Categories
تبصرہ

سر سید کے مذہبی عقائد و افکار: ایک مکالمہ

sir-syed

نام کتاب : سر سید کے مذہبی عقائد و افکار:ایک مکالمہ
صفحات: 102
مولف: خو شتر نورانی
مبصر: سید تالیف حیدر

 

متذکرہ بالہ کتاب مولانا خو شتر نورانی کی تالیف ہے۔ جس کو انھوں نے عالمانہ انداز میں تر تیب دیا ہے۔ اس کتاب میں سر سید کے مذہبی عقائد وافکار پر ایک مختصر مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔ جس میں اہل سنت و جماعت کی تین بر گزیدہ شخصیات پیر علی شاہ محدث علی پوری، حامد حسن قادری اور علامہ ارشد القادری کے افکار شامل ہیں۔یہ مکالمہ الفقیہ ہفت روزہ،امرتسرمیں قسط وار شائع ہوا۔ یہ اخبار 1918 سے مسلسل 38برسوں یعنی تقریباً1953تک نکلتارہااوراس اخبار میں سنی و حنفی مسلک کے ان تمام مسائل سے بحث کی جاتی تھی جس کا برا ہ راست تعلق سواد اعظم سے ہوتا تھااور جس کو اہل سنت و جماعت کا اپنے عہد کا کم وبیش سب سے بڑا اخبارکہا جا سکتا ہے۔ اس اخبار میں اس مکالمے کی شمولیت اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ مباحثہ کتنا اہم اور ضروری ہوگاجو الفقیہ جیسے بڑے اخبار میں اپنی جگہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ الفقیہ اخبار کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے کہ کس کس طرح اس اخبار نے نہ صرف مسلکی بلکہ ملی و قومی سطح پہ کیسی کیسی خدمات انجام دی ہیں۔ قیام پاکستان میں اس اخبار کا بڑا رول رہا ہے اور اس اخبار کے مدیر جناب معراج الدین احمد جو اپنے عہد کی بہت متحرک شخصیت تھی، انھوں نے اس اخبار کے ذریعے مسلم لیگ اور سنی سیاست داں حضرات کے خیالات کی نشر و اشاعت جیسابڑاکانامہ انجام دیا ہے۔

 

مولانا خوشتر نورانی جو عہد حاضر کے با صلاحیت نوجوان علما میں شمار کئے جاتے ہیں اور جن کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں پر اس عہد کی معتبر شخصیات (جن میں صف اول کے علما،ادبا اور شعرا کا شمار ہوتا ہے) نے ان کی پیٹھ تھپتھپائی ہے۔ انھوں نے اس نادر مباحثے کی تالیف سے اس بات کی مزید وضاحت کر دی ہے کہ کوئی بھی اہم تالیفی کا م کن کن امور کا متقاضی ہوتا ہے۔خو شتر صاحب نے الفقیہ کے اس مکالمے کو جو اپنی بوسیدہ فائلوں میں دبا خاک کی نذر ہو رہا تھا از سر نو ترتیب دے کر اپنے علمی، فکری، صحافتی،تہذیبی، قومی، ملی و مسلکی فرائض کی ادائیگی کی ہے۔ان کی تالیف جو بصورت تحقیق ہمارے سامنے ہے اس سے بہت سے تاریک باب روشن ہوتے ہیں۔ ہمارے مکالموں کی خوبیاں و خامیاں سامنے آتی ہیں اور علمی مباحث کا طرز اجاگر ہوتا ہے۔

 

اس مختصر کتابچے کے مشمولات چار ابواب پر مشتمل ہیں۔ابتدائیہ، تقدیم، سر سید کے مذہبی عقائد و افکار:ایک مکالمہ اور ان اشخاص کی فہرست جن کا ذکر حواشی میں کیا گیا ہے۔ان چاروں ابواب کا مطالعہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ مولف نے اس کتاب کی تالیف سے اپنے تحقیقی مزاج کا ثبوت پیش کیا ہے۔ میں نے اس ضمن میں ابتدائیہ کو بھی اس لئے شامل رکھا ہے کیوں کہ اس ابتدائیہ سے ہی ہمیں علم ہوتا ہے کہ مولانا کو اس مسودے کاحصول کیوں کر ہوا۔ ان چاروں ابواب میں سب سے اہم مضمون وہ ہے جو ‘تقدم ‘کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔یہ مضمون اگر نہ ہوتا تو اس پورے مکالمے کی وہ صورت ہر گز سامنے نہ آتی جس سے اس مکالمے کے حسن و قبح کے نقوش اجاگر ہوتے ہیں۔ سر سید کے مذہبی عقائد و افکا ر پر اصل بحث ہمیں اسی مقدمے میں ملتی ہے۔ جس میں تیرہ ذیلی عناوین میں سے چھ عنوانات سر سید کی شخصیت کے مختصر ترین تعارف ان کے ہمعصراوران کے احباب کے ان سے اختلافات، ان کے مذہبی عقائد،علما کے ان سے اختلافات اور اسی طرح کی دیگر بحثوں پر مشتمل ہیں۔اسی طرح باقی سات عناوین کے ذیل میں مقدمہ نگار نے ان تنیوں اشخاص(جنہوں نے اس مکالمے میں حصہ لیا) اس اخبار اور مدیر اخبار کی مختصر مگر جامع تاریخ پیش کی ہے،جن کا تعلق اس مکالمے سے ہے۔ان ہی سات عنواوین میں مقدمہ نگار نے ایک عنوان فکری انتہا پسندی کے نام سے بھی رقم کیا ہے جس کے ذیل میں موصوف نے ایسی بصیرت افروز گفتگو کی ہے کہ جس کا مطالعہ کر کے صاحب مقدمہ کے تفکرات تک رسائی حاصل ہوتی ہے کہ کس دقیقہ رسی سے وہ مشرقی طرز تنقید کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کا علانیہ اظہار فرماتے چلے جاتے ہیں۔اس مختصر گفتگو سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمایئے اور ایمان داری سے فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ طرز انتقاد مشرقی تنقید کا خاصہ نہیں:

 

ہندو پاک میں حمایت و مخالفت کا پیمانہ عموماً فکری انتہا پسندی پر استوار ہے۔ ہم جب کسی کی حمایت کرتے ہیں تو اس کی تمام خامیوں اور عیوب کو نہ صرف نظر انداز کردیتے ہیں بلکہ انہیں صحیح ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، یونہی جب کسی کی مخالفت پر اترتے ہیں تو ا س کی خوبیوں کو پس پشت ڈال کر اس کی خامیوں کی اشاعت ہی اپنی زندگی کا ہدف بنا لیتے ہیں۔ برصغیر ہندو پاک میں حمایت و مخالفت کے یہ مظاہر عام ہیں جو بلا شبہ سیاسی تغلب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ انداز فکر و نظر سراسر غیر علمی بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ علم و فن اور خدمات کا اعتراف اور عقیدہ و عمل کا احتساب دو الگ الگ چیزیں ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے جاہلی شاعر امراؤ القیس کو الشعرشعرالعرب بھی فرمایا ہے اور حامل نواءھم الی النار بھی۔ پہلا جملہ امراؤ القیس کی فنی عظمت کا تعارف ہے اور دوسرا جملہ اس کی گمراہی فکر و عمل پر مہر۔

 

میں مولانا کی اس تالیف کو ان کی تحقیق اس لئے بھی سمجھتا ہوں کیوں کہ انھوں نے اپنے موضوعات سے بحث کرتے ہوئے ان ماخذات تک رسائی حاصل کی ہے جہاں تک مولفین پہنچنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔ مثلاً وہ سر سید کے عقائد کی مخالفت میں تحریر کئے گئے نادر رسائل کا تذکرہ اپنے مقدمے میں کراتے ہیں اور نہ صرف اسی تذکرے پر اکتفا کرتے ہیں بلکہ ان تنیوں رسائل جن میں مولانا غلام دستگیر قصوری کا ’جواہر مضیہ رد نیچریہ‘، ڈپٹی مولوی امداد لعلی کا ’امداد الافاق بر جم اہل النفاق بجواب پرچہ تہذیب الاخلاق‘ اور مفتی محمد لدھیانوی کا ’نصرۃ الابرار‘ شامل ہیں، مختصر تعارف بھی پیش کرتے ہیں جو در حقیقت ان کا حاصل مطالعہ ہے۔ ان رسائل کو حاصل کرنا ان کا مطالعہ کرنا اور صرف اخفائے حال سے واقفیت حاصل کر کے مقدمہ نگاری کرنا اس عہد میں بہت کم مولفین کا شیوہ ہے۔پھر ایسی شخصیات کا ذکر جن کا اصل بحث سے کوئی تعلق نہیں لیکن مقدمے میں ان کا تذکرہ دلیل واقعہ کی صورت میں ملتا ہے اس سے بھی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔مثلاً مولانا حمید الدین برادر مولانا شبلی نعمانی کا اور مولانا حبیب، مدیر روزنامہ ’غازی‘ وغیرہ کا تذکرہ اسی ضمن میں آتا ہے۔

 

تقدیم کے بعد اصل ’مکالمہ‘ آتا ہے جس میں سات عنوان شامل ہیں یہ ہی وہ مکالمہ ہے جو شمارہ 21 تا 28 جنوری 1946 سے شروع ہو کر شمارہ 21 تا 28 ستمبر تک چلا ہے اور جس کی ابتداء پیر سیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری کے فرمان مبارک (مسلم لیگ شرعی حیثیت سے) سے ہوئی اور اختتام علامہ ارشد القادری کے استفسار کا تحقیقی جواب قسط سوم پر ہوا۔اس مکالمے کے ذیل میں یہ فہرست شامل ہے۔

 

مسلم لیگ شرعی حیثیت سے پیر سیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری
بریلوی علام جواب دیں! سلامت اللہ ولی بھائی کاٹھیاواڑی
اذکرو اموتاکم بالخیر پروفیسر حامد حسن قادری
مقام حیرت علامہ ارشد القادری
استفسار نامہ نگار
حیرت پر حیرت پروفیسر حامد حسن قادری
استفسار کا تحقیقی جواب(1) علامہ ارشد القادری
استفسار کا تحقیقی جواب(2) علامہ ارشد القادری
استفسار کا تحقیقی جواب(3) علامہ ارشد القادری

 

اس فہرست سے مکالمے کی ترتیب مثلاً فتویٰ،استفسار،جواب،جواب الجوب مزید سولات اور اس سوالات کے مزید جوابات وغیرہ کا علم ہوتا ہے۔ مکالمے میں مدلل گفتگو سوائے علامہ ارشد القادری کے کسی نے نہیں کی ہے۔ پرو فیسر حامد حسن کے معروضات،مفرضات نظر آتے ہیں اور ایک ضمنی اعتراض جو علامہ ارشد القادری کی گفتگو پر ایک ایسے شخص کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا اس کا مدلل جواب علامہ نے طویل مضمون میں دیا ہے۔ تمام مکالمے میں ایک بڑی غلط فہمی کی فضا مسلسل قائم رہی ہے جس کی نشان دہی مولانا خوشتر نورانی نے اپنے مقدمے میں کی ہے۔ایک حدیث اذکرو اموتاکم بالخیر جس کو حامد حسن صاحب نے اپنے مضمون کا موضوع بنایا ہے اور جس پر پورے مکالمے میں بحث ہوتی چلی آئی۔ صاحب مقدمہ نے یہ انکشاف فرمایہ ہے کہ در اصل ایسی کوئی حدیث موجود ہی نہیں ہے۔ اس انکشاف سے ایسے مکالموں پر ایک بڑا سوال قائم ہوتا ہے۔ مکالمہ دیگر معنوں میں بھی کافی معلوماتی اور اہم ہے لیکن پورے مکالمے پر علامہ ارشد القادری کا استدالی رویہ اور حامد حسن صاحب کا خندۂ استہزا دو متضاد صورتوں میں نظر آتا ہے۔ جس سے حامد حسن صاحب کے تحقیقی اور استدالالی منصب کی نشان دہی ہوتی ہے۔

 

کتاب کے اخیر میں مولف نے کتابیات کے عنوان سے ان تمام کتب و رسائل کا اجمالی تذکرہ ایک جدول کی صورت میں پیش کر دیا ہے جس سے ہر کوئی ان تمام کتب تک بہ آسائی رسائی حاصل کر سکتا ہے جس کا تذکرہ اس کتابچے میں موجود ہے۔
Categories
نان فکشن

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

میں نے ان لبوں کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ لب جو نیم سرخ اور نیم گلابی ہیں۔جن کی گدازی اور غیر معمولی ملائمیت بلا کی حیرت انگیز ہے۔ میں ان لبوں کا پر ستار،ان کا محافظ، ان کے قرب و جوار سے آگاہ، ان کی سرحدوں کا نگہ بان ہوں۔ جب کبھی ان لبوں کی زمین پر اپنے ہونٹوں کے ہمراہ اترتا ہوں تو وادئ رنگ و نور کی پر کیف فضا میں آشفتہ خاطر بھٹکتارہتا ہوں۔ایک عجیب و غریب بے چینی کےساتھ، جس میں اضطراب کی دبیز لہر،تسکین کا متزلزل وجود ہوتا ہے اور طالع بیداری کا موہوم احساس ہوتا ہے۔ میں ان لبوں کے ساحلوں پر گشت کرتا ہوں۔ ان کو چھوتا ہوں،چھیڑتا ہوں۔ ان کی سرخ زمین پر دور تک سفر کرتا ہوں۔ ان کے پیچیدہ اور کھردرے نقش و نگار کا نظارہ کرتا ہوں۔ اپنے لبوں کے دریا سے ان کی سطح زمین کی گلاب مٹی کو شفاف کرتا ہوں۔ میں ان لبوں کی شناخت قائم کرنے میں اپنے دن رات، صبح و شام صرف کرتا رہتا ہوں۔ لمحوں اور صدیوں کی تقسیم کے فرسودہ تصورات کو ان لبوں کی ہمسایگی سے منقطع کرتا ہوا۔میں ان دلدلی ریگستانوں میں چند ساعتوں میں ہزاروں سال کی مسافت طے کرتا ہوں۔ان کے طلول بلد اور عرض بدل کی تمام لکیروں کواپنے قدموں تلے روندتا ہوا گزرتا چلا جاتا ہوں۔ وہ لب میرے وجود کو ایک قسم کا تحرک بخشتے ہیں۔ میں ان پر سفر کرتا ہوا ان کی سطح زمین کو اپنے ہونٹوں کی طلسماتی صفات سے لپیٹتا ہوا ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر گردش کرتا رہتا ہوں۔

 

وہ لب جو میرا حاصل زندگی ہیں۔جن کو میں اپنی خردبیں نگاہوں سے آٹھوں پہر تکتا رہتا ہوں۔جس کی رنگت اور تمازت،شفقت اور تمکنت، روشنی اور نورانیت، بے قراری اور سکونت کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ جن کی شاہراہ عام پر میں حیراں و پریشاں، مضمحل اور تنہا کھڑا کائنات کی رنگینوں کا مظاہرہ کرتا رہتا ہوں۔ وہ لب میرے دونوں جہانوں کی الجھی ہوئی گتھی کو مزید الجھا کر اپنی بساط کی دو رنگی چادر پر پھیلا دیتے ہیں اور میں ان میں کبھی زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین کے چکر لگاتا ہوا اپنی ژولیدہ نگاہی کے نخچیر میں مقید ہو جاتا ہوں۔

 

میں جب کبھی ان لبوں کی کائنات میں بہتے آبشاروں، خشک ہو تے دریاوں، پھٹتی اور ادھٹرتی زمینوں، بے رنگ پانیوں اور ریگستانی ہواوں کے بے ترتیب جھکڑوں کو بنتے بڑگڑتے دیکھتا ہوں تو ان کی وسیع و عریض اور مختلف المزاج شناخت پر مخنونانہ انداز میں چیخ پڑتا ہوں۔ ایک تیز آواز جس سے ان لبوں کی سطح زمین متزلز ل ہو جاتی ہے۔ اس کے آتش فشاں پھوٹ پڑتے ہیں اس کے آسمان پر چاروں پر تاریک دھواں منتشر ہو جاتا ہے اور میں اس کائنات نما ہونٹوں کودوبارہ زندگی سے آشنا کرانے کے لیے اپنی زبان کی نمکین چارد کے ریشمی جال کو ان کے چو طرفہ وجود پر پھیلانےمیں مصروف ہو جاتا ہوں، جس سے ان ہوٹنوں کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب دوبارہ اسی آب و تاب سے جی اٹھتے ہیں۔

 

میں ان لبوں کوجن کے اندر ایک ناقابل فہم رمز پایا جاتا ہے اپنے ہوٹنوں سے کچلتا ہوں۔ ان کی بے ترتیب بستوں کو ملیا میٹ کرتا ہوں۔ ان پر اپنے خدا نمائی قہر کو برساتا ہوں۔ ان ہوٹنوں کی دنیا میں موجود وحشت ناک قوموں کو موت کی ہیبت سے آشنا کرواتا ہوں۔ ان کے حشو و زوائد کو تراشتا ہوں۔ ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کے آداب مرتب کرتا ہوں۔ان کو زندگی کے اصل معنی سے روشناس کرواتا ہوں۔ میں ان کا آقا بن کر ان پر براجمان ہو جاتا ہوں۔ ان کی دنیا میں پانی برسا کر ان کی قوموں سے اپنے حصے کا خراج وصول کرتا ہوں۔ ان کی سانسوں کو اپنے خدا نمائی لبوں کی زنجیر میں قید رکھتا ہوں۔ ان پر جبر کرتا ہوں اور ان پر قابض ہو کر اس وقت تک انہیں اسی طرح تڑپاتا اور ستتا رہتا ہوں جب تک وہ اپنی سنانسوں کےحصول کی استعدا نہیں کرتے۔جب تک وہ میرے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر میرے ہونے کو اپنے ہونے پر مقدم نہیں جانتے۔جب تک وہ اپنی زندگی کو میری زندگی پر قربان کرنے کا عزم نہیں کرتے۔

 

میں ان ہونٹوں کی دنیا میں رحم اور ظلم، وفا اور جفا،جنت اور دوزخ، کفر اور ایمان، زہر اور قند، اچھائی اور برائی ان تمام تصورات کو قائم رکھتا ہوں۔ان کے ویران جزیروں پر عذاب نازل کرتا ہوا ان کی آباد بستیوں پر رحم بھیجتا ہوں۔ ان کو اعتدال کے معنی عطا رتا ہوں اور اپنے خدائی وجود کو ان پر نازل کر کے ان کے اعتقادات سے اپنی زندگی کو قائم اور دائم بنا لیتا ہوں۔ میں ان ہوٹنوں کی دنیا کا حاکم ہوں۔ ان کا فرشتہ ان کا عزازیل ان کا شاعر ان کا نغمہ نگار ان کا مالک اور ان کا بندہ ہوں۔

 

میں ان سے اپنے ہونے کا ادراک حاصل کرتا ہوں۔ وہ ہونٹ جو میرے ہوٹنوں سے مس ہوتے ہی کانپنے اور لرزنے لگتے ہیں۔ پھیلنے اور سکڑنے لگتے ہیں۔ بننے اور بگڑنے لگتے ہیں۔ بھیگنے اور خشک ہونے لگتے ہیں۔ میں ان سے اپنے ہوٹنوں کی سردی مائل حرارت اخذ کرتا ہوں۔ وہ لب مجھ سے مل کر مجھ سے جدا ہوتے ہیں،بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنے شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے ملا کر خود سے الگ کر لیتے ہیں۔ میں ان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان اپنے لبوں کے خشک جزیروں کا جہان آباد کرتا ہوں اور ان لبوں کے شمال سے اپنے لبوں پر آباد قوموں کے لیے پانی وصول کرتا ہوں اور جنوب سے ان کا اناج حاصل کرتا ہوں۔ وہ اناج جو انہیں اپنے جنوبی دیوتا کی کھردری اور ادھڑی ہوئی زمین سے حاصل ہوتا ہے۔ میرے لبوں کی دنیا ان لبوں کی کائنات کے بگھرے ہوئے خداوں کی حمد و ثنا کرتی ہے۔

 

ان لبوں کے اندھے غاروں سے آنے والے گرم ہوا کے جھوکے میرے لبوں کے شہر سراوں میں آباد ضعیف العقیدہ عوام کو اپنے آگے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ میں ان لبو ں کو زندگی کی آخری علامت جانتا ہوں کیوں کہ میرا وجود ان میں آباد ہے۔ میرے خدا ان سے قائم ہیں۔ میرے دیوتا ان میں جیتے ہیں۔میرے شاعر ان پر اپنے نغمے لکھتے ہیں۔میرے مصور ان پر اپنی رنگینی تراشتے ہیں۔میرے لوہار ان پر تلوریں بناتے ہیں۔میرے سنار ان پہ اپنے زیورات تیار کرتے ہیں۔ وہ لب میرے لب ہیں۔ وہ ہونٹ میرے معبود ہیں۔ میں ان کا بندہ ہوں اور وہ میرے منتشر وجود کو مرتب کرنے والے، میرے اجزائے بدن کو تشکیل دینے والے میرے آقا ہیں۔میری حرارتوں کو زندگی بخشنے والے میرے سب سے قیمتی دو جام ہیں۔ جن جاموں کو پیتے ہوئے میرے ذہن میں اختر حسین جعفری کے یہ مصرعے رقص کرتے رہتے ہیں کہ:

 

عجیب وہ سیل تھا کہ جس نے
کنار دریا کی سرحدوں میں نئے اضافے کیے ہیں تازہ زمین
آباد کر گیا ہے
عجیب وہ دھوپ تھی جو پیش از سحر کی ساعت کے گھر میں اتری

Image: Hue Bucket

Categories
نقطۂ نظر

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

یونیور سٹی اور کالجز میں روز بروز مدارس کے طلبہ کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے، اس سے مدارسِ اسلامیہ کے فارغین کی حصول علم کے تئیں دلچسپی اور سنجیدگی کا اظہار بخوبی ہوتاہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی)،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی(علی گڑھ،یوپی) اور مولانا آزاد(حیدرآباد) وغیرہ کے ساتھ ساتھ دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی(دہلی) جیسے تعلیمی اداروں میں بھی ان طلبہ کا ریشو بتدریج ارتقا کی منزلوں سے ہم کنار ہو تا نظر آ رہا ہے ۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ،لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان میں اکثریت ایسے بچوں کی ہے جو صر ف اسلامیات کی کلاسوں کے ڈویژن میں دیکھے جاتے ہیں،البتہ کچھ دور اندیش طلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب بھی کرتے ہیں ۔یہ ایک دیگر بحث ہے کہ ان طلبہ کو کون سے مضامین کی جانب توجہ کرنا چاہئے یا وہ کیوں کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔لیکن جہاں مذکورہ بالاطلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں انھیں میں ایک بڑی جماعت ان طلبہ کی ہوتی ہے جو’ اردوادب‘کی جانب اپنے کاروانِ علم کا رخ موڑ دیتے ہیں۔

 

اردو چونکہ مدارس کی اول زبان ہے اس لئے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنی ابتدائی سطح پر’ منہاج العربیہ‘ پڑھتے پڑھتے اور’ تسہیل المصادر‘ رٹتے رٹتے ہی ان بچوں کی اردو بحیثیت محرر و مقرر اتنی اچھی ہو جاتی ہے جو عام طور پر اسکولوں کے دسویں، بارہویں جماعت کے طالب علموں کی بھی نہیں ہوتی ،لیکن یہ موازنہ اسی حد تک قائم رہتا ہے، کیوں کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اسکولوں سے نکلے ہوئے وہ سنجیدہ طلبہ جو B.A(Urdu)میں داخلہ لیتے ہیں وہ کہیں نہ کہیں اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اسکولنگ کے زمانے میں انھوں نے زبان کو سیکھنے میں جوبے توجہی برتی ہے اسے پورا کرنے میں اب کو تاہی کی گئی تو ان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس لئے وہ سنجیدگی سے زبان و ادب کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں ،اور جلد ہی ’دیر آید درست آید‘کے مصداق وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں ان کا مستقبل تو محفوظ ہوتا ہی ہے ساتھ ہی انھیں ادب میں بھی ایک اعلی مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس اردو کے اولین حقدار جو اپنے تئیں ایک خاص قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کا حال وہی ہوتا ہے جو’ کچھوے اور خر گوش ‘والی کہانی میں خرگوش کا ہواتھا۔اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم دو ہیں ۔اول یہ ہے کہ اردو زبان جسے وہ بچپن سے پڑھتے اور لکھتے چلے آتے ہیں اور جسے وہ عربی اور فارسی کے توسط سے سیکھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں، اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اردو نہ تو عربی کی قواعد کے ذریعے سیکھی جا سکتی ہے نہ فارسی کی،بلکہ اس کے کچھ اپنے قوانین ہیں جن کو اگر بغور نہ پڑھا گیا تو لاکھ عربی،فارسی میں مہارت حاصل کر لی جائے اردو نہیں آ سکتی ۔ایک بات کی وضاحت یہاں اور ضروری ہے کہ جس نوع کی اردو یہ طلبہ اپنے مدارس کےاساتذہ سے پڑھتے ہیں ، انھیں اس بات کا گمان ہی نہیں گزرتا کہ وہ ایک ایسے استاد سے اردو زبان پڑھ رہے ہیں جس نے خود کبھی با قاعدہ زبان سیکھنے کی غرض سے اردو کے ادبی متن کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ اسی اٹکل پچو سے یہ اردو زبان سیکھی ہے جس طرح اس کے طلبہ سیکھ رہے ہیں۔میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا ہوں کہ جس اردو سے مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اپنا کام نکالتے ہیں وہ اردو ہی نہیں یا جو زبان ’مدارس اسلامیہ ‘کی قوم بولتی ہے اسے اردو سے ہٹ کر کوئی تیسری زبان کہا جائے گا۔ میرا موقف صرف اتنا ہے کہ یہ حضرات’ اسلامیات ‘کا مطالعہ کرنے کے لئے اردو زبان کا مطالعہ کرتے ہیں نہ کہ’ زبان ‘سے انھیں کچھ علاقہ ۔ یہ کوئی برا فعل نہیں کہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو بچے اردو میں’ تاریخ ‘پڑھتے ہیں یا ’جغرافیہ‘ پڑھتے ہیں انھیں بھی زبان کا علم نہیں ہوتا اور جب وہ اس زبان میں ان مضامین کا پرچہ حل کرتے ہیں تو ان پرچوں کو جانچنے والا بھی زبان کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا ،بلکہ جواب کی جانب اپنی توجہ مرکوز کردیتا ہے اور اسی کی بنیاد پر طلبہ کو نمبر دیتا ہے۔ بالکل یہی عمل مدارس میں ہوتا ہے مثلاً’فقہ‘ جو مدارس میں ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کا استاد پرچہ جانچتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ فلاں لفظ جو حقیقتاً مذکر ہے وہ طالب علم نے لکھنے کی رو میں مونث کر دیا، یا فلاں مونث، مذکر، وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ البتہ کی جگہ کیونکہ لکھا ہے یا کیونکہ کی جگہ لیکن ،اسے اس سے بھی بحث نہیں کہ گانو کا املہ گاؤں ہے یا گاؤ۔اس لیے مدارس کی حد تک تو یہ طلبہ معصوم گردانے جا سکتے ہیں،لیکن اس متواتر عمل کی وجہ میں زبان سے آنکھ مچولی کھیلنے کی اگلی منزل ان کے حق میں کافی خطر ناک ثابت ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فعل عمل متواتر کی وجہ سے ان کے یہاں اتنا پختہ ہو جا تا ہے کہ وہ ان کی تحریر اور تقریر کا حصہ بن جاتا ہے،یہ زبان کی ایک ایسی کمزوری ہے جس کو دور کرنے کے لیے مدارس کے طلبہ کو شدید محنت درکار ہوتی ہےجو مدارس کے طلبہ اس میدان میں بہت کم کرتے ہیں ۔کیونکہ غلط لکھتے لکھتے اور پڑھتے پڑھتے ان کے دل و دماغ میں یہ بات گھر کر جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے اساتذہ سے جو سنا اور پڑھا یا جس طرح وہ لکھتے پڑھتے آ رہے ہیں وہی درست ہے۔چاہیں لغات ہزار چیخیں کہ بھیا یہ لفظ یوں نہیں یوں ہے، مگر وہ اپنے ڈھرے سے رائی برابر نہیں کھسکتے۔کیونکہ بچپن سے اردو پڑھنے کا جو غلغلہ ان کے ذہنوں پہ طاری ہوتا ہے وہ انھیں اپنے ہی آگے surrender کرنے سے روک دیتا ہے ۔لہٰذاایسے طلبہ ادب تک پہنچنے کے سیڑھی یعنی’زبان کے صحیح علم‘ سے ہی محروم ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ لا حاصل مطالعے کی صورت میں ان کی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 

قواعد سے نا واقفیت کی بنیاد پر دوسرے بھی کئی مسائل ان کی بول چال کی زبان میں در آتے ہیں ۔مثلاً صوتیات کا وہ قاعدہ جو عربی میں مستعمل ہے یہ طلبہ اسے اردو میں بھی روا رکھتے ہیں ،یعنی ’ع ‘جو عربی میں حلق کے درمیانی حصے سے نکلتا ہے یہ طلبہ حسب عادت اسے اردو میں بھی اسی طرح پڑھتے ہیں،اردو میں مصوتوں اور مصمتوں کے استعمال، ان کی قرات اور ان کی تعداد سے بھی واقف نہیں ہوتے۔املہ کے پیچیدہ مسائل کا علم ہونا تو درکنار اپنی تعلیم مکمل ہونے کے کئی کئی سالوں تک ہاے مختفی کے صحیح استعمال سے بھی واقف نہیں ہو پاتے۔یہ اور اسی قسم کی بنیادی باتیں مدارس کے طلبہ میں اردو زبان سے لا علمی کے سبب پیداہوتی ہیں۔جس سے ان کی تحریر اور تقریر تو متاثر ہوتی ہے ساتھ ہی وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اردو ،عربی یا فارسی کے قاعدوں کے مطابق نہیں چلتی اسی لئے اردو کو یونیوسٹیز میں بحیثیت زبان چننے کے بعد اگر یہ طلبہ تھوڑی سی توجہ اس طرف کر یں تو یہ بہت جلد ان کمیوں کو دور کرسکتے ہیں اور پھر عربی ،فارسی اور اردو سے واقفیت کی بنیاد پر وہ جو کام کر سکیں گے کوئی اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے اسکول کا اسٹوڈنٹ نہیں کر سکتا۔لیکن اس کے لئے انھیں اپنی بنیادوں کو تلاش کرنا پڑے گا اور اس خشت اول کو درست کر نا ہوگا جو معمار کی غلطی سے کجی کا شکار ہوئی ہے۔

 

یہ تو تھی زبان کی بات اب دوسرا اور سب سے اہم مسئلہ ادب کا ہے ۔ادب کے متعلق مدارس کے طلبہ کا کیا رویہ ہے اس پہ کچھ کہنے سے پہلے میں کچھ اہم باتوں کی جانب آپ کی توجہ مرکوز کرانا چاہوں گا۔ یہ بات تو ’ ادب‘ کا ہر وہ قاری جانتا ہے جو ادب کو تھوڑا بہت پڑھ چکا ہے کہ اس تین حرفی لفظ کی تشریح کے لئے مشرق سے لے کر مغرب تک کے کئی intellectuals نے اپنے کئی کئی صفحات کالے کئے ہیں اور اپنی تمام تر معلومات کی روشنی میں What is literature ? کی پہلی کو سلجھانے کی کوششیں کیں ہیں۔ سب کی نہ صحیح لیکن بیشتر اہم مصنفین کی باتوں کو دنیا نے تسلیم بھی کیا اور ایک مدت کے بعد اس نظریے کو رد کرنے میں دیر بھی نہ لگائی ۔اسی طرح اردو ادب کی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ہمارے یہاں بھی ادب کے متعلق کئی نظریے قائم ہوئے اور پھر نئے نظریے کی روشنی میں اسے رد بھی کیا گیا،چونکہ ادب کا واسطہ براہ راست تحریر اور تقریر سے ہے،اس لئے اس کی دو Main streamsنثر اور نظم ہیں۔منثور ، منظوم پیراے میں ہر تحریر یا تقریر ادب میں شمار نہیں ہوتی ۔کسی بھی تحریر یا تقریر کو ادب قرار دینے کے کچھ ضابطے ہیں جن کی بنیاد وں پر انھیں ادبی اور غیر ادبی ملصقات سے مزین کیا جاتا ہے،پھر اس پر الگ الگ نظریوں سے مباحثے ہوتے ہیں۔
from the very beginning ہمارے یہاں جن تصورات کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا وہ متصوفین کے ارشادات و ملفوظات تھے،ان ملفوظات نے حتی المقدور مشرقی زندگی کو ایک lifestyle دینے کی کوشش کی اور اس کی یہ سب سے بڑی انفرادیت ہے کہ یہ lifestyle انھوں نے کسی سے مستعار نہیں لیا ،بلکہ اسلامیات اور ویدک تعلیمات نے نسلاًبعد نسلاِِ زندگی کا attitude اورaptitude ان کے وجدان میں پھونکا جس سے یہ طرز زندگی وجود میں آیا۔چونکہ ادب کا real phenomenaزندگی کا ارتقا ہے اس لئے ان صوفیانہ اقوال کوزندگی کے ہر شعبے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح زندگی پہ کبھی جمودطاری نہیں ہوتا اور وہ مسلسل اپنے مرکز سے آگے کی جانب متحرک رہتی ہے۔اسی طرح یہ اقوال بھی زندگی کی قدروں کے مطابق اپنا چولا(اسلوب اوررویہ) بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً’کتاب اللمع‘کے مصنف یا مقرر نے اپنے گرد و پیش کے جن معاملات کی جانب نگاہ کی اور اسے آگے کی سمت دھکیلا’ کشف المحجوب‘ اور’ فوائد الفوائد ‘کے مقرروں نے اسے اور ارتقا سے ہم کنار کیا۔اسی طرح تلسی داس،نام دیو اور کبیر وغیرہ نے بھی اپنا اپنا کردار نبھایا۔آج ہم جس ادب کا مطالعہ کر رہے ہیں وہ ایک ،دو دن کا کھیل نہیں بلکہ صدیوں کی چمن بندی کا ثمرہ ہے۔انھیں مخلصین کی کاوشوں نے ولی ؔ کو پیدا کیااور پھر بتدریج میرؔ ،سوداؔ ،دردؔ ، مظہرؔ ،صہبائیؔ ،مومن ؔ اور غالبؔ سے اس گلستان کی رونق میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ادبیات کے مطالعہ کی حیثیت سے اس طالب علم کو کبھی ادب کا پوراطالب علم نہیں کہا جا سکتا جس نے اپنے اساطیر یا دیومالائی ادب کا کچھ مطالعہ نہ کیا ہو اور ساتھ ہی ساتھ جدید ادب پر بھی اس کی اچھی نگاہ نہ ہو۔آئے اب ہم ان طلبہ کا جائزہ لیں جو مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد Urdu honors کرتے ہیں اورB.A ہی نہیں بلکہ M.AاورPhDتک ان کے کیا حالت رہتی ہے۔

 

سب سے پہلی بات یہ کہ یہ طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔ اگر یہ اپنی پوری زندگی اسی ایک علم کے نام کر دیں تب تو شاید ان کا کچھ بن جاے۔ لیکن جب یہ اس مذہبی دنیا سے باہر نکلتے ہیں اور کسی دوسرے دروازے کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں پھر سے ایک نئی شروعات کرنا پڑتی ہے۔اس میں ایک اہم کمزوری ان بچوں کے والدین کی ہوتی ہے کہ انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو مستقبل میں کیا بننا چاہیے یا کس طرح کی تعلیم ان کے مستقبل کو روشن کرے گی۔اس لئے ان کی غلطی کی وجہ سے ان بچوں کو دو، دو مرتبہ اپنی تعلیمی زندگی کی شروعات کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جھگڑا ہے اس لئے اس موقع پر اسے نہ چھیڑنا ہی بہتر ہے۔بہر کیف یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ادب حیات پہ زیادہ توجہ دیتا ہے نہ کہ بعدالممات پر،اور مذہبی تعلیمات میں حیات سے زیادہ بعد الممات پر دھیان دیا جاتا ہے۔ مذہب میں زندگی کا ہر عمل بعد الممات کے فلسفے سے پیوست ہے جب کہ ادب میں اس تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔اسی طرح ادب اور مذہب کی مبادیات میں بہت سے اختلافات ہیں جنہیں یہ طلبہ نہیں سمجھ پاتے اور اپنی جانب سے ادب اور مذہب کی تعلیمات کو ایسا خلط ملط کرتے ہیں کہ نہ ان کا شمار ہیوں میں ہوتا ہے نہ شیعوں میں۔منطق اور قدیم فلسفہ جو انھیں مدارس کے نیم پختہ علما مار کوٹ کے پڑھا دیتے ہیں ۔اس نہج پر وہ اپنی گزشتہ تعلیم کے اس حصے کو بے کار سمجھ کر پیچھے ڈال دیتے ہیں اور ان فلسفیانہ مباحث کا اطلاق ادبی مباحث کے ذیل میں کرنے کہ بجائے ادب کی معلومات کو اتنا ہلکا سمجھنے لگتے ہیں کہ میرؔ کی شاعری بھی ان کی نظر میں کوڑا ہو جاتی ہے۔ وہ اس بے جا زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ جب ہم نے ’’حصول الاشیاء با نفسھا و با شباحھا‘‘ جیسے مسائل کوپڑھ لیا تو ا دب کیا چیز ہے ۔لہذا جب ان سے ادبی نوعیت کی گفتگو کی جائے تو یہ طلبہ اس کے متعلق دو جملے بھی ٹھیک سے نہیں بول پاتے ۔کیونکہ اسے پڑھیں تبھی تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو اس کو بنا پڑھے ہی جب یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ یہ اعلی اور یہ ادنی ہے تو پھر کیسے بات بن سکتی ہے۔معیار اور غیر معیار کا فرق تو انھیں چھو کر نہیں گزرتا ہر اس کلام کو شعر سمجھتے ہیں جو کلام موزوں ہو ۔میر ؔ اور غالب ؔ اورفیضؔ کی شاعری میں کیا فرق ہے ؟اختر ؔ شیرانی کی کیا خاصیت ہے ؟میراؔ جی اور ن م راشد کو دنیا نے کیوں سر پہ اٹھا رکھا ہے؟اقبال کے کلام میں کیا کیا کمزوریا ہیں؟ قدیم اور جدید شاعری میں کیا فرق ہے؟ اردو شاعری میں عشق کا کیا تصور ہے؟ عصرے حاضر میں کون اچھی شاعری کر رہا ہے؟ مشاعرہ بازی کے کیا نقصانات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات کی جانب ان کا دھیان ہی نہیں جاتا۔اردو تنقید ،تاریخ وادب کا مطالعہ اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی ڈھنگ کا آدمی ان سے بات تک نہیں کرنا چاہتا ۔نثر کے اسالیب اور بیان کا ذکر تو دور کی بات داستان، ناول اور افسانے کے اجزائے ترکیبی تک کا علم ان حضرات کو نہیں ہوتا۔ نوٹس رٹ رٹ کے ایم اے ،ایم فل تک پہنچ تو جاتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں کے سن کربہت افسوس ہوتا ہے۔اگر ایمانداری سے پوری لگن کے ساتھ ادب کے اہم مصنفین کی کچھ تصانیف کا یہ حضرات مطالعہ کر لیں تو کم سے کم ایم فل اور پی ایچ ڈی میں ان مو ضوعات کا انتخاب کرنے میں آسانی ہو جائے جو ابھی تک ان چھوئے ہیں۔صرف ایک ایک، دو دوکتابیں بھی یہ طلبہ گیان چند جین ،رشید حسن خاں،مسعود حسن رضوی ادیب،جمیل جالبی،شمس الر حمان فاروقی ،سلیم احمد اور گوپی چند نارنگ جیسے مصنفین کی پڑھ لیں تو اپنے اندر ادب غیر ادب کو پرکھنے کی اچھی خاصی استطاعت پیدا کر سکتے ہیں۔ان طلبہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لوہار کا کام سنار اور سنار کا کام لوہار نہیں کر سکتا اگر آپ لوہاری ترک کر کے سناری میں جٹے ہیں تو پوری مستعدی سے ادب کو پڑھنے کا عزم کیجئے۔ اسلامیات کتنا ہی اچھا subjectہو پر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کے کہ وہ آپ کا پرانا انتخاب تھا اور ادب نیا انتخاب ہے۔
Categories
تبصرہ

شہرام سرمدی کی نظم پر ایک مختصر نوٹ

شہرام سرمدی اپنے مدعا کی تلاش میں سر گرداں ہیں۔
“شہرام سرمدی کی کئی نظمیں ایسی بھی ہیں جو ان کے مذہبی ،معاشرتی اور تمدنی وجدان سے پیدا ہوئی ہیں۔ لہذا ایسی نظموں میں ان کا ایک الگ کردار ہے۔ اس کے علاوہ ان کی پوری پوری نظمیں ایسی نہ بھی سہی تو بہت سی نظموں میں وہ اپنے معاشرتی، مذہبی اور تمدنی افکار سمیت بھکرے نظر آتے ہیں۔مثلا ًایک سے چار مصرعے اگر ان کی منشا کے عین مطابق ہیں۔ تو چار سے آٹھ یا پھر بارہ ،ان کے اس کردار ثلاثی سے مزین ہوتے ہیں ۔اس میں بھی کوئی ترتیب نہیں ہے ہو سکتا ہے یہ چار، آٹھ ،بارہ درمیان میں ہوں، شروع میں یاآخر میں۔ شہرام کی شاعری میں تخلیقیت کا عنصر اس بکھراو سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ الفاظ کا محل استعمال تبدیل کرناجانتے ہیں۔وہ اپنی نظموں میں انHidden Points کو جو نظم کے آخر میں آنا چاہیئے بعض اوقات پہلے ہی بیان کر دیتے ہیں۔ ان کی نظم کی کہانی الٹتی پلٹتی رہتی ہے جس سے ان کی فنی صلاحیت کا ادراک ہوتا ہے۔ “

 

“ناموعود کی تمام تر شاعری کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنا مناسب ہو گا۔ ان کے احساس اور وجدان نے اپنا پیمانہ خود تلاش کر لیا ہے۔ خواہ نظم ہو یا غزل تجربے اور شعور کی کار فرمائی ہر جگہ موجود ہے۔ اس شاعری میں ملال اور محزونی کا عرصہ پھیلتے پھیلتے اچانک بلند آہنگی سے وصل کرتا ہے۔ غزلوں میں بھی ان کے یہاں فکری کشمکش کی تیز کاٹ موجود ہے۔ وہ اپنی روح پر لفظوں کو صیقل کر تے ہیں اور اپنے خلا کو پر کرتے ہیں۔ یہ خلا مادی وجود سے لے کر ان کی مابعد الطبیعات تک پھیلا ہوا ہے۔ “(خاک پریشاں/سالم

 

سلیم)
شہرام کے یہاں ایک قسم کا الجھاو ہے، یہ ان کی طبیعت میں موجود ہے، وہ پیچیدہ مسائل کو سلجھانے میں کوشاں رہتے ہیں، ایک دو بار سلجھا بھی لیتے ہیں پر ان کے مسائل اپنی اصل میں کبھی نہیں سلجھتے۔ وہ ایک طرح کےتضاد کا شکار ہیں۔ فکری تضاد۔ان کو کائنات کے دو طرفہ رویوں نے اپنی مختلف المزاجی سے الجھا رکھا ہے، وہ غور کرتے ہیں اور اس کے حاصل کے طور پر ایک نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ پر اس نتیجے کو بہت دیر تک نتیجہ تصور نہیں کر پاتے۔ یہ ان کی نہیں، بلکہ کائنات کی متلون مزاجی کا ثبوت ہے۔جو انہیں کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا۔ بعض اوقات وہ نتائج کےاستخراج سے جلد بازی میں کوئی فیصلہ بھی کر جاتے ہیں، پر اگلے ہی لمحے اس سے انحراف بھی کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ بہت غیر شعوری طور پر ہوتا ہے، لہذا عین ممکن ہے کہ وہ اس سے خود واقف نہ ہوں، کیوں کہ شہرام کی ذات کسی چیز کی تلاش و جستجو میں محو ہےاور وہ اس شئے کا پرتو جہاں دیکھتے ہیں،اس پرتو سے انہیں یہ گمان گذرنے لگتا ہے کہ ان کا مدعا انہیں نصیب ہوگیا۔ ایسا ہو بھی جاتا اگر ان کا مدعا کوئی ایسی شئے ہوتی جس کا حصول انہیں مطمئن کر پاتا، چونکہ ان کا مدعا کوئی ٹھوس شئے نہیں، بلکہ ایک فکری ترنگ ہے اس لیے وہ سورج کی ایک کرن دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ روشنی کا چھور ان کی گرفت میں آ گیا ہے، لہذا مجنونانہ رقص کرتے ہوئے کیف آور نشے میں خود کلامیہ انداز میں چیخ پڑتے ہیں کہ انہیں حقیقت کا ادراک ہو گیا۔ اگر کہانی یہیں ختم ہو جاتی تو شہرام کی فکر میں سطحیت کے عناصر شامل ہو جاتے۔ ان کی داستان فکر کا اصل باب اس اعلان سے آگے بڑھ کر اس حیرانی سے شروع ہوتا ہے جہاں انہیں کچھ حاصل نہ ہونے کا اضطراب اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ پھر وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔شکوہ کرتے ہیں، روتے ہیں، بلبلاتے ہیں، چیختے ہیں، چلاتے ہیں اور تھک ہار کر بوجھل سانسوں کے تلے ساکت و جامد ہو کر خلا میں گھورنے لگتے ہیں۔بالکل خالی الذہن، نہ کسی چیز کی جستجو نہ کسی شئے کی تلاش۔

 

اس کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، وہ دوبارہ لڑکھڑا کر اٹھتے ہیں۔اب کی مرتبہ وہ غیب سے کسی نوع کی مدد کے خواستگار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نور کی آمد کی امید کے ساتھ، دوبارہ اپنے زخمی احساسات کے ساتھ، پھر کوشاں ہو جاتے ہیں۔اس بار وہ اپنے آس پاس کی زندگی میں اس شئے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں دیدہ حیراں عطا کر دے۔ شہرام کی یہ خاصیت ہے کہ وہ ہر شئے کو اپنے نقطہ ارتکازسے ممیز کرتے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ وہ اس امتیاز کے دوران کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہاں ان کا مقصود صرف تجزیہ ہوتا ہے اوریہ تجزیاتی سفر ان کی عام زندگی کے ایسے حالات و واقعات کی داستان بیان کرتا ہے ،جس سے ان کی پریشاں خاطری کا علم ہوتا ہے۔ مجھے ان کی شاعری میں “پتنگ کے اڑنے سے پہلے” نے حیران کیا۔ یہ نظم ثابت کرتی ہے کہ شہرام اپنے مدعا کو آسمانی صحیفوں یاپراچین کھتاوں میں تلاش کرنے کے قائل نہیں۔ وہ زمین پر رہتے ہیں ،اپنے آس پاس کی زندگی جیتے ہیں اور اپنے مدعا کو انہیں اشیامیں تلاش کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو اسی زمین کے پیٹ سے اگنے والی کئی داستانوں نے اپنے طلسمی جال میں قید کر رکھا ہے۔ شہرام کی تلاش اس لیے بھی اور پیچیدہ ہو گئی ہے، کیوں کہ ان کے یہاں کہانیوں کا وفور ہے۔وہ اپنے اطراف سے بہت زیادہ واقف ہیں، لہذا وہ اپنے اندرون سے کسی اور کے اندرون میں داخل ہو تے رہتے ہیں۔ اس عمل میں وہ بعض اوقات اپنے مدعا سے دور بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ فکر کی رنگین وادیوں میں گھومنے لگتے ہیں اور اپنے غم سے الگ کسی اور کے غم میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ شہرام کے افکار کا تنوع ہے جو انہیں ایک مدعاسے دیگر مدعات تک لے جاتا ہے اور یہ ہی ان کا انتشار بھی ہے۔ ان کی شاعری سے ان کے جس نوع کے اضطراب کا علم ہوتا ہے، اسی سے ان کی زخم خوردہ مسرت بھی مترشح ہوتی نظر آتی ہے۔ شہرام اپنی تلاش سے اکتاتے بھی ہیں،اس سے صرف نظر بھی کرتے ہیں اوربعض اوقات اس شوریدہ سری سے تنگ آ کر زندگی سے فرار کا راستہ بھی تلاش کرتے ہیں۔ وہ سفر کو عین منزل قرار دیتے ہیں۔ اپنے مبالغے کو چھپاتے ہیں۔ اپنی حقیقت کو ڈھانپ دیتے ہیں، حالاں کہ شاعری میں ان کے یہاں جس خلا کا تصور کام کررہا ہے، وہ منزل کا نکتہ اسی سرے سےظاہر کر دیتے ہیں۔ شہرام کو ظاہری نظام سے چڑ ہے اس لیے وہ اپنے تضاد کے ذریعے اپنا ایک مختلف نظام وضع کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ جس سے ان کی رسائی ان کے مدعا تک ہو جائے۔یہ ایک طرح کا چھلاوا ہے، اسی لیے وہ ابھی کہیں ہوتے ہیں اور ابھی کہیں۔ در اصل یہ لفظوں کا مکر ہے۔ جو شہرام کی فکر تک پہنچنے میں مانع ہوتا ہے۔ان کے اکثر اشعار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کہنا کچھ اور چاہتے تھے پر آخر تک آتے آتے وہ اپنی کہانی کو ایک مختلف رنگ عطا کر دتے ہیں۔ شہرام کی فکر کا سکہ الٹتا رہتا ہے۔ لہذااسی سے ان کی شاعری میں معنوی تنوع پیدا ہوتا ہے۔

 

ان کی نظم “خلا سا کہیں ہے”سے ان کے فکری خلفشار کا ادراک ہوتا ہے۔وہ زندگی سے شکایت کو ممنوع قرار دیتے ہوئے،زندگی سے شکایت کر جاتے ہیں۔فنکار سے ہجر کا غم ان کے اندوہ کو ظاہر کرتا ہے اور اس کو بھی کے وہ لوٹ گھوم کر اپنے صنف خانہ مدعا کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح “بخت برگشتہ” میں بھی انہیں اس الجھاوں کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شہرام کو نعمتوں کا احساس ہے ،لیکن ان کے نزدیک عین نعمت کچھ اور ہے جس کے عدم حصول کی بنیاد پر وہ خود کو کوستے ہیں۔ ان کی مایوسی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کی بخت برگشتگی، طالع بیداری میں اسی وقت تبدیل ہو سکتی ہے جب ا نہیں اپنا مدعا نصیب ہو جائے۔حالاں کہ وہ اس امر سے واقف ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگااوریہ ہی وجہ ہے کہ ان کے قالب میں شاعری نے اپنی جڑوں کوپھیلانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
Categories
نان فکشن

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

کل جب کئی دنوں بعد تم سے دوبارہ بات ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ بہت سی باتیں جو مجھے، تم سےاپنی روز کی شام کی بیٹھک میں کرنا تھیں، یا کلاس ختم ہو جانے کے بعد یا پھر یوں ہی تم کیمپس میں کہیں ٹہلتی نظر آ جاتیں تو وہ باتیں ہو جاتیں جو میں نے صرف تم سے کہنے کے لیے بچا رکھی تھیں، مگرپھر اچانک یوں ہوا کہ تم کہیں غائب ہو گئی۔ کچھ لوگوں کی باتیں سن کر اور کچھ مجھ سے بد گمان ہو کر۔ یہ لوگ بھی عجیب ہیں ایسی ایسی باتیں بناتے ہیں کہ انسان بھونچکا رہ جائے، اب یہ ہی بات لے لو کہ ایک روز کسی نے مجھے تمہارے ساتھ کیمپس کی گلیاروں میں بھٹکتے کیا دیکھ لیا کہ فوراً یہ خبر عام کر دی کہ میں تمہارا عاشق زار ہوں اور تم سے اپنے عشق کا اظہار کر چکا ہوں، جب کے رد عمل میں تم نے انکار کیا یا اثبات اس سے انہیں کوئی غرض نہیں، حالاں کہ نہ کبھی ایسا ہوا اور نہ ہونے کا تصور ہے۔ تم سے میں نے اول روز ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ تمہاری ذات میں دوستی کی صفت پائی جاتی ہے، عشق ایک مختلف جذبہ ہے، جبکہ دوستی اس کے مقابلے میں بہت بھروسے مند چیز ہے، خیر پھر تم مجھ سے خدا معلوم کہ اس طرح کی باتوں میں آ کر کیوں کر خفا ہو گئیں۔ لوگوں نے تمہاری خفگی کے بعد بھی اتنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی ایک باتیں اڑائیں۔ مجھے ان سے کچھ خاص گلہ نہیں کہ یہ تو لوگوں کا کام ہے۔ اگر لوگوں کے کچھ کہنے کا تصور ہمارے معاشرے میں اتنا عام نہ ہوتا تو لڑکیوں کو اتنا سمٹ کے نہ رہنا پڑتا۔

 

پیاری میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لڑکیاں اپنی ابتدائی زندگی میں اکثر بہت زیادہ صاف گو اور سچ سننے اور کہنے والی ہوتی ہیں، لیکن یہ لوگ ہی ہیں جو اپنا ڈر ان پر بٹھانے کے لئے انہیں جھوٹ کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں، ان میں بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو یا تو مستقل جھوٹ کا سہارا لینے لگتی ہیں یا پھر اس طرح کی پر اسرار صفت بن جاتی ہیں کہ ان کی زندگی کا سچ ظاہر ہی نہیں ہوپاتا۔ یہ لوگ آج سے نہیں ہزاروں برس سے اس معاشرے میں موجود ہیں اور تمہیں اور تمہاری ہی طرح کی دوسری لڑکیوں کے پر کاٹنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ ان سے یہ بات دیکھی ہی نہیں جاتی کہ تم خوش ہو، تم ہنس رہی ہو یا تم زندگی کے کسی ایسے فیز میں داخل ہو رہی ہو جس میں تم اپنے فیصلے خود لے سکو گی۔ تمہاری زندگی کی ڈور یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں، ان کو کچھ غرض نہیں کہ تم ان کی کیا لگتی ہو اور کیا نہیں، ان کا تو بس ایک ہی مسئلہ ہے کہ یہ تمہارے فیصلوں کی کتاب اپنی خواہش کی روشنائی سے لکھیں گے۔

 

[blockquote style=”3″]

پیاری میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لڑکیاں اپنی ابتدائی زندگی میں اکثر بہت زیادہ صاف گو اور سچ سننے اور کہنے والی ہوتی ہیں، لیکن یہ لوگ ہی ہیں جو اپنا ڈر ان پر بٹھانے کے لئے انہیں جھوٹ کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں

[/blockquote]

مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جب کیمس میں یہ خبر عام ہوئی کہ میں اور تم کسی طرح کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں اور میں اسی احمق شخص کی طرح تمہارے لیے دن رات آنسو بہا رہا ہوں، جس نے تم سے کیمپس میں داخل ہوتے ہی اپنے عشق کا اظہار کر دیا تھا (حالاں کہ میں تو اسی کو تمہارا سچا عاشق سمجھتا ہوں جسے تم خود سے عشق کرنے پر الاچہ بیگ تصور کرتی ہو۔) اور وہ کم ظرف اس بات پر مصر ہوگیا کہ تم بھی اس سے عشق کرو (حماقت کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔) تو اس کے فوراً بعد مجھے ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی ملی، بلا کی ذہین اور ایسی نادرالحسن کہ میں اس کے حسن کے دام اثر میں آئے بغیر نہ رہ سکا، اس نے ایک بار مسکرا کر مجھ سے بات کیا کی کہ میرا وہ عاشق جو تقریباً پانچ برس پہلے ہی کافی شور و غل مچا کر اور اپنی ناکامی سے تھک ہار کر سو گیا تھا، دوبارہ جاگ اٹھا، حالاں کہ اس پری پیکر نے مجھے اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی لمحات عطا کیے، مگر مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب اس نے صرف اس وجہ سے مجھ سے کیمپس میں کھلے عام ملنے سے منع کر دیا کہ میں تمہارے ساتھ ایک مرتبہ اسی طرح رات کے بارہ بجے ٹہلتا ہوا پایا گیا تھا (جب کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اس کا علم میرے فرشتوں کو بھی نہیں ہے۔) جس کی پاداش میں میں اور تم کیمپس میں کہانیوں کا ایسا سوتا بن گئے جہاں سے عشق کی داستانیں پھوٹتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو جلال بھی آیا کہ اس سے تو بہتر یہ تھا کہ میں تم سے عشق ہی کر لیتا، اگر بھولے چوکے تم بھی ہاں کر دیتیں تو اس پری پیکر تک پہنچنے کی نوبت ہی نہ آتی۔

 

خیر میں نے تمہارے ان خیر خواہوں کو جو غالباً خود تمہارے خیر خواہ بن گئے ہیں کبھی یہ سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کی کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم میری ایک اچھی دوست ہو جس کی میں بے انتہا قدر کرتا ہوں اور عزت بھی۔

 

ابھی ادھر ایک صاحب نے مجھ سے بھی یہ سوال کیا تھا کہ کیا ایسا بھی کچھ ہے؟ میں نے انہیں ٹکا سا جواب دیا کہ اگر ہے بھی تو آپ کے پیٹ میں کیوں درد ہوتا ہے، میں عشق کروں، وصل مناوں، کسی سے شادی کروں، بھاگ جاوں، مر جاوں یہ سب میرا مسئلہ ہے یا اس لڑکی کا جو میرے ساتھ کسی طرح سے وابستہ ہے آپ کو اس سے کیا غرض، لیکن انہوں نے اپنا معاشرتی کردار پوری طرح ادا کرتے ہوئے بڑی محبت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پر خلوص انداز میں کہا کہ: میں آپ کا خیر خواہ ہوں۔ اس لیے پوچھ لیا ورنہ مجھے کیا غرض۔

 

عجیب سی بات ہے کیا یہ دوسرا خیال انہیں پہلے نہیں آ سکتا تھا کہ انہیں کیا غرض۔ لوگ خیر خواہی کا جھولا کاندھے پر ڈال کر کیوں گھومتے پھرتے ہیں مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ تمہارے ساتھ ایک عدد چائے اور پانچ سو قدم کی واک لوگوں کے لئے اتنی دلچسپ ثابت ہو گی میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس دن میں اور تم پہلی بار سنسان راستے پر دور تک ٹہلتے چلے جا رہے تھے اور میں تم سے کبھی غالب، کبھی میر، کبھی فیض، فراق اور جوش کی باتیں کر رہا تھا اسی دن میں نے تمہاری ذہانت کا اندازہ لگا لیا تھا اور سوچا تھا کہ اگلے کچھ دنوں تک کیمپس میں آنے کا بہانہ مل گیا۔ ایک اچھی دوست سے ادبی گفتگو کرنے کا سلسلہ اگر بن جائے تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، میں نے اسی واک کے دوران یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں نے اپنی گذشتہ زندگی میں جو کچھ پڑھا ہے اس کا راگ دھیرے دھیرے تمہارے سامنے الاپوں گا اور تمہیں کسی طرح اپنے علم کا معترف ہونے پر مجبور کر دوں گا، حالاں کہ تم اتنی جلدی قائل ہونے والی تو نہ تھیں کیوں کہ جس وقت میں نے تمہیں خسرو کا یہ شعر سنایا تھا کہ:

 

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہو شیار باش

 

[blockquote style=”3″]

جان لوکہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو

[/blockquote]

تو تم اس شعرکا پہلا مصرع سن کر ہی اپنا سر ہلانے لگی تھیں اور شعر ختم ہونے کے بعد بڑی معصومیت سے تم نے مجھے بتایا تھا کہ یہ شعر تم اپنے والدسے کئی بار سن چکی ہو۔ تم نے اس واک کے دوران مجھے اور ہمارے ہی کلاس کے ایک نہایت ہی شریف النفس شخص کو اپنے والد سے ملوانے کی بات بھی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اسلامی مسائل سے متعلق میں نے اپنے ذہن میں جو مقدمات قائم کئے ہوئے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے مجھے،تم اپنے والد سے ضرور ملواؤ گی۔لہٰذا میں نے بھی اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں تمہارے والد سے ضرور ملوں گا۔ ان سے اسلامی معاملات پربڑی لمبی چوڑی گفتگو کروں گا اور پھر اسی گفتگوکے دوران چپکے سےان پر اپنی علمیت کا اظہار بھی کر جاوں گا۔ ان سے طرح طرح کے سوالات کروں گا اور بیچ بیچ میں اسلامیات سے متعلق موٹی موٹی کتابوں کا نام لوں گا۔ کبھی امام شافعی،کبھی امام مالک اور کبھی امام حنبل کی بات کروں گا، (امام ابو حنیفہ نہیں کیوں کہ وہ بہت عام ہیں۔) کبھی فقہ جعفری سے کوئی سوال ٹھونک دوں گا، کبھی نہج البلاغہ کا کوئی جملہ نکال لاوں گا اورکبھی امام ابن تیمیہ، امام رازی، حافظ ابن قیم، امام جوزی وغیرہ کا تذکرہ چھیڑدوں گا، کبھی بہجتہ الاسرار، احیا العلوم الدین، کتاب اللمع، مجموع السلوک اور فوائد الفواد کی باتیں کروں گا، یاپھر مسلکی نوعیت کے ائمہ جو انیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں چپکے سے اسلام میں داخل ہو گئے ان کا ذکر کرتے ہوئے، سید احمد رائے بریلوی، عبدالحئی بڈھانوی، اسماعیل دہلوی، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیر، شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین کی کتابوں کے اوراق ان کے سامنے کھول دوں گا اوریہ بھی کہوں گا کہ اس ایک گھر نے پورے ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا چہرہ بدل کے رکھ دیا۔ ان کی بالمقابل پارٹی جن میں علامہ فضل حق، فضل رسول بدایونی اور مفتی صدرالدین وغیرہ آتے ہیں ان کے حوالے بھی پیش کروں گا۔ ان سارے علاماوں، شلاماوں کا ذکر کرتے ہوئے تان احمد رضا خاں بریلوی اور اشرف علی تھانوی پہ توڑوں گا۔ اس کے بعد بھی اگر ان کے متاثر ہونے میں کچھ کمی رہ گئی تو پھر مودوی وغیرہ کو کھینچ لاوں گا۔لیکن یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد صرف ایک ہی ہوگا کہ جب تم چائے لے کر کمرے میں داخل ہو اور باری باری ہم سب میں چائے تقسیم کر رہی ہو تو میری باتوں سے مرعوب ہو جاو اور تمہیں یہ گمان گذرنے لگے کہ اس شخص سے دوستی کر کے میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ پر کیا پتہ خدا کو کیا منظور تھا کہ سب دھرا کا دھرا رہ گیا۔ میرے ان رنگین خوابوں کو تمہارے خیر خواہوں نےاتنی صفائی سے اچک لیا کہ مجھے خبر بھی نہ ہو سکی۔

 

اب جبکہ تمہیں ان ساری بد گمانیوں کے متعلق یہ یقین ہو گیا ہے کہ میں اس معاملے میں آخری حد تک معصوم ہوں اور میری کہیں سے کہیں تک کوئی غلطی نہیں ہے، تو تم نے مجھ پر یہ التفات کیا ہے کہ مجھ سے دوبارہ بات کر لی ہے۔ حالاں کہ اب میں اتنی جلدی کوئی خواب تو نہیں بنوں گا پر یہ جان لو کہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو اور جب دوبارہ کبھی کوئی الٹی سیدھی بات تمہارے کانوں تک پہنچے تو اپنا لیپ ٹاپ آن کرو، گوگل کھولو اور اس پر کشور کمار کا یہ گاناسرچ کر کے فل والیوم میں سنو کہ:

 

کچھ تو لوگ کہیں گے
لوگوں کا کام ہے کہنا
چھوڑوں ایسی باتوں میں
کہیں بیت نہ جائیں رئینا۔

 

تمہارا دوست
تالیف حیدر

Image: Nick Bantock

Categories
نان فکشن

صندلی ہاتھوں کا سحرستان

حسن کا تصور جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی سلجھا ہوا بھی ہے، کنول، گلاب، ہرن، مور،بارش،ریت،خشک تالاب اور ویران راستہ۔حسن کی لاکھوں علامتیں ہیں۔ ان میں سے ہر کسی کو حسن کی آخری علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ حسن کی سادگی ہے۔بدن، ہاتھ، بازو، بال اور چہرہ ان کے حسن کا ادراک اتنا آسان نہیں، یہ حسن کی پیچیدگی ہے۔ میں نے لاکھوں چہرے دیکھے ہیں اور لاکھوں ہاتھ، پر میں ان میں سے کتنو ں کو جانتا ہوں ؟کتنوں کو یاد رکھتا ہوں؟ اور کتنوں کو بھلا نہیں پاتا؟ چہرے کے معاملے میں تو یہ خیال کیا جا سکتا ہےکہ اس کو جاننے اور یاد رکھنے میں یادداشت پر کم زور دینا پڑے، پر ہاتھ؟ایسا توبہت کم ہوتا ہے کہ کسی کے ہاتھوں کے کھردرے نقوش دماغ کے گلایوں سے چمٹ جائیں، اس کو جھنجوڑیں، ہلائیں اور ایک دائرہ خیال تک محدود رکھیں۔ ایسے ہاتھوں کو دیکھنا، جاننا اور اس کی لکیروں کے گہرے دریا میں ڈوب جانا خوش بختی کی علامت ہے۔ میں نے ایسے دو ہاتھ دیکھے ہیں۔ وہ دو ہاتھ جوایک طرح کی عجلت صناعی کا زائیدہ ہیں۔ جو قدر ت کا کرشما نہیں، بلکہ خدا کی جلد بازی کا مظاہرہ کہے جا سکتے ہیں۔ خدا جس نے ان ہاتھوں کو موسم گرما کے آخری پہر کی حرارت بخشی ہے اور وہ، اس حرارت کے خمار میں اس کی خراشوں کو تمکنت دینا بھول گیا، اس نے انہیں نخوت سے پاک رکھا اور زندگی سے معمور کر دیا۔ اس کے تقدس کو جلا بخشی اور تفخر کو کالعد م کر دیا۔وہ ہاتھ مجھے زندگی سے زیادہ بامعنی لگتے ہیں، ان میں ایک طرح کا رمز ہے، ایک عیاری ہے۔ جو مجھے کسی باریک جال کی مانند لگتی ہے۔ ان ہاتھوں میں جتنی لکیریں ہیں اتنی ہی داستانیں بھی ہیں۔

 

ان ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جب میں غور سے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر پھیلی ہوئی ریت کی بے ترتیب بستیاں دنیا کی عظیم جنگوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ان پر ہاری ہوئی فوجوں کے لاکھوں سپاہی اپنے زخمی جسموں کے ساتھ تڑپتے نظر آتے ہیں۔ وہ ہاتھ مجھے فراط اور دجلہ کی داستان سناتے ہیں،کربلا کا منظر دکھاتے ہیں اور نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک پھیلے ہوئے انسانی وجود کے اضطراب سے دو چار کرواتے ہیں۔ میں جب کبھی ان میں ایک معصوم دنیا کو تلاش کرتا ہوں تو ان ہتھیلیوں کے چو طرفہ کنارے مجھے اس جستجو کے تاریخ دان میں قید کر لیتے ہیں، جہاں مجھ جیسے لاکھوں قیدی سفیدی مائل سرخ نور کے آبشار تلے اس دست حنائی کی معصومیت کے دیدار میں محو نظر آتے ہیں۔ نازکی کے تصور سے علیحدہ، رنگوں کی قید سے آزاداور تقابل کے جھڑے سے جدا وہ ہاتھ میری مضطرب راتوں کے بیدار خوابوں کی مانند ہیں، جن میں حقیقت اور مجاز کے الف لیلوی سحر ستان آباد ہیں۔ ان ہاتھوں میں ایک طرح کی تمثیلیت مضمر ہے، جس تمثیلیت کو اس کے جھوٹے کرداروں نے حقیقت بخشی ہے۔ وہ کردار جومایوسی سے بھرپور اور نرگسیت سے معمور ہیں، ان کے مضمحل اور بیزار چہروں نے ان ہاتھوں کی سطح آب کو ایک طرح کی زرد سیمابیت عطا کر دی ہے۔ میں جب انہیں بغور دیکھتا ہوں تو صندل کے پانی اور کچی مٹی کے ذرات سے گوندھ کر تیار کیے گئے ان ہاتھوں کالمس مجھے اپنی سیاہ پتلیوں میں دور تک اترتا ہوا معلوم ہوتا ہے، میری کتھئی آنکھوں کے سیاہ تالاب میں ان ہاتھوں پر دوڑتی ہزاروں مچھلیوں کی حکومت قائم ہے۔ یہ مچھلیاں میرے جسم کے کاغذی پیرہن سے اپنا خراج وصول کرتی ہیں اورمیر ےاندرون میں پھیلے سبز رسیوں کےجال کو کمند بدن کی مانند تھامے رکھتی ہیں۔ میں جو خود کو دشت اور دریاوں کا سفیر، خیالستان کا باشندہ اور کتھا نگر کا سر براہ اعلی جاتنا ہوں،ان ہتھیلیوں کی زمین پر پڑی بٹی ہوئی ناریل کی رسیوں میں خود کو جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ اس ویران جزیرے پر میں زنجیر بدست، ان علم نما انگلیوں کی بارہ دری کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتا رہتا ہوں کہ ان کھڑکیوں سے کبھی تو کوئی جھانکے گا اور میری فریاد پر کان دھرے گا۔ پر یہ در و بام ویران قلعوں کی مانند اپنی ہی تنہائی کا سوگ مناتے رہتے ہیں،اپنے نقش و نگار کو خود سرہاتے ہیں اور خود ہی ایک دوسرے کو داد طلب نگاہوں سے دیکھ کر ساکت ہو جاتے ہیں۔ ان دلکش ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں پر یہ تماشہ روز ہوتا ہے،صبح و شام ہوتا ہے،اور میں ایک ویران جزیرے پر پھنسے انجان مسافر کی طرح مستقل یہ نظارہ دیکھتا رہتا ہوں اور سردار کے یہ مصرعے بے ساختہ میری زباں پر جاری ہو جاتے ہیں :

 

اعجاز ہے یہ ان ہاتھوں کا، ریشم کو چھوئیں تو آنچل ہے
پتھر کو چھوئیں تو بت کر دیں، کالکھ کو چھوئیں تو کاجل ہے
مٹی کو چھوئیں تو سونا ہے، چاندی کو چھوئیں تو پایل ہے
ان ہاتھوں کی تعظیم کرو۔۔۔
Categories
نان فکشن

کتھئی آواز کی روشنی

میں ایک ایسی آواز کو جانتا ہوں، جس کی دھنک میرے روم روم کو بیدار کردیتی ہے۔ کانوں کی لوؤں پر سنسناتی ہوئی اس کی سرگوشیاں، دمکتی ہوئی اس کی گرمیاں اور چہکتی ہوئی اس کی چنگاریاں مجھے اندر سے سرسبز کردیتی ہیں۔یہ آواز کہاں سے پیدا ہوئی،گلے کے اندرون میں پھیلی ہوئی رگوں کی باریک جالیوں تک تو میری رسائی نہیں، مگر تصور کی تنگ و تاریک گلیوں سے ہوتا ہوا، جب میں اس آواز کے ٹنل میں داخل ہوتا ہوں تو چمکتی ہوئی دو آنکھوں کی طرح یہ آواز مجھے ساکت و جامد کردیتی ہے۔یہ صرف آواز نہیں ہے بلکہ ایک ایسا پیرہن ہے، جس نے دنیا کے سارے شور و غل کو ایک ہلکی سی انگڑائی کے زور پر مدہوش کررکھا ہے۔سب رکا ہوا ہے، دھیان بھی اور جسم بھی۔خواب بھی اور شہر بھی۔میں بھی اور خدا بھی۔میں اگر اس آواز کو بیان کرنا چاہوں تو شاید اسے کتھئی رنگ کی ایک روشنی سے تعبیر کروں گا۔ایک ایسی روشنی جسے دنیا نے دیکھا ہی نہیں ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا، باریک دوپٹے یا فون کے جالی دار سپیکر سے چھن کر آنے والی اس آواز نے بھاگتے ہوئے ہرنوں کو فضا میں اڑتے ہوئے روک لیا ہے۔

 

کتھئی رنگ کی روشنی میں ڈوبی ہوئی یہ صدا، اصل میں دودھ ابلتے ہوئے آبشار اور زنگ لگی ہوئی توپوں جتنی خوبصورت ہے۔میں اس کی تمکنت کو بیان کروں تو اپنے ہی دھیان میں ڈوبنے لگوں، اپنی ہی تخلیق کے جال میں لپٹتا جاؤں، جیسے ریشم کا کیڑا آواز کے جال کو دھاگوں میں تبدیل کردیتا ہے، یہ آواز پیدا ہوتی ہے دو لبوں کے ٹکرانے سے، زبان پر پھیلے ہوئے سفید پانی کی لہروں کے تالو کی شفاف اور چکنی چھت کےٹکرانے سے، زبان کا گلابی ناگ اینڈتا ہے، بل کھاتا ہے، پیچھے ہوتا ہے آگے بڑھتا ہے اور گالوں کی لال رنگ دیواروں سے ٹکراکر دوبارہ نئے پانی کی تلاش میں، نئی لہروں کے شور کی پیدائش کی جستجو لیے واپس اپنی تنہائی میں لوٹ آتا ہے۔کتھئی رنگ اور گلابی رنگ، حالانکہ یہ دو الگ رنگ ہیں، مگر اس تماشے میں گلابی اور سفید رنگ کی دھاریوں نے اس خاکی آواز کا لبادہ تیار کیا ہے۔جس میں پائلوں کی جھنکاریں بھی ہیں، چڑیوں کی چہچہاہٹ بھی، قیدیوں کی کھنکتی ہوئی زنجیریں بھی ہیں، ابلتے ہوئے فوارے بھی، رات کو سنسنان حویلیوں میں بھٹکتی ہوئی چاپیں بھی ہیں، چھتوں پر دھمکتی ہوئی پر اسرار آہٹیں بھی۔آواز کے اس پورے کھیل میں لفظ بنتے نہیں، بگڑتے ہیں، بگڑ کر پھر ایک نیا روپ دھارتے ہیں اور عشق کی تہذیبی وراثت کو چیلنج کرتے ہیں، ٹھنڈے اور خاموش دلوں میں آگ لگاتے ہیں، کودتے پھاندتے ہیں، رقص کرتے ہیں، اوباشوں کی طرح غل مچاتے ہیں، جملے کستے ہیں، دوشیزاؤں کی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر قہقہے لگاتے ہیں، شیروں کی طر ح دہاڑتے ہیں، جگنووں کی طرح چمکتے ہیں۔ دھنک میں سات رنگوں کے مختلف تجربوں سے گندھی اس ایک آواز کا بیان اس لیے بھی مکمل طور پر ممکن نہیں کیونکہ اس کی کوئی تصویرنہیں ہے۔یہ تالابوں میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے سفید ہنسوں کی طرح پنجے بھگو بھگو کر پلٹ جاتی ہے، آسمان کی جانب، اونچائی کی طرف۔یہ روز ازل سے گونجتی ہوئی آواز ہے، جس کی سانسوں میں ساری کائنات کا ایک گزشتہ اور خوش رنگ تجربہ گھول دیا گیا ہے۔

 

میں تعمیر و تخریب کے بکھیڑے نمٹاتا، دنیا کی شکست و فتح کے انداز دیکھتا ہوا ایک ایسا باریک نظر والا آدمی ہوں، جو تنہائی کی سیاہ سڑکوں پر یادوں کی دھوپ اور امیدوں کی برف کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے، اپنی بالکنی میں رات کے دو بجے، اڑتے ہوئے چمگادڑوں، چمکتے ہوئے چاند اور پھیلی ہوئی آڑھی ٹیڑھی عمارتوں کے کاغذات پر آخر کار مجھے نیند کے دستخط کرنے پڑتے ہیں۔میں جو اس سکون میں بھی شور کا شکستہ ہوں، درد سے چور، اپنی پچھلی زندگی کا سارا سرمایہ ہاتھوں پر لیے، اور وہ ہاتھ تکیے کے سرہانے پھیلائے سو جاتا ہوں، رات کے کسی پہر ایک آواز مجھے جگاتی ہے۔خوف و دہشت ، امید و بیم اور فتح و شکست کی تمام جنگوں سے دور ایک اور میدان میں یہ آواز مجھے لے آتی ہے۔میرا خالی بستر،زمین سے اٹھ کر داستانوں کے قالین کی طرح مجھے اس گہرے سبز رنگ منظر میں پہنچا دیتا ہے، بھاری پلکوں کےقدم، جیسے تھکن کی زنجیروں کو کھول دیتے ہیں،مایوسی کے فیتے ، احساس ناکامی کی پاپوش سے الگ کردیے جاتے ہیں۔وقت اٹھ اٹھ کر صدائیں لگاتا ہے، اور پھر رنگ کی ایک طویل ، بے جان اور بالکل اجنبی دستک کے ختم ہوتے ہی مجھ میں وہ آواز سفر کرنے لگتی ہے۔یہ کون سا اجالا ہے، جس میں درختوں کی جڑوں سے زیادہ ٹھنڈک ہے، پانیوں کی چمک سے زیادہ روشنی ہے، زلفوں کی دبازت سے زیادہ گہرائی ہے، حسن کی تراوٹ سے زیادہ نمک ہے۔اس وقت میں اس آواز سے فیض کی طرح بس اتنا ہی کہہ پاتا ہوں:
تم مرے پاس رہو
مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو
جس گھڑی رات چلے
آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے
Categories
نقطۂ نظر

جدید ادبی اظہاریہ اور تصوف کے فقدان کی گاتھا

وحید اختر نے خواجہ میر درد پر تحریر کردہ اپنی کتاب کے مقدمے میں تصوف کے متعلق یہ اعتراف کیا ہے کہ :

 

“میں نے جن صاحب کی نگرانی میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی، ان سے ملاقات ہونے سے قبل میں تصوف کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا، جس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ مجھےتصوف کے متعلق یہ ادراک حاصل نہیں تھا کہ اس میں دنیا بھر کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔”

 

اردو کی وہ روایت جس کو تاریخ کے حوالے سے اردو ادب کی سب سے مستحکم روایت کہا جا سکتا ہے وہ تصوف کی روایت ہی ہے
گزشتہ ایک صدی سے اردو ادب کی جو صورت حال ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اردو زبان میں تصوف کو صحیح طرح سے جاننے اور اس علم کی گیرائیت پر نگاہ رکھنے والے دن بدن ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اردو ادب تصوف کی معنی خیز دنیا سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے، اردو ادب سے تصوف کے مضامین کے دور ہونے کے دو واضح نشانات ہمیں اردو ادب کی تاریخ کے حوالے سے ملتے ہیں ۔

 

تقریباً اسی ،پچاسی سال قبل اردو ادب کے منظر نامہ پر ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق ان دو تحریکوں کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے اردو ادب میں تخلیقی سطح پر تصوف کا عمل دخل کم ہوتا گیا، لیکن اس سے ما قبل کے ادب کا اگر ہم ایک جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق کی ادبی کارگزاریوں سے پہلے جس طرح کی شاعری ہماری زبان میں ہورہی تھی اس میں تصوف کے عناصر واضح اور معیاری انداز میں نظر آتے تھے۔یہاں یہ نکتہ ہمیں سوجھائی دیتا ہے کہ سن 1936 جو اردو ادب کی تاریخ کا ایک یاد گار برس ہے وہ کئی ایک وجوہات کی بنا پر اس زبان اور اس کے ادب کا Turning Pointکہا جا سکتا ہے، جس سن میں بعض سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے اردو والوں میں سے چند ایک لوگوں نے اس زبان کے ادب کو نیا رخ دینے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا اور اس کے ذریعے اردو زبان اور اس کے ادب کو از سر نو مرتب کرنے کی بنا ڈالی، ترقی پسند تحریک نے آزادی سے قبل اپنے سیاسی اور ادبی منشور کی جس طرح تشہیر کی اس سے اردو ادب تخلیق کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت نے اس تحریک کے افکار و نظریات کو وقت کی اہم ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس کو اپنی کاوشات کا محور بنا لیا، یہ سلسلہ آزادی ہند کے چند روز بعد تک چلا اور پھر جدیدیت کی نئی ترجمانی کے تحت اردو کا ادب ترقی پسندیت کے منشور سے الگ ہٹ کر ایک نئی راہ پر چل نکلا، اردو کی ان دوتحریکوں سے قبل اردو زبان میں ادب کی تخلیقی سطح جس نوع کی تھی کیا وجوہات ہیں کہ اس ادبی سطح پر تخلیق کیا جانے والا ادب آج بھی اردو زبان کا اصل اور قیمتی اثاثہ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اس ادب میں تصوف کی روایت بدرجہ اتم موجود تھی جبکہ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق کی جدید حکمتوں کے سبب اردو زبان و ادب سے تصوف کی روایت تقریباً خاتم ہوتی چلی گئی۔

 

اردو کی کلاسیکل مثنویات ہوں یا قصائد ،رباعیات ہوں یا قطعات، نظم ہو یا نثر ہر میدان میں ہمیں تصوف کی اصطلاحات سر گرداں نظر آتی ہیں
یہاں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اردو کی وہ روایت جس کو تاریخ کے حوالے سے اردو ادب کی سب سے مستحکم روایت کہا جا سکتا ہے وہ تصوف کی روایت ہی ہے، حالاں کہ اردو ادب میں اور بھی کئی ایک روایتیں ہیں جو اس روایت کے ہم پلا نظر آتی ہیں، لیکن شمالی ہند دکن، گجرات، بہاراوریوپی وغیرہ کی قدیم ادبی روایات پر نگاہ کی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ تصوف سے زیادہ قدیم اور متواتر کوئی روایت نہیں۔ علی گڑھ تحریک جس عہد میں منظر عام پر آئی اس عہد میں بھی تصوف کو فروغ نصیب ہوا، کیوں کہ معاشرے کو جس انداز میں well cultured اور well Behavedبنانے کی باتیں اصلاحی اور نیچری تحریک کے تحت کی گئیں ان کو تصوف کی تعلیمات سے الگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق سےما قبل اردو زبان کا واحد ایک مرکز ایسا تھا جہاں تصوف کے مضامین خال خال بندھے ہیں اور وہ ہے لکھنو، لیکن پھر بھی وہاں کے بعض شعرا کے یہاں تصوف کی اصطلاحات نظم ہوتی نظر آجاتی ہیں، وہ بھی اس عہد میں جب کہ لکھنو تمام تر عیاشیوں کا گڑھ بنا ہوا تھا اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اردو زبان کا اس روایت سے بہت گہرا تعلق ہے، لہذا یہ حاصل آتا ہے کہ تصوف نے 1936 سے قبل اردو کی تمام تخلیقات پر حکمرانی کی ہے،اس برس سے قبل تصوف کی اثر آفرینی کا یہ عالم تھا کہ اردو کی کلاسیکل مثنویات ہوں یا قصائد، رباعیات ہوں یا قطعات، نظم ہو یا نثر ہر میدان میں ہمیں تصوف کی اصطلاحات سر گرداں نظر آتی ہیں، گیسو دار ز بندہ نواز سے لے کر اصغر گونڈوی تک اردو کی ایک لمبی تاریخ ہے جس میں تصوف کی تعلیمات اور اس کے افکار و نظریات نے طرح طرح سے ادب میں خود کو زندہ رکھا ہے، صوفیانہ فکر نے اردو کی تقریباً تین سو سالہ تاریخ پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں جس کے بر عکس اسی، پچاسی سالوں میں اردو کی ادبی افق سے تصوف دھیرے دھیرے غائب ہوتا جا رہا ہے۔

 

اردو ادب میں تصوف کے اثرات جوں جوں ختم ہوئے، تصوف کی اصطلاحات کے بر عکس جنسیات کی اصطلاحیں ادبی تخلیقات کا حصہ بنانا شروع ہو گئیں
جہاں ایک طرف ترقی پسند تحریک نے تصوف کو اپنے سیاسی نعرے کے تحت دبایا تو دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق نے اس کی عملی تردید کی۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اردو ادب میں تصوف کے اثرات جوں جوں ختم ہوئے، تصوف کی اصطلاحات کے بر عکس جنسیات کی اصطلاحیں ادبی تخلیقات کا حصہ بنانا شروع ہو گئیں، اردو میں جنسیت کے مضامین احیا عشق کے مضامین کو دبانے اور ختم کرنے کے لئے وجود میں آتے گئے، عشق کا مضمون جو کئی سو برسوں سےاردو شاعری کا یا پھر یہ کہہ لیا جائے کہ غزل کا بنیادی خیال رہا ہےوہ جنسیت کا لبادہ اوڑھ کر منظر نامے کی صورت اختیار کرتاگیا، غزل کے بالمقابل جنسیات کے لئے نظم جیسی صنف کوعروج ملنا شروع ہوا، اس لئے بھی حلقہ ارباب ذوق نے نظم کے ارتقا پر زیادہ زور دیا۔ میراجی کی شاعری جس کو اردو کی جنسی شاعری کا نقطہ عروج قرار دیا جا سکتا ہے، اس نے اردو زبان و ادب میں جس عشق کی روایت کا غیر شعوری انداز میں انقطا ع کیا، اس نے اردو کی نئی شعریات کو تصوف کے افکار سے دور کرنے کا بنیادی کارنامہ انجام دیا ہے۔ میرا جی اور ن۔ م راشد سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو بعد ازاں اردو شاعری کا نقطہ ارتکاز بن گیا، اس نے اردو کی بعد کی نسل میں اس چلن کو عام کر کے ادب کو خالص جنسی مضامین کی آماجگاہ بنا دیا۔ میرا جی اور راشد کے تتبع نے اردو کے کئی ایک تخلیق کاروں کو جنسیات کی نذر کر دیا جس سے تصوف کے مضامین تو اردو شاعری سے عنقا ہوئے ہی، عوام کا ذوق بھی بدلتا چلا گیا، اس بات کی دلیل اس سے ملتی ہے کہ وہ عوام جو کبھی دلی اور حیدر آباد کے مشاعروں میں تصوف کی اصطلاحات پر سر دھنتی تھی وہ ان حضرات کی شاعری کے چلن کے بعد بدنیات کے مضامین سے مسرور ہونے لگی۔ جس زمانے میں یہ رواج اپنے عروج پر تھا ہم دیکھتے ہیں کہ غزل کہیں پردے میں چھپتی چلی جا رہی تھی، جنسیات سے فحشیات اور فحشیات سے زٹلیات جیسے ادبی مضامین جو کبھی اردو زبان میں اکثریت میں نہیں رہے تھے تصوف کے پس پردہ جاتے ہی بڑھتے چلے گئے اور جلد ہی اردو میں ایک دبستان کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔ تصوف جو اصلاح باطن، تکلف، رواداری، عشق اور خلوص نیت کی بات کرتا تھا اس کو فرسودہ ٹھہرا کر اردو میں ایک نئے باب کی بنا ڈالی گئی، اس طرح دوسرے راستے سے تصوف کو اردو ادب سے دور کئے جانے کا سامان مہیہ ہوا۔ اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ ادب کے بڑے ذہن ہر عہد میں جس طور کو ادب میں رائج کرتے ہیں آنے والا زمانہ انہیں تصورات پر عمل پیرا ہو جاتا ہے، ویسے بھی اردو ادب میں اجتہاد کی روایت کم ہی رہی ہے اور تقلید کا گراف اتنا بڑھا ہو اہے کہ اگر کوئی اچھا شاعر بھی کسی خاص نظریہ کے زمانہ عروج میں کچھ الگ انداز میں بات کہنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو ہمارے یہاں قابل قبول تسلیم نہیں کیا جاتا، بہر کیف اردو کو تصوف سے دور کرنے میں ان دونوں چیزوں نے بہت اہم رول ادا کیا ہے، جس میں پہلی ہے ترقی پسند تحریک اور دوسری میراجی اور ن۔ م راشد کی تخلیقات کی نقل جلی۔

 

میرا جی اور راشد کے تتبع نے اردو کے کئی ایک تخلیق کاروں کو جنسیات کی نذر کر دیا جس سے تصوف کے مضامین تو اردو شاعری سے عنقا ہوئے ہی، عوام کا ذوق بھی بدلتا چلا گیا
تیسری ایک سب سے بڑھی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان میں لکھنے والوں میں مطالعے کا ذوق ختم ہوتا چلا گیا، اس وجہ سے بھی تصوف کیا ہے؟ اس کا ادراک لوگوں کو نہ ہو سکا۔ تصوف جیسے عمیق فلسفے کو وہ لوگ سمجھنے سے بھی قاصر تھے جنہوں نے اردو کے کلاسیکل ادب تک کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اس نئے ادبی طرز نے جہاں تصوف کو ادب سے ختم کرنے میں ایک کلیدی کردار نبھایا وہیں ادب اور تصوف ان دونوں کی معنویت سے عدم واقفیت نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ یہاں میں ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نئی نظم کی صورت میں اردو ادب کو جو ہئیت نصیب ہوئی تھی اس ہئیت میں مواد کی جلوہ سامانیوں سے تصوف کے مضامین کی انشراح کو مزید فروغ نصیب ہو سکتا تھا، جس سے اردو کی نئی شاعری کو اور ہماری ایک مستحکم روایت کو عروج حاصل ہوتا، لیکن افسوس کہ اردو والوں نے اس جانب نگاہ نہ کی، اب سے چند برسوں قبل راقم نے اس ضمن میں پیش قدمی کی تھی جس سلسلے کا آغاز کرتے ہوئے ساقی فاروقی کی ایک نظم جس کا عنوان تھا “خالی بورے میں زخمی بلا” اس کی صوفیانہ تشریح کی تاکہ تصوف اور ادب کا رشتہ بحال ہونے کے امکانات پیدا ہو سکیں۔

Image: Haku Shah

Categories
تبصرہ

برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست

کتاب : برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست
(اعلی حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی اوران کی تحریک 1920-1870)
مصنفہ : اوشا سانیال
صفحات : 404
ناشر : گلوبل میڈیا پبلی کیشنز
مترجم : وارث مظہری
مبصر : سید تالیف حیدر

 

رضوی، بریلوی، سنی، خانقاہی اور مزار پرست ان اصطلاحوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو مخاطب کرنے کا رواج جنوبی ایشیا میں عام طور سے پایا جاتا ہے۔
رضوی، بریلوی، سنی، خانقاہی اور مزار پرست ان اصطلاحوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کو مخاطب کرنے کا رواج جنوبی ایشیا میں عام طور سے پایا جاتا ہے۔ جبکہ افریقہ، یورپ اور عصر حاضر میں امریکہ تک میں مسلمانوں کا یہ مخصوص گروہ اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ان کو دیگر مسلک کے ماننے والوں نے اپنے سے قدرے مختلف اور ممیز کرنے کے لئے ان اصطلاحوں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔یہ جماعت آخر کون ہے؟ ان کے عقائد کیا ہیں؟ یا ان کے مذہب کو کس بنا پر مسلمانوں کے دیگر مسالک سے ممیز کیا جا سکتا ہے؟ ان سوالات پر عام طور سے مسلمان غور نہیں کرتے۔ اس کے بر عکس چند ایک ایسی علامتیں ہیں جن کے عوام و خواص میں پائے جانے پر ان کی اس شناخت کا تعین ہوتا ہے، مثلا ً اگر مجھے کسی شخص کو رضوی، بریلوی ، سنی، خانقاہی یا قبر پرست تصور کرنا ہے تو میرے لئے اتنا کافی ہے کہ میں کسی مسلمان شخص کے ظاہری چند ایک عقائد جس میں بالخصوص مزارات پر حاضری دینا، فاتحہ خوانی کروانا، نذر و نیاز کو اہمیت دینا، رفع یدین نہ کرنا، عید ملادالنبی منانا یا محرم، صفر، شعبان اور رمضان کو چھوڑ کر دیگر اسلامی مہینوں کی وضع کردہ رسومات کی پابندی کرتے ہوئے دیکھناوغیرہ کا بغور جائزہ لوں اور اسے ان اصطلاحوں میں سے کسی ایک سے نواز دوں۔ یہ مسلکی اور مذہبی شناخت قائم کرنے کا ایسا جہالت آمیز اور متعصب طریقہ ہے جو مسلمانوں میں ایک عرصے سے رائج ہے۔ اس رویے کے رواج پانے میں ایک دو دن کا وقفہ نہیں گزرا ہے بلکہ اس طرح کی شناخت عطا کرنے کا رواج مسلمانوں میں ایک زمانے سے عام رہا ہے۔ خاص کر ان اصطلاحوں کے حوالے سے بات کی جائے تو اس رویہ کی نشاۃ ثانیہ جدید اسلامی عہد میں1857 کے فورا بعد عمل میں آئی جس عہد میں شمالی ہند میں سنیت اور شاہ اسماعیلیت کے مجادلے نے ہوا پکڑی۔اس کی ایک لمبی تاریخ ہے کہ کس طرح اور کن کن مرحلوں سے ہوتے ہوئے اس عدم احتیاط اور پروپیگنڈے کے مزاج نے ہندوستان کے مسلم عوام کو اپنی گرفت میں لینا شروع کیا۔ اس بحث سے قطع نظر اس تاریخ سے واقفیت کی بنیاد پر اگر ہم مسلمانوں کے اس اصطلاح سازی اور اصطلاح درازی کے رویہ پر غور کریں تو ہمیں علم ہو گا کہ اس بریلویت اور رضویت جیسی احمقانہ اصطلاحوں کے پودے کس آب پاشی سے وجود میں آئے ہیں۔

 

افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب مسلمانوں میں اپنی مذہبی تاریخ سے دلچسپی کا

برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست کی مصنفہ اوشا سانیال
برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست کی مصنفہ اوشا سانیال

عنصر دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ مسلکی مناقشہ اور ان کے پیچیدہ مباحث تو کجا مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو اپنے مذہبی معاملات تک کا علم نہیں ہے۔ ایسے حالات میں “روئیے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں” کی صورت نمایاں ہوتی ہے۔ یہ بات میں اس موقع پر اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ اس کا مبین ثبوت اوشا سانیال کی کتاب سے ملتا ہے ۔ یہ بات بڑی عجیب و غریب اور حیرت انگیز ہے کہ جہاں ایک طرف مسلمانوں میں عوام و خواص کا یہ رویہ عصر حاضر میں عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ ان کو مسلمانوں کے سب سے بڑے مسلک اہل سنت و جماعت کے مسلکی اور مسلکی در مسلکی معاملات کا ذرا بھی علم نہیں ہے اس عہد میں ایک غیر مسلم عورت نے اس حوالے سے ایک جامع اور مبسوط تحقیقی مقالہ سپر قلم کر دیا۔ مسلم علما کی وہ مٹھی بھر جماعت جو ان مسلکی اور جدید اسلامی تحرکات کے زیر و زبر سے ایک زمانے سے واقف ہے ان کے لئے کیا کہا جائے کہ وہ اتنے اہم موضوع پر اب تک ایسی ایک بھی کتاب نہ لکھ سکےجس نوع کی کتاب اوشا سانیال نے اپنی لگن اور محنت سے چند بر سوں میں مرتب کر دی۔

 

اوشا سانیال نے اس کتاب کے مشمولات کا جس تدبر اور احتیاط سے جائزہ لیا ہے اس سے ان کی تحقیقی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس کتاب کے حوالے سے میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ صرف احمد رضاخاں اور ان کی تحریک اسلامی کے حوالے سے یہ ایک مستند ترین تھیسس ہے بلکہ جدید مسلم تحریکات و رجحانات سے واقفیت کے لئے جن چند ایک عالمی سطح کی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے اس کتاب کا اندارج بھی انھیں چند ایک کتب کی فہرست میں کیا جا سکتا ہے۔ اوشا سانیال نے اس کتاب کے مشمولات کا جس تدبر اور احتیاط سے جائزہ لیا ہے اس سے ان کی تحقیقی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ بات خود اپنے آپ میں کم حیرت کا باعث نہیں کہ اوشا سانیال نے اپنے تحقیقی مقالے کے لئے جس عہد کا انتخاب کیا تھا اس عہد میں مسلمانوں سے متعلق کئی ایک موضوعات کتب تاریخ کے حوالے سے ایک دوسرے میں اتنے مدغم ہو کر نمایاں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اس میں سے صرف اور صرف اعلیٰ حضرت اور ان کی تحریک کو منتخب کر کے تمام تر نکتہ رسی کے ساتھ ان مباحث کو اس الجھی ہوئی ڈور سے نکال لینا ایک مشکل ترین امر تھا۔ بریلویت بنام سنیت کس طور رائج ہوئی؟ مسلمانوں میں احمد رضا خاں بریلوی کی تحریک سے کس طرح کے رجحانات عام ہوئے؟ بریلویت کے مشتقات کیا کیا ہیں؟ خانقاہیت اور بریلویت میں کیا فرق ہے؟ ہندوستان میں سیاسی سطح پر سنیت یا بریلوی نظریات نے کس طرح اپنی شرکت ظاہر کی؟ نو آبادیاتی نظام کی کشمکش میں اس جدید اسلامی تحریک بنام رضویت نے کیا کردارادا کیا؟ یا انیسویں صدی کے نصف آخر سے بیسیویں صدی کے نصف اول کے عہد تک مسلکی خانہ جنگیوں سے مذہبی عقائد و نظریات کی تشکیل نو کا کام شمالی ہند میں کس طرح انجام دیا گیا؟ ایسے تمام اہم سوالات کے جوابات پر اوشا سانیال نے محققانہ اور ناقدانہ انداز میں غور کیا ہے اور اپنی تھیسس کے ذریعے ان اشکالات پر غیر جانبدار اور پر فہم مقدمات قائم کئے ہیں۔

 

اس کتاب کے مشمولات کے طور پر اوشا سانیال نےاظہار تشکر، تعارف، مسلسل نو ابواب، اختتامیہ، نتیجہ بحث اور ضمیمہ کو پیش کیا ہے ساتھ ہی کتاب کے آخر میں کتابیات کے عنوان سے ان تمام کتب کی فہرست بھی دے دی ہے جن کتب کے مدد سے انہوں نے اس تحقیقی مقالے کو پائے تکمیل تک پہنچایا۔ اوشا سانیال نے تمام مشمولات کو مستقل عناوین کے تحت تقسیم کیا ہے اور ہر حصے کو اتنے جامع اور مدلل عنوان کے تحت بانٹا ہے کہ کتاب کی مشمولات کے مطالعے سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مشمولات کتب اس طور ہیں :
تعارف:اہل سنت اور شناخت کی تشکیل : اواخر انیسویں صدی
باب اول: سیاست اور مذہب : اٹھا رویں صدی اور انیسویں صدی میں
باب دوم : سنی عالم مولانا احمد رضا خاں بریلوی
باب سوم : اہل سنت تحریک کی ادارتی اساس : 1880 کی دہائی سے 1920 کی دہائی تک
باب چہارم : مارہرہ کے سادات بر کاتیہ : اواخر انیسویں صدی
باب پنجم : مذہبی اقتدار اعلی کی شخصی تخصیص
باب ششم : مولانا احمد رضا خاں بریلوی کا تصور سنت
باب ہفتم: اہل سنت اور دوسرے مسلمان : اواخر انیسویں صدی
باب ہشتم: دیوبندیوں اور وہابیوں سے متعلق اہل سنت کے نظریات
باب نہم: خلافت، ہجرت اور ترک موالات کی تحریکات سے متعلق اہل سنت کا نقطہ نظر
اختتامیہ : پاکستان کے بارے میں اہل سنت کا نقطہ نظر
نتیجہ بحث :
ضمیمہ :
کتابیات : (Bibliography)

 

اس فہرست سے ہی کتاب کی جامعیت کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اوشا سانیال نے کتنی محنت اور جاں سوزی سے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر اس کتاب کے علاوہ کوئی دوسری کتاب اس قدر محققانہ انداز میں اب تک نہیں لکھی جا سکی ہے۔
اوشا سانیال نے یہ کتاب اصلا ً انگریزی زبان میں لکھی ہے ،بالخصوص اسی طرز پر جس طرز پہ بابرا مٹکاف نے اپنی کتاب Islamic Revival in British India: Deoband 1860-1900کو تصنیف کیا تھا۔ اردو والوں کی یہ کوتاہی ہے کہ اب تک بابرا مٹکاف کی دیوبندی تحریک سے متعلق اس اہم ترین کتاب کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ہے لیکن یہ بات بھی کم قابل ستائش نہیں کہ ہمارے درمیان وارث مظہری جیسے ذی علم اور سنجیدہ مترجم موجود ہیں جنہوں نے اوشا سانیال کی اس کتاب کو انگریزی سے نہ صرف یہ کے اردو قالب میں منتقل کیا بلکہ ترجمے کے ان تمام اصولوں کو بروئے کار لا کر یہ فریضہ انجام دیا جس کے باعث اوشا سانیال کےموقف کی واضح ترین انداز میں اردو داں حلقے تک ترسیل ہو سکی ۔ وارث مظہری ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامیات سے وابستہ ہیں اور وہاں استاذی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کتاب کے ترجمے میں انہوں نے کس تکنیک کو استعمال کیا ہے اس کا اظہار انہوں نے کتاب کے اردو ترجمے میں عرض مترجم کے طور پر کر دیا ہے۔ عرض مترجم میں انھوں نے ایک مقام پر اس بات پر افسوس کا بھی اظہار کیا ہے کہ بابرا مٹکاف کی کتاب کا اب تک اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ہے جب کہ اس کو مصنف نے آج سے تین دہائیوں قبل تمام تر مستند حوالوں سمیت مرتب کر دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس کتاب کا ترجمہ اردو کے علمی حلقوں خصوصاً مدارس کے لئے نہایت ہی مفید ثابت ہو گا۔

 

اب آخر میں اس کتاب کے ناشر جناب سید عبید الرحمن (ڈائرکٹر گلوبل میڈیا) نے عرض ناشر کے طور پر اپنے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کا ایک اقتباس بھی یہاں پیش کر دوں تاکہ اس کتاب کی اہمیت کو مزید واضح کیا جا سکے۔
“یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ ایک غیر جانب دار مصنفہ کے قلم سے ہے اور اپنے مو ضوع پر سیر حاصل مباحث پر مشتمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر اس کتاب کے علاوہ کوئی دوسری کتاب اس قدر محققانہ انداز میں اب تک نہیں لکھی جا سکی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر وارث مظہری نے اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی سعی مشکور کی اور گلوبل میڈیا نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ اس کے با وجود کہ گلوبل میڈیا انگلش میں منتخب کتابوں کی اشاعت کو ترجیح دیتا ہے تا ہم اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کی اس ادارے سے اشاعت عمل میں آرہی ہے ۔ گلوبل میڈیا کے پیش نظر شروع سے یہ بات رہی ہے کہ ایسی کتابوں کی اشاعت کو اہمیت دی جائے جو معیاری ہو نے کے ساتھ ساتھ اپنے موضوع کے لحاظ سے منفرد خصوصیات کی حامل ہوں۔ اس کا اندازہ اس ادارے کی فہرست کتب سے لگا یا جا سکتا ہے جو اس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔”
(صفحہ نمبر 5، عرض ناشر، سید عبید الرحمن )

 

کتاب حاصل کرنے کا پتہ اور ناشر کا ای-میل۔اور موبائل نمبر
Address:
Global Media Publications
E-42,Ground Floor,Abul fazl Enclave
Jamia Nagar New Delhi 25

 

Email:
syedurahman@gmail.com

 

Mobile No:
09818327757
Categories
تبصرہ

شعر شور انگیز:جلد اول-ایک مطالعہ

(1)

 

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

 

میر نے اس شعر میں جس طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے وہ مفہوم کو وسیع تناظر میں دیکھنے پر انگیز کرتا ہے۔
میرؔ نے دو تراکیب اور دو الفاظ کے سہارے شعر وضع کیا ہے۔ مصرع اول:ترکیب، پریشانی خاطر۔لفظ: قریں۔ مصرع دوئم:ترکیب :دل غم دیدہ لفظ: آنکھیں۔ مناسبت لفظی سے قطع نظر بقول فاروقی صاحب ’شعر کا مفہوم صاف ہے۔‘ سے مجھے اس حد تک اختلاف ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے بات نہیں بنتی۔ میر نے اس شعر میں جس طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے وہ مفہوم کو وسیع تناظر میں دیکھنے پر انگیز کرتا ہے۔ یہ امر بھی ناقابل فراموش ہے کہ فاروقی صاحب نے لفظ ’پریشانی (بکھراؤ)‘ اور ’ قریں(نزدیک)‘ کے معنی کی وضاحت جس انداز میں کی ہے اس سے مفہوم کی تہہ داری میں اضافہ ہوتا ہے۔ مصرعہ اولا میں جس استفسار سے بات کی شروعات کی گئی ہے اس سے شعر میں ذو معنویت پیدا ہو گئی ہے۔ایک معنی تو وہ ہی ہیں جس طرح فاروقی صاحب نے اس شعر کے دوسرے مصرعے کی تشریح کی ہے، کہ خیال یار میں عاشق گم ہے جس کی وجہ سے ایسا منظر پیدا ہو گیا ہے جس سے عاشق ’پریشانی خاطر‘ میں مبتلا ہے۔‘

 

’تھا‘ جو ماضی کا استعارہ ہے اس میں ایک منفی تاثر تو پوشیدہ ہے ہی، لیکن، ساتھ ہی وہ گذشتہ حالات کی وضاحت بھی کر رہا ہے کہ عاشق کو یا معشوق کو گویا آج ہی اپنا احتساب نصیب ہوا ہے
فاروقی صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسے مصرعے میں جس کیفیت کو میرؔ نے پیش کیا ہے اس سے ’پریشانی خاطر‘ کا جواز ملتا ہے۔ لیکن اس استفساری رویے میں اس کے بر عکس معنی بھی موجود ہیں ۔شعر پہ ذرا غور کیجئے تو سمجھ میں آتا ہے کہ میر ؔ خود سے یا کسی ماورائی شئے سے یہ سوال پو چھ رہے ہیں کہ کیا میں حقیقتاً کسی قسم یا کسی نوع کی پریشانی خاطر میں مبتلا تھا۔ ’تھا‘ جو ماضی کا استعارہ ہے اس میں ایک منفی تاثر تو پوشیدہ ہے ہی، لیکن، ساتھ ہی وہ گذشتہ حالات کی وضاحت بھی کر رہا ہے کہ عاشق کو یا معشوق کو گویا آج ہی اپنا احتساب نصیب ہوا ہے کہ کیا بات ہے کہ میں کسی بھی طرح کی پریشانی خاطر میں مبتلا نہیں ہوں، جب کہ زمانہ، میرا عاشق، میرا معشوق، دیگر رفقا ،صوفیااور ہر ذی روح کسی نہ کسی طرح کی پریشانی خاطر میں مبتلا ہیں۔ جو مجھے نصیب نہیں۔ لیکن، یہ بھی اظہاریہ کا حسن ہے کہ میں جب اس مصرعے کا مطالعہ کر تا ہوں تو تیسری قرۃ میں میرے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ چھا جا تی ہے گویا مجھے اس بات کا افسوس نہیں ہے کہ میں ابھی تک اس عارضے میں مبتلا نہیں ہوا۔ بلکہ مجھے اپنے اس روّیے پر ہنسی آرہی ہے۔ اس مسکراہٹ کو واعظ کی سفاکی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس سے میرؔ ایک ظالم اور خود غرض عاشق یا انسان کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں، خیر دوسرے مصرعے میں صرف مناسبت لفظی کا کھیل نظر نہیں آتا کہ میرؔ صرف اتنا کہہ کر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ’آنکھیں تو کہیں تھی اور دل غم دیدہ کہیں تھا‘ پھر بھی دونوں ایک ہی جسم میں موجود تھے۔ بر خلاف اس کے میر ؔ غزل کی ردیف کا عمدہ استعمال کرتے ہوئے اسی استفساری روئے کو یہاں بھی قائم رکھتے ہیں جس سے منفی تاثر کا اظہار ہوتا ہے کہ آنکھیں تو کہیں تھی یعنی جسم میں موجود تھی اور نظر آرہی تھیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ آنکھوں کہ ساتھ ساتھ دل بھی تھا (دل اور آنکھ میں ایک یہ بھی مناسبت ہے کہ دونوں عشق کے اصل آلۂ کار ہیں) لیکن ایسا دل جس نے کسی قسم کا غم دیکھا ہو یا کسی نوع کی پریشانی میں مبتلا ہو، کہیں نہیں تھا گویا اس سے اس بات کا بھی احتمال ہورہا ہے کہ میرؔ ایسے دل کو دل ہی نہیں مانتے جس میں غم نہ ہو، لیکن یہ احتمال برائے نام ہے۔ میرؔ اس بات کا سرے سے انکار کر رہے ہیں کہ یہاں تو عشق وشق نام کا کوئی جذبہ موجود ہی نہیں ہے۔ پھر کیسا غم اور کیسی پریشانی۔

 

کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

 

سودا ‘واہ’ کے شاعر ہوں یا نہ ہوں لیکن میر ؔ کے ایسے کلام سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ میر ؔ حقیقتاً ‘آہ’ کے شاعر تھے۔
اس شعر کے ذریعے اگر میرؔ کی شخصیت کا احتساب کیا جائے تو انھیں منٹو کے افسانے ’بو‘ کے رندھیر سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ فاروقی صاحب نے ’چشمک‘ کے معنی ’چھوٹی چھوٹی آنکھیں‘ بھی ہو سکتے ہیں۔‘ پر اکتفا کیا ہے جب کہ مجھے یقین ہے کہ میرؔ کی مراد وہی ہے جس کو سمجھنے میں فاروقی صاحب کامیاب رہے۔ اب دیکھئے کہ شاعری کے میرؔ میں اور اس میرؔ میں جسے گذشتہ دو صدیوں سے ایک آدم بیزار، دھیمے لہجے کا شاعر، صوفی، معتکف، اور آہ زدہ شاعر تسلیم کیا جا رہا ہے،اس میں اور اس میں کتنا فرق ہے۔ میں کہنے پر مجبور ہوں کہ سودا ‘واہ’ کے شاعر ہوں یا نہ ہوں لیکن میر ؔ کے ایسے کلام سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ میر ؔ حقیقتاً ‘آہ’ کے شاعر تھے لیکن وہ آہ میرؔ کی منہ سے کن وجوہات کی بنا پر نکلتی ہے اسے سمجھنے میں ہمارے بزرگوں سے غلطی ہوئی ہے۔

 

اب کوفت ہے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

 

فاروقی صاحب نے جس طرح اس شعر کی تشریح کی ہے، بعید العقل معلوم ہوتا ہے کہ میرؔ نے اس عام طبی مشاہدے کو نظم کیا ہے۔ جب کہ شعر کا مفہوم اور گزشتہ اشعار کی مانند اس شعر کے اظہاریے کا استفساری رویہ اس امر کی وضاحت کر رہا ہے، کہ یہ صریحاً جنسی مضمون ہے۔ جس کو میرؔ نے ایک نفسیاتی علاج کی صورت تجویز کیا ہے۔ شعر کا پہلا مصرع تسکین اوسط سے قبل استفسار پر مبنی ہے اور اس کی دوسری شق اور دوسرا مصرع اس استفسار کا جواز۔ اس کی نثر کچھ اس طرح ہوگی کہ: ’جہاں تن (اس تن) پہ تو نے ہاتھ رکھا۔ اس غم ہجراں یا صاف الفاظ میں محبوب کے دور جانے کا جتنا درد و الم تھا سب جاتا رہا، گویااس فعل سے یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ سارا درد جسے تو ’یہاں‘ کا درد سمجھ رہا تھا حقیقتاً وہ ’وہاں‘ کادرد تھا۔ ’وہیں‘ سے میرؔ نے جو کھیل رچاہے وہ بہت خوب ہے۔ ’وہیں‘ یا ’وہاں‘ الفاظ کا استعمال ہم عام بول چال میں بھی دل کے لئے نہیں کرتے ۔سینے یا دل میں درد ہو بھی تو اس کے لئے لفظ اشارہ ’ یہاں‘ یا ’یہیں‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے باوجود لفظ ’ یہاں ‘ کی بحث چھوڑ بھی دی جائے تو ’وہیں‘ سے دل مراد نہیں لیا جا سکتا۔ فاروقی صاحب سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے لفظ ’جہاں‘ کو ’جس جگہ‘ کے معنی میں سمجھا، جب کہ ’جہاں‘ کا استعمال ’جس گھڑی‘ کے معنی میں ہوا ہے۔اس صورت میں ’جہاں‘ لفظ ’وہیں‘ کا جواز پیش نہیں کرتا اور اس سے اسی جنسیت کے مضمون کی جانب اشارہ ہوتا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا۔ اب یہ جنسیت ’منٹو‘ والی ہے یا ’میراجی‘ والی اس کا فیصلہ قاری کے مزاج کے مطابق ہو گا۔

 

(2)

 

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

 

چلیے وقتی طور پر مان لیجئے کہ مصرع میں: ہے، جو، کوئی یا کا اضافی ہیں تو کیا آپ انھیں مصرع سے نکال دیں گے، اور کیا یہ اتنے ہی غیر ضروری ہیں جتنا انھیں سمجھا جا رہا ہے؟
اس شعر کے ضمن میں فاروقی صاحب کے اس تنقیدی رویے سے مجھے اختلاف ہے جس کو وہ اکثر شعرا کے اشعار پر تنقید کرتے وقت روا رکھتے ہیں۔ مثلاً مصرعِ اولیٰ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’چشمہ کے ساتھ ’پانی کا‘ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔‘ یا ’مصرع میں بھرتی کے الفاظ بہت ہیں۔‘ آگے اپنے ہی بیان کی تردیدمیں کہہ گئے کہ ’یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اگر چہ لفظ ’چشمہ‘ خود ہی ’پانی‘ کا مفہوم رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ’پانی‘ کا لفظ اکثر استعمال ہوتا ہے۔‘ اس کے بعد ’خضر راہ‘ سے اقبال کا ایک لا جواب شعر پیش کیا ہے۔ اول بات جب ’پانی‘ کی موجودگی کی دلیل مل گئی تھی تو اس جملے کو سرے سے کاٹ دینا چاہئے تھا کہ ’چشمہ کے ساتھ ’پانی کا‘ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔‘ دوسری بات یہ کہ ہمیں اس بات پر زور نہیں دیناچاہئے کہ شاعر نے فلاں لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔اس لئے کہ شاعر کو الفاظ کے استعمال کی آزادی ہے۔ (اور نہ کہ میرؔ جیسے شاعر جو ایک ایک لفظ کو سجا، بنا کر استعمال کرتے ہیں) اس کے بر عکس اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کیا شاعر اس لفظ کا استعمال کر کے شعر بنانے میں کامیاب ہوا ہے، فاروقی صاحب نے اس شعر میں ’حشو و زواید‘ کا عیب بھی گنایا ہے ،کہ’مصرع میں بھرتی کے الفاظ بہت ہیں۔‘ حالاں کہ مصرع میں الفاظ ہی کتنے ہیں، چلیے وقتی طور پر مان لیجئے کہ مصرع میں: ہے، جو، کوئی یا کا اضافی ہیں تو کیا آپ انھیں مصرع سے نکال دیں گے، اور کیا یہ اتنے ہی غیر ضروری ہیں جتنا انھیں سمجھا جا رہا ہے؟ کیا یہ شعر میں موسیقی کی تکمیل کا کام انجام نہیں دے رہے ؟معنوی اعتبار سے ہو سکتا ہے کہ کسی لفظ کے بنا بات مکمل ہو سکتی ہے، لیکن شعر کے Musical System میں ہر لفظ کی اپنی اہمیت ہے جس کا نعم البدل بھی تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ہو سکتا ہے میرؔ ’ہے، جو، کوئی یا کا‘ کا استعمال نہ کرتے تو اس سے اچھا شعر بن جاتا۔ لیکن، یہ بھی ممکن ہے کہ اس مفہوم کی ادائیگی میں میرؔ ان الفاظ کا استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہوں کہ ان کے نعم البدل سے شعر کی صورت اور خراب ہو جائے گی۔مجموعی طور پر کوئی شعر اگر خراب ہے تب تو اس میں حشو و زواید کی اغلاط گنوائی جا سکتی ہیں لیکن اچھا شعر خواہ اس میں کتنے ہی الفاظ بھرتی کے ہوں اس میں یہ عیب گنانا غیر معقول فعل ہے۔

 

اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں
نقش کا سا ہے سما میری بھی حیرانی کا

 

فاروقی صاحب نے نقش سے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ بالکل درست ہے ۔نقش میں ’سحر‘ کی بھی کیفیت ہے، لیکن میر ؔ کے جس دوسرے شعر کو اس شعر کے مفہوم کے عین مطابق قرار دیا ہے اس پہ کسی حد تک سوال قائم ہوتا ہے۔

 

رہیں ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں

 

اس شعر کو سمجھنے میں فاروقی صاحب کتنے کامیاب رہے ہیں اس سے قطع نظر اس شعر کو مندرجہ بالا شعر کے مماثل قرار دینے میں ’وہی‘ کا ابہام آڑے آتا ہے۔
اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں

 

اس مصرع میں میرؔ نے ’وہی‘ کے التزام سے گیرائی پیدا کر دی ہے، جس سے دو نوں اشعار معنوی اعتبار سے مختلف ہو گئے ہیں۔’وہی‘ میں پست اور بلند دونوں معنی ہیں۔ ’وہی‘ سے ’وہیں‘ کی طرف بھی ذہن جاتا ہے جس پر اوپر بحث ہو چکی ہے اور’وہی‘ میں متصوفانہ رنگ بھی پوشیدہ ہے۔

 

(3)

 

شب ہجر میں کم تظلم کیا
کہ ہمسایگاں پر ترحم کیا

 

اس شعر کی سب سے اہم بات ہے کہ جہاں زیادہ تر شعرا نے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے ’رات‘ اور ’رونے‘ کے الفاظ کا استعمال کیا ہے، وہیں میرؔ نے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے ’شب‘اور ’تظلم‘ جیسے الفاظ کا سہارا لیا ہے۔
اس شعر کی سب سے اہم بات ہے کہ جہاں زیادہ تر شعرا نے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے ’رات‘ اور ’رونے‘ کے الفاظ کا استعمال کیا ہے، وہیں میرؔ نے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے ’شب‘اور ’تظلم‘ جیسے الفاظ کا سہارا لیا ہے۔ شب تو بہر حال ادائے مطا لب کے لئے عام ہے لیکن تظلم جیسے الفاظ کو غزل کے شعر میں اس خوبی سے استعمال کرنا میرؔ کا ہی خاصہ ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس شعر میں میرؔ نے تظلم یا آہ و زاری کا جواز پیش کیا ہے کہ ’شب ہجر ‘ہے اس لئے تظلم کی نوبت آن پہنچی اور اس پر بھی یہ طنطنہ کہ اس حالت میں بھی مجھے ہمسائگاں کا خیال ہے ۔بقول فاروقی صاحب ’بے چارگی میں بھی اپنی وقعت دیکھنا میرؔ کا ہی کرشمہ ہے۔‘ یہ میرؔ کی بڑی خاصیت ہے جس جانب فاروقی صاحب نے ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔فاروقی صاحب نے اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے خاقانی ؔ کا ایک شعر رقم کیا ہے۔

 

ہمسایہ شنید نالہ ام گفت
خاقانیؔ را دگر شب آمد
(ترجمہ: پڑوسی نے میرا نالہ سنا تو بولا، خاقانی پر ایک اور رات آ گئی۔)

 

نیچے لکھتے ہیں ’اس شعر اور میرؔ کے شعر پر مزید بحث ’شعر، غیر شعر، اور نثر‘ میں ملاحظہ کریں۔‘ جس سے گمان گزرتا ہے کہ فاروقی صاحب نے خاقانیؔ کے شعر اور میرؔ کے ’تظلم‘والے شعر پر اپنے مضمون میں بحث کی ہے۔جس کے بر عکس فاروقی صاحب نے میرؔ کے مندرجہ ذیل شعر جس کا مفہوم کچھ حد تک اس شعر سے مشابہ ہے پر بحث کی ہے۔

 

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

 

فاروقی صاحب نے اپنی بحث میں مصحفیؔ اور میرحسنؔ کے یہ اشعار بھی شامل کئے ہیں۔
جو تو اے مصحفیؔ راتوں کو اس شدت سے رووے گا
تو میری جان پھر کیوں کر کوئی ہمسایہ سوئے گا

 

پھر چھیڑا حسنؔ اپنا قصہ
بس آج کی شب بھی سو چکے ہم

 

افسوس کہ فاروقی صاحب نے خاقانیؔ کے شعر کا موازنہ میرؔ کے’تظلم‘ والے شعر سے نہ کرتے ہوئے اسی مفہوم کے ایک ہلکے شعر سے کیا،اسی طرح دردؔ کے اسی مفہوم سے متعلق اس لا جواب شعر کو اپنی بحث میں شامل نہ کیا کہ:

 

رکھتا ہوں ایسے طالع بیدار میں کہ رات
ہمسایہ میرے نالوں کی دولت نہ سو سکا

 

دولت جو بمعنی بدولت استعمال ہوا ہے اس میں بھی شاعر نے یہ خیال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کے میرے نالے ہی حقیقتاً میری دولت یا میرا کل اثاثہ ہیں۔
رعایت لفظی کا کھیل دیکھئے کہ سونا اور بیدار کا تضاد سوائے دردؔ کے کسی نے قائم نہیں کیا۔ دولت جو بمعنی بدولت استعمال ہوا ہے اس میں بھی شاعر نے یہ خیال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کے میرے نالے ہی حقیقتاً میری دولت یا میرا کل اثاثہ ہیں۔اس سے یہ احتمال بھی ہوتا ہے کہ آہ و زاری کوئی نقصان کا سودا نہیں بلکہ منفعت بخش عمل ہے ۔دردؔ اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ میری طالع بیداری یا میری خوش قسمتی ہے کہ میرے پاس نالوں کی دولت ہے ۔لیکن ساتھ ہی انہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ میری اس دولت کی بدولت میرا ہمسایہ سو نہیں پاتا تو یہ دولت کس کام کی کہ میں ایذا رسانی کا سبب بن رہا ہوں ،کتنی عمدگی سے متضاد کیفیت پیدا کی ہے کہ جو سرمایہ باعثِ افتخار ہے حقیقتاً وہی وجہ افسوس۔ طالع بیدا ر کے ایک معنی ’معشوق‘ بھی ہیں، جس سے شعر کی صورت مختلف ہو جاتی ہے ۔پھر بھی دردؔ کا شعر کسی طرح میرؔ کے’ تظلم‘والے شعر سے کمتر نہیں معلوم ہوتا۔ جبکہ خاقانی ؔ، حسنؔ اور مصحفی ؔ کے ساتھ میرؔ کے ’جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا‘ کے اشعار سے بڑھا ہوا ہے۔

 

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

 

اس شعر کی تشریح فاروقی صاحب نے جس انداز میں کی ہے یا گوپی چند نارنگ نے جس طرح شعر کا عقدہ سلجھایا ہے، کچھ باتوں کو چھوڑ کر مجھے ان سے صد فی صد اتفاق ہے ۔لیکن میں نے اس شعرکو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ جس کی ہلکی سی جھلک بھی ان دونو ں ناقدین کی تشریحات میں نظر نہیں آتی۔ جہاں تک اختلاف کی بات ہے تو مجھے فاروقی صاحب کے اس جملے سے اختلاف ہے کہ ’پہلے مصرع میں جو سوال ہے اس کا مخاطب کوئی نہیں۔ وہ کلی تو ہر گز نہیں جس نے اسے سن کر جواب دیا۔بلکہ محض تبسم کیا ہے۔‘ اس کے علاوہ خود کلامی، اظہارِ حیرت جیسے مفروضے بھی ہیں،لیکن ان کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فاروقی صاحب کی اپنی رائے ہے۔ اسی طرح انہوں نے کلی کی مسکراہٹ کو جن وجوہات کی بنا پرعام اشارہ، طنزیا انداز یا الم ناک و قار وغیرہ سے تعبیر کیا ہے یہ سب ذاتی آرا ء کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن پر سوال قائم نہیں کیا جا سکتا ۔رہی نارنگ صاحب کی بات تو مجھے ان کی تشریح میں اس جملے سے اختلاف ہے جو بہر حال مجھے پسند آیاکہ انہوں نے فارو قی صاحب سے یا ایک حد تک سب سے مختلف رائے قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنے مضمون ’اسلوبیات میر‘ میں اس شعر کے ضمن میں فرماتے ہیں۔ ’مکالمہ جاندار اور بے جان کے پیچ میں ہے۔‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا حقیقتاً کوئی شخص یا ذی رو ح ہے ۔اس جملے سے شعر کو سمجھنے کی ایک نئی جہت فراہم ہوتی ہے۔ جس کی جھلک فاروقی صاحب کی تشریح میں نظر نہیں آتی۔ لیکن میں ان سے اس حد تک اختلاف رکھتا ہوں کہ میری تشریح ان کے اس خیال کی تر دید کرتی ہے ورنہ شعر کو دیکھنے کا ایک رخ یہ بھی ہو سکتا ہے۔

 

میر ؔ کا یہ کمال ہے کہ اس نے معشوق کو بیک وقت ’گل‘ اور ’کلی‘ دو استعاروں سے نو ازا ہے۔ کردار ایک ہی ہے پر نام دو ہیں۔
نارنگ صاحب سے چوک ہوئی کہ انہوں نے صرف خطیب پر نگاہ کی اور بظاہر معنی سے استفادہ کرتے ہوئے مخاطب کی شخصیت کا بغور جائزہ نہیں لیا ورنہ انھیں محسوس ہوتا کہ مکالمہ جاندار اور بے جان کے پیچ نہیں، بلکہ دو ذی روح اشخاص کے درمیان ہو رہا ہے۔ شعر میں بنیادی طور پر دو کردار ہیں۔ ایک عاشق دوسرا معشوق۔ عاشق وہ ہے جو سوال پوچھ رہا ہے اور معشوق وہ ہے جو جواباً مسکرا رہا ہے۔ میر ؔ کا یہ کمال ہے کہ اس نے معشوق کو بیک وقت ’گل‘ اور ’کلی‘ دو استعاروں سے نو ازا ہے۔ کردار ایک ہی ہے پر نام دو ہیں۔ لہٰذا جب عاشق اپنے معشوق سے یہ سوال کرتا ہے کہ آج اس خلوت خانے میں تمہارا ثبات یا پائداری یا قیام کتنا ہے۔ تو اس ’ کتنا‘ میں جھلّاہٹ اور خفگی کے ملے جلے اثرات نظر آتے ہیں۔ جس سے اس بات کا بھی اظہار ہو رہاہے کہ کل تو تم آتے ہی چل دئے تھے لہٰذا کیا آج بھی وہی کرنے کا ارادہ ہے۔ کلی (جو معشوق کا دوسرا استعارہ ہے۔) نے جیسے ہی اپنے عاشق کا یہ شکوہ سنا تو وہ مسکرا اٹھی۔اس مسکرا ہٹ میں چھیڑ چھاڑ بھی ہے اور قیام کے اقرار کا اظہار بھی۔ مزاجاً بھی شعر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ میرؔ صاحب کا کمال ہے کہ انہوں نے یہاں بھی متضاد رویہ بخوبی برقرار رکھا ہے ۔پہلے مصرع میں اگر خفت اور ناراضگی کا اثر ہے تو دوسرے میں لفظ مسکراہٹ سے پورا ماحول خوشگوار بنا دیا ہے۔

 

زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان
کیا خاک و خشت سرخم کیا

 

فاروقی صاحب اس شعر کے متعلق ایک مقام پر فرماتے ہیں ’خاک ہونے پر کوئی غم نہیں ہے‘ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اسی کے ساتھ جب یہ کہتے ہیں کہ شعر میں ’ہٹ دھرمی سے ابھرا ہوا غرو رہے‘ تواس کاجوازکہیں نظر نہیںآتا۔ہٹ دھر می اس صورت میں ہوتی جب میر ؔ صاحب شعر اس طرح کہتے کہ:

 

زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان
کیا خاک و خشت سر خم ہوا

 

لیکن میر ؔ نے ’ہوا‘ کی جگہ شعر میں ’کیا‘ کا استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی واضح طور پر یہ ہیں کہ جس نے خاک کیا اسی نے خشت سر خم بھی کیا۔ میرؔ صاحب اس ذات کا اعتراف کر رہے ہیں جسے وہ ’زمانے‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں کہ اس نے مجھے خاک تو کیا اور خاک ہونا میرا مقدر بھی تھا کہ ہر وہ شخص جو جرعہ کشی کے عمل میں مبتلا ہوتا ہے اآخر کار اسے خاک ہونا ہی پڑتا ہے۔ اسی مفہوم کا ایک شعر میر دردؔ کے یہاں بھی ملتا ہے جس پر شاید فاروقی صاحب کی نگاہ نہیں پہنچی اور وہ رندؔ اور خیامؔ تک بہنچ گئے کہ:

 

زمانے کی نہ دیکھی جرعہ ریزی درد کچھ تو نے
ملایا مثلِ مینا خاک میں خوں ہر شرابی کیا

 

درد ؔ کے شعر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ ’شعر میں ایک طنزیہ پہلو بھی ہے‘ لیکن میرؔ کے شعر میں وہ طنزیہ پہلو کہیں نظر نہیں آتا
درد ؔ کے شعر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ ’شعر میں ایک طنزیہ پہلو بھی ہے‘ لیکن میرؔ کے شعر میں وہ طنزیہ پہلو کہیں نظر نہیں آتا بلکہ ہٹ دھرمی کے برعکس ایک التفات کی جھلک ہے کہ اس نے، جس کے تصرف میں ہے کہ جب چاہے خاک میں ملا دے اور جب چاہے پھر خلق کرے۔ اس نے خاک میں ملانے کے باجود ہم پر یہ کرم کیا کہ ہمیں خشت سر خم بنا دیا۔ جس کی وجہہ سے ہم ہر وقت ہر لمحے اپنے مقصود یا محبوب کا دیدار کر سکتے ہیں۔ ایک جگہ فاروقی صاحب نے خود بھی اس مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن ’طنزیہ پہلو‘ کو ملحوظ رکھنے کی وجہہ سے اس مفہوم سے آگے نکل گئے۔ فرماتے ہیں۔ ’شعر میں ایک طنزیہ پہلو بھی ہے کہ جب تک میں زندہ رہا ،صرف بوند بوند شراب ملتی رہی، لیکن جب میں خاک ہو گیا تو مجھے خم کے سر پر بٹھا دیا۔اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ خشت خم چونکہ ڈھکنے کا کام کرتی ہے۔اس لئے شراب سے مجھے اتنی محبت ہے کہ مرنے کے بعد بھی خم کو ڈھانک رہا ہوں۔تاکہ شراب ضائع نہ ہو۔‘ اسی لئے انھیں یہ گمان گزرتا ہے کہ’شعر کا انداز بظاہر محزونی کا ہے، لیکن شاعر کا غرور پسِ پردہ جھانک رہا ہے۔‘ جب کہ شعر میں نہ محزونیت ہے نہ پس پردہ کسی قسم کا غرور۔

 

(4)
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

 

اس شعرمیں بنیادی کردا ر ’بیماری دل‘نے ادا کیا ہے۔ جب کہ دوسرے شعر میں جسے فاروقی صاحب نے اس شعر کا ہم مضمون قرار دیا ہے :

 

نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میں
آخر انھیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا

 

اس میں ’دواؤں‘ کے کرنے نے اہم رول ادا کیا ہے۔پہلے شعر میں شاعر اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ یہ میری غلطی ہے کہ میں نے انجام کار پر غور کر کے جو نتیجہ نکالا تھا وہ پوری طرح سے الٹ گیااور وہ تمام دوائیں جن کا اہتمام اس نتیجے کی بنیاد پر کیا گیا تھا جونتیجہ غلط نکلا۔ اس لئے تمام دوائیں بھی بے کار ثابت ہوئیں ۔اور دوسرے مصرع میں وہ (شاعر) اس بیان کی دلیل پیش کر رہا ہے کہ میں غلط نتیجے پر ہر گز نہ پہنچتا لیکن کیا کروں کہ یہ بیماری دل ،پریشانی خاطر جو ہے اس نے مجھے کسی کام کا نہیں رکھ چھوڑا۔ ’آخر کام تمام کیا‘ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اب تمہاری یہ حالت بچی ہی نہیں ہے کہ تم کسی کام کو انجام دے سکو،لیکن اس میں مزید ایک پہلو یہ بھی پوشیدہ ہے کہ’آخر کام تمام کیا‘کی تکرار پورے شعرکو ایک مثبت معنی بھی فراہم کر دیتی ہے۔ وہ مثبت معنی یہ ہیں کہ ہماری ساری تدبیریں بھی الٹی ہو گئیں جو اس نے کسی کام کو انجام دینے کے لئے بنائی تھیں اور ان دواؤں نے بھی کچھ کام نہ کیا جو معاون ثابت ہو سکتی تھیں ،پھر بھی یہ کمالِ بیماری ہے کہ اس نے آخر کام کو انجام دے ہی دیا۔دیکھا میں ایک طرح کی مسرت ہے کہ’لیکن دیکھا تم نے آخر کام تمام ہو ہی گیا‘۔ اس کے بر عکس دوسرے شعر میں میرؔ صاحب نے دواؤں سے جو کام لیا ہے اس نے شعر کی صورت بالکل مختلف بنا دی ہے۔ یہاں تو شاعر یہ اعتراف کر رہا ہے کہ ابتدا میں تو دوائیں اثر کر رہی تھیں بلکہ فائدہ بھی پہنچا رہی تھیں، لیکن اچانک انھیں دواؤں نے نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ بقول فاروقی صاحب یہ ایک طبی مشاہدہ ہے کہ جو دوائیں شروعات میں فائدہ پہنچاتی ہیں، کبھی کبھی انھیں سے آگے چل کر نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ بہر کیف جہاں تک شعر کے خارجی اثرات کا تعلق ہے۔ یہ شعر میر ؔ کے دوسرے شعر (الٹی ہو گئیں ۔۔) سے کمزور ہے، کیوں کہ اس شعر میں میرؔ نے بیماری کو علاج سے تعبیر کیا ہے۔ جس سے شعر کا حسن بڑھ گیا ہے۔

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
ہم:ما،آپ :ہم۔ جمع متکلم۔ تہمت:بہتان، جھوٹ لگانا،الزام۔ عبث:بے فائدہ۔
تشریح کے نام پر تین جملے ،
‘چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں ‘کہہ کر دلیل فراہم کر دی ہے۔
‘دلیل ‘جبر کی ہے یا قدر کی ؟
‘ہم کو عبث بد نام کیا ‘میں ایک درویشانہ بلکہ قلندرانہ شوخی بھی ہے۔ وہ شوخی کیا ہے؟
‘جاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں’

 

قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں خدا نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ وہ ’فعال لمایرید‘ ہے۔ ’چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں‘ سے اگر فاروقی صاحب ’فعال لمایرید‘ تک پہنچتے ہیں تو اس سے اس بات علم ہوتا ہے کہ انہوں شعر کو جبریہ تناظر میں دیکھا ہے۔
قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں خدا نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ وہ ’فعال لمایرید‘ ہے۔ یعنی وہ جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے۔ ’چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں‘ سے اگر فاروقی صاحب ’فعال لمایرید‘ تک پہنچتے ہیں تو اس سے اس بات علم ہوتا ہے کہ انہوں شعر کو جبریہ تناظر میں دیکھا ہے۔ جو شعر کا سیدھا سیدھا معنی ہے اور جسے سمجھنے میں کسی طرح کی محنت کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ شعر کا ایک رخ ہے جسے فاروقی صاحب نے پوری طرح واضح بھی نہیں کیا ہے۔ درد ؔ کا جو شعر انہوں نے پیش کیا ہے اور اس پر جس طرح اظہار خیال کیا ہے۔ اس پر یہاں کچھ کہنا درست نہیں۔ لہٰذا اتنا کہہ کر آگے بڑھتے ہیں کہ درد کا شعر میرؔ کے شعر سے بہت قریب ہے، لیکن دو وجوہات کی بنا پر میر ؔ، دردؔ پر سبقت لے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ درد ؔ ’ہم‘صیغہ جمع متکلم سے وہ کھیل نہیں کر پائے جو میر ؔ صاحب نے کیا اور دوسری بات یہ کہ دردؔ ’مجبور اور مختار‘ کہنے پر مجبور ہو گئے ،جبکہ میر ؔ نے مجبور سے مختار ی کے معنی نکال لئے۔

 

ہم سب جانتے ہیں کہ جبریہ اور قدریہ حقیقتاً دو فرقے ہیں، جو اپنی اپنی نوعیت سے ہم کو یا خود کو مجبور محض یا مختار کل مانتے ہیں، اسی طرح جبر اور قدر تصوف کی دو اصطلاحیں بھی ہیں۔ اگر جبریہ ایمان لاو تو قدر ہاتھ سے جاتا ہے اور اگر قدریہ ایمان ہو تو جبر گیا حالاں کہ صوفیہ متقدّمین ،متاخرین اکابر علما، فقہا کے یہاں اس کا امتزاج نظر آتا ہے۔ میر کے شعر کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے شعر میں اس امتزاج ملحوظ نہیں رکھا۔
فاروقی صاحب کے کلمات کی روشنی میں جبر تک ہماری رسائی با آسانی ہوتی ہے۔ اب قدر ملاحظہ کیجئے۔

 

دراصل میر ؔ صاحب نے شعر ’ہم‘ کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے ۔ کہ ’ہم ‘ یعنی صیغہ جمع متکلم اس شعر میں دو صورتوں میں استعمال ہوا ہے ایک ’جمع متکلم‘ایک ’واحد متکلم‘ ’ما بہ صورتِ من‘ پہلا مصرع استفہامیہ ہے۔

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی؟

 

اور اس میں’ ہم‘صیغہ جمع متکلم طنزیہ انداز میں استعمال کیاگیا ہے۔ گویہ کوئی ہماری بات کو دہرا ررہا ہے کہ آپ کو اس بات کا زعم ہے کہ آپ پر یہ تہمت ہے ،الزام ہے ،بہتان ہے یا جھوٹ لگایا گیا ہے (جھوٹ لگانا اور ناحق کی مناسبت بھی خوب ہے) کہ آپ اپنے عمل میں مختار نہیں؟ اس استہفام میں یہ خیال مضمر ہے کہ آپ اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ ہم نہیں، اس مصرع میں سوالیہ نشان کی گنجائش نکالنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں پھر بھی یہ ہماری شعری روایت ہے کہ ہم شعر کے پہلے مصرع کو دو مرتبہ ادا کرتے ہیں ،لہذا شعر کی صورت کچھ یوں بنتی ہے،

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختوری کی (متکلم )
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختوری کی؟ (متکلم ثانی :طنز)
چانتے ہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

 

تہمت کا استعمال بھی بہت خوب ہے کہ کیا پتہ اس میں آپ کا کیا فائدہ چھپا ہے۔ کوئی ایسا فائدہ ہو سکتا ہے جو بظاہر نظر نہ آتا ہو، لیکن اسی الزام، تہمت یا بہتان سے آپ کو اپنی عمل کی مختاری کا حق ملتا ہو
دوسرے مصرع میں اور واضح انداز میں یہ نظر آرہا ہے کہ جو چاہتے ہیں وہ خود کرتے ہیں ہم کو بیکار، بے فائدہ بد نام کیا ہوا ہے۔ تہمت کا استعمال بھی بہت خوب ہے کہ کیا پتہ اس میں آپ کا کیا فائدہ چھپا ہے۔ کوئی ایسا فائدہ ہو سکتا ہے جو بظاہر نظر نہ آتا ہو ،لیکن اسی الزام، تہمت یا بہتان سے آپ کو اپنی عمل کی مختاری کا حق ملتا ہو۔

 

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
فاروقی صاحب اس شعر اور سودا کے شعر کا موازنہ کر تے رہے انہیں اس بات کی فرصت ہی نہ ملی کہ شعر پر غور کرتے ،تاکہ اس کے اصل معنی تک رسائی ہو سکے۔

 

بہر کیف اس شعر کا پورا نظام لفظ ’اس‘ پر قائم ہے ۔
اس (مظلوب)
اس (غیر مطلوب)
اسی طرض سجدہ کی بھی دو صورتیں ہیں
پہلی : سجدۂ ایمانی
دوسری سجدۂ کفر
دونوں طرح سے شعر کو سمجھا جا سکتا ہے۔

 

‘اس کی اور’ سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس کی اور؟ اس طرح سجدہ ہر ہر گام کیا سے ایک معنی یہ بھی نکلتے ہیں کہ ہم اس کی اور جا رہے تھے اور کوسوں گئے بھی مگر ہم نے تجھ کو فراموش نہیں کیا ۔ ہر ہر قدم پر تیری یاد ساتھ رہی لہذا ہم تیری اور بھی آرہے تھے۔ یہ ایک متضاد کیفیت ہے کہ بیک وقت دو نوں سمت یا دونوں اور ہمارا سفر جاری تھا۔ اسی بنا پر پہلے مصرع میں بھی متضاد کیفیت برقرار رہتی ہے کہ ہم ایک طرح کے عالم وحشت میں تھے ۔ اس لئے اپنے کسی عمل کے ذمہ دار نہیں تھے ۔ پھر بھی ہم سے یہ بے ادبی کم ہی سرزد ہوئی کہ ہم تجھے بھول جاتے ۔ اب یہاں بھی بے ادبی کس کی شان میں ہوئی ظاہر نہیں ہوتا۔ اس کی شان جس کی اور جا رہے ہیں یا اس کی شان میں جسے سجدہ کر رہے ہیں۔

 

ایسے آہو رم خودہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
اعجاز رام
معجزہ مطیع،تابیدار
آہو رم خودرہ وحشت

 

فاروقی صاحب نے ’کافر اورمومن‘ کا جواز سحر اور اعجاز سے پیش کیا ہے، جبکہ یہ تصور بعید از قیاس ہے کہ میر ؔ صاحب نے اس بنیاد پر شعر میں سحر اور اعجاز باندھا ہو
فاروقی صاحب نے ’کافر اورمومن‘ کا جواز سحر اور اعجاز سے پیش کیا ہے، جبکہ یہ تصور بعید از قیاس ہے کہ میر ؔ صاحب نے اس بنیاد پر شعر میں سحر اور اعجاز باندھا ہو ’جادو کرنا کفر ہے ‘یا’ معجزہ صرف نبی سے سرزد ہو سکتا ہے‘ اتنی سطحی باتیں ہیں جو روایتی مولویوں کے علاوہ کسی اور کے ذہن میں نہیں آ سکتیں۔اس پر یہ خیال کرنا کہ میرؔ صاحب نے ایسا خیال باندھا ہوگا یہ میر ؔ کو ہر گز زیب نہیں دیتا، یہ غیر شاعرانہ تشریح ہے۔

 

شعر کے سیدھے سیدھے معنی یہ ہیں کہ شاعر معشوق کو آہو رم خوردہ کہہ رہا ہے۔ ساتھ ہی اپنی وحشت کا تذکرہ کر رہا ہے کہ میں اس آہو رم خوردہ کے عشق میں گرفتار ہوں، جسے میں رام نہ کر سکا یا جسے میں اپنا نہ بنا سکا اور وہ لوگ کیسے ساحر اور موجزہ کار ہوں گے جس کے حصے میں ایسا معشوق آیا۔ سحر اور اعجاز کا لفظ میرؔ نے اپنے رقیبوں کے لئے استعمال کیا ہے۔ جس سے میر صاحب کے منفرد انداز کا علم ہوتا ہے کہ جہاں اس عہد کی شاعری میں رقیب کو گالیاں دینے کا چلن تھا وہیں میر ؔ صاحب اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔
Categories
تبصرہ

نغمات الاسرار فی مقامات الابرار: ایک تجزیاتی مطالعہ

تعین قدر کا مسئلہ اکیسویں صدی میں بالکل نئے انداز میں از سر نو زیر بحث آیا ہے، جس میں ہر طرح کی ادبی اقدار پر سوال قائم کئے جا رہے ہیں، شعر کی تفہیم، اس کی اصنافی حیثیت اور شعریت کے ابواب بھی عصر حاضر میں شعری قواعد کو دوبارہ مرتب کرنے میں کوشاں ہیں۔ شاعری یا علم شعر کے بعض مسلم الثبوت قواعد ایسے تھے جن پر جدیدیت کے زمانے تک کوئی سوال قائم نہیں کیے گیے تھے، ان پر بھی ما بعد جدیدیت کے عہد میں استفہامی نشان لگ گئے۔ میر، غالب، داغ، اقبال اور فیض جیسے اردو زبان کے بڑے شعرا کے کلام کو اکیسویں صدی کے اس موڑ پر دوبارہ جانچا اور پرکھا جانے لگا جب سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کی مختلف النوع آرا ایک پلیٹ فارم پر آ کر جمع ہونے لگیں، اردو ادب کے وہ مسلمات جو بیسویں صدی کے نصف آخر تک باہمی گفت و شنید کی عالمی حکمت عملیوں سے محروم تھے، انہوں نے اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی اپنی مسلم الثبوتیت کو خیرباد کہہ دیا، ایسے عہد میں کسی بھی شعری کاوش پر آخری اظہار خیال کرنا اور اس کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سنانا ہر گز ممکن نہیں رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ شعر کی تفہیم نے سائنس اور عمرانیات کے جدید اصولوں کی روشنی میں اپنے وجود کو جس تنوع سے ہم آہنگ کیا ہے اس کے حاصل کے طور پر کوئی ایسا شعری پیرایہ یکسر تسلیم اور رد نہیں کیا جا سکتا جس میں کوئی واضح ترین صحت و سقم نہ پایا جاتا ہو۔ کسی بھی شے کے متعلق کوئی رائے ذاتی اظہار خیال ہے، جس سے ہر طرح کا اختلاف و اتفاق کیا جا سکتا ہے۔

 

اردو ادب کے وہ مسلمات جو بیسویں صدی کے نصف آخر تک باہمی گفت و شنید کی عالمی حکمت عملیوں سے محروم تھے، انہوں نے اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی اپنی مسلم الثبوتیت کو خیرباد کہہ دیا
“نغمات الاسرار فی مقامات الابرار” اکیسویں صدی کی صوفی شعریات کی ایک موزوں ترین کڑی ہے، جس کے تخلیق کار شیخ ابو سعید الہ آبادی ہیں، اس نظم کو اردو زبان میں مثنوی کے پیرائے میں تخلیق کیا گیا ہے۔ مثنوی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے قبل میں اس مثنوی کے خالق کے تعلق سے دو ایک باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ صاحب مثنوی ایک ماہر علم و فن ہیں، لہٰذا ان کا رویہ بھی ایسا ہی ہے جیسا دنیا کے بڑے علمائےکرام کا رہا ہے، مثلاً حلم، فکر، اعتدال، محبت، خلوص، شفقت، قوت عمل اور قائدانہ صلاحیتیں وغیرہ جیسی کئی ایک صفات ان کی شخصیت کا حصہ ہیں، ساتھ ہی بات کہنے اور سننے کے آداب سے بھی موصوف بخو بی واقف ہیں۔ اپنی زندگی کے بنیادی مقاصد کواچھی طرح جانتے ہیں اور اپنے فکری اظہار کے تمام حوالوں سے اپنے واضح ترین موقف کی ترسیل کے عمل میں کوشاں رہتے ہیں۔ شاعری ان کا مقصد حیات نہیں بلکہ اصلاح فکر و عمل کا ذریعہ ہے، جس طرح وہ نثر میں اپنی بات کہنا جانتے ہیں اسی طرح شعری ذرائع سے بھی اپنے افکارو خیالات کو ظاہر کرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔ یہاں یہ بات کہنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ نثر اور نظم ان دونوں پیرایہ بیان پر شیخ صاحب یکساں قادر ہیں، لیکن نظم کے حوالے سے جس انداز کی گفتگو وہ سننے اور پڑھنے کے شائق رہے ہیں اس نے ان کے شعری ذوق میں مزید بالیدگی پیدا کر دی ہے۔

 

“مثنوی” اردو شاعری میں ایک عرصے سے کہی جا رہی ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ جو مجھے نظر آتا ہے وہ یہ کہ اس صنف کے ذریعےکسی بھی ایسے خیال کو بحسن و خوبی بیان کیا جا سکتا ہے جس میں یک گنا تسلسل پایا جاتا ہو۔ زیرِ نظر مثنوی “نغمات الاسرار فی مقامات الابرار” بھی ایسے ہی خیالات کا گلدستہ ہے جس کے پہلے شعر سے آخری شعر تک ایک طرح کا تسلسل و ربط موجود ہے۔ اس مثنوی کی اصل اہمیت اس میں موجود آداب اور اخلاقیات تصوف کا ضم ہو جانا ہے۔ ابھی تک میں نے اس مثنوی کو تین مرتبہ پڑھا ہے اور ہر بار میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ مثنوی اردو کی کلاسیکل مثنویوں سے جس قدر مشابہ ہے اسی قدر مختلف ہے، اردو زبان میں مثنوی نگاری کی جو روایت رہی ہے اس سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں، کہانی در کہانی اور واقعہ در واقعہ ہماری کلاسیکل اردو مثنویات کا ایک لازمی جزو رہا ہے، پھر خواہ وہ دکنی مثنویات ہوں یا شمالی، نغمات الاسرار میں بھی مجھے اردو کی قدیم مثنویات کی طرح کئی ایک کہانیاں نظر آتی ہیں، فرق یا پھر یہ کہہ لیا جائے کہ تضاد صرف اتنا ہے کہ نغمات الاسرار کی کہانی ایسی جذبی کیفیت سے لبریزہےکہ اس مثنوی کے مضامین کو اردو کی کلاسیکل مثنویوں کے متن سے یکسر مختلف قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اس مثنوی کی کلاسیکل ہیئت پر اگر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ صاحب مثنوی نے جس طرح کی زبان اور اسلوب کو اپنی مثنوی میں روا رکھا ہے وہ ہمیں میر تقی میر، خواجہ میر درد اور مظہر جان جاناں وغیرہ کے کلام کی یاد دلاتاہے۔

 

نغمات الاسرار میں صاحب مثنوی نےاپنی بات کو جن صوفیانہ اصطلاحوں کے ذریعے بیان کیا ہے ان میں اس درجہ بلاغت پائی جاتی ہے کہ خواجہ میر درد اور میر تقی میر کے اشعار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے
ایک اور بات جواس مثنوی کو اردو کے ان صف اول کے شعرا سے جوڑتی ہے وہ اس مثنوی کی مستقل متصوفانہ حیثیت ہے، نغمات الاسرار میں صاحب مثنوی نےاپنی بات کو جن صوفیانہ اصطلاحوں کے ذریعے بیان کیا ہے ان میں اس درجہ بلاغت پائی جاتی ہے کہ خواجہ میر درد اور میر تقی میر کے اشعار کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، لیکن یہ واقعہ ہے کہ میں نے حمد باری تعالی کا جو اسلوب اور طرز اس مثنوی میں دیکھا وہ کسی شاعر کے یہاں مجھے نظر نہیں آیا، حتیٰ کے خواجہ میر درد اور میر تقی میر جو اردو کی صوفیانہ شاعری کی سب سے بڑی دو مثالیں ہیں ان کے یہاں بھی نہیں۔(1)،مثلاً آپ میر صاحب، خواجہ صاحب اور زیرنظرمثنوی کے چند ایک حمدیہ اشعار دیکھیے جس سے میری بات مزید واضح ہو جائے گی۔

 

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کے رقم کا
حقا کہ خدا وند ہے تو لوح و قلم کا
اس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ں ہے
کیا خاک گزر ہوے تعقل کے قدم کا
(خواجہ میر دردؔ)

 

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کاذرہ ظہور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
(میر تقی میر)

 

طائر قدسی حقیقت آشنا
لحن داودی میں ہے نغمہ سرا
ساز الہامی ہے اس کی ہر صدا
اور ندائے غیب ہے جس کی ندا
گفتگو ئے حق ہے جس کی گفتگو
جس کا اول ہی سبق ہے وحدہ
(شیخ ابو سعید آلہ بادی)

 

خواجہ صاحب اور میر صاحب کے حمدیہ اشعار کو غور سے پڑھیے اور پھر شیخ صاحب کے کلام کو دیکھیے آپ کو خود نظر آجائے گا کہ کس کلام میں زیادہ بلاغت پائی جاتی ہے۔ خواجہ صاحب اور میر صاحب نے جو اشعار کہے ہیں اس کی اہمیت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ واقعہ ہے ان کے اشعار کا خیال یک گنا سطحی ہے، جب کہ شیخ صاحب نے وحدۃ کے جس عنصر کو اپنے اشعار کے ذریعے بیان کیا ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وحدۃ کے متعلق غور کرنا اور اس حوالے سے افکار و خیالات کی نئی نئی منزلیں طے کرنا شیخ صاحب کا کل وقتی مشغلہ رہا ہے، جس کی بنیاد پر وہ اپنے اشعار میں وحدۃ کے مضمون کا نیا خیال باندھنے پر قادر ہیں، جبکہ میر صاحب اور خواجہ صاحب کے اشعار کا مطالعہ کر کے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔

 

شیخ صاحب اپنے اشعار میں جس طائر قدسی کا ذکر کر رہے ہیں وہ اتنا معنی خیز ہے کہ اس سے کائنات کی تمام اشیا کی طرف یک بارگی ذہن دوڑ جاتا ہے۔
شیخ صاحب اپنے اشعار میں جس طائر قدسی کا ذکر کر رہے ہیں وہ اتنا معنی خیز ہے کہ اس سے کائنات کی تمام اشیا کی طرف یک بارگی ذہن دوڑ جاتا ہے۔ مادہ اور روح ان دونوں حوالوں سے طائر قدسی کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے، جس سے بات حقیقت کی منزلوں پر پہنچتی ہے، اسی طرح حقیقت، اور حق جیسی اصطلاحات کا استعمال کرکے شیخ نے مضمون میں جو وسعت پیدا کی ہے وہ بھی لائق تحسین ہے۔ یہاں میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گا جو بات میں اکثر اپنے احباب سے کہتا رہتا ہوں کہ آج جس عہد میں ہم جی رہے ہیں اس میں زندگی اور زندگی سے متعلق علوم میں کوئی نئی بات کہہ پانا جتنا مشکل ہے اتنا ہی آسان بھی ہے، کیوں کہ ہمارا علمی اساسہ جس میں ہر طرح کی باتیں موجود ہیں وہ ابھی بھی اتنا ہی خالی ہے جتنا اول روز میں تھا، ادب بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ہمارے یہاں اس بات کا جو رونا رویا جاتا ہے کہ کوئی نئی بات کیوں کر کہی جائے یا کس اندازمیں کہی جائے تو ایسے لوگوں کو مثنوی کے مطالعےکی ضرورت ہے، تاکہ ان کو زندگی کی قدامت سے جو گلہ ہے وہ ختم ہو سکے۔ خیر آپ مذکورہ بالا اقتباس کی تمام اصطلاحوں کو اگر غور سے دیکھیں گے تو مجھے امید ہے کہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کس طرح ایک پھول کے مضمون کو سو رنگوں سے باندھا جا سکتا ہے۔

 

قرآنی تعلیمات اور قر آن کے ذریعے خدا کی دریافت یہ مضمون مثنوی کے حمدیہ کلام میں دو اور دو چار کی طرح رقم کیا گیا ہے جس میں تفہم کی جس قدر سلاست ہے اسی قدر گیرائیت بھی، اپنے حمدیہ اشار میں وحدۃ کے اول سبق کا ذکر کر کے صاحبِ مثنوی نے آخری سبق تک قاری کی نشان دہی کر دی ہے اور اس کے آگے جن دو قرآنی اصطلاحوں مثلاً “لاتخف” اور “ولا ہم یحزنون” کا تذکرہ انہوں کیا ہے اس سے واضح انداز میں وحدۃ کے سبق کی تکمیل ہو جاتی ہے،۔
نغمات الاسرار فی مقامات الابرار کا مطالعہ میری ناقص رائے میں چار حوالوں سے بیک وقت کیا جا سکتا ہے:

 

الف :علم تصوف کے حوالے سے
ب:زبان و ادب کے حوالے سے
ج: شعریت کے حوالے سے
اور
د:اردو کے مابعد جدید شعری منظر نامے کے حوالے سے

 

علم تصوف کےحوالےسے بھی اس مثنوی کے مطالعے کی کئی ایک جہتیں ہیں، مثلاً:
الف: اصلاح علم و عقیدہ کے حوالے سے
ب: صوفیہ کے عقائد و نظریات کے حوالے سے
ج: تصوف کی اصطلاحات کے حوالے سے
د: علم تصوف اور آدا ب تصوف کے حوالے سے

 

اسی طرح شعریت کے حوالے سے بھی کئی ایک موضوعات ترتیب دے کر نغمات الاسرار کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
الف: جدید صوفی شعریات کے حوالے سے نغمات الاثرار کا مطالعہ
ب: نئی استعاراتی بساط اور نغمات الاثرار فی مقامات الابرارکا مطالعہ
ج: شعر یت کی جدید تعریف اور نغمات الاثرار کی عملی کار کردگی ایک مطالعہ

 

اسی طرح ما بعد جدیدیت کی اگر بات کی جائے تو اس حوالے سے بھی کئی ایک موضوعات زیرِ بحث آ سکتے ہیں، مثلاً اردو کی جو مقامی شاعری ہے اس تناظر میں بھی اس مثنوی پر غور کیا جا سکتا ہے، ساتھ ہی ادب کے جدید مباحث Deconstruction, Reformation ساختیات اور پس ساختیات وغیرہ کے قاعدوں کے تحت بھی اس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

 

اس مثنوی میں تصوف کی اصطلاحات کو اس انداز میں نظم کیا گیا ہے اور اس کے اشارات اس طرح جذب کیے گیے ہیں کہ پوری مثنوی تصوف کے خصوصی مطالعے کا اعلیٰ نصاب معلوم ہوتی ہے۔
اس مثنوی کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کئی ایک پہلو بیک وقت موجود ہیں، لیکن اس کا بنیادی نقطہ نظر خالص صوفیانہ ہے، اور وہ بھی ایسا صوفیانہ نہیں جس کو اردو زبان میں عمومی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس مثنوی میں تصوف کی اصطلاحات کو اس انداز میں نظم کیا گیا ہے اور اس کے اشارات اس طرح جذب کیے گیے ہیں کہ پوری مثنوی تصوف کے خصوصی مطالعے کا اعلیٰ نصاب معلوم ہوتی ہے۔ اوپر بیان کیے گئے ان عناوین کے تعلق سے میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مثنوی خواہ کسی حوالے سے پڑھی جائے، لیکن اس کا حقیقی لطف اور اس کی اصل تفہیم اسی کو حاصل ہو سکتی ہے جو شیخ کی صحبت میں رہ چکا ہوں یا شیخ کی صحبت میں رہ کر اس کو سمجھنے کا متمنی ہو۔ کیوں کہ اس کی اصل تفہیم تک رسائی شیخ کی صحبت میں کچھ وقت گزارے بنا مشکل ہی سے حاصل ہوگی۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے جس کو شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی ایک تقریر میں بہت واضح انداز میں بیان کر دیا ہے، ملاحظہ کیجیے:
ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں :

 

ہوتا یہ ہے بعض اوقات ایک عبارت کے سمجھنے میں مغالطہ ہو جاتا ہے، ہر عبارت کا ایک سیاق و سباق ہوتا ہے، اور ویسے بھی یہ ایک فیکچئول بات ہے کہ کسی خاص ٹیکنکل چیز کو اگر سمجھنا ہو، تو اس ٹیکنکل چیز کی اپنی ایک اسپیشلٹی ضروری ہوتی ہے، یعنی، اس زبان کو سمجھنا، اس زبان کے اشارات کو سمجھنا، اس زبان کی اصطلاحات کو سمجھنا وغیرہ ضروری ہوتا ہے، مثلاً کیمسٹری کے بہت سے فارمولاز ہیں، ان کے اپنے اشارات ہیں، فزکس کے بہت سے فار مولاز ہیں، ان کے اپنے اشارات ہیں ، میتھ میٹکس کے فارمولاز ہیں، اس کے اپنے اشارات ہیں، اور آج تو آپ جینیٹک سائنس کی تفصیلات میں چلے جائیں، پرو ٹونز کے مباحث میں، نیوٹرون کے ڈسکشن میں، ایک ایک چیز کے اوپر اتنا تکنیکی علم وجود میں آگیا ہے اور اتنی ٹیکنکل اشارات کی زبان وجود میں آ گئی ہے کہ اس مضمون کا بنیادی علم رکھنے والا بھی جب ان چیپٹر پہ آئے گا تو رتی برابر یہ اشارات اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آئیں گے، لہٰذا وہی شخص ان اشارات کوسمجھ سکتا ہے جو در اصل اس سبجیکٹ پر کامل مہارت رکھتا ہو ۔

Dr. Tahir ul Qadri, Introduction to Series (Sufism & Teachings of Sufis: Episode. 1), YouTube.

نغمات الا سرار فی مقامات الابرار کو سمجھنے کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اس کی تفہیم اس کے ماہرین ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

 

یہ مثنوی ایک فن پارہ ہے، جس کو اردو زبان کی نئی شعریات کے حوالے سے میں قابل قدر سمجھتا ہوں، یہ فن پارہ جہاں ایک طرف شاعری کی جدید روایت کو اس زبان کی قدیم روایات سے جو ڑتے ہوئے کئی ایک بڑے کار نامے انجام دیتا نظر آتا ہے وہیں ہندوستان کی علاقائی شعری روایت کو دوبارہ زندہ کرتا ہوا نظر آتا ہے، الہ آباد جو کئی برسوں سے اچھی اور بڑی شعری تخلیقات سے محروم ہوتا چلا جا رہا تھا اس مثنوی نے اس کسر کو بخوبی پورا کیا ہے، میں شیخ صاحب کی مثنوی کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ محسوس کرتا ہوں کہ اردو زبان میں جس کلاسیکی رنگ کے فقدان کو ہم شدت سے محسوس کر رہے تھے وہ کلاسیکی رنگ اس مثنوی کے حوالے سے دوبارہ اپنے حقیقی عرفان کے ساتھ زندہ ہوتا نظر آتا ہے۔

 

(1) میر صاحب کا اردو دیوان اور خواجہ صاحب کا اردو دیوان دونوں حمدیہ کلام سے شروع ہوئے ہیں اور شیخ صاحب نے چو نکہ اپنا کوئی ایسا دیوان ترتیب نہیں دیا ہے اس لیے میں ان کی مثنوی کے ابتدائی حمدیہ کلام سے یہ ان کے مختلف اسلوب کی مثال پیش کر رہا ہوں،ان تنیوں شعری اقتباسات میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ تنیوں حمدیہ شاعری کی مثالیں ہیں۔