تصور کیا ہے جس طرح ایک ماں کے پیٹ میں پیر پھیلانے والی تمام اولادیں ایک دوسرے کو کرتی ہیں۔

یہ بات غالباً خود بھیا نے بھی اپنے متعلق کبھی نہ تصور کی ہو لیکن میں نے اسے بار ہا محسوس کیا ہے کہ بھیا نے ہم تمام بھائیوں کے درمیان غیر شعوری طور پراپنے لیے ایک ایسی جگہ تراشی ہے جس سے وہ خلا پر ہوا ہے جس خلا کے پر کرنے کے ہم تمام بھائی بہن ہمیشہ سے خواہش مند تھے۔ میں اکثر اپنی بہن سے بھی یہ بات کہتا ہوں کہ بھیا اس گھرانے کے لیے واحد وہ شخص تھے جس کا گزارہ ہم لوگوں کے ساتھ بہت بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ جن حالات میں میری بہن کے ساتھ انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اسے کسی عقل پرست شخص کا فیصلہ ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔ ہم پانچوں بھائی، بہن جن کے مزاج کی ایک سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم کبھی رشتوں اور جذباتوں کے معاملات میں عقل کو درمیان میں نہ لا سکے ان کے بیچ ایک ایسا ہی شخص کھپ سکتا تھا جو خود ہمارے دل و دماغ جیسا ہو۔

بھیا نے میری بڑی بہن سے محبت کر کے شادی کی اور ان کی محبت کے خلوص کا معیار اسی روز طے ہو گیا تھا جس روز انہوں نے ایک دس بائے دس کے کمرے میں پلنے والی ایک غریب گھرانے کی خوبصورت لڑکی کو اپنی جیون ساتھی چن لیا تھا۔ ہم تمام گھر والے جانتے ہیں کہ وہ حالات جن میں ان دودلوں کا سنگم ہوا و ہ ہم لوگوں کے لیے کتنے نازک تھے۔شادی بیاہ تودور کی بات وہ زمانہ ایسا تھا کہ ہم نے کبھی خود کوکسی اعتبار سے مکمل کرنے کے متعلق تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ایسے میں آپا کی زندگی میں ایک فعال، سرگرم عمل، کماو، خوب رو چھوٹے قد اور مضبوط جسم والاایک شخص داخل ہوا اور اس نے آپا کی نشیلی آنکھوں اور گوری بانہوں کے سائے تلے اپنی جنت بنانے کا عزم کر لیا۔

بھیا اور آپا کی شادی جس زمانے میں طے ہوئی تھی اس زمانے سے میرے دوسرے بھائیوں کے مقابلے میں میرا اور بھیا کا ایک گہرا رشتہ بننا شروع ہو گیا تھا۔ بھیا اپنی دو بہنوں سمیت دہلی کی مصور زدہ گلیوں کا دیدار کر رہے تھے، میری بہن سے عشق کر رہے تھے اور مجھے اپنے خرچ پر پورا دلی گھما رہے تھے۔ میں کسی انجانی خوشی میں مبتلا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بھیا ہم تمام لوگوں پہ کتنا وقت اور روپیہ اڑا رہے ہیں مستی میں ان کے ساتھ گھومتا پھرا، کبھی اس بات کا نہ مجھے خیال آیا کہ یہ کوئی اوچھی یا بری بات ہے اور نہ کبھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس ٹیم میں تمہارا کیا کام۔ ان دنوں کے کئی ایک رنگین نقش میری یادوں میں آج بھی محفوظ ہیں کہ کس طرح بھیا نے اپنی سخاوت کا جلوہ دکھا دکھا کر مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔میں نے بھیا کے ان اچھے دنوں کو دیکھ کر ان کے بارے میں جو تصور قائم کیا تھا حیرت ہے کہ وہی تصور ان کے ایسے سخت دنوں میں بھی میرے ذہن میں تازہ رہا جس کا کوئی منطقی جواز میرے پاس نہ تھا۔

دانش مسعود عرف بھیا میری زندگی میں وہ پہلے شخص ہیں جن کے متعلق میں نے اپنے ذہن میں یہ بات اولین دنوں میں بٹھا لی تھی کہ یہ جو چاہیں وہ کسی نہ کسی طرح کر ہی لیں گے۔ اس کا عملی نمونہ میں نے اس روز دیکھا جس دن ان کی شادی ہوئے چند برس گزر چکے تھے، میری بہن کے ساتھ ان کے تعلقات میں ایک نوع کی تلخی پیدا ہونے لگی تھی، وہ روز انہ اپنے ماں، باپ کی خوشنودی اور بیوی کی خواہشوں کی نذر ہو رہے تھے اور ایسے میں انہیں ایک اہم فیصلہ لینا تھا۔ ایک سخت نقل مکانی جس کی جرات عام طور پر لوگ خواب و خیال میں بھی نہیں کرتے۔ بھیا نے دلدلی زمین پر قدم جمانے کا فیصلہ کیا اس پر مضبوطی سے قائم رہے اور اپنی جواں مردی کا ثبوت پیش کر کے میرے خیال کو مزید تقویت عطا کر دی۔

بھیا کو قریب سے جاننے والے ان کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہیں کہ انہیں کسی بھی بات پر کبھی بھی غصہ آ سکتا ہے، ان کا جلال جب اپنے نقطہ عروج کو پہنچتا ہے تو وہ اپنے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، ساری اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر کسی ضدی بچے کی طرح اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں، غصے میں اپنے جملوں کو تیزی سے دہراتے ہوئے ادھر ادھر ٹہلنے لگتے ہیں۔ اپنے چھوٹے قد کے باوجود مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود بزرگوں کا احترام ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ میں نے اپنی گذشتہ تیس برس کی زندگی میں ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جس نے اپنے والدین کا ایسا احترام کیا ہو جیسا دانش بھائی کرتے ہیں۔ ان کے والد جو ایک سرکاری ملازمت میں اپنی تمام عمر گزار کر ایک پختہ مکان کے مالک بنےہیں، جن کے پاس نہ بے انتہا دولت ہے، نہ شہرت، نہ کوئی ایسی وجہ پا بہ زنجیر جس کے لیے دانش بھائی ان کی بے انتہا جھڑپوں کو برداشت کریں، ان کے غصے کو سہتے رہیں، ان کے طعنوں کا جواب نہ دیں اور ان کے آگے سر تسلیم خم کئے رہیں، لیکن اس کے باوجود دانش بھائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے والدین کے ہر اشارے پر دوڑ پڑتے ہیں ان کا ایک ایک حکم بجا لاتے ہیں اور اپنی خواہشات کو قربان کر کے، اپنے لہو کو جلا کر ان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ بخشتے ہیں۔
دانش بھائی مزاجاً ایک محنتی شخص ہیں،لہذا ان کی سرشت میں یہ بات شامل ہے کہ کسی بھی مشکل سے مشکل کام کو صحیح تکنیک کے ذریعے پائے تکمیل تک بآسانی پہنچایا جا سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے گزشتہ چالیس برسوں میں وہ ایسی ہی بے شمار انوکھی تکنیکوں کا استعمال کر کے نا سر کردہ مہموں کو جیتے چلے آئے ہیں۔ یوں تو وہ دہلی میں گزشتہ کئی برس سے روز گار کما رہے ہیں،لیکن ان کا ایک پاوں ہمیشہ ہردوئی میں رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں خدا اور وصال صنم دونوں کے اکثر ہاتھ سے جانے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔

کچھ لوگ جو زندگی کے نامساعد حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہی پیدا کیے جاتے ہیں میں نے دانش بھائی کو انہیں میں سے ایک پایا ہے۔ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ ادھر ان کا ایک گاگر بھرتا ہے تو ادھر دوسرا ٹوٹ جاتا ہے، ادھر وہ ایک طرف کی چادر برابر کرتے ہیں تو ادھر دوسرا سرا کھسک جاتا ہے، کسی ایک مسئلے میں سکون کی سانس لیتے ہیں تو دوسرا مسئلہ آنکھیں کھول دیتا ہے۔ ان سب کے باوجود وہ ہاتھوں میں تلوار تھامے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرے، زندگی کی ظالم حقیقتوں سے مسلسل لڑتے چلےجا رہے ہیں۔ ان کی زندہ دلی کا یہ ثبوت ہے کہ گزشتہ پندہ برس میں نہ ان کے قہقہے کی کھنکھناہٹ میں میں نے کوئی کمی محسوس کی ہے نہ پر مزاح انداز میں کوئی کھوٹ۔وہ اپنے مسائل پر مجمعے میں ہنس دیتے ہیں، خواہ ہنستے وقت ان کی آنکھوں کے کنارے کتنے ہی بھیگے ہوئے ہوں۔ جتنا زندگی ان سے امتحان لیتی ہے اتنا ہی مضبوط ارادہ باندھ کر وہ دوبارہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کی اس مردانہ عملی سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کی حقیقتوں سے کھیلنے کا راز جان لیا ہے۔دانش بھائی جو میری نظر میں عوام و خواص کی کامیابی اور ناکامی کی پری بھاشاوں سے کوسوں دور اپنی بستی آباد کیے ہوئے ہیں وہ کبھی کسی مسئلے میں خود کو کمزور نہیں سمجھتے۔ باتوں کی لاعلمی کا اظہار تو کرتے ہیں اورچیزوں کی لا حاصلی کا شکوہ بھی، لیکن اس طور سے کہ سننے والا ان کے تمام منفی جملوں کے اختتام پر ایک مثبت تاثر لے کر ان کی بزم سے رخصت ہو۔

اب جبکہ میں ان کی زندگی کی چالیسویں سالگراہ کا کیک کھا چکا ہوں تو مجھے محسوس ہو تا ہے کہ زندگی کی چالیس رعنائیوں نے دانش بھائی کو ایک مضبوط ارادے والا منظم انسان بنایا ہے،جس کے اندر ایک فن کار بھی سانس لیتا ہے اور ایک مزدور بھی۔ ایک باپ بھی رہتا ہے اور ایک شوہر بھی۔ ایک بیٹا بھی پل رہا ہے اور ایک دوست بھی۔ ایک خوابوں کی دنیا کا مسافر بھی زندہ ہے اور ایک حقیقت پسند انسان بھی۔ان کے چالیس برس کو کوئی پر تصنع انسان خواہ کسی طرح دیکھے پرمیرے نزدیک یہ ہی ان کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہےکہ انہوں نے اپنے چالیس برس اسی آبلہ پائی میں گزار دیئے بنا کسی امید کے کہ خوش حالی کا کوئی جھوٹا تصور کسی درخت کی چھاوں میں بیٹھا ان کی راہ تک رہا ہے۔

Categories
نان فکشن

“شعر” اور “واہ” کا رشتہ (تالیف حیدر)

میں عام طور پر اپنے حلقہء احباب میں کسی بھی شعر کی تعریف میں لفظ واہ بہت سنتا ہوں۔ یقیناً !یہ صرف میرے ہی حلقہء احباب تک محدود نہیں، بلکہ ایک عام رواج ہے۔لوگوں کا تاثر اکثر کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یا کسی اچھی بات کو سن کر یہ ہی ہوتا ہے، اس کے باوجود شعر کے ساتھ واہ کا جو رشتہ ہے، وہ دیگر معاملات میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ اکثر کسی تصویر کو دیکھ کر یا کسی اچھی عمارت کو دیکھ کر ایک دم سے واہ اس طرح نہیں کہتے جیسے شعر کو سن کر کہتے ہیں، عین ممکن ہے کہ کوئی اس صورت میں بھی واہ کو ایسے ہی ادا کرتا ہو جس طرح سماعتِ شعر کے بعد کیا جاتا ہے، لیکن یہ میرے مشاہدے میں کم ہی آیا ہے۔البتہ شعر پہ واہ کہنے والوں کو میں روز دیکھتا اور سنتا ہوں۔ اکثر میں اس بات پر غور بھی کرتا ہوں کہ کیا صرف ایک واہ سے کسی بھی شعر کی تاثیر کا مکمل اظہار ہو جاتا ہے؟ کیا واہ ایک ایسی طلسمی چھڑی ہے جس سے کسی بھی شعر کو ہانکا جا سکتا ہے؟ یقیناً! لفظ واہ کہنے کے لیے کسی لیاقت کی ضرورت نہیں، یہ بس لبوں سے یوں ادا ہوتا ہے جیسے ہر شعر کی غذا ہو۔

اگر آپ کو شعر گوئی اور شعر فہمی کا ملکہ حاصل ہے تو آپ نے اپنی زندگی میں کئی بار یہ تجربہ کیا ہوگا کہ کسی بھی شخص کو کیسا ہی کوئی شعر سنا یئے وہ یا تو خاموش رہے گیا یا اپنی گردن اثبات میں ہلا کر اس پر واہ کہہ دے گا۔ ایک واہ اور شعر کی ترسیل کے سارے مراحل طے۔ میں نے بہت سے شعر سنانے والے تو ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنے سامع یا قاری سے صرف واہ کی طلب کے لیے شعر پڑھتے ہیں۔ ایسے شعرا اپنا شعر پڑھ کر اکثر اپنے سامعین پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کس کس کونے سے واہ کی صدا بلند ہوئی ہے اور کون سا کونہ خاموش ہے۔

واہ ایک اظہار کیفیت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس میں ایک بھر پور تاثر کی جھلک پوشیدہ ہے۔ خواہ آپ نے واہ کو ایمانداری سے ادا کیا ہو یا بے ایمانی سے مگر یہ لفظ ہمیشہ اپنا اظہار ایک جیسا رکھتا ہے۔ اس کی جعل سازی کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً نا ممکن ہے۔ ادھر کی بستیوں میں(میری مرا د بر صغیر سے ہے) جہاں اکثر اشیاء اور جذبات میں ملاوٹ پائی جاتی ہے واہ کی ایماندارانہ جھلک کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔ مشاعرے بازوں کے یہاں تو یہ بالکل ہی مفقود ہے۔ ہر وہ شخص جو سچے دل سے واہ کہتا ہے، یقیناً اسے کسی سادےسے سادے شعر کو بھی بڑی باریکی سے سننا پڑتا ہے۔ اس کی کیفیت کے مکمل تاثر کو واہ کے لفظ میں تبدیل کرنے سے پہلے اس کی فنی باریکیوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے تمام محاسن و معائب کا حساب لگا کر اس لفظ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے، لہذا ایسے واہ کی ادائیگی میں اتنی تیزی جتنی عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے، مشکل سے ملے گی۔ عین ممکن ہے کہ اس عمل میں بھی تیزی دیکھنے میں آ جائے، لیکن اس کا ادراک ہونا مزید مشکل کام ہے۔ کون شخص کس شعر میں کیا دیکھ رہا ہے اور کس وجہ سے اس کے منہ سے کسی شعر پر واہ نکل رہا ہے؟ یہ بھی سمجھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی خاص نشست یا مشاعرے میں بہت اہم اہم لوگوں کو کسی شعر پر واہ کہتے سنا اور ان کا منہ تکتا رہا۔بعض سے اس تجسس کی بنیاد پر نظروں ہی نظروں میں یہ دریافت بھی کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے شعر سنتے ہی فوری طور پر واہ کیوں کہا۔ مگر اکثر جواب ندارت رہا۔ ایسی صورت میں جبکہ میں کسی سے اس کی واہ کی وجہ طلب کرنے کے لیے اسے غور سے دیکھتا تو مجھے بدلے میں مزید ایک واہ سنائی دیتی۔ کچھ بے تکلف قابل اور شعر فہم دوستوں کے منہ سے یہ لفظ سن کر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کبھی کسی ایک لفظ کو قابل تحسین گردانہ، کبھی شعر کے صوتی نظام کو اپنی واہ کی وجہ بتایا، کبھی کسی بحر کو اور کبھی کسی تلمیح، استعارے اور تشبیہ کو۔بے شمار مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی نے شعر سے اپنے کسی تجربے کو ملا دیا اور بعض مرتبہ اس کی پوری شرح بیان کرتے ہوئے اپنی واہ کی وجہہ بتائی۔ مجھے ان سب سے کوئی شکایت نہیں کہ واہ تو ان سب باتوں پہ بھی کی ہی جا سکتی ہے۔ مگریہ ذرا سوچنے کی بات لگی کہ کیا کسی ایک شعر میں ایسے ایک یا دو ہی نکتے ہوتے ہیں جن پر کوئی بھی شخص اولین صورت میں واہ کہہ دیتا ہے۔ یہ تو کسی شعر فہم شخص کا حال ہے کہ اس کو کم سے کم ایک یا دو چیزوں کی بہتری کا احساس ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر تو واہ اس روایت کے تحت کہا جاتا ہے جو کہ شعری متن کے اظہار سے وابستہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ایسے شعر میں جس میں لفظ کی تہہ میں معنی کا ایک نظام گردش کر رہا ہو، اس کے جتنے نکتے قاری یا سامع پر کھلتے جائیں گے اس کے منہ سے واہ کا لفظ ادا ہوتا رہے گا۔ لیکن اس عمل کے لیے ہمیں کسی ایک شعر کی قرات کم سے کم تین سے چار بار کرنی ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہم سماعتوں نے مشاعرے میں مکرر ارشاد کا نظام وضع کیا۔ ایک شعر جس کی کئی پرتے ہیں، جسے کئی معاملات سے جوڑا جا سکتا ہے، جو زندگی کے مختلف حالات و واقعات سے لگا کھاتا ہے، جو اپنی فنی باریکیوں کی وجہ سے دل پر اضطرابی کیفیت مرتب کرتا رہتا ہے، جس کا صوتی نظام اور آہنگ لرزہ دینے والا ہے وہ یقیناً مکرر کا حق دار ہے۔ ایسے شعروں پر وہ سماعتیں جو بالکل خالص ہیں وہ ہر بار نئے انداز میں واہ کہتی ہیں اور مختلف کیفیات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ کسی تیلی، نائی اور پارچہ باف، کسی انجینئر، ڈاکٹر اور آرکیٹیک، کسی مزدور بھانڈ اور متشاعر کو کوئی شعر سناو، وہ واہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے۔گویا کہ شعر کسی تفہیم کا نہیں بلکہ واہ کا محتاج ہے۔ میں صرف اپنی بات کروں تو شعر پر واہ کہنا میرے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل امر رہا ہے، یوں تو میں نے بھی اپنے بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں بہت سے شعروں پر سر ہلا ہلا کر اور جھوم جھوم کر واہ واہ کا گیت گایا ہے، مگر یہاں بات انجم باہمی سے آگے کی ہے۔ مثلاً غالب اور میر کے اشعار کسی موسیقار کے منہ سے سن کر ایک دم سے واہ نکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں یہاں مثال کے لیے اپنے ایک من پسند شاعر زیب غور ی کا ایک شعر لیتا ہوں:

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیب
اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

اس شعر پر میں واہ کہنے سے پہلے شاعر کے غبار نہ رہنے کی معنوی جہت پہ غور کروں گا، کیا وہ ہوا کہ چلنے سے پہلے غبار تھا، غبار اور بدن کے معنوی تقرب اور بعد پر غور کروں گا۔ پھر ہوا کے جھونکے کی تعبیر پہ سوال قائم ہوگا، شعر کی زمانی حیثیت پہ نظر جائے گی، اس اسلوب کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ عروض کا نظام ذہن میں گردش کرے گا۔ شعر کے دونوں مصرعوں کے صوتی آہنگ پہ نظر گاڑنا ہوں گی۔ ان سب مرحلوں سے گزرنے کے بعد جب شعر کو صحیح یا پھر قرین قیاس معنی کے سانچے میں ڈھالوں گا تب واہ کا لفظ شائد منہ سے ادا ہو۔ اس عمل میں برجستگی کی خواہش عبث ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے، خواہ ذہن کتنی ہی تیزی کا مظاہرہ کرے مگر کشاکشی میں جو وقت صرف ہونا ہے وہ مجھے مصنوعی واہ سےحتی الامکان دور رکھے گا۔ واہ کہنا کوئی شوخی نہیں اور نہ کوئی فیشن ہے۔ یہ تو ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ غور سے دیکھو تو اس واہ کی لالچ نے ہی ہمارے مشاعروں کا معیار پست کیا ہے۔ غالب سے جو آسان کہنے کی فرمائش کی گئی تھی اس کے پیچھے بھی یہ ہی واہ واہی کار فرما تھی۔ ایک جملہ ہم اکثر ادیبوں کے منہ سے سنتے ہیں کہ میاں مرزا رفیع سودا واہ کے شاعر تھے۔ اس واہ سے غالباً ایک عام ذہن طربیہ مراد لے مگر ایک سوچتا ہوا ذہن اس سے تحسین کی فنی باریکیوں کی شناسائی مراد لے گا۔ یقیناً سودا واہ کے ہی شاعر ہیں کیوں کہ وہ نکتہ سنجی اور نکتہ فہمی کے متمنی ہیں۔ ان کی شاعری کی مثال واہ کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ اس تناظر میں میر کا کلام جس آہ کے خانے میں فٹ کیا جاتا ہے وہ بھی واہ کی ہی ایک ارتقائی صورت ہے۔ شعر پر واہ کہنا ہر اس امر سے مشکل ہے جس حالت میں آپ کو کسی پیڑ کے نیچے لیٹے لیٹے کشش ثقل کی موجودگی کا احساس ہوجائے۔ جس طرح کوئی ایک نیا تجربہ انسانی زندگی میں ایک نئی بہار لاتا ہے اسی طرح ہر اس شعر پر جس پر قاری یا سامع واقعتاً واہ کہنے پر مجبور ہوجائے ایک نئے احساس سے وابستہ ہوتا ہے۔ واہ کہنا کسی انوکھی کیفیت سے دوچار ہونا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ کیفیت جو انسانی قلوب پر اکثر گزرتی ہے وہ اس کے لیے اتنی متاثر کن نہیں رہتی کہ اس سے کسی نئی کیفیت متشکل ہو۔ شعر کا کام انسانی قلوب کی منجمد گرد کو ہٹا کر وہاں تحریک کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے اور جب وہ تحرک اپنے عروج پر پہنچتا ہے تب ہم بے ساختہ ایک واہ کے ذریعے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ لہذا پلک جھپکے ہی کسی شعر پر واہ کہنا اور کسی ایک شعر کی جھلک پاتے ہی اس سے مجموعہ کیفیت ظاہر کرنا ایک جعلی عمل ہے اور ہر سچا قاری اور سامع ایسی جعلی واہ سے کبھی اپنا رشتہ استوار نہیں کرتا۔

Categories
تبصرہ

آج کا پانچواں شمارہ: تاثراتی جائزہ (تالیف حیدر)

کہانی:مرگ/مصنف:منوچہر خسرو شاہی:

آج کے پانچویں شمارے کی پہلی کہانی ہے۔ جس کا فارسی زبان سے اردو میں نیر مسعود نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ کہانی بھی نیر مسعود کی کہانیوں کی طرح علامتی ہے۔ جس میں ایک بوڑھا درخت جو کیڑوں سے اٹا پڑا ہے۔ اس کو بنیادی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایک بچہ جو اپنے گھرمیں پھیلے کیڑوں اور اور کیڑوں کو چباتی چینٹیوں کا بغور مشاہدہ کرتا رہتا ہےاس کے اعصاب پر وہ کیڑے اور چینٹیاں کس طرح سوار ہوتے چلے جاتے ہیں اس کو اشاراتی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک بوڑھا درخت اور ایک بوڑھا باپ ان دونوں کی زندگیوں میں موت کے گہرے ہوتے آثار کو مصنف نے بیانیے کی شکل میں ظاہر کیا ہے۔ ایک بوڑھا شخص بھی ان کرداروں کے درمیان ہے جو اپنے بڑھاپے اور تجربے کے ساتھ موت کے اندیکھے غار کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بچہ ان سب کو کیڑوں کی کی شالوں میں لپٹا ہوا دیکھتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ سب خود کیڑے بن جاتے ہیں اور اسے چاروں طرف چیزوں کو نگلنے والے اور موت کے سائے کو گہرا کرنے والے کیڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ کہانی میں ماں کا کردار بھی خاصہ دلچسپ ہے جس کی سسکیوں اور بین میں جوان شوہر کے گھلتے چلے جانے کا کرب ہے۔کیڑا اس کہانی میں موت کی علامت ہےاور چینٹیاں مرگ کے آثار کو مزید گہرا کرنے کا کام کرتی ہیں۔ منوچہر خسرو شاہی کی اس کہانی میں موت اپنی حقیقت کے ساتھ چاروں جانب کس طرح موجود ہے اس کا دلچسپ منظر پیش کیا گیا ہے۔

کہانی: بارش اور آنسو/مصنف: بابا مقدم:

اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ آج کی کہانیوں کا انتخاب کمال کا ہوتا ہے اور طرفہ تماشا یہ کہ نیر مسعود کی زبان اس کی کہانی کی ترجمانی کرے۔ غالباً اسی کو سونے پر سہاگا کہتے ہیں۔اس شمارے کی دوسری کہانی بابا مقدم کی ہے۔ بابا مقدم فارسی زبان کے افسانہ نگار ہیں،جن کہانی بارش اور آنسو کا ترجمہ نیر مسعود نے کیا ہے۔ کہانی میں تین سے چار مناظر ہیں، یا یوں سمجھا جائے کہ تین مکمل اور چھوتا ادھورا منظر۔ سمندر کی فضا، اپنے جانور سے انسیت اور آنکھوں کی نمی یہ ان چار مناظر کی مختصر تفصیل ہے، کہانی چھوٹی سی ہے، مگر نہایت دلچسپ۔ عام حالات اور واقعات سے الگ ایک خاص ذہنی حالت سے متعلق۔ حالاں کہ اس میں دو نہایت عمدہ گھوڑوں کو موضوع بنایا گیا ہے جس سے کہانی میں ایک الم ناک فضا قائم ہو گئی ہے، لیکن یہ ان تمام جانوروں سے متعلق ہے جو انسانی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور ان سے انسانوں کا گہرا رشتہ بن جاتا ہے۔ جانور کیسا ہی بے عقل کیوں نہ ہو اس میں وفاداری کا جذبہ بہت ہوتا ہے۔ ایسی وفاداری جو انسان کے حصے میں کبھی نہیں آ سکتی۔ حالاں کہ جانور سے انسان کی محبت بھی ایک نوع کی خود غرضی کا ثبوت دیتی ہے جس کی مثال بھی محمود کی محبت سے ملتی ہے، کیوں کہ انسان اسی جانور سے پیار کرتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہوتا ہے، مگر جانور کا لگاو بے لوث ہوتا ہے۔ بابا مقدم نے اس کیفیت کی مختصر تصویر کشی کی ہے۔ جن لوگوں نے سمندر کی فضا کو دیکھا ہے انہیں بابا مقدم کا پیش کردہ یہ منظر بھی خوب بھائے گا۔ آخر میں انسان کی کمزوری کا ایک ادھورا عکس بھی اس کہانی میں ہے، وہ کمزوری جو انسان اپنے ہمسائے پر بھی ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا۔ کہانی کے ترجمے میں بعض الفاظ و تراکیب میرے لیے بالکل نئی تھیں۔ مثلاً گردن باندھنا،بارک،مان گون،ملائی دلائی،کوتل،کمیت،کنوتیاں،چھل بل،کھریرا،پویا اورفٹن۔ اس کے علاوہ ایک محاورہ “معاملہ کس کروٹ بیٹھے گا” بھی پہلی بار پڑھا۔ اونٹ کا کس کروٹ بیٹھنا تو پڑھا تھا، مگر یہ معاملہ کیسے کروٹ بیٹھتا ہے اس کا علم نہ تھا۔

کہانی:ہوا کی ہوک/مصنف:جمال میر صادقی:

عام طور پر ایسی کہانیاں پڑھنے کو نہیں ملتیں، جن میں کوئی تحدید نہ ہو۔ جمال میر صادقی کی کہانی “ہوا کی ہوک” پڑھ کر اس کی تلافی ہو گئی۔ اس کہانی میں انہوں نے پانچ کردار تراشے ہیں،ایک بوڑھا شخص، دو اجنبی آدمی، ایک لڑکی اور ایک نہر(سڑک)۔ پوری کہانی میں ہوا کی ہوک کا منظر سب سے زیادہ دلکش ہے۔ ایک بوڑھا جو ایک لڑکی کو بچا رہا ہے اور پھر اسی کو مار رہا ہے۔ کہانی میں کسی کا کسی سے کوئی رشتہ بیان نہیں کیا گیا ہے اور یہ ہی کہانی کا حسن ہے۔ پڑھنے والا خود قیاس کرتا رہ جاتا ہے کہ آخر کس کے کردار کو اچھا سمجھے اور کس کے کردار کو برا۔ یہ کہانی ہماری زندگی کے ان لمحات کا بہترین عکس ہے جن میں ہم کوئی انجان واقعہ بلا ابتدا دیکھتے ہیں اور اسے بھی اختتام سے پہلے پہل تک دیکھ کر اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ فیصلوں کی جلد بازی کے عہد میں اس کہانی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کہانی کا اصل متن فارسی زبان میں ہے، جس کا ترجمہ نیر مسعود صاحب نے کیا ہے۔ ایک لفظ خرافاتی غلط استعمال ہوا ہے، عام بول چال میں بھی یہ لفظ کسی بڑ بولے یا جھوٹے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ اس کہانی میں ایک انجانے عمل سے گزرنے والے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایک گالی قرمساق بھی بہت کم پڑھنے کو ملتی ہے، جس کا استعمال اس کہانی میں کیا گیا ہے۔ قرم ساق کو عام زبان میں بھڑوا یا اس سے کچھ بہتر زبان میں دیوث کا جا تا ہے جو اپنی عورت سے پیشہ کرواتا ہے۔

نظمیں/ ثروت حسین:

ثروت حسین کی گیارہ مختصر نظمیں اس شمارے میں شامل ہیں۔ سب کی تاثیر جدا ہے، ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ وہ آپ کو مختلف خیالات کی تہہ میں لے جاتی ہیں، بنا لفاظی کے۔ سامنے کی باتیں جن میں گہرے معنی چھپے ہوئے ہیں۔ آپ انہیں پڑھیے، پہلے لطف اندوز ہویئے، پھر ان کے معنی کی تہوں پر غور کیجیے، پھر مزید لطف اندوز ہویئے۔ اچھا ادب ایسا ہی ہوتا ہے۔ معنی بہت ہیں، مگر اسلوب بھی دلکش ہے۔ ان کی نظم منہ زور گھوڑے اس کی بہترین مثال ہے۔ ایک ایک سطر میں صرف ایک ایک لفظ کا اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ قاری ہر سطر پہ خوش ہوتا ہے، چونکتا ہے اور نظم ختم کر کے مسکرا دیتا ہے۔ سچی اور سامنے کی باتیں۔ جن سے زندگی کی نئی حقیقتوں کا تانا بانا بنا گیا ہے۔ ان کی نظموں کی یہ خصوصیت ہے کہ ان میں ایسا کرب ہے جس میں حسن کی جھلکیاں شامل ہیں، ماضی کا حسین خواب ہے، منظر کشی ہے، حقیقت میں سراب کا بھکرا ہوا رنگ ہے اور تازہ کاری ہے۔ ان کی مختصر نظموں میں حمد، بنفشئی دھنداور منہ زور گھوڑے مجھے خاص طور پر پسند آئیں۔

نظمیں /ذیشان ساحل:

اس شمارے میں ذیشان ساحل کی چھ نظمیں شاعر اور مسخرے، کشتی، ہیر نگ ایڈ، پتھر، نظم بعنوان نظم اور ایک گیت جو کبھی پرانا نہیں ہوتا شامل ہیں۔ ذیشان ساحل کی نظمیں خواب اور حقیقت کے ملے جلے اثرات سے مزین ہوتی ہیں، جن میں سادہ الفاظ اور مشکل استعاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ کسی جذبے یا احساس کو بیان کرنے کے لیے پیچیدہ اور غیر مانوس الفاظ کو لغت کے مردہ گھروں سے کھود کھود کر نہیں لاتے، بلکہ روز مرہ کی محاوراتی زبان میں خواب آلود عناصر شامل کر دیتے ہیں۔ ان کی یہ چھ نظمیں بھی اسی نوعیت کی ہیں جن میں بصیرتوں کا المیہ، فنکار کی ناقدری کا نوحہ،لطیف طنز کی جھلکیاں،تلخ تجربات کے مرثیے،معصوم شکایتیں، امیجری، استعاراتی زبان اور ماضی اور مستقبل کے حسین خواب پروئے گئے ہیں۔نظمیں زیادہ طویل نہیں ہیں، مگر معنی خیز ہیں۔ اردو میں ایسی نظمیں کہنے کا ملکہ کم ہی شعرا کو حاصل ہے۔ ایک خاص بات ان نظموں میں یہ بھی ہے کہ آزاد نظموں کے نام پر جھوٹی اور بے ترتیب جذباتیت کا اظہار ان میں نہیں کیا گیا ہے اور صنف کی تذلیل کرنے سے شاعر نے سر مو انحراف کیا ہے۔

کہانی :نیلی آنکھوں کا گلدستہ /مصنف:اوکتایو پاز:

چھوٹی سی کہانی جسے آپ، افسانچہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک واقعہ مکمل یا ادھورا کچھ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کی کوئی واضح ابتدا نہیں اور نہ ہی انتہا۔ بس ایک تجسس۔ جس میں ایک شخص ہاتھوں میں چھرا لیے سڑک پر اسے روک لیتا ہے جو رات کے اندھیرے میں ماحول کے سناٹے اور خاموشی سے بیزار ہو کر چہل قدمی کے لیے نکلا ہے۔ گپ اندھیرے میں۔ اچانک مدبھیڑ ہوئی۔اجنبی کے ہاتھ میں چھرا ہے اور وہ ماحول سے بیزار شخص سےا س کی نیلی آنکھیں طلب کر رہا ہے۔ دونوں پریشان، دونوں ڈرے ہوئے، دونوں کی الجھنیں ان کی آوازوں سے عیاں۔ نیلی آنکھوں والے کا مطالبہ بھی عجیب کہ اسے اپنی محبوبہ کے لیے ایک گلدستہ بنانا ہے جو نیلی آنکھوں کا ہو۔ بیزار شخص بھی پریشان کہ اس کی آنکھیں تو بھوری ہیں۔ پھر ماچس کی تیلی رات کے اندھیرے کا کلیجہ چاک کرتی ہے،بیزار شخص کی آنکھوں کو چمکتا خنجر چھوتا ہے اور نیلی آنکھوں کا طالب اسے اپنے شکنجے میں لے لیتا ہے۔ پھر خود اس پر اپنی گرفت ڈھلی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جاو تمہاری آنکھیں نیلی نہیں ہیں۔ کہانی ختم ہو جاتی ہے اور قاری پر سکوت چھا جاتا ہے۔ زندگی کا ہر وہ اتفاقی واقعہ اور وہ مشکل گھڑی اس کی آنکھوں میں روشن ہو جاتی ہے جب ا س کی آنکھوں کا نور وقت کے ہاتھوں چھنتے چھنتے رہ گیا۔اس کہانی کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔

کہانی:لہر کے ساتھ میری زندگی/مصنف: اوکتایو پاز:

کسی ادبی فن پارے سے خواہ وہ کہانی ہو یا شاعری اس وقت تک آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے جب تک آپ میں زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی خواہش نہ ہو۔اگر آپ لکیر کے فقیر ہیں، تو یقیناً آپ کے لیے ادب ایک بے کار چیز ہے۔ اوکتایوپاز کی کہانی لہر کے ساتھ میری زندگی کو عام قاری مجھ جیسا،پہلی قرات میں الجھی ہوئی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ اس کے معنی کی تہوں میں بکھری ہوئی صورت حال میں یکسانیت تلاش کرتا ہے۔ پھر دوبارہ اور سہ بارہ اس کہانی کو پڑھتا ہے اور ششدر رہ جاتا ہے کہ ایک ایسا قصہ جس میں زندگی کو بالکل ایک نئے زاویہ سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے اس میں مصنف نے کتنی چابکدستی سے حیرتوں کے چراغ روشن کر دیئے ہیں۔ ہم اس طرح نہیں سوچتے، زیادہ تر لوگ یا یوں کہا جائے کے بے شمار تخلیق کار اس طرح نہیں سوچتے،بس سوچتے ہیں جس میں روایت کو بڑا دخل ہوتا ہے۔ اس کہانی میں لہر کا کردار ایک جاندار استعارہ ہے، زندگی کے بدلتے رنگوں کا، عشق کی تازہ کار دنیاوں کا، الجھنوں کا اور نئے المیوں کا۔ میں اس کہانی کو عشق کی جدید الف لیلہ کہہ سکتا ہوں، جس میں ایک ہزار واقعات نہیں ہیں، صرف ایک واقعہ ہے، مگر اتنا پر پیچ کہ اس میں جذبوں کی اتھل پتھل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ نئے تجربوں کی حیرانی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔آپ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے ایک بالکل ہی انوکھی افسانوی دنیا میں چلے جائیں گے۔ مختلف حقیقتوں کی بوقلمونی سے لطف اندوز ہوں گے اور زندگی کے نئے استعاروں سے روشناس ہوں گے۔ اس کہانی کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے اور یقیناً انہوں نے اپنی سحر بیانی سے اسے مزید آتش بار بنا دیا ہے۔ جملوں میں اتنی روانی بھر دی ہے کہ ترجمے کا گمان ہی نہیں ہوتا۔ اگر اوکتایو پاز نے اس فن پارے کو پہلی مرتبہ تخلیق کیا ہے تو اس کے ترجمے کی صورت میں آصف فرخی نے اسے کہانی کے تخلیق نو کے فرائض انجام دیئے ہیں۔

نظمیں/یہودا امیحائی:

Yehuda Amichaiایک مشہور فلسطینی شاعر ہیں، جن کی بیس نظموں کا ایک انتخاب اس شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ جن میں آٹھ نظموں کا ترجمہ افضال احمد سید نے کیا ہے اور بقیہ کا اجمل کمال ہے۔ ان کے عناوین بم کا قطر، میری سابقہ طالب علم ذینس بہت بیمار تھا، پرچم کیسے بنا، وہ مکان جس میں میں نے کئی خواب دیکھے، جو لوگ اپنا گھر چھوڑتے ہیں، زندگی میں بعد از وقت، تم سیب کے اندر مجھ سے ملنے آتی ہو(ترجمہ : ا۔ا۔ س)،ہماری محبت کے عرصے بعد،ہمارے جسموں کے نشان کی طرح، بہت دنوں سے کوئی نہیں پوچھتا، بیل گھر لوٹتا ہے،اونچی ایڑی کے جوتے، میدان جنگ پر بارش، خدا کی تقدیر، ایک بار،جاسوس،وہ مجھے بلاتے ہیں، میں جس شہر میں پیدا ہوا اور میرے پاس جنگ کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں(ترجمہ:ا۔ک) ہیں۔ ان کی زیادہ تر نظمیں مختصر ہیں، دو چار طویل بھی ہیں۔ ان نظموں کے ترجمے میں سادہ لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ نظموں کا اصل متن عبرانی میں ہے، جس کا انگریزی زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ نظموں کی فنی حیثیت اردو شاعری سے بہت مختلف ہے۔شاعرانہ تاثیر سے بھری ہوئی،لیکن مختلف المزاج۔ کچھ نظموں میں بلا کی جاذبیت ہے۔آپ پڑھیں گے تو یوں محسوس ہوگا کہ گویا یہ موجودہ حالات کی سچی تصویریں ہیں۔ مثلاًبم کا قُطر۔ کچھ نظمیں علامتی ہیں، مگر ان کی علامتیں بہت زیادہ پیچیدہ نہیں، مثلاًایک بار،تم سیب کے اندر مجھ سے ملنے آتی ہو اور وہ مجھے بلاتی ہے۔ مجھے ان نظموں میں جن دو نظموں نے سب زیادہ متاثر کیا وہ پرچم کیسے بنا اورمیرے پاس جنگ کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں، ہیں۔

کہانی: ایما بوواری کی آنکھیں/مصنف: جولین بارنز:

Julien Barnesکی تحریر” ایمابوواری کی آنکھیں” ان کے مشہور ناول Flaubert’s Parrotکا چھٹا باب ہے۔ جس کا ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے۔ مدیر نے اس تحریر کے اختتام میں Julien Barnesکا مختصر اً تعارف بھی کروایا ہے، لیکن یہ بات اس میں شامل نہیں ہے کہ اس ناول کو بوکر انعام سے نوازا گیا تھا۔ پورے ناول کا مطالعہ قاری پر کیا تاثر مرتب کرتا ہے اس سے قطع نظر اگر ہم اس تحریر کو صرف ایک مختلف مکمل تحریر کی صورت میں پڑھیں تو اس کا اثر تنقید کی کارگزاریوں سےدلچسپ بحث کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ پورے ناول کی فضا کیسی ہے، لیکن اس تحریر کی نمایاں خصوصیت کے پیش نظر محسوس ہوتا ہے کہ پورے ناول میں یہ ہی انداز روا رکھا گیا ہوگا۔ میں اس تحریر پر کوئی تنقیدی گفتگو نہیں کروں گا، اسے اچھا برا بھی نہیں کہوں گا، بس ایک جملے میں مضمون کی منجملہ فضا کو ظاہر کرنے کی کوشش کروں گا کہ اگر میں اس تحریر کو نہ پڑھتا تو ایسی بہت سی باتوں اور مثالوں سے نا آشنا رہتا کہ مجھےنقادوں سے نفرت کیوں ہے؟آپ خود اس تحریر کو پڑھیے اور جانیے کہ مصنف نےایک ناول میں فلوبیر اور بالزاک کے موازنے کا بخیہ کس طرح ادھیڑا ہے۔ ساڑے آٹھ صفحات کا جدید مقدمہ جو حالی کے مقدمے سے بہت مختلف ہے۔اس تحریر کا انتساب مترجم نے مظہر علی جید کے نام کیا ہے۔

ناول:اپنی دعاؤں کے اسیر-2/مصنف : فاروق خالد:

کہانیاں ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہیں، سب سے اہم چیز یہ کہ زندگی کتنے بدلتے رنگوں کی داستان ہے۔ اسے کہنے سے زیادہ محسوس کرنے کےعمل سے ہم کہانیوں کے مطالعے کے درمیان گزرتے ہیں۔ اجمل صاحب نے اسے اور قریب الفہم بنا دیا ہے، کیوں کہ وہ تکمیل اوتاثیر کو کہانیوں کے قالب میں اوروں کی طرح نہیں دیکھتے۔اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ کہانیاں جن کو آج نے شائع کیا ہے ان کا کوئی سر پیر نہیں، بس آپ انہیں دوسری کہانیوں کے سر پیر سے جدا ظاہری حسن سے مزین کہہ سکتے ہیں۔ فاروق خالد کے ایسے ہی ایک ناول ” اپنی دعاؤں کے اسیر-2″کے ایک باب کو شامل کر کے اجمل صاحب نے اس کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ناول کی کہانی کے مختلف حصے ہیں،جن میں ظاہری یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ کچھ کردار ہیں جن میں بشیر، کلثوم، سیما، ساجھی، ظفر احمد،امتیاز علی، افتخار حمید، روشی، بونا عبدالرحمن،کریم، ڈاکٹر، انڈے والا اور کنڈکٹر وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف حالتیں، مختلف نفسیاتی مسائل۔ کہانی کا ایک تار ایک سرے سے دوسرے سرے تک جڑا ہواہے، اس کے باوجود ایک دم سے منظر کا تبدیل ہوجانا اور خیالات کے بہاو کو نیا رخ مل جانا، یہ اس کہانی کی خاصیت ہے۔ جن لوگوں کو کہانی کے بے ترتیبی سے محظوظ ہونا نہیں آتا وہ یقیناً کہیں کہیں اکتا جائیں گے۔ مگر مجھے اس میں نہایت دلچسپ نفیساتی حالتوں کا بیان نظر آیا ہے۔ ایسے لوگ اور حالات ہمیں اصل زندگی میں کم نصیب ہوتے ہیں، انہیں خواب کی مانند کہا جا سکتا ہے۔ آپ کہانی کے باطن میں اترتے چلے جاتے ہیں اور مختلف احساسات سے دو چار ہوتے ہیں۔ کبھی ساجھی کی حالت پر مچل جاتے ہیں، کبھی ظفر کے معاملات پر حیران ہوتے ہیں، کبھی روشی کی حرکتوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں اور کبھی بونے کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ بشیر سے لے کر کنڈکٹرتک ہر شخص کا جادو جدا ہے اور کہانی کے مختلف منظر ناموں کا سحر الگ۔ دلچسپ ناول کا دلچسپ باب۔

زبان کہیں کہیں مشکل ہے۔ کچھ الفاظ سمجھ میں نہیں آتے، مثلاًپنگوڑا،دسمالی،مندریاں،مرام اورمالٹوں وغیرہ۔ یہ غالباً علاقائی زبان کے الفاظ ہیں اس لیے عام فہم نہیں ہیں۔ایک، دو جگہ پروف کی اغلاط بھی راہ پا گئی ہیں۔ مثلاً:
• گتے کا بڑا ڈبا اٹھا کر رکھا تھاٹ(ٹ اضافی ہے۔ ص:67)
• رات کا شو شروع ہوا تھا۔(شور میں ر چھوٹ گیا ہے۔ص:69)

کہانی : میراث/مصنف: علی امام نقوی:

علی امام نقوی کی کہانی میراث آج کےپانچویں شمارے کی دوسری سب سے اچھی کہانی ہے۔مجھے اس کہانی نے بے حد متاثر کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مصنف نے جس ماحول اور معاملات کا کہانی میں ذکر کیا ہے، میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عورت جو کہانی کا مرکزی کردار ہے اس میں دیہی اور شہری دونوں طرح کی زندگی میں سانس لینے والی غریب اورعام عورت کے مسائل نظر آتے ہیں۔ کہانی کا اختتام نہایت متاثر کن ہے۔جس سے کہانی معنویت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے:

“بڑی کی موت کی خبر دیواریں پھلانکتی گڑھی کے ہر گھر میں پہنچ چکی تھی۔ برادری کے ہی کسی آدمی نے منٹوں میں یہ خبر گھر کے مردوں تک پہنچا دی، تینوں بھائی اپنی اپنی رکشائیں ساتھ ہی لائے تھے۔ بڑا سر جھکائے بچوں کو سنبھال کر مردانے میں بیٹھ گیا۔ برادری والے کفن دفن کے انتظام میں جٹ گئے۔ گھر میں عورتوں نے رورو کر برا حال کر لیا تھا اور صابرہ باورچی خانے میں بیٹھی اپنی بھیگی آنکھوں سے چاول، سالن کی دیگچیوں اور روٹی کی چنگیری کو غور سے دیکھ رہی تھی۔”
(ص:105، کہانی : میراث،مصنف:علی امام نقوی، شمارہ :5، آج)

انتخاب :خوخے لوئس بورخیس: (Jorge Luis Borges)
کہانی:رخم کا ہلال:

چونکا دینے والی لا جواب کہانی۔میں اس جملے سے اپنی بات اس لیے شروع کر رہا ہوں کیوں کہ اس کہانی کے لیے اس سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ہو سکتے۔ ایک زخم کی چھوٹی سی داستان۔ جس میں خونی جنگوں کی گاتھائیں ہیں، فوجیوں کی دلیری ہے، موت کے بھیانک سائے ہیں، انقلابی نعرے ہیں، آزادی کے خواب اور سب سے بڑھ کر انسانی دغابازی اور چالاکی کا گہرا رنگ ہے۔ غالباً یہ بات کہانی پڑھنے والوں کو عجیب لگے کہ میں اس کہانی کا ہیرو لاکورا دا کے انگریز کے بجائے جون ونسنٹ مون کو سمجھتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ حقائق کا اظہار کرتا ہے، نہ اس لیے کہ وہ ہی ہمیں چونکاتا ہے، بلکہ اس لیے کیوں کہ وہ زندہ ہے۔ ذہین ہے اور مشکل حالات میں زندگی سے بھر پور فیصلے لینے کا مہتو جانتا ہے۔ ہر وہ فیصلہ جو انسان کو زندہ رکھے وہ میرے نزدیک مشکل گھڑی کا سب سے زیادہ ذہانت آمیز فیصلہ ہے۔ بورخیس اگر اس کہانی کا اختتام اس انداز میں نہ کر تا جس انداز میں اس نے کیا ہے اور جسے میں چاہ کر بھی بیان نہیں کر سکتا کیوں کہ کہانی کے رازوں تک پہنچنے کا چور دروازہ وہیں ہے تو اس میں غالباً ایسی چونکا دینے والی صفت نہ پیدا ہوتی۔ یقیناً مجھے اس کے ایسے اختتام کی قطعاً امید نہ تھا۔ کہانی کا اصل متن ہسپانوی زبان میں ہے اور انگریزی سے اس کا ترجمہ ممتاز شیریں نے کیا ہے۔ ترجمہ نہایت سلیس ہے۔ کہیں کہیں ملکوں اور علاقوں کے نام سمجھ میں نہیں آتے اور انسانی ناموں کی درست ادائیگی بھی مشرقی لوگوں کے لیے ذرا مشکل ہے۔دو مقامات پر پروف کی اغلاط بھی ہیں۔مثلاً:

• لہذا مجھ رات بھر۔(مجھ کی جگہ مجھے ہوگا۔ص: 109)
• خواب دیکھے عادی تھے۔( دیکھے عادی کی جگہ دیکھنے کے عادی ہوگا۔ ص: 109)
یہ کہانی اولین لاہور کے رسالے ادب لطیف میں شائع ہوئی تھی اور مدیر نے اس رسالے کے شکریے کے ساتھ اسے آج میں شامل کیا ہے۔

کہانی: المعتصم تک رسائی:

میں اس بات سے ناواقف ہوں کہ میر بہادر علی واقعی کوئی ناول نگار تھا، جس نے The Approach to Al-Mu’tasimنام کا کوئی ناول لکھا تھا یا نہیں یا یہ خود بوخیس کی ایجاد ہے یا کسی دوسرے فکشن نگار کی اختراع۔ کچھ بھی ہو اس تحریر سے میں نے کہانی کہنے اور تخلیقی پیرایے کو سنوارنے کا ایک اور ہنر سیکھا۔ یہ کہانی ایک تبصرہ ہے۔ جو میر بہادر علی کے ناول المعتصم کی واپسی پر کیا گیا ہے۔ مصنف نے فلپ گیڈالا کے ایک تنقیدی بیان سے اپنی بات کا آغاز کیا ہے، جس کے بعد جان –ایچ-واٹس، برائٹن، مسٹر سیسل رابرٹس اور فرید الدین عطار وغیرہ کا تذکرہ آتا ہے۔ ناول کے مزاج، موضوع اس کی تکنیک اور معیار پر گفتگو ہوتی ہے۔اس کی تقابلی تنقید کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ منطق الطیر سے اس کا رشتہ جوڑا جاتا ہے۔ اسے بمبئی میں لکھا گیا سراغ رسانی کا پہلا ناول بتاتے ہوئے اس کی شہرت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ریویوز کی یادیں تازہ کرتے ہوئے یہ معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں کہ بومبے کوارٹرلی ریویو، بومبے گزٹ، کلکتا ریویو، ہندوستان ریویو (الہ آباد) اور کلکتا انگلش ریویو وغیرہ میں کتاب پر توصیفی تبصرے کیے گئے۔ اس ناول کے مصور ایڈیشن کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کے مختلف ایڈیشنس پہ بات ہوتی ہے اور پھر اس ناول کی کہانی کو مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔

کہانی بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ ایک نوجوان طالب علم جو مسلم گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن زیادہ مذہبی نہیں ہے۔ وہ کس طرح ایک فسادی صورت حال میں پھنس کر ایک ہندو کا خون کر دیتا ہے اور اس کے بعد ایک خاص نفسیاتی حالت کا شکار ہو کر کسی روحانی وسیلے کی تلاش میں سفر شروع کر دیتا ہے۔ ناول میں غالباً بیس ابواب ہیں۔اس کے پلاٹ پر بھی مصنف نے بہت دلچسپ گفتگو کی ہے۔ اگر ایسا کوئی ناول واقعتاً موجود نہیں ہے تو یہ بورخیس کی تخلیق کا انوکھا کارنامہ ہے۔ بورخیس اس ناول کے قصے کو بیان کر کے اس کے بنیادی خیال وغیرہ پر گفتگو کرتا ہے اور پھر اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے تنقیدی جملوں میں عامیانہ پن نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کی مبہم گفتگو ہے۔ سادی اور سیدھی باتیں ہیں جو کسی ناول کے مطالعے کا لب لباب بیان کرتے ہوئے اس کی معنویت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اپنی تنقیدی بحث میں بورخیس نے دلچسپ نکات بیان کئے ہیں،مثلاً یہ دونکتے نہایت معنی خیز ہے کہ:

• یہ بڑی معزز بات سمجھی جاتی ہے کہ آج کی لکھی ہوئی کوئی کتاب کسی قدیم کتاب سے مشتق ہو۔
• یہ انتہائی غیر فطری بات ہوگی کہ محرم کی دسویں رات پر بنائی گئی دو تصویروں میں کچھ مطابقت نہ ہو۔
تبصرے کے آخر میں مصنف نے ایک نوٹ دیا ہے جس میں اس نے ایرانی صوفی فرید الدین عطار کی طویل نظم منطق الطیر کا خلاصہ پیش کیا ہے۔

مختصر تحریریں(The Book of Imaginary Beings):

مختصر تحریریں میں پیراڈائزو،گواہ،تغیرات،خنجر،الوداع، یونانی انتھو لوجی کے ایک چھوٹے شاعر سے،شطرنج،متیXXV اور دو مابعد الطبیعیاتی پیکر ان نو عناوین سے مختلف موضوعات پر نثریہ اور نظمیہ تحریریں شامل ہیں۔ جن سے بوخیس کے تخلیقی رجحانات کا علم ہوتا ہے ساتھ ہی اس کی اس کی فکر سے شناسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان تمام تحریروں میں ایک مشترک چیز ابہام ہے۔ معنی خیز تحریریں جن سے کسی تاریخی واقعے یا کسی اعتقادی صورت حال کی طرف ذہن جاتا ہے۔ ان کا طرز فلسفیانہ ہے اور ان زندگی کے غیر معلوم حقائق پر سوالات قائم کیے گئے ہیں۔ تحریریں دلچسپ ہیں۔ ان کا مختصر تعارف فرداً فرداً مندرجہ ذیل ہے۔یہ اصلاً ہسپانوی زبان میں ہیں اور ان کا ترجمہ انگریزی سے اجمل کمال نے کیا ہے۔

پیراڈائزو:اس میں ایک مسخ خدا کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جو پتھر کا بنا ہوا یک مجسمہ ہے۔ جس کی شبیہ مسخ ہو چکی ہے۔ مصنف نے عیسائی اعتقاد کے زیر اثر خدا کے وجود پر سوال قائم کیا ہے اور اسے خود کی ذات میں ضم بتایا ہے۔

گواہ:اس نثریے میں موت کے تصور پر اظہار خیال کیا گیا ہے جس میں ایک مرتا ہوا شخص ہے جو اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور مصنف اس کے وجود کو استعارہ بنا کر موت کے فلسفے کا اظہار کر رہا ہے۔نثریے کے آخری اقتباس میں دلچسپ استفسارات قائم کیے گئے ہیں۔

تغیرات:سچے خیالات پر منحصر معنی خیز نثریہ۔ انسانی زندگی کے بدلتے حالات سے عبارت جس میں اشیاء کی تبدیل شدہ ہئیتوں سے انسانی زندگی کے تغیرات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

خنجر: انسانی جبلت سے آراستہ پر مغز نثریہ۔

الوداع:بورخیس اور ڈیلیا کی چھوٹی سی کہانی جس میں انسانی وجود کے دائمی اور غیر دائمی احساس کی کشمکش کو پرویا گیا ہے۔ استعاراتی اور علامتی نثریہ۔روح اور بدن کے افتراق کے مباحث سے نبر د آزما۔

یونانی انتھو لوجی کے ایک چھوٹے شاعر سے،شطرنج،متیXXV : تین علامتی نظمیں۔

دو مابعد الطبیعیاتی پیکر: انسانی شعور، حسیات، تصورات، اوصاف، ادراکات اورانکشافات وغیرہ سے متعلق فلسفیانہ اور جمالیاتی تحریر، جس میں دو مخلوقات کی تلمیحاتی اور استعاراتی گفتگو ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کا کوئی ثقافتی یا تاریخی سیاق ہو، جس سے میں ناواقف ہوں۔

Categories
تبصرہ

کوہ ققنس کے عجوبے: لیو، پری پیکر، چہار چشم اور میں (تالیف حیدر)

Dai Seiji کے ناول “Balzac and the Little Chinese Seamstress”کا تجزیاتی مطالعہ
مترجم : عاصم بخشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالزاک اور پری پیکر چینی درزن، یقیناً یہ نام کسی بھی فکشن پڑھنے والے کو اس ناول کی جانب کھینچنے کے لیے کافی ہے،کیوں کہ کسی چینی پری پیکر درزن اور ایک مشہور فرانسسی ناول نگار کے درمیان کس رشتے کی کہانی پر یہ ناول آدھارت ہے؟ یہ سوال ایک طرح کا تجسس پیدا کرتا ہے،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کہانی کو کوئی پڑھنے والاناول کوصرف ان دونوں کے درمیان قید کرتا ہے تو وہ ناول میں پائی جانے والی عجیب و غیریب وسیع دنیا کو بہت محدود کردےگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بالزاک اس ناول کا بنیادی کردار ہے۔ میں تو یہ ہی سمجھتا ہوں کیوں کہ بالزاک کے اس کہانی میں موجود نہ ہونے کے باوجود اس کے کہانی میں ہونے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح چینی درزن جو اس ناول کے چاربنیادی کرداروں میں سے ایک ہے،ان کا قصہ بس ناول کے ایک حصے تک محدود ہے۔ اصل میں یہ ناول ایک ملک کی سیاسی صورت حال، وہاں کے جابرانہ فیصلوں، حماقتوں،الھڑ تہذیبی حرکتوں، جہالتوں، مذہبی شکایتوں، عدم مساوات، بھید بھاؤ، ظلم، عشق، خیانت، جھوٹ، چوری، دوستی، ایماندارانہ رویوں اور نسائی الجھنوں وغیرہ جیسےبے شمار معاملات پر مشتمل ہے۔ کوئی ایک خیال پورے ناول میں گردش کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس میں زندگی کے بدلتے رنگوں کی طرح واقعات کا بے ہنگم بہاؤ ہے۔ جو ناول کے چار کرداروں لیو، پری پیکر، چہار چشم اور اس شخص (جو کہانی بیان کر رہا ہے) کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے۔
دائی سیجی کا یہ پہلا تخلیقی کارنامہ جسے انہوں نے سن2000میں لکھا تھا۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چین میں سیاسی حالات کے پیش نظر عوام کس طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہاں آواز بلند کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے، جہاں صرف حکم ماننے والوں اور انقلابی صورت حال سے دور رہنے والوں کو ہی سکون کی زندگی گزارنے کا موقع نصیب ہو پاتا ہے۔ میں اسے دائی سیجی کی بصیرت ہی کہوں گا کہ انہوں نے اس ناول کی ابتدا ایک المیہ کی طرح کی تھی، مگر اس ناول کا زیادہ تر حصہ مجرموں کے تلخ تجربات کو بیان کرنے میں برباد نہیں کیا، بلکہ ان تین نوجوان لڑکوں جن کی زندگیاں ان کی بورژوائی حالت کے باعث ایک عذاب کا شکار ہو گئی ہیں ان کے دلچسپ اور متحرک سفر کو بیان کرنے پر توجہ صرف کی۔

اس ناول کی کہانی میں بے شمار موڑ ہیں۔ بہت سے حیرات ناک لمحے، کئی دلچسپ جملے،عجیب و غریب واقعات، متاثر کن قصے اور نئی دنیاوں کی حکایتیں۔ میں اسے ایک ناول نہیں، بلکہ کئی ناولوں کے اشتراک سے وجود میں آنے والی ایک چھوٹی داستان کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔ جس نے بھی داستان الف لیلہ، داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کی مسحور کن دنیا کا نظارہ کیا ہے وہ اگر پہاڑی زندگی کی زمینی حقیقتوں کا جادو دیکھنا چاہتا ہے یا ملک چین کی انوکھی سیاسی صورت حال میں پھنسی عوامی زندگی کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تو دائی سیجی کا یہ ناول ضرور پڑھے۔

بالزاک اور پری پیکر چینی درزن کا قصہ:

بیانیہ انداز تحریر پر مشتمل دائی سیجی کے ناول بالزاک اور پر پیکر چینی درزن کا قصہ تین حصوں میں منقسم ہے، مگر ان تین حصوں میں مزید مختلف حصے شامل ہیں۔جن میں سے زیادہ تر کو کسی سرخی سے واضح نہیں کیا گیا ہے۔ ناول کی شروعات ایک گاؤں سے ہوتی ہے جہاں لیو اور اس کا دوست( جو کہانی بیان کر رہا ہے یعنی راوی) تعلیم نو کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ تعلیم نو زراعت، گلہ بانی، کان کنی اور دیگر مزدوری کےفرائض پر مشتمل ہے۔ یہ دو طالب علم جن کے والدین باغی قرار دیئے گئے ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے سزا دی گئی ہے بورژوا طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈاکٹر ہیں۔ ان بچوں کو سینئر سکنڈری کی تعلیم سے برخاست کر کے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک کمیونسٹ ماؤ معتقد مکھیا کے دیکھ ریکھ میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ حالت صرف لیو اور راوی کی ہی نہیں ہے، بلکہ ان کی طرح ہزاروں نوجوان طالب علموں کے ساتھ انقلاب چین کے عظیم نا خدا چیئر مین ماؤنے یہ ہی سلوک کیا ہے۔

جس گاؤں میں لیو اور راوی کو بھیجا گیا ہے اسی سے لگے ایک اورگاؤں میں ان کا ایک دوست چہار چشم بھی اسی تعلیم نو کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس کانا م چہار چشم کیوں ہے، یہ راز ناول میں کہیں بیان نہیں کیا گیا ہے، بس ایک مقام پر راوی کے ایک جملے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں بہت کمزور ہیں اورعینک کے استعمال کے بنا اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا، اس لیے اسے چہار چشم کہا گیا ہے۔

یہ 1971 کا زمانہ ہے اور چین میں ہر ذی روح پر ماؤ کا حکم چلتا ہے۔ جس گاؤں میں یہ دونوں نوجوان پہنچے ہیں وہ علاقہ کوہِ ققنس کہلاتا ہے۔ جہاں پہاڑیوں کا دور تک پھیلا ہوا ایک سلسلہ ہے۔ کوہ ِققنس میں کئی گاؤں آباد ہیں اور تمام گاؤوں میں ملا جلا کر دس لاکھ لوگ آباد ہیں۔لیو اور روای جلد ہی ان مصیبتوں کاحصہ بن جاتے ہیں جن مسائل میں گاؤں کے لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں رہنے کے لیے کوئی ڈھنگ کا مکان بھی نہیں دیا جاتا ہے اور وہاں کھانے پینے کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔

راوی ایک اچھا موسیقار ہے جس کے پاس ایک وائلن ہے اور لیو داستان گوئی میں ماہر ہے۔دونوں نوجوان لڑکے اپنے اپنے فن کی بنیاد پر جلد ہی گاؤں میں نمایاں حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔ کوہِ ققنس میں دلچسپی اور بہلاوے کے لیے کوئی موثر ذریعہ موجود نہیں ہے۔ لہذا ایسے میں لیو کا داستان گوئی کا فن اپنا خوب رنگ جماتا ہے، جس میں راوی بھی اس کا شریک ہے۔ان کا جادو بستی والوں پر اس حد تک چڑھ جاتا ہے کہ گاؤں کا مکھیا ان کو گاؤں کے نزدیک ترین واقع چھوٹی سی شہری آبادی میں فلمیں دیکھنے جانے کی اجازت عطا کر دیتا ہے، لیکن صرف اس شرط پہ کہ وہ واپسی پر پورے گاؤں کو فلم کا پورا قصہ اسی طرح سنائیں گے جس طرح فلم میں دکھایا گیا ہے۔لیو اورراوی اپنے اس کرشمے سے بہت خوش ہیں اور ان کی شہرت آس پاس کے گاؤوں میں بھی پھیل جاتی ہے۔

ان کے برابر والے گاؤں میں ایک مشہور درزی رہتا ہے، جس کی شہرت بہت زیادہ ہے، وہ جہاں جاتا ہے وہاں میلا لگ جاتا ہے اور ہر گاؤں میں لوگ اس کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اس درزی کی ایک نہایت خوبصورت بیٹی ہے، جسے ناول میں پری پیکر چینی درزن کہا گیا ہے۔ اسے لیو اور راوی کے اس فن کا علم ہوتا ہے تو وہ بھی ان سے قصے سنے کی مشتاق ہو جاتی ہے۔ لیو کی زبانی قصہ سن کر وہ بہت متاثر ہوتی ہے اور لیو سے اس کا معاشقہ شروع ہو جاتا ہے۔ راوی بھی پری پیکر سے محبت کرتا ہے، مگر وہ اس حقیقت سے جلد ہی آشنا ہو جاتا ہے کہ لیو اس کا محبوب ہے۔ خود درزی بھی لیو اور راوی کے قصہ گوئی کے فن کا عاشق ہے اور وہ ان سے قصہ سننے کے لیے خاص طور پر ان کے گاوں آتا ہے۔

کہانی میں ایک دلچسپ کردار چہار چشم کا ہے جو لیو اور راوی کا دوست ہے اور ان کے قریبی گاؤں میں تعلیم نو حاصل کر رہا ہے۔ اس کے پاس مغربی ناولوں، قصے کہانیوں کی بہت سی کتابیں ہیں۔ جو اسے اس کی والدہ نے اسے دی ہیں اور وہ انہیں خفیہ طور پر اپنے پاس رکھتا ہے۔ماؤ کی حکومت میں کسی طرح کی مغربی کتاب رکھنا ایک بڑے جرم کے متردف ہے۔ اس کے راج میں سوائے ماؤ کے انقلابی قصوں اور کمیونسٹ مواقف کتابوں کے ہر طرح کے لٹریچر پر پانبدی ہے۔

ایک روز راوی کو کسی طرح اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ چہار چشم کے پاس ایسا کوئی بستہ ہے جس میں اس نے مغربی کتابیں چھپائی ہیں۔ وہ اس کا تذکرہ چہار چشم سے کرتے ہیں تو چہار چشم اس بات سے صاف انکار کر دیتا ہے، مگر ایک موقع پر جب لیو اور راوی اس کی مدد کرتے ہیں تو وہ انعام کے طور پر انہیں بالزاک کے ایک ناول” ارسولے میرو” کا چینی ترجمہ دیتا ہے۔ تعلیم نو کی تھکا دینے اور تاریک زندگی میں یہ رومانی ناول ان کے لیے نئی روشنی بن کر آتا ہے۔ لیو اور راوی اس کر پڑھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیو اس کی کہانی اپنی محبوبہ پری پیکر درزن کو بھی سناتا ہے۔ جس سے وہ بہت متاثر ہوتی ہے۔ وہ ناول واپس کرتے ہوئے لیو اور راوی،چہار چشم سے جب دوسرے ناول کا مطالبہ کرتے ہیں تو چہار چشم انہیں صاف انکار کر دیتا ہے۔ اس پر لیو کو بہت غصہ آتا ہے۔ اس کے بعد کئی مواقع پر لیو اور راوی دوسری کتابیں حاصل کرنے کوشش کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔ اسی دوران چہار چشم کو اپنی آزادی کا ایک موقع نصیب ہوتا ہے۔اس کے لیے اسے پہاڑی گیت جمع کرنے کےلیے کہا جاتا ہے۔ مگر وہ لاکھ کوششوں کے باوجود بھی اس میں ناکام رہتا ہے، جب وہ لیو اور راوی سے اس بات کا ذکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے پہاڑی گیت جمع کرنے میں مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر بدلے میں چہار چشم سے مزید کتابیں حاصل کرنے کا قصد لیتے ہیں۔انہیں پہاڑوں پر ایک بہت بوڑھا شخص ہوتا ہے جس سے لیو اور راوی کو وہ پہاڑی گیت حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ وہ اس بوڑھے کے پاس جاتے ہیں۔ بوڑھا ناول کا ایک دلچسپ کردار ہے۔ بے انتہا کوششوں اور اداکاریوں سے وہ پہاڑی بوڑھے سے گیت حاصل کر لیتے ہیں اور چہار چشم کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود چہار چشم انہیں مزید کتابیں دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ جس پر راوی اس کی پٹائی کرتا ہے۔ لیو اور راوی بہت مایوس ہوتے ہیں، مگر پری پیکر انہیں مشورہ دیتی ہے کہ چہار چشم کی کتابوں کا بستہ انہیں چرا لینا چاہیے۔
اس کے فوراً بعد ناول میں چہار چشم کی والدہ کی انٹری ہوتی ہے، جو چہار چشم کو تعلیم نو کے ختم ہوجانے پر گھر لے جانے آئی ہے۔ تعلیم نو کے اختتام کا مسئلہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ یہ خوش قسمتی صرف ہزار میں تین طالب علموں کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ جب راوی کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ چہار چشم ان میں سے ایک ہے تو اسے بہت غصہ آتا ہے۔ دوسری طرف لیو اور پری پیکر کا عشق اپنی حدیں پار کرنے لگتا ہے۔ وہ ہم بستری کی منزلوں تک آ جاتے ہیں اور برہنہ پہاڑ کی جھیلوں میں نہاتے، فلمیں دیکھتے اور قصے کہانیاںسنتے، سناتے وقت گزارنے لگتے ہیں۔

چہار چشم کی واپسی کا وقت جب بالکل قریب آجاتا ہے تو لیو اور راوی آخری دعوت کی رات اس کے گھر میں گھس کر وہ کتابوں کا بستہ چرا لیتے ہیں۔ یہ چوری پورے ناول میں سب سے زیادہ متجسس واقعات پر مشتمل ہے۔ اس بستے سے ان دونوں کو بالزاک کی کئی کتابیں ملتی ہیں ساتھ ہی وکٹر ہیو گو، ستاں دال،فلو بیر، بودلیر،رو میں رولاں،روسو، ٹالسٹائی، گوگول، دستو وسکی، ڈکنز کپلنگ، اور ایملی بروٹنے وغیرہ کی کتابیں بھی ہاتھ آتی ہیں۔ لیو اور راوی اسے پا کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے ان کے ہاتھ کوئی خزانہ لگ گیا ہو۔ چہار چشم اور اس کی والدہ اس چوری کی کسی کو خبر دیئے بنا گاؤں سے چلے جاتے ہیں اور لیو اور راوی اپنے مکھیا کے گاؤں سے غیر حاضر ہونے کافائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ماہ تک اپنے کمرے میں بند ان کتابوں کے مطالعے کا لطف لیتے رہتے ہیں۔ لیواپنی معشوقہ کو بھی ان میں سے ہر کتاب کی کہانیاں سناتا ہے اور اسے ایک سیدھی سادی پہاڑن سے ایک سوجھ بوجھ رکھنے والی عورت بنا دیتا ہے۔ جس کا علم کہانی کے اختتام پر ہوتا ہے۔

یہیں مصنف نے رو میں رولاں پر ایک مفصل حصہ لکھا ہے۔ ساتھ ہی یہاں ناول میں بہت سے ناول نگاروں کے کرداروں کے استعارے بھی شامل ہوتے نظر آتے ہیں۔ جب میں بالزاک کے کردار سب سے زیادہ ہیں اس کے علاوہ کرسٹو فر، مادام بواری اور فرانسسی جہاز راں وغیرہ کرداروں کا ذکر بھی گاہے بہ گاہےآتا رہتا ہے۔ ناول اب اختتام پر ہے اور کہانی میں مکھیا کی واپسی ہوتی ہے، جو دانت کے درد میں مبتلا ہے اور لیو سے مدد چاہتا ہے، کیوں کہ اس کے والد ایک مشہور دانتوں کے ڈاکٹر ہیں اور اس کا یقین ہے کہ لیو کو بھی اس معاملے میں مہارت حاصل ہوگی۔ مکھیا اور لیو کے مسئلے میں راوی پر بھی کچھ مصیبتیں آجاتی ہیں۔ جن کا لیو اور راوی مل کر مقابلہ کرتے ہیں۔

مکھیا کی کہانی کے فوراً بعد ایک بالکل غیر متعلق قصہ بوڑھے پن چکی والے کا ہے۔ جس کی کہانی سے نسبت اس سے اگلے قصے یعنی پری پیکر درزن کے ایک خاص حصےمیں سمجھ میں آتی ہے۔لیو اس حصے کے بعد اپنی ماں کی بیماری کی خبر ملتے ہی گاؤں سے ایک ماہ کے لیے چلا جاتا ہے اور پری پیکر درزن کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے دوست راوی کو سونپ دیتا ہے۔ یہاں سےناول ایک نیا موڑ لیتا ہے اور راوی جس کی دیرینہ خواہش ہے کہ اسے پری پیکر کا قرب نصیب ہو وہ پوری ہو جاتی ہے۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ درزن اسے بتاتی ہے کہ وہ پیٹ سے ہے۔ جس کا جلد ہی ظہور ہونے والا ہے۔ یہ بات درزن اور راوی کو بہت پریشان کرتی ہے، کیوں کہ پچیس برس سے قبل کسی لڑکی کاماں بننا وہ بھی غیر شادی شدہ لڑکی کا،یہ چیئر مین ماؤ کی حکومت میں ایک سنگین جرم ہے۔جس کی سزا موت ہے۔ راوی یہاں سے محبت اور رحم کے نئے جذبے کے تحت پری پیکر کی مدد کرتا ہے اور اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ترکیبوں سے اس کا اسقاطِ حمل کرواتا ہے۔اسی حصے میں ایک اور بوڑھے کی کہانی ہے۔

یہاں ناول کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد راوی نے کچھ باتوں کی مزید وضاحت کی ہے جس میں لیو کی واپسی اور پری پیکر کااسے اور گھر چھوڑ کر نئی دنیا کی تلاش میں نکل جانے کا واقعہ ہے ساتھ ہی راوی اور لیو کا مل کر تمام کتابوں کو جلا کر راکھ کرنے کا منظر۔ اختتام ایک نہایت جذباتی اور متاثر کن جملے پر ہوتا ہے جس میں لیو راوی کو بتا رہا ہے کہ پری پیکر نے جاتے جاتے اس سے کہا کہ اس نے بالزاک سے ایک چیز سیکھ لی ہے کہ عورت کا حسن ایک انمول خزانہ ہے۔

کہانی کا تجزیہ:

کسی بھر پورکہانی کی خصوصیات کیا ہوسکتی ہیں ؟ اگر میں اس سوال پر غور کروں تو مجھے جواباً خود سے یہ کہنا پڑے گا کہ کسی کہانی میں اس وقت تک تکمیلیت کا احساس جذب نہیں ہوتا جب تک اس میں زندگی کے بے شمار رویوں کا جزو شامل نہ ہو۔ یہ زندگی کے بے شمار رویہ کیا ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں خوشی، غم، حیرانی، یقین، بے یقینی، اعتدال، بے اعتدالی، جنون، دیوانگی، خرد مندی، ڈر، تفکر، ترشی، لطافت اور کثافت جیسے بے شمار جذبوں کی جھلکیاں ہوں۔ یقیناً ایسی کہانیاں کم ہوتی ہیں۔ میں یہ فیصلہ نہیں سناؤ گا کہ کسی کہانی میں اگر یہ سب نہیں ہے تو وہ کہانی ہی نہیں، بس یہ کہوں گا کہ ایسی کہانیوں کو زندگی کا مکمل استعارہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔دائی سیجی کا ناول ایسی ہی مکمل کہانیوں میں سے ایک ہے جس میں فلسفہ، جمالیات، الف لیلوی رنگ،منظر کشی، مزاح، جذبات، ہیجانی کیفیات،جنس،مطالعے کا شوق،خاکہ نگاری،کریہہ مناظر، تجسس،انتقام،حکایتیں، خواب،ہنگامی صورت حال، تخیل، المیہ،تہذیبی استفسار،جہالت، انوکھی خواہشات، بے ہنگم قوانین،حیران کن احساسات اور مذہبی کشمکش وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ نے اس ناول کو نہ پڑھا ہو اور اس پر بنی ہوئی فلم دیکھی ہو اور میرے دعوے کا انکار کریں۔ ایسی صورت میں میں آپ کو اس ناول کا متن پڑھنے کی دعوت دوں گا۔ اس ناول نے مجھے زندگی کی بہت سی ان دیکھی حقیقتوں سے آگاہ کیا ہے۔ لہذا مجھے ہر حال میں اس کی تکمیلیت کا احساس ہوتا ہے۔ جن حالات کا بیان اس ناول میں کیا گیا ہے، میں ان حالات میں زندگی نہیں گزار رہا ہوں، یعنی میرے پاس بے شمار مواقع ہیں کہ میں انگنت کتابوں کے مطالعے کا شرف حاصل کر سکتا ہوں، میں کسی بھی لڑکی سے بنا شادی کیے عشق کر سکتا ہوں، حکومت کو گالیاں دے سکتا ہوں، روشنی کے جھماکوں کا مظاہرہ کر سکتا ہوں، لوگوں سے اپنی مرضی کے مطابق تبادلہ خیال کر سکتا ہوں اور گھنٹوں کا سفر بنا کسی خطرے کے منٹوں میں طے کر سکتا ہوں۔ اس کے باوجود یہ ناول میری روح کو جھنجھوڑ کر یہ کہتا ہے کہ اصل میں میں بھی ایک ایسی ہی حالت کا شکار ہوں جس حالت میں لیو، راوی،چہار چشم اور پری پیکر زندگی گزار رہیں ہیں۔ میرے مسائل بظاہر کچھ نظر آتے ہیں مگر واقعتاً وہی ہیں۔ کیوں کہ میں نہ اپنی مرضی سے کچھ بول سکتا ہوں، نہ پڑھ سکتا ہوں، نہ عشق کرسکتا ہوں، نہ جی سکتا ہوں اور نہ ہی کسی سے تبادلہ خیال کر سکتا ہوں۔ آج کوئی چیئرمین ماؤ مجھ پر نگاہیں نہیں گاڑے ہے۔ مگر معاشرے کا سب سے بڑا ماؤ یعنی سیاست مجھے اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اس ناول میں ہر اس مقام پر جہاں مجھے متذکرہ بالا کوئی بھی جذبہ، احساس یا تاثر نظر آیا اسے میں نے حقیقی بنیادو ں پر خود کے قریب محسوس کیا۔ مثلاً وہ مقام جہاں دائی سیجی نے فلسفیانہ طرز بیان اختیار کیا ہے یا ہیجانی کیفیات بیان کی ہیں،جذباتی کشمکش کا اظہار کیا ہے یا مذہبی آزادی کا تذکرہ کیا ہے،ہنگامی حالات بیان کیے ہیں یا تہذیبی استفسارات قائم کیے ہیں یہ سب مجھے اپنے عہد اور ماحول کی زندہ حقیقتیں معلوم ہوتی ہیں۔

ناول کے کرداروں سے مصنف نے عالمی سطح پہ ہونے والی طبقاتی کشمکش کو علاقائی کہانی میں بیان کر دیا ہے۔ لیو اور پری پیکر کے کردار کا تجزیہ کرو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی سی عشقیہ داستان کتنی سچائیوں کا اظہار کر رہی ہے۔ ایک مصنوعی عشق جس میں خوشی اور غم کے بنتے،بگڑتے دھارے مرد اور عورت کی نفسیاتی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ جدید دنیا کے تہذیبی المیوں کا اظہار کرتے ہیں اور لیو جیسے کردار سے فن کی اہمیت کو ظاہر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ مکھیا جو ایک سخت دل اور جابر شخص ہے اس کا کردار ہمیں مصیبتوں میں پھنسے سفاک حاکموں کی کمزوریوں سے روشنا کرواتا ہے کہ کس طرح بر سر اقتدار سفاک حکمراں عام انسانوں کو چھوٹی چھوٹی لالچوں سے ٹھگتے ہیں۔پہاڑی بوڑھے کا کردار بتاتا ہے کہ کیسے وہ بوڑھے، مجبور فن کار جن کے باطن میں روایتوں کی وراثت پوشیدہ ہے وہ معاشرہ کی حقارتوں کا شکار ہوتے ہیں۔راوی کا کیرکٹر یہ منظرپیش کرتا ہےکہ کس طرح لوگ حسد، لالچ، ایمانداری اور محبت کے جذبوں کے درمیان اپنی حقیر خواہشوں میں زندگی گزارتے رہتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ درزی کے کردار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ہم شہرت اور تعظیم سے اپنی تسکین کا سامان تلاش کرتے رہتے ہیں اورچہار چشم کا کردار بتاتا ہےکہ ہم کتنے خود غرض ہیں اور زندگی کے ہر ہر قدم پرا پنی خود غرضی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ناول کے مختلف کردار ہمیں زندگی کی مختلف حالتوں اور صورتوں سے واقف کراتےہوئے انسانی برادری کے مشترکہ مسائل کی جانب ہماری توجہ مبذول کراتے ہیں۔

کہانی کی زبان:

کہانی کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔ اصل متن میں بھی غالباً اسی نوع کا اسلوب ہوگا، کیوں کہ مترجم نے جہاں جہاں قصوں کو روانی سے بیان کیا ہے اس سے احساس ہوتا ہےکہ چینی زبان میں بھی یہ قصے اتنے ہی سادہ اور رواں دواں ہوں گے۔ کچھ مقامات ناول میں مبہم زبان میں ہیں ایسے میں مترجم کا کام مشکل ہوجاتا ہے۔ ترجمہ شدہ متن میں تو ایسے مبہم حصوں کو عاصم صاحب نے اتنا دلکش بنا دیا ہے کے پڑھنے والاابہام میں بھی شاعرانہ لطف محسوس کرتا ہے۔ جن واقعات کی ترسیل کہانی کے ایک حصے تک نہیں ہوتی وہ کچھ آگے چل کر ہو جاتی ہے۔ اس لیے ترسیل کی الجھن سے زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ غیر مانوس الفاظ ناول میں بہت زیادہ ہیں،جن میں سے سیاق کے ذریعے کچھ سمجھ میں بھی آ جاتے ہیں، لیکن اصل معنی تک رسائی نہیں ہوپاتی۔ ایسے الفاظ میں صوت دانوں، تانت، مزارعوں، موزارٹ، سوناٹا، پاکینہ، ققنس،سہارتے،کروی، برامز،بیتھوون،یاآن،جڑن،چوپ سٹک،بید مجنوں،اودیاتی، جام شکستہ،برقانے،ریگھاریاں،پھالے،سموں،جنگور،منبت،توبنا، بلسم، سحلب، مارسائی، برقشوں، کگرے، یشم، بدرقے، نوڈل اور کلو طنجوی شامل ہیں۔ دو،چار مقامات پہ چھپائی کی اغلاط سے بھی لفظ ادھورے رہ گئے ہیں یا بگڑ گئے ہیں۔

دلچسپ جملے:

ناول میں موجود دلچسپ جملوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس سے ایک اچھی صورت یہ نکلتی ہے کہ پڑھنے والا قدم قدم پر چونک جاتا ہے، یہ چونکنا تجسس والا نہیں، بلکہ متاثر کن جملوں کی غیر متوقع آمد پہ حیران، پر مسرت اور مضطرب ہونے والا ہے۔میں یہاں کچھ جملے نقل کر رہا ہوں، مگر یہ بتا دوں کہ یہ جملے صرف اس وجہ سے یہاں رقم کئے دے رہاں ہوں کیوں کہ طویل نہیں ہیں، بعض بعض اقتباسات جو خاصے لمبے لمبے ہیں ان میں اسی طرح کی دلکشی اور تاثیر بھری ہوئی ہے۔ صرف طوالت کے خوف سے انہیں یہاں لکھنا ممکن نہ ہو سکا ورنہ آدھے کے قریب ناول یوں ہی اتر جاتا۔

• وہ اپنے ابا کا پانچواں بیٹا اور اماں کی واحد اولاد تھا۔
• اوپر اپنے ارد گرد چکر دار ڈھلوانوں کو دیکھتے ہوئے مجھے چٹان کے اندر سایہ دار دراڑوں میں سے ایک پگڈنڈی کے خدو خال نظر آتے تھے جو آسمان کی جانب کہر آلود ہوا میں پگھلتی محسوس ہوتی تھی۔
• اپنے اپنے پچھواڑے اٹھانے کا وقت ہو گیا ہے۔ سست الوجود مسخرو، سانڈ کی اولاد ! تم کس چیز کے منتظر ہو؟
• اپنا سگریٹ تیار کر کے لیمپ بجھا دیتا اور اندھیرے میں رات کے سکون سے کان لگائے سگریٹ پیتا رہتا، ایک ایسا سکوت جو صرف نیچے سے آتی دبی دبی غراہٹ سے ہی ٹوٹتا جہاں سؤرنی اپنی تھوتھنی سے کیچڑ کو کرید نے میں مصروف رہتی۔
• جدید انسان الف لیلہ کے زمانے سے آگے نکل چکا ہے اور جدید معاشرے، چاہے وہ اشتراکی ہوں یا سرمایہ دارانہ، اپنے اپنے کہانیاں سنانے والوں کو فارغ کر چکے تھے۔
• منظر سے غائب ہونے سے ذرا پہلے وہ مڑا اور ایک بار پھر چیخا:”وائے-او-لن!”
• اس کی آنکھوں میں نا تراشیدہ ہیروں اور خام دھاتوں کی سی چمک تھی جو پلکوں کی لمبائی اور لطیف خم کے باعث مزید بڑھ گئی تھی۔
• چہار چشم کی نظر واپس لوٹی تو وہ لیو کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ “تم تو کسی کتے کی طرح بیمار لگتے ہو!” وہ بولا۔
• “یہ جنگو درخت کے پتے ہیں،” لیو نے اکھڑتےسانس کے ساتھ کہا۔ “ایک شاندار اونچا درخت جو پری پیکر درزن کے گاؤں کے مشرق میں ایک خفیہ وادی میں اگتا ہے۔ ہم نے وہاں درخت کے ساتھ لگ کر محبت کی۔ کھڑے کھڑے۔ وہ کنواری تھی اور اس کا خون نیچے بکھرے ہوئے پتوں پر گر پڑا۔”
• “یہ شخص بالزاک کوئی ساحر ہے۔” اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔” اس نے کسی نادیدہ انگلی سے اس پہاڑی لڑکی کے سر کو چھوا اور وہ جیسے کسی خواب میں منتقل ہو گئی۔
• “ایک جام آپ کے نا قابل یقین پیٹ کے نام ہو جائے،” لیو نے تجویز دی۔
• ہمیں بس اپنی محنتوں کے صلے میں ایک دو کتابیں ہی در کار تھیں۔
• اس کی کھکھلاہٹ میں مجھے جنگلی گل سحاب کی مشک بار خوشبو محسوس ہوئی جو اس کے قدموں میں پڑے پھولوں سے بھی تیز تھی۔
• شاعرہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اگر وہ ہمارے ساتھ وہاں موجود ہوتی تو اپنے بیٹے کو پیالہ بنے ہاتھوں میں منہ چھپائے بھینسے کا جما ہوا خون پیتے دیکھ کر کیا سوچتی، جیسے کوئی سؤر کیچڑ میں تھوتھنی مار رہا ہو؟
• سب سےاوپر ہمارا دوست بالزاک اپنے پانچ،چھے ناولوں کے ساتھ موجود تھا۔
• لا محالہ اس فرانسسی کہانی سے اخذ کی گئی کچھ تفصیلات کا خفیف سا اثر اس کے سلے کپڑوں میں بھی نظر آنے لگا۔
• مکھیا کے دانت کسی اونچے نیچے پہاڑی سلسلے کی طرح تھے۔سوجے ہوئے مسوڑھوں میں سے تین سامنے والے واطع دانت ماقبل تاریخ کے سنگ سیاہ کے آتش فشانی تودوں کی طرح تھے، جبکہ جبڑوں کے دونوں طرف تمباکو سے داغدار کچلے دانت جا بجا بکھری ہوئی قبل نوح کلسی تف چٹانوں کی طرح معلوم ہوتے تھے۔
• ایک ایسا بوڑھا جسم جو اس جگہ سے بالکل ڈھیلا تھا جہاں ہڈی نہیں تھی۔
• “مت بھولنا،” اس نے تنبیہہ کی،” کہ کووہ کوہ ققنس آسمان کا حسین ترین ستارہ ہے۔”
• اپاہج اب میراراستہ روکے کھڑا تھا۔ اس نے اپنی پتلون نیچے سرکادی، پھر اپنا زیر جامہ نیچے کیا اور بالوں بھرے لچکیلے اعضا ظاہر کر دیے۔”یہ لو، پکڑ و۔تم میرا بھی دھو سکتے ہو!”
• کہتے ہیں کہ ایک دفع عورت جب اپنی ماہواریاں چھوٹنے پر رونا شروع کردے تو اسے چپ کرانا نا ممکن ہو تا ہے۔
• اس نے کہا کہ اس نے بالزاک سے ایک چیز سیکھ لی ہے: کہ عورت کا حسن ایک انمول خزانہ ہے۔

مترجم کا فن:

عاصم بخشی نے اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ مبارک باد کے مستحق ہیں، بلکہ ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ ناول کے ترجمے میں انہیں مہارت حاصل ہے۔ وہ کسی بھی صورت حال کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ زبان اور ماحول کی اجنبیت بالکل ختم ہو جاتی ہے، آپ اس ناول کو پڑھتے ہوئے کئی مقامات پر یہ محسوس بھی نہیں کر پاتے کہ ایک ایسا ناول پڑھ رہے ہیں، جو آپ کی اپنی زبان میں نہیں ہے۔ اس طرح کا کام عالمی سطح کا کارنامہ کہا جا سکتا ہے، جس سے دو بالکل مختلف تہذیبوں، زبانوں،قوموں اور جماعتوں میں یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے۔کہیں کہیں ترجمے میں کچھ کمی بھی محسوس ہوتی ہے یا یوں لگتا ہے کہ متن کی وہ روانی جو بیش تر ناول کا حصہ ہے وہ یہاں قائم نہیں رہ سکی، لیکن مترجم کی مجبوریوں کا خیال بھی ہمیں اپنے تئیں کرنا چاہیے۔ بہت سے الفاظ اور خیالات ایسے ہوتے ہیں جن کی ترجمانی ممکن ہی نہیں ہوتی، ایسی حالت میں بھی اگر عاصم بخشی جیسے ماہر ین فن ہمیں اصل حالت کے قریب بھی لے جائیں تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہیے۔ جن مقامات پر مجھے لگا کہ یہاں ترجمے کا تسلسل مجروح ہوا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

• لیو اور میں، یعنی اس پہاڑی گاؤں والوں کی نظر میں ہم دو شہری لڑکوں کے سامان۔۔(اس جملے میں “یعنی” اضافی ہے۔)
• تعلیم نو کا کچھ ذکر کروں تو 1948 کے اواخر میں انقلاب چین کے عظیم ناخداچیئر مین ماو۔(عبارت میں تصنع پیدا ہو گیاہے۔)
• لیو کی الارم گھڑی کے خاک آلود سے کانچ کے ڈھکنے کے تلے اسے تیز آبنوسی چونچ سے نادیدہ زمین پر ٹھونگیں مارتے دیکھاجا سکتا تھا۔(عبارت بہت گنجلک ہو گئی ہے۔)
• سگرٹ کے تکڑے تلاش کرنے لگ جاتا۔(کرنے لگ جاتا جملے کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔)
• گھر واپس لوٹنے کے امکانا ت لامتناہی طور پر محدود تھے۔(یہاں محدوددرست معلوم نہیں ہوتا۔)
• مذاق نے اس وقت وحشیانہ شدت اختیار کر لی جب ان میں سے ایک نے مجھے انگلی لگا کر گندی گالی نکالی۔(گالی نکالنا غلط ہے۔)

Categories
تبصرہ

بکر بیتی: صحرا کی داستان غم

بن یامین کے ناول Goat Daysکاتجزیاتی مطالعہ

تمہید:

اگر آپ نے بن یامین کا ناول Goat Daysنہیں پڑھا ہے، تو پڑھ لیجیے، اصل متن ملیالم میں ہے، مگر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اس کاترجمہ موجود ہے۔ آج کے شمارہ نمبر 101 میں اس کا اردو ترجمہ موجود ہے، عاصم بخشی نے نہایت صاف اور سلیس زبان میں انگریزی سے اس ناول کا ترجمہ کیا ہے۔
اس ناول کو کیوں پڑھنا چاہیے؟

اگر یہ سوال آپ کے ذہن میں آتا ہے تو میں اپنے تجربے کو آپ کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں کہ مجھے اس ناول کو پڑھ کر کیا حاصل ہوا اور کسی بھی شخص کو یہ ناول کیوں پڑھنا چاہیے۔

سب سے بنیادی بات تو یہ کہ فکشن کا مطالعہ کسی بھی انسان کو اپنے محدود دائرہ نگاہ سے باہر نکال کر ایک ایسی دنیا میں لاتا ہے جہاں زندگی کی بے شمار تصویریں موجود ہوتی ہیں۔ لاتعداد آئینے جن میں زندگی کا عکس الگ الگ انداز میں پایا جاتا ہے۔ ہم اور آپ جب تک فکشن کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے اس وقت تک اپنی معمولی معمولی خواہشوں کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھتے رہتے ہیں۔ اپنے فیصلوں، صداؤں، المیوں اورعمومی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جذباتی انداز میں سوچنے کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور زندگی کی ان سچائیوں سے ناواقف رہتے ہیں جو موجود تو ہیں، مگر ہمارے تجربے کا حصہ نہیں بنی ہیں۔

میں بھانت بھانت کا فکشن زیادہ تر انہیں وجوہات کی بنا پر پڑھتا ہوں، کیوں کہ زندگی کے اس پھیلاو سے آشنا ہونا چاہتا ہوں جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں یا جس کا ذکر سنتے رہتے ہیں۔

دنیا حقیقت میں کوئی چھوٹی جگہ نہیں اور نہ اتنی معمولی ہے جتنا اسے مذہبی پیشوا سمجھتے ہیں۔ دنیا کے لا تعداد رنگ ہیں، بے شمار چہرے، جن کا احساس ہمیں فکشن کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ آپ کسی شخص کو جاننا چاہتے ہیں تو کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو بھی کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی سے نزدیک یا دور ہونا چاہتے ہیں تو ان معاملات میں بھی کہانیاں ہی آپ کی سب سے بڑی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ انہیں آپ کسی کے دل کا غبار کہیں، جھوٹ کہیں، تجربہ کہیں، افسانہ کہیں یا کچھ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہانی تو بس کہانی ہے جس سے اگر آپ کو عشق ہے تو آپ زندگی کے اس پھیلاؤ سے آشنا ہوتے چلے جائیں گے جہاں انسانی احساس،جذبات، شعوراور ادراک کا ٹھاٹھے مارتا سمند ر موجود ہے۔آپ کو بڑی سے بڑی حقیقت افسانہ معلوم ہونے لگے گی اور بڑے سے بڑا افسانہ حقیقت۔

بکر بیتی کا قصہ:

اس سے پہلے کہ میں یہ بتاوں کہ یہ کہانی ہمیں کیوں پڑھنا چاہیے، مختصراً اس ناول کا قصہ بیان کیے دیتا ہوں:
بکر بیتی ایک شخص نجیب محمد کی کہانی ہے جو بنیادی طور پر مالابار کا رہنا والا ایک غریب مسلمان ہے۔ اس کے بہت سے خواب ہیں، بہت سی خواہشیں ہیں، مگر وہ ان خواہشوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے، کیوں کہ اس کے حالات اور کمائی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان خوابوں کو پورا کر سکے۔ نجیب ایک شادی شدہ شخص ہے جس کی بیوی سینو ایک صابر اور سمجھ دار عورت ہے۔نجیب کو ایک روز اپنے ایک ساتھی سے خلیجی ملک جانے کے ایک عدد ویزے کے متعلق معلوم ہوتا ہے، یہ ویزا خلیجی ملک میں مزدوری کے لیے ہے۔ جس کی قیمت تیس ہزار ہے۔ نجیب اس ویزے کے متعلق اپنی بیوی سینو سے بات کرتا ہے اور اسے حاصل کر کے عرب ملک جا کر مزدوری کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ سینو اس بات سے بہت خوش ہوتی ہے اور اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں بہت زیادہ دولت جمع نہیں کرنی ہے، بس کسی نہ کسی طرح اتنا ہو جائے کہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل سنوار لیں اور ایک متوسط زندگی گزار سکیں۔

نجیب ویزا کے لیے تیس ہزار رپیوں کا انتظام کرتا ہے اور ادھار قرض لے کر ویزا حاصل کرلیتا ہے۔ سفر کی شروعات میں بمبئی پہنچتا ہے اور وہاں ایک نوجوان لڑکے حکیم سے اس کی ملاقات ہوتی ہے،جو نجیب کا ہم سفر ہے اور اس کے ساتھ مزدوری کر نے عرب جارہا ہے۔ حکیم کی ماں نجیب کو بڑا سمجھ کر حکیم کا دھیان رکھنے کے لیے کہتی ہے۔ یہ دونوں خوشی خوشی عرب پہنچتے ہیں اور ایر پورٹ کے باہر آکر اپنے ارباب کا انتظار کرنے لگتے ہیں، مگر انہیں لے جانے کوئی نہیں آتا، بہت دیر تک انتظار کرنے کے بعد ایک گاڑی آتی ہے جس میں سے ایک بد بو دار عرب اتر کر ان سے کسی عبداللہ کے متعلق پوچھتا ہے،جس کے جواب میں وہ انکار میں سر ہلا دیتے ہیں، وہ عرب غصے میں ایر پورٹ پر ٹہلنے لگتا ہے، پھر کچھ دیر بعد وہ حکیم کے پاس آکر اسے گاڑی میں بیٹھے کے لیے کہتا ہے اور حکیم اور نجیب اسے اپنا ارباب سمجھ کر گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ ارباب انہیں شہر سے دور ایک ریتیلے میدان کے بیچوں بیچ لا کر ایک بدبو دار جگہ پر اتار دیتا ہے اورارباب، نجیب اور حکیم دونوں کے پاس پورٹ ضبط کر لیتا ہے۔

پہلے حکیم کو ایک ٹینٹ کے پاس اتارتا ہے اور نجیب کو گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے، پھر ایک کلو میٹر کے فاصلے پر نجیب کو بھی اتار کر اسی طرح کے ٹینٹ میں بھیج دیتا ہے۔وہاں ایک اور ارباب سے نجیب کی ملاقات ہوتی ہے۔ جو اس سے بات تک نہیں کرتا اور ٹینٹ کے باہر بھیج دیتا ہے۔ گاڑی میں لانے والا ارباب انہیں وہیں صحرا میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

نجیب کو یہاں بڑا عجیب سا محسوس ہوتا ہے، دوسرے دن صبح میں نجیب کی ملاقات وہیں ٹینٹ میں ایک اور شخص سے ہوتی ہے جو نہایت بدبو دار ہے، اور اس کی شکل بہت خوف ناک ہے۔ نجیب اسے دیکھ کر کراہت محسوس کرتا ہے۔ یہاں سے اصل کہانی کی شروعات ہوتی ہے۔

نجیب کو اس ٹینٹ کے پاس موجود بکریوں،بھیڑوں اور اونٹوں کی گلہ بانی کے کام پر لگایا جاتا ہے۔ جہاں اسے بہت سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔ وہ بے انتہا بدبودار ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں نہ پینے کے لیے پانی ہے نہ کھانے کے لیے اچھا کھانا۔ صرف ایک عدد پکوان پہ اس کا گزارا ہوتا ہے اور جب وہ بے انتہا تھک جاتا ہے تو اسے زندہ رہنے کے لیے ایک پیالہ پانی ملتا ہے۔ ارباب اس پر بے انتہا مظالم کرتا ہے، اسے مارتا پیٹتا ہے اور گدھوں کی طرح اس سے کام لیتا ہے۔ وہ بد شکل شخص جو نجیب کو پہلے دن اس بکروں کے ریوڑ میں ملتا ہے۔ وہ وہاں کا پرانا ملازم ہوتا ہے جو نجیب کے آتے ہی وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ نجیب وہاں، بکرے،بکریوں کو چرانے، ان کا دودھ نکالنے، انہیں بھونسا ڈالنے، ان کی دیکھ بھال کرنے اوربھیڑوں کے چرواہے کے فرائض انجام دینے وغیرہ جیسے کاموں پر معمور کیا جاتا ہے، جہاں صرف وہ ہے اور اس کا ارباب۔

ارباب ایک خیمے میں رہتا ہے جہاں جانے کی نجیب کو اجازت نہیں ہے اور وہ سردی گرمی برسات میں کھلے آسمان کے نیچے ریت پر پڑا رہتا ہے۔ نہانے دھونے، غسل، رفع حاجت یا کسی صفائی کے لیے پانی میسر نہیں ہے۔ پانی ایک قیمتی چیز ہے جس کو ان بے کار کاموں پر صرف کرنے پر سزا دی جاتی ہے۔ ارباب کے بے شمار مظالم، موسم اور محنت، مزدوری کی وجہ سے نجیب بہت جلد کمزور ہوجاتا ہے۔ وہ تین سال تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ اسی طرح حکیم بھی اسی عالم میں اس سے ایک کلو میڑ کی دوری پر زندگی گزارتا رہتا ہے۔ نجیب اور حکیم موت کی دعائیں مانگتے ہیں، مگر انہیں موت نہیں آتی،بس زندگی ان پر ظلم کرتی رہتی ہے۔

حکیم کے جائے کار پر بہت عرصے بعد ایک اور ملازم ابراہیم خضری آتا ہے، جو ایک دیو قامت شخص ہے۔ وہ نجیب اور حکیم کو بتاتا ہے کہ وہ اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی روز انہیں یہاں سے بھگا لے جائے گا۔ حکیم اور نجیب یہ سن کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کی امید پختہ ہو جاتی ہے۔ ایک روز جب تمام ارباب ایک شادی میں گئے ہوئے ہوتے ہیں، حکیم، نجیب اور ابراہیم خضری وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ یہاں سے داستان غم کا ایک دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔

صحرا میں بھاگتے بھاگتے ان کی حالت بہت بری ہو جاتی ہے، حکیم راستے ہی میں پاگل ہو کر مر جاتا ہے۔ نجیب کو اس کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ نجیب اور ابراہیم خضری ایک ایسے مقام کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جہاں سے سڑک نزدیک ہے، لیکن ایک صبح جب نجیب کی آنکھ کھلتی ہے تو ابراہیم خضری غائب ہوتا ہے۔ وہ خضر کی صورت نجیب کو صحیح راہ پر لگا کر غائب ہو جاتا ہے۔ نجیب سڑک پر آکر بہت سی لاریاں اور ٹرک روکنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کی حالت اتنی بھیانک اور بدبو دار ہے کہ کوئی گاڑی نہیں رکتی۔ ایک بہت شفاف گاڑی جس پرنجیب کو یقین بھی نہیں ہوتا کہ وہ رکے گی اس کے ہاتھ دکھانے پر رک جاتی ہے۔ وہ ایک امیر عربی کی گاڑی ہوتی ہے جو اسے شہر تک لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں سے وہ ایک ملیالی کے ہوٹل جس کا نام کنجیکا کا ہوٹل ہے وہاں اتفاق سے پہنچ جاتا ہے۔ کنجیکا کے ہوٹل کی سیڑیوں پر ہی وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، جہاں سے کنجیکا کے ملازم اسے اٹھا کر ایک کمرے میں لاتے ہیں اور اسے نہلا دھلا کر اس کا علاج کرواتے ہیں۔ نجیب کو ہوش آتا ہے تو وہ اپنے قریب ملیالیوں کا ایک جمگٹھا دیکھتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ کنجیکا اس کا حوصلہ بڑھاتا ہے او ر اس کے غموں کی داستان پوچھتا ہے۔ نجیب اسے سب کچھ بتاتا ہے جس پر سب حیران ہو جاتے ہیں۔نجیب کنجیکا کے ہوٹل میں تین ماہ رہتا ہے اور یہیں سے اپنی بیوی سے فون پر بات کرتا ہے۔ وہاں یہ طے ہوتا ہے کہ نجیب خود کو پولس کے حوالے کر دے تاکہ پولس اسے بنا پاس پورٹ انہیں ان کے ملک بھیج دے۔ جیل کے واقعات بھی بہت دلچسپ ہیں۔ کنجیکا میں اپنی طرح کے ایک دوسرے مظلوم شخص حمید سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، جس کے ساتھ نجیب جیل جاتا ہے۔ سب سے آخری سین میں یہ سسپنس بھی کھل جاتا ہے کہ نجیب کا وہ ارباب جو اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر صحرا میں لے جاتا ہے وہ واقعتاً نجیب کا ارباب ہوتا ہی نہیں ہے، بلکہ اس رات نجیب اور حکیم کو ایک عرب شخص اغوا کر لیتا ہے اور نجیب اور حکیم یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ اسی کام کہ لیے خلیجی ملک آئے تھے۔

اس ناول کو کیوں پڑھا جائے:

یہ ناول 43 حصوں پر مشتمل ہے، جس میں سے زیادہ تر حصے نجیب کی مسارے میں ملازمت اور ریگستان کے سفر پر مشتمل ہیں۔ یہ ہی حصے کہانی کی جان ہیں۔ بن یامین کے بقول انہوں نے نجیب نامی ایک شخص سےملاقات کر کے یہ کہانی سنی تھی، جسے بنا کسی مبالغے انہوں نے من و عن بیان کر دی۔ ایک سچا واقعہ جس میں انسانی زندگی پر ہونے والے مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے۔ کہانی فلیش بیک تکنیک میں لکھی گئی ہے، جس سے پڑھنے والا مزید لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ بات کہانی کی شروعات میں ہی طے ہو جاتی ہے کہ جو شخص کہانی سنا رہا ہے وہ مرا نہیں ہے، لہذا وہ تمام مناظر جہاں مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے وہاں بھی پڑھنے والے کے ذہن میں یہ بات رہتی ہے کہ جس پر یہ سب کچھ گزر رہا ہے وہ اتنے قہر کے باوجود بھی جیتا رہا۔اس سے پڑھنے والے کو زندگی کے مشکل ایام میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ ملتا ہے، ساتھ ہی انسان کی قوت برداشت کا علم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص مشکل سے مشکل حالات میں یہ ٹھان لےکہ اسے زندگی سےلڑتے رہنا ہے اور شکست کا منہ نہیں دیکھنا تو قدرتی طور پر اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی باہر آنے لگتی ہے اور وہ ایسے مشکل ترین حالات کا بھی سامنا کر لیتا ہے جس کے متعلق سوچ کر بھی ا س کی روح کانپ جائے۔
ناول میں بے شمار مقامات پر ہمیں اس کا درس ملتا ہے، مثلاً وہ منظر جب ارباب نجیب سے اس کے نئے کپڑے اتارنے کے لیے کہتا ہے اور اسے ایک نہایت بدبو دار چوغہ دیتا ہے جسے دیکھ کر نجیب کو قے آنے لگتی ہے، پھر بھی نجیب اسے پہنتا ہے، یا وہ منظر جس میں نجیب کا ہاتھ بکرے کی ٹکر سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی چھاتی پر بھی ورم آجاتا ہے اس کے باوجود ارباب اس سے بکری کا دودھ دوہنے کے لیے کہتا ہے اور نجیب بے انتہا تکلیف میں بھی اس کام کو کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ صحرا میں پانچ کلو میٹر تک بکھری ہوئی بکریوں کو جمع کرنے والا منظر، اپنے بیٹے نبیل کی طرح پالے ہوئے بکری کے بچے کی مردانگی کو قطع کرنے والا منظر، مسارے میں گھسےسانپ کو مارنے والا منظر، گرم ریت میں کوئے کے پر کے برابر سایہ ڈھونڈنے والا منظر اوروہ تمام مناظر جن میں نجیب پر اسی طرح کے کرب ناک مظالم ہوتے ہیں۔

ایسے کرب ناک حالات کو بیان کرنے والے ناول کے متن میں داخل ہونے والا قاری خود بہ خود نجیب کی طرح اپنے آپ کو حالات کا شکار ہوتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے اور جب وہ مسارے کی زندگی میں خود کو نجیب کی طرح بالکل پھنسا ہوا پاتا ہے تو اس کےا ندر ایک نئی نفسیاتی حالت جنم لینے لگتی ہے۔ جس حالت میں وہ کبھی خود کو خوش رکھنے کے لیے طرح طرح کی حرکتیں کرتا ہے، کبھی اپنے ماضی کے اہم کرداروں کو مصنوعی طور پر اپنے آس پاس زندہ کر لیتا ہے، کبھی خوشی کے حصول کے لیے جانوروں کی کسی حرکتیں کرنے لگتا ہے، کبھی غم کی انتہا کو خود سے چھپانے کے لیے اپنے ضمیر سے دروغ گوئی کرنے لگتا ہے۔

اس ناول میں انسان کی ذہنی حالت کے مختلف رویوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہمیں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انسان خواہ آبادی میں رہے یا ویرانے میں اس میں اگر زندہ رہنے کا حوصلہ ہے تو وہ مصیبتوں اور پریشانیوں کے باوجود اپنے ارد گرد ایک تماشا پیدا کرلیتا ہے۔ صحرا کی وہ کرب ناک زندگی جہاں نہ پانی ہے نہ کھانا، جہاں نہ انسان ہے نہ بھیڑ، بکریوں اور اونٹو ں کے علاوہ کوئی جانور۔ وہاں بھی نجیب خود کو کس طرح اپنے لوگوں میں شامل رکھتا ہے، وہ اپنے مسارے کی بکریوں اور بکروں میں اپنے محلے کے انسانوں کی صفات تلاش کر لیتا ہے اور انہیں ایک انسانی ہیولے میں ڈھال کر اپنے قریب ماضی کا میلا لگا لیتا ہے۔ وہ کسی کو میری میمونہ سمجھتا ہے تو کسی کو اراووتھر، کسی کو پوچا کری رامنی بنا دیتا ہے تو کسی کو پھراندی پوکر، اس کے نزدیک کوئی جاندوراگھون ہے تو کوئی پریپو وجیبا، کوئی نبیل ہے تو کوئی رافت کوئی کاسو ہے تو کوئی اور آمنی۔ان سب میں سب سے زیادہ پر لطف قصہ پوچا کری رامنی کا ہے، جس کے کردار کی اصلی جھلک دیکھ کر قاری تمام المیے سے باہر آجاتا ہے۔

بن یامین کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے ناول میں المیے اور طربیے ان دونوں صورتوں کو پوری طرح قائم رکھا ہے۔ بہت سے صحرائی واقعات ایسے ہیں جن میں حالات کی سفاکی کے باوجود غم کی لہر نہیں ہے بلکہ حیرانی کا سحر ہے۔مثلاً وہ منظر جس میں سانپوں کا ایک غول کا غول چلا آرہا ہے اور نجیب اور ابرہیم خضری ان سے بچنے کے لیے شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا منہ دبا لیتے ہیں یا وہ مقام جہاں نجیب اڑتے ہوئے گرگٹوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ایسے تمام مناظر میں ارباب کا پانی سے ڈرنے والا منظر ایسا ہے جس پر قاری بھونچکا رہ جاتا ہے۔ ارباب جو پورے ناول میں ظلم کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ جو آخری درجے تک سفاک ہے، جسے سوائے ظلم کے کچھ نہیں آتا اور جو کسی جری مرد کی طرح پورے ناول میں طاقت کی مثال نظر آتا ہے وہ پانی سے وہ بھی بارش کے پانی سےڈر کر ایسا سکڑا پڑا ہے جیسے ہزاروں شیروں نے اسے گھیر لیا ہے۔ نجیب جو خود اس کے ظلم کا شکار ہے ارباب اس کی موجودگی پر اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے اور پانی کی ایک ایک بوند سے ایسے ڈر رہا ہے جیسے آسمان سے شعلے برس رہے ہوں۔نجیب اس مقام پر جب یہ کہتا ہے کہ ارباب پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی نہیں نہایا تو ناول میں ایک نئی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے چھوٹے بڑےکئی مناظر ہیں جن سے کہانی میں مختلف حالتوں کا ظہور ہوتا ہے اور ایک مکمل المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناول میں دیگر اجزائے تاثیر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

فلیش بیک تکنیک:

ایک خاص بات اس ناول کا فلیش بیک کی تکنیک میں ہونا بھی ہے،اس سے ناول کی ابتدا میں ایک تجسس کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دو لوگ حمید اور نجیب عربی ملک میں کئی دنوں سے سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں کسی نہ کسی طرح پولس گرفتار کر لے۔ اس کے لیے وہ کچھ کوششیں بھی کرتے ہیں، مگر ناکام رہتے ہیں۔ بہت مشکل سے انہیں جیل کی راہ ملتی ہے جس پر وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس فضا سے قاری کا ذہن ایک مخمسے میں پڑ جاتا ہے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جس کی وجہ سے کوئی جیل میں جانے کو اپنی منزل تک پہنچنا تصور کر رہا ہے۔ فلیش بیک کی وجہ سے بعض ایسی باتوں کی طرف بھی اشارہ کرنا ممکن ہوا جن کا ناول کی کہانی سے کوئی راست تعلق تو نہیں، مگر کہانی کے موثر ہونے سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثلاً پوچا کری رامنی کی کہانی۔

فلیش بیک تکنیک سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ کہانی کے بعض اہم کردارمثلاً حمید، حکیم، ارباب، ابرہیم خضری، سینو، بدنما بدبو دار شخص اور کنجیکا کی عادات و اطوار اور خصائل کی بہتر انداز میں وضاحت ہو گئی۔اسی طرح جیل کے حالات کا بیان بھی کامیابی سے ہو سکا۔ اگر یہ ناول فلیش بیک بیانیہ تکنیک میں نہ ہوتا تو غالباً اس کے تمام حصے جہاں قاری کو بوریت محسوس ہوتی ہے وہ بہت زیادہ بوجھل ہو جاتے اور ناول کا پھیلاو غیر ضروری معلوم ہونے لگتا۔

منظر نگاری:

منظر نگاری میں مصنف کو مہارت حاصل ہے۔ ناول میں بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں مصنف نے اس ضمن میں کمال کیا ہے۔میں یہاں مثال کے طور پر ایک پیش کرتا ہوں:

“سینکڑوں عرب ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ مرد اور عورتیں۔ میں نے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے تصور کیا کہ میں قطب جنوبی پر ہوں اور میرے سامنے سیاہ و سفید پینگوئن پھر رہے ہیں۔ میں ملتجی نظروں سے ہر پینگوئن کی شکل (ان مادہ پینگوئنوں کی آنکھیں جن کی شکل نظر نہیں آرہی تھی) دیکھ رہا تھا۔ میں وہی نجیب ہوں جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔ میرے ساتھ یہ چھوٹا سا لڑکا وہی حکیم ہے جس کی تمھیں تلاش ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں اور درخواست گزار چال ڈھال کی مدد سے ہر ایک سے مواصلاتی تعلق قائم کیا۔ لیکن کوئی میری التجا پر مائل نہیں ہوا۔ ہو کوئی دور جاتے ہوئے اپنی مصروف زندگی میں گم ہو رہا تھا۔”(حصہ نمبر 6)

جذبات نگاری:

ناول میں جذبات نگاری کو بھی متاثر کن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر اس مقام پر قاری کی آنکھیں نم کر دی ہیں جہاں ذرا بھی جذباتی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ بعض مواقع تو ایسے ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور حلق میں الفاظ پھنسنے لگتے ہیں۔ مثلاً وہ مقام جہاں نجیب خیالی انداز میں سینو کو خط لکھ رہا ہے یا وہ موقع جہاں سینو،اکایعنی نجیب کو لائق گزارہ کما کر واپس لوٹ آنے کی تلقین کر رہی ہے۔اسی طرح حکیم کی ماں کا نجیب سے التجا کرنے والا منظر اور نجیب کا سینو سےتین برس چار ماہ بعد فون پر بات کرنے والا منظر۔یہ تمام مناظر جذباتیت سے بھرے ہوئے ہیں۔

مزاح نگاری:

ناول کے بعض مقامات پر مزاح بھی پیدا کیا گیا ہے، جس سے ناول کی بوجھل فضا میں لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے مناظر میں پوچا کری رامنی کا قصہ سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ مسارے کا ایک منظر جو بظاہر المیہ ہے مگر یامین کے بیانیہ نے اسے طربیہ بنا دیا ہے۔ملاحظہ کیجیے:

“میں آہستگی سے جھکتے ہوئے ایک بکری کے پیچھے بڑھا،برتن قریب کیا اور تھن کو کھینچا۔ دودھ تو خیر کیا نکلنا تھا، بکری کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ چھلانگ مار کر برتن اور مجھے لات مارتی ہوئی ریوڈ سے دور بھاگ گئی۔ اسے پاگلوں کی طرح بھاگتے دیکھ کردوسری بکریوں میں بھی افراتفری پھیل گئی۔ ایک تو میری کمر کو روندتی ہوئی نکل گئی۔ میں درد سے جھنجھلا اٹھا۔ کسی نہ کسی طرح سنبھلتے ہوئے ایک اور ایسی بکر ی کے پیچھے بڑھا جو اب دوڑتے دوڑتے رک چکی تھی۔ چوچیوں کو ہاتھ لگانا تھا کہ وہ بھی بھڑک کر دوسری طرف چھلانگ مار گئی۔ ایک اور سے دودھ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی بھاگ گئی۔ میں نے سوچا، یا میرے مالک! بھاگتی ہوئی بکری سے دودھ کیسے نکالا جاسکتا ہے؟ میں حیران و پریشان تھا۔”(حصہ نمبر ق13)

کردار نگاری:

ناول میں کردار نگاری پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ کہانی خواہ حقیقت پر مبنی ہو یا افسانہ ہو اس میں کردار نگاری کا سب اہم رول ہوتا ہے۔ بن یامین نے ناول کے کرداروں میں اپنے بیانیے سے جان ڈال دی ہے۔ناول کے کرداروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سب کے سب مختلف رویوں کا شکار ہیں۔ جس طرح عام زندگی میں ہم کسی بھی ایک معاملے میں کمزوراور ایک میں مضبوط ہو تے ہیں اسی طرح ناول کے کرداروں کا بھی معاملہ ہے۔ بنیادی کرداروں میں نجیب اور ارباب اس طرح کی صفات سے مزین نظر آتے ہیں۔ جو اپنے فیصلوں میں مضبوط بھی ہیں اور کمزور بھی۔ ڈرتے بھی ہیں اور ڈراتے بھی ہیں۔ خود سے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور سچے بھی ہیں۔ لالچی بھی ہیں اور رحم دل بھی۔ منافق بھی ہیں اور ایمان دار بھی۔ الگ الگ مواقع پر ان کی الگ الگ صفات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔اس ناول میں نجیب ایک سیدھا، سچا اور مظلوم کردار ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے ظلم، حسد اور کمینے پن کی واضح تصاویر بھی ناول میں موجودہیں۔ مثلاً ایک موقع پر جب اسے لگتا ہے کہ حکیم اور ابراہیم خضری اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو وہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتا ہے:

“میں حسد کے مارے سکڑ کر رہ گیا۔ دل میں ساری دنیا کے لیے نفرت اور عداوت کی آگ سلگنے لگی۔ میں نے اپنی ساری کڑواہٹ مسارے میں موجود بکریوں پر نکالی، یعنی نو مولود بکریوں کے خصیے دبانا، اپنی چھڑی دودھ دینے والی بکریوں کے تھنوں پر مارنا اور بھیڑوں کے پچھواڑے میں لکڑیاں گھسیڑنا۔”(حصہ نمبر 29)

حکیم ایک لڑکا ہے اس لیے اسے بہت کمزور اور جذباتی دکھایا گیا ہے، ساتھ ہی وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مضبوط بھی ہے۔ مثلاًجب ابراہیم خضری اسے مسارے سے بھگا لے جانے کی بات کرتا ہے تو اس میں توانائی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ پر مسرت نظر آنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے کردار میں ہمیں قوت کی ایک لہر دوڑتی نظر آتی ہے۔

ناول کا ایک متاثر کن کردار ابراہیم خضری بھی ہے۔ یہ خضر کی طرح دو مظلوموں کی مدد کے لیے اچانک کہانی میں داخل ہو جاتا ہے اور اپنے مقصد کو پورا کر کے اسی طلسماتی طریقے سے غائب ہو جاتا ہے۔ ابراہیم خضری کا کردار الف لیلوی کردار ہے جس کے واقعات سے ناول میں داستانی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً اس کا جانوروں، درختوں، پودوں، صحراوں اور وادیوں کی خصوصیات سے آگاہ ہونا۔ حالات کی نزاکت کو جاننا اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینی کی صلاحیت کا پایا جانا اس کے کردار کو ایک معمہ بنا دیتے ہیں۔ وہ ایک مکمل راہ نما ہے جو نجیب اور حکیم کی مدد کے لیے آسمانی مخلوق بن کر آتا ہے۔

کنجیکا اور حمید کے کردار ذرا کمزور ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا کہانی میں زیادہ عمل دخل نہیں۔
سینو ایک جذباتی عورت ہے جو بہت مختصر وقفے کے لیے ناول کاحصہ بنتی ہے، مگر اس سے عورت کی وفا شعاری کادرس ملتا ہے۔
ان کے علاوہ ایک عربی جو نجیب کو شہر تک لا کر چھوڑتا ہے وہ انسانیت کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ حالاں کہ ایسا عام زندگی میں نہیں ہوتا کہ کوئی امیر ترین شخص کسی نہایت بھیانک اور بدبودار انجان شخص کو اپنی چمچماتی گاڑی میں بٹھائے،لیکن پھر بھی استثنائی صورت میں ایسے لوگ کبھی کبھی ٹکرا جاتے ہیں۔ اس کردار کی ناول میں کیا اہمیت ہے اس کےلیے صرف مصنف کے یہ جملے ہی کافی ہے کہ:

“میں کیسے اس عظیم آدمی کا شکریہ ادا کر سکتا تھاجس نےمجھے اتنی دیر برداشت کیا۔ اس کے احسان کی قیمت میں بس ایک قطرہ اشک کے ذریعے ہی چکا سکا۔ اس نے کچھ بھی نہ پوچھا۔ ایک لفظ بھی نہ کہا۔میں گاڑی سے نکلا اور دروازہ بند کردیا۔ مجھے شہر کے بیچوں بیچ چھوڑ کر عرب نے اپنی راہ لی۔ میں کافی دیر روتا رہا۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ خدا پر تعیش گاڑیوں میں بھی سفر کرتا ہے۔”(حصہ نمبر 40)

جمالیات:
ناول میں بعض مقامات پر جمالیات کا بھی بھر پور اظہار ملتا ہے۔ ایسے موقعوں پر بن یامین کی ناول نگاری اور جمالیاتی حس کی طرف ذہن مبذول ہوجاتا ہے اور نجیب کی کہانی ذہن سےیکسر غائب ہو جاتی ہے۔ مثلاً اونٹ کی شبیہ کا یہ بیان دیکھیے:

” اونٹ میرے قریب آئے تو میں حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی بھاری پلکیں صحرا کی شدت کا کامل استعارہ ہوں۔پھیلتے سکڑتے مچھلی کے گلپھڑوں جیسے نتھنے۔کشادہ کھلا منھ،مضبوط گردن،گھوڑے کی ایال جیسے کھردرے بال،کان سینگوں کی طرح کھڑے ہوئے۔ان کی الگ تھلگ سی بے تعلقی میرے لئے سب سے زیادہ کشش اور دہشت کا باعث تھی۔”(حصہ نمبر 11 )

جنسیت

جنسیت انسانی زندگی کا ایک لازمی جز ہے، مگر اس ناول میں اس کی جھلکیوں کے پائے جانے کی امید کم تھی۔اولاً تو نجیب کے حالات اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے اور پھر اس ناول کا یہ موضوع نہیں کہ اس میں جنسیت کا ذکر کہیں تلاش کیا جائے۔ رہی سہی کسر اس منظر میں پوری ہو جاتی ہے جہاں نجیب خود اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کےبیٹے نیبل کی مانند جس بکری کے بچے کو خصی کیا گیا،تو اس واقعے سے خود اس کی مردانگی بھی بکری کے بچے کے ساتھ سلب ہو گئی۔ اس کے باوجود ایک مقام پر نجیب اس جذبے کو ابھرنے سے نہیں روک پاتا، وہ منظر اتناحیران کن ہے کہ قاری اسے پڑھ کر کچھ دیر کے لیے ساکت ہوجاتا ہے۔یہ اقتباس دیکھئے:

“ان دنوں جب میرے ساتھ بس بکریاں ہی تھیں، ایک واقعہ ایسا ہواکہ میں نے نہ صرف اپنے غم و الم بلکہ اپنا جسم بھی ان کے ساتھ بانٹا۔ ایک رات لیٹا تو نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی۔ نہ جانے کیوں پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ ایک عجیب سی شدت طلب تھی، بدن میں ریگستانی بگولےسے چل رہے تھے۔ کافی عرصے سے میں خود کو نامرد ہی سمجھ رہا تھا۔ گمان نہیں تھا کہ کبھی دوبارہ جنسی طور پر فعال ہو سکوں گا۔ لیکن یہ کیا ہوا؟ اندر پڑی کوئی ساکت اور جامد خواہش کسمسانے لگی۔ اسے دبانے کی تمام کوششیں بد ستور اس کے بھڑکنے کا سبب بن رہی تھیں۔ پردہ چشم کے سامنے کچھ برہنہ شبیہیں ظاہر ہو کر ورغلانے لگیں۔ میں جذبے کی حدت سے پگھل رہا تھا۔ کسی جسم کی قربت کی خواہش تھی۔ کسی غار میں پناہ درکار تھی۔ میں پاگل ہو رہا تھا۔ اسی غلبہ دیوانگی میں باہر بھاگا۔ صبح جب تھکی تھکی آنکھیں کھلیں تو میں مسارے میں تھا۔ پوچا کری رامنی(بکری) میرے قریب ہی نیم دراز تھی۔”(حصہ نمبر26)

فلسفہ

ناول میں مصنف نے بہت سے مقامات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ چونکہ ناول بیانیے کی تکنیک میں ہے اس لیے مصنف کا فلسفہ گاہے بہ گاہے نظر آتا رہتا ہے۔ وہ کسی بھی حالت پر اپنی رائے کا اظہار کر کے انسانی نفسیات اور اس کی صفات کے متعلق فلسفہ پیش کرتا ہے۔ کچھ مقامات پر قدیم فلسفوں کا اظہار کرتا ہے اور کچھ دقیانوسی باتوں کو فلسفے کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ مذہبی فلسفہ ناول میں بیش تر مقامات پر نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نجیب جس کی کہانی ہے اس کے خیالات سے مصنف کے خیالات کہیں کہیں متصادم ہوتے ہیں، مگر ان میں بہت زیادہ اختلاف کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح مصنف بیانیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے تکلفانہ انداز میں بعض جگہ اپنی بات کہہ جاتا ہے جہاں مصنف اور نجیب ان دونوں کے مختلف شخصیات واضح ہو جاتی ہیں۔ مثلاًیہ جملے کہ:

• نامعلوم دنیاوں کے خواب کسی کو راس نہیں آتے، دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ جب خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں تو اکثر نا قابل برداشت ہو جاتے ہیں۔(حصہ نمبر18)
• سچ اس خط میں نہیں بلکہ میری آنکھوں میں تھا۔ سچ کون پڑھ سکتا ہے۔(حصہ نمبر 19)
• اس دن مجھے معلوم ہو ا کہ خدا پر تعیش کاروں میں بھی سفر کرتا ہے۔(حصہ نمبر 40)

مذہبی جذبات:

نجیب ایک کٹر مسلمان ہے، جسے اللہ کی ذات پر بہت زیادہ بھروسا ہے۔ وہ جتنے مشکل حالات میں زندگی گزارتا ہے اس کا ایمان اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ ناول میں اللہ کو پکارنے اور اس کی مدد چاہنے کے بے شمار مناظر ہیں۔ اس کی حمد و ثنا کے مناظر بھی ہیں، ساتھ ہی ساتھ بعض مواقع پر نجیب اللہ کو برا بھلا بھی کہتا ہے۔لیکن اس کا انکار نہیں کرتا اور اپنے مذہبی جذبات کو اپنے مشکل حالات کا سامنا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتا ہے۔

غیر مانوس الفاظ:

ناول میں بہت سے الفاظ قاری کے لیے غیر مانوس ہیں۔ ان میں بعض عربی بعض ملیالی اور بعض اردو کے ثقیل الفاظ ہیں۔ ایسے الفاظ میں سے زیادہ تر الفاظ کے معنی ناول میں کہیں نہ کہیں معلوم ہوجاتے ہیں، کچھ کے معنی خود مصنف نے بتا دیئے ہیں اور کچھ سیاق سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ پھر بھی یہ ایک عام قاری کے لیے نئے ہیں۔ مثلاً:

بطاقہ،مطوع،عقال،کاروتا،ساسی،اپیری،چمنتی پوری،موپلوں،ارباب،چچڑ مکھی،ماہ مکارم،چڑی مڑی، ثوب، شیلادی، مسارا، سمانے،شف،ماعن،حوائج،قلما،خنز،کاڈی،شڑپ،ساوا،مونجی،غنم،حلیب،تبن،برسی،یلا،تناقضات اورگوہ۔

زبان اور چھپائی کی اغلاط:

بہت سے مقامات پر چھپائی کی غلطی سے کچھ حرف چھوٹ گئے ہیں اور کہیں کہیں جملہ ہی غلط ہے۔ ایسے الفاظ اور جملوں کی مثالیں مندجہ ذیل ہیں:
• کوئی مجھے تلاش کرنے نہیں آیا۔ شایہ یہ مسلسل تکرار کا نتیجہ تھا۔(غلطی: شایہ کی جگہ شاید ہوگا/حصہ نمبر 3)
• مہمان نوازی کے انعام کے طور پر میں نے ساسی کو وہ اپنی وہ گھڑی اتار کر دے دی۔(وہ۔ دو مرتبہ ہے/حصہ نمبر 5)
• اب آنتیں قل ہو اللہ احد پڑھ رہی تھیں۔(اس میں صرف قل ہو اللہ آئے گا احد اضافی ہے/ حصہ نمبر 7)
• اپنے ذہن میں اسے گالیاں نکال رہا تھا۔(غیر فصیح ہے۔ گالی دینا، بکنا،داغنا، سنانااور ٹکانا محاورہ ہے۔ نکالنا نہیں/حصہ نمبر 18)
• چہرہ صاف کیا اور ہم دونوں سے اسے زبر دستی بٹھا دیا۔(سے کی جگہ نے ہوگا/حصہ نمبر 35)
• آخر کار جب کافی پانی چکا تو تھک کر زمین پر گر پڑا۔(پی۔ چھوٹ گیا ہے/حصہ نمبر 37)

فن ترجمہ نگاری:

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عاصم بخشی نے بکر بیتی کا نہایت آسان زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کی زبان شستہ اور معیاری ہے۔ وہ الفاظ اور جملوں کو اس طرح سجا بنا کر بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو تر جمے کے اصل متن ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔مختلف مقامات پر ان کی فن ترجمہ نگاری کے جوہر کھلتے ہیں۔مثلاً کچھ مناظر ایسے ہیں کہ اگر میں ان کا اردو سے ہندی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا تو مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔ عاصم بخش زیادہ تر مواقع پر ناول کے متن کو اردو کاحقیقی متن بنا کر اسے یوں تحریر کرتے ہیں کہ وہ دوزبانوں میں ایک معنی رکھنے والے دو متن بن جاتے ہیں۔ ان کی زبان شناسی کی یہ خاصیت ہے کہ کسی مطلب کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس بے شمار الفاظ ہیں، اسی لیے کسی بھی حالت کو بار بار ایک ہی لفظ کے ذریعے ظاہر نہیں کرتے۔ الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں جس سے روانی پہ حرف نہیں آتا۔ مطلب کی ادائیگی کے لیے قریب الفہم لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر انہوں نے ماہ مکارم جیسے ثقیل الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے، لیکن ایسے مقامات بہت کم ہیں۔ ملیالی زبان کے ان الفاظ کا تلفظ جو اس ناول میں استعمال ہوئے ہیں کتنا درست ہے میں اس سے ناواقف ہوں، لیکن ایک جگہ جہاں لفظ کاڈی کا استعمال ہوا ہے وہاں مجھے کچھ احتمال ہوا کہ غالباً یہ لفظ کڑھی ہے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک مشروب ہے اور مصنف نے بھی کسی مشروب کے لیے ہی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔

Categories
فکشن

تاثیر کا متن خانہ (تالیف حیدر)

“اتالو کالوینو” کی تحریر “A King Listens” کا طلسم کدہ”بادشاہ سنتا ہے”،”عاصم بخشی“کی زبان میں
آج شمارہ نمبر:101

میں نشے میں ہوں:
میں کہانیوں کو تلاش کرتا ہوں ، انہیں پڑھتا ہوں ، ان میں کھو جاتا ہوں اور حسن اتفاق یہ ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس لوٹ آتا ہوں جہاں کہانیوں کا وجود عرضی حقیقتوں کی خاک میں پیوست، رلتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض قصے میری روح سے ٹکراتے ہیں۔ میں انہیں اپنی روح سے ٹکراتا ہوا قصہ کہنے پر مجبور ہوں، اس لیے کیوں کہ میرے پاس وہ زبان نہیں جس میں ان کی کسک کو بیان کر سکوں۔ ایسی کہانیاں جن میں جیون کا تازہ ، گھلاہوا اور گرم امرت پایا جاتا ہے۔ جس کے شوق سے میں زندگی کے پھیلاو سے آنکھیں ملانے کے قابل ہوتا ہوں۔ ایسی کہانیاں مجھے اپنے حصار میں رکھتی ہیں، مجھے اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ بے ثباتی دہر اور زندگی کی نغمگیوں اور تراوٹوں کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ میں ان قصوں کا ممنون ہوتا ہوں، انہیں سجدے کرتا ہوں۔ انہیں قصوں سے بڑھ کر سمجھتا ہوں، ان کے متن کی رگوں میں داخل ہو کر اپنی لاچاریوں سے بے نیاز ہونے کا غل مچاتا ہوں ۔ زندگی کے پھیلاو کے مکمل ادراک کے نہ حاصل ہونے کا احساس مجھے ان کہانیوں میں داخل ہونے کے بعد باطل لگنے لگتا ہے۔ ایسی کہانیاں میرے لہو کی تصویر بناتی ہیں، میرا کھیل درست کرتی ہیں۔ اس وجدان کو بھلاوے میں ڈال کر جس پر میں ناز کرتا ہوں مجھے ایک بچے کی مانند لوریاں سناتی ہیں۔
یہ ساری باتیں میں یوں ہی نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ “اتالو کالوینو” کی تحریر “بادشاہ سنتا ہے” جس کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے، اس کو پڑھ کر اپنے ان ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہا ہوں جو مجھ میں اکثر تنہائی میں اور ایسی کہانیوں کو پڑھنے کے بعد رقص کرنے لگتے ہیں ۔ یہ کہانی ایک ادھورے یا یوں کہیے کہ زندگی کے مختلف ادھورے فریمس کو یکجا کر کے مکمل کی گئی ہے۔ ایک ایسا متن جس کی کثرت میں انتہا کی لامتناہی وحدت ہے۔ وہ ساری باتیں کہ یہ کہانی کیا ہے؟ شائد میں کسی زبان میں بیان نہ کر پاوں۔ ایسی کہانیاں جن کا تجزیہ نا ممکن ہو، جن پر تنقید لا حاصل ہو اور جن کا تعارف محال ہو۔ ان پر زیادہ بات کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔مجھے اس کے پڑھ لینے کے بعد یقیناً اس بات سے بھی زیادہ سروکار نہیں رہا کہ یہ اتالو کالوینو نے لکھی ہے یا کسی اور نے ، یہ عاصم بخشی کا ہنر ترجمہ نگاری ہے یا کسی اور کا۔اس میں کتنے کردار ہیں؟ یہ کون سا بیانیہ ہے؟ اس میں کون سی تکنیک استعمال کی گئی ہے؟ کس معاشرت کی عکاسی کی گئی ہے یا کن مسائل سے اس کا علاقہ ہے؟ یہ ساری باتیں ایسی دلچسپ تحریروں کو پڑھنے کے بعد بے کار معلوم ہوتی ہیں۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ تحریر ایک ایسا “متن خانہ” ہے جہاں مجھے اپنی تاریخ اور سیاسیات کے بے شمار کالے بت نظر آئے ، جہاں میرا بچپن ہے، بادشاہوں کی بے بسی ہے، مصنفوں کے جھوٹ ہیں ، آقاوں کی غلامی ہے، معجزوں کی شعبدہ بازیاں ہیں۔ جہاں خیالات کی اور مناظر کی ایک دوڑتی ہوئی فوج ہے، جو ہمیں کسی انجان چوٹی سے کبھی دل کے نہا ں خانے میں دھکیل دیتی ہے اور کبھی بدن کی سرگوشیوں سے ایوان زیریں و بالا کی چشمکوں میں کھیچ لاتی ہے۔ مجھے اس تحریر میں بہت دبیز لہریں ملی ہیں ان سچائیوں کی جو عام زندگی کے گدلے پانی میں پیدا ہوتی ہیں ۔بے شمار الہامی ستون ملے ہیں،ایسے جن سے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے۔یہ تحریر کسی علاقے یا کسی شخص کی نہیں ، بلکہ ایک حصار کی ہے۔ ایسا حصار جس میں تہذیبوں کے بے شمار مسکن سما جاتے ہیں ، جس میں زمینوں کے لا تعداد ٹکڑے جذب ہو جاتے ہیں۔ حکمرانوں کی اندھی بصیرتیں اور لاچاریاں پیوست ہوتی ہیں اور چشم کشاؤں کےٹوٹے ہوئے خواب دفن ملتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ آپ کو یہ تحریر کسی مجذوب کی بڑ لگے ، مگر میرا سفر مجھے اس بڑ میں بڑا آشچریہ لگا۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اس کہانی کے متن سے لپٹ کر اس کی گہری حقیقتوں کو پا لے ، مگر مجھے تو اس میں ایسے ٹوٹے ہوئے تسلسل کے رنگین کنوئیں نظر آئے جن میں گر کر میں ایک تاثیر سے دوسری تاثیر میں تحلیل ہوتا چلا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کہانی کی بے شمار کڑیاں کسی کو ایک ایک تاگھے میں پروئی ہوئی محسوس ہوں ، مگر مجھے تو اس کی غیر منتظم حالت پر رشک آیا۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے مجھے کسی مقام پر اس کے متن سے اجنبیت کا احساس نہیں ہوا، ہر وہ جذبہ جو کسی جملے یا لفظ سے میرے اندر پیدا ہوا وہ مجھے اپنا ازلی حصہ معلوم ہوا۔ پھر خواہ وہ سنجابی چوغے کی شرارتوں کا بیان ہو یاموٹے کمر بند کے سنہرے قبضے کا اعجاز۔دمدموں کا سرور ہو یاتُرم کی ترشیدہ آواز۔
اس تحریر کی یہ خاصیت ہے کہ یہ میرے قدموں کو پکڑتی ہے، مجھ سے لپٹ جاتی ہے اور ان بے شمار جملوں پر مجھ سے ہم آغوش ہو جاتی ہے جن پر میرےمنہ سے ایک بے ساختہ کلمہ ادا ہوتا ہے۔مثلاً یہ سطور کہ:
1. اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔
2. گھبراہٹ اُس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے۔
3. قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔
4. محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمھارا بدن تمھیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے۔
5. کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کیے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہیں جو انھیں الگ الگ کرتے ہیں۔
6. ہر وہ قصہ جو تمھاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے، خود تمھیں تمھارے ہی پاس واپس لے آتا ہے۔
7. گلیاں کیا ہیں، گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں۔
8. وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لیے تمھیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ترالالالا‘‘ کرتے ہوے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمھارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔ اب ’’ترالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمھارے ذہن میں نہیں آتا۔
یہ جملے کوئی کلیہ نہیں اور نہ ہی انتخاب بس میرے سرور کا ایک حصہ ہیں اور اس تحریر میں ایسے بے شمار حصے بکھرے پڑے ہیں ۔ یہ خیال کہ اس کہانی سے کسی شخص کا رشتہ کیسا ہو سکتا ہے یہ میرے لیے معمہ ہے ، لیکن اس کے باوجود اس کاتسلسل اور گھماو ہر اس پڑھنے والے کو جوکسی مسحور کن تحریر کی تلاش میں سر گرداں ہے جو سچی کہانی کا عاشق ہے، جس میں حقیقت کو کہانی کی دنیا میں مزید حقیقت کی صورت میں دیکھنے کی جستجوہے، جو واقعات کے لطافت اور زور بیان کے بلند آہنگی کو ایک جگہ دیکھنے کا خواہش مند ہے وہ اس تحریر کے وصال پر اپنی امید کو پہنچے گا۔بشرط کہ اس تحریر کو وہ کسی شاعر کا ترنم سمجھ کر نہ پڑھے اور نہ کسی مصلح کا ہدایت نامہ۔ اس میں کسی علاقے کی معاشرت کو نہ ڈھونڈے اور نہ کسی تخلیق کار کے شاہکار کو۔ بس پڑھے ، بڑھے اور متن کے تاروں سے الجھتا چلا جائے۔

سخنور بہت اچھے:
فن ترجمہ نگاری فن سخنوری کی اولاد ہے۔ ایسی اولاد جو بعض اوقات اپنی کرشمہ سازیوں سے اپنی ماں کو شرما دیتی ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اتالو کالوینو کی لکھی ہوئی تحریر یں شاہ کا ر ہوتی ہیں ، ان کی چندتحریر یں میں آج کے گذشتہ شماروں میں بھی پڑھ چکا ہوں ۔لیکن اردو والوں کے لیے یہ تحریریں اپنی اصل صورت میں نہیں، بلکہ اردو زبان میں شاہ کار کا درجہ رکھتی ہیں ۔ ایسی صورت حال میں اتالو کالوینو اور مترجم کا فن ایک مقام پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ عاصم بخشی نے اس تحریر کے ترجمے میں جو طرز اختیار کیا ہے اس کو پڑھنے کے بعد میرا ذہن فوری طور پر عبدالحلیم شرر کی گذشتہ لکھنو کی طرف گیا۔ یقیناً اس تحریر کا اور گذشتہ لکھنو کاایک دوسرے سے موضوع کے اعتبار سے کوئی خاص رشتہ نہیں ، لیکن ان دونوں تحریروں میں یکساں تاثیر کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ گذشتہ لکھنو کے بعد جس کتاب کی طرف ذہن جاتا ہے وہ طلسم ہوش ربا اور اقبال کی بعض نظمیں ہیں ۔ اقبال کا شاعرانہ بہاو عاصم صاحب کی نثر کی جڑوں میں اتر گیا ہے۔ یقیناً یہ میرا، اس ترجمے کا اور اقبال کی شاعری کا رشتہ بول رہا ہے۔ مثلاً بعض اقتباسات تو ایسے رواں نثر میں ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ طلوع اسلام کےبند زبان پر جاری ہو گئے ہوں ۔ اس ترجمے سے دو نسبتوں کا اور تعلق مجھے نظر آیا ایک تو راشد اور اختر الایمان کی بعض نظموں کا اورناصر نذیر فراق کی تحریروں کا۔ میں عاصم بخشی سے واقف نہیں اور نہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ان شاعروں اور کتابوں کا مطالعہ کر کے اس تحریر کا ترجمہ کیا ہے، بس میرا اس تحریر سے جو رشتہ قائم ہوا اس میں عاصم بخشی مجھے ان ادیبوں کی طرز نگارش کی تاثیر سے وابستہ نظر آئے۔

انشائیہ نگاری کے فن سے وہ کماحقہ واقف ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ بے شمار جملے جو یقیناً اصل متن میں اتنے متاثر کن نہ رہے ہوں گے جو ترجمے کی صورت میں ہو گئے ہیں یا کم سے کم درجے میں اردو والے تو ہر گز اس کے اصل متن سے واقفیت کے باوجود ویسا لطف نہ لے پائیں گے جیسا کہ ان جملوں کوعاصم بخشی کےفن ترجمہ نگاری نے بنا دیا ہے۔اردو لغت اور محاورے سے ان کی واقفیت بھی بلا کی ہے۔ کون سا لفظ کس جگہ زیادہ بااثر معلوم ہوگا یا کس محاورے کے استعمال سے پڑھنے والے کا تسلسل منقطع نہیں ہوگا اس کا انہیں بھرپور ادراک ہے۔ قدیم و جدید اصطلاحات اور جدید استعاراتی نظام سے بھی ان کی کماحقہ شناسائی ہے۔ لہذا یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ترجمے کو اصل سے دو ہاتھ آگے لے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی اردو والا ان کی اس تحریر کو پڑھتے وقت بہت کم اس بات پر غور کر پائے گا کہ وہ کسی ترجمہ شدہ متن کا مطالعہ کر رہا ہے۔بعض اقبتاسات کی منظر کشی اور جذیات نگاری میں تو پڑھنے والا اس قدر کھو جاتا ہے کہ متن پڑھنے کا خیال تک ذہن سے محو ہوجاتا ہے ، بلکہ یو ں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ غیر حقیقی حالات کا چشم دید گواہ بن گیا ہے۔ پھر جہاں وہ جملوں کو ایسی وضع میں تراشتے ہیں کہ اس سے دلوں کے دہلنے کا سما بندھے اور سماعتیں فکر کے روشن دانوں سے کان لگا گر محو ہو جائیں یا انسانی تہذیب کی تازہ کاریوں کے راز کھلتے چلیں جائیں اور شاعری کو نئی زبان مل جائے تب تو پڑھنے والے پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ کہیں کہیں مزاح جو یقیناً اتالوکالوینو کی ذات کا نقش ہے وہ عاصم بخشی کی لفظیات میں گھل کر ایسا نمایاں ہوتا ہے کہ بانچھیں کھل جاتی ہیں اور آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں ۔ طنز کی طعن کے لیے عاصم بخشی مزاح سے بالکل مختلف زبان استعمال کرتے ہیں اور لفظوں کی انی سے مزاح کو طنز سے یکسر جدا کر دیتے ہیں۔ ترکیبیں استعمال کرتے ہیں تو انیس کی چوکڑ منڈی یاد آ جاتی ہے جہاں طرح طرح کی زمانی و مکانی حالتوں کو ترکیبوں کے قالب میں ڈھال کر مقید کر لیا گیا ہے۔ علامتوں کو نمایاں کرتے ہیں تو ابہام کا رنگ نکھرنے لگتا ہے۔ ان کے بساط لفظ پر ہر حرف اشاروں کی معنوی دنیا کو مزید معنی خیز بنانے کے استعمال میں آتا ہے ۔ خواہ پھر وہ جنوب کے قصے ہوں یا شمال کے، یہ اتالو کالوینو کا کمال کم عاصم بخشی کا زیادہ ہے کہ انہوں نے تحریر کے تانوں بانوں کو مشرقی لفظیات کے ایسے ذخائر سے مرصع کیا ہے کہ پڑھنے والا اتالو کی معنیاتی تفہیم کا بھی لطف لیتا ہے اور عاصم بخشی کی معجزاتی ترسیل کا بھی۔ میں سیکڑوں لفظوں، ترکیبوں، استعاروں ،علامتوں اور کنایوں کی مثال دے سکتاہوں جہاں جہاں عاصم کا فن ہمیں عروج پر نظر آتا ہے ، لیکن پھر بھی اس صورت حال کو واضح نہیں کر سکتا جو لطف متن کے ساتھ ابتدا سے انتہا تک بہتے چلے جانے میں آتا ہے۔ صرف اتنا اشارہ کر سکتا ہوں کہ تحریر کی مکمل زبان انتخاب کلام کا درجہ رکھتی ہے۔ تمت باالخیر۔

Categories
فکشن

314 والے اشونی جی (تالیف حیدر)

وہ ہمیشہ سے مجھے متاثر کن لگے، لمبے بال، ڈھیلی ڈھالی ٹی شرٹ یا شرٹ،اس کے نیچے کبھی جینس تو کبھی نیکر،ناک پہ چشمہ،بظاہر اکھڑی اکھڑی سی شکل و صورت، مگر نہایت پر خلوص۔ کم بولنے اورخاموشی سے اپنے کاموں میں مصروف رہنے والے۔ایک سنجیدہ مسکراہٹ سے کسی بھی شخص کا استقبال کرتے ہوئےاشونی جی کو میں نے جب پہلی مرتبہ دیکھا تھا میں تبھی سمجھ گیا تھا کہ یہ عام خیالات کے انسان نہیں ہوسکتے۔ ان کی رعب دار شخصیت کسی کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کرسکتی تھی۔ ہوسٹل کے میس میں کھانا کھاتے ہوئے وہ ایک کونے میں بیٹھے تنہا کسی طرح کی خیالات میں گم نظر آ رہے ہوتے، کھانا کھاتے جاتے اور کچھ سوچتے بھی جاتے۔ان کا ہاتھ کبھی تیزی سے چلتاکبھی بالکل رک جاتا اور کبھی پھر تیزی سے چلنے لگتا۔ میں نے جب اشونی جی سے بات چیت نہیں کی تھی تب بھی دو ایک مرتبہ یہ خیال آیا تھا کہ ہو نا ہو یہ شخص ادب یا فلسفے کا طالب علم ہے، میرا اندازہ کچھ اتنا غلط بھی نہیں نکلا کہ جب ان سے بے تکلفی ذرا بڑھ گئی تو اک روز انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں ہیں اور فلسفہ تکنیک میں پی۔ ایچ۔ ڈی کر رہے ہیں۔ اللہ جانے فلسفہ تکنیک کے لوگ کیا کرتے ہیں، لیکن اشونی جی کو دیکھ کر تو یوں ہی محسوس ہوتا تھا کہ بہت سوچتے اور غور کرتے ہیں۔ میں نے پہلے پہل اشونی جی سے یہ جاننے کے بعد کہ ان کا موضوع کیا ہے، آرٹ کے متعلق ان کی رائے جاننا چاہی، مختلف طرح سے کہ ادب اور فن کے بارے میں ان کے خیالات کیا ہیں۔ کیوں کہ مجھے اس بات کا احساس ان سے ہر ملاقات کے دوران ہوتا تھا کہ ادب اور فن سے ان کا کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور ہے۔ انہوں نے آرٹ کے تعلق سے اپنی جو رائے ظاہر کی اس سے مجھے ذرا سی حیرانی ہوئی۔ اشونی جی ایک زندہ دل انسان تھےوہ ادب اور فن سے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ دکنی ہند کے رہنے والے اور شمال و جنوب کی دنیا دیکھے ہوئے ادب اور آرٹ کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ حیرانی مجھے اس بات پہ ہوئی کہ میرے استفسار کے جواب میں انہوں نے مجھے بہت سی ایسی بے تکلف اور پر مزاح باتیں بتائیں کہ ان سے کیے ہوئے میرے سوال نے مجھی کو پلٹ کر آنکھیں دکھا دیں۔ تم اور اشونی جی سے پوچھو گے کہ وہ ادب اور آرٹ کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ فلسفے کے طالب سے یوں بھی ادب اور آرٹ کے تعلق سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ اس کی توہین ہے۔ کوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ادب اور آرٹ کو کس طرح کتابی دنیاوں سے باہر لا کر زندگی کے اطوار میں شامل کیا جاتا ہے۔ اشونی جی نے بھی مجھے کچھ یوں ہی اپنی زندگی کے چند رنگین لمحوں کو دکھا کر اور اپنے تعلق سے چند باتیں بتا کر یہ سمجھادیا تھا کہ ادب اور آرٹ میری رگوں میں دوڑتا ہے۔

314 میں اشونی جی گزشتہ کتنے برس سے رہ رہے ہیں مجھے اس بات کا علم نہیں، مگر ایک مرتبہ جب یوں ہی رات کو کھاناکھانے کے بعد ہم دونوں فلسفے اور ادب کے مختلف موضوعات پر باتیں کرتے ہوئے ہوسٹل کے باہر نکل گیے تواشونی جی نے مجھے بتایا کہ انہیں بھی شطرنج کھیلنے کا ویسا ہی شوق ہے جیسا کےمجھے، میں نے ان سے شطرنج کی ایک ایک بازی کھیلنے کی فرمائش کی اور وہ فوراً راضی ہو گیے۔ اس روز پہلی مرتبہ میں نے اشونی جی کا کمرہ اندر سے دیکھا۔ باہر سے اس کمرے کے دروازے پر بلا کی بے رونقی چھائی نظر آتی تھی مگر جب میں اند رپہنچاتو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ایک بارونق ذہن کے مالک کا ہی کمرہ ہو سکتا ہے۔ ادھر ادھر بکھری ہوئی بے شمار کتابیں، دنیا جہان کے تار اور کیبل، کہیں کاغذات کا ڈھیر تو کہیں رسیوں سے بندھا ہوا پنچنگ بیگ، کہیں شراب کی بوتلیں تو کہیں سگرٹ کی ڈبیاں، ایک کونے میں کچھ عجیب وغریب میوزیکل اکیوپمنٹس تو دوسرے کونے میں گٹار۔ بہر کیف اشونی جی نے اپنے اس چھوٹے سے کمرے میں اپنی ایک الگ دنیا بسا رکھی تھی جس کی باہر والوں کو ہواتک نہیں لگی تھی۔ میں نے ان کے کمرے میں جگہ جگہ مختلف نوعیت کی پڑی ہوئی گیندوں کو غور سے دیکھا اور اشونی جی سے استفسار کیا کہ آخر اتنی گیندوں کا آپ کیا کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ گیندیں ایک طرح کی ورزش کے دوران کام آتی ہیں۔ اللہ جانے وہ کون سی ورزش ہوتی ہوگی مگر اشونی جی کی صحت سے تو اس کا علم ہوتا تھا کہ وہ گیندیں بہر حال بہت کار آمد تھیں۔ اسی کتابوں اور تاروں کے ڈھیر میں سے اشونی جی نے ایک عدد نہایت قیمتی شطرنج نکالی اور ایک لکڑی کے نفیس مگر مٹ میلے مڈھے پر اسے سجا دیا۔ شطرنج کچھ خاص نہیں چلی اور میں جلد ہی ہار گیا، مگر اس روز اشونی جی کی ایک ادا کا اور عاشق ہو گیا کہ ان کو جیتنے سے زیادہ کھیلنے کی سنجیدگی سے لگاو تھا۔

میں نے اشونی جی کو میس اور ہاسٹل کے مختلف کونوں، لائبریر اور انسٹی ٹیوٹ کی بیشتر دکانوں پر اکثر اکیلے دیکھا تھا، مگر جن دنوں میں نے پابندی سےلائبریر جانا شروع کیا ان دنوں پہلی بار مجھے اشونی جی کے ساتھ دو منی پور اور ناگالینڈ کے لڑکے دکھائی دیئے، جلد ہی اشونی جی نے انہیں مجھ سے بھی ملوایا، ان میں سے ایک کا نام تو خاصہ ہندوستانی تھا مگر دوسرا لڑکا جو اشونی جی سے کچھ زیادہ بے تکلف معلوم ہوتا تھا وہ مجھے قطعاً ہندوستانی نہیں لگا، اس کا نام سولومون تھا اور اسے ہندی اتنی بھی نہیں آتی تھی کہ ٹھیک سے کسی اجنبی سے ہندی میں سلام کلام یا رسمی گفتگو کر لے۔ اشونی جی اس سے صرف انگریزی زبان میں باتیں کرتے تھے اور کبھی کبھی نہ جانے کس خاص اصطلاحی زبان میں۔سولومون اور اشونی جی میں ایک بات قدر مشترک تھی کہ ان دونوں کے بالوں کی تراش خراش ہم جیسے کئی ایک عام اور سادہ مزاج لوگوں سے مختلف تھی، اشونی جی کے بال لمبے اور گھنے تھے، جن میں اکثر مجھے طرح طرح کی پینے لگی نظر آتی تھی اور سولومون کے گھنگرالے اور کھڑے۔ سولومون بھی اشونی جی کے ہم مضمون تھے مگر ان کی شخصیت میں وہ تاثر نہیں پایا جاتا تھا جو کہ اشونی جی کی ذات کا حصہ تھا۔ میں نے ایک روز دوران گفتگو اشونی جی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی سور کا گوشت کھایا ہے، تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں گردن گھماتے ہوئے،بڑی سنجیدگی سے مجھے بتایا کہ ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ سولومون نے اپنے کمرے پر سور اور بھیڑ اور مینڈک پکایا ہے اور ہم دوستوں نے مزےلے لے کر کھایا۔ میں نے میڈک کے کھانے کا تجربہ جاننے کے لیے مزید استفسار کیا تو اشونی جی نے مسکر کر کہا کہ اس کا مزا بتانے میں نہیں کھانے میں ہے، ہم کھلائیں گے کسی روز آپ کو۔
مجھے اشونی جی کی بعض باتیں بہت غیر مہذب اور غیر ثقافتی بھی لگتی تھی، مگر جب جب مجھے کوئی ایسی بات نظر آتی یا محسوس ہوتی تو میں فوراً اشونی جی سے کہہ دیتا اور وہ کسی ایک خاص نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے اسے اعلی درجے کی ثقافت ثابت کر دیتے۔ اشونی جی آہستگی اور ذہانت سے بنے ہوئے تھے، میں نےکبھی انہیں زور سے بولتے یا کسی بات پر غصہ کرتے نہیں دیکھا۔ وہ باتوں سے اختلاف بھی بہت کم کرتے تھے اور میری یا سولومون کی بیش تر باتوں پہ اثبات میں سر ہلا کر مجھے قبولیت کا درس دیتے تھے۔ میں نے اشونی جی سے طرح طرح کی باتیں کیں، کبھی انہیں اردو ادب کے بارے میں بتایا اور کبھی مراٹھی اور پشتو ادب کے بارے میں، کبھی میرو غالب کے شعر سنائے تو کبھی باقر مہدی، علی اکبر ناطق اور محمد خالد اختر کی کہانیوں، مضامین اور نظموں کے بارے میں بتایا،کبھی اپنی ناکامیوں کی داستان سنائی اور کبھی کامیابیوں کا گیت،انہوں نے ہمیشہ میری باتوں کو دلچسپی سے سنا۔بعض باتوں سے کچھ سیکھا،جانا اور مجھے یہ بتا بھی دیا کہ یہ بات مجھے نہیں معلوم تھی اور ہمیشہ خوش اسلوبی کا مظاہرہ کیا۔ میں نے اکثر ان سے گفتگو کے دوران محسوس کیا کہ وہ بتانے سے زیادہ جاننے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ جب جب میں ان کو کریدنے کی کوشش کرتا تب تب وہ جلد ہی اپنی باتوں کو ختم کر کے مجھ سے کوئی استفسار کر بیٹھتے۔ حالاں کہ میں جانتا ہوں کہ انہیں مجھ سے کہیں زیادہ چیزوں کے متعلق معلوم ہے اور مجھ سے بہتر انداز میں گفتگو کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ کبھی کبھی جب بولنے پہ آتے تو طرح طرح کی نئی نئی باتیں بتاتے۔ انہیں نے مجھے سب سے پہلے بتا یا کہ دلی میں کس طرح غریب اور مزدور عوام کم سے کم میں زندگی گزارتی ہے جس کا علم شہر کے ان لوگوں تک کو نہیں ہوتا جن سے ان مزدوروں اور غربا کا روز کا سابقہ پڑتا ہے۔ ادب میں کون سی تحریک کتنی پرانی ہے، مغرب نے کن تحریکوں میں کن ملکوں کے فنون سے استفادہ کیا ہے اور مشرق،مغرب سے کس طرح مختلف اور سر بر آوردہ ہے۔ اشونی جی کے مطابق وہ پڑھتے کم تھے زندگی کی اصل سچائیوں کو تلاش کرنے پر زیادہ یقین رکھتے تھے، جیتے تھے کہ ایک روزہر حال میں مر جانا ہے اور ہر اچھی بری چیز کا استقبال کرتے تھے کہ استقبال ہی ادراک کی پہلی منزل ہے۔ میں نے اشونی جی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور جتنا جانا ہے اس سے کہیں زیادہ جاننے کی خواہش ہمیشہ میرے دل میں رہی ہے۔ حالاں کہ ہمارا ساتھ صرف چند ماہ کا تھا کیوں کہ وہ میری آمد کے بعد جلد ہی اپنی تھیسس جمع کر کے یونیورسٹی سے رخصت ہو گئے، مگر ان چندمہینوں میں میرے دل پر اپنی انفرادیت اور تشخص کی مہر ثبت کر گئے۔

Categories
نان فکشن

غالب اور موجودہ عہد

موجودہ عہد کیا ہے؟ اور غالب کون ہے؟ یہ دو بنیادی سوال ہیں جن کا جواب آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ غالب ایک اردو کا شاعر ہے جو اس عہد سے دو صدی قبل پیدا ہوا اور دیڑھ صدی قبل گزر گیا۔ اس نے اردو ،فارسی میں شاعری بھی کی اور خطوط بھی لکھے۔ کچھ اس کے علاوہ بھی کیا مثلاً پنج آہنگ ، مہر نیم روز،قادر نامہ اور دعائےصباح وغیرہ کتابیں لکھیں۔غالب کی شہرت ان کے اردو دیوان کے باعث ہے جس میں کل اٹھارہ سو اشعار ہیں یا اس سے کچھ کم زیادہ۔ بادی النظر میں غالب کا یہ ہی تعارف ہےاورموجودہ عہد سے مراد جس زمانے میں ہم سانس لے رہے ہیں اور زندہ ہیں یعنی زمانہ حال ہوگا۔ لیکن اصل میں جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ موجودہ عہد واقعتا ً کیا ہے؟ اور اس کا بھرپور ادراک کیوں کر ممکن ہے؟تو ہماری نظر موجودہ دنیا کے مسائل کی طرف جاتی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت جو سیاسی ،سماجی ، تکنیکی ،معاشی ، اقتصادی اورروحانی وغیرہ وغیرہ حالات ہیں ان حالات کا احاطہ کیے بنا موجودہ عہد کی کوئی واضح تصویر نہیں بنتی۔ جس طرح ہم اپنے ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کر کے ایک واضح تصویر بنا سکتے ہیں اور اس عہد کے کسی ایک پہلو پر اس مجموعی منظر نامے کے پیش نظر تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ اس طرح موجودہ عہد کی ایک مرتب شکل بنانا ممکن نہیں۔ موجوہ صورت حال چونکہ ایک بہتے ہوئے دریا کی مانند ہوتی ہے لہذا اس کی کسی ٹھوس شکل کا تعین ممکن نہیں۔ پھر بھی ہم مابعد جدید صورت حال کے پیش نظر اتنا تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ آج ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں وہ جدید دنیا کے رد عمل کا عہد ہے۔ ایسا عہد جس میں نئی زندگی کے تصورات پرانے ہو چکے ہیں اور کوئی چیز جو نئی سے نئی ہو حیران کن نہیں رہی ہے۔ تکنیک اور کائناتی توضیحات کے اس عہد میں علم کا کوئی جامد تصور نہیں رہاہے ،ہر وہ چیز جو انسان کے مشاہدے میں آتی ہے وہ عین علم ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک دھوبی، پارچہ باف، کرخندار،کسان، کھڑائی،بنائی کرنے والا مزدور اور نیو ٹرونس ،الیکٹرونس اور پروٹونس کے بارے میں بتانے والا شخص سب ایک برابر ہیں۔ علم اور بصیرت کے وہ تاریخی تصورات جس کی بنیاد پر ایک عالم اور جاہل میں فرق کیا جاتا تھااوروہ ہی بنادیں کسی شخص کا طرز زندگی طے کرتی تھیں وہ سب از کار رفتہ ہوچکیں۔لہذاموجودہ عہد میں معاشی استحکام سے انسان کا طرز زندگی اور معاشرت متعین ہوتا ہےاور معاشی استحکام کا علم سے کوئی راست تعلق نہیں۔ ایسے میں اردو زبان جو ہندوستان کے سب سے بڑے تعلیم معاون ادارے U.G.Cکی فہرست میں اٹھائیسویں نمبر پر آتی ہے اس زبان کے ایک شاعر کے فلسفیانہ مباحث کی معنویت کیا ہے؟اس پر غور کرنا ذرا مشکل کام ہے۔مشکل ان معنی میں کہ اگر غالب اتنا بڑا شاعر ہے کہ اس کا ثانی دنیا کی بڑی زبانوں کے پاس نہیں یا کم سے کم درجے میں وہ ہندوستان کا ہی سب سے بڑا شاعر ہے تو اس کا ادراک سوائے اردو والوں کے اوروں کو کیوں نہیں؟ اور اگر دنیا بھر میں غالب کے عاشقین موجود ہیں تو اردو کا گراف اتنا چھوٹا کیوں ہے؟

غالب کا فلسفہ شعر کیا تھا؟ یا وہ کتنا متاثر کن ہے؟ان دونوں باتوں سے قطع نظر غالب موجودہ صورت حال میں کہاں Existکرتے ہیں یہ جاننا زیادہ ضروری ہے۔ میرا مشاہدہ غالب کے تعلق سے یہ ہے کہ غالب ہمارے درمیان موجودہ عہد میں صرف اتنا ہی ہے جتنا وہ ہماری ڈسک پر موجود ہے اور یہ صرف غالب کا ہی المیہ نہیں بلکہ یہ دنیا کے ہر بڑے ادیب و شاعر کے ساتھ موجودہ عہد کا سلوک ہے۔ خواہ اسے مثبت سمجھا جائے یا منفی۔ ہمیں یہ بات اولین صورت میں سمجھنا ہوگی کہ غالب ہوں یا کوئی اور کسی فلسفی کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا یہ موجودہ عہد کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ غالب کے وہ تمام اشعار جو نیٹ پر مختلف حالتوں میں پائے جاتے ہیں آڈیو اور ویڈیو کی یا پھر ٹیکسٹ کی کسی شکل میں اس کو ہی دنیا دیکھتی ہے اور اتنے ہی غالب کو وہ جانتی ہے اور انہیں بنیادوں پر غالب کا تعین ہوتا ہے۔ غالب کے وہ تمام شریک کار جن میں پبلو پکاسو، ولیم شیکسپیر، لیو ٹالسٹائی، مقبول فدا حسین، کارل ماکس، ربیندر ناتھ ٹیگور اور نوم چومسکی وغیرہ شامل ہیں ،ان کا تعین بھی یوٹیوب واچ اور گوگل ہٹس سے ہی طے ہوتا ہے۔ ایسے میں غالب کا فلسفہ شعر کیا ہے ؟اس سے کسی کو بحث نہیں اور غالب ہمارا کتنا بڑا شاعر ہے؟ یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے ،بلکہ غالب کے متعلقین کے لیے اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غالب فرنٹ پر کتنا ہے؟ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں غالب اور اقبال دونوں ایک مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ لہذا اب ہم دنیا کے ان تمام متلاشیوں کو کس طرح یہ سمجھا سکتے ہیں کہ غالب کے متعلقین میں گوگل نے خواہ اقبال اور سیر سید وغیر کو شامل رکھا ہو مگر غالب کا ان سے کسی نو ع کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ہے بھی تو صرف اس میڈیم کا جس میڈیم کی معنی کے جہان میں کوئی خاص اہمیت نہیں۔

غالب اردو کا بڑا شاعر تھا۔ لیکن آج وہ اردو کا سب سے زیادہ مشہور شاعر ہے۔ایسا مشہور کے گوگل نے 27 دسمبر 2017 میں اس کا 220واں یوم پیدائش منایا اور غالب کی تصویر گوگل کے فرنٹ پیج پر اس تعارف کے ساتھ لگائی کہ:

Google on Wednesday celebrated poet Mirza Ghalib’s 220th birth anniversary with a doodle. A poet in Urdu and Persian languages during the Mughal era, Ghalib became famous for his Urdu ghazals. His poems and ghazals have been translated and recited in many languages.

لہذااس سے دنیا کو معلوم ہوگیا کہ غالب کی اہمیت کیا ہے اور اس کا فلسفہ شعر کتنا عمیق ہے۔ کیا ہم تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ہمارے دوسرے شعرا جنہیں ہم مختلف القاب و آداب سے یاد کرتے ہیں وہ اس عزت کے لائق ہیں۔ایسی صورت حال میں مرزا رفیع سودا، خان آرزو، میر تقی میر،مومن خاں مومن ،ناسخ اور مصطفی خاںشیفتہ وغیرہ غالب سے کہیں زیادہ معمولی اور غیر اہم شاعر قرار پاتے ہیں اور غالب اردو کا وہ واحد شاعر ٹھہرتا ہے جو آرٹ کی عالمی منڈی میں اپنا چھوٹا سا دیوان لیے کھڑاہے جس کےبائیں بازو پر انیس ہیں اوردائیں پرمحمد اقبال۔

یو ٹیوب کی ہسٹری بتاتی ہے کہ 29 نومبر 2016 کو ایک نوجوان کنیڈین سنگر جسٹن بیبر کے گانے let me love youکو اپلوڈ کیا گیا تھا ، جسے گزشتہ سوا سال میں ساڑے تریپن کروڑ لوگوں نے دیکھا اور ٹرینی ڈیڈین امیریکن سنگر نکی مناج کے Anacondaکو تین برس میں تقریبا چوہتر کروڑ لوگوں نے۔اس کے بالمقابل جوہن کیٹس کی لائف اینڈ لیگسی کو ایک برس میں بائیس ہزار سات سو لوگوں نے دیکھا۔بائیو گرافی آف لیو ٹالسٹائی کو اکیس ہزار سو لوگوں نے اور غالب پر گلزار کی بنائی فلم کی غزلوں کو جنہیں جگجیت سنگ نے گایا ہے اسےتین برس میں گیارہ لاکھ لوگوں نے سنا ہے اور اگر اس میں سے جگجیت سنگھ کو نکال دیا جائے تو دیوان غالب کے پہلے سیزن کو جسے بنانا پوئیڑی والوں نے اپلوڈ کیا ہے اس کی مختلف غزلوں کو ایک برس میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان دیکھا اور سنا گیا ہےاوراس سیزن میں ان کی صرف آٹھ سے دس غزلیں شامل ہیں۔ ہندوستانی گوگل کی 2017کی ہسٹری بتاتی ہے کہ غالب پوئیٹری ، غالب شاعری،صرف غالب،مرزا غالب شاعری،مرزا غالب شاعری ان ہندی اور مرزا غالب پوئیٹری کو ہر مہینے دس ہزار سے ایک لاکھ اور غالب شعر ،غالب شاعری کو ایک ہزار سے دس ہزار کے قریب سرچ کیا گیا۔جبکہ easycounter.comکے مطابق اگست2016 سے اب تک ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں سنی لیونی کو سوا بیس لاکھ مرتبہ سرچ کیا گیا ہے۔ جس میں صرف ہندوستانیوں نے گیارہ لاکھ مرتبہ سرچ کیا۔ اس ڈیٹا سے ہمیں اس بات کی ایک ہلکی سی جھلک نظر آجاتی ہے کہ ہمارا غالب رجحان کیا ہے۔

یہ بات ہر طور سچ ہے کہ اچھے اور سچے آرٹ کو پسند کرنے والے لوگ دنیا میں ہمیشہ سے کم ہی رہے ہیں ، مگر ہم آج جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس میں رونا کمی کا نہیں ہے بلکہ زیادتی کا ہے۔ دراصل اب ہمارے پاس اتنی مقدار میں اچھا اور سچا ادب موجود ہے کہ ہم کسی ایک پر مکمل طور پر ٹک ہی نہیں پاتے۔ کسی شاعر یا آرٹسٹ کی مشکل پسندی بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ مشکل سے مشکل ترین چیزوں سے ہم گزشتہ صدی میں دوچار ہوئے ہیں۔ مثلاً غالب کا کوئی شعر خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مابعد جدید نظریہ سے زیادہ مشکل نہیں ہوسکتا۔ جس کے دونوں سرے کبھی قاری کے ہاتھ میں نہیں آتے۔ مثلاً غالب کا ایک شعر ہے کہ:

افسوس کہ دیداں کا کیا رزق فلک نے
جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت

اس شعر میں لفظ دیداں اور دنداں میں اختلاف ہے ،بعض نے اسے دیداں لکھا ہے اور بعض نے دنداں۔ اس سے معنی پر فرق تو بہر حال پڑتا ہے مگر مجموعی صورت وہی نکل کر آتی ہے۔یہ غالب کے ایسے کلام کی مثا ل ہے جو مابعد جدید کے بالمقابل مشکل کے قریب بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ غالب کا یہ شعر کہ :

عروج نشہ واماندگی پیمانہ محمل تر
برنگ ریشہ تاک آبلے جاوے میں پنہاں ہیں

ایسا ہے کہ اگر سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی پر لطف تو ضرور معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ویسی ثقالت نہیں جیسی پوسٹ ماڈن امیریکن رائٹر ڈونلڈ بارتھیم کی کہانی غبارہ میں ہے۔ اس کے علاوہ غالب کو سمجھنے کے چند اصولوں پر اگر غور کیا جائے تو وہ اپنے اکثر کلام میں مشکل نظر نہیں آئیں گے۔ مثلاً غالب اپنے عہد میں عام نہیں ہونا چاہتے اس لیے لفظ کو غیر مرتب انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے یہاں معنی کی تبدیلی کا نظام ذرا سی حرکت سے واقع ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے غریب الفاظ،روز مرہ اور محاورے کا استعمال کر کے شعر کو عام اور سادہ بیانیہ سے الگ کر دیتے ہیں جس سے سامنے کی بات میں بھی لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ رعایت لفظی اور تضاد کا استعمال بھی کثرت سے کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اپنے اشعار میں ایسے وقفے تراشتے ہیں جس کی وجہ سے ایک مکمل بات بنانے میں پریشانی کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے سامنے تو یہ تمام پریشانیہ بھی نہیں ہیں کہ غالب کے بہت سے شارحین موجود ہیں جہاں کوئی شعر مشکل معلوم ہوا اور ہم نے کسی نہ کسی شارح کو دیکھ لیا۔ جن میں سے زیادہ تر شارحین نے تقریبا ً ایک ہی جیسی باتیں کی ہیں۔ مثلاً نظم طباطبائی، سہا مجددی ،عبدالباری آسی،شاداں بلگرامی،سید اولاد حسن، بیخود موہانی اورحسرت موہانی وغیرہ کی شرحیں تقریبا ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کہیں کہیں کسی نے زیادہ باتیں کہیں اور کسی نے کم۔ اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں۔ البتہ شمس الرحمن فاروقی نے تفہیم غالب میں ہر شعر پر قدر تفصیل سے بحث کی ہے۔

موجودہ عہد میں غالب کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی لغت سے ہم Familiar نہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے عہد کی زبان کو جاننا ضروری ہو جاتا ہے۔ پھر اگر اس کے عہد کی لغت کو جان بھی لو تو معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے اپنے زمانے کی لغت کے ساتھ اپنی شاعری میں بھرپور چھیڑ چھاڑ کی ہے۔کوئی لفظ غالب کے یہاں ایسا نہیں جو ایک نوع کی سحر انگیزی کو بننے کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہو۔ ان کا سادہ سے سادہ شعر بھی ایسا ہے کہ جس میں ذرا سی کجی ضرور پائی جاتی ہے اور یہ کجی تب نظر آتی ہے جب ہم ان کے اشعار کی معنوی فضا پر غور کرتے ہیں۔ ایسی ژولیدہ معنوی فضا ہمیں غالب کے معاصرین کے یہاں نظر نہیں آتی ،لہذا ہم غالب کو مشکل پسندی کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں۔ غالب کےاردو معاصرین تو خیر اس ژولیدگی سے پاک ہیں ہی عربی، فارسی اور انگریزی کے شاعر بھی اس سے معری ہیں۔مثلا ً علامہ فضل حق خیرآبادی ، منشی ہرگوپال تفتہ، لورڈ بائرن،جوہن کیٹس ولیم ورڈزورتھ،سیموئل کولریج اور میتھیو آرنلڈ وغیرہ کی شاعری غالب کے مقابلے خاصی سلجھی ہوئی ہے۔ لہذا غالب کی ژولیدہ مزاجی نے اسے کم دوسروں کی سہل پسندی نے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ میں نے موجودہ عہد کے ایک شاعر اسعد محمد خاں کی ایک چھوٹی سی نظم “نےٹوہوسپی ٹالٹی” پڑھی تھی۔یقین جانیے کہ مجھے ذرا بھی سمجھ میں نہیں آئی۔ عین ممکن ہے کسی اور کو آجائے۔بس نظم کے حوالے سے میں اتنا محسوس کر سکا کہ شاعر صاحب نے تاریخ ،جغرافیہ اور تہذیب کا ایک مرقع تخلیق کیا ہے جو قاری کو اپنے ادراک کے لیے ایک خاص صورت حال کی جانب بلا رہا ہے۔ غالب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ اگر آپ غالب کو پڑھنے کے شوقین ہیں اور ان کا کچھ کلام حافظے میں محفوظ بھی ہے تو وہ ایک خاص صورت حال میں من و عن ویسا ہی کھلتا ہے جیسا کہ وہ ہے۔ علاوہ ازیں معنی میں شارحین کی طرح ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔

غالب کے بہت سے قارئین ان کی زندگی اور شاعری کو ملا کر پڑھتے ہیں ،تاکہ غالب کی شاعری کوسمجھنے میں آسانی ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہ طریقہ اچھا ہو،مگر میرا خیال ہے کہ غالب کی زندگی ،ان کی شاعری کو سمجھانے کے لیے نا کافی ہے ، لہذا اگر ہم غالب کی حیات کو ان کی شاعری سے الگ کر کے پڑھیں تو وہ ایک موضوع کے طور پر الگ طرح کا مزا دیتی ہے اور ان کے خطوط بھی ایسے ہی ہیں جن کو باقاعدہ ایک موضوع کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔ غالب کےمزاج میں لطیف طنز اور لطیف مزاح پایا جاتا تھا۔ اس سے ان کی شخصیت کی زندہ دلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب بات ہے کہ غالب کی زندگی اور ان کی شاعری دونوں کو پڑھ جاو تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے نقصانات اور اپنے زخموں پرہنستا اور مسکراتا ہے۔ جتنا گہرا غم ہوگا غالب اتنے ہی زیادہ پر مسرت نظر آئیں گے۔ لہذا یہ تضاد ان کی شاعری میں ہی نہیں بلکہ ان کی ذات میں گھلا ہوا تھا۔ ایسے شخص کی باتوں کو سمجھنے کے لیے کسی قاعدے کو وضع نہیں کیا جاسکتا اس کے سمجھنے کا راز ہی شخصیت کی بے قاعدگی میں مضمر ہے۔

Categories
تبصرہ

آج کا تیسرا شمارہ؛ تاثراتی جائزہ

• بظاہر ہم بہت سی باتوں کے متعلق محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہی ہمارا جذبہ صادق ہے، لیکن کسی ایک خاص حالت میں پہنچنے کے بعد اس کے ابطال کا اندازہ ہمیں ہو جاتا ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ انسان خود سے بے انتہا جھوٹ بولتا ہے، یا پھر اس با ت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کی مختلف حالتوں کا سچ مختلف ہے۔ محبت کے معاملےمیں ایسا بہت ہوتا ہے اور اس کا علم ہمیں محبت کی مختلف کہانیوں سے ہی ہوپاتا ہے۔ اتالوکلوینو(Italo Calvino)جو اطالوی زبان کے ایک مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں ان کی کہانی چاند کی دوری اس کی اچھی مثال ہے۔اجمل کمال یا زینت حسام ان دونوں میں سے جس نے بھی ان کی کہانی سے قبل ان کے تعارف کے طور پر چند جملے لکھتے وقت اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی افسانوی تحریروں میں قاری کی ملاقات ایک بے حد فراواں تخیل اور بیان پر بے پناہ گرفت سے ہوتی ہے ۔ اس سے مجھے مکمل اتفاق ہے۔ (بیان پر قدرت کی شدت اتنی تھی کہ وہ ترجمے کی صورت میں بھی زائل نہیں ہوئی۔)اس کہانی میں اتالو کلوینو نے محبت کے دو مختلف احساسات کو نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ حالاں کہ ان دو محبتوں کے درمیان بھی مختلف النوع محبتیں پائی جاتی ہے۔ مثلاً مسز وحد وحد کا گونگے عم زادکو چاہنا، گونگے کاچاند کو چاہنا ، کشتی والوں کا پنیر یا دودھ کے ٹکڑوں کو چاہنا ، بوڑھے قفوفق کو کپتان کی بیوی، اس کے پستانوں ، کولہوں، بدن کی گدازی اور چاند کے ایک ماہ کے سفر (جو کہ مسز وحد وحد کے ساتھ مطلوب ہے) ان سب کو چاہتے ہوئے زمین کو چاہنا اور اپنے زمینی احساسات کے ادراک کو چاہنا۔ ان تمام چاہتوں سے اتالو کلووینو نے کشمکش سی بھری ہوئی انسانی نفسیات کی پیچیدہ گتھیوں کو دلچسپ کہانی کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ پھر احساسات کو پیش کرنے کے لیے چاند کے ان تاریخی دنوں کی کہانی گڑھنا بھی خوب ہے کہ جب چاند زمین سے بالکل ایسا لگا ہوا تھا جیسے ہمارے سروں پر گھر کی چھت۔ گونگا اور مسز وحد وحد اور قفوفق تواس کہانی کے جاندار کردار ہیں ہی ساتھ ہی کپتان کی وہ صورت حال بھی قابل توجہ ہے جس کے تحت وہ اپنی بیوی سے لا تعلق سا نظر آتا ہے۔ وہی مسز وحد وحد جن کے لمس کی حرارت کے لیے قفوفق اپنے عم زاد گونگے سے حسد کر رہا ہے اور اس کے پستانوں کی گھلاوٹ پہ مرا جا رہا ہے، اسی سے کپتان لا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ کہانی کے مختلف موڑ بھی قابل توجہ ہیں جس کے تحت کہانی چاند سے شروع ہو کر محبت کے ایک نازک احساس پر ختم ہوتی ہے۔۔کہانی کا بنیادی خیال یعنی چاند کی زمین سے قربت اور اس کے بعد بتدیج دوری اتالوکلوینو کو سر جارج ایچ ڈارون George Howard Darwinجو چارلس ڈارون Charles Darwinکے بیٹے تھے ان کی تھیوری کے مطالعے سے آیا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک زمانے میں چاند زمین سے بے حد قریب ہوا کرتا تھا، پھرسمندر کی لہروں نے اسے دور دھکیل دیا۔ حالاں کہ یہ ایک سائنسی اور تحقیق نکتہ ہے اور یقیناً اس برطانوی Astronomerکا اتا کلوینو کے عہد میں اٹلی میں چرچا شباب پر ہوگا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اتالو کلوینو نے ایک فلکیاتی مقدمے کو بیناد بنا کر کس خوبصورتی سے ادبی متن تراش لیا۔ایک ادیب واقعتاً ایسا ہی ہوتا ہے۔

• عام زن جرکسی امین مالوف کے مشہور ناول (Leo Africanus) کی تیسری کتاب کا دوسرا باب ہے۔ جس کا اردو ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے، عمر میمن نے اس ترجمے کی شروعات میں ایک مختصر سا تبصرہ اس کہانی کے متعلق کیا ہے جو عام زن جرکسی میں بیان کی گئی ہے۔ کہانی کے ترجمے سے قبل انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ جرکس شمال غربی قفقاض کے وہ قبائل تھے جو ہجرت کر کے ترکی شام اور اردن میں آباد ہو گئے۔قفقاض کا املا زیادہ تر قفقاز دیکھنے میں آیا ہے ،اسے انگریزی میں Caucasusکہتے ہیں۔(بشکریہ سید کاشف رضا) اسی قوم کی ایک حسین عورت کی کہانی اس ترجمے میں بیان کی گئی ہے۔ جس کا حسن نایاب ہے۔ حسن الوزان وہ جغرافیہ داں ہےجس کی آپ بیتی یہ ناول ہے۔ وہ اس جرکسی عورت سے اتفاقاً ملتا ہے، پھر ان دونوں میں دوستی ہو جاتی ہے۔ باب بہت مختصر ہے اس لیے عشق کے تمام مراحل بہت جلد طے ہوتے دکھائے ہیں ، جس سے بعض مقامات پر کہانی کے تاثر پر حرف آتا ہے ۔ناول کا بیانیہ الف لیلوی داستانوں جیساہے، کہانی میں عشقیہ داستان کے علاوہ جو قصے ہیں وہ بھی مشرقی داستانوں سے ملتے جلتے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امین مالوف نے عربی داستانوں سے استفادہ کر کے اس رنگ کو وضع کرنے کی کوشش کی ہے یا ممکن ہے کہ مترجم نے ترجمے میں اپنے حافظے کو داخل کیا ہو۔ کہانی پر مترجم نے نہایت عمدہ تبصرہ کیا ہے جس کے بعد اس کے عشقیہ تاثر پر کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔بقول عمر صاحب:

اس کہانی میں حسن نہ اپنے تغافل میں جرات آزما ہے ، نہ جسم و جاں کے تقاضوں کے اظہار میں مظاہراتی۔ دوسری طرف عشق اپنی بر انگیختگی میں توانا سہی ، بے وقار نہیں ۔ یہ توازن ہی اس کہانی کی جان ہے ۔ ایک دھیما پن ! ایک قابل برداشت اور اتنی ہی دل نواز حسرت زندگی کا حزنیہ احساس جو دشنام طرازی کی ادنا ترین کوشش کا بھی سزاوار نہیں ، عورت کی خود آگاہ سپردگی ! مرد کی بے وقار بے تابی ! زبان کی تلمیحی وسعت ، جس سے پیدا شدہ نت نئے تلازمے احساس کی رگ رگ میں ایک جاندار لمس کو جگا دیتے ہیں ! اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں تعلق خاطر یک طرفہ نہیں اور نہ ہی اس میں انائے بے جا کا گھمس ہے! بلکہ اس کی پرورش باھمی پاس داری کے ارفع ترین اصولوں پر ہوئی ہے۔ یہاں مرد عورت کو استعمال نہیں کر رہا، بلکہ جسم بڑی صحت مند بے قراری کے ساتھ اپنے ہم نفس کا جویا ہے۔ آخراً یہ زندگی کا اس کی تمام مہجوریو کا باوصف جشن ہے۔(ص:20، عمر میمن، آج :شمارہ نمبر 3۔)

کہانی میں صرف ایک مقام ایسا آتا ہے جب مصر کے اہراموں کی طرف سفر کرتے ہوئے ابن بطوطہ کے تذکرے پر جرکسی خاتون جس طرح قہقہہ لگاتی ہے وہاں کہانی کا عشقیہ تاثر متاثر ہوتا ہے اورایک نوع کی بے لاگ اور غارت گر ہنسی سے جرکسی خاتون کا تصور کہانی کے تسلسل سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابن بطوطہ پر اس کی رائے سے اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ جرکسی خاتون نہیں بلکہ حسن الوزان ایک جغرافیہ داں کی حیثیت سے ابن بطوطہ پر تنقید کر رہا ہے۔

ترجمے میں کہیں کہیں جملے ادھورے رہ گئے ہیں یا انہیں انشا یا پروف کی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
وہ اس سیر سے کافی متاثر ہوتی تھی ، گو اس کی وجہ میری سمجھ نہ آسکی۔(ص:28)
صفحہ 27 پر بلسان کا ذکر آیا ہے جو ایک درخت کا نام ہے ، لیکن اس جگہ یہ بھی جملہ لکھا ہے کہ: وہ واحد درخت جس سے بلسان پیدا ہوتا ہے۔ گویا اس سےیہ بات واضح نہیں ہوتی کہ بلسان کوئی پھل ، پھول یا اسی طرح کی کوئی اور شئے ہے یا خود درخت ہے۔ حالاں کہ لغت کی رو سے بلسان ایک درخت ہوتا ہے جس سے ایک مخصوص روغن نکلتا ہے۔ جسے حکیم نفس کو موٹا اور لمبا کرنے کے لیے تجویز کرتے ہیں۔

• اس شمارے میں موجود محمدعمر میمن کا مضمون یا وہ جو بھی ہے جس کا عنوان”کولاژ،مونتاژ،اسمبلاژاور سبوتاژ” ہے ، میری سمجھ سے باہر ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ شمیم حنفی، شمس الرحمن فاروقی، وارث علوی یا ان کی نسل کے دیگر لوگوں کے لیے ہی لکھا گیا ہو۔ اس لیے غور کرنے کے با وجود کہ آخر یہ مجذوبا نہ باتیں ہیں کیا ، میرے پلے کچھ نہیں پڑا۔

• محمد سلیم الرحمن کی تحریر ایک نا مکمل ناول کے اوراق اگر آج میں شائع نہ ہوتے تو غالباً کسی اور پرچے میں بھی جگہ نہ پاتے۔ یہ میرا خیال ہے کہ آج میں اس نےاپنا صحیح مقام حاصل کیا۔ تنہا بھی اسے نہیں شائع کیا جا سکتا تھا کیوں کہ یہ کوئی باقاعدہ ناول نہیں ۔ جتنا اس وقت میرے پیش نظر ہے اتنا تو ہرگز نہیں ۔ لیکن یہ اس تحریر کا کمال ہے کہ اس کے مطالعے سے ایک مکمل ناول کا تاثر حاصل ہے۔ میں نے سلیم الرحمن کی چند ایک تحریریں اس ناول سے قبل بھی پڑھی ہیں ، لیکن ان کا اس طرح کا بیانیہ ان میں نہ تھا۔ نہایت دل گرفتہ ۔بلا کی منظر کشی جس کو پڑھتے ہوئے دل پر وہ کیفیت گزرتی ہے جس کا اظہار وہ اپنے منظر میں کرتے ہیں ۔ یہ تحریر کیا ہے اچھا خاصا ایک سفر ہے جس پر قاری مشیر کے ہمراہ نکل سکتا ہے۔ کبھی دھوپ، کبھی چھاوں ، کبھی جنگل ، شہر ندیا ں تو کبھی اوبڑ کھابڑ راستے۔ ہر طرف ایک گہری فکر کے ساتھ موسم اور ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سفر جاری رہتا ہے۔ کبھی ذہن ان حالات میں گھر کر مشیر کی طرح سوچنے لگتا ہے اور دنیا جہان کی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں ۔ کبھی ایک عجیب سی مایوسی دل پر چھا جاتی ہے جس کا لطف متن سے جڑنے والا قاری ہی محسوس کر سکتا ہے۔ ناول کے واقعات کبھی اتنے حقیقی ہو جاتے ہیں کہ ان پر اصل زندگی کا گمان ہونے لگتا ہے اور کبھی ایسے پیچیدہ کے ان کی گتھیوں کو سمجھنا اور سمجھانا ناممکن محسوس ہونے لگتا ہے۔ نہایت گہری بصیرت کے ساتھ مشیر کے ساتھ چلتے چلتے مجید کی اٹکھیلیاں اکتادینے والی معلوم ہوتی ہیں ۔ مگر زندگی سے بھر پور اس کا قہقہہ ہمیں زیست کی دوسری سچائیوں سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ واجدہ کا کردار بھی سلیم الرحمن نے خوب نکالا ہے ، جس سے ناول میں ایک جمالیاتی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ پورے ناول میں ان کا ایک جملہ کہ جب واجدہ چائے کا ایک گھونٹ لیتی ہے اور مشیر اس کے چمکتے ہوئے ہونٹوں کو للچائی ہوئی نگاہ سے دیکھ کر اپنا چہرا دوسری طرف گھما لیتا ہے کہانی کو رومانی رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ ناول کی زبان اس کا بیانیہ اور اس کے کردار تینوں لا جواب اور دلچسپ ہیں۔ ایسا مختصر ناول اردو کے ان ہزار ہا ضخیم ناولوں پر بھاری ہے جن میں نہ کہانی ہوتی ہے نہ بیایانیہ۔

• محمد انور خالد انگریزی زبان کے استاد اور اردو کے نظم گو ، ان کی اس شمارے میں موجود چھ نظمیں اردو کی نئی شاعری کی پرتیک ہیں ۔ ان کی نظموں کی زبان صاف اور سرل ہے۔ کہیں کہیں تراکیب کی ژولیدگی نظر آتی ہے ، مگر اکثر مقامات پر سیدھے اور سامنے کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ نظمو ں کا معنیاتی نظام پیچیدہ سہی مگر شاعرانہ اور پر لطف ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشرقی استعاروں کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔ جو اردو کلاسکل شاعری میں بہت ملتے ہیں ۔ نظمیں طویل نہیں ہے، اس لیے قاری کو پڑھنے میں الجھن نہیں ہوتی۔ ایک ستھرا ادبی ذوق رکھنے والا قاری جو نئی نظم کو غیر مربوط اور آزادانہ اظہار کی طرح قبول کرتا ہے اس کے لیے نظموں میں گہرے راز چھپے ہیں جن سے داستانی رنگ کی کہانیاں مترشح ہوتی ہیں ۔ اسلوب کی سادگی نے شاعری کو مزید بلیغ بناا دیا ہے۔ کہیں کہیں کوئی ترکیب بوجھل لگتی ہے اور کہیں کہیں کوئی استعارہ یا تلمیح خاصی مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود ہر نظم میں ایسے چار سے آٹھ مقام ہیں جن پر بے ساختہ دل سے آہ نکلتی ہے۔ محمد انور خالد کی نظموں میں رومان بھی ہے اور زندگی کی پیچیدہ حقیقتیں بھی۔ ان کے یہاں معنی کا ٹھہراو بھی ہے اور تحرک بھی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی نظم “یخ زدہ انگلیاں ” اور “آسماں خاکداں”خاصی دلچسپ لگیں۔

• محمد انور خالد کے بعد زیبا الیاس کی آٹھ نظمیں دی گئی ہیں ۔ ان میں زیادہ تر جذباتی نوعیت کی نظمیں ہیں جن میں رشتوں، لمحوں اور یادوں کے جذبات کام کررہے ہیں ۔ کہیں کہیں سیاسی نوعیت کے مصرعے بھی ہیں ۔ان کی نظموں میں عورت کے احساسات کا بیان کثرت سے کیا گیا ہے۔ نظمیں اتنی زیادہ متاثر کن نہیں ۔ کچھ کچھ” تعفن “کو چھوڑ کر۔

• اس شمارے میں شامل جیک لنڈن کی کہانی الاو انگریزی زبان سے ترجمہ کی گئی ہے۔ جس کا ترجمہ صغیر ملال نے کیا ہے۔ جیک لنڈن ایک مشہور امیریکی ناول نگار تھے جن کی پیدائش 12 جنوری 1876 میں سن فرانسسکو ، کیلی فورنیا میں ہوئی تھی۔ بنیادی طور پر وہ ایک صحافی اور سماجی کارکن تھے لیکن ان کی ادبی حیثیت بھی مثلم ہے۔ ان کی کہانی To Build of Fire (الاو)بہت مشہور ہوئی ۔ اس کا کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ اردو میں صغیر ملال نے اس کا ترجمہ بہت آسان زبان میں کیا ہے۔ اس کہانی میں ایک مسافر کی داستان بیان کی گئی ہے جو برفیلے علاقوں کا سفر کرتا ہے اور اپنے احباب کو ان اسفار کے قصے سناتا ہے۔ برفیلے علاقوں میں سفر کرنا اس کی ہابی ہے۔ لیکن اپنے تیسرے سفر میں وہ ایک ایسے خطر ناک برفیلے علاقے میں چلا جاتا ہے جہاں کا درجہ حرارت صفر سے ستر درجے نیچے چلا جاتا ہے۔ اس سفر میں اس پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح وہ اپنے پالتو کتے کے ساتھ اس برفیلے علاقے کے شدائد برداشت کرتا ہے۔ ان واقعات کا بیان نہایت دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے۔ کہانی کی جان وہ حصہ ہے جب اس کہانی کا مین کردار الاو جلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا کتا اس کوشش میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا نظر آتا۔ جانور اور انسان کا رشتہ، جانور کی جبلت، انسان کی خطرات سے لڑنے کی فطرت اور ڈر کے غلبے سے نجات پانے کی صورت حال کو اس کہانی میں متاثر کن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیک لنڈن نے ایک انسان اور کتے کے کردارسے کہانی کی نفسیاتی فضا کو تشکیل دیا ہے۔ کہانی میں ایک مقام اور بھی بہت اہم ہے جہاں کہانی کا مین کردار ٹھنڈ کی شدت سے نجات پانے کے لیے اپنے پالتوکتے کو مارنے کی کوشش کرتا ہے اور کتا کسی انجانی قوت سے اس خطرے کو بھانپ لیتا ہے ۔اس کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیک لنڈن کو جانوروں کی نفسیات کا بہت گہرا علم تھا۔

• تادیوش روزے وچ(Tadeusz Rozewicz)پولینڈ کا ایک مشہور شاعر جس کی چند نظمیں اس شمارے میں دیگر تین پولینڈ کے شعرا کے ساتھ دی گئی ہیں ۔ تادوش روزے وچ انیسویں صدی کے شاعر ہیں جنہوں نے پولینڈ میں اس زمانے میں ہوش سنبھالا جب وہاں کے سیاسی حالات بہت خراب تھے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک اچھے اور بڑے شاعر ہیں ، جن کی نظموں میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے علاوہ بھی بہت کچھ نظر آتا ہے ،لیکن بیسویں صدی کے یورپی سیاسی حالات کے سیاق میں ان کی شاعری زیادہ معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔ اس شمارے میں افضال احمد سید، اجمل کمال اور آصف فرخی کی ترجمہ شدہ نظموں کا مطالعہ کر کے ان کے بارے میں کوئی حتمی رائے تو نہیں قائم کی جاسکتی ۔ لیکن غالب رجحان یہ بنتا ہے کہ وہ اپنی آس پاس کی دنیا سے اتنے متاثر تھے کے ان کی شاعر میں اپنے ماحول کی زمینی حقیقتیں کثرت سے شامل ہو گئیں (اس کی ایک وجہ ان کا پولینڈ کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ہونا بھی ہے)۔ ان کی نظم پونی ٹیل اس کی ایک اچھی مثال ہے جس میں ہالوکوسٹ کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ تادیوش کی نظموں کو ایک اردو طالب علم کی حیثیت سے پڑھنے کے بعد ان کی نظموں کے تاثر کو بیان کرنا بھی ذرا مشکل کام ہے۔ ان کی نظمیں بہت الگ نہیں ہے ، لیکن ان کا لہجہ بتاتا ہے کہ وہ اردو شاعری سے ملتی ہوئی بھی نہیں ۔ حالاں کہ بیسویں صدی کے عالمی حقائق پوری دنیا میں خاصے ملتے جلتے تھے، جن میں سیاسی اور سماجی افراتفری ، شخصی آزادی، سرحدی اور مذہبی منافرت اس کا پر تو ہر جگہ نظر آتا ہے ۔ اس کے باوجود آپ ان کی نظموں کو فیض یا جوش یا اسی قبیل کے اردو کے کسی اور شاعر سے مشابہ قرار نہیں دے سکتے۔ ان کی شاعری میں ایک نوع کی اجنبیت ہے جو ملکی یا جغرافیائی اظہار کی حالت سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کے یہاں جرات اور اظہار کرب ہے، سماجی مظلومیت ہے اور باطنی خلش بھی،لیکن ایک نئی تشبیہ اور استعارے کے ساتھ۔ تادیوش کی شاعری میں کھردراہٹ نہیں ہے ایک طرح کی لطیف جاذبیت ہے جو قاری کو ان مسائل کے قریب لے جاتی ہے جو ان کے ملک کے ہیں اوران کی شاعری پڑھتے وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کے مسائل و معاملات کو شاعرانہ زبان دے کر انسانیت کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ مجھے ان کی دو تین نظموں نے ذاتی طور پر خاصہ متاثر کیا جن میں سبک دوشی پونی ٹیل، محبت 1944،ایک ملاقات، سیب اورضروری کاموں میں مصروف شامل ہیں۔تادیوش کا تعارف اجمل صاحب نے اپنے اس انتخاب کی ابتدا میں دیا ہے جس میں مجھے ایک صفائی نظر نہیں آئی کہ تادیوش نے اپنی تعلیم کراکو یونیورسٹی سے مکمل کی تھی لیکن اس یونیورسٹی کا اصل نام Jagiellonian Universityہے جسے عرف عام میں Krakow Universityبھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ کراکو میں واقع ہے۔

• تادیوش کے بعد زبگنیو ہربرٹ کی نظمیں پیش کی گئی ہیں ۔ زبگنیو بھی پولینڈ کے اسی عہد کے شاعر ہیں جس عہد کے تادیوش ہیں ۔ ان کی نظموں کے عناوین تاریخی واقعات اور اساطیری کرداروں سے ماخوذ ہیں جن کا مطالعہ کرنے سے ان کی شاعری میں تلمیحاتی عناصر کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ زبگنیو کی 20 نظمیں اس انتخاب میں شامل ہیں ۔ جن میں سے بعض نظموں کو نثریئے بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان 20 نظموں کا ترجمہ انگریزی سے افضال احمد سید اور آصف فرخی نے کیا ہے۔ نظموں کے عناویں سے ہی ان کی دلچسپی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً فورٹن براس کا مرثیہ(فورٹن براس شکسپیر کے مشہور ڈرامے ہیملٹ کا کردار)،سلطنت روم کے ایک صوبے دار کی واپسی، وادی کے دروازے پر، آنسووں کی صنعت،واں کے نکالے ہوئے،بادشاہ کا خواب،زبان یار ، کتب خانے میں ایک سانحہ اور بادشاہت کا خاتمہ وغیرہ۔ان میں کچھ نظمیں طویل ہیں اور کچھ مختصر، ان نظموں کو اردو زبان میں پڑھتے ہوئے اس وقت تک کچھ خاص لطف نہیں ملتا جب تک ہم شاعر کی تہذیب اور اس کے تاریخی سیاق کو اچھی طرح سمجھ نہ لیں ۔ کچھ ادھورے سے واقعات کا تاثر ذہن پر مرتسم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم شاعر سے ذہنی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں تو ان نظموں کا اصل جوہر سامنے آتا ہے۔ فورٹن براس کے مرثیے کا مطالعہ کرنے کے لیے ہیملٹ کا مطالعہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی تین نظموں بارش ، آنسووں کی صنعت اور مرغی نے متاثر کیا۔ نظم بارش ایک بھر پور المیہ ہے جس میں تاریخی حالات، جنگی اور خونی حادثات کے ساتھ ساتھ جذباتی اشتعال کو جذب کیا گیا ہے۔ اس میں شاعر نے زندگی کی گہری سچائیوں کو مختلف استعاروں سے بیان کیا ہے۔ نظم کا پہلا تاثر پر لطف ہے ۔ دوسرا گہرا اور تیسرا تفکر آمیز۔ ایک بھر پور نظم جس میں احساسات کی برستی بوندوں کا منظر دکھایا گیا ہے۔ آنسووں کی صنعت میں ایک نوع کی ٹیس ہے ۔ ایک طنز بھی اور نئی تہذیب کا المیہ بھی۔ مرغی ایک لاجواب تشبیہاتی نظم ہیں ۔ اس میں انسانی رویوں کی تشبیہات ہیں ۔شاعر کا یہ کمال ہے کہ اس نے مرغی کے اعمال اور प्रभावکو حکایت بنا کر پیش کیا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اس نظم کا ترجمہ آصف فرخی نے کیا ہے۔

• وسلاواشمبورسکا(Wislawa Symborska) کی ایک نظم یاسلوکے قریب فاقہ کیمپ اس شمارے کی زینت ہے۔ مصنفہ پولینڈ کی بہت مشہور خاتون ہیں۔ان کو 1996 میں نوبل انعام بھی مل چلا ہے۔ انہوں فرانسسی زبان سے پولش زبان میں کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے اور 2012 میں ان کی موت 88 برس کی عمر میں کراکو، پولینڈ میں ہوئی۔ وسلاوا کی نظم کا عنوان یاسلو کے قریب فاقہ کیمپ ہے ۔ یہ لفظ یاسلو دراصل یسوو ہے جس کو انگریزی میں Jasloلکھا جاتا ہے۔ اس کا پولش تلفظ بھی یسوو ہی ہے ۔ یہ ایک قصبے کا نام ہے جو پولینڈ کے جنوب مشرقی علاقے میں ہے۔خاصہ خوبصورت اور مجلا ومصفا۔ نظم کا عنوان چونکہ فاقہ کیمپ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظم میں ایک نوع کے طنزیہ لہجے کو روا رکھا گیا ہے کیوں کہ وہ یسوو کے قریب آباد ہے۔اس نظم میں ایک فاقہ زدہ کیمپ کی ابتری کو استعاراتی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک گہرے المیہ کی صورت۔ جس سےانسانی ابتری اور زندگی کی بے مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایک شکستہ خیال جس میں بار بار تاریخی زندہ حقیقتوں پر سوال قائم کیے گئے ہیں اور انسانی رویوں کی تغلیب کو بیان کیا گیا ہے۔

• الیگزانڈر واٹ(Aleksander Wat) کی صرف تین نظمیں اس انتخاب میں شامل ہیں ۔ پہلی بہ عنوان نظم دوسری عہد نامہ عتیق کے ایک باب کی تفسیر اور تیسری یکے از حکایات فارسی۔ ان تنیوں نظموں میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان میں ایک الہامی کیفیت نظر آتی ہے۔ نظم کا بیانیہ مترجم کا تراشا ہوا ہے مگر متاثر کن ہے ، شاعر کے اصل اسلوب کا علم نہیں مگر نظم ترجمے کی صورت میں مختلف طرز کی معلوم ہوتی ہے۔ پولینڈ میں ایسی شاعری اللہ جانے کتنے لوگوں نے کی ہے۔ لیکن ان چار شاعروں میں یہ لہجہ ذرا الگ ہے۔ عہد نامہ عتیق کی تفسیر بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان نظموں کا ترجمہ افضال احمد سید(پہلی اور دوسری) اور آصف فرخی(تیسری) نے کیا ہے۔

Categories
نان فکشن

شاعری، امکانات اور بے کرانیت

ایک شاعر ناممکن سے ممکن کی راہ نکالتا ہے۔ ہر وہ خیال جسےایک عام ذہن بنجر اورخشک تصور کر لیتا ہے، شاعر اس میں نمی کی موجودگی کا خیال پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ اتنا مشکل معلوم نہیں ہوتا،لیکن جب خیال کی سطح پر ایک بنجر خیال سے نئی زمینیں آباد کرنے کی کوشش کرو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ کام واقعتا ً کتنا مشکل ہے۔موجودہ حقیقت کو عین حقیقت نہ سمجھنا اور اس حقیقت میں مزید حقائق تلاش کرنا یہ ایک شاعر کا کمال ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ شاعر جو کچھ کہتا ہے وہ عین حقیقت نہیں ہوتی،لیکن حقیقت کیا ہے؟ اس پر سوال قائم کرنے میں شاعر بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں اور ہر خطے میں پائے جانے والے شاعر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کوئی زبان اور تہذیب ان کو اندھیرے میں روشنی اور تنہائی میں شور تلاش کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہی رکاوٹ بنتی ہے۔ نہ کوئی عہد ایسا ہوتا ہے جس میں وہ نئی اور انوکھی باتیں کہنے سے چوکتے ہیں۔ میرے سامنے اس وقت موجودہ عہد سے تقریباً تین سو برس پرانا ایک شاعر ہے۔ جس کا نام تہذیب، زبان،مذہب، طرز زندگی، معاشرت، سیاسی نظام اور جغرافیائی حالات سب کچھ کسی نہ کسی طرح محدود ہیں۔ لہذا ہر اس زاویے سے جو ظاہری دنیا کا ہے اس کا تعین کیا جا سکتا ہے جس سےاس شاعر کے متعلق آپ بہت سی مختلف آراء قائم کر سکتے ہیں۔ مگر فکر ایک ایسی آزاد لہر ہے جس سے اس کی ذات کا تعین ممکن نہیں، کیوں کہ وہ آپ کو کسی ایک مقام یا زبان، لہجے یا انداز، تہذیب یا معاشرت اورمذہب یا معتقدات تک سیمت نہیں رکھتی۔ اس میں آپ کو ایک سیال نظر آئے گا جس سے آپ مختلف دنیاوں کی مختلف النوع رنگین بستیوں کی سیر کرتے چلے جائیں گے۔کہیں رکے بنا خیال کے نئے طرز کو محسوس کریں گے اور زبان کے جھگڑے سے آزاد ایک نئی تمثیلیت کا لطف اٹھائیں گے۔میں اس شاعر کا نام لے سکتا ہوں۔ اس کے اشعار پر اظہار خیال بھی کر سکتا ہوں، مگر اس میں وہ لطف نہیں جو بے نامی اور بے راہ روی میں ہے۔ خیال پر خیال کوئی واقعہ نہیں، خیال کی ترسیل کا احساس واقعہ ہے۔ ہم کسی بھی شعر کو سمجھ لیں اور اس پر اپنی رائے دے دیں تو کھیل کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ کھیل کو جاری رکھنا اصل لطف ہے اور اس لطف کو جاری رکھنا شعر کی خود تک مستقل رسائی کو جاری رکھنا ہے۔ کبھی ہم اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ شاعر جو اس وقت میرے پیش نظر ہے کیا اس نے یوں ہی بہت سے شعر کہے۔ بہت سی ایسی باتیں جن میں رنگ ہے، نشہ ہے، تکمیلیت ہےاورمصنوعی اظہار ہے۔وہ نہ چاہتا تو نہ کہتا،یا کوئی شاعر نہ کہتا یا صرف اتنا کہتا جس سے اس کی بات کو محدود کرنا آسان ہوتا۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ مثلاً آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے ایک مخصوص مقام پر ایک شہر بنارس ہے،جس کی سرحدیں کن کن علاقوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ کس دریا کے بعد وہ ختم ہوتا ہے اور کس زمین کے ٹکڑےسے غیر بنارس کی شروعات ہوتی ہے۔ مگر اس طرح کیا میں اس شاعر کا احاطہ کر سکتا ہوں۔ یہ تو پھیلا ہوا ہے۔ بے کنار۔ پھر اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ اس نے ہزار شعر کہے ہیں یا پانچ سو۔ مجھے تو اس کی خیال کی کوئی سرحد نظر ہی نہیں آتی یا کسی شاعر کی۔ کیا ہی خوب ہوتا کہ دنیا کا ہر شاعر اپنی زندگی میں صرف ایک شعر کہتا۔ صرف ایک شعر اور تعین قدر بالکل آسان۔ اس فلسفی،طبعیات داں اور ریاضی داں کی مانند جس کی کسی ایک مساوات سے ہم اس کی تعین قدر کا مسئلہ حل کر لیے ہیں۔ میکسویل جو اپنی مساوات سے ہی جانا جاتا ہے یا پھر فیثاغورث، آئین سٹائن، نیوٹن،ہوکر اور اسی طرح کے تمام لوگ۔ مگر یہ شاعر تو خیال کی کسی مساوات میں قید نہیں۔ بس بکھرا ہوا ہے۔ چوطرفہ۔اس لیے مجھے اس کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے کسی طرح کی جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔ بس اس پھیلے ہوئے خیال کی سرخ اور سبز نہ دکھنے والی شعاعوں کو دیکھنے کی آنکھ کو مہمیز کرنا ہوتا ہے اور وہ ناممکن دنیا نظر آنے لگتی ہے جہاں ممکنات کی افشاں بکھری ہوئی ہے۔ یہ شاعر مجھے وہ سب کچھ دکھاتا ہے جو میں شائد اپنی خیالی دنیا میں رہ کر کبھی نہ دیکھ پاتا۔میں جب اس کی رنگین دنیا کا حصہ بنتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں کتنا قید ہوں، کتنا بندھا ہوا۔ خود میں،اپنے اطراف میں اور اپنے ممکن الحصول جذبات میں۔ کسی ایک بات کو کہنا، پھر اسے رد کرنا،پھر اس کے بالمقابل ایک اور بات کہنا، پھر اسے بھی رد کرنا او ر پہلی کہی ہوئی بات کو اچانک سب سے اہم اور افضل ثابت کردینا۔ بظاہر چھوٹی سی نظر آنے والی بات میں بہت بڑی بات تلاش کر لینا اور بہت اہم اور یقینی باتوں کو بے یقین اور غیر اہم بنا دینا۔ کوئی شاعر یہ ہی تو کرتا ہے۔ کبھی ایک راہ کا تعین کرنا اور پھر اسی کو مضر قرار دینا، اس پر چلنا بہادری تصور کرنا اور اس کے نقصانات پر کف افسوس ملنا۔پھر اس میں انبساط کا کوئی نکتہ تلاش کر لینا اور پھر ایک طنز کے ساتھ سب کچھ در گزر کر دینا۔ شاعر ہمیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتا ہے اور پھر اس مقام پر پہنچنے کے خیال کو وہم قرار دے کر کہیں اور لئے چلتا ہے۔ ان تمام حرکات و سکنات میں وہ زندگی کی بے یقین سالمیت کو ہم پر ظاہر کر دیتا ہے۔
اپنے کرتب سے اور اس امر سے کہ کہیں رکنا، تسکین نہیں بلکہ چلنے کے لطف کو کھو دینا ہے۔ اس شاعر کے یہاں بھی مجھے وہی بکھراو نظر آتا ہے،یہ مجھے مرتب نہیں ہونے دیتا۔ میں جن خیالات، استعارات اور اعتقادات کے ساتھ زندگی گزارتا ہوں یہ ان پر ہنستا ہے۔خود کو غیر مرتب اور غیر منظم ثابت کرتا ہے اور مجھے مقلد محض بتا کر میرے طرز حیات پر سوالیہ نشان قائم کر دیتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جب میں اس کا قائل ہوجاتا ہوں اور اس کے طرز کو اپنانے کی سعی کرتا ہوں تو یہ اپنے مسلمات کو وہم بتا کر ہوا ہو جاتا ہے اور میرا طرز زندگی مجھے پھر سے مثالی نظر آنے لگتا ہے۔شاعر حیات اور عدم حیات میں ایک نوع کی کشمکش پیدا کرتا ہے۔ وہ زبان سے نہیں بلکہ انسانی ذہن کی پیچیدہ پرتوں سےکام لیتا ہے۔ مستقبل میں ہمیں دور تک لے جاتا ہے،اتنا کہ ہم حال اور ماضی کو بھول جائیں۔پھر اچانک ہمیں حال میں جینے کا درس دینے لگتا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور نہ ہی سچ بولتا ہے۔وہ ہمیں حقیقت کے غیر موجود ہونے کا احساس دلانے میں کوشاں رہتا ہے۔ زندگی کو اپنے اطراف کی پیچیدگی سے زیادہ الجھا ہوا دیکھنے پر ابھارتا ہے۔ پھر اس بات کی ہدایت دیتا ہے کہ اس الجھن میں کس طرح سلجھن تلاش کی جاسکتی ہے۔ وہ پل میں پہاڑ اور پل میں سمندر بن جاتا ہے۔ بڑا ہوتا ہے تو آسمان کی سرحدوں سے باہر نکل جاتا ہے اور چھوٹا ہوتا ہے تو ہماری آنکھ کی پتلی کے اندر اتر جاتا ہے۔ یہ ہی اس کی ذات ہے اور یہ ہی صفت۔شاعر خود میں ایسا ہی ہوتا ہے اور اپنے فنی اظہار سے ہمیں بھی اپنی طرح بنا لیتا ہے۔ اس کا فن اسی امر میں مضمر ہے کہ وہ کتنی صفائی سے ہمارے مسلمات کو توڑتا ہے اور ہمارے خیال کی ایک دنیا تشکیل دے دیتا ہے۔

Categories
نان فکشن

معاشرے کی اصلاح میں صوفیاکرام کا کردار

اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ صوفیا کرام ہر اس دور میں جب کہ وہ واقعتاً پائے گئے انہوں نے معاشرےکی اصلاح کا کام کیا۔ لیکن یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ ہم جن کا تذکرہ بطور صوفیا کر رہے ہیں آخر وہ ہے کون سی جماعت اور کس طرح اس بات کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کسی شخص کو صوفی کہا جائے۔ دوسرا اہم نکتہ معاشرے یا سماج کا ہے کہ اس سے ہماری مراد کیا ہے اور کن حالات میں کوئی صوفی معاشرے کے حق میں مصلح ثابت ہوتا ہے۔ رسالہ قشیریہ میں جو کہ علم تصوف کی بنیادی کتابوں میں شامل ہے اما ابوالقاسم قشیری نے آج سے تقریباً بارہ سو برس پہلے یہ بات لکھی تھی کہ یہ یقین کر لو کہ اس ٹھوس گروہ صوفیہ کی اکثریت اب ختم ہو چکی ہے اور ہمارے اس دور(376-465) میں اس گروہ کا کوئی خال فرد ہی باقی بچا ہوگا۔لہذا صوفیا کی جماعت خود صاحب قشیریہ کے زمانے میں اتنی قلیل تھی جو کہ طب طابعین کے عہد سے بالکل قریب تھا، تو بعد کے عہد میں اس کی قلت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ صوفی سے امام قشری کی مراد کیا ہے اسے انہوں نے تفصیل سے لکھا ہے،مختصر طور پر یہ کہ اس جماعت میں انبیا کی صفات پائی جاتی ہیں جن میں بشریت کے پہلو نا کے برابر ہوتے ہیں۔ لہذا وہ جو کرتے اور کہتے ہیں وہ من جانب اللہ ہوتا ہے۔ قرآن میں اس جماعت کا ذکر محسنین کے نام سے آیا ہے اور ایک حدیث نبوی جسے حدیث جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس میں ہے کہ جب رسول اکرمﷺ سے پوچھا گیا کہ احسان کیا ہے توانہوں نے جواب دیا کہ احسان یہ ہے کہ تم اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس طرح عبادت کرو گویا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ عبادت کی اس کیفیت کو پہنچی ہوئی جماعت صوفیہ کی جماعت ہے۔ ایسی جماعت جس معاشرے میں رہتی ہے لامحالہ وہ اس معاشرے کے حق میں جس سے مراد ایک ایسا انسانی گروہ ہے جو بعض متمدن حالات میں ایک ساتھ زندگی گزارتا ہے مفید ثابت ہوتی ہے۔ کس طرح مفید ثابت ہوتی ہے ؟اس کو بھی جان لیا جائے۔ ہمارے پاس صوفیا کے نام پر چند ایک موٹی موٹی مثالیں ہیں، مثلاً جنید بغدادی، امام غزالی،رابعہ بصری، شمس تبریزی، شیخ عبدالقادر جیلانی، علامہ ابن عربی،ابو نصر سراج، شیخ عثمان ہارونی، داتا گنج بخش لاہوری، خواجہ معین الدین چشتی، شیخ نظام الدین اولیا، پیر نصیر الدین چراغ دہلوی اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی۔ یہ بات ہمیں بخوبی جان لینا چاہیے کہ جس طرح دنیا کا ہر بڑا حکیم اپنی حکمت سے اپنے معاشرے میں پھیلی خرابیوں کا علاج کرتا ہے اسی طرح ہر صوفی دوسرے صوفی سے الگ جداگانہ انداز میں معاشرے کی اصلاح کا کام انجام دیتا ہے۔ مثلاً علم موسیقی جو کہ صوفیا کی بعض جماعتوں کے نزدیک حرام نہیں بلکہ مستحسن ہے وہ صوفیا کی کچھ خاص جماعتوں کے نزدیک قطعاً درست نہیں۔ مثلاً چشتی علم موسیقی کے قائل ہیں جبکہ نقشبندیہ اور قادریہ اس کے خلاف۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں کسی بھی شئے کی زیادتی ہو جاتی ہے تو اس سے معاشرے میں ایک نوع کی خرابی پیدا ہونے لگتی ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے عہد میں بغداد کی یہ ہی صورت حال تھی کہ علم موسیقی معاشرے میں خرابی کا موجب بن گیا تھا لہذا شیخ نے اس سے اجتناب برتا،جبکہ سلطان جی کے زمانے میں دلی میں اس سے خدا ترسوں کی جماعت کو یکجا کرنے کا کام کیا گیا اس لیے یہاں یہ مستحسن رہا۔ لہذا ایک ہی علم کو کہیں حرام قرار دے کر صوفیا نے معاشرے کو برائی سے بچایا اور کہیں رائج کر کے۔ اسی طرح جہاں نرم رویے سے اصلاح کا کام بہ آسانی ہو گیا وہاں اپنے جمال کو روا رکھا کہ جس کی بہترین مثال شیخ شرف الدین یحیی منیری کے مکتوبات سے ملتی ہے جس میں وہ بڑی شفقت سے کہتے ہیں کہ ایک بار غلطی ہوگئی تو توبہ کر لو دوبارہ ہوگئی دوبارہ کر لو سہ بارہ ہوگئی تو سہ بارہ کر لو اور اگر چوتھی بار ہوگئی تو چوتھی بار کر لو۔ وہیں دوسری طرف جہاں سخت رویہ کی ضرورت پیش آئی وہاںشیخ عبدالحق محدث دہلوی کی طرح جلال سے کام لیا کہ دین الہی کا رد کرنا ہے تو کرنا ہے۔ صوفیا کا موقف بہت واضح اور صاف ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی معاشرے میں بے دینی، جہالت اور بد اخلاقی پھیلتی ہوئی نہیں دیکھ پاتے۔ لہذا خلوص دل سے کسی بھی معاشرے کی اصلاح کا کام کبھی زور وشور سے کرتے ہیں تو کبھی آہستگی سے۔ اس ضمن میں صوفیہ کے دو گروہ ہیں ایک وہ جو مشہورہوتا ہے اور ایک وہ جو گم نام، گم نامی میں کام کرنے والے صوفیا کی تعداد مشہور صوفیا سے قدرے زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً علامہ فضل حق خیرآبادی کے پیر طریقت شاہ بڈھن ایک ایسے شخص تھے جن کو بہت کم لوگ جانتے تھے اب بھی ان کا تذکرہ بہت کم ہوتا ہے،مگر علامہ فضل حق خیر آبادی کو کون نہیں جانتاکہ جن کے علم معقول ومنقول کی دنیا جہان میں شہرت ہے ان کی صوفیانہ تربیت شاہ صاحب نے کی۔اسی طرح شمس تبریزی علیہ رحمہ کی شہرت مولانا روم کے مقابلے کم تھی، لیکن مقام و مرتبہ ان سے کہیں زیادہ تھا۔ ایسے صوفیہ اپنے کسی نائب کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کا کام کرتے ہیں اور اس سے تعلیم و تعلم کی شمع روشن کرتے ہیں۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ ایک صوفی ایک سچے فنکار کی طرح ہوتا ہے جو اصلاح معاشرہ کے لیے ہاتھ میں ڈنڈا تھام کر کام نہیں کرتا کہ جہاں کسی سے غلطی ہوئی وہاں اس پر چڑھ دوڑا۔ جس طرح ایک عظیم فن کار زندگی کی حقیقتوں سے واقف ہوتا ہے اس کے باطنی دکھوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی فنی صلاحیتوں سے اس طرح ان دکھوں کا علاج کرتا ہے کہ معاشرے کا ظاہری ڈھانچہ متزلزل نہ ہو،اسی طرح صوفیہ بھی محبت اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان کے ایک عظیم مصور دھن راج بھگت نے جس طرح اپنی مصوری سے معاشرے میں پھیلی برائیوں اور نفاق کو ظاہر کیا ہےاور جن کی بیشتر تصاویر National Gallery of Morden Art (Delhi)میں موجود ہیں،اسی طرح شیخ طریقت مرزا مظہر جان جاناں نے اپنے خطوط میں بت پرستی اور توحید کے متعلق جو غلط فہمیاں عوام میں پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں جو کہ نقشبندیہ سلسلہ کے ایک عظیم صوفی تھے انہوں نے اپنے عہد میں ہندوستان میں بت پرستی کی بڑھتی مخالفت کو محسوس کیا اور عوام کو یہ باور کرایا کہ بت پرستی بہت مماثل ہے تصور شیخ سے۔ لہذا جس طرح تصور شیخ معیوب نہیں اسی طرح بت پرستی بھی معیوب نہیں۔ کوئی مولوی یہ بات نہیں کہہ سکتا اور نہ کوئی پنڈت۔ کیوں کہ ان دونوں کے یہاں علم کا غرور پایا جاتا ہے۔صوفی ان کے مقابلے میں قدر متوازن ہوتا ہے۔ معاشرے میں پھیلنے والی برائی کی جڑ پہ نگاہ رکھتا ہے اور اس کے یہاں قبولیت کا امکان بہت بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ وہ ہر صورت حال کو ہنسی خوشی اسی لیے قبول کر لیتا ہے کیوں کہ اس کی نگاہ حقیقت پر ہوتی ہے۔ منصور حلاج کی مثال سامنے کی ہے کہ جب ان کو اناالحق کی صدا پر دار پر چھڑایا جا رہا تھا تو انہوں نے اپنی طرف بڑھتے ہوئے جلاد کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کہ آو تم جس شکل میں آو گے میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ صوفی سچا اور نیک ہوتا ہے لہذا وہ حق ہی بولتا اور سنتا ہے خواہ اسے جلا دیا جائے، مار دیا جائے یا سولی چڑھا دیا جائے۔ وہ اپنی سچائی سے ہی معاشرے کو راہ راست اور صراط المستقیم کا پتہ دیتا ہے۔منصور حلاج نے بھی یہ ہی کیا کہ جس عہد میں خودی اور حق کے مباحث گمراہی کا شکار ہونے لگے اس عہد میں انہوں نے اپنے انجام کی پروا نہ کرتے ہوئےحقیقت کا اظہار کیا۔اسی کا اظہار امام شافعی نے بھی کیا تھا اور بعد کے عہد میں سرمد شہید نے بھی کیا۔ ایک عام غلط فہمی جو کہ عوام میں صوفیہ کے متعلق پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ عوام صوفیا کو سادہ لوح سمجھتی ہے۔ صوفی سادہ لوح نہیں ہوتا وہ سادہ دل ہوتا ہے۔ سادہ لوح شخص کسی معاشرے کے لیے کار آمد نہیں ہوسکتا جبکہ سادہ دل ایک تصوراتی معاشرے کو حقیقی روپ دے سکتا ہے۔سچا صوفی جبر نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کج بحثی ہوتا ہے،وہ منطق اور تدبر سے کام لیتا ہے اور عوام میں سچ کو دیکھنے اور جاننے کی ترغیب پیدا کرتا ہے۔ صوفیا عوام کے دلوں میں حقیقت کی لو روشن کرتے ہیں جس سے اصلاح باطن کا کام ہوتا ہے،وہ عوام کو تزکیہ نفس کی تعلیم دیتے ہیں جس سے حرص و ہوس جاتا رہتا ہے۔ انسانی تاریخ کے جتنے ادوار میں صوفیہ کی جتنی جماعتوں نے اپنے دائرے میں اصلاح باطن کا کام کیا ہے تاریخ شاہد ہے کہ وہاں برائیوں کا گراف بہت نیچے چلا گیا ہے۔ ہندوستان میں تو اس کی سیکڑوں مثالیں ہیں خواہ وہ بہار ہو یا بنگال،کشمیر ہو یا دکن، گجرات ہو یا مہاراشٹراوراتر پردیش ہو یا آسام ہر جگہ ایسے صوفیہ پائے گئے ہیں جنہوں نے عوام کے دلوں کو اپنی تعلیمات سے روشن کیا اور ان کی ذات میں محبت و اخوت کا بیج بو دیا اور میری دانست میں کسی بھی معاشرے کی اصلاح کی اس سے بہتر ترکیب شاید ہی کچھ اور ہو کہ اس میں محبت، صبر، تحمل،علم اور حلم کے چراغ روشن کر دیئے جائیں۔