Categories
نقطۂ نظر

بھٹو کا پتلا

عجیب داستان ہے یہ بھی ہم جو زندہ ہیں، ان کو بس اس حال میں دیکھنا چاہتے ہیں
کہ انھیں بس اپنے زندہ رہنے کا احساس رہے۔ ان کا حال بس ایسا ہو کہ زندہ کہلانے کے قابل رہیں۔ البتہ جو اس جہاں سے کوچ کر گیے ہیں ان کے لئے ہم زندہ رہنے کے نعرے خوب زور و شور سے لگاتے ہیں، جناب مرحوم ذولفقار علی بھٹو کو یوں تو مرحوم ہوے کویی اڑتیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے، پر ان کے چاہنے والے اور نام نہاد جیالے، بلند و بانگ آواز سے “زندہ ہے بھٹی زندہ ہے بھٹو” کے فلک شگاف نعرے کچھ اس طرح سے لگاتے ہیں، کہ جیسے کوئی مجزوب یا ملنگ کسی درگاہ پے کسی اور دنیا میں موجود اور مست ہو۔

 

یہ نعرے بھی کیا خوب ہوتے ہیں۔ بھانت بھانت کے ہم قافیہ جملے جو کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔ جیسے کسی اشتہار میں چلتا گانا، جس کو سننے والے دلچسپی سے سنتے ہیں۔ پر سب جانتے ہیں کہ ، بس ایک اشتہار ہے، حقیقت سے جس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ اشتہار بنانے والے دار اصل میرے بٹوے میں سے روپے نکالنے کے لئے ایک خوبصورت دوشیزہ کے ذریے مجھ کو اس نغمے کی دھن میں الجھا رہے ہیں۔

ایسی ہی کیفیت ان نعروں کی ہے، “جیے بھٹو سدا جیے۔” یا وہ ہے نہ “نعرۂ بھٹو، جیے بھٹو” ۔اگر مندرجہ بالا دلیل کی روشنی میں ملاحضہ فرمائیں، تو یہ بھی ایک قسم کی اشتہاری مہم ہی تو ہے۔ ہمیں اور آپ کو اس بات کا احساس دلانا مقصود ہے کہ مستانے ہو جاؤ۔ بھٹو کے پروانے ہو جاؤ۔ ان نعروں سے بھٹو کے زندہ اور ہم میں موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اس بات کی تجدید ہوتی ہے کہ اڑتیس سال کے بعد بھی ہم میں ایک شخص زندہ اور موجود ہے۔ اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ، ایک ظالم، جابر اور آمر حاکم کسی کو تختہ دار پر جبری موت سے بھی نہیں مار سکتا۔

 

چلیے ایسا ماں بھی لیتے ہیں کہ یہ سب ممکن ہے۔ بھٹو آج بھی زندہ ہے، جو مزدور کا بھٹو ہے، کسان کا بھٹو ہے، جو دیہاڑی دار کا بھٹو ہے۔ جو بھٹو ان کا بھلا چاہتا ہے اور ہر دم ان کو آسوده دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ بیچارے لوگ گزشتہ کی دہایوں سے ان ہی نعروں پر زندہ ہیں۔ اپنی زندگیوں کو اس امید پر خرچ کر رہے ہیں کہ ایک روز ان کا بھٹو بھی آیے گا اور جادو کی چھڑی گھماے گا اور ان کے سارے دکھ درد مٹ جاین گے۔ ان کے گھروں میں بھی چولہےجلتے رہیں گے، ان کے گھر بھی پکّے ہوں گے، انکے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔ ان کے تن پر بھی اچھے کپڑے ہوں گے اور ایک موٹر کار بھی ہو گی، جس میں بیٹھ کر وہ میلوں دور جا سکیں گے۔

 

جب بھٹو کے قصّے کچھ کم ہو جاتے ہیں تو پھر اس کی شیر دل بیٹی کی بات ہوتی ہے۔ جو سب کی بی بی تھی۔ پھر ایک اور نعرہ گونجتا ہے، ” چاروں صوبوں کی زنجیر، بے نظیر بے نظیر۔” پھر بی بی صاحب کی مداح سرائیاں ہوتی ہیں۔ مردوں کے اس بے رحم معاشرے میں ایک اور یکتا، انوکھی اور بے نظیر تھی۔ پھر چھڑتی ہے بات “ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔”

 

پر یہ سب بیچارے دن بھر کے تھکے مارے جب شام ڈھلے کسی ریڈیو پر، کسی ٹی وی پر یا کسی کے موبائل یا پھر کسی کے کمپیوٹر پر بھٹو کے نڈر داماد اور خوبرو نواسے کو دیکھتے ہیں تو ان کی امیدیں بر آتی ہیں۔ اب بھٹو ضرور آئے گا اور ان کے دکھ درد مٹائے گا۔ پھر بھٹو کو لانے کے لئے جانے کیوں کوئی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ اس تاریخ کو سب لمبی لمبی قطاریں لگایے، اپنے اپنے انگوٹھے اور انگلیاں صاف کیے کسی اسکول یا سرکاری دفتر میں جمع ہو جاتے ہیں۔ کسی کاغذ پر کوئی تیر کا نشان بنا ہوتا ہے، جہاں ان کو انگوٹھا لگانا پڑتا ہے۔ گھنٹوں دھکّے، اور گالیاں کھانے کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو لیتے ہیں۔

 

ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر، بدبو، گندی گلیاں، گرد و غبار، دھواں اڑاتی بسیں، بجلی کی آنکھ مچولی، فاقے، شور، اور آوارہ جانور ان سب کو اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ کتوں کی بھونک اور بلیوں کا رات کے آخری پھر پے ماتم اس بات کی امید دلاتا ہے کہ اگلا روز گزرے ہوئے آج سے بہتر ہو گا۔ بس بھٹو کے آنے کی دیر ہے اور قسمت کا پانسا پلٹ جایے گا۔ روشنیوں میں رقص ہو گا اور خوشیاں سنبھالے نہ سنبھلیں گی۔ چاہے پانچ برس اور ہی کیوں نہ لگ جائیں ، صبر اور انتظار ضروری ہے۔ دل اور دماغ میں بس ایک کی صدا گونجتی ہے، ‘ نعرہ نعرہ نعرہ بھٹو ،جیے جیے جیے بھٹو۔ “
Categories
نان فکشن

معراج محمد خان

[blockquote style=”3″]

معراج محمد خان پر یہ سوانحی مضمون معروف کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے انگریزی روزنامے ڈان کے لیے لکھا تھا۔ یہ مضمون ندیم فاروق پراجہ کے سلسلہ مضامین ‘کریزی ڈائمنڈ’ میں شامل ہے جسے ڈاکٹر عبدالمجید عابد نے ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمجید عابد کے یہ تراجم لالٹین قارئین کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

[/blockquote]

سنہ 1963ء میں کراچی میں منعقدہ مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کے لئے وقت کے فوجی آمر ایوب خان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے سٹیج سنبھالا تو بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ارکان نے سٹیج پر ہلہّ بول دیا اور جلسے کا کاروائی معطل کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان طلبہ کو بعدازاں پولیس کے ہاتھوں مار پیٹ اور جیل کی ہوا کھانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس روز ان طلبہ کی سربراہی معراج محمد خان نامی ایک شعلہ جوالا نوجوان کر رہا تھا۔ چار سال بعد وہی معراج محمد خان، بھٹو صاحب، نامور دانشوران، ٹریڈ یونین ارکان، صحافیوں اور سیاست دانوں کے ہمراہ ایک نئی سیاسی جماعت(پاکستان پیپلز پارٹی) کا بانی رکن بنا۔

 

معراج محمد خان معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے ہمراہ ڈاو میڈیکل کالج کی ایک تقریب میں
معراج محمد خان معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کے ہمراہ ڈاو میڈیکل کالج کی ایک تقریب میں
1950 ء اور 1960ء کی دہائیوں کے دوران طلبہ سیاست سے ابھرنے والے افراد میں سب سے پرجوش اور پرعظم طالب علم، معراج تھا۔ کراچی کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے معراج نے 1957ء میں کالج کے زمانے میں NSF کی رکنیت حاصل کی۔ وہ جلد ہی اس تنظیم کا ایک اہم رکن بن گیا۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف چلنے والی طلبہ تحاریک میں اس نے بھرپور حصہ لیا اور اس ضمن میں کئی بار حوالات کی سیر بھی کی۔ 1960ء کی دہائی کے اوائل میں NSF روس نواز اور چین نواز گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ معراج اور جامعہ کراچی میں اسکا ہم عصر راشد احمد خان، چین نواز دھڑے میں شریک ہوئے۔ سنہ 1965ء میں پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی ناکامی کے بعد بھٹو صاحب نے ایوب خان پر ’جیتی ہوئی بازی مذاکرات کے میز پر ہارنے‘ کا الزام لگایا، اور ان کو کابینہ سے نکال دیا گیا۔ بھٹو صاحب کو معلوم تھا کہ ان کی بات میں زیادہ وزن نہیں لیکن ان کا یہ موقف عوام (جنہیں جنگ کے دوران بے وقوف بنایا گیا تھا) میں ان کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ بنا۔

 

معراج محمد خان، بھٹو اور رشید احمد خان
معراج محمد خان، بھٹو اور رشید احمد خان
بھٹو صاحب خاص طور پر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں میں مقبول ہوئے، اور اس دہائی میں زیادہ تر جامعات میں سٹوڈنٹ یونینیں ان تنظیموں کے زیر اختیار تھیں۔ NSF کا چین پرست دھڑا بھٹو صاحب کے مداحوں میں شامل تھا، اور انہوں نے اس دور کی باقی دنیا کی طرز پر بھٹو صاحب کو ملک میں سوشلسٹ انقلاب لانے کی دعوت دی۔ انقلاب سے زیادہ سیاست کی جانب رجحان رکھنے والے بھٹو صاحب نے بائیں بازو کی ایک سوشل ڈیمو کریٹک جماعت تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا۔ مارکسی دانشور جے اے رحیم، سوشلسٹ دانشور ڈاکٹر مبشر حسن (اور شیخ رشید احمد)، اور ’اسلامی سوشلسٹ‘ حنیف رامے اور معراج خالد کے تعاون سے انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دی۔ نئی جماعت کا پہلا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا اور اس میں ترقی پسند دانشوروں، ٹریڈ یونین ارکان، صحافیوں اور سیاست دانوں نے شرکت کی۔ طلبہ کے دستے کی سربراہی اٹھائیس برس کے معراج محمد خان نے کی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ بھٹو صاحب نے معراج کو اپنا قریبی ساتھی اور ہو بہو عکس قرار دیا۔

 

طلبہ کے دستے کی سربراہی اٹھائیس برس کے معراج محمد خان نے کی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ بھٹو صاحب نے معراج کو اپنا قریبی ساتھی اور ہو بہو عکس قرار دیا۔
سنہ 1968ء میں ایوب آمریت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو NSF نے صحافیوں اور سیاسی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی) سمیت اس تحریک میں حصہ لیا۔ مشرقی پاکستان میں بنگالی قوم پرستوں نے اس تحریک کا بیڑا اٹھایا۔ ایوب کے رخصت ہونے پر جنرل یحییٰ خان نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اور عام انتخابات کا اعلان کیا۔ انتخابی تحریک کے دوران جماعت اسلامی کے غنڈوں نے پیپلز پارٹی کی ریلیوں میں ہنگامہ آرائی کی اور جماعت نے پیپلز پارٹی پر ’ملحدانہ‘ نظریات کی ترویج اور اسلام کو خطرہ پہنچانے کا الزام لگایا۔ اس جھنجھٹ سے نبٹنے کے لئے معراج اور شیخ رشید احمد نے ریلیوں کے تحفظ کی خاطر NSF ارکان پر مشتمل ’سرخ گارڈز‘ تشکیل دیے۔ انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان میں برتری حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔

 

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یحییٰ خان کو اقتدار سے ہٹا کر پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی۔ اس حکومت میں بھٹو صاحب نے معراج کو وزیر برائے محنت وافرادی قوت مقرر کیا۔ وہ اس حکومت کے پہلے دو سال فعال ترین وزیر رہا۔ ایوب کے خلاف چلنے والی تحریک نے طلبہ اور ٹریڈ یونینوں کو متحرک کر دیا تھا اور ان کی انقلابی رو پیپلز پارٹی حکومت آنے کے بعد بھی برقرار رہی۔ حکمران جماعت کے بائیں بازو نے سوشلسٹ اصلاحات بڑھانے پر زور دینا شروع کر دیا۔ اصلاحات کی سست رفتاری کے خلاف کراچی میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک نے فیکٹریوں پر قبضہ کر کے ان کو بند کرنا شروع کر دیا جس پر بھٹو صاحب خوب سیخ پا ہوئے۔ وہ یونینوں کو غیر ذمہ دار سمجھنے لگے اور ان سے پوچھا کہ آخر تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ تم ملک کی تباہ شدہ حالت کے باوجود فیکٹریاں کس طرح بند کر سکتے ہو؟ انہوں نے معراج کو یونین سربراہان سے نبٹنے کا حکم دیا لیکن معراج نے صا ف انکار کر دیا اور انہیں اصلاحات کی رفتار بڑھانے کا مشورہ دیا۔ بھٹو صاحب کو اپنے وزیر کی یہ بات پسند نہ آئی اور 1973ء میں ٹریڈ یونینوں اور مزدور یونینو ں کے خلاف کاروائی کا آغاز ہو گیا۔ معراج نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کے حکم پر معراج کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ بھٹو دور کے باقی ماندہ سالوں میں معراج ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر کاٹتا رہا اور مختلف کمیونسٹ جماعتوں کا رکن رہا۔ بھٹو صاحب کے خلاف 1977ء میں عوامی مہم شروع ہوئی تو معراج اس تحریک کا حصہ بنا۔

 

استعفیٰ دینے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کے حکم پر معراج کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ بھٹو دور کے باقی ماندہ سالوں میں معراج ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر کاٹتا رہا اور مختلف کمیونسٹ جماعتوں کا رکن رہا۔
بائیں بازو کے چند دیگر افراد کے ہمراہ وہ پی این اے (جو مذہبی جماعتوں پر مشتمل تھی) کی تحریک میں شریک ہوا۔ تحریک کے باعث ملک میں انتشار پیدا ہوا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج نے پھر سے اقتدار سنبھال لیا۔ معراج مارشل لاء کے نفاذ کے بعد روپوش ہو گیا۔ بھٹو صاحب کے خلاف قتل کا مقدمہ شروع ہوا تو معراج نے بیگم نصرت بھٹو کو صلح کا پیغام بھیجا۔ نصرت بھٹو نے معراج اور دیگر ترقی پسندوں کے ہمراہ بحالی جمہوریت کی تحریک (MRD) چلانے کا فیصلہ کیا۔ بینظیر بھٹو نے معراج، مفتی محمود اور اصغر خان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں ’میرے والد کے قاتل‘ قرار دیا۔ بعدازاں انہیں نے مصالحت کی راہ اپنائی۔ اس تحریک کے باعث معراج کو کئی دفعہ تشدد اور جیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ضیاء کی ہلاکت کے بعد ملک میں جمہوریت بحال ہوئی اور پیپلز پارٹی نے بینظیر کی سربراہی میں حکومت کی۔ معراج نے حکومت کا حصہ بننے کی بجائے ملک میں کمیونسٹ جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی (ناکام) کو شش شروع کر دی۔ حیران کن طور پر انہوں نے 1998ء میں عمران خان کی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ابتدائی طور پر عمران خان اور اس کی جماعت کو ترقی پسند سمجھتے رہے لیکن 2003ء میں انہوں نے تحریک انصاف کو الوداع کہا۔ ان کے مطابق عمران خان آمرانہ طبیعت کا مالک اور سیاست سے نابلد آدمی تھا۔ اب پچاس کے پیٹے میں معراج ریٹائر زندگی گزار رہا ہے اور بہت سی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ ناقدین معراج کی شعلہ بیانی اور جذباتی طبیعت کو اس کے زوال کا سبب بتاتے ہیں، اور اس کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ اپنی جدوجہد کی بنیاد پر بہت سی وزارتیں حاصل کر سکتا تھا لیکن وہ اپنے اصولوں پر سودا کرنے کو تیار نہیں تھا۔
ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران معراج محمد خان کو گرفتار کیا گیا
ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران معراج محمد خان کو گرفتار کیا گیا
Categories
نقطۂ نظر

الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع

پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نےغریبوں کی بات کی، غریبوں کےلیے سیاست کے دروازے کھولے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔ غریبوں کےلیے روٹی، کپڑا اورمکان کا نعرہ لگایا، لیکن وہ غریبوں کے حق میں انقلاب نہیں لا سکے یا اُنہیں لانے نہیں دیا گیا یا پھراُن کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن ہاں وہ غریبوں کو جگانے میں کامیاب ہوئے، اُنہوں نے لوگوں کو اور خاص کر غریبوں کو اُن کے حقوق کی پہچان کروائی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قائد اعظم کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کو سب سے زیادہ شہرت ملی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصول ہیں: “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں”(آج پیپلز پارٹی کے زیادہ ترجیالوں کو ان چار بنیادی اصولوں کا شاید پتہ بھی نہ ہو)۔
جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سےمحروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔

 

پیپلز پارٹی نے 1970ء کے انتخابات بائیں بازو کی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر لڑے جس میں ترقی پسند رہنما جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، مختار رانا، شیخ محمد رشید، حنیف رامے، خورشید حسن میر، رسول بخش تالپور، علی احمد تالپور، حیات محمد خان شیر پاوُ اور طارق عزیز شامل تھے۔ مذہبی عالم مولانا کوثر نیازی ، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمائندے غلام مصطفیٰ کھر اور غلام مصطفیٰ جتوئی بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ معراج محمد خان اور غلام مصطفیٰ کھر کو بھٹو نے اپنا جانشین بھی بنایا تھا۔ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کے کھمبے بھی جیت گئے تھے، دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد لاہور میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے ہاتھوں نظریاتی انتخابی معرکہ ہارگئے۔ جماعت اسلامی نے 1970ء کے انتخابات کو اسلام اورکفرکی جنگ قرار دیا تھا۔ پورے پنجاب میں مودودی ٹھاہ، نصراللہ ٹھاہ اور دولتانہ ٹھاہ کے نعر ے بھی گونجے تھے لیکن اُس کے بعدہونے والے کسی بھی عام انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب میں پوری کامیاب نہ ہوسکی۔ مختار رانا تو پیپلز پارٹی سے بہت جلدہی علیحدہ ہوگئےجب کہ جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔
1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے

 

بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو 1977ء کے انتخابات تک کافی بدل چکے تھے۔ رفتہ رفتہ اقتدار کی مصلحتوں کے تحت وہ پیپلز پارٹی کے اساسی نظریہ سے دور ہٹتے گئے۔ سوشلزم کو اسلامی سوشلزم میں بدل ڈالا اور پی این اے کے دباو میں آکر سیاسی مصلحت کے تحت مولانا مودودی کے گھر پہنچ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ فیصلہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی موت ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں نظریاتی کارکن بھٹو کی مصلحت پسند سیاست کا شکار ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول رہنما تھے اور پیپلز پارٹی ایک ملک گیرجماعت تھی اور سارے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ بنک بھی پیپلز پارٹی کا ہی تھا۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا اور پی این اے کے احتجاج کو بہانہ بناکر پانچ جولائی 1977ء کوجنرل ضیاءالحق حکومت پر قابض ہوگیا۔ جنرل ضیاءالحق نے جب یہ دیکھا کہ بھٹو کی مقبولیت اقتدارسے علیحدہ ہونے کے بعد بھی کم نہیں ہورہی تو اس نے غیر سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ بھٹو پر مالی بدعنوانی کا الزام لگایا مگر جب بھٹو کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد سے پوچھا گیا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو مالی خردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں لگا سکتا۔
آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔

 

چار اپریل 1979ء کو جنرل ضیاءالحق حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے دی جسے عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔ 1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” ، لیکن پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصول”اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ پاکستان کے عوام اس وقت بھی بھٹو کے سحر میں تھے لہٰذا بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں مگر اس سے پہلے بینظیر بھٹو بیگم زرداری بھی بن چکی تھی۔ وہ زرداری کے رنگ میں جلدہی رنگ گئیں اور صرف بیس ماہ بعد اُس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بے پناہ بدعنوانی کے باعث بینظیر بھٹو کی حکومت برخواست کر دی۔ نواز شریف اور غلام اسحاق کے اختلافات کے باعث 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آئیں۔ اس درمیان میں بینظیر بھٹو نےایک کام یہ بھی کیا کہ اپنے والد کے زمانے کے پرانے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو نکال باہر کیا۔ اُن کے شوہر آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات تو اُن کی پہلی حکومت کے دوران ہی لگنے شروع ہوگئے تھے اور آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی دیا گیا۔ پانچ نومبر 1996ء کو بینظیر بھٹو کے لائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کوکرپشن کی بنیادپر برطرف کردیا۔

 

نواز شریف کے دوسرے دور میں بینظیربھٹو ملک سے باہرچلی گئیں اورسابق صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں اٹھارہ اکتوبر 2007ء کو اپنی طویل جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچیں جہاں اُن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ کارساز حملے میں تو وہ بچ گئیں مگر اسی سال ستائیس دسمبرکو راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں اُنہیں قتل کر دیا گیا۔ اپنے قتل کیے جانے تک بینظیربھٹو یہ نعرہ مسلسل لگاتی رہیں “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے”۔ جس آصف زرداری کو بینظیربھٹو نے گھر تک محدود کردیا تھا بینظیر کی ہلاکت کے بعد وہ پیپلز پارٹی کا مالک بن بیٹھا۔ زرداری صاحب نے اپنے بیٹے بلاول زرداری کوبلاول بھٹو زرداری کا نیا نام دیا اور2008ء کے انتخابات میں ایک اور نئے نعرہ کا اضافہ کیا “تم کتنے بھٹو ماروگے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔ زرداری کو معلوم تھا کہ بھٹو کا نام لیے بغیر وہ سیاسی دکان نہیں چلاسکتے۔ بینظیر بھٹو کے بعدپارٹی کی قیادت آصف زرداری نے سنبھالی اور فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا تو جس طرح بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے قریبی لوگوں کی پیپلز پارٹی سےچھٹی کی تھی ٹھیک اُسی طرح آصف زرداری نے اُن لوگوں کی چھٹی کی جو بینظیربھٹوکے قریب تھے۔

 

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ (2008ء سے 2013ء) حکومت کے دور میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بد انتظامی، طویل لوڈشیڈنگ ، غربت کےساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ۔ مشرف دور کے اختتام 34 ارب ڈالر کے قرضے پانچ سال میں دگنے ہوگئے، 62 روپے کا ڈالر 100 روپے کاہوگیا، ملک کے تمام ادارے تباہ ہوگئے۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ، کراچی جو پاکستان کا معاشی مرکز ہے وہ لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن گیا۔ آصف زرداری، دو وزرائےاعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے مل کر کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑڈالے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ تمام تر برے حالات کے باوجود بھٹو کے نام کو بدنام کیا جاتا رہا۔ آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔ وہ لوگ بھی آصف زرداری کے بہت قریب رہے ہیں جو کل تک بینظیر بھٹوکوملکی سلامتی کے لیےخطرہ کہتے تھے۔ عام لوگ اب یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” یا ” ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”، جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ بینظیربھٹو کے قتل کے ساتھ ہی بھٹو بھی زندہ نہ رہا ۔

 

پیپلز پارٹی 2013ء کے انتخابات بری طرح ہار گئی ۔ یہ پارٹی کی نہیں اُس قیادت کی شکست تھی جس کا مطمع نظر صرف لوٹ مار رہا ہے۔ گیارہ اکتوبر 2015ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتیجے کے مطابق این اے 122 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عامر حسین نے صرف 819 ووٹ حاصل کیے جبکہ این اے 144 میں پیپلز پارٹی کے امیدوارچوہدری سجادالحسن نے صرف 3807 ووٹ حاصل کیے۔ کیانظریاتی سیات کا خاتمہ نہیں ہوگیا؟ جواب۔۔۔ہاں کہہ سکتے ہیں کہ نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی رہتی تھیں۔ ہر طرح کے لوگ سیاسی جماعتوں کے اندر موجود تھے۔مگر اب لوگ ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ صرف اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی وابستگیاں تبدیل کرلیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پانچ جولائی کے دن یوم سیاہ منانے والی پیپلز پارٹی پر بھی جنرل ضیاء الحق کی باقیات قابض ہیں۔ رحمان ملک، یوسف رضا گیلانی اور منظور وٹو آج پارٹی قیادت کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر وحشیانہ ظلم کرکے اور بھٹو کو پھانسی دےکربھی نہ تو پیپلز پارٹی کو ختم کرسکا اور نہ ہی بھٹو کو مارسکا لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلز پارٹی پربدعنوانی کےخود کش حملے کرکرکے پیپلز پارٹی اور بھٹو کو مار ڈالا۔ آصف زرداری قائدانہ صلاحیتوں کے مالک نہیں ہیں، اگر پیپلز پارٹی کو سیاست میں دوبارہ زندہ ہونا ہے اور بھٹو کو زندہ کرنا ہے تو اُسے موجودہ قیادت کو بدلنا ہوگا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا، ورنہ 11 اکتوبر 2015ء کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مایوس کن نتایج دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ قوم اب آصف زرداری کو الوداع کہتے ہوئے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے “الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع”۔
Categories
نقطۂ نظر

پیپلز پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو پر اُن کے مخالفین بہت سےالزامات لگاتے ہیں مگراُن کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد مرحوم سے کئی برس پہلے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا بھٹو صاحب مالی خوردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی بدعنوانی اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔ آصف زرداری کی پاکستانی سیاست میں آمد صرف اس وجہ سے ہوئی کہ اُن کی شادی بینظیربھٹو سے ہوئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایک گمنام انسان ہوتےاور شاید اپنے قریبی حلقے میں ہی پہچانے جاتے۔ بینظیر بھٹو 1988ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بنیں اور تھوڑے عرصےبعد ہی آصف زرداری “مسٹر ٹین پرسینٹ” کے طور پر سامنے آئے۔ بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتیں کرپشن کے الزامات کے تحت ختم کی گئی تھیں۔ صدر فاروق لغاری جنہیں خود بینظیر بھٹو ہی لےکر آئی تھیں انہیں شاہی جوڑے کی کرپشن کی وجہ سے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنی پڑی۔ شاہی جوڑے کی کرپشن کا یہ حال تھا کہ بینظیر بھٹو نے وزیراعظم ہوتے ہوے یہ بیان دیا تھا کہ َکک بیک اور کمیشن کو قانونی حیثیت دے دینی چاہیئے۔
ذوالفقارمرزا نےکراچی میں پیپلز امن کمیٹی بناکر کراچی خاص کر لیاری کو تباہ کردیا
بینظیربھٹو کی موت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008ء سے 2013ء کی مرکزی حکومتوں میں آصف زرداری، اُن کے دو وزرائےاعظم اور وفاقی اور صوبائی وزرا نے مل کر کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی کےتمام ریکارڈ توڑڈالے ۔ اربوں روپے کی کرپشن کر کے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں۔ انہوں نے تقریباً دس سال قید میں کاٹے اور 2004ء میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد اُنہیں رہا کردیا گیا- جیل میں انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جیل کے زمانے میں جن لوگوں سے ان کی دوستی ہوئی وہ آج بھی اُن کے ساتھ ہیں۔ بدنام زمانہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقارمرزا توزرداری کے بچپن کے دوست ہیں لیکن آج کل ذوالفقارمرزا زرداری کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ذوالفقارمرزا نےکراچی میں پیپلز امن کمیٹی بناکر کراچی خاص کر لیاری کو تباہ کردیا۔ تجزیہ نگارروف کلاسرا نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ “ایک دن ذوالفقار مرزا کے منہ سے سنا کہ اگر سابق وزیرپٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کر کے رگڑا لگایا جائے تو وہ اربوں روپے اگل دے گا”۔ کچھ دن بعد مرزا نے ایک اور انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کا نام ایک سکینڈل میں تھا جس کا ریفرنس نیب کے پاس تھا، تاہم الزام لگا کہ موجودہ چیئرمین نے خاموشی سے اُن کا نام اس سکینڈل اور ریفرنس سے نکال دیا تھا۔ پتہ چلا کہ ایف ٹین کے فلیٹس میں دونوں کے ایک مشترکہ دوست کے توسط سے ہونےوالی ملاقاتیں رنگ لائی تھیں۔
پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت تو 2013ء میں ختم ہوگئی لیکن سندھ میں اس کی صوبائی حکومت ابھی تک برقرار ہے اور اُس کے ساتھ ہی صوبے میں بدعنوانی بھی عروج پر ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین جو سابق صدر آصف زرداری کے 1990ء سے بہت قریبی دوست ہیں، وہ تعلیم اور پیشے کے لحاظ سے ایک طبیب ہیں لیکن زرداری کی دوستی کی وجہ سےاُنہیں 2008ء میں چیئرمین نیشنل ری کنسٹریشن بیورو تعینات کیا گیا۔ 2009ء میں وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے لیکن سپریم کورٹ کے دُہری شہریت کے بارے میں فیصلے کے بعد انہیں 2012ء میں مستعفی ہونا پڑا۔مستعفی ہونے سے قبل وہ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر بھی رہے۔ اس عرصے میں وہ سی این جی اسٹیشنوں کے غیر قانونی پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ دیگر بدعنوانیوں میں شامل رہے۔ ان کے مخالفین اُن کے کردار پرتنقید کرتے رہے ہیں۔وہ آج کل سندھ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کے عہدے پر تعینات ہیں۔
کہ گیس کے ہر کنکشن کے لیے چھ ہزار روپے سرکاری فیس کی بجائے ایجنٹوں کے ذریعے پندرہ ہزار روپے وصول کیے جاتے تھےجس کا آدھا حصہ شعیب وارثی کو پہنچایا جاتا تھا
چھبیس مئی کو ڈاکٹر عاصم حسین اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی شعیب وارثی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین پر ایل این جی اور ایل پی جی کے معاملات میں کرپشن اور سی این جی سٹیشنز کے سینکڑوں غیر قانونی لائسنس جاری کرنے کے الزامات ہیں۔ جب کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر شعیب وارثی پر ڈاکٹر عاصم حسین کے لیے غیر قانونی کام کرنے اور گیس کنکشنوں کے اجراء میں کروڑوں روپے کمانے کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گیس کے ہر کنکشن کے لیے چھ ہزار روپے سرکاری فیس کی بجائے ایجنٹوں کے ذریعے پندرہ ہزار روپے وصول کیے جاتے تھےجس کا آدھا حصہ شعیب وارثی کو پہنچایا جاتا تھا۔ ڈاکٹر عاصم پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی دوسری اہم شخصیت ہیں جنہیں حالیہ ماہ حراست میں لیا گیا ہے۔اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے آٹھ اگست کو لاہور میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق اولمپیئن قاسم ضیاء کو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
کراچی میں انسداد بدعنوانی کی وفاقی عدالت کے جج نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم سمیت دس افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان ملزمان کی بدعنوانی کی وجہ سے قومی خزانے کو ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ مقدمات سے پہلے بھی یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بدعنوانی کے 12 مقدمات دائر ہیں جن میں وہ ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایک بے انتہا بدعنوان وزیراعظم رہے ہیں۔
یوسف رضا گیلانی جب جیل میں تھے تو انہوں نے گھڑی فروخت کرکے اپنے بچوں کی فیسیں ادا کی تھیں مگر پیپلز پارٹی کے دور میں وہ اور اُن کے بچے کروڑوں پاونڈزکی شاپنگ دنیا کے مہنگے ترین سٹور ہارُڈز(Harrods) سے کرتے تھے اور ایک ایک رات میں مبینہ طور پر لاکھوں روپے کسینو میں خرچ کر دیتے تھے۔ امین فہیم جو ٹیکس تو چھوڑیں بجلی کا بل بھی نہیں دیتے جب وہ وزیر تھے تو اُنہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ اُن کے بینک اکاونٹس میں 10 کروڑ روپے کیسے آگئے۔ وہ اس بات سے بھی بے خبر رہے کہ اُن کی بیٹی مقابلے کا امتحان دیئے بغیر کیسے برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے سکینڈ سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہو گئیں۔ پیپلزپارٹی کے ایک اورسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے 18 ویں گریڈ میں انکم ٹیکس محکمے میں تعینات داماد کو پہلے ای او بی میں 20ویں گریڈ پر ترقی دی اور پھر 21ویں گریڈ میں اپنے پاس وزیراعظم سیکرٹیریٹ میں جائنٹ سیکرٹری بنا دیا۔
یوسف رضا گیلانی جب جیل میں تھے تو انہوں نے گھڑی فروخت کرکے اپنے بچوں کی فیسیں ادا کی تھیں مگر پیپلز پارٹی کے دور میں وہ اور اُن کے بچے کروڑوں پاونڈزکی شاپنگ دنیا کے مہنگے ترین سٹور ہارُڈز سے کرتے تھے
گیارہ جون کو اپیکس کمیٹی میں ڈی جی رینجرز نے ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق سالانہ 230 ارب روپے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی میں کھلبلی مچ گئی۔ اس رپورٹ میں آصف زرداری اور اُن کی پیپلز پارٹی کا کردار واضح نہیں کیا گیا تھا لیکن چور کی ڈاڑھی میں تنکا کے مصداق وہ فوج پر برس پڑے اوراپنی استطاعت سے بڑھ کر دعوے کرڈالے۔ آصف زرداری نے کہا کہ سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے ہڑتال کی تو خیبر سے لے کر کراچی تک جام ہو جائے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔پیپلز پارٹی کے مقابلے میں قائم ہونے والے لاڑکانہ عوامی اتحاد کی جانب سے پیر 24 اگست کو لاڑکانہ میں بہت بڑی ریلی اور جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما ممتاز بھٹو نے کہا کہ زرداری پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے آج پورا سندھ جل رہا ہے۔ عوامی اتحاد کے کنوینر اور سابق رکن سندھ اسمبلی حاجی منور علی عباسی نے کہا کہ لاڑکانہ کے عوام نے کرپشن اور بدعنوانیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مسترد کر دیا ہے اور آئندہ انتخابات میں عوامی اتحاد زرداری پارٹی کو بری طرح شکست سے دوچار کر ے گا۔ عوام نے پرجوش انداز میں گو زرداری گو کے نعرے لگائے۔
سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت سے ریمانڈ لئے جانے کے بعد آصف زرداری نے پارٹی قائدین سے ٹیلیفون رابطے کیے ہیں اور پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھرپوراحتجاج اورٹھوس حکمت عملی اپنانےکی ہدایات دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے،کیا کرپشن صرف کراچی میں ہورہی ہے،ڈاکٹر عاصم کا قصور پیپلزپارٹی سے تعلق ہے،جس کی اُنہیں سزا دی جا رہی ہے،جیلیں اور ہتھکڑیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں۔قائد حزب اختلاف خورشید شاہ جو پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر بھی رہے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اگر آصف علی زرداری پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو یہ جنگ کی ابتداء کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری قابل مذمت ہے،اداروں کے اندراداروں کی مداخلت کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ خورشید شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اولمپیئن ہیروقاسم ضیاء کو جھوٹے مقدمے میں پکڑا اورہتھکڑی لگاکرپیش کیا گیا،جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے ہم کسی کو مجرم نہیں کہہ سکتے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ڈی جی رینجرز اُن کے ماتحت ہیں، انہیں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کا بتاناچاہیئے تھا، اس معاملے پر کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ثبوت ہیں۔
سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت سے ریمانڈ لئے جانے کے بعد آصف زرداری نے پارٹی قائدین سے ٹیلیفون رابطے کیے ہیں اور پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھرپوراحتجاج اورٹھوس حکمت عملی اپنانےکی ہدایات دی ہیں
بدعنوان عناصرکا تعلق کسی بھی جماعت سے ہووہ ملزم ہوتے ہیں، اُن کی تفریق نہ تو علاقے کی بنیاد پر اور نہ ہی جماعت کی بنیاد پر کرنی چاہیئے۔ کراچی آپریشن میں گرفتارہونے والے دہشت گرد، ٹارگیٹ کلریا بھتہ خوروں کے بارے میں یہ کہنا کہ فلاں فلاں جماعت سے ہے غلط ہے، ڈاکٹر عاصم حسین اور شعیب وارثی دونوں کو جرم کی بنیاد پر گرفتار کیا گیاہے اور دونوں کا تعلق کراچی سے ہے۔ یہ معاملہ کسی جماعت یا کسی رہنما کے خلاف کارروائی کا نہیں بلکہ ان بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کا ہے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث رہے ہیں۔ شعیب وارثی کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء کو کراچی سے نہیں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ویسے یہ بات سب مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے اور اس کے گرو آصف علی زرداری ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں اور جمہوری حکومتیں اپنے اندرموجود بدعنوان عناصر کے خلاف آئینی اداروں کے ذریعے کارروائی کو تیار نہیں توپھرانہیں عوام کو جواب دینا ہوگا کہ آخراس کرپشن کے خلاف اقدامات کون کرے گا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کا موقف درست ہے کہ سیاسی رہنماوں اور حکومتی عہدیداروں کی گرفتاری آئینی طور پر مجاز اداروں کو کرنی چاہئیں لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ اگر ادارے ایسا نہ کر سکیں تو اس صورت میں کیا کیا جانا چاہیئے؟
Categories
نقطۂ نظر

بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد سے آج تک کبھی نواز شریف، کبھی پرویز مشرف تو کبھی ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ سبھی آصف علی زرداری پر الزامات کی اس تواتر سے بوچھاڑ کرتے رہے ہیں کہ ان کے بارے میں سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنا بے حد دشوار ہے۔ آصف علی زرداری صاحب کی ذات اور محترمہ کی زندگی میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات سے قطع نظر پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کے لیے لیے اس وقت یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی جماعت کہلانے والی جماعت آج ایک صوبے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صورت حال کا ذمہ دار عموماً آصف علی زرداری کو قرا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے نہ تو کوئی کارکن خوش ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں۔ کراچی سے پیپلزپارٹی کا وجود مٹ چکا ہے اور کوئی نوجوان اس جماعت میں شمولیت یا اس کی حمایت کو تیار نہیں، آج کا نوجوان بھٹو یا بی بی کی شہادت یا ان کی غریب پرور سیاست سے واقف نہیں، آج کے ووٹر کے لیے پیپلز پارٹی کا تعارف آصف علی زرداری کی پانچ سالہ حکومت ہے اور اس دور میں روا رکھے جانے والی مالی بدعنوانیاں اور بدترین حکومتی کارکردگی ہے۔ یقیناً آصف علی زرداری اور ان کے قریبی رفقاء نے پیپلز پارٹی کو مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے اور ان کا اور ان کے کرپٹ ساتھیوں کا احتساب ضروری ہے۔
پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں
گزشتہ دنوں فوجی قیادت کے خلاف آصف علی زرداری کی پریس کے بعد سے شروع ہونے والے سیاسی بحران کے بعد سے پاکستان کے جمہوری نظام کا مستقبل ایک بار پھر خدشات کا شکار ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے تیور یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کا بیان پیپلز پارٹی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے جو مسلم لیگ نواز سے مصالحت کے خاتمے اور حزب اختلاف کے طور پر مزاحمت اور احتجاج کی سیاست ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پیپلز پارٹی ایک بار پھر ماضی کی طرح ایک فعال، متحرک اور مقبول جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے اور کیا تحریک انصاف کی جانب مائل نوجوانو ں کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے یا نہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت بری طرح کم ہوئی ہے اور اس اک ووٹ بنک تقسیم ہو چکا ہے۔ اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو بڑھانے اور اگلے انتخابات جیتنے کے قابل ہونے کے لیے پیپلز پارٹی کو ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔
زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے
نوجوان بلاول بھٹو زرداری وہ ترپ کا پتہ ہیں جو پیپلز پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔ بہت جلد پاکستان میں سیاست دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کو ہے جس میں سے ایک دھڑا عسکری قیادت کی پشت پناہی اور حمایت کا خواہاں نظر آتا ہے تو دوسری جانب ایک کم زور دھڑا ان سیاسی جماعتوں پر مشتمل بنتا نظر آتا ہے جو عسکری مداخلت کے مخالف ہیں۔ ایک جانب مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ہیں جو کسی بھی صورت میں عسکری قیادت کو ناراض کرنے کے قائل نہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی، ایم کیوا یم اور اے این پی کا سابقہ اتحاد اکٹھا ہوتا نظر آرہا ہے جو عسکری قیادت کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج کرے گا۔
پیپلز پارٹی یقیناً آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نواز حکومت کو دباو میں لا کر فوج اور پیپلز پارٹی میں سے پیپلز پارٹی کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا یہ چال کامیاب بھی ہوگی ؟ اس کا دارومدار مکمل طور پر بلاول بھٹو کے طرز سیاست پر ہے۔ اگر چہ اس وقت عمران خان کی pro-establishment سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے اور وہی وقت پیپلز پارٹی کی تشکیل نو کا وقت ہو گا۔
اس وقت عمران خان کی (pro-establishment) سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے
بلاول کے سامنے ایک ایسی جماعت ہے جو عملاً مفلوج ہو چکی ہے اور جس کی مقبولیت اور سندھ حکومت اس وقت داو پر ہے لیکن بلاول بھٹو کے پاس وہ میراث ہے جو اسے طالع آزما جرنیلوں، ملاوں اور دائیں بازو کے سرمایہ دار دوست سیاستدانوں کو للکارنے للکارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بلاول کو اپنی جماعت کی تشکیل نو کرنا ہو گی، نئے سرے سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور خؤد کو اس بدعنوان ٹولے سے علیحدہ کرنا ہوگا جس نے پیپلز پارٹی کو گزشتہ ایک دہائی سے نرغے میں لے رکھا ہے۔ بلاول کو اپنے والد سے مختلف سیاست اور اپنے والد سے منفرد طرز حکومت کی داغ بیل ڈالنی ہو گی اور پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شریف برادران کے لیے حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالول کو ایک ایسی چومکھی لڑنی ہے جس میں پیپلز پارٹی ہی نہیں پاکستان کا جمہوری اور امن پسند مستقبل بھی داو پر لگا ہوا ہے۔ یہ اس آئین کی بقاء کی جنگ ہے جسے ضیاء الحق اور اس کی باقیات نے بگاڑاہے۔ یہ ایک ڈھکے چھپے مارشل لاء کے چہرے کا جمہوری نقاب اتارنے کی جنگ ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اس وقت صرف پیپلز پارٹی کے پاس یہ طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو یاددلائے کے حکومت اور پالیسی سازی چند جرنیلوں کا کام نہیں بلکہ عوام کا استحقاق ہے۔ پیپلز پارٹی اگر بلاول کی سربراہی میں اپنا وجود قائم رکھ سکی تو وہ وقت دور نہیں جب جرنیلوں کے سیاہ اعمال نامے ذرائع ابلاغ پر بریکنگ نیوز بن کر چلیں گے اور لوگوں کو احساس ہو گا کہ اس ملک میں کرپشن ، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی سب سے زیادہ سرپرستی فوجیوں نے ہی کی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

گندا ہے پر دھندہ ہے

Nara-e-Mastana

کال کس نے کی؟ زرداری صاحب نے یا کپتان نے؟ جس نے بھی کی، سیاست میں میل ملاقات اور روابط کی گنجائش بہر حال باقی رہتی ہے، پس منظر البتہ بیان کیے دیتے ہیں، رحمان ملک اور پرویز خٹک کے آپسی تعلقات دیرینہ ہیں، سینیٹ انتخابات کے ہنگام میں دونوں رہنماوں کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ملک صاحب کی تجویز تھی کہ پی پی خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حمایت کر سکتی ہے اگر بدلے میں پی ٹی آئی، چیئرمین سینیٹ کے لیے ہماری حمایت کرے۔ ملک صاحب نے کہا کہ اگر مولانا یا دیگر عناصر آپ کے کچھ ووٹ توڑ بھی لیتے ہیں تو ہم اپنے پانچ ووٹ آپ کو دے سکتے ہیں۔ طے ہوا کہ تجویز معقول ہے لہذا اسے دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت تک پہنچایا جائے، ملک صاحب نے بلاول ہاوس کا رخ کیا تو خٹک صاحب بنی گالہ جا پہنچے۔ اپنے اپنے پنڈتوں کے پاس پہنچنے پر خٹک صاحب نے ملک صاحب کو فون کیا، معلوم ہوا کہ زرداری صاحب کسی وفد سے ملاقات میں مصروف ہیں، جیسے ہی زرداری صاحب فارغ ہوئے ملک صاحب نے فوراً پرویز خٹک کو فون کیا،جنہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فون کپتان کو تھما دیااور یوں زرداری صاحب اور خان صاحب کی مشہور زمانہ ٹیلی فونک گفتگو کا چرچا سننے کو ملا۔
غالب امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ن لیگ اور پی پی میں سے کسی کی حمایت نہیں کرے گی تاہم پارٹی پوزیشنز کے مطابق تحریک انصاف اور مولانا ، فضل الرحمن دونوں کے ووٹ چیئر مین سینیٹ کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
گفتگو کے دوران عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے پر زور دیا اور ملک صاحب کی تجویز پرکہا کہ وہ اپنی جماعت سے مشورہ کر کے آئندہ لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ کپتان اور ان کی جماعت دھرنوں کے دوران حتی کہ انتخابات سے پہلے بھی ن لیگ اور پی پی کے بارے انتہائی سخت موقف اپنا چکے ہیں لہذا کچھ ایم پی ایز نے کہا کہ صاحب ایسا نہیں ہو سکتا، اب کیسے ہم اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹ جائیں، یہی وجہ ہے کہ کپتان سینیٹ انتخاب میں غیر جانبداررہنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ن لیگ اور پی پی میں سے کسی کی حمایت نہیں کرے گی تاہم پارٹی پوزیشنز کے مطابق تحریک انصاف اور مولانا ، فضل الرحمن دونوں کے ووٹ چیئر مین سینیٹ کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کو تو شاید اپنے ‘اصولی موقف’ پر ہی قائم رہنا پڑے لیکن یہ مولانا ہیں جو وقت کی نزاکت ہمیشہ بھانپ لیتے ہیں ۔
مولانا کی سیاست کے رنگ نرالے، وفاق میں حکومت کےساتھ اور صوبوں میں سینیٹ انتخابات کے ہنگام میں ادھر ادھر گٹھ جوڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیا کیجیے آخر قبلہ تہتر کے آئین کے تناظر میں دور کی سوچ رکھتے ہیں۔ ایسی سوچ جسے سمجھنے کے لیے عام سیاستدان کو شاید سات جنم درکار ہیں، فی الحال تو حضرت کے پی کے میں تحریک انصاف کے درپے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف اکثریتی جماعت ہونے کےباوجودسات عمومی نشستوں پر کم سے کم سینیٹرز منتخب کروا سکے۔اگرچہ خیبرپختونخواہ میں عمومی نشست پر ایک سینیٹر کو منتخب ہونے کے لیے سترہ ووٹ درکار ہوتے ہیں اورمولاناکی اپنی جیب میں محض سولہ نشستیں ہیں لیکن حضرت ایک سینیٹر کی بجائے خواب دو کا دیکھ رہے ہیں۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سینیٹ میں چار اقلیتی نشستوں کا اضافہ کیا گیا، لہذا اب پاکستانی سینیٹ کے اراکین کی مجموعی تعداد ایک سو چار ہے، اراکین سینیٹ چھے سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں جن میں سے نصف ہر تین سال بعداپنے عہدے سے سبکدوش ہو جاتے ہیں ۔ چاروں صوبائی اسمبلیاں مجموعی طور پر تئیس تئیس نشستوں کے لیے سینیٹرز کا انتخاب کرتی ہیں، جن میں چودہ عمومی، چار علما اور ٹیکنوکریٹس، چار خواتین اور ایک اقلیتی نشست پر انتخاب لڑا جاتا ہے۔ چونکہ سینیٹ کا انتخاب ہر تین سال بعد ہوتا ہے لہذا صوبے ہر انتخاب میں گیارہ یا بارہ نشستوں کے لیے سینیٹرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ مارچ 2015میں باون نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے ہر صوبے نے پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں سات عمومی نشستوں کے علاوہ دو دو ٹیکنوکریٹس اور دو دو خواتین سینیٹرز کا بھی انتخاب کرنا ہے ۔ ہر صوبائی اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد کو ہر صوبے کے لیے مختص عمومی یا مخصوص نشستوں کی تعداد پر تقسیم کر کےایک سینیٹر کے انتخاب کے لیے درکار ووٹوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ اراکین صوبائی اسمبلی ترجیحی اعتبار سے نامزد سینیٹرز کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت عمومی نشست کے لیے نامز د سینیٹر زکو پنجاب میں سینتالیس ، سندھ اسمبلی میں چوبیس ، خیبر پختونخواہ میں سترہ اور بلوچستان میں نو ووٹ درکار ہوں گے ۔اسلام آباد کے لیے مختص سینیٹ کی دو نشستوں کا انتخاب قومی اسمبلی اکثریتی بنیاد پر کرے گی، فاٹا کے بارہ اراکین قومی اسمبلی چار سینیٹرز کے لیے ووٹ دیں گے، جبکہ دو اقلیتی نشستیں ہر صوبے کی اکثریتی پارٹی کے حصے میں جائیں گی۔
مارچ 2015میں باون نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے ہر صوبے نے پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں سات عمومی نشستوں کے علاوہ دو دو ٹیکنوکریٹس اور دو دو خواتین سینیٹرز کا بھی انتخاب کرنا ہے۔
سندھ اور پنجاب میں تو معاملات کافی حد تک طے ہیں کیونکہ یہاںحکمران جماعتوں کو اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں کسی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اصل معاملہ کے پی کے اور بلوچستان میں درپیش ہےجہاں پانچ پانچ صوبائی نشستوں کی حامل جماعتوں نے بھی دو دو امیدوار نامزد کر رکھے ہیں یہی وجہ ہےکہ سیاسی جماعتوں کے کرتا دھرتا تمام تر توجہ ان دو صوبوں پر ہی مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ صاحب مطلوبہ ووٹ بظاہر تو آپ کے پاس ہیں نہیں تو پھر یہ چلن کاہے کو؟؟ ظاہر ہے جوڑ توڑ اور ہارس ٹریڈنگ اسی مرض کی دو اہیں۔ اب رہ گئی بات چیئرمین سینیٹ کی تو یقین جانیں اصل مسئلہ یہی ہے، پی پی پی وفاق اور صوبوں میں کم ووٹ رکھنے کے باوجود سینیٹ میں مضبوط پوزیشن کی حامل ہے، ان انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس سینیٹ میں چھبیس یا ستائیس ووٹ ہوں گے، ن لیگ پنجاب میں تمام نشستیں حاصل کر لے گی اور انہیں بھی تقریباً اتنے ہی سینیٹرز کی حمایت حاصل ہوگی، ایم کیو ایم، اے این پی، قومی وطن پارٹی، ق لیگ اور بی این پی عوامی کے ہندسے جمع کریں تو پی پی کے پاس انچاس یا پچاس ووٹ اکٹھے ہوں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ ایسی ہی صورتحال ن لیگ کے کیمپ میں ہے، ن لیگ کو فنکشنل لیگ ، نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور فاٹا کے اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ بظاہر مولانا کے پاس سینیٹ میں پانچ نشستیں ہوں گی، کپتان بھی کے پی کے سے اتنی ہی نشستیں جیت پائیں گےیہی وجہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کس جماعت سے ہوگا اس کا فیصلہ کپتان یا مولانا ہی کر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی سینیٹ میں ایک نشست ہی پکی کر سکے گی اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کا ووٹ ن لیگ کے امیدوار کے لیے ہو گا۔ دیکھتے ہیں کہ سیاسی پنڈت سینیٹ انتخابات اور بالخصوص چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنے اپنے مہرے کس مہارت سے آگے چلاتے ہیں۔ باقی جماعتوں کو کیا نفع نقصان ہو گا یہ تو سامنے کی بات ہے، لیکن ان سب میں صرف ایک مولانا ہی ہیں جو ہر حال میں فائدے مند ہی رہیں گے۔یعنی؛

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاوں، ہاروں تو پیا تیری

Categories
نقطۂ نظر

ہمیں پیپلز پارٹی کی ضرورت کیوں ہے؟

محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پیپلزپارٹی کے شہیدوں کی فہرست میں محض ایک نام کا اضافہ نہیں ہے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل ہی کی طرح تاریخ میں ایک ایسی یاددہانی کا اضافہ ہے جو ہمیں شدت پسندی اور آمریت کے خلاف جنگ کے لیے جذبہ اور دانش دونوں فراہم کر نے کی اہلیت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابق چئیر پرسن کی قربانی ہمارے سیاسی شعور کا ایک ایسا حصہ ہے کہ ہم جب بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نکلیں گے ہمیں بینظیر کی شہادت سے ہی آغاز کرنا ہوگا۔ ایک معزول جج کی بحالی، ایک آمر کی مخالفت اور اپنے سیاسی حریف سے جمہوری میثاق یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ پیپلز پارٹی ہی وہ وہ واحد جماعت ہے جو اس ملک میں جمہوری قدروں اور پارلیمانی بالادستی کی مشعل جلائے رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے مذہب اور سیاست کی یکجائی کی، ایک منتخب حکومت کو آمریت میں بدلنے والے غیر جمہوری رویوں کی بنیاد رکھی اور بعدازاں موروثی سیاست کا چلن عام کیا۔
پیپلز پارٹی کی خامیاں اور خوبیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں سبھی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی بلوغت کے حصول کے لیے مکتب کا درجہ رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جو رحجانات متعارف کرائے ہیں وہ ہماری سیاسی سمت درست کرنے اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے عوامی سیاست کا چلن شروع کیا ، عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا،مزدور اور کسان کی بات کی،روایتی محلاتی سیاست کو للکارتے ہوئے نئی قیادت فراہم کی۔ اور پھر یہ پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے مذہب اور سیاست کی یکجائی کی، ایک منتخب حکومت کو آمریت میں بدلنے والے غیر جمہوری رویوں کی بنیاد رکھی اور بعدازاں موروثی سیاست کا چلن عام کیا۔
بھٹو صاحب نے جس عوامی سیاست کی بنیاد رکھی تھی اور بعدازاں اپنی ہے سیاسی جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے طاقت کے غلط استعمال کے باعث خود کو غیر مقبول کیا تھاتمام جمہوری حکومتوں اور جماعتوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا تجزیہ ہے۔اسی طرح بینظیر بھٹو کی سیاسی زندگی آمریت اور مذہبی انتہا پسندی کی مخالفت سے عبارت ہے۔ بینظیر اور نواز شریف کے درمیان ہونے والا میثاق جمہوریت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین پاکستان کے بعد کی اہم ترین دستاویز ہے ۔حالیہ سیاسی بحران کے دوران پیپلز پارٹی کا جمہوری رویہ یقیناً بینظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت کا ہی تسلسل ہے جس کے باعث اگست میں غیر جمہوری قوتوں کا جمہوری تسلسل کو ختم کرنے کا منصوبہ ناکام ہواہے۔
پیپلز پارٹی جو بینظیر کے زمانے میں پورے پاکستان کی نمائندگی کرنے والی واحد جماعت تھی اب صرف اندرون سند کے جاگیرداروں کی جماعت بن کر رہ چکی ہے۔
گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت اور حالیہ سیاسی بحران کے دوران پیپلز پارٹی کے کم زور ہونے کے باعث بہت سے سیاسی تجزیہ نگار پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں پیپلز پارٹی کا زیادہ تر ووٹ بنک پاکستان تحریک انصاف کی طرف مائل ہو چکا ہے اور اگلے انتخابات میں حقیقی مقابلہ مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے درمیان ہو گا۔ بعض مبصرین کے خیال میں تو پنجاب سے پیپلز پارٹی کاخاتمہ وہ چکا ہے اور اب پیپلز پارٹی کی مفاہمتی سیاست میں عوام کے لیے کوئی کشش باقی نہیں رہی۔ اگرچہ ناقدین کے اعتراضات میں وزن ہے اور پیپلز پارٹی جو بینظیر کے زمانے میں پورے پاکستان کی نمائندگی کرنے والی واحد جماعت تھی اب صرف اندرون سندھی کے جاگیرداروں کی جماعت بن کر رہ چکی ہے۔
پیپلز پارٹی کے حوالے سے یہ تیسرا موقع ہے جب یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور بطور ایک جماعت پیپلز پارٹی اب ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ضیاءالحق آمریت، ستانوے کے انتخابات اور اب 2013 کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے خاتمے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس تاثر میں اس لیے بھی اضافہ ہوا ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کو ایک بار آمریت اور دوسری بار دائیں بازو کے قدامت پرست سیاسی اتحاد سے خطرہ تھا لیکن اس بار پیپلز پارٹی کونوجوانوں میں مقبول ترین جماعت تحریک انصاف سے خطرہ ہے لیکن یہ تجزیہ یقیناً قبل ازوقت ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی کا کارکن اور نچلے درجے کے سیاسی رہنما موجودہ زرداری قیادت سے ناخوش ہے اور بیشتر حمایتی خصوصاً پنجاب میں اپنی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ پانچ سالہ وفاقی حکومت اور دس سالہ صوبائی حکومت کے دوران پیپلز پارٹی کی گورننس کا ریکارڈ بے حد برا ہے جس کی وجہ سے اس جماعت کے غریبوں کی جماعت ہونے کے تاثر کو دھچکا پہنچا ہے، یہ اعتراض بھی بجا ہے کہ یہ پارٹی موروثیت اور روایتی سیاست کا گڑھ بن چکی ہے لیکن اس سب کے باوجود راقم کے نزدیک پیپلز پارٹی ہی مستقبل کی واحد متبادل جماعت قرار پائے گی۔
لیکن اس مرتبہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ ایک قومی جماعت بننے کے لیے جماعت کے اندر جمہوری قدروں کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان کے معاشی اور سیاسی مسائل کے لیے ایک واضح منشور دینا ہو گا اور نئی قیادت کو سامنا لانا ہوگا
یہ جماعت اس سے قبل بھی دو مرتبہ تشکیل اور تشکیلِ نو کے عمل سے گزر چکی ہے اور اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس جماعت کی بنیاد رکھتے ہوئے بائیں بازو کی نوجوان اور دانشور قیادت فراہم کی تھی، اسی طرح بینظیر بھٹو نے اپنی جماعت کی تشکیل نو کی اور اسے تین بار انتخابات جیتنے کے قابل بنایا تھا۔ اس وقت بلاول بھٹو کے پاس وقت بھی ہے اور موقع بھی کے وہ پیپلز پارٹی کو اپنی والدہ اور نانا کی طرح تشکیل نو کے عمل سے گزار کر ایک نئی قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ ایک قومی جماعت بننے کے لیے جماعت کے اندر جمہوری قدروں کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان کے معاشی اور سیاسی مسائل کے لیے ایک واضح منشور دینا ہو گا اور نئی قیادت کو سامنا لانا ہوگا اب محض بھٹوازم اور شہیدوں کے نام پر ووٹ نہیں حاصل کیے جا سکتے ۔
پاکستان کو درپیش شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خطرے کے پیش نظر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک کے تمام لبرل، سیکولر اور ترقی پسند فکر کے حامل افراد نواز شریف اور عمران خان جیسے طالبان پسند سیاستدانوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کا انتخاب کریں گے۔یہ وہ واحد جماعت ہے جہاں پارٹی کا ہر کارکن اور رہنما اپنی قیادت کے فیصلوں پر کھلے بندوں تنقید کرتا ہے اور اختلاف کرنے کے باوجود پارٹی کی جانب سے انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنتا۔ اس جماعت کے جیالے بارہااس جماعت کو اس کی غلطیوں کی وجہ سے انتخابات میں مسترد کرچکے ہیں اور بارہا یہ جماعت اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنا ووٹ بنک واپس جیت چکی ہ کیوں کہ یہ جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک نظریہ اور ایک وراثت بھی ہے۔ پیپلز پارٹی قوم پرستوں ، ترقی پسندوں، جمہوریت پسندوں اور شدت پسندی کے مخالفوں کے لیے اس وقت واحد انتخاب اور متبادل ہے کیوں کہ یہ جماعت شدت پسندی اور آمریت کی مخالفت کرنے والوں کے حق میں اٹھنے والی بلند ترین آواز ہے۔