Categories
نان فکشن

ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری

یہ دونوں باتیں بنیادی طور پر متضاد ہیں ، مثلا ً ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری میں جب ادیب کی سر پرستی کا تصور ابھرتا ہے تو واضح طور پر ان تمام تاریخی روایات پہ یکبارگی نگاہ چلی جاتی ہے جہاں سرکاروں درباروں سے متعلق ادبا اور شعرا اپنے فن پارے ترتیب دے رہے تھے ، جن کی بنیاد میں بادشاہ وقت یا اسی نوع کے کسی دوسرے پروردہ صفت شخص کی منشا یا خوشنودی شامل تھی۔ یہ ایک واضح تصور ہے ، حالاں کہ اس کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں اس خیال کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں ، اس کے بر عکس جب ادیب کی خود مختاری کی بات ہوتی ہے تو ان فن پاروں کی طرف ذہن جاتا ہے جو کسی بھی طرح کی سرپروستی (یعنی دربار سرکار کی وابستگی ) قطع نظر آزادانہ طور پر تخلیق کئے جا رہے تھے۔ یہ باتیں ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے ذیل میں سب سے پہلے ذہن میں آتی ہیں۔ اس کے بعد اس کے مشتقات پرغور کیا جائے تو اولین صورت میں ان اشکالات کی جانب ذہن جاتا ہے کہ:

ادیب اگر کسی نوع کی سرپرستی سے اپنا ادب ترتیب دے رہا ہے تو وہ کتنی فی صد خود مختاری کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟ ادبی سر پرستی میں کس نوع کا ادب وجود میں آتا ہے؟ادبی سر پرستی کی اقسام کتنی ہیں ؟خود مختاری کیا ادیب کا مقدر ہو سکتی ہے ؟ اور ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے مثبت اور منفی پہلو کیا کیا ہیں ؟

ان اشکالات پر کچھ کہنے سے قبل اس حوالے سے مزید چند ایک سوالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو بہتر ہے ،جو محمد حسن صاحب نے جو کہ اردو زبان میں ادبی سماجیات کے حوالے سے خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں اپنی کتاب میں گنوائے ہیں :

“ادبی سماجیات کا دوسرا دبستان وہ تھا جس نے ادب کا جمالیاتی فن پارے کے بجائے مال تجارت کی حیثیت سے مطالعہ کیا۔ان کے نزدیک اہم مسئلہ یہ تھا کہ کسی دور میں ادب کی سر پرستی کن طبقوں کے ہاتھ میں ہے اور کیوں؟ادب کی اشاعت کا صرفہ کتنا ہے اور اس پر کس طبقے کا قبضہ ہےیا اس کی نوعیت کیا ہے ؟ذرائع ترسیل عامہ کا اس میں کتنا حصہ ہے؟ اس سلسلے میں مشہور فرانسسی ادبی سماجیات کے ماہر رابرٹ اسکاٹ نے نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں ۔”
(ص:12،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

محمد حسن صاحب کے سوالات بہت بنیادی ہیں ۔ اس کے جوابات پر غور کیا جائے تو سیدھے طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری تاریخ (ہماری سے مراد اردو زبان و ادب کی) اس بات کی شاہد ہے کہ جس عہد میں اردو زبان کا ادب ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا اسی عہد سے صوفیوں اور سنتوں نے اس زبان کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اگر ہم واضح طور پر اس کا حوالہ تلاش کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بارہویں صدی عیسوی ایک طرف دہلی اور پنجاب میں امیر خسرو اور مسعود سعد سلمان جیسے تصوف کی تعلیمات کے پروردہ اشخاص اس زبان کو میسر آئے تو دوسری جانب ہندوستانی زمین اور مزاج سے جڑے ہوئے ناتھ پنتھی سادھوں نے اس زبان کا خمیر تیار کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اردو کے باطن میں مذہبی عقائد سے جڑی اصطلاحات کاعنصر جس گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے اس کا راست تعلق اسی مذہبی اور صوفیانہ سر پرستی سے ہے جو اس زبان کو اپنی اولین صورت میں نصیب ہوا تھا۔ یہ سر پرستی حالاں کہ خالص لسانی قسم کی ہے لیکن بعد کے زمانے میں ادب کی تشکیل کا کام جب واضح طور پر ہونے لگا تو اس لسانی حقیقت نے ادبی حقیقت نگاری میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ بات کچھ معمولی نہیں کہ اردو کا اولین شاعر ہم آج بھی خسرو کو تسلیم کرتے ہیں اس کے اولین نظمیہ نقوش ہمیں کربل کتھا اور مذہبی گیتوں کی صورت میں ملتے ہیں ۔ اس کی نثر کا آغاز معراج العاشقین جیسی کتابوں سے ہوتا ہے یا شمال سے دکن تک اس کو اپنی پہلی منزل پر گیسو دارز بندہ نواز، میراں جی شمس العشاق، امین الدین اعلی اور اسی نوع کے وہ تمام دکنی صوفیہ جن کی پچاسوں کتابیں محی الدین قادری زور نے مخطوطات دکن میں گنوائی ہیں ایسی شخصیات نصیب ہوتی ہیں ۔ دراصل یہ ایک مستقل سلسلہ ہے جو اردو کو ہر طرح کی سرپرستی بخشنے والے طبقے سے متعلق ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی ادیب صوفیانہ تعلیمات سے قطع نظر اگر کوئی الگ راہ نکالتا ہے تو اس کو ادیب کی خود مختاری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان جو ایک خاص قسم کی معاشرتی فضا میں ترتیب پا رہی تھی اس کا مزاج یہ تھا کہ اس میں اگر اس سر پرستی کو قبول کرتے ہوئے جس ذہنی سر پرستی کو ہندوستانی مذہبی طبقے نے وضع کیا تھا کوئی فن پارہ ترتیب دیا جاتا تو اس میں فن پارے کی تشکیل کے امکانات بہت تھے۔ تحسین کے امکانات بہت تھے اور انعام و اکرام کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس فضا سے قطع نظر کوئی ایسا فن پارہ تشکیل دیا جائے جس میں ان سارے لوازمات سے اجتناب برتا جائے تو اس کے لئے ادیب کو نہ صرف یہ کے اپنی معاشرتی فضا سے بغاوت کرنی پڑے گی بلکہ اس لسانی ڈھانچے سے بھی بغاوت کرنا ہوگی جو ایک خاص قسم کی لغت اور اصطلاحی نظام سے وضع ہو اہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شمالی ہند میں ہمیں سترویں صدی میں ایک ایسی واضح مثال ملتی ہے جس نے کسی نوع کی سر پرستی کے بر عکس خود مختاری کو چنا اور حاصل کے طور پر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ مثال جعفر زٹلی کی ہے ۔ جعفر کے کلا م کو بغور پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اس شخص نے فرخ سیر کے عہد میں کتنی جرات اور اجتحادی صلاحتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کے جدید نظام لغت کو وضع کرنے کی سعی کی تھی ۔ جو لغت اس نے خالص ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ کو اردو کے خمیر میں گوندھ کر تیار کی تھی ۔ جعفر زٹلی اردو کی ادبی تاریخ میں اتنا سراہا اس لئے نہیں گیا کیوں کہ اس سے سترہویں صدی میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو عام مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ ہی اس کی ادبی خود مختاری تھی۔

محمد حسن صاحب نے جو سوالات قائم کیے ہیں اس میں ادب اشاعت کے صرفے سے متعلق جو سوال ہے وہ بہت اہم ہے، کیوں کہ ادبی سر پرستی میں اس بات کا بہت زیادہ خیا ل رکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر جو ایک حاکم یا ایک بادشاہ یا پھر کسی نوع کی Super Power کے افکار و نظریات کی تائید میں لکھا جاتا ہے اس کو اشاعت کے مرحلے سے گزرنے میں پریشانیوں کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا جس کے برعکس کوئی ایسا فن پارہ جو اس طاقت کے تردید کر نے کے لیے لکھا جاتا ہے یا تردید سے قطع نظر صرف اس صورت میں ہو جو اس عہد کی عظیم طاقت کی تائید میں نہ ہو تو اس کی اشاعت کے لیے صرفے کا سوال قائم ہو جاتا ہے۔ لفظ صرفہ کی یہ خاصیت ہے کہ جب اس لفظ کو خرچ کے معنی میں برتا جاتا ہے تو اس میں منافع کے معنی از خود در آتے ہیں ۔ اس لیے یہ جاننا زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ وہ ادب کس طبقے یعنی Divisionسے تعلق رکھتا ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے۔ اسی لئے محمد حسن صاحب نے ان تینوں باتوں کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔

ادبی سر پرستی کے تعلق سے یہ بات بھی کم لائق توجہ نہیں کہ یہ مال تجارت کی نوع کی چیز ہے ۔ اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی وہ یکسر تنقیدی نوعیت کا ہوتا ہے۔ خالص احساسات ترجمان ہوتا ہے ، کسی پولیسی پر کھرا نہ اترنے والا اور واحد الاصل ہوتا ہے ۔ اس کی نظیر اپنے عہد میں کم ملتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کی قبولیت کا گراف بھی بہت کم ہوتا ہے۔ ادبی سر پرستی سے ادیب کی خود مختاری تک معیار کا سوال بالکل الگ نوعیت سے پہنچتا ہے ۔ مثلاً یہ ایک واحد ایسی چیز ہے جس پر ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری دونوں راست انداز میں اثر نہیں ڈال پاتے ۔ معیاری کلام خواہ وہ کسی بھی اعتبار سے ہو وہ ادبی سر پرستی سے بھی ترتیب پا سکتا ہے اور ادیب کی خود مختاری سے بھی ، حالاں کہ ہندوستانی تاریخ جس استادی اور شاگردی کے فلسفے سے ایک عرصے سے چمٹی ہوئی ہےاس روایت کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادب جو کسی نوع کی سر پرستی سے وجود میں آیا ہے اس میں متاثر کن لوازمات زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ خود مختاری سے بہت کم فن پارے اس درجے کو پہنچتے ہیں جن کو فن پارہ تسلیم کرنے میں تامل نہیں برتا جاتا۔ اس کی واضح مثال ہمارے یہاں غالب اور ذوق کی ہے ۔ غالب کا کوئی استاد نہ تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں غزل کے جتنے شعر کہے وہ ہر طرح کی ادبی سر پرستی سے آزاد قرار دیئے جا سکتے ہیں ،جبکہ ذوق کے معاملے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ذوق ، نصیر کے شاگر بھی تھے دوسرے دربار مغلیہ سے وابستہ بھی تھے اس لئے انہیں غزل کا شعر کہتے ہوئے دو پابندیوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا تھا۔ اس میں ایک اہم عنصر اس بات کا بھی شامل ہو جاتا ہے کہ ذوق کو شعر کہتے وقت اپنی استادانہ حیثیت کے تکلفات کو بھی نظر رکھنا پڑتا ہوگا ، جبکہ غالب ان سارے تکلفات سے غزل کی حد آزاد تھے۔

یہ سب باتیں تو پھر بھی صنعتی انقلاب سے پہلے کی ہیں لیکن صنعتی انقلاب کے وجود میں آنے کے بعد اس سلسلے میں جو اہم سوالات قائم ہوئے یعنی ادبی سر پر ستی کے ذیل ا س میں ادیب کی حیثیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا۔ مثلا ً صنعتی انقلاب سے پہلے ادیب اور ادب یہ دونوں خواہ رزیر پرستی ہوں یا اس سے جدا پر یہ دونو ں دو خانوں میں نہیں بٹے تھے۔ لیکن یہ صورت حال نئی دنیا میں یکسر تبدیل ہو گئی یہاں میں اس کی ایک واضح مثال اس ضمن میں پیش کر رہا ہوں جو محمد حسن صاحب نے اپنی کتاب ادبی سماجیات میں اس حوالے سے پیش کی ہے ۔ فرماتے ہیں :

“اس ضمن میں ادیب اور اس کی تخلیق اور اس تخلیق کے ذریعے اس کے قاری تک اس کے نتیجے تک پہنچنے کے مسائل بھی سامنے آئے اور بیگانگی کا سوال بھی اٹھا ۔ ادیب صنعتی دور میں اپنے فن پارے سے بڑی حد تک کٹ کر رہ گیا ہے اور غیر متعلق اور بیگانہ ہو گیا ہے ، اس کی تخلیق صنعتی دور کے ذرائع ترسیل عامہ میں یکسر اس کی ذات کا اظہار نہیں رہ جاتی بلکہ اس کی ذات سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ اس کی سب سے واضح مثال فلم کے لئے گانا لکھنے والے شاعر کی تخلیق ہے ، یہ گانا اکثر اپنی ذات کے اظہار یا اپنے جذبات و احساسات کے لئے بلکہ دی ہوئی صورت حال پر پروڈیوسر یا ڈائرکٹر کی فرمایش کے مطابق لکھتا ہے ۔ جس کی دھن اکثر میوزک ڈائرکٹر پہلے ہی فراہم کر دیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر جب اپنا گیت مکمل کر کے لائے تو میوزک ڈائر کٹر یا صلاح کاروں کے مشورہ سے گیت کے بولوں میں تبدیلی کر دی جائے یا ایک دومصرعوں یا لفظوں کا اضافہ کر دیا جائے ۔ جب یہ گیت پردہ سیمیں پر پیش ہوگا تو شاعر کا گیت کوئی اداکار یا اداکارہ کسی دوسری گلو کار مغنیہ کی آواز میں میوزک ڈائرکٹر کی دھن پر گا رہا ہوگا۔ یا گارہی ہوگی اور اس کا گیت اب صرف اس کا اپنا نہیں ہوگا اس میں بہت سے دوسرے فن کار بھی شامل ہوں گے اور شاعر کی شخصیت اس منزل تک پہنچتے پہنچتے گیت سے تقریبا بے گانہ ہو چکی ہو گی گویا گیت اب اس کے لئے ذریعہ اظہار نہیں مال تجارت بن چکا ہوگا۔”
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

یہ صنعتی انقلاب کے بعد کے ادب کی جو صورت حال ہے اس کی سب سے بہتر مثال قرار دی جاسکتی ہے۔ جس میں ادبی سر پرستی کا دائرہ اتنا زیادہ پھیل گیا ہے کہ اب Imperial Supervisionکا تصور مستحسن معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ تعین قدر کا مسئلہ تھا یا پھر شناخت کے حصول کا لیکن اس طرح توادیب کی حیثیت اتنی Secondary ہوجاتی ہے کہ شناخت کا مسئلہ ہی نہیں رہ جاتا ۔ ا س کا اگلا اقتباس بھی ملاحظہ کیجیے تاکہ بات مکمل صورت میں سامنے آجائے ۔ آگے فرماتے ہیں :

“ظاہر ہے یہ سوال محض ادب کی سر پرستی کا نہیں ہے بلکہ پورے تخلیقی عمل کو متاثر کرنے کا ہے اور اس کی جڑیں ادبی تنقید کے بنیادی مباحث تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس نظریہ کی بنا پر ماں ؔہیم نے ادیبوں کو ایک گھومنے پھرنے والی ایسی دانش ورانہ مخلوق قرار دیا تھا جو اپنی جڑوں سے کٹ چکی ہے اور جس کی ادبی تخلیق اب مال تجارت بن چکی ہے ۔ اس کے بر خلاف لیوسؔی گولڈ مان نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ یہ صورت حال صرف ادنی درجے کے ادیبوں کو پیش آتی ہے جب کہ اعلی ادیب کبھی بازار کے لیے نہیں لکھتا اور اس طرح وہ ناشر ، مصنف ، قاری کے جبر سے نکل جاتا ہے اور اپنی تخلیقات کو مال تجارت نہیں بننے دیتا۔ ”
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)

بس لیوسی گولڈ مان نے جو بات کہی ہے ادیبوں کا ایک بڑا طبقہ اسی کے ساتھ ہے اور یہ بات کسی طور فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اعلی اور ادنی ادب کی جدید تعریف انہیں واقعات کی روشنی میں متعین ہوتی ہے ۔ یہ ہی وہ خود مختار ادیب ہے جس کو گولڈمان نے اپنے بیان کے ذریعے بازار سے دور بتایا ہے ۔ معیار کا جو جدید تصور ہے وہ بھی اسی سے طے ہوتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صنعتی انقلاب سے پہلے معیار کی وہ بحث جو شاہی نظام کے تحت فروغ پاتی نظر آتی ہے ۔ جس میں لفظ کی صحت اور بلاغت کلام کو زیادہ معنویت حاصل تھی وہ صنعتی انقلاب کے بعد یکسر تبدیل ہو گئی ۔خود مختار ادیب کی حیثیت اس لیے بھی اس دور میں زیادہ با وقار معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس عہد میں ادب کی حفاظت کا ذمہ لے رہا ہے جہاں ادب کی حفاظت سے اسے سوائے خسارے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔

Categories
نقطۂ نظر

لاشعور سے شعور تک

ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جاہل کے زہر آلود نظریات ہی سے متاثر ہے۔ اس ملک کے تعیم یافتہ دماغ، ریاستی ادارے اور خود ریاست اپنے مفادات کے لیے مرضی کے انسان پیدا کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور بھی درندگی کی کیفیت میں ہے
ہر طرف خاموشی تھی ۔چاروں طرف موم بتیوں کا بسیرا تھا ۔میزیں انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی تھیں ۔کنیرڈ کالج کے بالکل سامنے نیرنگ آرٹ گیلری کے کیفےمیں خوبصورت دماغوں اور پریوں نے دلکش جھمگٹا لگایا ہوا تھا۔آرٹ گیلری دلکش تصاویر سے مزین تھی۔آرٹ گیلری کے چاروں کونوں میں دلکش رنگ برنگے برقی قمقمے مسکرا رہے تھے ۔یہ برقی قمقمےفنکاروں کے فن کو مزید دلکش اور خوبصورت بنا رہے تھے۔حسن اور خوبصورتی تھی کہ ہر طرح سے مجھے اور اسے ورغلا رہی تھی ۔حسین لڑکے اور لڑکیوں کا مدھم روشنی میں روح پرور رومانس اور ان کے بیچ و بیچ ادیبوں کا میلہ ۔۔۔۔واہ کیا رونق تھی ۔رومانوی جوڑوں کے بیچ دھری میزیں مغربی مشروبات سے آراستہ تھیں جبکہ ادیبوں کی میزوں پر چائےکافی چل رہی تھی۔ہلکی آواز میں موسیقی دلوں کو چھو رہی تھی ۔ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے ہم واقعی کسی خیالی تخلیقی جنت کے خوبصورت حصے میں آچکے ہیں،کافرادائیں ،باغی خیالات اورقاتل چہرے ۔۔۔۔ پراسرار خاموشی میں دھیمے لہجے میں بولتے نوجوان لڑکے لڑکیاں اور ادیب ۔۔۔۔واہ کیا منظر تھا نیرنگ آرٹ گیلری کا ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اور اسے کسی ایسی ہی جگہ کی ضرورت تھی ۔پتہ نہیں کیوں اور کیسے وہ مجھے اپنے ساتھ اس آرٹ گیلری میں لے گئی تھی۔تازگی اور دلکشی چیختی چلاتی نظر آرہی تھی ۔ہم دونوں موم بتیوں سے مزین ایک میز کے آمنے سامنے پڑی دو کرسیوں پر براجمان ہوگئے ۔وہ میرے سامنے بیٹھی خاموشی سے مسکراتی نظر آرہی تھی ۔موم بتیوں سے نکلتی روشنیوں میں اس کا چہرہ چمکتا نظر آرہا تھا اور میں اس کے قرب کے خمار میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ جب بولتی تو میں اس کے سحر میں ڈوب جاتا وہ جب مسکراتی اور اس کے ہونٹوں کی سرخی اور دانتوں کی سفیدی میری آنکھوں سے ٹکڑاتی تو میری روح وجدان کی بلندی کو چھونے لگتی ۔اس کا مسکرا کر کھلکھلا اٹھنا مجھے بیقرار کر رہا تھالیکن یہ ایسی بیقراری تھی جو مجھے روحانی سکون دیتی نظر آرہی تھی ۔
ہمارے ادیب اور دانش ورصرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح یہود و ہنود پاکستان، اسلام اور مسلم امہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ کس طرح امت کو کم زور کیا جارہا ہے۔اب اردو ادب میں ان نام نہاد ادیبوںکالم نویسوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو یہ لکھ رہے کہ پاکستان اور اسلام کو دنیا سے کتنا بڑا خطرہ ہے
رومان زدہ اس ماحول میں محبت، امن، پیار اور عشق کا بسیرا تھا ۔میں ملامتی صوفی کے روپ میں شیطانی سرور کا مزہ لے رہا تھا ۔ہم دونوں کے سامنے لگی میزپر چار ادیب گفتگو میں مصروف تھے ۔میں اور وہ اس رومانوی ماحول کو فراموش کرکے ان دانشوروں کی دنیا کا حصہ بن گئے ۔ایسا کب،کیوں اور کس طرح ہوا ہم دونوں کو معلوم نہ ہوسکا؟ کہیں روشنی اور کہیں سوچتا اندھیرا ۔۔۔۔۔ہم دونوں خاموشی سے سوچنے والے انسانوں کی سوچ کے عشق میں مکمل طور پر مبتلا تھے۔ ان چار ادیبوں میں ایک خاتون ،ایک نوجوان اور دو بوڑھے تھے ۔نوجوان لمبے بالوں، پرانی طرز کی عینک اور سفید شلوار قمیض کے ساتھ منٹو دکھائی دینے پر تلا تھا ۔نوجوان کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے ۔وہ ان سب میں بلاوجہ نمایاں تھا۔
بوڑھا ادیب کہہ رہا تھا ،”حضور والا اس وطن میں پچاس فیصد روحیں تعلیم سے محروم ہیں جبکہ جو نام نہاد تعلیم یافتہ بھی ہیں وہ جہلاسے بڑھ کر ہیں۔انتہا پسندی اوردہشت گردی ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کی وجہ سے پھل پھول رہی ہے ۔تعلیم یافتہ جاہل ان پڑھ جاہلوں سے زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں ۔ان جاہلوں کے قلم سے نکلے الفاظ انسانوں کو بندوق اور نفرت کی طرف مائل کررہے ہیں ۔یہ ڈیجیٹل زمانہ بھی ہمارے معاشرتی ماحول اور اس کی فطرت کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان اور دنیا میں کوئی ایسا دہشت گرد نہیں جو چٹاان پڑھ ہو ۔ہر دہشت گرد پر تعلیم کا اثر ہوتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جاہل کے زہر آلود نظریات ہی سے متاثر ہے۔اس ملک کے تعیم یافتہ دماغ ،ریاستی ادارے اور خود ریاست اپنے مفادات کے لیے مرضی کے انسان پیدا کررہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شعور بھی درندگی کی کیفیت میں ہے ۔علمی بددیانتی کی وجہ سے دہشت گردوں اور انتہا پسند عناصر کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے”۔بوڑھا ادیب غصے میں تھا ۔اونچی آواز میں اس نے کہا ،”قرآن سے لے کر اقبال اور قائداعظم تک کے خیالات ونظریات کو ہر ایرا غیرا اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہا ہے ۔افراد، ادارے سب کے سب علمی بددیانتی میں ملوث ہیں “۔
ستر کی دہائی کے کتاب میلوں میں دس فیصد مذہبی لٹریچر ہوتا تھا اور نوے فیصد کتابیں علمی یا سیکولر نوعیت کی ہوتی تھیں اور اب نوے فیصد کتب مذہبی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں
بوڑھے ادیب کے خاموش ہونے کی دیر تھی کہ سامنے والے دوسرے بوڑھے نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔” اس ملک میں اب روشن خیال اور ترقی پسند ادب کہاں چھپتا اور بکتا ہے؟؟ لیکن انتہا پسندانہ لٹریچر لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو رہا ہے ۔اردو زبان اب انتہاپسندوں کی زبان بن چکی ہے ۔انتہا پسندانہ اور فرقہ وارانہ مذہبی لٹریچر اردو زبان کی بدصورتی کا سبب ہے ۔صرف ایک چھوٹا سا منافق روشن خیال طبقہ ہے جو انگریزی میں سوچتا ،لکھتا اور پڑھتا ہے ۔
بہت دیر سے خاموش بیٹھی خاتون بھی بحث میں الجھ پڑی۔تین مردوں میں گھری خاتون ڈرتے ڈرتے بولی۔” ہمارے ادیب اور دانش ورصرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح یہودوہنود پاکستان، اسلام اور مسلم امہ کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ کس طرح امت کو کم زور کیا جارہا ہے۔اب اردو ادب میں ان نام نہاد ادیبوںکالم نویسوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے جو یہ لکھ رہے کہ پاکستان اور اسلام کو دنیا سے کتنا بڑا خطرہ ہے ۔پوری عمارت ہی اسی بنیاد پر تعمیر کی جارہی ہے۔انتظار حسین، فیض احمد فیض، مجید امجد ، ن- م- راشد، سبط حسن اور علی عباس جلالپوری توقصہ پارینہ بن چکے ۔نسیم حجازی سے متاثر نام نہاد تعلیم یافتہ ادیب ایسا ادب تخلیق کررہے ہیں جو عوام کی نرگسیت میں اضافہ کررہا ہے۔ ایسا ادب صرف اور صرف جہالت پھیلارہا ہے۔ادبی محفلوں کا رواج تقریبا ًناپید ہوتا جارہا ہے ۔ساحر لدھیانوی اور مخدوم کو اب کون کمبخت جانتا ہے ۔ترقی پسند ادب کی روایت دم توڑ گئی ہے ۔انیس اور دبیر کے مرثیوں سے ہماری نوجوان نسل کہاں واقف ہے ۔تجریدیت، اشتراکیت، لبرل ازم کی بجائےاب ادیب کا قبلہ ماضی ہے۔ایک زمانہ تھا جب اردو تحاریران موضوعات سے اٹی پڑی تھیں ۔انیس سو اناسی میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا اور اس کے بعد انکل سام کی افغانستان میں آمد ہوئی ۔پھر تو پاکستان میں تمام خیالات و نظریات اور بیانیے ہی امریکہ کی مرضی سے تخلیق کیے گئے۔اسی کی دہائی میں ہی تو ہمارے نصاب میں خ سے خنجر آیا، ب سے بندوق اور الف سے اللہ آیا۔ پاکستان کا نصاب بھی پھر امریکہ کی مرضی سے بنا۔امریکہ نے ایسے منافق لوگ بنائے جو کمیونزم کی ایسی تیسی پھیر سکیں ۔روس کو افغانستان سے بھگا سکیں۔ستر کی دہائی کے کتاب میلوں میں دس فیصد مذہبی لٹریچر ہوتا تھا اور نوے فیصد کتابیں علمی یا سیکولر نوعیت کی ہوتی تھیں اور اب نوے فیصد کتب مذہبی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں۔اس دور کے میلوں میں فیض، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور ساحر لدھیانوی کے خیالات خوب بکتے تھے ۔لیکن اب تو سب خلط ملط ہوگیا”۔
منٹواور فیض کی زبان اب حافظ سعید، مولانا طارق جمیل اور اور یا مقبول جان کی زبان بن چکی ہے۔ بڑی چالاکی سےاس زبان کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔۔۔روشن خیال تواب اس قدر منافق بن چکے ہیں کہ اردو کتاب پڑھنے کواپنی توہین سمجھتے ہیں
گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ۔ وہ اور میں دانش وروں کے سحر میں گرفتار تھے ۔ ہم دونوں رومانس اور محبت کی چاشنی لینے آئے تھے لیکن یہاں تو اب معاملہ ہی مختلف تھا۔ رومانس کو بھول کر ہم اب سیاست، ادب اور تاریخ کے سحر میں قید ہو چکے تھے ۔
نوجوان ادیب جو بہت دیر سے بولنے کے لیے بیقرار تھا ۔اب اس کی باری تھی ۔”صاحب اردو زبان میں بہت جان ہے ۔ ترقی پسند ادب کا ایک نمائندہ حصہ اسی زبان میں ہے ۔مسئلہ یہ ہوا ہے کہ ترقی پسند ادیبوں اور روشن خیال دانشوروں نے اردو زبان میں لکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ریاست اور ریاستی اداروں نے جہادی اور ان اردو اخبارات کی سرپرستی کی ہے جو مذہبی شدت پسندی پھیلا رہے ہیں ۔آج کے اردو اخبارت میں بھی نوے فیصد نسیم حجازی کے خیالات ملتے ہیں ۔۔۔۔اردو اخبارات میں آج بھی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے یا پھر اس تقریر کو سازش لکھا جاتا ہے ۔نیوز چینلز پر نفرت سےبھرپور تعصبانہ ذہن کا قبضہ ہے ۔ہر سکرین پر ڈاکٹر شاہد مسعود ، اوریا مقبول جان اور زید احمد جیسے نقلی دانشورنظر آتے ہیں جن کا مقصد ہمیں ہمارے خول میں بند رکھنا ہے۔جوخیالات اور نظریات پھیلادیئے گئے ہیں ان کی وجہ سے تشدد،دہشت گردی اور انتہا پسند میں اضافہ ہورہا ہے ۔منٹو اور فیض کی زبان اب حافظ سعید، مولانا طارق جمیل اور اوریا مقبول جان کی زبان بن چکی ہے۔بڑی چالاکی سے اس زبان کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔۔۔روشن خیال تو اب اس قدر منافق بن چکے ہیں کہ اردو کتاب پڑھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔صاحب یہ روشن خیال تو اب یہ تک کہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی اردو بڑی کمزور ہے ۔پاکستان میں نوجوان نسل کو پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی اور سرائیکی زبانوں میں ادب دینے کی ضروت ہے ۔ایک زمانہ تھا جب بائیں بازو کے دانشور ،ادیب اور کالم نویس ہماری ذہن سازی کررہے تھے۔دائیں بازو کے لکھاری خال خال ہی تھے ۔اب صورتحال مختلف ہے ۔اب بائیں بازو کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سوچ رکھنے والے اور الگ سوچنے والے ادیب ،کالم نویس اوردانش ور نایاب ہو چکے ہیں۔”
گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔وہ گفتگو سنتے سنتے تھک چکی تھی۔رات کے دس بج چکے تھے ۔ہم دونوں نیرنگ آرٹ گیلری کی خوبصورت دنیا سے باہر نکلے ۔وہ رکشے پر بیٹھ کر گھر کو چلی گئی اور میں پیدل سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے چل نکلا۔