Categories
نان فکشن

ذہن جدید والے زبیر رضوی

میں نے اپنے آپ کو اس وقت بہت بے بس محسوس کیا، جب میں زبیر صاحب کے سامنے بیٹھا ان کی عجیب و غریب باتیں سن رہا تھا۔ یہ عجیب و غریب منفی معنی میں نہیں، بلکہ سراسر مثبت ہے۔ وہ ایک شام کا واقعہ تھا کہ میں اتفاق سے اکیلا ہی ان کے پاس کسی کتاب کے سلسلے میں پہنچ گیا تھا، انہوں نے ہمیشہ کی طرح بڑی محبت اور خلوص سے مجھے خوش آمدید کیا اور اپنے باہری کمرے میں جہاں نہ جانے کتنے مختلف النوع موضوعات پر کتابیں کچھ مرتب اور کچھ غیر مرتب انداز میں رکھی ہوئی تھیں بٹھایا۔ میں نے یہ بات اکثر محسوس کی تھی کہ زبیر صاحب اپنے مہمانوں کو خود پانی اور چائے سرو کرتے ہیں، اس لیے میں جب کبھی ان کے یہاں جاتا تھاتوان کے اس عمل سے ذرا سی بے چینی محسوس کرتا تھا کہ وہ ہاتھ میں پانی سے سجی ٹرے لیے چلے آرہے ہیں، اس لمحے میں میں بے چین ہو کر اٹھ کھڑا ہوتا اور وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر مجھے بیٹھنے کو کہتے۔ زبیر رضوی میرے نزدیک ایک معمہ رہے۔ میں ان کو اکثر دیکھتا تھا کہ وہ کس طرح ذہن جدید کے لیے تگ و دو کرتے ہیں، کتنی مشقتوں سے پرچہ تیار کرتے ہیں اور کتنے جتن سے اسے چھپوا کر اپنے قارئین تک پہنچواتے ہیں۔ ایک سچا تخلیق کار جس نے دنیا جہان کی اچھی اور اچھی سے اچھی نظمیں کہیں ہوں، جس کا مطالعہ مختلف میدانوں میں اتنا وسیع رہا ہو، جس نے گردش پا جیسی معرکہ آرا کتاب تخلیق کی ہو، وہ ایک پرچے کے لیے اتنی بھاگم دوڑ کیسے کر سکتا ہے۔ کیا اردو میں پرچہ نکالنے والا ہر مدیر اتنی ہی پریشانیا ں جھیلتا ہے، کیا وہ اتنے ہی مصائب کا سامنا کرتا ہے اور اگر کرتا بھی ہے تو کیا ان میں سے کوئی زبیر رضوی بھی ہے۔

اپنےوالد یا غالبا چھوٹے چچا سے میں نے زبیر صاحب کی جوانی کے دو ایک واقعات سنے تھے، ان کی شراب نوشی کے۔اس وقت تک میں نے زبیر صاحب کو ٹھیک سے دیکھا تک نہیں تھا۔ لہذا میرے ذہن میں ان کے تعلق سے ایک بے وقعت انسان کی شبیہ پائی جاتی تھی، میں چونکہ بچپن سے چند ایک اردو ادیبوں کے عجیب وغریب واقعات سنتا آیا ہوں اور وہ بھی منفی عجیب و غریب اس لیے انہیں اصل میں جاننے سے پہلے تک بے وقعت محض ہی تصور کرتا رہا، مثلا ً ندا فاضلی، قمر رئیس، خلیق انجم، رشید حسن خاں،فکر تونسوی، رفعت سروش اور اسی قسم کے دو چار اور ادیب۔ انہیں میں ایک نام زبیر صاحب کا بھی ہے، چونکہ ان تمام لوگوں سے میرے والد اور دونوں چچاوں کے پرانے اور دوستانہ تعلقات تھے اس لیے جس بے تکلفی سے ان حضرات کا ہمارے گھر میں ذکر ہوتا تھا اس کے باعث میں انہیں بالکل ناکارہ سمجھنے لگاتھا۔

پہلی مرتبہ میں نے زبیر صاحب کو ٹھیک سے اور غور سے 2012 میں دیکھا جب ہم ان کے پڑوس میں آباد ہوئے۔ایک روز جب میں اپنی نوکری کی تلاش میں گھر سے نکل رہا تھا تو زبیر صاحب ہمارے گھر میں داخل ہو رہے تھے، انہیں دیکھ کر میں کچھ دیر کے لیے رک گیا۔ وہ اس وقت والد صاحب سے ملنے آئے تھے، میں ان کو دیکھ کر اندر گیا اور امی سے یہ کنفرمیشن لیا کہ یہ زبیر صاحب ہیں، امی نے حامی بھری تو دوبارہ باہر والے کمرے میں آ کر انہیں دیکھنے لگا، اس وقت وہ ابا کے ساتھ بیٹھے گفتگو کر رہے تھے اور مجھے نہ جانے کیوں اس بات پر خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ میں نے آج پہلی بار زبیر صاحب کو ٹھیک سے دیکھ لیا۔ ابا سے ان کی بے تکلفی پر مجھے کچھ حیرت نہ تھی، بس یہ سوچ سوچ کر ایک مسکراہٹ بار بار میرے ہونٹوں پر بکھر جاتی تھی کہ ذہن جدید کا مدیر ہمارے گھر میں بیٹھا ہے۔ میرے سامنے، میرے ابا کے ساتھ۔ اس کے بعد تو زبیر صاحب چار پانچ مرتبہ ہمارے گھر آئے اور ان سے کچھ کچھ میری بھی رسم و راہ ہونے لگی۔ وہ بہت کم بولتے تھے، آہستگی جیسے ان کے مزاج کا حصہ ہو۔ میرے باپ اور چچا نے خواہ انہیں کبھی چیختے پکارتے یا جلال کے عالم میں دیکھا ہو، لیکن میں نے جب جب انہیں دیکھا مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ زندگی کے تمام اضطرابات کو زبیر صاحب کی تسکین نے زندہ نگل لیا ہے۔ ان کے چہرے پر بلا کی متانت تھی، کبھی کبھی کچھ سوچتے اور گفتگو کے دوران خاموش ہوتے تو متانت کے اثرات مزید گہرے ہو جاتے۔ جتنے لوگوں سے زبیر صاحب کے ملاقاتیں رہیں ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ زبیر صاحب اپنی بات کہنے میں ذرا بھی ہچکچاتے یا جھجھکتے نہیں تھے۔ بے تکلفی سے اپنی بات کہتے تھے، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہو۔ ان کی باتوں میں سنجیدگی رچی ہوتی اور ساتھ ہی لطیف مزاح بھی، جس کو وہ ہر کسی پر آشکار نہیں کرتے تھے۔ زبیر صاحب کا تصور ادب، اردو کے سنجیدہ ادیبوں سے خاصہ مختلف تھا۔ کبھی کبھی جب وہ کسی ادبی، علمی موضوع پر بات کرتے یا زندگی کی الجھی ہوئی سچائیوں پر بولتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں، ان کے اندر ایک قسم کا ابال تھا جس سے وہ ذرا سے مایوس نظر آتے تھے، اپنے اظہار میں وہ بعض اوقات وقت سے بہت آگے نکل جاتے تھے اور اپنی تہذیب اور معاشرت سے نالاں ہو کر سنجیدہ اور ساکن جھڑکیوں کا سہارا لینے لگتے تھے۔

زبیر صاحب کو عمریں بڑی کھلا کرتی تھیں وہ کسی بھی بات کے اظہار میں عمروں کا عمل دخل بے کار سمجھتے تھے، ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ ہم لوگ جس وقت لکھنا سیکھ رہے تھے اس وقت دنیا مختلف تھی، لیکن آج کا سیکھنے کا عمل اس سے یکسر تبدیل ہو چکا ہے، پھر کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دو چار ہندی کے ادیبوں کا نام لے کر پوچھنے لگے کے کیا آپ ہندی پڑھتے ہیں، میں نےانکار کیا تو برا سا منہ بنا کر پہلو بدلا اور ہنسنے لگے۔ میں اپنی کم علمی کے باعث زبیر صاحب سے کم ہی ملتا تھا، اس لیے نہیں کہ ان سے مل کر کسی طرح کی الجھن یا پریشانی کا احساس ہوتا ہو، بلکہ اس لیے کیوں کہ ان کا میدان علم و عمل اتنا وسیع تھا کہ ان کا شریک گفتگو ہونا ناممکن ہو جاتا تھا۔ پھر وہ ایسے مزاج کے شخص بھی نہیں تھے کہ اپنے سے نہایت چھوٹوں سے بھی پند و نصائح کی باتیں کرتے رہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے مجھے کبھی کسی کتاب کو پڑھنے کا مشورہ دیا ہو، وہ کبھی اس طرح سے پیش ہی نہیں آتے تھے کہ ان کے بزرگ ہونے کا خیال دل میں گھر کر جائے۔ ایک روز اچانک جنسیات پر گفتگو کرنے لگے، اورمسلم معاشرے میں جنسی خوف پر بے تکان بولتے رہے۔ اسی دوران ان کی ایک نواسی جو غالبا چار، پانچ برس کی رہی ہو گی کھیلتی کودتی باہری کمرے میں آ گئی تو اس کی طرف دیکھ کر مجھ سے کہنے لگے۔ آپ ذرا غور کیجیے کہ ہم اپنے بچوں کو جنسی اعضا کے تعلق سے بتاتے ہوئے بھی اتنا خوف زدہ رہتے ہیں کہ شعوری عمر تک ان کا خیال جنسی اعضا کی جانب سے ہٹاتے رہتے ہیں، مگر میں اس کا ذرا بھی قائل نہیں، پھر اس بچی کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ اگر کبھی میرے پاس آکر اپنے مخصوص مقام کی جانب اشارہ کر کے مجھ سے پوچھتی ہے کہ نانا یہ کیا ہے تو میں اسے بتاتا ہوں کہ یہ کیا ہے۔ جب انہوں نے اپنی بات ختم کی تو میں کچھ دیر تک ان سے نظریں نہیں ملا سکا، مجھے ایک قسم کی جھجھک محسوس ہو رہی تھی، مگر زبیر صاحب اس وقت بھی بالکل پر سکون تھے، وہ اکثر مجھ سے کہا کرتے تھے کہ اردو زبان میں Virginکے لیے اتنا پیارہ لفظ ہے باکرہ،لیکن اس کا استعمال کرتے ہوئے مسلم گھرانوں کی تہذیب یافتہ عورتوں اور مردوں کی کان کی لوئیں گرم ہو جاتی ہیں۔میں ایسی باتوں میں زبیر صاحب کا کچھ خاص ساتھ نہیں دے پاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ بولتے بولتے خود گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیتے تھے۔

میں نے ہمیشہ زبیر صاحب کے اندر ایک متحرک ادیب، ایک علم دوست انسان اور ایک نہایت سلجھا ہوا شخص دیکھا۔ ان کی گفتگو بتاتی تھی کہ وہ اپنے موضوعات کے حوالے سے کتنا زیادہ غور کر چکے ہیں اور اس غور و فکر کی بنیاد پر انہوں نے ایک موقف قائم کر لیا ہے۔ میں نے انہیں کبھی ہنگامی حالات میں زور و شور کی گفتگو کرتے نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں تکلفات میں گھرا پایا۔ اکثر وہ ذاکرنگر کی گلیوں میں نائٹ ڈریس پہنے سڑکوں پر ٹہلتے نظر آ جاتے تھے، کبھی راستے پر ملاقات ہو جاتی تو واجبی بات کر کے آگے بڑھ جاتے۔ ایک روز میں اے ٹی ایم کی لائن میں کھڑا اپنی باری کے آنے کا منتظر تھا کہ اچانک مجھے پیچھے جانی پہچانی آواز سنائی دی، میں نے مڑ کر دیکھا تو زبیر صاحب کسی سے محو گفتگو تھے، میں اسی وقت قطار سے ہٹنے لگا تو انہوں نے میرا کندھا پکڑ لیا، بات کر چکے تو میں نےکہا کہ انکل آپ آگے آجائیں، مگر انہوں نے مسکرا کر انکار کر دیا اور حال احوال طلب کرنے لگے۔ زبیر صاحب کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی، جو عام طور پر اردو کے ادیبوں میں مفقود ہوتی ہے۔ وہ اپنی تمام تر مشقتوں اور محنتوں کے بعد بھی ابتر یا ہراساں نظر نہیں آتے تھے، بلکہ ان کو ہر بار دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ اردو کے مکمل ادیب کو اگر کسی طرح ہونا چاہیے تو زبیر رضوی کی طرح۔ میں نے جتنے ہی ادیبوں کو اپنی اب تک کی زندگی میں دیکھا ہے، پھرخواہ ان میں علی امام نقوی ہوں یا ندا فاضلی، شمس الرحمان فارقی ہوں یا باقر مہندی، سید محمد اشرف ہوں یا شمیم حنفی،شجاع خاور ہوں یا سلام بن رزاق ہر کسی میں کوئی نہ کوئی کجی نظر آئی ہے۔ بحیثیت ادیب زبیر صاحب مجھے ہمیشہ مکمل معلوم ہوئے۔ کردار، گفتار، فہم وفراست، بے تکلفی، سنجیدگی، علم اور حلم اور اخلاق اور بے باکی میں زبیر صاحب عدیم المثال تھے۔ نئے لوگوں سے ان کی وابستگی دوسروں کے مقابلے کم تھی، لیکن پھر بھی جو لوگ اچھا لکھتے تھے انہیں زبیر صاحب ہمیشہ تذکرے میں رکھتے تھے۔ گردش پا میں انہوں نے بعض باتیں ایسی لکھیں ہیں جس سے ان کی شخصیت کے وہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں جس کا تذکرہ کرنا بھی ہمارے ادیب اپنی بے عزتی اور کسر شان تصور کریں گے، مگر زبیر صاحب ہر بات کو پوری صداقت سے بیان کر گیے ہیں اور یہ ہی ان کی ذات کا سب سے اہم پہلو ہے۔ مجھے زبیر صاحب کے معاصرین کا ان کے ساتھ رویہ کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا تھا، میں نے دو ایک مرتبہ اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے معاصرین ان سے کچھ خفا معلوم ہوتے ہیں۔ وہ خفگی کس بات پر تھی اس کا مجھے ذرا بھی علم نہیں، لیکن ایک روز جب میں غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے زبیر رضوی، کشور ناہید، ندا فاضلی، فیاض رفعت اور مولانا یعقوب کے ہمراہ بیٹھا تھا تو ندا فاضلی نے کسی بات پر زبیر صاحب سے اختلاف کیا، زبیر صاحب ابھی اس کا جواب دینے کے لیے منہ ہی کھول رہے تھے کہ ندا فاضلی نے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ زبیر تم چپ رہو، تم جاہل ہو، اس پر کشور ناہید چراغ پا ہو گئیں اور زبیر صاحب کی طرف سے کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھیں تو ندا فاضلی نے ان کو چپ کراتے ہوئے مزید ایک مرتبہ اسی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ تم تو چپ ہی رہو کہ تم زبیر سے بڑی جاہل ہو۔اس پر کشور ناہید بکھر سی گئیں، مجھے ندا فاضلی کا وہ رویہ اس وقت بڑا عجیب لگا، لیکن میں زبیر صاحب کا رویہ دیکھ کر اور زیادہ متعجب ہوا کہ زبیر صاحب اس جملے کے بعد بحث سے بالکل لاتعلق سے ہو گئے۔ یہ ان کی ذات کا ٹھہراو تھا کہ وہ کسی بھی بات پر اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے بحث و مباحثے میں نہیں پڑتے تھے اور اس کی وجہ ان کے پر سکون چہرے کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتی تھی کہ ان کو اپنی بات کے درست ہونے کا آخری حد تک ادراک ہوتا تھا۔ علمی، ادبی مباحث انہیں علمی ادبی رویوں کے ساتھ بھلے لگتے تھے۔

میری زبیر صاحب سے جتنی ملاقاتیں رہیں، اس میں میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، لیکن سب سے بڑی چیز اگر وہ کچھ سکھا گئے تو وہ اپنی ذات کا ٹھہراو اور منطقی طرز استدلال ہے۔ جس کے سہارے انہوں نے اردو زبان و ادب کی تخلیقی اور تہذیبی تاریخ میں اپنا ایک مقام متعین کیا۔ اب زبیر صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن جب کبھی میں تنہائی میں بیٹھ کر ان کی دلچسپ باتیں یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہیں آس پاس ہی ہیں اورمجھے دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرا رہے ہیں۔

Categories
نان فکشن

گردشِ پا؛ ایک داستان ایک کہانی

افسانوی نگاہ سے ہم اگر معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں ہر انسان ایک چلتی پھرتی کہانی نظر آئے گا، ایسی کہانی جو اپنا ایک رنگین قالب رکھتی ہے، انسان اور کہانی کے اس مشترک پہلو پر مزید غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ایک انسان اپنی سوسائٹی کے دیگر انسانوں سے کسی نہ کسی طرح جڑا ہے اسی طرح ہر انسان کی کہانی کا رنگ بھی دوسرے انسانوں کی کہانیوں کے رنگ سے مل کر ایک نیا رنگ بنا رہا ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری ہے اور غالباً یہ ہی زندگی کی اصل رنگا رنگی ہے، انفرادی سطح پر اس رنگا رنگی کو ہم کسی شخص کے عام حالات زندگی کے ذریعہ جان سکتے ہیں،اور جب ہم اس کو جاننے کے عمل سے گزرتے ہیں تو ہمیں ہر ہر قدم پر اس بات کا شدید احساس ہوتا ہے کہ ہر انسانی زندگی اپنے عمومی رویہ کی بنیاد پر کتنے رنگوں سے سجی ہوئی ہے، ایک واقعہ، ایک عمل،ایک لمحہ اور ایک زندگی جیسے کئی آئینوں سے یہ رنگ مترشح ہیں، جو ہر اس شخص کو بہ آسانی نظر آ جاتے ہیں جو اپنے عہد کو بصیر ت کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔کبھی یہ رنگ ترش اور تیکھے ہو جاتے ہیں تو کبھی انگبین آمیز،مگر ان کا سب سے قبح پہلو یہ ہے کہ ان رنگوں کو کسی طرح قید نہیں کیا جا سکتا،یہ ایک ٹکڑاءِسحاب کی مانند نظروں کے تاریک کونوں سے زمانے کی افق پر ابھرتے ہیں اور زندگی کے آسمان پر سے ہوتے ہوئے پھر اس کی تاریکی میں کہیں گم ہوجاتے ہیں،حالاں کہ ان رنگوں کی آمد و رفت کا یہ سلسلہ مستقل جاری ہے،پر زمانی اعتبار سے ان میں تغیر پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک عہد،دوسرے عہد کی رنگین بیانوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ بظاہر تو ابھی تک ایسا کوئی فتراک ہمارے علم میں نہیں جس میں اس نخچیر کو محفوظ کیا جا سکے،لیکن حضرت انسان نے اپنے طور پر ان رنگوں کو قید کرنے کے کئی آئینے بنائے ہیں، جن میں مجھے سب سے بہتر اور شفاف چہرا اس انفرادی اظہاریہ کا نظر آتا ہے جس میں ہر انسان اپنے عہد اپنے معاشرے اپنے گرد و نواح اور اپنی کہانی کے رنگین کرداروں کو قلم بند کر کے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہے اورجس کو ادبی اصطلاح میں خودنوشت سوانح بھی کہا جاتا ہے۔

 

***

 

‘گردش پا’اردو کی ان چند ایک ‘خود نوشتوں’ میں شمار کی جا سکتی ہے جس میں سچ اور جھوٹ بیان کرنے کی کشکمش نظر نہیں آتی،ہمارے یہاں خود نوشت لکھنے کا معیار اتنا پست ہے کہ کسی بھی خودنوشت میں زندگی کی باریک اور پیچیدہ حقیقتوں کا ذکر اس کی اصل صورت میں نظر نہیں آتا۔ اردو کا خودنوشت لیکھک ایک عجیب و غریب کیفیت میں مبتلا رہتا ہے، وہ سچ کو سچ بنانے اور جھوٹ کو خوبی سے بیان کرنے کے بھنور میں اس طرح پھنسا رہتا ہے کہ نہ سچ کو سچ کی طرح بیان کر پاتا ہے اور نہ جھوٹ میں افسانوی رنگ بھر پاتا ہے۔ اردو کی خود نوشتوں کا یہ عالم ہے کہ اس کے توسط سے اس صنف کے قاری کو زندگی کرنے کے ہنر کو پرکھنے والی آنکھ کا استعارہ نصیب نہیں ہوپاتا،جس کی وجہ سے زندگی کو ایک میکانکی عمل سمجھ کر گزارنے کا سبق اردو کی خودنوشتوں سے اسی طرح ملتا ہے جس طرح ایک مولوی اپنی درس گاہ میں بستی کے غریب بچوں کو پڑھاتا ہے۔ میں اگر یہ کہوں تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ اردو میں بہت کم ایسی کتابیں ہیں جن کو صحیح معانی میں خود نوشت کہا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اردو میں خودنوشت کے نام پر حکایات سعدی پڑھانے کا رواج عام ہے۔ خود نوشت سوانح لکھنا جتنا آسان معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ ہے کہ یہ امر اتنا ہی مشکل ہے۔ اپنی بات اور وہ بھی ایسی اپنی جو اپنے ہی ساتھ اور اپنے اوپر گذری ہو اس کا بیان افسانہ، ناول اور داستان لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ یہ ایک نفسیاتی پریشانی ہے کہ ہر انسان اپنے تئیں بہت زیادہ ایمان دار نہیں ہوپاتا۔ اس لئے وہ اپنے معاملات سے دیگر اشخاص کے مقابلے میں خود جس طرح کے نتائج اخذ کرتا ہے وہ کافی حد تک غیر معتبر ہوتے ہیں۔ کسی واقعہ اور حادثے کا ہم پر گزرنا اور اس واقعہ کو اپنے زاویہ نگاہ سے بیان کرنا،دوسرے پر گزرے ہوئے کو بیان کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے، خود نوشت میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہی ہے کہ یہ خود نوشتہ ہے، اس لئے اس میں واقعات کا بیان بھی خود ساختہ اور خود آراستہ بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ اپنی کہانی کا مرکزی کردا ر خود میں ہوں۔ اس لئے اب میں جب اپنے معاملات کو بیان کروں گا،تو مجھے اس کی صحیح تصویر سامنے لانے کی جرات خود مجتمع کرنا پڑے گی، اورمجھے اپنے تئیں یک گنا سفاک بھی ہونا پڑے گا، سچ کو لغوی معنی سے بر تر ہو کر سچ کی طرح اور جھوٹ جو کہ ہر انسان کی سرشت میں شامل ہے اس کو داستانی رنگ میں بیان کرنا ہوگا۔ یہ ایک کڑا امتحان ہے۔ کیوں کہ اکثر اوقات انسان اپنی زندگی کا سچ او ر اپنی زندگی کے افسانوی جھوٹ کو بیان کرنے میں اصل واقعہ حذف کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے واقعہ کی اصل نوعیت اپنا دم توڑ دیتی ہے، سچ کو سچ کی طرح بیان کرنے میں تو خواہ کچھ لوگ کامیاب ہو جائیں لیکن ہماری زندگی کے بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن کو بیان کرنے کا تصور بھی سفاک سے سفاک ادیب کی انگلیوں میں ارتعاش پیداکر دیا ہے۔

 

گردش پا کو پڑھنے کے بعد اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ زبیر رضوی کو اس کشمکش نے کہیں گھیرا نہیں ہے، انہوں نے جو کہا ہے اس سے ایک زندگی کی ایسی تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ آپ اس تصویر کے تمام رنگوں کا الگ الگ انداز میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ گرد ش پا میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ میں اس بات کا فیصلہ تو نہیں کر سکتا،لیکن یہ حقیقت ہے کہ ااگر اس میں کچھ جھوٹ شامل بھی ہے تو وہ سچ نما کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ زیبر صاحب کا حوصلہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے ایسے واقعات جن کو انسان خود سے بھی چھپاتا ہے،ان کو بھی بے دریغ بیان کر دیا ہے۔ حالاں کہ میں نے ان واقعات کو یک بارگی شک کی نگاہوں سے بھی دیکھا اور اس میں افسانوی رنگ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ واقعہ ہے کہ مجھے ان کے ایسے واقعات میں جن میں بلا کی جرات موجود ہے ایک ایسا رنگ نظر آیا جو گڑھا ہوا تو ہر گز نہیں ہو سکتا۔

 

زبیر صاحب ایک اچھے نظم نگار ہیں جس بات کی اطلاع ان کی نثر پڑھنے سے بھی ملتی ہے۔ مجھے گردش پا کا مطالعہ کرتے وقت جگہ جگہ اس بات کا احساس ہوا کہ اس داستان کا یہ حصہ اگر منظوم نما نہ ہو کر منظوم ہوتا تو زیادہ بھلا معلوم ہوتا۔ زیبر صاحب جملہ تراشی کے ہنر سے بھی خوب واقف ہیں،یہاں جملہ تراشنے سے میری مراد جملہ کی اختراع و ایجاد کرنا ہے۔ گردش پا میں بہت سے ایسے جملے ہیں جو زبیر صاحب کی تخلیق معلوم ہوتے ہیں۔ گردش پا ایک ایسی کتاب ہے جس کو اردو زبان کی خود نوشت سوانحی کتب میں بالیقین شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ یہ خود نوشت سوانح کے اجزائے ترکیبی کو ترتیب وار انداز میں پرو کر تحریر کی گئی ہے، بلکہ اس لئے کیوں کہ اس میں زندگی کے ان معاملات کو بیان کیا گیا ہے جو ایک پژ مردہ اور افسردہ انسان کو زندہ رہنے کا حوصلہ بخشنے اور اس کو زندگی کرنے کا عمل سکھاتی ہے۔ یہ اس خود نوشت اور خود نوشت نگار کی سب سے اہم بات ہے کہ ان دونوں میں جس قدر بے باکی اور آزادہ روی پائی جاتی ہے اتنی ہی نستعلیقیت اور اصول پسندی بھی نظر آتی ہے۔ میرے نزدیک گردش پا اردو کی ان چند ایک کتب میں شمار ہے،جس پر نارنگ صاحب کا یہ اقتباس کھرا اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو انہوں نے1959ء میں’ شام موہن لال جگر بریلوی’ کی خود نوشت سوانح ‘حدیث خودی’کے لئے لکھاتھا،

 

ساری کتاب میں ایک لفظ غیر ضروری یا زائد نہیں۔سیدھا صاف انداز بیان جس میں دلکش محاورے کہیں کہیں لطف دے جاتے ہیں۔فقرے مربوط ہیں جیسے کوئی بالمشافہ گفتگو کر رہا ہو۔کہیں گنجلک یا ژ ولیدہ بیانی نہیں۔پھر الفاظ کا انتخاب ایسا مناسب اور معقول کہ بات دل میں اتر جائے اور کہنے والا بھی خود نمائی کے خطروں سے صاف دامن بچا جائے۔جو کچھ لکھا ہے،جذباتیت سے ہٹ کر لکھا ہے۔بے ہنگم عبارت آرائی نام کو نہیں۔جو بات کہنا چاہی ہے،سوچ سمجھ کر کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے ز یادہ صاف کہی ہے(الخ)۔پوری کتاب میں کہیں کوئی جھول محسوس نہیں ہوتا۔ایک ایک جملہ طبیعت حاضر کر کے اور جی ٹھو نک کے لکھا ہے۔

 

)صفحہ نمبر: 544،حدیث خودی:ایک خود نوشت سوانح عمری،کاغذ آتش زدہ،ڈاکٹر گوپی چند نارنگ (

 

یہ واقعہ ہے کہ مجھے یہ جملے جگر بریلوی کی خود نوشت سوانح’حدیث خودی ‘ سے زیادہ ’زبیر رضوی کی ’گردش پا ‘ کے متعلق درست معلوم ہوتے ہیں۔اب میں یہاں دلیل کے طور پر زبیر صاحب کی خود سوانح کے چند ایک جملے تحریرکر رہا ہوں جن سے اس کتاب کی سادگی،نغمگی اور تخلیقیت مترشح ہے۔

 

*ہم سب انار کی طرح پھوٹتی ہوئی ہنسی کو اندر ہی اندر گھونٹ رہے تھے۔

 

*انہیں اس بات کا پوری طرح احساس تھا کہ ہندوستان کے ایک ایسے شاہزادہ کے دربار میں ناچ رہی ہیں جہاں ہوا بھی بدن چرا کر گزرتی ہے۔

 

* ہر موسم میں دھیرے دھیر ے سانس لینے والا لداخ کا شہر لہیمہ میں نے پہلی بار دیکھا۔

 

*دلی نے آہستہ سے میرے کان میں کہا چھوڑ آئے الف لیلہ جیسی جادو نگری ؟؟

 

*مجھے آپا جان کا وجود کبھی مٹی تو کبھی آگ کا بنا ہوا لگتا، جب کبھی میں انہیں نہاتا ہوا دیکھ لیتا تو مجھے لگتا جیسے کوئی چولھے میں جلی ہوئی لکڑی کو پانی سے بجھا نے کی کوشش کر رہا ہو۔

 

*مجھے لگا جیسے آپا جان نے اپنے سفید دوپٹے کو لال رنگ سے رنگ لیا ہے۔ ان کے سفید رنگ کو نہ جانے کیسے گلابی رنگ کی یاد آگئی تھی۔ مجھے محسوس ہوا آپا جان کا وجود مٹی سے آگ بنتا جا رہا ہے،
*

 

لکشمی اکثر پیپر مینٹ جیسی گولیاں چوستی رہتی تھی۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگی مجھے پیاس لگتی ہے۔ ان گولیوں کو چوسنے سے پیاس نہیں لگے گی۔ لکشمی کی دی ہوئی گولیاں اب میں بھی چوسنے لگا تھا کیوں کہ لکشمی کے کہنے پر مجھے بھی یہ احساس ہونے لگا تھا کہ مجھے بھی بہت پیا س لگنے لگی ہے۔

 

*مجاز کو دیکھ کر یہ لگ رہا تھا جیسے ساری نئی اردو شاعری سے ہماری ملاقات ہو گئی۔

 

عین ممکن ہے کہ یہ جملے آپ کو الگ سے وہ مزا نہ دے پائیں جو مزا انہوں گردش پا کی نثر کے بہتے دریا میں غوطہ زنی کے بعد مجھے دیا، اور ممکن ہے کہ گردش پا کے مطالعہ کے بعد بھی یہ جملے کسی کو متاثر نہ کریں،لیکن میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ گردش پا کی مسلسل قرات کے دوران ان جملوں پر میرے بدن میں ایک لہر سی دوڑ گئی جس کے لطف سے کچھ اچھی کتابوں کے قاری ہی واقف ہیں۔