Categories
نقطۂ نظر

اور تبدیلی نہیں آئی

خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات میں جس طرح تحریک انصاف حکومت کی جانب سے بدانتظامی اور سرکاری مشینری کا استعمال دیکھنے میں آیا ہے وہ 2013 کے عام انتخابات کی نسبت انتخابی بے قاعدگیوں کا کہیں بڑا مظاہرہ ہے اور موجودہ تحریک انصاف حکومت کی انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت بھی۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب سے جس مثالی بلدیاتی نظام کے دعوے کیے جارہے تھے اس کی بنیاد 11 لاشوں اور 90 سے زائد زخمیوں کے خون سے رکھی گئی ہے۔ اس دوران کپتان سیاسی دباو سے آزادجس پولیس کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں وہ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور حکمران تحریک انصاف کے امیدواران کے لیے ووٹ مانگنے میں مصروف رہی۔
انتخابی عمل کے دوران کھلم کھلا اسلحے کی نمائش، خواتین کو ووٹ ڈالنے سے محروم کرنے، جعلی بیلٹ پیپرز، دھونس دھاندلی اور دباو سے ووٹ ڈلوانے اور مخالف جماعتوں کے امیدواروں اور ووٹروں کو ہراساں کرنے کے واقعات جس تواتر سے سامنے آئے ہیں وہ یقیناً تحریک انصاف حکومت کے نئے خیبرپختونخواہ کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ اس ضمن میں فافین کی جاری کردہ رپورٹ ایک چارج شیٹ ہے اور عمران خان صاحب کی جانب سے 2013 کے انتخابات کے دوران منظم دھاندلی کے الزامات کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے کافی ہے۔ اگر باقی سیاسی جماعتیں اس وقت خیبر پختونخؤاہ کے بلدیاتی انتخابات کے دوران تحریک انصاف پر دھاندلی اور منظم انداز میں دیگر جماعتوں کا مینڈیٹ چرانے کا الزام عائد کریں تو ان کے دعووں میں تحریک انصاف کے 2013 کے انتخابات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی نسبت کہیں زیادہ صداقت ہو گی۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب سے جس مثالی بلدیاتی نظام کے دعوے کیے جارہے تھے اس کی بنیاد 11 لاشوں اور 90 سے زائد زخمیوں کے خون سے رکھی گئی ہے۔ اس دوران کپتان سیاسی دباو سے آزادجس پولیس کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں وہ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور حکمران تحریک انصاف کے امیدواران کے لیے ووٹ مانگنے میں مصروف رہی
تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کی جانب سے اپنی صوبائی حکومت کی نااہلی کے اعتراف کی بجائے بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کا ملبہ بالکل الیکشن کمیشن پراسی طرح ڈالا گیا ہے جیسے 2013 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے منظم دھاندلی کا شور مچایا گیا تھا۔ خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی انتخابات کے دوران ہونے والی بے قاعدگیوں اورحکم ران جماعت کی جانب سے سیاسی مشینری کے استعمال کے باوجود دیگر جماعتوں کی جانب سے نتائج تسلیم کر لیا جانا تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کے لیے شرمندگی کا مقام ہے جو محض الزامات اور سازشی مفروضوں کی بنیاد پر ایک منتخب حکومت کو غیر جمہوری طریقوں سے گرانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
درحقیقت تحریک انصاف خیبرپختونخواہ میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور پنجاب میں اپنے ووٹ بینک کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی سیاست کے طورطریق اپنا چکی ہے اور وہی سب کچھ کررہی ہے جو باقی سیاسی جماعتیں کررہی ہیں۔ تحریک انصاف کے حالیہ اقدامات سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ یہ جماعت بھی پاکستان کی دیگر جماعتوں کی طرح کھوکھلے نعروں، غیر حقیقی وعدوں، دھوکہ دہی اور منافقت کا گڑھ بنتی جارہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے پاس صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، سیاسی مشینری کو استعمال نہ کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کا بہترین موقع تھا جسے اس جماعت نے گنوا دیا ہے۔
تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کی جانب سے اپنی صوبائی حکومت کی نااہلی کے اعتراف کی بجائے بلدیاتی انتخابات میں بدنظمی کا ملبہ بالکل الیکشن کمیشن پراسی طرح ڈالا گیا ہے جیسے 2013 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے منظم دھاندلی کا شور مچایا گیا تھا
تحریک انصاف یقیناً ان انتخابات میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے تاہم جس واضح اکثریت کی توقع کی جارہی تھی وہ نہیں مل سکی اور حیران کن طور پر دیگر سیاسی جماعتوں کی نشستوں میں تحریک انصاف کے تمام تر روایتی ہتھکنڈوں کے باوجود اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ انتخابی بدنظمی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر بھی عائد ہوتی ہے تاہم الیکشن کمیشن اپنے محدود وسائل میں ایک حد تک نظم و ضبط یقینی بناسکتا ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اہلکاروں کی جانب سے حکم ران جماعت کے لیے ووٹ مانگنے اور مخالفین کو ہراساں کرنےکے واقعات پر عمران خان کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ میاں افتخار حسین کی گرفتاری اور حریف سیاسی جماعتوں پر تحریک انصاف کے حامیوں پر تشدد اس صوبے میں انتقامی سیاست کی بنیاد رکھنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں اور ان واقعات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ ان انتخابات کےدوران ہونے والی بے قاعدگی کے بعد تحریک انصاف کو اپنے طرز سیاست پر غور کرتے ہوئے الزامات کی سیاست چھوڑ کر حقیقی معنوں میں تبدیلی کی سیاست کرنا ہو گی وگرنہ خیبر پختونخواہ کے عوام کسی جماعت کی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کرتے۔
Categories
نقطۂ نظر

خیبر پختونخواہ بلدیاتی انتخابات ؛ایک خوش آئند امر

کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کی بقاء اور استحکام کا دارومداربلدیاتی نظام پر ہےلیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے گناہ کبیرہ سے ہمیشہ خود کو بچائے رکھا، یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوریت پھلنے پھولنے کی بجائے روزبروز تنزلی کا شکارہے۔سیاسی حکومتوں کے برعکس فوجی آمراپنے غیرقانونی وغیر اخلاقی اقتدار کو طول دینے کے لیے مقامی حکومتوں کے انتخابات کراتے رہے۔ طویل انتظار کے بعد بالآخر پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کرنے کا فیصلہ کیاہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آخری مرتبہ سن 2005ءمیں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد سے ہمارے حکمران بلدیاتی نظام کو طاعون سمجھ کر بھاگتے رہے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات کا ‘دیر آید درست آید’ کے مصداق ہے۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخواہ میں انتخابات کے لیے شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔ گاوں، تحصیل اور ضلع کونسلزکے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی 13سے 17اپریل تک جمع کروائے جائیں گے۔ کاغذات کی جانچ پڑتال 20سے 25اپریل تک ہوگی،کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیلیں26سے 28اپریل تک دائر کی جاسکیں گی،امیدواروں کی حتمی فہرست 6مئی کو جاری کی جائے گی اور اس کے بعد انتخابی مہم شروع ہوگی۔ خیبر پختونخواہ میں 30مئی کو بلدیاتی انتخابات ہوں گے جبکہ 10جون تک انتخابات کے نتائج سامنے آجائیں گے، اس کے بعد اگلے مرحلے یعنی تحصیل اورضلع کونسل کے ناظم ونائب ناظم کا انتخاب ہاتھ اٹھا کر کیاجائے گا۔
مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک میں جہاں کرپشن،اقراباپروری اور اراکین اسمبلی کی اور من مانیوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں جمہوریت مستحکم ہونے اور نچلی سطح سے نئی سیاسی قیادت کے ابھرنے کے امکانات بھی معدوم ہوئے ہیں
مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملک میں جہاں کرپشن،اقراباپروری اور اراکین اسمبلی کی اورمن مانیوں میں اضافہ ہوا ہےوہیں جمہوریت مستحکم ہونے اور نچلی سطح سے نئی سیاسی قیادت کے ابھرنے کے امکانات بھی معدوم ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسمبلیاں جاگیر داروسرمایہ داروں،ٹھیکداروں اور موروثی سیاسی جانشینوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ سیاسی عمل سے گزرے بغیر سامنے آنےوالی سیاسی پود نے اپناووٹ بینک بچانے اور بڑھانے کے لیے سفارش، سرکاری ملازمتوں کی خرید وفروخت،ملازمین کے تبادلوں اور مالی بدعنوانیوں کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔
“نقصان سیاسی جماعتوں کا ہوا ہے”
ایوب خان صاحب کے زمانے میں بنیادی جمہوریت کے تصور کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے اور ضیاء الحق کے زمانے میں غیر جماعتی بنیادوں پر مقامی حکومتوں کے قیام کا نظام متعارف کرایا گیا۔ مشرف دور میں متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نظام ماضی کے بلدیاتی انتظامی ڈھانچوں کی نسبت خاصا بہتر ہونے کے باوجود غیر جماعتی بنیادوں پر استوار ہونے کے باعث ناکام ہوا۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے ہر ضلع کو انتظامی لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیاتھا یعنی لوکل کونسل،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل۔ ہر کونسل میں ناظم اور نائب ناظم کا عہدہ رکھا گیا تھا جومقامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کے ذمہ دار قرار دیے گئے تھے۔ ہر یونین کونسل میں جنرل کونسلر،کسان مزدور،اقلیتوں اور خواتین کے لیے علیحدہ نشستیں مختص کی گئی تھیں۔ ناظم اور نائب ناظم سمیت یونین کونسل کےتمام عہدیداروں کا چناؤ بالغ رائے دہی کی بنیادپر براہ راست عوامی ووٹوں سے کیا گیا۔
مشرف دور میں متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نظام ماضی کے بلدیاتی انتظامی ڈھانچوں کی نسبت خاصا بہتر ہونے کے باوجود غیر جماعتی بنیادوں پراستوار ہونے کے باعث ناکام ہوا۔
غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کی وجہ سے ووٹوں کی خریدوفروخت اورلین دین شروع ہوئی جس کی وجہ سے نچلی سطح سے قیادت ابھرنے کے بجائے اقتدار پرانے سیاسی مداریوں اور موقع پرست موسمی پرندوں کے ہاتھوں ہی رہی ۔ تاریخ کے استاد خرم علی کے مطابق غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا نقصان جمہوریت کو پہنچا ہے؛”فوجی آمرسیاسی جماعتوں کے خوف سے جبکہ سیاسی حکومتیں مخالف سیاسی جماعتوں کے ڈر سے غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہیں لیکن ہر دوصورتوں میں نقصان سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کو ہی پہنچا ہے۔”
اختیارات کی حد
صوبائی حکومتوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان ایک اہم تنازعہ اختیارات اور ترقیاتی فنڈ کی تقسیم کا ہے جس کے باعث جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانےسے گریز کرتی رہی ہیں۔ مشرف دور میں2001ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد ترقیاتی فنڈز سمیت بیشتر محکمے اوراختیارات مقامی حکومتوں کے حوالے کردیے گئے لیکن 2005ء کے انتخابات کے بعد مقامی حکومتوں سے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات دوبارہ چھین کر اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے ہاتھ میں دے دیے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سابق استاد محرم علی کے مطابق سیاسی جماعتیں اختیارات کی منتقلی سے خوف زدہ ہیں،”جمہوری حکومتوں کی کارکردگی سے عوام کی مایوسی سیاسی جماعتوں کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے خوفزدہ رکھتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت اور اس کی قیادت زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے جس سے اقتدار اور سیاسی جماعت پر ان کی گرفت مضبوط رہتی ہے۔”
اختیارات کے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ہاتھوں میں ارتکاز کے باعث بلدیاتی نظام کوعوام میں وہ پذیرائی نہیں ملی جوملنی چاہیے تھی اسی وجہ سے پاکستان میں بلدیاتی حکومتوں کا کوئی نظام کامیاب نہیں ہوسکا۔ تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جارہے ہیں، اس ضمن میں بلوچستان نے بلدیاتی انتخابات کرا کے تمام صوبوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
خیبر پختونخواہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2014
مئی 2013ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف اور اس کے اتحادی جماعتوں نے خیبرپختونخواہ میں نئے سرے سےمقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا،اس سلسلے میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013ء کی منظوری دی گئی جس میں2014ء میں ترمیم ہوئی۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے برعکس موجودہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس عوامی مفادات اور جمہوری اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھ کر تیار کیاگیا ہے۔اگر اس نظام کو کامیابی سے چلنے دیاگیا تو یہ باقی صوبوں کے لئے بھی مثال بن سکتا ہے بشرط یہ کہ صوبائی حکومت عوام کو مقامی سطح پر انصاف کی فراہمی میں مخلص ہو۔
ہر دیہی کونسل کااپنا دفتر اور دفتری عملہ ہوگا جبکہ ترقیاتی فنڈزاورمقامی مسائل کے حل کے لیے بہت سے اختیارات دیہی کونسل کے سپرد کیے گئے ہیں۔
اس آرڈیننس کے مطابق دیہی علاقوں میں ہر ضلع کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے اورہر یونین کونسل کو مزید چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اسے دیہی کونسل کا نام دیاگیا ہے۔ہر دیہی کونسل دوہزار سے لیکر دس ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی جس کےمنتخب اراکین کی تعداد دس سے پندرہ ہوگی۔ دیہی کونسل کی نمائندہ مقامی حکومت میں پانچ سے دس عمومی نشستیں جبکہ خواتین کے لئے دومخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔اس کونسل میں کسانوں/ مزدوروں، نوجوانوں اور اقلیتوں کے لئے ایک ایک نشست مختص کی گئی ہے۔
دیہی کونسل کا سربراہ ناظم/چیرمین ہوگاجبکہ اس کے ماتحت نائب ناظم/وائس چیرمین کا عہدہ بھی رکھا گیا ہے۔ دیہی کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کیے جائیں گے جس میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے فرد کو ناظم/چیرمین جبکہ دوسرے نمبر پر زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کو نائب ناظم/وائس چیرمین مقررکیا جائے گا۔ہر دیہی کونسل کا اپنا دفتر اور دفتری عملہ ہوگا جبکہ ترقیاتی فنڈزاورمقامی مسائل کے حل کے لیے بہت سے اختیارات دیہی کونسل کے سپرد کیے گئے ہیں۔
ہر یونین کونسل سے منتخب ہونے والے ناظم اور نائب ناظم بالترتیب تحصیل کونسل اورضلع کونسل کے رکن بھی قرار پائیں گے۔تحصیل اور ضلع کونسل کے اراکین کا انتخاب جماعتی بنیادوں پر براہ راست ووٹنگ سے ہوگا۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء کے مطابق ناظم اور نائب ناظم کا انتخاب ایک ہی بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتا تھا جبکہ موجودہ نظام میں ان عہدوں کے لیے الگ الگ بیلٹ پیپر استعمال ہوگا۔الیکشن میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ اور بدعنوانی روکنے کے لیے تحصیل اور ضلع ناظمین کے انتخاب کے لئے ہاتھ اٹھا کرووٹ ڈالنے کا طریقہ کار رائج کیا گیا ہے۔جو اراکین آزاد حیثیت سے کامیاب ہوں گے انہیں نتائج کےاعلان کے تین دن کے اندراندر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی۔ تحصیل اور ضلع کونسل کا انتخاب لڑنے کے لیے یونین کونسل سے کامیابی لازمی ہے۔مقامی حکومتوں کے موجودہ نظام کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دیہی کونسل،تحصیل کونسل اور ضلع کونسل میں خواتین،اقلیتوں اور نوجوانوں کے لیے بھی نشستیں مختص کی گئ ہیں۔ نئے نظام کے تحت انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے۔
سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ ہوگااور دیہی کونسلراپنے علاقوں میں 19محکموں کی نگرانی کریں گے۔
عنایت اللہ خان خیبرپختونخواہ کے سینئر صوبائی وزیر برائے بلدیات ودیہی ترقی نے ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے کہا “بلدیاتی نظام عوامی مسائل کے حل کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور موجودہ حکومت بلدیاتی انتخابات کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کررہی ہے،اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرکے عوام کو بااختیار بنانے کے لئے خیبر پختونخواہ میں بالکل نیا نظام متعارف کرارہے ہیں۔موجودہ صوبائی حکومت خلوصِ نیت سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے،ملک میں جمہوریت اختیارات اور فنڈز کو عوام کے نمائندوں میں تقسیم کرنے ہی سے مضبوط ہوتی ہے”۔سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ ہوگااور دیہی کونسلراپنے علاقوں میں 19محکموں کی نگرانی کریں گے۔
بدلیاتی انتخابات اور عوام کی ذمہ داری
بدلیاتی انتخابات اور عوام کی ذمہ داری پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کااعلان کیا ہے تو اس کے ساتھ رائے دہندگان پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ان کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتی ہو۔عوام پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی مفادات کوبالائے طاق رکھ کر حقیقی قیادت کو سامنے لائے تاکہ عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل ہوں۔درحقیقت مقامی حکومتوں کا نظام کسی بھی معاشرے میں سیاسی نرسریوں کی حیثیت رکھتا ہے مہذب جمہوری ممالک میں سیاسی قیادت مقامی حکومتوں کے نظام سے گزر کر ہی سامنے آتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ غنی خان کے بقول آخر کار فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے کہ وہ کسے منتخب کرتے ہیں اور کیوں منتخب کرتے ہیں۔
Categories
اداریہ

اساتذہ اور طلبہ کو بندوقیں پکڑانا دانش مندی نہیں

campus-talks

خیبر پختونخواہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے تدریسی و غیر تدریسی عملہ کو تعلیمی اداروں کی حدود کے اندر لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کا مقصد دہشت گردوں کے حملے کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے پہنچنے تک حملہ آوروں کوالجھائے رکھنا ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ مشتاق غنی نے پولیس اہلکاروں کی کمی کے باعث کمیونٹی پولیس کے تصور کے اطلاق کا فیصلہ کیا ہے۔
،طالب علموں اور استادوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھمانا مناسب نہیں، کتابوں میں موجود بارود مٹائے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیوں کہ نظریات بندوقوں سے ختم نہیں ہو سکتے۔
مشاتق غنی نے صحافیوں کو تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سے متعلق حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکولوں کے تحفظ کے لیے چار دیواری کی تعمیرو توسیع، کلوزسرکٹ کیمروں کی تنصیب اور محافظوں کی تعداد میں اضافہ تمام درسگاہوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخواہ حکومت نے سکیورٹی اقدامات مکمل کیے بغیر نئے تعلیمی اداروں اور ان کے کیمپسز کے قیام پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے بھی دہشت گردوں کا امقابلہ کرنے کے لیے کالج طلبہ کے لیے شہری دفاع کی تربیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماہرین تعلیم نے خیبر پختونخواہ حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور صوبائی حکومت کو شدت پسندی کے خاتمے کے درست حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا ہے،ماہر تعلیم سلیم سرور کے مطابق عام شہریوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمانا مناسب نہیں،”مدارس اور عام تعلیمی اداروں نصاب تعلیم کو بدلے بغیر دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا،”طالب علموں اور استادوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھمانا مناسب نہیں، کتابوں میں موجود بارود مٹائے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیوں کہ نظریات بندوقوں سے ختم نہیں ہو سکتے۔ “
Categories
اداریہ

خیبر پختونخواہ میں تعلیمی نصاب کی “اسلامائزیشن” کا عمل جاری

مانیٹرنگ ڈیسک+نامہ نگار خصوصیcampus-talks

خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے بننے والی حکومت کی طرف سے نظام تعلیم میں اسلامائزیشن کی پالیسی جاری ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران جہاد سے متعلق مواد نصاب میں دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے۔ اے این پی کی سابقہ حکومت نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے یہ مواد نصاب سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حال ہی میں خیبر پختونخواہ حکومت نے عظیم پختون رہنما باچہ خان اور پشتو شاعرغنی خان پر لکھے گئے مضامین بھی نصاب سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نصاب میں تبدیلی کا یہ فیصلہ محکمہ تعلیم کے ایک اجلاس میں جماعت اسلامی کی تجویز پر لیا گیا۔ اس فیصلے کے مطابق جماعت ہشتم کے نصاب سے خدائی خدمت گار باچہ خان اور جماعت ششم کی کتب سے پشتو شاعر غنی خان کے حالات زندگی سے متعلق اسباق کو خارج کیا جائے گا۔
خیبر پختونخواہ میں حکومت کے قیام کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب نصاب سے متعلق تنازعہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل جہادی مواد کو شامل کرنے کے فیصلے کو ماہرین تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تحریک انصاف ایک جدید اور عالمی معیار کے مطابق نظام تعلیم کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی تاہم نصاب میں کی جانے والی تبدیلیوں کو تنقید کا سامنا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں حکومت کے قیام کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب نصاب سے متعلق تنازعہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل جہادی مواد کو شامل کرنے کے فیصلے کو ماہرین تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سابق وزیرِتعلیم اور اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک کے مطابق نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی طرف سے حکومت کو دباو کا سامنا ہے اور اس حوالے سے محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ کی سفارشات وفاقی محکمہ تعلیم کو بھجوائی جا چکی ہیں۔ جماعت اسلامی کے رکن حبیب الرحمان کے مطابق سابق حکومت میں جماعت دوم سے لے کر بارہویں جماعت تک اسلامیات اور معاشرتی علوم کی کتابوں سے جہاد اور اسلام سے متعلق کئی آیات کو نکالا گیا ہے اور ان کی جگہ دیگر مواد کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اے این پی کی حکومت نے بچوں کی کتابوں سے تمام اسلامی و قومی رہنماؤں اور شخصیات کے کارناموں کو حذف کرکے ان کی جگہ مغربی دنیا کے رہنماؤں کی خدمات کو شامل کیا ہے۔

نصاب کی اسلامائزیشن کا عمل اسّی کی دہائی میں جماعت اسلامی کے دباو پر شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت نصاب میں مذہبی شدت پسندی پر مبنی مواد شامل کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا موجودہ تعلیمی نصاب بنیاد پرستی اور تنگ نظر ی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔


Categories
اداریہ

خیبر پختونخواہ میں تعلیمی نصاب کی "اسلامائزیشن" کا عمل جاری

مانیٹرنگ ڈیسک+نامہ نگار خصوصیcampus-talks

خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے بننے والی حکومت کی طرف سے نظام تعلیم میں اسلامائزیشن کی پالیسی جاری ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران جہاد سے متعلق مواد نصاب میں دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے۔ اے این پی کی سابقہ حکومت نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے یہ مواد نصاب سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حال ہی میں خیبر پختونخواہ حکومت نے عظیم پختون رہنما باچہ خان اور پشتو شاعرغنی خان پر لکھے گئے مضامین بھی نصاب سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نصاب میں تبدیلی کا یہ فیصلہ محکمہ تعلیم کے ایک اجلاس میں جماعت اسلامی کی تجویز پر لیا گیا۔ اس فیصلے کے مطابق جماعت ہشتم کے نصاب سے خدائی خدمت گار باچہ خان اور جماعت ششم کی کتب سے پشتو شاعر غنی خان کے حالات زندگی سے متعلق اسباق کو خارج کیا جائے گا۔
خیبر پختونخواہ میں حکومت کے قیام کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب نصاب سے متعلق تنازعہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل جہادی مواد کو شامل کرنے کے فیصلے کو ماہرین تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تحریک انصاف ایک جدید اور عالمی معیار کے مطابق نظام تعلیم کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی تاہم نصاب میں کی جانے والی تبدیلیوں کو تنقید کا سامنا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں حکومت کے قیام کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب نصاب سے متعلق تنازعہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل جہادی مواد کو شامل کرنے کے فیصلے کو ماہرین تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سابق وزیرِتعلیم اور اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک کے مطابق نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی طرف سے حکومت کو دباو کا سامنا ہے اور اس حوالے سے محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ کی سفارشات وفاقی محکمہ تعلیم کو بھجوائی جا چکی ہیں۔ جماعت اسلامی کے رکن حبیب الرحمان کے مطابق سابق حکومت میں جماعت دوم سے لے کر بارہویں جماعت تک اسلامیات اور معاشرتی علوم کی کتابوں سے جہاد اور اسلام سے متعلق کئی آیات کو نکالا گیا ہے اور ان کی جگہ دیگر مواد کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اے این پی کی حکومت نے بچوں کی کتابوں سے تمام اسلامی و قومی رہنماؤں اور شخصیات کے کارناموں کو حذف کرکے ان کی جگہ مغربی دنیا کے رہنماؤں کی خدمات کو شامل کیا ہے۔

نصاب کی اسلامائزیشن کا عمل اسّی کی دہائی میں جماعت اسلامی کے دباو پر شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت نصاب میں مذہبی شدت پسندی پر مبنی مواد شامل کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا موجودہ تعلیمی نصاب بنیاد پرستی اور تنگ نظر ی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔