Categories
نقطۂ نظر

کیا بلدیاتی انتخابات محض ڈھونگ تھے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ وعدہ بھی کرتے تھے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے اور ترقیاتی فنڈز منتخب مقامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ 2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بلندبانگ دعوؤں کی وجہ سے انہیں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف کے پی کے میں صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اپنے وعدوں کو بھول کرمفادات اور اقتدار کے حصول کی سیاست میں مصروف ہوگئی۔ نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا دعویٰ دو سال گزرنے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت پر پورا ہوا اور یوں کے پی حکومت نے تیس مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد روکنے کے بہانے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز دو سال تک استعمال ہی نہیں کیے۔ مالی سال 2013-14میں 93ارب جبکہ مالی سال 2014-15میں 97 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے حکومتی نااہلی کے باعث التوا کا شکار رہے اور یوں دو برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی بجٹ میں مختص 190ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے۔
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہےلیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا وعدہ ایفاء نہیں ہوسکا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کے نوٹیفکیشن بھی اب تک جاری نہیں کیے جا سکے

 

مالی سال 2015-16 کے لیے پیش کیے گئے صوبائی بجٹ میں بلدیات کے لیے 23 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہےلیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا وعدہ ایفاء نہیں ہوسکا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کے نوٹیفکیشن بھی اب تک جاری نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے لوگوں میں مایوسی پھیلنے لگی ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد سے اب تک دو ایسے بڑے سانحات وقوع پذیر ہو چکے ہیں جن کے دوران بلدیاتی اداروں اور منتخب کونسلر زکی خدمات حاصل کرنے کی اشدضرورت تھی۔ جولائی اور اگست کے موسم میں مون سون کی بارشوں کے بعد خیبرپختونخواہ سمیت پورا ملک سیلاب کی زد میں آیا اور اس سیلاب کے صرف دوماہ بعد 26اکتوبر کے زلزلے نے بچے کچھےعلاقوں کی آبادی کو بھی ملیا میٹ کر دیا۔ ان سانحات کے دوران عوام کو جلد ازجلد امداد پہنچانے کے لیے بلدیاتی اداروں اور منتخب اراکین کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے صوبائی اور مرکزی حکومت نے انہیں نظرانداز کردیا۔ ان سانحات کے دوران مقامی حکومتوں کے نظام کو بروئے کار نہ لانا سول انتظامیہ اور منتخب جمہوری قیادت کی کمزوریاں عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔ منتخب نمائندوں اور جمہوری حکمرانوں کو فوج کے سوا کسی اور ادارے یا نظام پر بھروسہ نہیں، ہمارے حکمران سول اداروں کو مضبوط کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ طالبان سے لےکر کراچی کے بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن تک، زلزلے سے لے کر منہدم عمارتوں تک ہر جگہ فوج ہی مصروف عمل ہے۔ مقامی حکومتوں اور سول اداروں کو مضبوط نہ بنانے کی وجہ سے فوج کی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے اور جمہوریت اور جمہوری ادارے مزید کمزور ہو رہے ہیں۔
حکومت اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور حالیہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد میں مخلص ہوتی تو خیبر پختونخوا کی ہر گلی اور محلے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں پر انحصار کیا جاتا۔ یہ نمائندے نہ صرف اپنے اپنے علاقے کی حالتِ زار سے واقف ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے مسائل کی بروقت نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے عمل میں رہنمائی کے اہل بھی ہیں۔

 

منتخب جمہوری اداروں کو نظرانداز کرنے کے نقصانات:
کسی بھی ریاست میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کو آئین کے مطابق زیادہ سے زیادہ جمہوری انداز سے چلایاجائے۔ فوج کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت اورپولیس کاکام ریاست کے اندر قانون کا نفاذہے۔ پاکستان کے 68سالہ تاریخ کے بیشتر سال چارفوجی آمر ہڑپ کر گئے اور باقی کے ادوار میں فوج پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کے فرائض نبھاتی رہی۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ جب کبھی منتخب جمہوری حکومتوں کے ہاتھ اقتدار آیا تو وہ بھی اپنی نااہلی، سیاسی حالات اور پیچیدگیوں کی وجہ سے فوج اور سول نوکر شاہی پر انحصار کرتی رہیں جس کی وجہ سے یہ دونوں ادارے مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ سول معاملات میں دفاعی اداروں کی مداخلت اور سول ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے فوج کی پیشہ وارانہ کارکردگی کا معیار گرا ہے۔
حکومت اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور حالیہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد میں مخلص ہوتی تو خیبر پختونخوا کی ہر گلی اور محلے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں پر انحصار کیا جاتا۔ یہ نمائندے نہ صرف اپنے اپنے علاقے کی حالتِ زار سے واقف ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے مسائل کی بروقت نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے عمل میں رہنمائی کے اہل بھی ہیں۔ چونکہ یہ کونسلرز براہ راست منتخب ہوکے آئے ہیں اس لیے انہیں رائے عامہ اور اگلے انتخابات کا خوف لاحق رہتا ہے، اگلی بار انتخاب لڑنے اور جیتنے کے لیے یہ اپنے علاقے میں تندہی سے کام کرتے۔ اگر ان نمائندوں کی خدمات حاصل کی جاتیں تو فوج، پولیس اور پٹواریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شفاف اور بروقت امدادی کاروائی عمل میں آتی۔ لیکن حکومت کو نہ تو اپنے بنائے نظام پر بھروسہ ہے اور نہ ہی منتخب نمائندوں پر اور یہی پاکستان میں بلدیاتی نظاموں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع

پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نےغریبوں کی بات کی، غریبوں کےلیے سیاست کے دروازے کھولے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔ غریبوں کےلیے روٹی، کپڑا اورمکان کا نعرہ لگایا، لیکن وہ غریبوں کے حق میں انقلاب نہیں لا سکے یا اُنہیں لانے نہیں دیا گیا یا پھراُن کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن ہاں وہ غریبوں کو جگانے میں کامیاب ہوئے، اُنہوں نے لوگوں کو اور خاص کر غریبوں کو اُن کے حقوق کی پہچان کروائی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قائد اعظم کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کو سب سے زیادہ شہرت ملی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصول ہیں: “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں”(آج پیپلز پارٹی کے زیادہ ترجیالوں کو ان چار بنیادی اصولوں کا شاید پتہ بھی نہ ہو)۔
جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سےمحروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔

 

پیپلز پارٹی نے 1970ء کے انتخابات بائیں بازو کی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر لڑے جس میں ترقی پسند رہنما جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، مختار رانا، شیخ محمد رشید، حنیف رامے، خورشید حسن میر، رسول بخش تالپور، علی احمد تالپور، حیات محمد خان شیر پاوُ اور طارق عزیز شامل تھے۔ مذہبی عالم مولانا کوثر نیازی ، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمائندے غلام مصطفیٰ کھر اور غلام مصطفیٰ جتوئی بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ معراج محمد خان اور غلام مصطفیٰ کھر کو بھٹو نے اپنا جانشین بھی بنایا تھا۔ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کے کھمبے بھی جیت گئے تھے، دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد لاہور میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے ہاتھوں نظریاتی انتخابی معرکہ ہارگئے۔ جماعت اسلامی نے 1970ء کے انتخابات کو اسلام اورکفرکی جنگ قرار دیا تھا۔ پورے پنجاب میں مودودی ٹھاہ، نصراللہ ٹھاہ اور دولتانہ ٹھاہ کے نعر ے بھی گونجے تھے لیکن اُس کے بعدہونے والے کسی بھی عام انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب میں پوری کامیاب نہ ہوسکی۔ مختار رانا تو پیپلز پارٹی سے بہت جلدہی علیحدہ ہوگئےجب کہ جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔
1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے

 

بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو 1977ء کے انتخابات تک کافی بدل چکے تھے۔ رفتہ رفتہ اقتدار کی مصلحتوں کے تحت وہ پیپلز پارٹی کے اساسی نظریہ سے دور ہٹتے گئے۔ سوشلزم کو اسلامی سوشلزم میں بدل ڈالا اور پی این اے کے دباو میں آکر سیاسی مصلحت کے تحت مولانا مودودی کے گھر پہنچ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ فیصلہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی موت ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں نظریاتی کارکن بھٹو کی مصلحت پسند سیاست کا شکار ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول رہنما تھے اور پیپلز پارٹی ایک ملک گیرجماعت تھی اور سارے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ بنک بھی پیپلز پارٹی کا ہی تھا۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا اور پی این اے کے احتجاج کو بہانہ بناکر پانچ جولائی 1977ء کوجنرل ضیاءالحق حکومت پر قابض ہوگیا۔ جنرل ضیاءالحق نے جب یہ دیکھا کہ بھٹو کی مقبولیت اقتدارسے علیحدہ ہونے کے بعد بھی کم نہیں ہورہی تو اس نے غیر سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ بھٹو پر مالی بدعنوانی کا الزام لگایا مگر جب بھٹو کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد سے پوچھا گیا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو مالی خردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں لگا سکتا۔
آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔

 

چار اپریل 1979ء کو جنرل ضیاءالحق حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے دی جسے عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔ 1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” ، لیکن پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصول”اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ پاکستان کے عوام اس وقت بھی بھٹو کے سحر میں تھے لہٰذا بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں مگر اس سے پہلے بینظیر بھٹو بیگم زرداری بھی بن چکی تھی۔ وہ زرداری کے رنگ میں جلدہی رنگ گئیں اور صرف بیس ماہ بعد اُس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بے پناہ بدعنوانی کے باعث بینظیر بھٹو کی حکومت برخواست کر دی۔ نواز شریف اور غلام اسحاق کے اختلافات کے باعث 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آئیں۔ اس درمیان میں بینظیر بھٹو نےایک کام یہ بھی کیا کہ اپنے والد کے زمانے کے پرانے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو نکال باہر کیا۔ اُن کے شوہر آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات تو اُن کی پہلی حکومت کے دوران ہی لگنے شروع ہوگئے تھے اور آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی دیا گیا۔ پانچ نومبر 1996ء کو بینظیر بھٹو کے لائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کوکرپشن کی بنیادپر برطرف کردیا۔

 

نواز شریف کے دوسرے دور میں بینظیربھٹو ملک سے باہرچلی گئیں اورسابق صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں اٹھارہ اکتوبر 2007ء کو اپنی طویل جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچیں جہاں اُن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ کارساز حملے میں تو وہ بچ گئیں مگر اسی سال ستائیس دسمبرکو راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں اُنہیں قتل کر دیا گیا۔ اپنے قتل کیے جانے تک بینظیربھٹو یہ نعرہ مسلسل لگاتی رہیں “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے”۔ جس آصف زرداری کو بینظیربھٹو نے گھر تک محدود کردیا تھا بینظیر کی ہلاکت کے بعد وہ پیپلز پارٹی کا مالک بن بیٹھا۔ زرداری صاحب نے اپنے بیٹے بلاول زرداری کوبلاول بھٹو زرداری کا نیا نام دیا اور2008ء کے انتخابات میں ایک اور نئے نعرہ کا اضافہ کیا “تم کتنے بھٹو ماروگے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔ زرداری کو معلوم تھا کہ بھٹو کا نام لیے بغیر وہ سیاسی دکان نہیں چلاسکتے۔ بینظیر بھٹو کے بعدپارٹی کی قیادت آصف زرداری نے سنبھالی اور فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا تو جس طرح بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے قریبی لوگوں کی پیپلز پارٹی سےچھٹی کی تھی ٹھیک اُسی طرح آصف زرداری نے اُن لوگوں کی چھٹی کی جو بینظیربھٹوکے قریب تھے۔

 

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ (2008ء سے 2013ء) حکومت کے دور میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بد انتظامی، طویل لوڈشیڈنگ ، غربت کےساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ۔ مشرف دور کے اختتام 34 ارب ڈالر کے قرضے پانچ سال میں دگنے ہوگئے، 62 روپے کا ڈالر 100 روپے کاہوگیا، ملک کے تمام ادارے تباہ ہوگئے۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ، کراچی جو پاکستان کا معاشی مرکز ہے وہ لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن گیا۔ آصف زرداری، دو وزرائےاعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے مل کر کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑڈالے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ تمام تر برے حالات کے باوجود بھٹو کے نام کو بدنام کیا جاتا رہا۔ آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔ وہ لوگ بھی آصف زرداری کے بہت قریب رہے ہیں جو کل تک بینظیر بھٹوکوملکی سلامتی کے لیےخطرہ کہتے تھے۔ عام لوگ اب یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” یا ” ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”، جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ بینظیربھٹو کے قتل کے ساتھ ہی بھٹو بھی زندہ نہ رہا ۔

 

پیپلز پارٹی 2013ء کے انتخابات بری طرح ہار گئی ۔ یہ پارٹی کی نہیں اُس قیادت کی شکست تھی جس کا مطمع نظر صرف لوٹ مار رہا ہے۔ گیارہ اکتوبر 2015ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتیجے کے مطابق این اے 122 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عامر حسین نے صرف 819 ووٹ حاصل کیے جبکہ این اے 144 میں پیپلز پارٹی کے امیدوارچوہدری سجادالحسن نے صرف 3807 ووٹ حاصل کیے۔ کیانظریاتی سیات کا خاتمہ نہیں ہوگیا؟ جواب۔۔۔ہاں کہہ سکتے ہیں کہ نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی رہتی تھیں۔ ہر طرح کے لوگ سیاسی جماعتوں کے اندر موجود تھے۔مگر اب لوگ ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ صرف اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی وابستگیاں تبدیل کرلیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پانچ جولائی کے دن یوم سیاہ منانے والی پیپلز پارٹی پر بھی جنرل ضیاء الحق کی باقیات قابض ہیں۔ رحمان ملک، یوسف رضا گیلانی اور منظور وٹو آج پارٹی قیادت کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر وحشیانہ ظلم کرکے اور بھٹو کو پھانسی دےکربھی نہ تو پیپلز پارٹی کو ختم کرسکا اور نہ ہی بھٹو کو مارسکا لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلز پارٹی پربدعنوانی کےخود کش حملے کرکرکے پیپلز پارٹی اور بھٹو کو مار ڈالا۔ آصف زرداری قائدانہ صلاحیتوں کے مالک نہیں ہیں، اگر پیپلز پارٹی کو سیاست میں دوبارہ زندہ ہونا ہے اور بھٹو کو زندہ کرنا ہے تو اُسے موجودہ قیادت کو بدلنا ہوگا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا، ورنہ 11 اکتوبر 2015ء کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مایوس کن نتایج دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ قوم اب آصف زرداری کو الوداع کہتے ہوئے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے “الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع”۔
Categories
نقطۂ نظر

شریف برادران کے دو اہم کام

تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا، فارغ وقت میں میاں صاحبان اورنج ٹرین کا شوق بھی پورا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کوٹلی آزاد کشمیر میں100میگاواٹ کے گل پور ہائیڈرو پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد فرمایا کہ پاکستان کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ یہاں 60 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ مقدار میں سستی بجلی بنانا اُن کا مقصد ہے۔ بات تھوڑی سی کڑوی مگر سچ ہے کہ یہ جو آئے دن وزیراعظم صاحب کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کاافتتاح کرتے ہیں اس سے عوم کو اب تک ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا، آج تک عوام کو بجلی کاایک یونٹ نصیب نہیں ہوا ہے۔ نندی پور کا پراجیکٹ 22 ارب روپےسے 81 ارب روپےپر چلاگیا جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں گیارہ ارب 54کروڑ روپے سے زائد مالیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔عوام کو بجلی نہیں مل رہی ہے لیکن حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کے نام پر عوام کو بیوقوف بنارہی ہے۔
تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعدنواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا

 

انتخابات کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن وہ حکومت میں آکر بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف دو برس میں ہی ختم کر دیں گے،اب کہا جارہا ہے کہ لوڈشیڈنگ2018ء میں ختم ہوگی۔ لوڈشیڈنگ تو ختم نہیں ہوئی لیکن نواز شریف حکومت کے دو سال پورے ہونے پر بجلی کی قیمتوں میں 121 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔اس اضافے نے عام آدمی کو زندہ در گور کردیا ہے۔

 

روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے، حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، غربت، بےروزگاری اورمہنگائی میں کئی سو گنا اضافہ، حکمرانوں کے شاہانہ انداز نے ملک کے غریب اور متوسط طبقات کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ لوگ اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے ہیں۔ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی کو مرنے کی بہت جلدی تھی حالانکہ اس حاملہ خاتون نے جن وجوہ کی وجہ سے تیزاب پی کر خودکشی کی وہ پاکستان میں بہت عام ہیں۔اُس کا شوہرگزشتہ چھ ماہ سے بے روزگار تھا جس کی وجہ سے اُس کے مالی حالات بہت خراب تھے ایسے میں شاید اُسے صحیح خوراک بھی نہ ملتی ہو جو ایک حاملہ خاتون کو ملنی چاہیے، اُوپر سے پانچ ہزار روپے بجلی کا بل آگیا جسے درست کروانے میں ناکامی کے بعدمیاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ اپنے شوہر سے جھگڑے کے بعد ثمینہ بی بی نے دل برداشتہ ہوکر تیزاب پی لیا اور مرنے سے قبل ایک بچے کو جنم دیا، ثمینہ بی بی نے موت کو آسان راستہ سمجھ کر اپنا لیا۔ ثمینہ بی بی اور اُس کے شوہر کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کی 20کروڑکی آبادی میں 30لاکھ 58 ہزار لوگ بے روزگار ہیں اور بجلی کے وزیربڑی فرعونیت سے فرماتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے عوام کو یہ کڑوی گولی تو نگلنی پڑے گی، ثمینہ بی بی اسی کڑوی گولی کا شکار ہوگئی، کیا ثمینہ بی بی کی اس موت پر خواجہ آصف کو کچھ حیا یا شرم آئے گی؟
لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں

 

ملک کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے بستر اُن مریضوں سے بھرے رہتے ہیں جو مضر صحت پانی استعمال کرتے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں گٹرکے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اپریل میں لاہور کے ایک مرکزی پمپنگ اسٹیشن جبکہ کراچی کے علاقوں گڈاپ اور گلشن اقبال سے حاصل کردہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔ایک ہلکی سی بارش کے بعد لاہور کے گٹر ابلنے لگتے ہیں، پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں اور صحت کے متعلقہ امور کو نظر انداز کرنے سے برسات کے دنوں میں ہر سال لاہور میں تباہی آجاتی ہے۔ لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں سیوریج سسٹم تباہ ہونے کے باعث لوگ یرقان، دل اور جگر کے امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اورنج ٹرین کے نام پرصرف 27کلومیٹر پر 165 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور ہر اسٹیشن کا خرچہ تقریباً 6ارب روپے سے زیادہ ہے۔ مقامی انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اگرسیوریج سسٹم کے بدلنے کے لیے اورنج ٹرین کے لیے مختص کی گئی رقم کا کچھ حصہ بھی خرچ کیا جائے تو پورے لاہور کا سیوریج سسٹم نیا ہوجائے گا۔ اب انجینیئرز کو کون سمجھائے کہ اورنج ٹرین زمین کے اوپر چلتی ہے جو سب کو نظر آتی ہے جبکہ سیوریج سسٹم زمین کے اندر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔

 

ایک عام آدمی جوشاید پانچ یا سات سال پہلے دس ہزارروپے میں گزارا کرلیتا تھا آج اُس کا گزاراہ پچیس ہزارروپے میں بھی مشکل سے ہورہا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے، جن کی روزانہ کی آمدنی دو سو روپے یا اُس سے کم ہے۔ فیصل آباد کے محلے نواباں والا مین روڈ کے نزدیک کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہائش پذیر پندرہ سالہ لڑکی کائنات دختر جاوید صبح سے بھوکی تھی اور اُس کا والد محنت مزدوری کی تلاش میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ کائنات نے مکان کے دوسرے حصے میں رہائش پذیرخاندان کو اپنی بھوک کا حوالہ دے کر روٹی یا اس کےلیے کچھ پیسے مانگے تو جواب ملا کہ تم تو تین مہینے کا کرایہ تک نہیں دے سکے۔ اس پر مایوس اور پریشان بھوک کی ماری پندرہ سالہ کائنات مزید دل برداشتہ ہو گئی اور گھر میں موجود زہریلا کالا پتھر کھاکر ابدی نیند سو گئی۔ بیروزگاری اورمہنگائی غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کے مترادف ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) عوام کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرکے حکومت میں آئی تھی لیکن عوام کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔عوام نے جن کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا تھا آج انہی حکمرانوں کو کسی کی بھی پروا نہیں۔ حکمران غریب عوام کو سہولیات کے نام پر نرم شرائط پر قرضے اور غریب عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم دے رہے ہیں۔

 

گیارہ مئ 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ نواز شریف عوام کوبھیک کی بجائے باعزت روزگار دیں گے لیکن اُن کے وعدے اور دعوے دونوں ہی جھوٹے نکلے۔ ماضی کی طرح انہوں نے ہنرمندنوجوانوں کو نرم شرائط پر قرضے دیئے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں ملنے والی بھیک 1000سے بڑھا کر 1200روپے کردی۔ ماضی میں بھی لوگوں نے پیلی ٹیکسیاں لے کر کیا کرلیا تھا سوائے اس کے کہ اُن گاڑیوں کواپنے ذاتی استعمال میں لانا شروع کردیا جس سے بےروزگاری پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نرم شرائط پر قرضے کی اسکیم تو ناکام ہوگئی اور اگر کسی نے قرض لیا بھی ہوگا تو زیادہ سے زیادہ رکشہ یا ٹیکسی خرید لی ہوگی یا پھر کوئی دکان کھول کر بیٹھ گئے ہوں گے لیکن یہ مسائل کا حل نہیں۔ اگر عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں بھیک پر ہی گزارا کرنا ہوتا تو پیپلز پارٹی میں کیا بُرائی تھی؟ پیپلزپارٹی نے تو اعلان کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئی تو بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر دو ہزار کردے گی۔ لیکن عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا کیونکہ عوام امید کررہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) بےروزگاری کو ختم کرکے عوام کو باعزت روزگار فراہم کرے گی ۔ لیکن افسوس نواز شریف کی حکومت نے عام آدمی کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔

 

کوٹلی آزاد کشمیر میں ہی وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گیارہ اکتوبر کے انتخابات شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھے جس میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کامیاب ہوا لیکن نتائج کو اب بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اور اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ نتیجہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ تسلیم نہیں کیا جا رہا تو قوم ہی بتائے کہ کس طریقے سے یہ نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ وزیراعظم کے اس سوال کا بالکل سادہ سا جواب ہے کہ آپ نے 2013ء کےانتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے اگر وہ پورے کردیئے ہوتے یا کررہے ہوتے تو عوام خود ہی نتیجہ تسلیم کروالیتے۔ وزیراعظم صاحب جمہوری حکومتوں کے عوام تو خوشحال اور علاقے سرسبز و شاداب دکھائی دیتے ہیں، حکومت لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے، جمہوری حکومتیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کےلیے نت نئے منصوبے اور پروگرام ترتیب دیتی ہیں جہاں عوام کو زیادہ سے زیادہ اجتماعی ثمرات میسر آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو جمہوری وزیراعظم کو عوام سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کس طریقے سے نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ آخر میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف سے ایک سوال کہ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی اور کائنات کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
Categories
نقطۂ نظر

لاہور؛ ضمنی انتخاب کے مستقبل پر اثرات

لاہور میں ضمنی انتخابات کا جو تنیجہ آیا اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کوئی کہتا ہے پی ٹی آئی اخلاقی طور پر جیت گئی، کوئی کہتا ہے نواز لیگ نے میدان مار لیا اور اب پی ٹی آئی کو سکون آئے گا، دھرنے کی غلط سیاست سے کچھ عرصہ جان چھوٹے گی، کچھ لوگ کہتے ہیں دونوں صوبائی نشستیں پی ٹی آئی کے پاس ہیں اور قومی نشست ن لیگ کے پاس ہے یہ بھی ن لیگ کی بے عزتی ہے، کلثوم نواز کا حقیقی بھانجا پی ٹی آئی سے صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گیا یہ بہت بڑا اپ سیٹ ہے، کوئی کہہ رہا ہے ن لیگ کی تاریخی فتح ہوئی اور عمران خان کی سیاست کو تباہ کر دیا، کوئی کہتا ہے علیم خان پراپرٹی مافیا ہے۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جو سوچا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے، لکھا جا رہا ہے، پڑھا جا رہا ہے، تجزیہ کیا جا رہا ہے، نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا لیکن جو ہوا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہوا ہے، اتنا خطرناک کہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔
پی ٹی آئی کی شکست ہر اس حلقے کی شکست ہے جو ن لیگ کے غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، اب حکومت اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو کھل کے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔
میں بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا حمایتی نہیں ہوں، بنیادی طور پر میں مسلم لیگ نواز کے عوام کش طرز حکومت کا مخالف ہوں۔ لاہور میں این اے 122میں ضمنی انتخاب ملک کے سیاسی مستقبل کا انتخاب تھا۔ 2013 میں دھاندلی ہوئی، بد انتظامی ہوئی یا جو بھی ہوا نواز شریف نے حکومت قائم کر لی اور وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ اس کے بعد ان کا طرز حکمرانی کیسا رہا کیسے، دو اڑھائی سالہ حکومت کو کس نظر سے دیکھا جائے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اس دوران حزب اختلاف کا کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سےمزاحمت اور مخالفت کا رویہ ترک کیے جانے کے بعد نواز شریف کو روکنے والا، پوچھنے والا کوئی نہیں ۔صرف ایک پی ٹی آئی ہی ایسی جماعت تھی جو اگر اس ملک کی بہتری کے لیے نہیں تو اپنے مفاد کی خاطر ہی سہی، یا عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے ہی سہی، یا دس فیصد عوام کی بہتری کے لیے ہی سہی نواز شریف حکومت کے خلاف بھرپور حزب اختلاف کا کردار ادا کر سکتی تھی۔ دھرنوں کی سیاست اور احتجاج کے طریق کار سے اختلاف کےباوجود کوئی سیاستدان تو ایسا تھا، کوئی سیاسی جماعت تو ایسی تھی جو حکومت کو اپنے لیے خطرہ محسوس ہوتی تھی، جس کے الزامات کے جواب فوری طور پر پریس کانفرنسوں میں دیئے جاتے تھے، جس کےجلسوں اوراحتجاج پر کارروائی کی گئی، کمیشن بنائے گئے، جو بھی تھا کم از کم کسی سطح پر حکومت کو کچھ غلط کرنے سے پہلے سوچنا تو پڑتا تھا۔ دھرنا دینے والوں کی جمہوریت کش سیاست سے قطع نظر احتجاج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ احتجاج سے حکومتیں گرائی نہیں جاتیں لیکن احتجاج سے حکومتوں کو غلط فیصلوں سے روکا جا سکتا ہے۔
اس ایک شکست سے حکومت گرنی نہیں تھی، صرف اور صرف حکومت کو روکنے والا، پوچھنے والا، احتساب کرنے والا، جمہوری انتقام والا ایک راستہ کھلا رہتا
حزب اختلاف کا کردار ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کرنا اور عوام کے حقوق کے لیے لڑنا ہے لیکن اس وقت کوئی بھی حکومت کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ حالات یہ ہیں کہ نواز شریف جیت کے بعد غرور، تکبر، خود غرضی اور فرعونیت کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھ رہے، ان کے دل و دماغ میں کسی چیز کا کوئی خوف، ڈر جھجھک اور رکاوٹ نہیں ہے سوائے وردی والوں کے۔ پیپلزپارٹی کے لیے اپنی کرپشن سے جان چھڑانی مشکل ہو رہی ہے اور تحریک انصاف کو حکومت گرانے اور حکومت حاصل کرنے کے علاوہ کوئی کسی چیز سے دلچسپی نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کو کرپشن سے کون روکے گا۔ اس حکومت کو اب ‘من پسند’ ترقیاتی کاموں سے کون روکے گا؟ پی ٹی آئی کی شکست ہر اس حلقے کی شکست ہے جو ن لیگ کے غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، اب حکومت اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو کھل کے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ پی ٹی آئی کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ عدالتوں اور کمیشنوں کے بعد عوام نے بھی ن لیگ کا ساتھ دیا ہے اب سب کچھ ن لیگ ہے سب کچھ نواز شریف ہے، اب میٹرو بسیں میٹرو ٹرینیں، نندی پور اور سولر پلانٹ چلیں گے، شریف برادران کے کارخانے دوسرے ملکوں میں لگیں گے، فیکٹریاں کھلیں گی، کرپشن کے نئے طریقے ایجاد ہوں گے، کوئی روکنےوالا نہیں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ اب پی۔آئی۔اے کی نجکاری کون روکے گا؟ اب سٹیل مل کی فروخت میں کون رکاوٹ بنے گا؟ اب ملکی اثاثے کون محفوظ بنائے گا، اب وزیر خزانہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے سامنے کوئی دیوار نہیں ہو گی۔ منی لانڈرنگ کے ملزم ہمارے وزیر خزانہ ہیں، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمات نیب میں پڑے ہیں نہ نیب کھولتا ہے نہ عدالت کھولنے دیتی ہے۔ صرف ایک امید تھی، صرف ایک راستہ تھا، صرف ایک ڈھال تھی، صرف ایک طریقہ تھا کہ شاید پی ٹی آئی لاہور کا ضمنی الیکشن جیت جائے اور نواز شریف کو کچھ روکاوٹ ڈال دی جائے۔ ایک ہی تسلی تھی کہ شاید تحریک انصاف کی این اے 122 میں کامیابی کے بعد یہ لوگ عوام کے انتقام سے تھوڑا ڈر جائیں، کچھ ان کو خیال آ جائے کہ وہ غلط ہیں۔ تحریک انصاف اگر عام آدمی کی سیاست کرتی تو ہوسکتا ہے کہ یہ کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے، جھجھکیں گے، لڑکھڑائیں گے لیکن تحریک انصاف کی غلطیوں سے یہ امکان بھی جاتا رہا۔ اس ایک شکست سے حکومت گرنی نہیں تھی، صرف اور صرف حکومت کو روکنے والا، پوچھنے والا، احتساب کرنے والا، جمہوری انتقام والا ایک راستہ کھلا رہتا لیکن لاہور حلقہ این اے ایک سو بائیس نے ملک کے سیاسی و معاشی مستقبل پر کافی سوالیہ نشانات چھوڑ دیئے ہیں
Categories
نقطۂ نظر

تحریک انصاف میں موروثی سیاست

لاکھوں نوجوانوں کے ہردلعزیز رہنما عمران خان نے 2013کے عام انتخابات کی مہم کے دوران جلسوں اور جلوسوں سمیت پاکستانی روایتی سیاست کا انداز مکمل طور پر تبدیل کر دیاتھا۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور اور مردان سمیت ملک کے جس کونے میں خان صاحب مہم کے سلسلے میں گئے لاکھوں کا مجمع جمع کیا ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے جلسوں نے کسی حد تک زلفی بھٹو کی یاد تازہ کی تھی۔ جب بھٹو مرحوم روایتی سیاست اور سیاسی جادوگروں کے خلاف پنجہ آزمائی کررہے تھے اور اسلامی اشتراکیت کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کررہے تھے تو ان کے جلسوں میں بھی ایسا ہی جوش و خروش دیکھنے کو ملتا تھا۔ مغربی پاکستان کے عوام جو ایک فوجی جرنیل اور اس کے کاسہ لیسوں کے طرز حکم رانی سے عاجز آ گئے تھے بھٹو کے پیچھے دیوانہ وار بھاگنے لگے۔ اگرچہ روٹی ،کپڑا اور مکان بھی بعد میں سراب ثابت ہوا لیکن بھٹو کا طرزسیاست عوامی سیاست کی بنیاد ڈال گیا۔ شکر ہے کہ ہمارے عوام ہر ناکامی کی ذمہ داری خدا کی مرضی پر ڈال دیتے ہیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ نہ بھٹو اب تک زندہ ہوتا اور نہ عمران خان صاحب کے جلسوں میں رونق ہوتی۔
اگرچہ تحریک انصاف کے متوالوں کا جنون اور دیوانہ پن ابھی تک جوان ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کم از کم خیبر پختونخوا میں یہ چکا چوند ماند پڑنے کو ہے۔
تبدیلی اور مورثی سیاست کا خاتمہ پی ٹی آئی کا منشور اور نعرہ ہوا کر تا تھا اور اب بھی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ وعدے بھی محض ڈھکوسلے ہی ثابت ہوئے۔ خان صاحب کے آمرانہ رویے اور جماعت میں شامل ہوجانے والے لوٹوں نے اس جماعت کو بھی روایتی اور موروثی سیاست کی راہ پر گامزن کردیاہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے متوالوں کا جنون اور دیوانہ پن ابھی تک جوان ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کم از کم خیبر پختونخوا میں یہ چکا چوند ماند پڑنے کو ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کااپنے نظریات سے روگردانی کرنا ہے۔مورثی سیاست کی بدترین مخالف جماعت نے حال ہی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران وہ سب کچھ کیا جو پاکستان کی دوسری کرپٹ اور بدعنوان سیاسی جماعتوں کا خاصہ ہے۔ نوے روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا وعدہ کرنے والی جماعت نے اس وعدے کی تکمیل میں ڈھائی برس لگا دیئے۔ انتخابات کے دوران اقربا پروری عروج پرتھی۔
موروثی سیاست بتدریج تحریک انصاف میں سرایت کرتی جارہی ہے۔ ضلع اور تحصیل ناظمین کے چناو کے دوران خیبر پختونخواکے وزیر اعلیٰ نے اپنے بھائی کو اپنے آبائی ضلع کا ناظم نامزد کیا کیوں کہ خٹک صاحب نے مستقبل میں بھی سیاست کرنی ہے اور اس کے لیے ضلعی انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے۔صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی ڈی آئی خان کے تحصیل ناظم، صوبائی وزیر امتیاز قریشی کے بھائی کوہاٹ کے ضلعی ناظم ، ٹانک سے ممبر قومی اسمبلی کے بھائی مصطفیٰ کنڈی ناظم، ایم پی اے احتشام اکبر کے چچا تحصیل ناظم، ایم پی اے سمیع اللہ علیزئی کے کزن عزیز اللہ ضلع ناظم اورپی ٹی آئی چارسدہ کے عہدیدار اور صوبائی نشست کے امیدوارطارق اعظم کابھتیجا اپنے حلقے ناظم منتخب ہوا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم منصفانہ نہیں تھی بلکہ تحریک انصاف کے عہدیداروں نے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لوگوں کو ٹکٹ دلوائے
بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم منصفانہ نہیں تھی بلکہ تحریک انصاف کے عہدیداروں نے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لوگوں کو ٹکٹ دلوائے۔بنی گالہ میں خصوصی اثرورسوخ کے حامل وزیر تعلیم عاطف خان نے دو مرتبہ عام انتخابات ہارنے والے صاحب کومردان کا ناظم اعلیٰ بنانے کی تجویز دی تھی ۔ انتخابات کے دوران تحریک انصاف میں موجود دھڑے بندی بھی کھل کر سامنے آئی۔ مردان سمیت بیشتر اضلاع میں اراکین اسمبلی اور عام کارکنان ناظمین کے چناؤ کے سلسلے میں ایک صفحے پر نہیں تھے۔ سرکردہ رہنماوں کے مابین بھی اختلافات نظر آئے جو وقت گزرنے کے ساتھ شدید ہونے کا اندیشہ ہے۔
پاکستانی سیاست 2013سے پہلے جہاں تھی وہیں واپس لوٹ آئی ہے۔ مجھ جیسے احمق جو یہ سوچ رہے تھے کہ عمران خان نے سیاست کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر عام لوگوں کو شعور دیاہے ان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں۔ بنی گالہ کے غلط فیصلوں نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ بلاول ہاؤس، مسلم لیگ ہاؤس اور پختونخوا ہاؤس والوں کی طرح پی ٹی آئی کا بھی ایک کیمپ ڈیوڈ ہے جہاں پر سادہ لوح عوام کو ماموں بنایا جاتا ہے۔
مزے کی خبر تو یہ ہے کہ عمران خان نے ناظمین کے انٹرویو خود کیے تھے لیکن ہوا وہی جو ہوتا آیا ہے یعنی کارکن نظر انداز کر دیئے گئے اور سفارشیوں کو نوازدیا گیا۔ پشاور سے تحریک انصاف کے فعال کارکن بیرسٹر یونس ظہیر کے ساتھ ایسا ہی ‘ہتھ’ ہوا ہے۔ یونس کے ساتھ پی کے 2 کا ٹکٹ دینے کا کا وعدہ کیا گیا لیکن پھر این اے 1کے ضمنی انتخاب پر ٹرخا دیاگیا۔ اور بالآخر اعلیٰ تعلیم یافتہ یونس ظہیر کو باؤنڈری کے اس پار بارہواں کھلاڑی بنا کر دھکیل دیاگیا ۔ ڈرون حملوں کے خلاف پشاور میں کئی ماہ جاری رہنے والا دھرنا یونس ظہیر نے کامیا ب کرایا تھا لیکن اسے اس کی کارکردگی کا خاطر خواہ صلہ نہیں دیا گیا۔
ان حالات میں لگتا ہے کہ واحد تبدیلی جو تحریک انصاف کی وجہ سے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جلسوں میں ڈھول بجتے تھے اور اب ڈی جے سسٹم چلایا جائے گا
تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ چکی ہے۔ یہ نعرہ بھی سراب ثابت ہوا ہے صحت اور تعلیم میں تبدیلی کےبلند بانگ وعدےمحض انتخآبی شور ثابت ہوئے ہیں۔ میں نے بنی گالہ تک رسائی رکھنے والے ایک صاحب سے پوچھا کہ تعلیم کے شعبے میں پی ٹی آئی کس قسم کی تبدیلی لائے گی تو جناب گویا ہوئے کہ “ہیلی کاپٹر والے صاحب” نے اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جو پہلے سہ ماہی میں لاگو ہوگی۔ تحریک انصاف کے عودوں کے برعکس ڈھائی سالوں میں یکساں نظام تعلیم کا مسئلہ جو ں کا توں ہے۔خیبرپختونخواہ میں اسد قیصرکے قائد اعظم سکول سسٹم اورخورشید قصوری صاحب کے بیکن ہاوس سکول سسٹم کے ہوتے ہوئے یکساں نظام تعلیم کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا۔ صحت کی وزارت صوابی کے ایک صنعت کار کے بیٹے کے پاس ہے جو کبھی معائنے کی غرض سے کسی سرکاری ہسپتال نہیں گئے۔ ان حالات میں لگتا ہے کہ واحد تبدیلی جو تحریک انصاف کی وجہ سے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جلسوں میں ڈھول بجتے تھے اور اب ڈی جے سسٹم چلایا جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

اور تبدیلی نہیں آئی

خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات میں جس طرح تحریک انصاف حکومت کی جانب سے بدانتظامی اور سرکاری مشینری کا استعمال دیکھنے میں آیا ہے وہ 2013 کے عام انتخابات کی نسبت انتخابی بے قاعدگیوں کا کہیں بڑا مظاہرہ ہے اور موجودہ تحریک انصاف حکومت کی انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت بھی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب سے جس مثالی بلدیاتی نظام کے دعوے کیے جارہے تھے اس کی بنیاد 11 لاشوں اور 90 سے زائد زخمیوں کے خون سے رکھی گئی ہے۔ اس دوران کپتان سیاسی دباو سے آزادجس پولیس کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں وہ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور حکمران تحریک انصاف کے امیدواران کے لیے ووٹ مانگنے میں مصروف رہی۔
انتخابی عمل کے دوران کھلم کھلا اسلحے کی نمائش، خواتین کو ووٹ ڈالنے سے محروم کرنے، جعلی بیلٹ پیپرز، دھونس دھاندلی اور دباو سے ووٹ ڈلوانے اور مخالف جماعتوں کے امیدواروں اور ووٹروں کو ہراساں کرنے کے واقعات جس تواتر سے سامنے آئے ہیں وہ یقیناً تحریک انصاف حکومت کے نئے خیبرپختونخواہ کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ اس ضمن میں فافین کی جاری کردہ رپورٹ ایک چارج شیٹ ہے اور عمران خان صاحب کی جانب سے 2013 کے انتخابات کے دوران منظم دھاندلی کے الزامات کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے کافی ہے۔ اگر باقی سیاسی جماعتیں اس وقت خیبر پختونخؤاہ کے بلدیاتی انتخابات کے دوران تحریک انصاف پر دھاندلی اور منظم انداز میں دیگر جماعتوں کا مینڈیٹ چرانے کا الزام عائد کریں تو ان کے دعووں میں تحریک انصاف کے 2013 کے انتخابات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی نسبت کہیں زیادہ صداقت ہو گی۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب سے جس مثالی بلدیاتی نظام کے دعوے کیے جارہے تھے اس کی بنیاد 11 لاشوں اور 90 سے زائد زخمیوں کے خون سے رکھی گئی ہے۔ اس دوران کپتان سیاسی دباو سے آزادجس پولیس کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں وہ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور حکمران تحریک انصاف کے امیدواران کے لیے ووٹ مانگنے میں مصروف رہی
تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کی جانب سے اپنی صوبائی حکومت کی نااہلی کے اعتراف کی بجائے بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کا ملبہ بالکل الیکشن کمیشن پراسی طرح ڈالا گیا ہے جیسے 2013 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے منظم دھاندلی کا شور مچایا گیا تھا۔ خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات کے دوران ہونے والی بے قاعدگیوں اورحکم ران جماعت کی جانب سے سیاسی مشینری کے استعمال کے باوجود دیگر جماعتوں کی جانب سے نتائج تسلیم کر لیا جانا تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کے لیے شرمندگی کا مقام ہے جو محض الزامات اور سازشی مفروضوں کی بنیاد پر ایک منتخب حکومت کو غیر جمہوری طریقوں سے گرانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
درحقیقت تحریک انصاف خیبرپختونخواہ میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور پنجاب میں اپنے ووٹ بینک کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی سیاست کے طورطریق اپنا چکی ہے اور وہی سب کچھ کررہی ہے جو باقی سیاسی جماعتیں کررہی ہیں۔ تحریک انصاف کے حالیہ اقدامات سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ یہ جماعت بھی پاکستان کی دیگر جماعتوں کی طرح کھوکھلے نعروں، غیر حقیقی وعدوں، دھوکہ دہی اور منافقت کا گڑھ بنتی جارہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے پاس صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، سیاسی مشینری کو استعمال نہ کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کا بہترین موقع تھا جسے اس جماعت نے گنوا دیا ہے۔
تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کی جانب سے اپنی صوبائی حکومت کی نااہلی کے اعتراف کی بجائے بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کا ملبہ بالکل الیکشن کمیشن پراسی طرح ڈالا گیا ہے جیسے 2013 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے منظم دھاندلی کا شور مچایا گیا تھا
تحریک انصاف یقیناً ان انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے تاہم جس واضح اکثریت کی توقع کی جارہی تھی وہ نہیں مل سکی اور حیران کن طور پر دیگر سیاسی جماعتوں کی نشستوں میں تحریک انصاف کے تمام تر روایتی ہتھکنڈوں کے باوجود اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ انتخابی بدنظمی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر بھی عائد ہوتی ہے تاہم الیکشن کمیشن اپنے محدود وسائل میں ایک حد تک نظم و ضبط یقینی بناسکتا ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اہلکاروں کی جانب سے حکم ران جماعت کے لیے ووٹ مانگنے اور مخالفین کو ہراساں کرنےکے واقعات پر عمران خان کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور حریف سیاسی جماعتوں پر تحریک انصاف کے حامیوں پر تشدد اس صوبے میں انتقامی سیاست کی بنیاد رکھنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں اور ان واقعات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ ان انتخابات کےدوران ہونے والی بے قاعدگی کے بعد تحریک انصاف کو اپنے طرز سیاست پر غور کرتے ہوئے الزامات کی سیاست چھوڑ کر حقیقی معنوں میں تبدیلی کی سیاست کرنا ہو گی وگرنہ خیبر پختونخواہ کے عوام کسی جماعت کی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کرتے۔
Categories
نقطۂ نظر

قائدین انقلاب! پتھروں، درختوں اور دیواروں کو بخش دیجئے

جنابِ من، اگر آپ واقعی قوم کی فلاح کے بارے میں فکر مند ہیں اور اپنی صلاحیتیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، تو ابھی سے رہنمائی کا حق ادا کیجئے اور منتخب ہونے کا انتظار مت کیجئے ۔
حضرت، آپ منتخب ہو کر قومی رہنما بننا چاہتے ہیں؟ قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ راستہ دکھانا چاہتے ہیں اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے اسے اقوام عالم میں ممتاز وکامران کرنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہیں؟ بہت اچھی بات ہے ۔ اللہ سبحان تعالی آپ کے نیک ارادوں کو مزید جلا بخشے اور آپ کو سرفرازی عطا کرے۔۔۔ آمین، ثم آمین۔
لیکن جناب، کیا آپ نے غور کیا ہے کہ رہنما بننے کے لئے انتخابات میں حصہ لینا اور منتخب ہونا لازمی نہیں ہے؟ جی۔ یعنی، ہر رہنما انتخابات میں حصہ لے کر رہنما نہیں بنتا۔ جنابِ من ، انتخابات کے موجودہ نظام کو رائج ہوے ابھی چند صدیاں ہوئی ہیں ، تو کیا اس سے قبل لوگ رہنما نہیں رکھتے تھے؟ ایسا تو نہیں کہ آپ رہنما اور جمہوری حکمران کے واضح فرق کو گڈمڈ کر کے دیکھ رہے ہیں؟ کیونکہ نہ تو سماجی رہنما جمہوری طور پر منتخب ہوتے ہیں اور نہ ہی ہر جمہوری طور پر منتخب حکمران سماجی رہنما ہوتا ہے ۔
جنابِ من، اگر آپ واقعی قوم کی فلاح کے بارے میں فکر مند ہیں اور اپنی صلاحیتیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، تو ابھی سے رہنمائی کا حق ادا کیجئے اور منتخب ہونے کا انتظار مت کیجئے ۔ خود کو رہنما ثابت کرنے کے لئے آپ کو اربابِ اختیار کے آگے جھک جانے، زمین و آسمان کے قلابے ملانے، ٹکٹ کے لیے پارٹی کے کرتا دھرتاوں کو پیسے کھلانے، ان کی ہاں میں ہاں ملانے، اور پھر ووٹ کی خاطر نفرتیں پھیلانے، جھوٹ پر جھوٹ بولنے، دیواروں پر نعرے لکھوانے، بینرز لگوانے اور پوسٹرز چھپوانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔بس کچھ چھوٹے موٹے کام کیجئے۔ اچھی اور عقلندی کی باتیں کیجئے اور سب سے اہم یہ کہ جن اچھی باتوں کی پرچار میں آپ وقت ، توانائی اور روپوں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، ان پر خود بھی عمل پیرا ہو کر دکھا ئیں۔ اب آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو خوبصورت بنانے ، ترقی دینے ، عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے نعرے لگا رہے ہوں، اور ادھر آپ کے زرخرید چیلے سڑکوں، شاہراوں، شہروں اور دیہاتوں کی شکل بگاڑنے میں مگن نظر آئے؟
مثلاً، اگر آپ اتحاد و اتفاق کے داعی ہونے کا اعلان تقریر میں کرتے ہیں تو اپنے قلم، زبان اور جسم و جاں کو اتحاد و اتفاق پھیلانے کے لئے وقف کردیجئے۔ اور اگر یہ مشکل ہو تو خدا را کم از کم فرقے، زبان، علاقے اور نسل کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی خاطر نفرتیں پھیلانے کے دھندے میں بھی ملوث نہ ہو ں۔اسی طرح سے اگر آپ حسین و جمیل گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ سے معاشی و اقتصادی انقلاب کی نوید دے رہے ہیں تو کھوکھلے انتخابی دعووں اور بھاری بھر کم نعروں سے ہمارے دلکش و نایاب قصبوں ، راستوں اور ہمارے گھروں اور چار دیواریوں کی شکل بگاڑنے سے پرہیز کریں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو خوبصورت بنانے ، ترقی دینے ، عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے نعرے لگا رہے ہوں ، اور ادھر آپ کے زرخرید چیلے سڑکوں ، شاہراوں ، شہروں اور دیہاتوں کی شکل بگاڑنے میں مگن نظر آئے؟ آپ لوگوں کے نعروں ، دعووں ، جھنڈیوں ، بینروں اور پوسٹروں کی بھرمار کو دیکھ کر تو مقامی لوگوں کا جی چاہتا ہے کہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ جائے۔ جب ہر دیوار پر آپ کے نعرے درج ہوں گے، ہر گلی میں آپ کے بینر آویزاں ہوں گے اور ہر چوراہے پر آپ کے پوسٹر چسپاں ہوں گے تو ملکی اور بین الاقوامی سیاح کیا خاک یہاں کا رخ کریں گے؟
آپ رہنما بننا چاہتے ہیں؟ تو اس کی ایک جھلک دکھا دیجئے۔ اپنے منشور میں واضح طرح سے یہ بات شامل کر یں کہ آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے آپ کی پارٹی شہر اور گاوں کے کسی کونے میں بھی دیوار و در پر چاکنگ نہیں کرے گی۔ اور اگر آپ کے نام سے ، یا آپ کی پارٹی کے نام سے چاکنگ کی گئی ہے تو آپ خود وہ چاکنگ مٹا دیں گے۔ اور یہ بھی کہ آپ شہر کے چوراہوں اور گاوں کی گلیوں کو اپنے پوسٹرز سے نہیں بھریں گے۔ صرف جلسہ گاہ میں ان کا استعمال کریں گے اور جلسے کے فورا بعد ان کو تلف کرنے کا مناسب انتظام کریں گے۔ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو ہم مان لیں گے کہ آپ رہنما بننے کے عمل میں شامل ہیں ۔ اگر آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے تو پھر آپ سے کسی بڑے کام، کسی بڑی قربانی ، کی توقع رکھنا عبث ہوگا۔
سیاح آپ کا نام پڑھنے اور آپ کی جماعت کے نعروں سے مزیں دیواریں دیکھنے تو گلگت بلتستان قطعا نہیں آتے ہیں ۔ وہ جس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں اسے آپ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران اتنا گندا کردیتے ہیں کہ پھر سالوں تک اس کی سیاہی نہیں جاتی۔
آپ کہیں گے کہ جناب آپ جلتے ہیں ، ہمارا نام دیواروں پر دیکھ کر تو جناب، ہم صرف جلتے نہیں ہیں، بلکہ کڑھتے بھی ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ہمارا خون کھول اُٹھتا ہے۔ ارے صاحب، آپ شوق سے اپنا نام ادھر ادھر لکھوا ئیے، لیکن ہمیں یہ بھی بتائیں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے علاوہ کونسی صنعت ہے؟ اور اگر آپ سیاحوں کے لئے کشش رکھنے والی قدرتی گزرگاہوں اور قدرتی مناظر کر سیاسی نعروں سے مکدر کر رہے ہیں تو اس سے قوم کی خدمت کیسے ممکن ہے کیوں کہ سیاح آپ کا نام پڑھنے اور آپ کی جماعت کے نعروں سے مزیں دیواریں دیکھنے تو گلگت بلتستان قطعا نہیں آتے ہیں ۔ وہ جس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں اسے آپ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران اتنا گندا کردیتے ہیں کہ پھر سالوں تک اس کی سیاہی نہیں جاتی۔
میں اس مضمون کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ، تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلین ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے علاہ آزاد امیدواروں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اس نکتے پر غور کیجئے ۔ پولنگ میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔ کوئی ایسا اجتماعی لائحہ عمل ترتیب دیجئے کہ علاقے کی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے کی سبیل ہو سکے ۔ اور کوئی ترجیح یا کوئی لائحہ عمل ایسا بھی ہو کہ انتخابات کے فورا بعد سیاسی جماعتیں مختلف علاقوں میں کی گئی وال چاکنگ مٹانے میں مصروف ہوجائیں ۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وال چاکنگ سے صرف سرکاری عمارتوں کو بچانے تک اپنی کاروائی اور احکامات کو محدود نہ کرے بلکہ مفادِ عامہ پر بھی تھوڑی بہت توجہ دے کر احسان مند ہونے کا موقع فراہم کرے ۔
اتحاد و اتفاق کی باتیں کرنے اور سیاحت کے فروغ سے علاقے کی معاشی اور اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے آپ کو انتخابی مہم چلانے، اشتہار بازی کرنے اور سیلِ زر بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنا کردا ر اور اپنی ترجیحات درست کر لیجئے۔ لوگ آپ کو بغیر انتخابات میں حصہ لیے اپنا رہنما بنا لیں گے، اور پھر اگر آپ چاہیں تو شائد وہ آپ کو جلد یا بدیر حقِ حکمرانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

دو کالمی خبر

youth-yell-featured

سینیٹ انتخابات اور کرکٹ ورلڈ کپ پاکستانی قوم کے لیے اس وقت اہم ترین موضوعات ہیں۔ سینیٹ انتخابات اس لیے پوری قوم کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں کیوں کہ ان انتخابات میں صوبائی اراکین اسمبلی کی بولیاں لگیں کہیں چار سے پانچ کروڑ کی بازگشت سنائی دی تو کہیں پچیس کروڑ سے زائد کے راگ سننے کو ملے۔ پاکستانی قوم اپنی بے بسی پہ افسوس کرنے کے بجائے اس تمام صورت حال سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ نہ تو اقبال کے شاہین اس خطرناک صورت حال کا ادراک کر رہے ہیں کہ ان کے نمائندے بازار میں بکنے کو تیار بیٹھے ہیں نہ ہی قائد کی فکر کے پاسبان اپنی سوچ کے دروازے اس رخ پہ کھولنے کو تیار ہیں کہ جن لوگوں پہ عوام نے اعتماد کیا ان کا مرکز و محور پیسہ بن چکا ہے۔ خواب غفلت میں گم قوم کے لیے بس یہ بات باعث دلچسپی ہے کہ ذرا دیکھیں کہ کس کانرخ زیادہ لگتا ہے اور کس کا نام میڈیا میں مرچ مسالے کے ساتھ آتا ہے۔ یقیناًہم پہ ویسے ہی لوگ مسلط کیے جاتے ہیں جیسے ہم چاہتے ہیں۔ جو آج بک رہے ہیں کل پھر پاکدامنی کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے سامنے ہوں گے اور ہم سب کچھ نظر انداز کر کے انہیں پھر مسندِ اقتدار پہ بٹھا دیں گے اور یوںسانپ سیڑھی کا یہ کھیل جاری رہے گا۔ بکنے والے اور خریدنے والے دونوں ہی بازارِ سیاست میں ایوان میں رہنے کی باقاعدہ تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں اور کروڑوں روپے قیمت لگنے پر بھی ان کے چہروں پہ معصومیت یوں عیاں ہوتی ہے جیسے کہہ رہے ہوں؛
ہنگامہ ہے کیوں برپاتھوڑی سی جو پی لی ہے
دوسرا اہم ترین موضوع کرکٹ ورلڈ کپ پاکستانی قوم کے لیے وبالِ جاں بنا ہوا ہے لوگ اتنی توجہ سے کام کاج نہیں کر رہے جتنی توجہ سے میچ دیکھ رہے ہیں اور پورا دن میچ دیکھنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ 4لاکھ روپے سے زائدتنخواہ وصول کرنے والے کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہو کر سینہ تان کے پویلین لوٹ رہے ہیں۔ زمبابوے اور متحدہ عرب امارات جیسی ٹیموں کے خلاف فتح پر بھی جشن منائے جا رہے ہیں جنہوں نے کرکٹ کھیلنا ہم سے سیکھا۔ بھولی قوم لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے کھلاڑیوں کویہ کہہ کر کہ ” ہار جیت کھیل کا حصہ ہے” انہیں پھرسر آنکھوں پہ بٹھا لیتے ہیں۔سوئی ہوئی قوم اہم مقابلوں میں ناکامی کے بعد یہ سوال تک نہیں کرتی کہ کیا وہ جم کرکھیلے بھی ہیں یا صرف رونمائی کے لیے گئے تھے؟ سونے پہ سہاگہ یہ کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے جانے والی ٹیم کے کرتا دھرتا جوئے خانوں میں ملتے ہیں اور تحقیقات کے بعدبھی انہیں معصومیت کی سند دے دی جاتی ہے۔ دو بابو مل کر معافی تلافی کی درمیانی راہ نکال لیتے ہیں یا پھر یہ راہ انہیں کوئی” چڑیا” سُجھا دیتی ہے۔
سینیٹ انتخابات اس لیے پوری قوم کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں کیوں کہ ان انتخابات میں صوبائی اراکین اسمبلی کی بولیاں لگیں کہیں چار سے پانچ کروڑ کی بازگشت سنائی دی تو کہیں پچیس کروڑ سے زائد کے راگ سننے کو ملے۔
سیاست و کھیل اس لیے موضوع بحث بن گئے کہ پاکستانی قوم ان عام موضوعات میں الجھ کر ایسی خبروں کو نظر انداز کر جاتی ہے جو قوموں کی تاریخ بدل دیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاست میں کرپشن کے گند اور کھیل میں نا اہلی کے ریکارڈ ز کی وجہ سے اس ملک کی قسمت بدلنے والی خبریں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ایسے پس منظر میں چلے جانے والے حقائق شاید بھولی عوام کے لیے معنی بھی نہیں رکھتے لیکن شاید وہ یہ بھی نہیں جاننا چاہتے کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی بجائے کہاں خرچ ہو رہا ہے۔
جو لوگ اخبارات کا مطالعہ باریک بینی و عرق ریزی سے کرتے ہیں ان کی نظروں سے شاید ایک خبر گزری ہو گی جس میں ایک سابقہ سرکاری ملازم کی بعد از ریٹائرمنٹ مراعات کا تذکرہ تھا۔ در اصل یہ ایک رپورٹ تھی جو ایوان بالا میں پیش کی گئی تھی۔”یہ ایک دوکالمی خبر تھی” جو اخبارات کا پیٹ بھرنے کے لیے یا پھر خانہ پری کے لیے یہ اخبارات کی زینت بنی ورنہ اگر عوام کی آگاہی کے لیے ہوتی تو نمایاں اشاعت پاتی۔ رپورٹ کے مطابق ان صاحب کو بعد از ریٹائرمنٹ ان کی تنخواہ کا 85فیصد بطور پنشن مل رہا ہے۔ صرف یہی شخصیت نہیں بلکہ 1985 کے بعد اسی عہدے سے سبکدوش ہونے والی کم و بیش بارہ شخصیات یہی مراعات لے رہی ہیں اور یہ عہدہ اعلیٰ عدلیہ کا اعلیٰ ترین عہدہ ہے۔ دو ملازمین پنشن کے علاوہ ہیں جن کے اخراجات حکومت وقت کے ذمے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہیں تین ہزار ٹیلی فون کالز(لوکل) مفت استعمال کرنے کا حق ہے۔ دو ہزار یونٹ بجلی بھی مراعات و سہولیات کا حصہ ہے۔ سرکاری پانی کا استعمال مکمل طور پہ مفت ہےاور 300 لیٹر پٹرول بھی مفت ہے۔ ایوان بالا میں یہ بتایا گیا کہ 30جنوری 2014 تک تقریباً4689لیٹر پٹرول بعد از ریٹائرمنٹ استعمال کیا جا چکا ہے جب کہ ایک بلٹ پروف گاڑی کی مرمت و بحالی پہ آنے والا 33,75,029روپے کا خرچ بھی حکومت برداشت کر چکی ہے۔
یہ سب تحریر کرنے کا مقصد اس ملک کے نظام پہ بحث کرنا ہے جس کے ذمے 65ارب ڈالر سے زیادہ کے بیرونی قرضے ہیں۔ کسی کی ذات پہ تنقید ہرگز مقصد نہیں ہے۔ ضرب تو اس بوسیدہ نظام پہ لگانی ہے۔ سوئی ہوئی قوم شاید یہ نہیں جانتی کہ جس بجلی کے نہ ہونے کا بل وہ ہر مہینے باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں وہ کسی بنگلے ، حجرے یا محل پہ مراعات کی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ سادہ لوح عوام شاید یہ نہیں جانتی کہ جس پٹرول کے حصول کے لیے وہ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور جسے سستا کر کے حکومت ان پہ احسان جتاتی ہے وہی پٹرول اشرافیہ کو مفت دستیاب ہے۔ ایک عام پاکستانی کا ٹیلی فون کنکشن صرف2,010روپے کے واجبات ادا نہ کرنےپہ کٹ جاتا ہے( باوجود بل نہ ملنے اور مہینوں فون بند رہنے پہ بھی)۔ لیکن بعض مراعات یافتہ افراد کو ہزاروں مفت کالز کی سہولت دے دی جاتی ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ حکومتِ وقت یا ادارے ان مفت کالز، مفت پٹرول، مفت گاڑیوں، مفت ملازمین،کا خرچہ کہاں سے پورا کرتی ہے ؟ عوام سے۔۔۔ عوام پہ ٹیکسوں کا بوجھ لاد کے۔۔
کتنے سرکاری افسران سبکدوشی کے بعد مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ کتنے لوگ گھروں میں بیٹھ کے عوام کے ٹیکس کھا رہے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو پٹرول و گیس کے لیے رقم خرچ کرنے کےجھنجھٹ سے آزاد ہیں؟ کتنے ایسے ریٹائرڈ افسران ہیں جو بجلی، گیس، فون کی سہولیات مالِ مفت سمجھ کے دلِ بے رحم کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں؟ لیکن چھوڑیے ان تمام سوالات کو ذرا دیکھتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات کا زیادہ سے زیادہ ریٹ کہاں تک گیا اور کرکٹ ورلڈ کپ میں ہمارے کھلاڑی کیسے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہیں کیوں کہ اہم موضوعات تو بس یہی ہیں جن کو میڈیا بھی خوب کوریج دے رہا ہے۔ باقی کی تمام بحث تو صرف ایک ” دوکالمی خبر ” ہی ہے اور یہ دو کالمی خبریں تو ایسی ہی ہوتی ہیں کہ ایک نگاہ ڈال لی جائےاوربس۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان؛احساس محرومی اور عوامی نمائندے

اسلام آبا د میں بلوچستان ہاؤس کی عمارت پر لکھا بلوچستان ہاوس بڑی مشکل سے دکھائی دیتا ہے۔بلوچستان ہاوس پر سے بلوچستان کا نام بلوچوں کے نام و نشان کی طرح مٹ رہا ہےجن کا احساس محرومی دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں رہتے ہوئے کبھی کبھار اپنے منتخب نمائندوں ہی کی طرح مجھے بھی بلوچستان کی پسماندگی یاد نہیں رہتی ، یہاں کی عالی شان عمارتیں دیکھ کر بعض اوقات لگتا ہے کہ بلوچ بھی خوشحال ہو چکے ہوں گے وہاں کے لوگ بھی اتنی ہی ترقی کر چکے ہوں گے جتنی یہاں کے باشندوں نے کی ہے۔ وہاں بھی تعلیمی ادارے کھلے ہوں گے، ہر بچے کے ہاتھ میں قلم ہوگا، ہر نوجوان برسرروزگار ہوگا۔ وہاں کی زمینوں پر بھی فصلیں لہلہا رہی ہوں گی ۔ وہاں کی سڑکیں بھی کشادہ اور پکی ہوں گی لیکن پھرمیرا یہ فریب محض ایک خام خیالی ثابت ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں رہتے ہوئے کبھی کبھار اپنے منتخب نمائندوں ہی کی طرح مجھے بھی بلوچستان کی پسماندگی یاد نہیں رہتی ، یہاں کی عالی شان عمارتیں دیکھ کر بعض اوقات لگتا ہے کہ بلوچ بھی خوشحال ہو چکے ہوں گے
2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی قوم پرست جماعتوں پر مشتمل حکومت کودوسال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے لیکن حکومت کی کارکردگی دیکھتے ہوئے قطعاً یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ قوم کو مصیبتوں کے بھنور سے نکالنے کے لیے ان کے پاس کوئی واضح لائحہ عمل موجود ہے۔ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ بلوچستان میں تعلیم ، صحت اور امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری عام ہے۔بلوچ عوام کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے لیکن ان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے تاحال زرعی اصلاحات کا اعلان نہیں کیا گیا اورنہ ہی انہیں کسی قسم کی سبسڈی دی گئی ہے۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلانات اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔عوام کی بڑی تعداد یہ توقع کر رہی تھی کہ موجودہ حکومت سابقہ ادوار کی حکمران جماعتوں سے مختلف ثابت ہوگی لیکن عوامی توقعات اور خوش گمانیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے دوران بلوچ عوام نے تبدیلی کی آس پر بڑے عرصے بعد قوم پرست جماعتوں کو ووٹ ڈالے تھے لیکن یہ حکومت ابھی تک عوامی توقعات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔
موجودہ بلوچستان حکومت کی جانب سے رفتہ رفتہ ایسے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں جن سے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن اب تک کا دو سالہ دور اقتدار حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کی محاذ آرائی میں ضائع ہو چکا ہے ۔
موجودہ بلوچستان حکومت کی جانب سے رفتہ رفتہ ایسے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں جن سے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن اب تک کا دو سالہ دور اقتدار حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کی محاذ آرائی میں ضائع ہو چکا ہے ۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنی کرسی بچانے کے لیے تگ و دو میں دکھائی دیے جبکہ ان کی حلیف جماعت کے سربراہ اور حریف رہنماء ثناء اللہ زہری ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت سے نالاں رہے۔ ثناءاللہ زہری کی جماعت نےحکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اسمبلی کی کارروائی کا مقاطعہ کیے رکھا ہے۔اگرچہ میاں نوازشریف کی کوشش سے اسمبلی فلور دوبارہ آباد ہو گیا ہے لیکن دلوں کی دوری تاحال برقرار ہے۔
موجودہ حکومت کے فیصلوں سے یہ تاثر عام ہوا ہے کہ اختیارات منتخب نمائمدوں کے پاس نہیں۔ بلوچستان کے معدنی منصوبوں، بندرگاہوں، فوجی کارروائیوں اور عرب شیوخ کو شکار پر پابندی کے باوجود بلوچستان میں شکار کے اجازت ناموں کے اجراء سے متعلق فیصلوں نے موجودہ سیاسی حکومت کی کم زوری ظاہر کر دی ہے، ان فیصلوں سے بلوچستان کے احساس محرومی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔