Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخوا: بلدیاتی نظام کے آٹھ ماہ

خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال 30 مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات کا انعقاد ہوا، یہ انتخابات لوکل گورنمنٹ آرڈنینس 2013ء کے تحت منعقد ہوئے۔ اس آرڈیننس اور حکومتی بیانات میں واضح طورپر اختیارات اور ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کرنے کا عندیہ دیاگیا تھا ۔ مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل چیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان عوامی جلسوں اور ٹی وی مباحثوں سمیت ہر فورم پر مقامی حکومتوں کے قیام اور ان کی افادیت کے حوالے سے تقریریں کرتے رہے ہیں۔ خان صاحب سابق حکومتوں کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ انہوں تمام اختیارات اپنی ذات یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کے لیے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔ عمران خان صاحب یہ وعدہ بھی کرتے رہے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو وہ 90 دن کے اندر اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے حوالے کر دیں گے۔

 

گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست میں جمہوریت کی ترویج اور استحکام میں مقامی حکومتوں کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری حکمرانوں نے بھی بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کے قیام کی جانب توجہ نہیں دی۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد پہلے مرحلے میں شورش زدہ بلوچستان کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا۔ اس کے بعد نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے کی دعوے دار پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد عدلیہ اور میڈیا کے دباؤپرصوبے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد کیا۔ ان انتخابات سے قبل صوبائی وزراء بالخصوص وزیرِ بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان صاحب باربار اپنے انٹرویو ز میں دعویٰ کرتے رہے کہ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں بالکل نئی طرز کابلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے انہوں نے ترقیاتی بجٹ کا تیس فیصد حصہ منتخب بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

 

تیس مئی کے بلدیاتی انتخابات کو 30 جنوری 2015ء کو آٹھ ماہ یعنی 233دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ صرف نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کروا کے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کروانے کی دعوے دار جماعت تاحال اپنے وعدے کی تکمیل نہیں کر سکی۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کی تفویض اور ترقیاتی فنڈز کا اجراء تو دور کی بات ابھی تک ان کے سرکاری نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں کیے جاسکے۔ انتخابات کے 92 روز بعد 30 اگست 2015ء کو منتخب عوامی نمائندوں سے حلف لے کر رسمی کارروائی پوری کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان عوامی نمائندوں کاکوئی پرسانِ حال نہیں۔ انتخابات کے بعد پہلے مون سون کے موسم میں صوبے کے بیشتر علاقے زیرِآب آئے تو امدادی سرگرمیاں فوج، پولیس اورپٹواریوں کے ذریعے کروائی گئیں اور منتخب عوامی نمائندوں کو اس عمل سے دور رکھا گیا۔ اس کے صرف دو ماہ بعد چھبیس اکتوبرکو ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے رہی سہی کسر نکال دی۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے متاثرین زلزلہ کی بروقت اور فوری امداد کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو امدادی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی بجائے ایک مرتبہ پھر فوج، پولیس اور پٹواریوں کی خدمات حاصل کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر زلزلہ متاثرین حکومت کی جانب سے جاری کردہ امدادی پیکج سے محروم رہے۔

 

خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔
خیبرپختونخوا کے موجودہ بلدیاتی نظام کی فعالیت میں سب سے بڑی روکاوٹ بیوروکریسی کی جانب سے اختیارات کی منتقلی میں مزاحمت ہے۔ بلدیاتی نمائندوں کو صرف اختیارات سے ہی محروم نہیں رکھا جا رہا بلکہ ترقیاتی فنڈز کی فراہم کا عمل بھی سرکاری سطح پر سست روی کا شکار ہے۔ اگرچہ ضلع اور تحصیل کونسل کو فنڈز منتقل کیے جا چکے ہیں لیکن دیہی کونسل کے لیے ابھی تک فنڈز فراہم نہیں ہوسکے۔ جو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں ان کے ذریعے ترقیاتی کام کرانے کی راہ میں بھی بہت سی انتظامی روکاوٹیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس نظام میں منتخب نمائندوں کے لیے مراعات موجود نہیں جب کہ اس کے برعکس صوبائی یا قومی اسمبلی کے اراکین کو لاکھوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں دیئے جارہے ہیں۔ اب بغیر کسی مراعات یا تنخواہ کے ان چالیس ہزارعوامی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور تکمیل پر آمادہ کرنا تقریباً ناممکن ہے شنید ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے بھی مراعات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کامیاب ہونے والے اکثر لوگوں کا تعلق غریب طبقے سے ہے جو بمشکل اپنے روزمرہ کے معاملات چلا رہے ہیں اوپر سے ان پر عوامی دباؤ بھی ہے۔ بغیر کسی معاوضے، تنخواہ یا مراعات کے اپناوقت اور پیسہ عوامی خدمات کے نام پر صرف کرنا شاید غیر حقیقت پسندانہ طرزعمل ہے۔

 

اگر حکومت بلدیاتی اداروں کے ساتھ مخلص نہیں تھی توپھر اربوں روپے خرچ کر کے انتخابات منعقد کرانے کی ضرورت کیا تھی؟ گزشتہ آٹھ ماہ سے منتخب عوامی نمائندے اختیارات اور فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بے کار بیٹھے ہیں۔ انتخابات سے قبل اختیارات اور ترقیاتی فنڈ کو نچلی سطح پر منتقل کونے کے دعوے اور وعدے صوبائی حکومت کی نااہلی، موقع پرستی اور غیرحقیقت پسندانہ ذہنیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندے مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہیں۔ یہ خبربھی گردش کر رہی ہے کہ صوبائی حکومت لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013ء میں ترمیم کرکے بلدیاتی نمائندوں کو دئیے گئے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبے کے چار اضلاع بشمول چترال میں ویلج کونسلز کی سیکرٹریوں کی تقرری میں بیوروکریسی کی جانب سے بدعنوانی کے بعد وہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

 

بلدیاتی نظام کی عدم فعالیت کے باعث ترقیاتی بجٹ کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے ضمن میں بھی بڑے پیمانے پر غفلت برتی جا رہی ہے۔ مالی سال 2013-14 کے دوران صوبائی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص 94ارب روپے استعمال نہیں کیے جا سکے۔ مالی سال 2014-15 میں ایک مرتبہ پھر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم میں سے ساٹھ فیصد یعنی 97 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جا سکے۔ اُس وقت بہانہ یہ بنایا گیا کہ چونکہ بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں تو اس میں بڑے پیمانے پر خوردبرد کے امکانات موجود ہوتے ہیں اس لیے یہ فنڈ پوری طرح استعمال نہیں کیے جا سکے۔ اس کرپشن کو روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ فنڈز جاری ہی نہ کیاجائے ۔لیکن موجودہ مالی سال 2015-16 کے بجٹ کو پیش ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان آٹھ مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا بڑا حصہ جاری نہیں ہو سکا اور جو فنڈز بلدیات کے لیے مختص کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک جاری نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اس مالی سال میں بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقم استعمال نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے میں واپس جانے کا خدشہ ہے۔ اس ساری صورتحال پر بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بلدیات، بلدیاتی انتخابات اور چند خامیاں

بلدیاتی نظام کا آخری مرحلہ بھی خدا خدا کر کے مکمل ہوا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے دعوے کو اب حقیقت کا جامہ پہنانے کے عمل کا آغاز قریب ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے دعوے کس قدر سچ ہیں اور کس قدر مبالغہ، اس کا فیصلہ تو آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا جب منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے حکومت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں واپس جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کی تکمیل خوش آئند امر ہے لیکن اس سارے ععمل میں چاروں صوبوں کے بلدیاتی نظام کی خامیاں ایک مرتبہ پھر عیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

 

ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں یا اس کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔
راقم کو خود حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تین انتخابی حلقوں کے مشاہدے کا موقع ملا اور کم و بیش ہر جگہ حالات ایک طرح کے نظر آئے۔ جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک مرتبہ پھر شفاف اور منصفانہ انتخابات کروانے میں بہت حد تک ناکام رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پولنگ افسران کے لیے جو حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے تھے ان کے لیے ایک ضابطہ اخلاق نمبریF.4(10)/2015-LGE(P) جاری کیا گیا جس کے تحت ریٹرننگ افسران اور پریزائڈنگ افسران کسی بھی نازک صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو طلب کرنے کے مجاز تھے۔ یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ ان کے اختیار میں تھا۔ لیکن شاید انہیں اپنے اختیارات کا پتا نہیں تھا یا ان کی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی کہ بلدیاتی امیدواروں کے انتخابی نمائندے بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پہ ان سے الجھتے رہے اور انتخابی عملہ بے بس نظر آیا۔

 

مذکورہ بالا ضابطہ اخلاق میں ایک شق تھی کہ کسی بھی ہنگامے یا افراتفری کے حوالے سے سیکیورٹی اہلکار پریزائڈنگ افسر کے طلب کرنے پر قانونی کارروائی کریں گی۔ ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں یا اس کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔ پولنگ اسٹیشن زیادہ تر سرکاری سکولوں میں بنائے گئے۔ پریزائڈنگ افسر ایک مخصوص کمرے میں انتخابی مراحل کی نگرانی کر رہا ہے تو ایسی صورت میں سکول کے احاطے میں ہونے والے ہنگامے پر وہ کس طرح کارروائی کے احکامات دے گا۔ یہ بظاہر چھوٹی سی خامی ہے لیکن اس کا اثر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک جگہ دو مخالف دھڑوں کے درمیان سکول کے اندر ہاتھا پائی ہو گئی۔ لیکن صورت حال قابو کرنے میں اتنا وقت صرف ہو گیا کہ ووٹ ڈالنے کے منتظر لوگ شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔

 

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4 میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس پولنگ سٹیشن پر بھی گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم بھی جاری تھی۔
اسی طرح پولنگ ایجنٹس کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا اور اس ضابطہ اخلاق کی شق 3 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشنوں کے اندر یا باہر 400 میٹر کی حدود تک کسی ووٹر کو اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کا نہیں کہہ سکتے ۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشن کے اندر انتخابی عملے کے سامنے بھی ووٹروں کو نشانات دکھا کر یاددہانی کراتے نظر آئے۔ اس ضابطہ اخلاق کی شق 4 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹ ہر اعتراض کے عوض مبلغ 50 روپے پریزائڈنگ افسر کے پاس جمع کروائے گا۔ اور شق 5 میں یہ درج تھا کہ غیر ضروری اعتراضات کی اس لیے ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس سے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امیدواران اس مقصد کے لیے سمجھدار، شریف اور دیانت دار افراد کا انتخاب کرتے لیکن حیران کن طور پر تمام امیدواروں نے چن کر وہی لوگ اپنے پولنگ ایجنٹ نامزد کیے جو علاقے میں جھگڑالو مشہور تھے۔ یہ ایجنٹ ہر ووٹر پہ اعتراض کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اسی لیے ہر پولنگ اسٹیشن پر ہر تھوڑی دیر بعد توتکار ہوتی رہی۔ شق 6 میں کہا گیا کہ پولنگ ایجنٹ کے لیے لازم ہے کہ وہ اعتراض کرتے ہوئے مہذب رہے اور پریزائڈنگ افسر سے بات کرتے ہوئے لہجہ دھیما رکھے۔ لیکن پولنگ ایجنٹ تو کجا امیدواروں کے حامی بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پہ سوار نظر آئے۔

 

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4 میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس پولنگ سٹیشن پر بھی گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم بھی جاری تھی۔ شق 5 کے مطابق کسی بھی پولنگ ایجنٹ یا امیدوار کے لیے پولنگ اسٹیشن کی 100میٹر کی حدود میں ووٹر کو راغب کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا بینر، اشتہار یا نشان لگانا ممنوع تھا۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ اسٹیشن کے اندر ایسی گاڑیوں کی بھرمار تھی جن پر امیدواروں کے اشتہارات آویزاں تھے۔ بعض مقامات پر پولنگ ایجنٹس بھی قواعد کے برعکس نشان بتاتے رہے۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی پوسٹر کا سائز 24 x 23 انچ جب کہ بینر کا سائز39×24 انچ سے تجاوز کرنے کی ممانعت تھی اور ہورڈنگز پر مکمل پابندی تھی۔ لیکن حیران کن طور پر 25×50جسامت کے بینر بھی آویزاں تھے۔ اور بل بورڈ، سائن بورڈز اور روڈ سائڈ ہورڈنگز کا سہارا بھی لیا گیا۔ مزے کی بات یہ کہ پہلے ہورڈنگز انتخابی مہم کی تھیں اور اب ان کے بعد اسی جسامت کے شکریے کے بینر اور ہورڈنگز نصب ہیں اور ضابطہ اخلاق پر عمل کروانے والے خاموش تماشائی ہیں۔

 

کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا پورا ایک نظام موجود ہو اور عام عوام کو اس ضابطہ ء اخلاق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی فوری طور پر رپورٹ کرنے کا شعور ہو۔
شق 16 کے مطابق انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پہ لازم تھا کہ وہ تنقید صرف کام اور پالیسیوں پہ کریں لیکن تمام امیدواران ایک دوسرے کی ذات کے بخیے ادھیڑتے نظر آئے۔ جہاں تک تعلق ہے شق17 کا کہ خاندان کے افراد کے علاوہ ووٹر کو اپنی گاڑی میں لانا ممنوع تھا تو شاید پورا حلقہ ہی امیدواروں کا خاندان ہوتا ہے۔ شق 20 کے مطابق یونین کونسل چیئرمین اور وائس چیئرمین 10 لاکھ اور یونین کونسل کے ممبران کو 20 ہزار روپے تک کے انتخابی اخراجات کرنے کی اجازت تھی لیکن ایک کونسلر کی سطح پہ بھی لاکھوں خرچ کیے گئے۔

 

یہ کہنا بے جا نہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا ضابطہء اخلاق محض کاغذ پر سیاہی کی صورت رہا ورنہ عملی سطح پر ہر جگہ ضابطہء اخلاق کی دھجیاں اڑتی ہی نظر آئیں۔ یا تو ووٹروں کو اپنے حقوق کا پتا نہیں تھا یا پھر وہ جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے تھے۔ امیدواران الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی کسی شق کو خاطر میں نہیں لائے۔ اس بارے میں بھی ابہام ہی رہا کہ آیا سرکاری ملازمین کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ پولنگ ایجنٹ بلا جھجھک ضابطہء اخلاق کے برعکس کام کرتے نظر آئے۔ امیدوار نہ صرف پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود رہے بلکہ انتخابی مہم بھی زوروں پہ رہی۔

 

کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا پورا ایک نظام موجود ہو اور عام عوام کو اس ضابطہ ء اخلاق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی فوری طور پر رپورٹ کرنے کا شعور ہو۔ سنتے آئے ہیں کہ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے ایک کنٹرول روم بنایا جاتا ہے لیکن آج تک اس کنٹرول روم کا حدود اربعہ نامعلوم ہی رہا ہے۔ اس کنٹرول روم کا مقصد کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے یہ بھی کبھی پتہ نہیں چلا۔ راقم کی طرح ہزاروں لوگوں نے لاکھوں خلاف ورزیاں دیکھی ہوں گی لیکن ان کو کسی ایسے نظام سے آگاہی نہیں تھی جس کی مدد سے ان خامیوں اور خلاف ورزیوں کو اعلیٰ سطح پر رپورٹ کیا جا سکے۔ جب تک عوام میں یہ شعور نہیں بیدار کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی سطح کی خلاف ورزی کو رپورٹ کر سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے نظام کو جب تک سہل نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک کوئی ضابطہ حقیقی معنوں میں نافذالعمل نہیں ہو سکتا ہے۔ وگرنہ چہرے بدلتے رہیں گے، نام بدلتے رہیں گے، لیکن نظام صرف اس وقت ہی تبدیل ہو گا جب ہم تبدیل کرنا چاہیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

نتیجہ وہی مگر شور نہیں

کتناعجیب سیاسی سفر ہے، کہاں مینارِپاکستان پر اکتوبر 2011ء کے جلسے کی بلندی اورکہاں بلدیاتی انتخابات میں ذلت آمیزپستی۔ ہمیں اکتوبر 2011ء کے بعدکا وہ ماحول بھی اَزبَر ہے جب گھرگھر کپتان کے چرچےتھے۔ تب لوگ کہتے تھے کہ ہر گھر سے بھٹو تو نہیں نکلا لیکن ’’سونامیہ‘‘ ضرورنکلتا ہے۔ کپتان صاحب کی شخصیت کا جادو سَر چڑھ کر بول رہا تھا اورپاکستان میں سوائے تحریکِ انصاف کے اور کوئی سیاسی جماعت نظرہی نہیں آتی تھی۔ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے لیے کپتان صاحب بہت مرغوب ومحبوب تھے اورکالم نگار دھڑا دھڑ اُن کی شان میں قصیدے لکھ رہے تھے۔ وہ جہاں بھی جلسہ کرتے خلقِ خُدا ٹوٹ ٹوٹ پڑتی۔۔۔۔ پھرچشمِ فلک نے یہ عجب نظارہ بھی دیکھا کہ خاں صاحب کو لاہور کے صرف ایک حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں جیت کے لیے گلی گلی کی خاک چھاننی پڑی لیکن کامیابی پھر بھی مقدرنہ ٹھہری۔ حقیقت یہی ہے کہ کپتان صاحب شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر تیزی سے پستیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ وہ غلطی پہ غلطی کرتے چلے گئے اور ملم لیگ نواز ان غلطیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہی۔ پہلی غلطی یہ کہ اُنہوں نے نوجوان سونامیوں سے وعدہ تو صاف ستھری قیادت دینے کا کِیا لیکن اپنے گرد کرگسوں کا انبوہِ کثیر اکٹھا کر بیٹھے جس سے نہ صرف سنجیدہ طبقے بلکہ ’’سونامیے‘‘ بھی بَددِل ہوئے۔ دوسری غلطی 2013ء کے انتخابات سے پہلے ’’درون جماعت انتخابات‘‘ کرانا تھا جس میں کھُلم کھُلا دھاندلی ہوئی اورپیسے کا بے دریغ استعمال بھی۔ نتیجہ یہ کہ تحریکِ انصاف اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ تیسری غلطی ، تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے بارے میں انتہائی غیرپارلیمانی زبان کا استعمال ہے جسے سنجیدہ طبقوں نے شدید ناپسندکیا۔ چوتھی اورسب سے بڑی غلطی 2013ء کے انتخابات کو تسلیم نہ کرنا اور دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے احتجاجی سیاست کا چلن اپنانا۔ حیرت ہے کہ اُدھر قومی وبین الاقوامی جائزے خاں صاحب کی مقبولیت کوپستیوں کی طرف گامزن دیکھ رہے تھے لیکن پھربھی وہ پتہ نہیں کس برتے پہ کہتے رہے کہ تحریکِ انصاف دوتہائی اکثریت حاصل کرلے گی۔ انتخابات ہوئے اورنتیجہ شماریاتی جائزوں کے عین مطابق نکلا اور دو تہائی اکثریت کی دعویدار تحریکِ انصاف تیسرے نمبرپر رہی۔

 

پھرچشمِ فلک نے یہ عجب نظارہ بھی دیکھا کہ خاں صاحب کو لاہور کے صرف ایک حلقے (122) کے ضمنی انتخاب میں جیت کے لیے گلی گلی کی خاک چھاننی پڑی لیکن کامیابی پھر بھی مقدرنہ ٹھہری۔ حقیقت یہی ہے کہ کپتان صاحب شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر تیزی سے پستیوں کی جانب گامزن ہوگئے۔ وہ غلطی پہ غلطی کرتے چلے گئے اور ملم لیگ نواز ان غلطیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتی رہی۔
خاں صاحب کی ایک اور غلطی خیبرپختونخوا حکومت کاحصول تھا۔ اُنہوں نے حکمرانی کے شوق میں حکومت توبنالی مگر پھر اُس کی طرف مطلق توجہ نہ دی۔ اگر وہ خیبرپختونخوا کو اپنے دعووں کے عین مطابق ’’مثالی صوبہ‘‘ بنانے کی تگ و دَوکرتے تو ہو سکتا تھا کہ 2018ء کے انتخابات اُن کے خوابوں کی تعبیر میں ڈھل جاتے لیکن اُنہیں تو وزیرِاعظم بننے کی جلدی ہی بہت تھی اِس لیے اُنہوں نے احتجاجی سیاست اور دھرنوں کا راستہ اپنایاجس نے رہی سہی کسربھی نکال دی۔ خاں صاحب کو تو یقین دلایا گیا تھا کہ اُدھر خاں صاحب ڈی چوک اسلام آباد پہنچے اور اِدھر امپائرکی انگلی کھڑی ہوئی لیکن وہ انتظار ہی کرتے رہے اور ’’انگلی‘‘ کھڑی نہ ہوسکی۔ بہترہوتا کہ خاں صاحب مولاناقادری کی طرح کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر بستربوریا لپیٹ لیتے لیکن اُن کی ضد اور ہَٹ دھرمی نے اُنہیں روکے رکھا۔ 126 روزہ دھرنے میں خاں صاحب کے حصّے میں کچھ بھی نہیں آیا البتہ سیاسی طورپر اُنہیں بے تحاشہ نقصان ضرور پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ دھرنوں کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے کسی ایک میں بھی تحریکِ انصاف سُرخ رو نہ ہو سکی، حتیٰ کہ اُن کی اپنی حکومت کے زیرِ انتظام ہری پور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں اُن کے اُمیدوار کو 40 ہزارسے زائد ووٹوں سے شکست کاسامنا کرنا پڑا حالانکہ عام انتخابات میں یہ فرق محض چھ، سات سو ووٹوں تک محدود تھا۔

 

ویسے تو تحریکِ انصاف کے لیے لال حویلی والے شیخ رشیدہی کافی تھے لیکن ہوا یہ کہ چودھری سرور بھی گورنری ’’تیاگ‘‘ کر تحریکِ انصاف سے آن ملے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اُنہیں پنجاب کا چیف آرگنائزر بھی بنا دیا گیا جس کا شاہ محمود قریشی نے بہت برامنایا اور وہ عملی طورپر ’’نُکرے‘‘ لگ گئے۔ نتیجہ سب کے سامنے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تحریکِ انصاف کو ہزیمت کاسامنا کرناپڑا اور وہ تیسرے نمبرپر آئی البتہ چودھری سروربڑے فخرسے کہہ رہے تھے کہ اُنہوں نے جو اندازہ لگایا وہ بالکل درست نکلا کیونکہ اُنہوں نے تو تحریکِ انصاف کے لیے دَس فیصد کا اندازہ لگایا تھا جودرست نکلا۔ 19 نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔ اب چودھری سرور ایک دفعہ پھرکہہ رہے ہیں’’ ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اُڑائی گئیں، اربوں روپے کے فنڈز سے نالیاں اور گلیاں بن رہی ہیں اور سوئی گیس کے پائپ بچھائے جا رہے ہیں۔ عوام جانتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے حکومت تبدیل نہیں ہوتی اِس لیے بلدیاتی انتخابات حکومت کے ہوتے ہیں‘‘۔ اِس کے باوجود بھی وہ خوش کہ تحریکِ انصاف نے پہلے مرحلے سے زیادہ ووٹ لیے۔ اگر چودھری صاحب کی اِس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ بلدیاتی انتخابات حکومت ہی کے ہوتے ہیں تو پھر سوائے حکمران جماعت کے کوئی بھی سیاسی جماعت بلدیاتی انتخابات میں حصّہ ہی نہ لے۔ ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی بلاشرکتِ غیرے حکمران ہے لیکن پھر بھی بدین (جوپیپلز پارٹی کاگڑھ سمجھا جاتاہے) میں آصف زرداری صاحب کے سابق دوست اورموجودہ بدترین دشمن ذوالفقار مرزا نے پیپلزپارٹی کا جنازہ نکال دیا اور حیدرآباد ایم کیو ایم لے اُڑی۔ ملم لیگ نواز کے کسی بھی نامی رہنماء نے سرے سے سندھ کا رُخ ہی نہیں کیا لیکن پھر بھی اُس کے حصّے میں 100 سے زائد نشستیں آئیں جبکہ بلاول زرداری کے نئے ’’چاچا‘‘ عمران خاں سندھ میں جلسے کر کرکے تھک بلکہ ’’ہَپھ‘‘ گئے لیکن ملاکیا؟ صرف 8 نشستیں۔ تسلیم کہ حکمران جماعت کا تھوڑا بہت اثر ضرور ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا چودھری صاحب بتارہے ہیں۔ اگر ایساہی ہوتا تو وفاقی وزیرسارہ افضل تارڑ کے والد افضل حسین کو شکست کاسامنا نہ کرناپڑتا۔

 

19نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات کی ہمارے نزدیک سب سے مثبت بات یہ رہی کہ پہلے مرحلے کی طرح خونریزی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دوسری مثبت تبدیلی یہ ہے کہ تحریکِ انصاف بھی ’’ٹھنڈی ٹھار‘‘ ہوکے بیٹھ رہی۔ حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب میں تو چودھری سرور نے آسمان سرپہ اُٹھا رکھا تھا کہ تحریکِ انصاف کے ووٹرز کو راتوں رات دوسرے حلقوں میں منتقل کر دیا گیا لیکن ثبوت وہ کوئی ایک بھی پیش نہ کرسکے (اُنہوں نے اعلان کررکھا ہے کہ اگروہ ثبوت پیش نہ کرسکے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔ پرویز رشیدصاحب اسی کو بنیاد بناکر اُن سے ایفائے عہدکا تقاضہ کررہے ہیں)۔ اب دیکھیں بلدیاتی انتخابات میں چودھری صاحب شکست کا کیا بہانہ تراشتے ہیں۔

Image Courtesy: Sabir Nazar

Categories
نقطۂ نظر

کیا بلدیاتی انتخابات محض ڈھونگ تھے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ وعدہ بھی کرتے تھے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے اور ترقیاتی فنڈز منتخب مقامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ 2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بلندبانگ دعوؤں کی وجہ سے انہیں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف کے پی کے میں صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اپنے وعدوں کو بھول کرمفادات اور اقتدار کے حصول کی سیاست میں مصروف ہوگئی۔ نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا دعویٰ دو سال گزرنے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت پر پورا ہوا اور یوں کے پی حکومت نے تیس مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد روکنے کے بہانے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز دو سال تک استعمال ہی نہیں کیے۔ مالی سال 2013-14میں 93ارب جبکہ مالی سال 2014-15میں 97 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے حکومتی نااہلی کے باعث التوا کا شکار رہے اور یوں دو برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی بجٹ میں مختص 190ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے۔
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہےلیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا وعدہ ایفاء نہیں ہوسکا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کے نوٹیفکیشن بھی اب تک جاری نہیں کیے جا سکے

 

مالی سال 2015-16 کے لیے پیش کیے گئے صوبائی بجٹ میں بلدیات کے لیے 23 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہےلیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا وعدہ ایفاء نہیں ہوسکا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کے نوٹیفکیشن بھی اب تک جاری نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے لوگوں میں مایوسی پھیلنے لگی ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد سے اب تک دو ایسے بڑے سانحات وقوع پذیر ہو چکے ہیں جن کے دوران بلدیاتی اداروں اور منتخب کونسلر زکی خدمات حاصل کرنے کی اشدضرورت تھی۔ جولائی اور اگست کے موسم میں مون سون کی بارشوں کے بعد خیبرپختونخواہ سمیت پورا ملک سیلاب کی زد میں آیا اور اس سیلاب کے صرف دوماہ بعد 26اکتوبر کے زلزلے نے بچے کچھےعلاقوں کی آبادی کو بھی ملیا میٹ کر دیا۔ ان سانحات کے دوران عوام کو جلد ازجلد امداد پہنچانے کے لیے بلدیاتی اداروں اور منتخب اراکین کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے صوبائی اور مرکزی حکومت نے انہیں نظرانداز کردیا۔ ان سانحات کے دوران مقامی حکومتوں کے نظام کو بروئے کار نہ لانا سول انتظامیہ اور منتخب جمہوری قیادت کی کمزوریاں عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔ منتخب نمائندوں اور جمہوری حکمرانوں کو فوج کے سوا کسی اور ادارے یا نظام پر بھروسہ نہیں، ہمارے حکمران سول اداروں کو مضبوط کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ طالبان سے لےکر کراچی کے بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن تک، زلزلے سے لے کر منہدم عمارتوں تک ہر جگہ فوج ہی مصروف عمل ہے۔ مقامی حکومتوں اور سول اداروں کو مضبوط نہ بنانے کی وجہ سے فوج کی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے اور جمہوریت اور جمہوری ادارے مزید کمزور ہو رہے ہیں۔
حکومت اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور حالیہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد میں مخلص ہوتی تو خیبر پختونخوا کی ہر گلی اور محلے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں پر انحصار کیا جاتا۔ یہ نمائندے نہ صرف اپنے اپنے علاقے کی حالتِ زار سے واقف ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے مسائل کی بروقت نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے عمل میں رہنمائی کے اہل بھی ہیں۔

 

منتخب جمہوری اداروں کو نظرانداز کرنے کے نقصانات:
کسی بھی ریاست میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کو آئین کے مطابق زیادہ سے زیادہ جمہوری انداز سے چلایاجائے۔ فوج کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت اورپولیس کاکام ریاست کے اندر قانون کا نفاذہے۔ پاکستان کے 68سالہ تاریخ کے بیشتر سال چارفوجی آمر ہڑپ کر گئے اور باقی کے ادوار میں فوج پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کے فرائض نبھاتی رہی۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ جب کبھی منتخب جمہوری حکومتوں کے ہاتھ اقتدار آیا تو وہ بھی اپنی نااہلی، سیاسی حالات اور پیچیدگیوں کی وجہ سے فوج اور سول نوکر شاہی پر انحصار کرتی رہیں جس کی وجہ سے یہ دونوں ادارے مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ سول معاملات میں دفاعی اداروں کی مداخلت اور سول ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے فوج کی پیشہ وارانہ کارکردگی کا معیار گرا ہے۔
حکومت اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور حالیہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد میں مخلص ہوتی تو خیبر پختونخوا کی ہر گلی اور محلے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں پر انحصار کیا جاتا۔ یہ نمائندے نہ صرف اپنے اپنے علاقے کی حالتِ زار سے واقف ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے مسائل کی بروقت نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے عمل میں رہنمائی کے اہل بھی ہیں۔ چونکہ یہ کونسلرز براہ راست منتخب ہوکے آئے ہیں اس لیے انہیں رائے عامہ اور اگلے انتخابات کا خوف لاحق رہتا ہے، اگلی بار انتخاب لڑنے اور جیتنے کے لیے یہ اپنے علاقے میں تندہی سے کام کرتے۔ اگر ان نمائندوں کی خدمات حاصل کی جاتیں تو فوج، پولیس اور پٹواریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شفاف اور بروقت امدادی کاروائی عمل میں آتی۔ لیکن حکومت کو نہ تو اپنے بنائے نظام پر بھروسہ ہے اور نہ ہی منتخب نمائندوں پر اور یہی پاکستان میں بلدیاتی نظاموں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

مقامی حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور عوامی شکوک و شبہات

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ابھی بھی رائے عامہ واضح نہیں، لوگوں میں تاحال شکوک و شبہات ہیں اور کیوں نہ ہوں اس سے پہلے بھی دوبار پنجاب میں بلدیاتی انتخابات امیدواران کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد اس وقت ملتوی کر دیئے گئے جب انتخابی نشانات دیئے جانے تھے۔ وجہ کوئی بھی ہو بلدیاتی انتخابات کے باربار ملتوی ہونے سے عوام بہت کچھ سوچنے پر مجبورہو چکے ہیں۔ اسلام آباد اور گردونواح کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں بھی تبدیل کی جاتی رہی ہیں جس سے عوامی خدشات اور بھی بڑھے ہیں کہ کہیں سندھ اور پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی نہ ہوجائیں۔ حکومتی ترجمان اورکابینہ کے ایک اہم رکن وفاقی وزیر عابد شیر علی نے تو اس کا برملا اظہار بھی کیا کہ محرم الحرام کے بعد انتخابات کراونے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ بھلا ہو اعلیٰ عدالتوں کا جنہوں نے مقامی حکومتوں کے قیام اور ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عوامی مفاد میں اہم فیصلے کیے۔ ان فیصلوں کی روشنی میں یہ انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ مگرحکومت کی اس بارے دلچسپی اورسنجیدگی ابھی بھی نظرنہیں آرہی اور اس میں الیکشن کمیشن بھی پوری طرح سے متحرک اورفعال دکھائی نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن کی عدم دلچسپی کا اظہار سندھ کے حوالے سے عدالت کو لکھے گئے خط سے بھی ہوتا ہے۔
محلے کی چوپال سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یہی بحث ہورہی ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔غیریقینی کی یہ صورت حال اس لیے بھی ہے کہ تاحال سیاسی جماعتوں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی طے نہیں کی

 

حکومتیں کیوں مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے مخلص نہیں اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ حکمران ٹولہ مقامی حکومتوں کے نظام کو اپنا متبادل سمجھتا ہے۔ حکمران اقتدار کی تقسیم اور وہ بھی گلی محلے کی سطح تک منتقلی کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ہماری حکمران خانوادے اقتدار میں عام آدمی کی شراکت اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ دراصل ایسا جو بھی سوچتا اور سمجھتا ہے وہ ذہنی طور پرپسماندہ ہے۔ مقامی حکومتوں کے قیام اوراس مقصدکے لیے انتخابات کے انعقاد کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ہماری حکومتوں نے اس سے انکار کرکے آئین کی مسلسل خلاف ورزی کی ہےاور اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کو نہ مان کر توہین عدالت کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ تاہم اب جاری کیے جانے والے مرحلہ وار شیڈول کے آنے کے بعد سے اس پر عملدرآمدبھی ہورہا ہےمگر عوام پھر بھی اس حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں اور تاحال وہ روایتی گہما گہمی دکھائی نہیں دی جو ہمارے انتخابات کا خاصہ ہے۔

 

محلے کی چوپال سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یہی بحث ہورہی ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔غیریقینی کی یہ صورت حال اس لیے بھی ہے کہ تاحال سیاسی جماعتوں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی طے نہیں کی۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کو اپنی پہلی ترجیح قرار نہیں دیا اور ان کے لیے سیاسی ایجنڈا پیش نہیں کیا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابی دنگل میں سیاسی جماعتیں ابھی تک بھرپور طریقے سے داخل نہیں ہوئیں۔ سیاسی اکھاڑے میں سیاسی جماعتوں کی آمدبالکل کسی فلمی ہیروکی دبنگ انٹری کی طرح ہے جس کے نمودارہوتے ہی شائقین بے اختیار تالیاں پیٹتے ہیں اور خوشی سے سیٹیاں بجاتے ہیں۔ان انتخابات میں ابھی تک کسی سطح پر کسی کی طرف سے دبنگ انٹری نہیں ڈالی گئی۔عوامی دلچسپی کو بڑھانے کی خاطر بھی کچھ نہیں کیا جارہا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں لوگوں کی دلچسپی بھی سیاسی جماعتوں کی دلچسپی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ اس بار یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے امیدواراپنی اپنی جماعت کے نشانات کے ساتھ انتخاب لڑیں گے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں جہاں پہلے مرحلے کے تحت انتخابات ہورہے ہیں وہاں امیدواروں کو نشانات دیئے جا چکے ہیں مگر یہاں سے کسی ایک امیدوار کوبھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نشان نہیں دیا گیا کیونکہ میاں برادران نے کسی کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ اب ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی اس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ حکمران جماعت کی اس ضلع سے دلچسپی ہی نہیں تھی اور ضلعے کو کھلا چھوڑ دیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) نے مقامی سطح پر گروہ بندی ختم کرانے کی کوشش نہیں کی۔ ضلع میں مسلم لیگ ن کے تین سے زائد گروہ آزاد حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں۔
انتخابی امیدواران میں صنفی عدم توازن افسوس ناک ہے چیئرمین، وائس چیئرمین اور عمومی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعدادپانچ فیصدسے بھی کم ہے جس سے لگتا ہے کہ ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 

بلدیاتی انتخابات کے لیے تاحال رائے دہندگان کو متحرک کرنے اور ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے سرگرمیوں کاآغاز نہیں ہوسکا۔ انتخابی عمل کے بارے میں بھی عوام کو کچھ زیادہ آگاہی نہیں ہے۔الیکشن کے انعقاد میں سب سے زیادہ اہم کردار ریٹرننگ افسروں کا ہے لیکن ریٹرننگ افسران کے انتخاب اور ان کی تربیت کے حوالے سے بھی کوئی خیر خبر دستیاب نہیں۔ الیکشن کمیشن کے دفاتر عوام کی آسان پہنچ میں نہیں ہیں۔امیدواران کی سہولت، ان کی معاونت اور رہنمائی کے لیے کہیں ڈسک نہیں بنائے گئے۔ کچھ شہروں میں غیرسرکاری تنظیموں نے یہ کام کرنے کی کوشش کی ہے مگر انتظامیہ ان کے ساتھ تعاون کے بجائے ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، سرکاری انتظامیہ نہ خود سے کچھ کرتی ہے اور نہ کسی اور کو کچھ کرنے دیتی ہے۔

 

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں عوام کی دلچسپی بتدریج کم ہو رہی ہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق سابقہ شیڈول(منسوخ شدہ) کے مقابلے میں امیدواران کی تعداد پچاس فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ انتخابی امیدواران میں صنفی عدم توازن افسوس ناک ہے چیئرمین ،وائس چیئرمین اور عمومی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعدادپانچ فیصدسے بھی کم ہے جس سے لگتا ہے کہ ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسرے مرحلہ میں مخصوص نشستوں کے انتخابات کا شیڈول آئے گا۔اس میں بھی یہ بات طے شدہ ہے کہ خواتین کو مرکزی دھارے میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ اگر خواتین کی نشستوں پر براہ راست انتخابات نہیں کرانے تھے تو بھی کم از کم یہ لازمی قرار دیا جاتا کہ سیاسی جماعتیں چیئرمین اوروائس چیئرمین کے لیے کم از کم 33 فیصد خواتین کو لازمی طور پر ٹکٹ دیں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر براہ راست انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نظرانداز شدہ مذہبی اقلیتیں سیاسی عمل سے مزید اجنبی ہو جائیں گی۔
Categories
خصوصی

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟

انیس سوبتیلیس میں بنگال پریذیڈنسی میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، یہ وہ ابتدائی ذمہ داریاں تھیں جو مقامی حکومتوں کے اولین انتظامی ڈھانچے کو سونپی گئیں
پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کب ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ تو حکومتوں کے پاس ہے اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے پاس۔ عدالت حکومتوں کی طرف اور عوام عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اورحکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مخلص نہیں آخر ایسا کیوں ہے۔ لوگوں کو ان کا آئینی حق نہیں مل رہا اور کوئی ایک دو برس سے نہیں بلکہ پورے چھ سال سے عوام اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں روکاوٹ ملکی حالات نہیں بلکہ حکومتوں کی بددیانتی ہے۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے اور عوامی مسائل کے حل میں اس سے بڑھ کر کوئی مضبوط نظام تاحال موجود نہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ چھ برس کے دوران اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔ سندھ اور پنجاب میں یہ انتخابات کب ہوں گے اس کااندازہ لگانا مشکل ہے تاہم برصغیرپاک و ہند میں بلدیاتی حکومتوں کی تاریخ کے تناظر میں مقامی حکومتوں کی اہمیت اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کےفوائد کا جائزہ ضرور لیا جاسکتا ہے۔
برصغیر و پاک و ہند میں بلدیاتی نظام کی تاریخ
برصغیر پاک و ہند میں بلدیاتی اداروں کا باقاعدہ آغاز انگریز راج کی عملداری میں ہوا۔اس حوالے سے ابتدائی قوانین اور ایکٹ بھی اسی دور میں منظور ہوئے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد سے بلدیاتی نظام کسی نہ کسی صورت میں صدیوں سے موجود رہا ہے۔ 1688ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مدراس میں میونسپل کارپوریشن قائم کی جو برصغیر میں اپنی نوعیت کا پہلا انتظامی تجربہ تھا۔ 1842ءمیں بنگال پریذیڈنسی میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ٹھکانے لگانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، یہ وہ ابتدائی ذمہ داریاں تھیں جو مقامی حکومتوں کے اولین انتظامی ڈھانچے کو سونپی گئیں۔ اسی طرح کا انتظامی ڈھانچہ چار برس بعد 1846ء میں کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ سرکاری انتظامیہ نے 1850ء میں ابتدائی طور پر لاہور اور امرتسر میں بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ 1862ءمیں برصغیر میں پہلا میونسپل ایکٹ منظورہوا۔ 1882ء میں پہلی بار شہری اور دیہی مقامی حکومتوں کے حوالے سے لارڈ رِپن کی حکومت نے قرار داد منظور کی۔ 1925ءمیں ہندوستان آنے والے “سائمن کمیشن” کی ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ خودمختار مقامی حکومت کی گزشتہ برسوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور بہتری کے لیے تجاویز پیش کی جائیں۔ اس کمیشن کی تجاویز کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1935ء میں ہندوستان میں برطانوی حکومت نے صوبائی سطح پر مقامی حکومت کے خودمختار ڈھانچہ کی منظوری دے دی۔
پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں 1972ء سے 1977ء تک بلدیاتی انتخابات کروانے یا بلدیاتی اداروں کو آگے بڑھانے سے گریز کیا اوراس دوران ان اداروں کو مقامی انتظامی ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے چلایا
پاکستان میں بلدیاتی نظام
پاکستان کی تاریخ میں تین مختلف ادوار میں مقامی یا بلدیاتی اداروں کا وجود نظر آتا ہے۔ پاکستان میں 1958 سے 1969ءکے مختصر عرصہ میں نومولود مملکت جمہوری اور فوجی حکومتوں کے تجربے سے گزر چکی تھی۔ فوجی حکومت نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو معطل کر دیا تو اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی کہ عوامی سطح پر ایک ایسا انتخابی حلقہ تشکیل دیا جائے جو جمہوریت کی عدم موجودگی سے پیدا ہو جانے والا خلا پر کر سکے اور اسمبلیوں اور صدر کے انتخاب کے ساتھ فوجی حکومت کو جمہوری بنیاد بھی فراہم کرے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی نظام “بنیادی جمہوریت” کے نام سے متعارف کروایا جس کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ 1962ء میں بلدیاتی ادارے قائم ہوئے۔ بعدازاں پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں 1972ءسے 1977ء تک بلدیاتی انتخابات کروانے یا بلدیاتی اداروں کو آگے بڑھانے سے گریز کیا اوراس دوران ان اداروں کو مقامی انتظامی ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے چلایا۔
مقامی حکومتیں ضلع ، تحصیل اور یونین کی سطح پر عوامی نمائندوں کے ذریعے سرکاری محکموں کی نگرانی کے علاوہ مقامی نوعیت کے مسائل حل کرنے کی بھی ذمہ دار ہوتی ہیں
پیپلزپارٹی کی حکومت کے بعد جنرل ضیاءالحق نے فوجی مارشل لاءلگایا تو انہوں نے بھی 1979ء میں دوسری بار بلدیاتی آرڈیننس کی مدد سے مقامی بلدیاتی اداروں کا نظام متعارف کروا کر بلدیاتی انتخابات کروائے جو عملی طور پر 1989ء تک کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔ ضیاءالحق کا دور حکومت ختم ہونے کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی دو دو بار حکومتیں بنیں لیکن اس دوران بلدیاتی ادارے کبھی فعال اور کبھی پابندیوں کے زیر عتاب رہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی مداخلت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے پہلے سے رائج بلدیاتی اداروں کو توڑ کر مقامی حکومتوں کا نیا نظام متعارف کروایا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا جس میں لفظ “مقامی حکومت” استعمال کیا گیا۔ اس سے مراد یہ تھی کہ تیسرے درجے کی حکومت کے اصول کو قبول کرکے آگے بڑھا جائے۔ اگرچہ یہ نظام فوجی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا جس کے پیچھے کچھ ذاتی مفادات بھی تھے لیکن اس کے باوجود اس نظام میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو خصوصی اہمیت کی حامل تھیں۔ ابھی حال ہی میں پہلے بلوچستان نے اور پھر خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومتوں نے بھی بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے ۔
مقامی حکومتوں کی اہمیت
مقامی حکومتیں لوگوں کو روز مرہ کی بنیادی شہری سہولیات فراہم کرتی ہیں۔یہ حکومتیں مختلف علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہیں۔ مقامی حکومتوں کا نظام دیہات، قصبوں اورشہروں میں رہنے والوں کی زندگیوں پرمثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔مقامی حکومتوں میں بنیادی تعلیم اور صحت کے حکام بھی شامل ہوتے ہیں تاکہ علاقائی سطح پر شہریوں کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔مقام حکومت کے ادارے اور نمائندے اپنے علاقے کے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہو تے ہیں۔ مقامی حکومتی نظام کا مقصد بجٹ کی شفافیت، سماجی احتساب، شہری مسائل پر آواز اٹھانااورمقامی سطح کے سرکاری اداروں کی کارکردگی کی نگرانی کے ذریعے سیاسی طور پر مستحکم معاشرے کی تخلیق ہے۔ مقامی حکومتیں ضلع، تحصیل اور یونین کی سطح پر عوامی نمائندوں کے ذریعے سرکاری محکموں کی نگرانی کے علاوہ مقامی نوعیت کے مسائل حل کرنے کی بھی ذمہ دار ہوتی ہیں۔مقامی حکومتیں سرکاری محکموں کی کارکردگی سے لوگوں کو آگاہ کرنے ، ناقص کاردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرنے اوربنیادی خدمات( میونسپل سروسز)کی براہ راست فراہمی کے فرائض بھی سرانجام دیتی ہیں۔
لوگوں کے لیے بلدیاتی نظام کا وجود جمہوریت کے تسلسل کا نام ہے جو انہیں ملک کے انتظام و انصرام میں براہ راست شرکت کا احساس دلاتا ہے
بلدیاتی نظام کوجمہوریت کی بنیاد کہا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر بڑے ملک میں بلدیاتی نظام قائم ہےجہاں میئر اور کونسلرکے پاس شہر کی انتظامیہ پر مکمل اختیارات ہوتے ہیں۔ بعض شہروں میں پولیس بھی میئر کے ماتحت ہوتی ہے۔ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے لیکن یہ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ملک میں جب بھی سیاسی جماعتیں برسراقتدار آئی ہیں انہیں بلدیاتی انتخابات کرانے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ حکومت کی کارکردگی مثالی ہے جس نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا۔ حیرت کی بات ہے کہ 21 ویں صدی میں جمہوریت کی علمبردار جماعتیں پنجاب میں 200سال پرانا کمشنری نظام تھوپنا چاہتی ہیں اور کمشنراور ڈپٹی کمشنر کے ذریعے مقامی اداروں پو اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ علاقائی تعمیر اور ترقیاتی کام بلدیاتی نظام سے ہی ممکن ہیں اور یہ کام بلدیاتی نمائندوں کا ہی ہے، ایم این اے اور ایم پی اے کا نہیں۔
بلدیاتی نظام عام آدمی کی دسترس میں ہوتا ہے اور وہ اپنے علاقے کے مسائل اس نظام کی بدولت ہی حل کرسکتا ہے،عوام کے دیرینہ مسائل کاحل بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات میں ہیں۔ حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے اس وجہ سے خائف ہیں کہ اس سے فنڈز اور اختیارات نچلی سطح پر عوام کو منتقل ہوں گے جس سے ان کے اراکین اسمبلی کے اختیارات اور اثرورسوخ میں کمی واقع ہو گی۔ سیاسی جماعتوں کو یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ بلدیاتی ادارے ہی جمہوریت کے سب سے بڑے محافظ بن سکتے ہیں کیوں کہ ان سے عوام کا براہ راست رابطہ رہتا ہے۔ لوگوں کے لیےبلدیاتی نظام کا وجود جمہوریت کے تسلسل کا نام ہے جو انہیں ملک کے انتظام و انصرام میں براہ راست شرکت کا احساس دلاتا ہے کیونکہ بلدیاتی اداروں کے ذمہ داران سے عوام اپنے اپنے علاقوں میں براہ راست رابطے میں رہتے ہیں جو کسی قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبر سے ممکن نہیں۔ لیکن برا ہو ہمارے سیاسی خانوادوں کی بد عنوانی اور وسائل پر قابض رہنے کی خواہش کا جو سیاسی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات سے گریز پر مجبور کرتی ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب کے شہری علاقوں میں صحت وصفائی کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے۔ بلدیاتی نظام ہو تا تو شہر کایہ حال نہ ہو تا، وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ملک میں فوری طورپر بلدیاتی انتخابات کرواکر شہری سہولتوں کا نظام مقامی حکومت اوران کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرے۔
صوبوں میں برسراقتدار جماعتیں وفاق سے اپنے لیے تو مزید اختیارات اور وسائل کی فراہمی پر اصرار کرتی ہیں لیکن انہیں یہ گوارا نہیں کہ مقامی سطح پر عوام اپنی تقدیر کے مالک خود بن سکیں
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ایک آئینی تقاضا
حکمرانوں کا طرز سیاست ایسا ہے کہ یہاں اختیارات صرف چندہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ عوامی نمائندے اختیارات کی عوام تک منتقلی سے گھبراتے ہیں اور یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا ایک متفقہ آئین بھی ہے، قانون بھی ہے اور محکمہ جات بھی قائم ہیں۔ مسائل کے حل کے لیے مجاز افسران بھی ہیں، جرائم کی روک تھام، عوامی شکایات کے ازالے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارے اور منتخب نمائندے بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے گریز ہے۔ مرکز، صوبوں اور صوبے اضلاع کو اختیارات منتقل نہیں کر رہے۔ یہ عجیب تضاد ہے اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعہ وفاق سے صوبوں کو اختیارات تومنتقل کر دئیے گئےمگرپنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرنے سے پہلو تہی کررہی ہیں۔ حالانکہ یہ ایک ایسا قانونی تقاضا ہے جو آئین میں صریحاً مذکور ہے۔ صوبے پابند ہیں کہ وہ مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے ضروری قانون سازی کریں اور منتخب اداروں کو درکار ضروری وسائل اور انتظامی اختیارات تفویض کریں تا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات میسر آ سکیں۔
اس حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ مقامی حکومتوں کا نظام اپنی فعالیت، اثر پذیری اور مثبت نتائج کے اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اختیارات کی عدم مرکزیت کا اصول اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح ہے جس کے تحت وفاقی اکائیوں کو 1973 کے آئین میں دی گئی ضمانت کے تحت بالآخر خودمختاری تو دے گئی، لیکن اراکین قومی اسمبلی اپنی اصل ذمہ داری یعنی قانون سازی سے زیادہ افتتاحی تختیاں لگوانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ پاکستان میں اراکین پارلیمان کو ترقیاتی فنڈز دے کر ٹھیکیداری کا چسکا لگادیا گیا۔ کمیشن کے نام پر کمائی کا سلسلہ جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کے قیام کی راہ میں رقم بٹورنے کے سواکوئی دوسری رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں میں برسراقتدار جماعتیں وفاق سے اپنے لیے تو مزید اختیارات اور وسائل کی فراہمی پر اصرار کرتی ہیں لیکن انہیں یہ گوارا نہیں کہ مقامی سطح پر عوام اپنی تقدیر کے مالک خود بن سکیں۔ مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی میں پاکستانی جمہوریت کی مثال کسی ایسے درخت کی سی ہے جس کی جڑیں دھرتی میں پیوست ہی نہیں۔ یہ طے ہے کہ حکومتوں کی کامیابی عوامی مسائل کے ادراک اور حل میں ہے۔ جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک حکومت مضبوط نہیں ہو سکتی۔
حکومت اگر حقیقی معنوں میں عام لوگوں کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیئے کہ اختیارات کی حقیقی منتقلی یقینی بنائے اور بلدیاتی انتخابات کراکے اس کے ثمرات کو عام آدمی تک پہنچائے۔ اگر ایسا ہو تو مجھے یقین ہے کہ حکومت ہر طرح کے سیاسی بحران سے نکل آئے گی اور اس سے نظام بھی مضبوط ہو گا۔
Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخواہ بلدیاتی انتخابات ؛ایک خوش آئند امر

کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کی بقاء اور استحکام کا دارومداربلدیاتی نظام پر ہےلیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے گناہ کبیرہ سے ہمیشہ خود کو بچائے رکھا، یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوریت پھلنے پھولنے کی بجائے روزبروز تنزلی کا شکارہے۔سیاسی حکومتوں کے برعکس فوجی آمراپنے غیرقانونی وغیر اخلاقی اقتدار کو طول دینے کے لیے مقامی حکومتوں کے انتخابات کراتے رہے۔ طویل انتظار کے بعد بالآخر پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کرنے کا فیصلہ کیاہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آخری مرتبہ سن 2005ءمیں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد سے ہمارے حکمران بلدیاتی نظام کو طاعون سمجھ کر بھاگتے رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات کا ‘دیر آید درست آید’ کے مصداق ہے۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخواہ میں انتخابات کے لیے شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔ گاوں، تحصیل اور ضلع کونسلزکے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی 13سے 17اپریل تک جمع کروائے جائیں گے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال 20سے 25اپریل تک ہوگی،کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیلیں26سے 28اپریل تک دائر کی جاسکیں گی،امیدواروں کی حتمی فہرست 6مئی کو جاری کی جائے گی اور اس کے بعد انتخابی مہم شروع ہوگی۔ خیبر پختونخواہ میں 30مئی کو بلدیاتی انتخابات ہوں گے جبکہ 10جون تک انتخابات کے نتائج سامنے آجائیں گے، اس کے بعد اگلے مرحلے یعنی تحصیل اورضلع کونسل کے ناظم ونائب ناظم کا انتخاب ہاتھ اٹھا کر کیاجائے گا۔
مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک میں جہاں کرپشن،اقراباپروری اور اراکین اسمبلی کی اور من مانیوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں جمہوریت مستحکم ہونے اور نچلی سطح سے نئی سیاسی قیادت کے ابھرنے کے امکانات بھی معدوم ہوئے ہیں
مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک میں جہاں کرپشن،اقراباپروری اور اراکین اسمبلی کی اورمن مانیوں میں اضافہ ہوا ہےوہیں جمہوریت مستحکم ہونے اور نچلی سطح سے نئی سیاسی قیادت کے ابھرنے کے امکانات بھی معدوم ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسمبلیاں جاگیر داروسرمایہ داروں،ٹھیکداروں اور موروثی سیاسی جانشینوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ سیاسی عمل سے گزرے بغیر سامنے آنےوالی سیاسی پود نے اپناووٹ بینک بچانے اور بڑھانے کے لیے سفارش، سرکاری ملازمتوں کی خرید وفروخت،ملازمین کے تبادلوں اور مالی بدعنوانیوں کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔
“نقصان سیاسی جماعتوں کا ہوا ہے”
ایوب خان صاحب کے زمانے میں بنیادی جمہوریت کے تصور کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے اور ضیاء الحق کے زمانے میں غیر جماعتی بنیادوں پر مقامی حکومتوں کے قیام کا نظام متعارف کرایا گیا۔ مشرف دور میں متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نظام ماضی کے بلدیاتی انتظامی ڈھانچوں کی نسبت خاصا بہتر ہونے کے باوجود غیر جماعتی بنیادوں پر استوار ہونے کے باعث ناکام ہوا۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے ہر ضلع کو انتظامی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیاتھا یعنی لوکل کونسل،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل۔ ہر کونسل میں ناظم اور نائب ناظم کا عہدہ رکھا گیا تھا جومقامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کے ذمہ دار قرار دیے گئے تھے۔ ہر یونین کونسل میں جنرل کونسلر،کسان مزدور،اقلیتوں اور خواتین کے لیے علیحدہ نشستیں مختص کی گئی تھیں۔ ناظم اور نائب ناظم سمیت یونین کونسل کےتمام عہدیداروں کا چناؤ بالغ رائے دہی کی بنیادپر براہ راست عوامی ووٹوں سے کیا گیا۔
مشرف دور میں متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نظام ماضی کے بلدیاتی انتظامی ڈھانچوں کی نسبت خاصا بہتر ہونے کے باوجود غیر جماعتی بنیادوں پراستوار ہونے کے باعث ناکام ہوا۔
غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کی وجہ سے ووٹوں کی خریدوفروخت اورلین دین شروع ہوئی جس کی وجہ سے نچلی سطح سے قیادت ابھرنے کے بجائے اقتدار پرانے سیاسی مداریوں اور موقع پرست موسمی پرندوں کے ہاتھوں ہی رہی ۔ تاریخ کے استاد خرم علی کے مطابق غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا نقصان جمہوریت کو پہنچا ہے؛”فوجی آمرسیاسی جماعتوں کے خوف سے جبکہ سیاسی حکومتیں مخالف سیاسی جماعتوں کے ڈر سے غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہیں لیکن ہر دوصورتوں میں نقصان سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کو ہی پہنچا ہے۔”
اختیارات کی حد
صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان ایک اہم تنازعہ اختیارات اور ترقیاتی فنڈ کی تقسیم کا ہے جس کے باعث جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانےسے گریز کرتی رہی ہیں۔ مشرف دور میں2001ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد ترقیاتی فنڈز سمیت بیشتر محکمے اوراختیارات مقامی حکومتوں کے حوالے کردیے گئے لیکن 2005ء کے انتخابات کے بعد مقامی حکومتوں سے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات دوبارہ چھین کر اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے ہاتھ میں دے دیے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سابق استاد محرم علی کے مطابق سیاسی جماعتیں اختیارات کی منتقلی سے خوف زدہ ہیں،”جمہوری حکومتوں کی کارکردگی سے عوام کی مایوسی سیاسی جماعتوں کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے خوفزدہ رکھتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت اور اس کی قیادت زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے جس سے اقتدار اور سیاسی جماعت پر ان کی گرفت مضبوط رہتی ہے۔”
اختیارات کے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ہاتھوں میں ارتکاز کے باعث بلدیاتی نظام کوعوام میں وہ پذیرائی نہیں ملی جوملنی چاہیے تھی اسی وجہ سے پاکستان میں بلدیاتی حکومتوں کا کوئی نظام کامیاب نہیں ہوسکا۔ تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جارہے ہیں، اس ضمن میں بلوچستان نے بلدیاتی انتخابات کرا کے تمام صوبوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
خیبر پختونخواہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2014
مئی 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف اور اس کے اتحادی جماعتوں نے خیبرپختونخواہ میں نئے سرے سےمقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا،اس سلسلے میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013ء کی منظوری دی گئی جس میں2014ء میں ترمیم ہوئی۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے برعکس موجودہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس عوامی مفادات اور جمہوری اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھ کر تیار کیاگیا ہے۔اگر اس نظام کو کامیابی سے چلنے دیاگیا تو یہ باقی صوبوں کے لئے بھی مثال بن سکتا ہے بشرط یہ کہ صوبائی حکومت عوام کو مقامی سطح پر انصاف کی فراہمی میں مخلص ہو۔
ہر دیہی کونسل کااپنا دفتر اور دفتری عملہ ہوگا جبکہ ترقیاتی فنڈزاورمقامی مسائل کے حل کے لیے بہت سے اختیارات دیہی کونسل کے سپرد کیے گئے ہیں۔
اس آرڈیننس کے مطابق دیہی علاقوں میں ہر ضلع کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے اورہر یونین کونسل کو مزید چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے دیہی کونسل کا نام دیاگیا ہے۔ہر دیہی کونسل دوہزار سے لیکر دس ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی جس کےمنتخب اراکین کی تعداد دس سے پندرہ ہوگی۔ دیہی کونسل کی نمائندہ مقامی حکومت میں پانچ سے دس عمومی نشستیں جبکہ خواتین کے لئے دومخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔اس کونسل میں کسانوں/ مزدوروں، نوجوانوں اور اقلیتوں کے لئے ایک ایک نشست مختص کی گئی ہے۔
دیہی کونسل کا سربراہ ناظم/چیرمین ہوگاجبکہ اس کے ماتحت نائب ناظم/وائس چیرمین کا عہدہ بھی رکھا گیا ہے۔ دیہی کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کیے جائیں گے جس میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے فرد کو ناظم/چیرمین جبکہ دوسرے نمبر پر زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کو نائب ناظم/وائس چیرمین مقررکیا جائے گا۔ہر دیہی کونسل کا اپنا دفتر اور دفتری عملہ ہوگا جبکہ ترقیاتی فنڈزاورمقامی مسائل کے حل کے لیے بہت سے اختیارات دیہی کونسل کے سپرد کیے گئے ہیں۔
ہر یونین کونسل سے منتخب ہونے والے ناظم اور نائب ناظم بالترتیب تحصیل کونسل اورضلع کونسل کے رکن بھی قرار پائیں گے۔تحصیل اور ضلع کونسل کے اراکین کا انتخاب جماعتی بنیادوں پر براہ راست ووٹنگ سے ہوگا۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء کے مطابق ناظم اور نائب ناظم کا انتخاب ایک ہی بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتا تھا جبکہ موجودہ نظام میں ان عہدوں کے لیے الگ الگ بیلٹ پیپر استعمال ہوگا۔الیکشن میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ اور بدعنوانی روکنے کے لیے تحصیل اور ضلع ناظمین کے انتخاب کے لئے ہاتھ اٹھا کرووٹ ڈالنے کا طریقہ کار رائج کیا گیا ہے۔جو اراکین آزاد حیثیت سے کامیاب ہوں گے انہیں نتائج کےاعلان کے تین دن کے اندراندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی۔ تحصیل اور ضلع کونسل کا انتخاب لڑنے کے لیے یونین کونسل سے کامیابی لازمی ہے۔مقامی حکومتوں کے موجودہ نظام کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دیہی کونسل،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل میں خواتین،اقلیتوں اور نوجوانوں کے لیے بھی نشستیں مختص کی گئ ہیں۔ نئے نظام کے تحت انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے۔
سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ ہوگااور دیہی کونسلراپنے علاقوں میں 19محکموں کی نگرانی کریں گے۔
عنایت اللہ خان خیبرپختونخواہ کے سینئر صوبائی وزیر برائے بلدیات ودیہی ترقی نے ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے کہا “بلدیاتی نظام عوامی مسائل کے حل کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور موجودہ حکومت بلدیاتی انتخابات کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کررہی ہے،اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرکے عوام کو بااختیار بنانے کے لئے خیبر پختونخواہ میں بالکل نیا نظام متعارف کرارہے ہیں۔موجودہ صوبائی حکومت خلوصِ نیت سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ملک میں جمہوریت اختیارات اور فنڈز کو عوام کے نمائندوں میں تقسیم کرنے ہی سے مضبوط ہوتی ہے”۔سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ ہوگااور دیہی کونسلراپنے علاقوں میں 19محکموں کی نگرانی کریں گے۔
بدلیاتی انتخابات اور عوام کی ذمہ داری
بدلیاتی انتخابات اور عوام کی ذمہ داری پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کااعلان کیا ہے تو اس کے ساتھ رائے دہندگان پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ان کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتی ہو۔عوام پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی مفادات کوبالائے طاق رکھ کر حقیقی قیادت کو سامنے لائے تاکہ عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل ہوں۔درحقیقت مقامی حکومتوں کا نظام کسی بھی معاشرے میں سیاسی نرسریوں کی حیثیت رکھتا ہے مہذب جمہوری ممالک میں سیاسی قیادت مقامی حکومتوں کے نظام سے گزر کر ہی سامنے آتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ غنی خان کے بقول آخر کار فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے کہ وہ کسے منتخب کرتے ہیں اور کیوں منتخب کرتے ہیں۔