Categories
نان فکشن

تحقیق کا سائنسی طریقہ کار

سائنسی تحقیق :

جستجو یاتجربہ جس کا مقصود ہوتا ہے۔کسی چیز کی تلاش اور حقیقت کی وضاحت، پرانے نظریات کی نئے حقائق کی روشنی میں از سر نو چھان پھٹک اور جدید نظریات کی تطبیق یہ تمام چیزیں سائنسی تحقیق کی اساس ہیں۔ اس کے علاوہ نئی معلومات کو جمع کرنے کا وہ طریقہ جس سے نئے حقائق سامنے آئیں یہ بھی سانئسی تحقیق میں شامل ہے۔

بنیادی طور پرسائنسی تحقیق کے طریقہ کار کے مندرجہ ذیل چار مدارج ہیں :
1-Observation
2-Hypothesis
3-Testing
4-Predictions

یہ چاروں اقدامات کسی بھی تحقیق میں متواتر چلتے رہتے ہیں، مثلاً اگر اس سائنسی طریقہ کار سے کسی موضوع پر اولین صورت میں غور کر کے اس پر چند ایک مفروضات قائم کر لئے گئے، پھر ان مفروضات کی جانچ کی گئی اور اس کے نتیجے کے طور پر اس پیشن گوئی پر پہنچنا ممکن بھی نظر آیا کہ اس پورے عمل سے حقائق کا اظہار ہو رہا ہے، تو بھی اس کے باوجود ایک محقق کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ Predictionsکی منزل سے دوبارہ حاصل شدہ نظریہ کے مفروضات کی جانچ کرے اور اس چانچ کے دوران صحیح اور غلط نتائج پر از سر نو غور کرے۔ اس سے یہ سلسلہ سائنسی تحقیق میں مستقل جاری رہتا ہے تاکہ بدلتے ہوئے حقائق پر ایک محقق کی گرفت کمزور نہ پڑے۔ اگر تجربات کے ذریعے مفروضات سے کسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے،تو وہ اولین صورت میں ایک قانون یا نظریہ کی شکل اختیار کر لے گا، لیکن اگر مفرضات سے حقائق کا اظہار نہ ہو سکاتو اس سے مفروضات کا رد ہونا طے ہے یا پھر دوسری صورت میں ان مفروضات کی دوبارہ جانچ کے عمل کو دہرایا جائے گا۔ سائنسی طریقہ کار کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو حقیقت تک رسائی بلا شبہ ممکنہ حد ہوجاتی ہے، لیکن اگر اس طریقہ کار کے استعمال کے باوجود بھی حقائق تک رسائی ممکن نہ نظر آئے تو ایک محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفروضات پر غور کرے۔ آیئے اب چاروں اقدامات پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں جس سے ان کے اصل معنی تک رسائی حاصل ہو سکے۔

Observation:
اس کے لغوی معنی مشاہدہ ہیں۔ اس ضمن میں حقائق کو اولین صورت میں جاننے اور سمجھنے کا عمل ہوتا ہے۔ جس سے حقائق کو ادراک کی کسوٹی پر کسا جاتا ہے۔ مشاہدہ سے کسی بھی حقیقت تک رسائی نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے حقائق کو جاننے کی جستجو بیدار ہوتی ہے۔ مشاہدے کے عمل کے بعد ہی حقائق کو جاننے کے ماخذات کی جانب قدم بڑھایا جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق میں Observationکو اول اول دو خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جسے اصطلاحاً Use full Observationاور Not Use Full Observationکہا جاتا ہے۔ اس میں سوالات کو دو خانوں میں بانٹاجاتا ہے۔Use Full Observationکے سوالات سے ایسے مفروضات قائم ہوتے ہیں جن سے نتائج کے حصول کی امید ہوتی ہے اور دوسری صورت میں Not use full Observationوہ ہوتی ہے جس سے کسی نئے نتیجے پر پہنچے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس سے ایسے مفرضات پیدا ہوتے ہیں جن پر پہلے ہی کئی محققین غور کر چکے ہوتے ہیں۔

Hypothesis:

مفروضہ جو مشاہداتی اور تجرباتی نتائج کی جانچ کے لیے ہو۔ اچھے مفروضے کی جانچ تجربہ اور احتساب سے کی جا سکتی ہے۔اس میں بہت غور و فکر اور مطالعہ درکار ہوتا ہے۔مشاہدے سے مفروضے تک غور و فکر کا عمل از حد ضروری ہے، کیوں کہ اسی کی بنیاد پر کسی نو ع کا تحقیقی کام اگلی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ مفروضے کی ایک واضح تعریف مندرجہ ذیل ہے:

  1. an assumption or concession made for the sake of argument
  2. an interpretation of a practical situation or condition taken as the ground for action
  3. a tentative assumption made in order to draw out and test its logical or empirical consequences
  4. the antecedent clause of a conditional statement
    (Merriam-Webster Dictionary: Definition of Hypothesis, Since 1828, merriam-webster.com)

مفروضے کی تعریف کو جاننے کے بعد ایک سب سے اہم بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ سائنسی تحقیق میں کسی بھی ایسے مفروضے کو قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا جس کی بنیاد پر منطقی اور تجزیاتی نوعیت کے اشکالات سے بحث نہ کی جا سکے۔ کوئی بھی مفروضہ اسی صورت میں مفروضہ ہوتا ہے جب اس کے نتائج خواہ وہ نظریہ اور قانون کی شکل اختیار کریں یا نہ کریں پر اپنی اولین صورت میں غیر منطقی اور غیر تجزیاتی نہ ہوں۔ مفروضہ سائنسی تحقیق کا سب سے بنیادی عنصر ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی نظریہ کی تشکیل کا دار و مدار ہوتا ہے۔

Testing:

جانچ کاکام نتائج کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور نتائج کا تجریہ اس ضمن میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔صحیح تجزیہ ہی مفروضے کو صحیح یا غلط ثابت کرتا ہے۔حالاں کہ کوئی بھی مفروضہ پوری طرح غلط ثابت نہیں ہوتا ,لیکن پھر بھی صحیح تجزیہ سے مفروضے کے اہم حصوں کے درست اور نا درست ہونے کا ادراک ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں اس بات کو مد نظر رکھنا سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے کہ جن حصوں کے غلط ہونے کا ادراک ہو جائے اس پر ازسر نو کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ہی جانچ کا اصل مقصد ہے۔

Prediction:

اس کا اردو ترجمہ حالاں کہ پیشن گوئی ہے۔ پھر بھی اس کی تعریف کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک قسم کا اعلان ہے جو پہلے سے کسی بات کی نشان دہی کرتا ہے۔ خاص کر مشاہدے، تجربے اور سائنسی بنیادوں پر۔

ان چار بنیادی باتوں کے علاوہ سائنسی تحقیق کے عمل میں ہمیں چند ایک اہم باتوں کی جانب بھی اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے جس سے سائنسی تحقیق کا براہ راست تعلق ہے۔ ایسی بنیادی باتیں مندرجہ ذیل ہیں :
٭ predictionحالاں کہ آخری مرحلہ ہے پر اس کی بھی مفرضے کے خلاف چانچ کی جا سکتی ہے۔
٭ اس پورے عمل کو ریاضیاتی انداز میں برتنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ حاصل کے طور پر کسی بھی طرح کا Prediction
غلط ثابت نہ۔ اس لیے سائنسی تحقیق کا عمل ریاضیاتی عمل سے مشابہ ہوتا ہے۔
٭ یہ بات سب سے اہم ہے کہ کسی بھی موضوع کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں وقت برباد نہیں کرنا چاہیئے، اس کے بر عکس اپنے موضوع پر گرفت رکھتے ہوئے اس سے متعلق چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھنا چاہیئے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں آخر میں جا کر بہت اہم ثابت ہوتی ہیں۔
٭ اگر کسی طور مفروضہ ناکام بھی ہوجاتا ہے تو اپنی تحقیق کی رپورتاژ ضرور مرتب کرنا چاہیئے تاکہ اس موضوع پر کام کرنے والے اگلے محقق کو اس تجربہ سے روشنی حاصل ہو سکے۔
٭ اس رپورتاژ کو ایسے مرتب کیا جانا چاہیئے تاکہ مستقبل میں اس سے کام لیا جا سکے۔

آخر میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ اردو میں ان اصولوں کی روشنی میں ہونے والے تحقیق کام بہت کم ہیں، جس کے بر عکس مغرب میں ان اصولوں کو نہ صرف یہ کہ وضع کیا گیا ہے بلکہ ان کو تحقیق پر Applyبھی کیا گیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے طریقہ کار کو اردو زبان و ادب سے متعلق طلبہ کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسل اس امر کی تلافی کر سکے۔

Categories
نان فکشن

سائنس کیا ہے؟ ۔ پہلا حصہ

اس مضمون کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
آج کی دنیا میں سائنس کو جس قدر فضیلت اور اہمیت کا مقام حاصل ہوا ہے وہ تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا۔ سائنس کا نام لیتے ہی ذہن میں ایک خاص تصور جنم لیتا ہے جس میں کسی بات کی پائیداری اور حقیقی ہونے کی تسلی پائی جاتی ہے۔ عام انسانوں کی سطح سے لے کر انتہائی پڑھے لکھے طبقات تک سائنس اپنا ایک خاص معتبر مقام رکھتی ہے۔ اب تو دنیا کے اکثر مذاہب بھی اپنے سچ ہونے کی دلیل سائنس کے نتائج پر قائم کرنے لگے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں مختلف موضوعات جیسے “اسلام اور سائنس” اور “تاؤازم اور سائنس” اور اسے طرح “بائبل اور سائنس” کے نام سے بے بہا لٹریچر مل جائے گا۔ اسی طرح وہ تمام علمی میدان جو کل تک بنیادی سائنسزیعنی فزکس، کیمسٹری یا بائیولوجی سے مختلف سمجھے جاتے تھے آج ان کے دعویداروں نے “سوشل سائنس” کی اصطلاح ایجاد کرلی ہے۔ برٹرینڈ رسل نے اپنے فلسفے کا نام ہی ‘سائنسی فلسفہ’ رکھا ہے۔ سائنس کی اس قدر کامیابی کی وجہ کیا ہے؟ اور سائنس کو اس قدر معتبر علم کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ان سوالات پر مختصر بحث اس مضمون کا مقصد ہے۔

 

سائنس کی اہمیت بطور علم اس لئے معتبر قرار دی جاتی ہے کیونکہ سائنس کسی بھی علم کے حصول میں ‘حقائق’ کو بنیادی حیثیت دیتی ہے۔ ان حقائق کا حصول سائنسدان اپنے حواس خمسہ سے کرتا ہے۔ اور اس کے بعد ان حقائق کو مرتب کر کے کسی خاص نظریے تک پہنچتا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں تجربیت اور منطقی اثباتیت کی تحریکیں اس انداز فکر کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سائنسی طریقہ کار میں دو بنیادی عوامل کارفرما ہیں جنہیں ہم ‘حقائق’ اور’تشریح’ کا نام دے سکتے ہیں۔ آئیے ان دونوں عوامل کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پہلے حقائق کی تعریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

جب بھی کوئی انسان اپنے اردگرد موجود فطرت پردھیان لگاتا ہے تو اسے کچھ حقائق موصول ہوتے ہیں۔ ان حقائق کے موصول ہونے میں اس کے حواس خمسہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ آنکھ اس کو کچھ رنگ اور حرکات کا مشاہدہ کرواتی ہے۔ اسی طرح کان، ناک، جلد اور زبان بھی کچھ حقائق مہیا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے بطن میں جب حواس اپنی ارتقائی منازل پوری کر لیتے ہیں تو ان کا کام حقائق کو اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ عام مشاہدہ بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف مشاہد ان حقائق کو مختلف طور پر وصول کرتے ہیں۔ اگر دو شخص ایک ہی شے کو ایک ہی وقت میں اور ایک ہی سمت سے مشاہدہ کر رہے ہوں تو لازمی نہیں کہ وہ ہمیشہ ایک جیسے نتائج پر پہنچیں گے۔ اسی طرح اگر سمت، وقت اور جگہ میں سے کسی بھی حالت کو تبدیل کردیا جائے تو دونوں اشخاص ایک ہی شے کو مختلف انداز سے دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر موسم گرما کے دوران عین وقت دوپہر کسی صاف سڑک کو دور سے دیکھیں تو وہ گیلی محسوس ہوگی جبکہ ایک قریبی شخص اس کو خشک محسوس کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقائق اپنے آپ میں کوئی مطلق حیثیت نہیں رکھتے؟ اور کیا حقائق کا حصول دیکھنے والے کے مشاہدے یا خواہش پر منحصر ہے؟ جیسا کہ بچپن میں ہم بادلوں میں کسی ہاتھی یا اونٹ کی شکل دیکھ لیتے تھے۔ یا یہ کہ ہمارے ذہن سے آزاد کسی دنیا کا وجود ہے بھی کہ نہیں؟ اگر ہے تو وہ دنیا کیسی ہے اور کیا ہم اسے جان سکتے ہیں؟

 

اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان حقائق کو وصول کر لینے کے بعد ہم ان کا اظہار کیسے کریں گے۔ اس کے لئے ہمیں زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب بھی ہم کچھ اشیاء کا مشاہدہ کررہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس شے سے متعلق کوئی لفظ یا جملہ ترتیب پانا چاہتا ہے۔ اگر تو دیکھی گئی شے کو ہمارا ذہن پہلے سے پہچانتا ہوا تو ہم فوری طور پر اس شے کے لئے وہی لفظ تیار کریں گے جو ہمیں باہر اپنے ماحول سے ملا ہے لیکن اگر یہ کوئی نئی شے ہوئی تو ہمیں اس کے لئے نیا لفظ ترتیب دینا ہوگا۔ اور پھر مزید یہ کہ دو مختلف اشخاص جو الفاظ ترتیب دیتے ہیں وہ اگر آپس میں مترادف ہوئے تو ان سے ایک مربوط تصور جنم لے گا۔ لیکن اگر دو اشخاص کا مشاہدہ ان کا ذاتی فعل ہے اور اس کا کسی دوسرے شخص کو علم نہیں تو وہ ایک ہی واقعہ کو حقیقت میں مختلف سمجھیں گے اور مختلف الفاظ کا چناؤ کریں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے کہ سائنس محض حقائق کو اکٹھا نہیں کرتی بلکہ وہ الفاظ یا معنی بھی ترتیب دیتی ہے۔ یہی الفاظ سائنس کی بنیاد بنتے ہیں۔ حواس اکیلے کافی نہیں ہیں۔ اسکا واضح مطلب یہ ہوگا کہ ایک مشاہدہ کرنے والا حقائق کا بیان کرتے وقت پہلے سے موجود الفاظ یا پھر بجا طور پر کہنا چاہیئے کہ وہ پہلے سے موجود کسی زبان کا سہارا لے گا۔ یہ وہ زبان ہے جو اس کو بچپن میں اسکے والدین یا معاشرے نے سکھائی ہوگی۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ انسانی شعور میں اس زبان کا وجود کیسے پیدا ہوا؟ اور انسان کے شعور میں ایسی کیا خوبی ہے کہ وہ حقائق کو محض مشاہدہ کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ انکو آپس میں مربوط کر کے نیا علم دریافت کرتا ہے؟ پہلے سوال کے جواب میں اگرچہ مختلف نظریات موجود ہیں جیسے کہ ارتقائی نقطہ نظر کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ماضی میں انسان کے ارتقائی عمل کے دوران حادثاتی طور پر جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے کچھ لوگوں نے زبان ایجاد کی ہوگی مگر انکا یہ ماننا کسی بھی تجربے یا تاریخی شواہد سے خالی ہے۔ اسی طرح دوسرے سوال کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان میں عقلی استدلال کی موجودگی بجائے خود ایک معمہ ہے۔ کچھ فلسفی کہتے ہیں کہ انسان میں عقلی اصول دراصل مادے ہی کی اعلیٰ شکل ہیں جب کہ دوسرے یہ مانتے ہیں کہ انسان میں عقلی اصول اس کی فطرت کا لازمہ اور خاصہ ہیں اور مادے میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ خودبخود عقلی استدلال پیدا کر سکے۔ بہرحال یہاں ہمارا یہ موضوع نہیں اور اس موضوع کو ہم اپنے ایک مضمون “فلسفہ اور سائنس” کے نام سے لکھ چکے ہیں۔

 

گزشتہ بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کی حقیقت کا ادراک ہمارے مشاہدات پر منحصر ہے اور یہ مشاہدات کسی فرد واحد یا کسی بے مثال اور ناقابل دید واقعات پر مشتمل نہیں ہوسکتے۔ مختلف مشاہد مل کر مختلف انداز سے کسی ایک ہی واقعہ پر جو تبصرہ کریں گے وہ سب مل کر ایک خاص اندازفکرکو جنم دے گا اور یہی سائنسی سوچ کا آغاز ہے۔ یعنی سائنسی حقائق مشترکہ انسانی مشاہدات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نیوٹن کا قانون حرکت صرف نیوٹن ہی کا نہیں بلکہ میرا اور آپ کا بھی قانون ہے جبکہ اس کے برعکس امیرخسرو کے بنائے ہوئے سر اور تال صرف امیرخسرو کے ہیں نہ کہ میرے اور آپ کے۔ اسی طرح سائنسی قوانین کسی ایک فرد کی مرضی اور خواہش کے تابع نہیں ہوتے جیسا کہ کوئی شخص اقبال اور شیکسپیئر میں سے کسی کوبھی پسند یا ناپسند کر سکتا ہو بلکہ یہ قوانین حقیقت کے تابع ہوتے ہیں۔ بہرحال اس فکر سے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے سائنس ایک اور قدم اٹھاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ اور نظریے کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھیں۔

 

دنیا میں ہمارے اردگرد بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہر واقعہ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک شخص ان تمام وجوہات کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اور اگر ہم کسی واقعہ کو مکمل طور پر جانچنا چاہیں تو اس کی تمام وجوہات کو ایک ساتھ رکھ کر جاننا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ مثال کے طور پراگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ بارش کیسے ہوتی ہے؟ تو اس کے پیچھے بہت سے عوامل جیسے سورج کی حرارت سے بخارات بننا، بخارات کا آپس میں اکٹھے ہونا، پانی کے مالیکیولز کا جڑنا اور پھر کسی سرد علاقہ میں پہنچ کر پانی کے قطرے بننا اور قطروں کا ہوا کی مخالف قوت کو عبور کر کے گریوٹی کے زیر اثر نیچے آنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ ہے۔ اس کو مزید مشکل بھی کیا جاسکتا تھا۔ لہٰذا ہمیں مجبور ہو کر کوئی ایسا طریقہ اپنانا پڑتا ہے کہ جس میں ہم کسی ایک واقعہ کے صرف اہم اور لازمی عوامل کی بجائے باقی تمام عوامل کے اثرات رد کردیتے ہیں اور اس سادہ سے نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہی سادہ قسم کے مشاہدات پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو کسی تجربہ میں وہی کچھ دیکھ پائیں گے جس کے لئے وہ تجربہ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ وہ شک ہے جو اکثر میرے طلباء پریکٹیکل امتحان میں مجھ پر کررہے ہوتے ہیں کہ میں ان سے وہی نتیجہ نکالوں گا جو پہلے سے میرے ذہن میں ہے۔ لیکن ایسا ہرگز درست نہیں ہے۔ میرے تجربات میری چاہت کے تابع نہیں ہیں بلکہ قوانین فطرت کے تابع ہیں اور اسی لئے کبھی مجھے اپنے تجربے میں ایسے نتائج بھی مل جاتے ہیں جو میرے ذہن میں نہیں ہوتے۔

 

آئیے اب ہم سائنس کے دوسرے بڑے اہم مسئلے یعنی حقائق کی تشریح کے بارے میں کچھ گذارشات پیش کرتے ہیں۔ اگر منطق کی تعریف کی جائے تو وہ محض ایک قاعدہ ہے جو دئیے گئے بیانات میں ایک ربط پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:

 

الف) تمام انسان ممالیہ ہیں۔
ب) سقراط ایک انسان ہے۔
ج) سقراط بھی ممالیہ ہے۔

 

گزشتہ مثال میں الف اور ب کو مقدمات کہا جاتا ہے جن کا لازمی نتیجہ ج کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں ہمیں منطق کے استعمال سے ایک نئی معلومات ملی ہے یعنی یہ کہ سقراط بھی ممالیہ ہے۔ اب ایک اور مثال لیجئے:

 

الف) تمام انسان جھوٹے ہیں۔
ب) سقراط ایک انسان ہے۔
ج) سقراط جھوٹا ہے۔

 

اب اگر اس دوسری مثال کو دیکھیں تو یہ بھی منطقی طور پر صحیح کام کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن چونکہ اس میں پہلا مقدمہ مبہم اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہے لہٰذا نتیجہ بھی مشکوک اور غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف منطق کافی نہیں ہے۔ مختلف حقائق کا اکٹھ جوڑ کرنے سے اگر کوئی منطقی نتیجہ برامد ہو بھی جائے تو لازمی نہیں کہ وہ درست علم مہیا کرے۔

 

اس حوالے سے جو عام تاثر پایا جاتا ہے وہ یہ کہ سائنس حقائق سے نظریات کو اخذ کرنے میں استقرائی طریقہ کار کا استعمال کرتی ہے۔ اس طریقہ میں کچھ محدود اور مخصوص حقائق کی بنیاد پر ایک ایسا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے جو عمومی ہوتا ہے اور ان تمام حقائق یا ان جیسے دیگر ناقابل دید واقعات پر یکساں نافذ ہوتا ہے۔ مثلاٌ چند ایٹموں کی جوخاصیت ہمارے تجربے میں سامنے آتی ہے وہ کائنات کے تمام ایٹموں پر لاگو کر دی جاتی ہے۔ استقرائی طریقہ کار کے کچھ مسائل ہیں جنہیں مختلف فلاسفہ جیسے ڈیوڈ ہیوم اور برٹرینڈ رسل وغیرہ نے واضح کیا ہے۔ ان میں بڑے اعتراضات دو ہیں: ایک یہ کہ چند حقائق کیسے ایک عمومی بیان کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ اور پھر یہ کہ ان حقائق کی تعداد کتنی ہو۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ استقرائی طریقہ کار کو ثابت کرنے کے لئے استقرائی طریقہ کار ناکافی ہے۔ اسی طرح سائنسی قوانین جو کہ عالمی نوعیت کے بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں ان کا انحصار بھی حقائق کی ایک خاص تعداد پرہوتا ہے۔ ان قوانین کو منطقی استدلال سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اپنے مقدمات کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ بھی بنتی ہے کہ ہم کسی ایک قوم یا قبیلے کے چند افراد کے رویے کی بنا پر ساری قوم یا قبیلے کو برا نہیں کہہ سکتے۔ اس مسئلے کا حل یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ سائنسی طریقہ کار میں تینوں عوامل یعنی حقائق پر مبنی بیانات، استقراء کے ذریعے عمومی قوانین کا اخذ کرنا اور پھر ان عالمی و عمومی قوانین سے منطقی استدلال یا استخراج شامل ہیں۔

 

حقائق سے نظریات کو اخذ کرتے وقت یہ خیال لازمی رکھا جاتا ہے کہ ان حقائق کی تعداد کافی زیادہ ہو اور ان حقائق کو مختلف حالات و واقعات میں دہرایا گیا ہے اور ان سے اخذ کردہ قانون آئندہ بھی کسی مشاہدہ سے تضاد نہ رکھتا ہو۔ جب قوانین قائم ہوجائیں تو ہم منطقی استدلال یعنی استخراجی طریقہ کار استعمال میں لا کر مزید انکشافات کرسکتے ہیں۔

 

(جاری ہے)
Categories
نان فکشن

ہمارے ہاں علم، تحقیق اور تخلیق کی موت کیسے واقع ہوئی؟

کیا وجہ سے مغربی ممالک میں پے در پے، ایک سے بڑھ کر ایک تخلیقیت سے بھری ذہانتیں پیدا ہو رہی ہیں، اور ہمارے ہاں دین و مذہب سے لے کر سائنسز اور سوشل سائنسز، ہر سطح پر اوسط درجے کا ذہن دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح کی کوئی نئی سوچ، ایجاد، دریافت کچھ بھی ہمارے نام پر نہیں۔ جب کہ یہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قدرت ہر خطے میں ذہانتیں برابر تقسیم کرتی ہے، ہمارے ہاں خداداد ذہانتوں کے باوجود تحقیق و تخلیق کے سوتے خشک کیوں ہوئے؟ ہمارے ہاں غلطی کہاں ہو رہی ہے؟

 

[blockquote style=”3″]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں

[/blockquote]

اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ تقلیدِ محض پر مبنی ہمارا نظامِ تعلیم اور سماجی اقدار ہیں۔ خالص تحقیقی مزاج کی آبیاری کسی بھی سطح پر کہیں بھی موجود نہیں۔ تحقیقی اور تخلیقی سوالات کی بیخ کنی کا
سلسلہ بچپن میں گھر سےشروع ہوتا ہے، اور سکول، مدرسہ، یونیورسٹی اور دینی جامعہ ہر جگہ تقریبًا ایک جیسی شدت سے آزاد سوالات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تحقیق کی اعلیٰ سطحی تعلیم کے طلبہ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی تحقیق میں کوئی نئی بات پیش نہ کر دینا، ورنہ دفاع کرنا دشوار ہو جائے گا اور ڈگری ملنے میں مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ راقم نے اسی وجہ سے اپنا ڈاکٹریٹ (اسلامیات) کا مقالہ انگریزی میں لکھا تھا کہ انگریزی جاننے والے معائنہ کار شاید اتنے تنگ نظر نہ ہوں۔

 

آپ نے کبھی غور کیا کہ کئی برسوں سے پاکستانی طلبہ، او لیول کے امتحانات میں عالمی سطح پر ٹاپ کر رہے ہیں، اس میں کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کروا چکے ہیں۔ لیکن پھر علم کی دنیا میں وہ نجانے کہاں گم ہو جاتے ہیں، علم کے کسی میدان میں کسی نئی تھیوری، ایجاد، دریافت، کسی نئے خیال کی پیش کش میں ان کا نام کہیں نظر نہیں آتا، بلکہ گزشتہ 60، 70 سالوں میں کوئی ایک بھی عالمی معیار کی تحقیق و تخلیق خالص پاکستانی ذہن سے نہیں پھوٹی، جو ایک دو نام موجود ہیں بھی، تو انہیں مذہبی شناخت کے خوف سے اپنانے سے انکار کر دیا گیا۔

 

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی نظام تعلیم رٹے پر مبنی تو ہے ہی، لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ او لیول جیسے کانسپٹ بیس نظام ِتعلیم میں بھی پاکستانی تعلیمی اداروں نے ممکنہ حد تک رٹا متعارف کروادیا ہے، جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے پاکستانی طلبہ عالمی سطح پر کئی سالوں سے ٹاپ کر رہے ہیں، لیکن کسی اصلی تخلیق و تحقیق میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔

 

ہمارے ہاں سوشل سانسئز تو رہے ایک طرف، خالص سائنسی مضامین میں بھی عملی کام بھی عموماً تصوراتی انداز میں کرایا جاتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ پروجیکڑز پر دکھا دیا جاتا ہے۔ طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ہمارے طلبہ کے ٹاپ کرنے کی وجہ ان کی تخلیقی ذہانت نہیں، بلکہ پرچے اچھے انداز میں کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں لکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

طلبہ سے خود عملی کام کرانے کا رحجان بہت ہی کم ہے، سارا زور تھیوریز اور ان کی وضاحت پر مبنی نوٹس تیار کرنے اور یاد کرانے پر دیا جاتا ہے۔

[/blockquote]

او لیول کے ایسے پاکستانی طلبہ جنھوں نے کچھ عرصہ بیرون ملک، امریکہ اور انگلینڈ وغیرہ میں پڑھا اور خاندانی وجوہات کی بنا پر باقی کی تعلیم پاکستان میں مکمل کرنے آ جاتے ہیں، ہمارے طریقہ تدریس پر حیرت اور کوفت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں اتنے طویل لیکچر کیوں دیئے جاتے ہیں، لکھنے کا کام بہت زیادہ دیا جاتا ہے، جب کہ یورپ وغیرہ میں اس سطح پر لیکچر عموما پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا، اور ہر لیکچر کے ساتھ کچھ عملی، بصری کام بھی ضرور کرایا جاتا ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ آپ کو اچھا سے اچھا، قابل پاکستانی ڈاکٹر، انجینیر، اکاونٹنٹ، فلسفے کا حافظ فلسفی، تایخ کا حافظ مورخ، تعلیمی تھیوریز کا حافظ ماہر تعلیم اور ماہرِ عمرانیات تو مل جائے گا، لیکن موجد نہیں ملے گا، آزاد مفکر نہیں ملے گا، کوئی ایک بھی ایسا نہیں مل پائے گا جس نے خالصتا کوئی نئی ایجاد کی ہو، کوئی بالکل نیا تجربہ کیا ہو، یا سائنس و بشریات میں کوئی نئی تھیوری یا نظریہ دیا ہو۔ زیادہ سے زیادہ کسی ایجاد کو موڈیفائی کر دیا ہوگا، یا کسی نظریے پر حاشیہ لکھ دیا ہوگا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی کو ہمارے ہاں تحقیق کی معراج قرار دیا جاتا ہے، اور اسی پر مقامی قسم کے آسکر بھی مل جاتے ہیں۔

 

دینی علوم میں تو تقلید کا رحجان واجباتِ دین میں شامل ہے ۔ راقم ایک دینی تحقیقی مجلے کی ایڈیٹنگ بھی کرتا ہے، جس قسم کے مضامین چھپنے آتے ہیں، مت پوچھئے، یعنی اس سطح پر بھی ‘نماز کے فوائد’ جیسا مضمون ایک سینیئر محقق کی طرف سے موصول ہو سکتا ہے!
جس معاشرے کے دینی علمی مزاج کا یہ عالم ہو کہ اگر کوئی اپنی تحقیق کے نتیجے میں کسی منفرد رائے کو پہنچ جائے، تو اسے ‘تفرد’ جیسا حقارت آمیز اور نفرت انگیز نام دے کر اس سے استفادہ کرنے سے اجتناب کرایا جاتا ہو، وہاں کتنے حوصلہ مند ہوں گے کہ جو پہلے تحقیق کا جوکھم برداشت کریں، اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہوانے والے کسی ‘تفرد’ پر ساری زندگی طعنے بھی سہتے رہیں۔ دماغ کے اس آزادنہ استعمال پر اداروں میں ملازمت کے دروازے تک بند کر دیے جاتے ہیں۔

 

[blockquote style=”3″]

ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے

[/blockquote]

حالت یہ ہے کہ اگر کسی ادارے میں اپنے طلبہ کو آزادیءِ فکر کی راہ دکھانے کی جرات کر ہی ڈالی جائے، جو اوّل تو انتظامیہ کی نگرانی کی وجہ سے عمومًا ممکن ہی نہیں ہوتی، تو بعد ازاں طلبہ کو یہ تلقین بھی کرنی پڑتی ہے کہ امتحانات میں کوئی اپنی آزادانہ رائے نہ لکھ دینا، وہی لکھنا جو نصاب کی کتاب میں لکھا ہوا ہے، ورنہ فیل تو کر ہی دیے جاؤ گے، غدار یا گمراہ بھی قرار پاؤ گے۔
سید سلیمان ندوی جیسے عالم، جنھوں نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں کچھ منفرد آراء اپنائی تھیں، عمر کے آخری دور میں جب تصوف کی راہ سے حضرت اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر بیعت ہوئے، تو ایک اجمالی اعلان فرمایا کہ میں اپنے تمام تفردات سے برات کا اعلان کرتا ہون۔ ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا اگر وہ اپنے تمام تفردات سے برات اپنی مزید تحقیق کی روشنی میں کرتے اور اپنے رجوع کے دلائل بھی بتاتے، لیکن یہ اجمالی بیان، کیا علم و تحقیق کی شکست کا اعلان نہیں، جو شائد آخرت کی نجات کے لیے ضروری سمجھ کر کیا گیا؟ علم کے مسند نشین بڑوں کا جب ایسا رویہ ہو گا تو علم، تحقیق اور تخلیق نے کیا پنپنا ہے۔

 

حد تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں خالص تخلیقی و تحقیی ذہن سے ایک گونا خوف اور احتراز کا رویہ پایا جاتا ہے، ایسے شخص کو کوئی اس وجہ سے ملازمت نہیں دیتا ہے یہ دوسروں کو اپنے سے پیچھے چھوڑ جائے گا۔

 

ہمارے سینیئر رفیق کار، برن ہال کالج کے سابق پرنسپل، سلیم صاحب، ایک پر حکمت ذہن کے مالک ہیں، کہا کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے غلام پیدا کرتے ہیں، طلبہ کو ‘سن لو اور مان لو’ کے طرزِ تعلیم کے ذریعے، غلامی کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، نیز، محکمے کا سربراہ اپنے ملازمین سے تابع داری ہی نہیں، بلکہ غلامی کی توقع کرتا ہے۔ ہمارےایک فوجی پرنسپل تو میری مناسب سی داڑھی کا سائز تک اپنی پسند کے مطابق کرانا چاہتے تھے۔ اپنے طلبہ اور ماتحتوں میں غلامی کی خو پیدا کرنے یہ خواہش کیوں ہے، اس کی وجہ سلیم صاحب یہ بتاتے تھے کہ غلام قومیں جب آزاد ہوتی ہیں تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو ان کے سابقہ آقا ان کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ غلامی کی یہ وراثت ہم چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مقولہ سنہری حروف میں لکھنے کے لائق ہے کہ ‘غلام، بد ترین آقا ہوتا ہے’۔

 

اس کاانکار نہیں کہ ذہانتیں یہاں بھی پیدا ہوتی ہیں لیکن بڑی بے دردی سے ان کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑی مشکل سے پیدا ہونے والے دیدہ ور، بڑی مشکل سے کہیں بچ پاتا ہے۔ علم و تحقیق اور تخلیق کے دشمن، دراصل، خدا کے دشمن ہیں۔ خدا ہر بار ہر بچے کو آزاد ذہن دے کر دنیا میں بھیجتا ہے، لیکن یہ خدا کی تخلیق کے دشمن، ہر بچے کی تخلیقیت کو جِلا پانے سے پہلے ہی دفن کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ یہ خدا سے مقابلہ پر کھڑے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ دین و مذھب، سائنس و سوشل سائنس کے فرعون ہیں جو کسی تخیلق کار موسیٰ کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کی گدّی، ان کی کرسی، ان کی روٹین اور ان کی تقلیدی تحقیق کی جامد سلطنت میں کوئی اضطراب پیدا ہونے نہ پائے۔ اس لیے حیرت نہیں ہونی چاہیے جب پاکستان مین آنے والے زلزلوں کو امریکی سائنسی تجربات کیا شاخسانہ قرار دینے والے افسانوں کو پذیرائی ملتی ہے۔
اور اگر ان کے ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کوئی آزاد فکر موسیٰ بچ نکلے تو یہ لوگ اس کے لیے حالات اتنے تنگ کر دیتے ہیں کہ اسے حضرت موسیٰؑ ہی کی طرح چھپ چھپا کے جلا وطن ہو جانا پڑتا ہے، ورنہ جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ پھر ہر پیدا ہوجانے والا موسیٰ، اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا کہ جلا وطنی سے واپس اپنے وطن کو لوٹ سکے اور اپنے لوگوں کو ان تگنائیوں اور شکنجوں سے آزاد کرا سکے جن میں جہالت و تقلید کے فرعونوں نے انہں جکڑ رکھا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔

[/blockquote]

موجودہ صورتِ حال میں مثبت تبدیلی حکومتی اقدامات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ حکومت کا اس صورتِ حال میں بہتری لانے کا کبھی کوئی ارادہ رہا ہی نہیں۔ حکومت جمہوری رہی ہو یا فوجی، تعلیم کے بارے میں ان سب کا رویہ ایک ہی جیسا رہا ہے۔ تعلیم سے یہ گریز، دراصل اس شعور کی راہ روکنے کی کوشش ہے جو کسی قسم کے استبداد اور استحصال کو قبول نہیں اور آسانی سے بے وقوف بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

 

جب تک یہ صورتِ حال برقرار ہے، ہمیں دوسروں کی اترن ہی پہننا ہوگی، تحقیق و تخلیق کی دولت اور اس کے ثمرات آزاد ذہن قوموں کو ملا کرتے ہیں، غلاموں کو نہیں۔

 

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے راہ و رسم شاہبازی