Categories
نقطۂ نظر

پوری قوم چُھٹی پر ہے

سکول میں پڑھائی جانےوالی کتب میں سے ایک مطالعہ پاکستان ہے جس میں پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمدعلی جناح کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی قوم کو کام کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ ان کا یہ مقولہ تو ہر عام و خاص کی زبان پر ہے “کام ، کام اور بس کام” لیکن شاید ان کے اس مقولے پر صحیح اور درست انداز میں عمل کرنے کے لیے کام سے چھٹی ملنا بے حد ضروری ہے۔ اقبال جہد مسلسل اور ہمہ دم متحرک رہنے پر زور دیتے رہے مگر شاید اس تلقین کو سن سن کر ہی تھک جانے والی قوم کے لیے یوم اقبال کی چھٹی لازمی ہے۔ کام کرنے کے پر اتنے اصرار کا مطلب تو یہ ہے کہ بابائے قوم اور مفکر پاکستان غیر ضروری ‘چٹھی’ کے حق میں نہیں تھے۔ گو انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹی کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن ہر ایرے غیرے کے جنم دن یا برسی کو تعطیل قرار دینا کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی نشانی نہیں۔
دوسرے صاحب بولے “یہ حکومت ہندوستان کے ہمدردوں کی ہے، یہ کبھی بھی نظریہ پاکستان اور مفکر پاکستان کی قدر نہیں کریں گے”(گویا حب الوطنی کا تقاضا زیادہ سے زیادہ تعطیلات دینا ہے)۔

 

گذشتہ روز گاؤں جاتے ہوئے راولپنڈی سے گاڑی میں بیٹھا تو راستے کے دوران ہر نشست پر ایک ہی موضوع زیر بحث تھا اور وہ تھا “9 نومبر” کی چھٹی۔ پاکستانی قوم کو شاید کبھی بھی کسی بھی چیز کے لیے اتنا نہیں ترسایا گیا ہوگا جتنا وفاقی وزارت داخلہ نے اس چھٹی کے لیے ترسایا۔ کبھی ہاں تو کبھی ناں کے پروانے ایک ہفتے سے جاری کیے جارہے تھے بالآخر 9 نومبر کو تعطیل نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور حکومت کے اس فیصلے پر سرکاری مزدوری (نوکری) کرنے والے ہر گلی، ہر گاڑی اور ہر بس اڈے پر حکومت کو گالیاں دیتے نظر آئے۔

 

گاڑی میں بیٹھا تو ایک صاحب بول پڑے “بھائی جناح نے تو صرف پگڑی پہنائی تھی باقی پاکستان تو اصل میں علامہ اقبال نے بنایا تھا کیونکہ سب سے پہلے اپنے الگ وطن کا خواب سر علامہ محمداقبال نے دیکھا تھا”۔ دوسرے صاحب بولے “یہ حکومت ہندوستان کے ہمدردوں کی ہے، یہ کبھی بھی نظریہ پاکستان اور مفکر پاکستان کی قدر نہیں کریں گے”( گویا حب الوطنی کا تقاضا زیادہ سے زیادہ تعطیلات دینا ہے)۔ ٹی وی چینلز نے خوب شہ سرخیاں چلائیں، مفکر پاکستان کی یوم پیدائش 9 نومبر پر ‘نو’ چھٹی۔ غرض یہ کہ پوری قوم کو یہ خبر کھائے جا رہی تھی کہ سر علامہ محمداقبال کے جنم دن کے موقع پر پاکستانی قوم کو خوشیاں منانے کا موقع ملنا چاہیے تھا خواہ اس سے چند روز پہلے پہلے ہفتہ وار چٹھی ہی کیوں نہ گزری ہو۔
اگر تعطیلات دینے کی یہ روش بڑھتی گئی تو ہر قوم، قبیلے، مسلک اور عقیدے کے لوگ اپنے اپنے مشاہیر اور مفکرین کے دن منانے کے لیے تعطیل کا مطالبہ شروع کر دیں گے۔ یہ سلسلہ عام ہوا تو پوری قوم سارا سال چھٹی پر رہے گی۔

 

حکومت نے تو چھٹی نہ دے کر (عوام کی نظر میں) روحِ اقبال کو تڑپایا، ان کی اشعار، فکر و نظریہ کی بے قدری کی لیکن ہمارے محترم چیرمین پاکستان تحریک انصاف جناب عمران خان صاحب نے اقبالیات کی قدر کرتے ہوئے پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو حکم دیا کہ یوم اقبال کوئی منائے یا نہ منائے پختونخوا کے لوگ ضرور منائیں گے۔ یوں “9نومبر 2015ء” کو پورے ملک کے سرکاری و غیرسرکاری ادارے کھلے رہے اور پختونخوا کو شاید کام کی نہیں بلکہ چھٹیوں کی زیادہ ضرورت ہے تو تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری و غیرسرکاری ادارے بھی بند رہے۔

 

یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا ہر مفکر کے یوم پیدائش اور برسی کو عام تعطیم بنانا مناسب ہے یا نہیں۔ معلوم نہیں اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھتے ہوئے یہ سپنا بھی دیکھا تھا یا نہیں کہ ان کے یوم پیدائش کو عام تعطیل کا درجہ دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ جناح صاحب نے پاکستان بنایا ہی اس لیے ہو کہ ان کے پیدا ہونے کی خوشی اور وفات کا سوگ منانے کے لیے دنیا میں کہیں تو تعطیل ہو۔

 

ایک اور بحث طلب مسئلہ یہ ہے کہ کن مفکرین، شخصیات اور دانشور خواتین و حضرات کے ایام پیدائش و ممات کو تعطیل کا درجہ دیا جائے۔ اگر اقبال کے یوم پیدائش پر تعطیل ہے تو رومی یا خوشحال خان خٹک جو اقبال کو متاثر کرنے والے شعراء ہیں کے جشن اور ایام پر بھی تعطیل کا اعلان کر دیجیے۔ اور پاکستان بننے کے بعد سامنے آنے والے نامور شعرا کی یاد منانے کے لیے بھی تعطیل دی جائے۔ پختونخوا کے وزیراعلیٰ صاحب اپنے ہی قبیلے اور قوم کے سپہ سالار، عظیم شاعر اور دانشور خوشحال خان خٹک جس سے علامہ اقبال نے شاہین اور مردمومن کی تشبہیات مستعار لیں کے لیے بھی ایسا ہی کوئی اعلان کر دیں تو بہتر ہے۔ اگر تعطیلات دینے کی یہ روش بڑھتی گئی تو ہر قوم، قبیلے، مسلک اور عقیدے کے لوگ اپنے اپنے مشاہیر اور مفکرین کے دن منانے کے لیے تعطیل کا مطالبہ شروع کر دیں گے۔ یہ سلسلہ عام ہوا تو پوری قوم سارا سال چھٹی پر رہے گی۔ چھٹیوں کی ضرورت اس قوم کو ہوتی ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑی ہو ہمیں تو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک اس ملک میں چھٹیوں کے لیے بہانے تلاش کرتے رہیں گے؟ حکومتی سطح پر ایسے چند اور فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ قوم کچھ کام کرنے کی عادت اپنائے اور حقیقت میں دنیا سے مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا کرسکے ورنہ تاقیامت ہم چھٹیاں منانے والی قوم ہی رہیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

نواز شریف اورعمران خان؛ ایک سکے کے دو رخ

youth-yell-featured

جب ایشیا سرخ ہورہا تھا تو راولپنڈی کے اصلی حکمرانوں کو “سیاسی قبض” ہونے لگی۔ یو ایس ایس آرکے عوامی انقلاب کے اثرات جب چین کی سرحد تک پہنچنے لگے، تو ملک پر قابض استحصالی قوتوں نے پاکستان میں جعلی کمیونسٹ پیدا کرنا شروع کردیئے جنہوں نے اشتراکی انقلاب کے نام پر عوام کو خوب بے وقوف بنایا۔ ان میں اکثر ایسے ‘کمیونسٹ’ بھی شامل تھے جو پہلے جنرل ضیا الحق سے بریفنگ لے کر ماسکو جاتے تھے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے صرف مجاہدین اور سیاسی لیڈر ہی پیدا نہیں کئے بلکہ اشتراکیت پسند اور حقیقی انقلابی تحریکوں کو کمزور کرنے کیلئےنام نہاد قوم پرست بھی پیدا کئے جن کا مقصد ان تحریکوں کو کھوکھلا کرنا تھا۔ انہی قوتوں کے کہنے پر ملک کی جمہوری اور حقیقی قیادت بشمول فاطمہ جناح پر غدار اور کافر کے ٹھپے لگانے کا کام شروع کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے قومی ہیرو نیلسن منڈیلا سے زیادہ عرصہ قومی و جمہوری حقوق کیلئے جیلوں میں گزارنے والے خان عبداالصمد خان اچکزئی اور خان عبد الغفار خان (جنہوں نے تیس اور تینتیس سال انگریز اور پاکستانی حکومتوں کی جیلوں میں گزارے) غدار ٹھہرے جبکہ وہ لوگ جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح ” کھوٹے سکے” کہا کرتے تھے وہ قومی ہیرو کے طور پر پیش کیے گئے۔
جب افغانستان میں جمہور کی حکمرانی اور بعد میں نور محمد ترکئی کی سربراہی میں عوامی انقلاب آیا تو اس انقلاب سے پاکستان کے عوام اور نوجوان بھی متاثر ہوئے۔ افغانستان میں سوویت اثرونفوذ اور پاکستانی نوجوانوں میں بائیں بازو سے وابستگی کم کرنے کے لیے مجاہدین اور ملا بنائے گئے۔ افغانستان میں ثور انقلاب کے اثرات پاکستانی پشتونوں پر بھی ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار پشتون علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کردیئے۔ یہ ثور انقلاب کے ہی ثمرات تھے کہ ان علاقوں میں پہلی بارہماری حکومت نے بجلی کے کھمبے اور تار بچھانے شروع کیے۔ ساتھ ہی ساتھ یہاں سے افغان انقلاب کے خلاف سازشوں اور مجاہدین کی شکل میں مداخلت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔ اس خطے میں سیاسی شعور کا راستہ روکنے کےلیے مقتدر قوتوں نے تعلیم، سیاسی عمل اور تاریخ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
افغانستان میں ثور انقلاب کے اثرات پاکستانی پشتونوں پر بھی ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار پشتون علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کردیئے۔

 

.ملک کے اندر انقلاب کا راستہ روکنے کےلیے جی ایچ کیو نے سیاستدانوں کی نرسریاں لگائیں۔ سندھی قوم پرستوں کو کمزور کرنے کے لیے سندھ میں ایم کیو ایم، جنوبی پنجاب میں جعلی کمیونسٹ، بلوچوں میں نواب اور سرداری نظام کی سرپرستی اور پشتونوں میں رائیونڈ کے تبلیغی، مدرسہ اور مولوی مختار کُل بنا دیئے گئے۔ بنگلہ دیش اور ملک کی دیگر اقوام بالخصوص سندھی قوم پرست سیاست کو کمزور کرنے کےلیے سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو جو ایوب خانی مارشل لاء کی پیداوار تھے، کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور نیا پاکستان کی طرح اُس وقت بھی “روٹی، کپڑا اور مکان: کا خوشنما نعرہ لگایا گیا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پیپلز پارٹی اور سندھی نیشنلزم کو قابو کرنے کیلئے مہاجروں کا خوب استعمال کیا گیا۔ لیکن ارباب اختیار نے اپنے ہی تراشے ہوئے مہروں کو بعدازاں اپنے مفادات کے لیے ہی نظرانداز کرنا شروع کردیا۔ 1992 میں مہاجروں پر اتنے مطالم ڈھائے گئے کہ وہ پہلے سے زیادہ مظلوم اور محروم طبقہ بن گئے۔ مہاجروں کی طرح پشتونوں کی قومی سیاست کو پارہ پارہ کرنے کیلئے تخت لاہور کے وارث عسکری حکمرانوں نے جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو مسجد سے نکال کر مسلط کردیا تاکہ قوم پرست سیاست کے اثرات دور کیے جا سکیں۔ اسی طرح پوری پشتون معاشرہ ان مذہبی ٹھیکے داروں کے حوالے کردیا گیا۔

 

جرگہ،مسجد ، حجرا حتٰی کہ کھیل کے میدان استعماری مقاصد کے حصول کےلیے تباہ کیے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سیاسی و قبائلی لیڈروں اور کارکنوں کا مذہب اور دہشت گردی کے نام پر قتل عام کیا گیا، سوات اور فاٹا کے بیس لاکھ سے زائد لوگوں کو پہلے مہاجر بنایا گیا بعد میں اُن کے گھر مسمار کرکے انہیں ہمیشہ کےلیے اپنا محتاج بنادیا گیا ہے۔ آج ایک بار پھر تخت لاہور والوں نے عمران خان اور نواز شریف کے درمیاں ایک جعلی سیاسی مقابلہ شروع کیا ہواہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں پاکستان پر حکمرانی کرنے والےاور حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے والے دونوں تخت لاہور سے ہوں گے۔ اس طرح سیاست کو بدنام کرنے اور لوگوں کو سیاست اور سیاست دانوں سے بدظن کرنے کےلیے پی ٹی آئی کے ذریعے گالی گلوچ کا کلچر متعارف کرایا۔
مہاجروں کی طرح پشتونوں کی قومی سیاست کو پارہ پارہ کرنے کیلئے تخت لاہور کے وارث عسکری حکمرانوں نے جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو مسجد سے نکال کر مسلط کردیا تاکہ قوم پرست سیاست کے اثرات دور کیے جا سکیں

 

اس ملک میں کسی زمانے میں منٹو جیسے ادیب، حبیب جالیب جیسے شاعر، باچا خان، مولانا بھاشانی، عبدالصمد خان اچکزئی، جے ایم سید، پنجاب سے محمود قصوری، خیر بخش مری جیسے سیاست دان ہوتے تھے۔ یہ لوگ اصولوں کے پکے، اخلاق کے علمبردار اور عوام کے سچے نمائندے تھے۔ اب قحط رجال کا یہ عالم ہے کہ آئی ایس آئی کے گملوں میں پھلنے پھولنے والے دو نمبر سیاستدان اپنے سیاسی قبلے کے تعین کے لیے بھی امپائر کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ نیا پاکستان کا نعرہ بھی انہی مقتدر حلقوں کے سیاسی پراجیکٹ کا تسلسل ہے یعنی جب پاکستان کے موجودہ نظام میں نئی نسل گھٹن محسوس کرے تو انہیں ایک اور کھلونا تھما دیا جائے۔ نوجوان نسل میں احساس محرومی بڑھ رہا تھا، پاکستانی عوام فوج اور اُن کے پیدا کردہ سیاسی، مذہبی اور دیگر قوتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے کسی سیاسی متبادل کے منتظر تھے تو انہیں نئے پاکستان کی راہ دکھا دی گئی۔ لوگ یہ چاہتے تھے کہ کسی متبادل سیاسی قوت کی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ملک میں حقیقی جمہوری انقلاب رونما ہوگا اور تبدیلی آئے۔ تبدیلی کی اس خواہش اور حقیقی عوامی انقلاب روکنے کےلیے راولپنڈی کے ‘حقیقی’ حکمرانوں نے پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں نیا پاکستان اور انقلاب کے نعرے لگوائے۔ عسکری ارباب اختیار نےسدھائے ہوئے میڈیا کے ذریعے اس نعرے اور پی ٹی آئی کو اتنا مقبول بنایا کہ نوجوان جو مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور قوم پرست سیاسی جماعتوں سے نالاں تھے بڑے پیمانے پر منظم ہونے کی بجائے پی ٹی آئی کے خوشنما نعرے کا شکار ہو گئے۔ میرے خیال میں نیا پاکستان پرانے پاکستان سے زیادہ استحصالی اور نظرانداز شدہ قومیتوں کے لیے زیادہ تنگ نظر ہے۔

 

تحریک انصاف کا یہ دعویٰ کہ نوجوان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ عالمگیریت اور پاکستانی استعماری پالیسیوں کے وجہ سے جوانوں میں احساس محرومی بڑھنےکے باعث تبدیلی کا خواب پاکستانی نوجوان بھی دیکھ رہے تھے۔ مصر، تنزانیہ اور دیگر عرب ملکوں میں عرب بہارنے پاکستانی نوجوانوں میں بھی انقلابی جدوجہد کے امکانات روشن کر دیئے بالخصوص پشتون نوجوانوں میں جو ریاست کی پشتون دشمن پالیسیوں سے نالاں نظر آ رہے تھے۔ سوات، پشتونخوا اور کراچی میں اسٹیبلشمنٹ کے پیدا کردہ اچھے اور برے طالبان، مدرسہ کلچر اور مذہبی انتہا پسندی سے تنگ یہ جوان کسی حقیقی انقلاب اور قائد کی تلاش میں تھے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بجائے پشتون قوم پرست جماعتوں نے مکمل غیر ذمہ داری اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اس صورتحال سے اسٹبلشمنٹ نے فائدہ اٹھایا اور پاکستان تحریک انصاف کی سرپرستی شروع کر دی اور نوجوانوں کی ذہنیت کے مطابق “تبدیلی”اور”نیا پاکستان” جیسے پُرکشش نعرے دیئے۔ اس طرح نوجوان ایک بار پھر حقیقی انقلاب کی بجائے جعلی و خوشنما نعرے لگانے والوں کے نرغے میں آگئے اورپاکستان میں حقیقی جمہوری انقلاب ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگیا۔
Categories
نقطۂ نظر

لاہور؛ ضمنی انتخاب کے مستقبل پر اثرات

لاہور میں ضمنی انتخابات کا جو تنیجہ آیا اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کوئی کہتا ہے پی ٹی آئی اخلاقی طور پر جیت گئی، کوئی کہتا ہے نواز لیگ نے میدان مار لیا اور اب پی ٹی آئی کو سکون آئے گا، دھرنے کی غلط سیاست سے کچھ عرصہ جان چھوٹے گی، کچھ لوگ کہتے ہیں دونوں صوبائی نشستیں پی ٹی آئی کے پاس ہیں اور قومی نشست ن لیگ کے پاس ہے یہ بھی ن لیگ کی بے عزتی ہے، کلثوم نواز کا حقیقی بھانجا پی ٹی آئی سے صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گیا یہ بہت بڑا اپ سیٹ ہے، کوئی کہہ رہا ہے ن لیگ کی تاریخی فتح ہوئی اور عمران خان کی سیاست کو تباہ کر دیا، کوئی کہتا ہے علیم خان پراپرٹی مافیا ہے۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جو سوچا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے، لکھا جا رہا ہے، پڑھا جا رہا ہے، تجزیہ کیا جا رہا ہے، نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا لیکن جو ہوا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہوا ہے، اتنا خطرناک کہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔
پی ٹی آئی کی شکست ہر اس حلقے کی شکست ہے جو ن لیگ کے غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، اب حکومت اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو کھل کے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔
میں بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا حمایتی نہیں ہوں، بنیادی طور پر میں مسلم لیگ نواز کے عوام کش طرز حکومت کا مخالف ہوں۔ لاہور میں این اے 122میں ضمنی انتخاب ملک کے سیاسی مستقبل کا انتخاب تھا۔ 2013 میں دھاندلی ہوئی، بد انتظامی ہوئی یا جو بھی ہوا نواز شریف نے حکومت قائم کر لی اور وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ اس کے بعد ان کا طرز حکمرانی کیسا رہا کیسے، دو اڑھائی سالہ حکومت کو کس نظر سے دیکھا جائے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اس دوران حزب اختلاف کا کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سےمزاحمت اور مخالفت کا رویہ ترک کیے جانے کے بعد نواز شریف کو روکنے والا، پوچھنے والا کوئی نہیں ۔صرف ایک پی ٹی آئی ہی ایسی جماعت تھی جو اگر اس ملک کی بہتری کے لیے نہیں تو اپنے مفاد کی خاطر ہی سہی، یا عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے ہی سہی، یا دس فیصد عوام کی بہتری کے لیے ہی سہی نواز شریف حکومت کے خلاف بھرپور حزب اختلاف کا کردار ادا کر سکتی تھی۔ دھرنوں کی سیاست اور احتجاج کے طریق کار سے اختلاف کےباوجود کوئی سیاستدان تو ایسا تھا، کوئی سیاسی جماعت تو ایسی تھی جو حکومت کو اپنے لیے خطرہ محسوس ہوتی تھی، جس کے الزامات کے جواب فوری طور پر پریس کانفرنسوں میں دیئے جاتے تھے، جس کےجلسوں اوراحتجاج پر کارروائی کی گئی، کمیشن بنائے گئے، جو بھی تھا کم از کم کسی سطح پر حکومت کو کچھ غلط کرنے سے پہلے سوچنا تو پڑتا تھا۔ دھرنا دینے والوں کی جمہوریت کش سیاست سے قطع نظر احتجاج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ احتجاج سے حکومتیں گرائی نہیں جاتیں لیکن احتجاج سے حکومتوں کو غلط فیصلوں سے روکا جا سکتا ہے۔
اس ایک شکست سے حکومت گرنی نہیں تھی، صرف اور صرف حکومت کو روکنے والا، پوچھنے والا، احتساب کرنے والا، جمہوری انتقام والا ایک راستہ کھلا رہتا
حزب اختلاف کا کردار ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کرنا اور عوام کے حقوق کے لیے لڑنا ہے لیکن اس وقت کوئی بھی حکومت کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ حالات یہ ہیں کہ نواز شریف جیت کے بعد غرور، تکبر، خود غرضی اور فرعونیت کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھ رہے، ان کے دل و دماغ میں کسی چیز کا کوئی خوف، ڈر جھجھک اور رکاوٹ نہیں ہے سوائے وردی والوں کے۔ پیپلزپارٹی کے لیے اپنی کرپشن سے جان چھڑانی مشکل ہو رہی ہے اور تحریک انصاف کو حکومت گرانے اور حکومت حاصل کرنے کے علاوہ کوئی کسی چیز سے دلچسپی نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کو کرپشن سے کون روکے گا۔ اس حکومت کو اب ‘من پسند’ ترقیاتی کاموں سے کون روکے گا؟ پی ٹی آئی کی شکست ہر اس حلقے کی شکست ہے جو ن لیگ کے غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، اب حکومت اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو کھل کے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ پی ٹی آئی کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ عدالتوں اور کمیشنوں کے بعد عوام نے بھی ن لیگ کا ساتھ دیا ہے اب سب کچھ ن لیگ ہے سب کچھ نواز شریف ہے، اب میٹرو بسیں میٹرو ٹرینیں، نندی پور اور سولر پلانٹ چلیں گے، شریف برادران کے کارخانے دوسرے ملکوں میں لگیں گے، فیکٹریاں کھلیں گی، کرپشن کے نئے طریقے ایجاد ہوں گے، کوئی روکنےوالا نہیں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ اب پی۔آئی۔اے کی نجکاری کون روکے گا؟ اب سٹیل مل کی فروخت میں کون رکاوٹ بنے گا؟ اب ملکی اثاثے کون محفوظ بنائے گا، اب وزیر خزانہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے سامنے کوئی دیوار نہیں ہو گی۔ منی لانڈرنگ کے ملزم ہمارے وزیر خزانہ ہیں، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمات نیب میں پڑے ہیں نہ نیب کھولتا ہے نہ عدالت کھولنے دیتی ہے۔ صرف ایک امید تھی، صرف ایک راستہ تھا، صرف ایک ڈھال تھی، صرف ایک طریقہ تھا کہ شاید پی ٹی آئی لاہور کا ضمنی الیکشن جیت جائے اور نواز شریف کو کچھ روکاوٹ ڈال دی جائے۔ ایک ہی تسلی تھی کہ شاید تحریک انصاف کی این اے 122 میں کامیابی کے بعد یہ لوگ عوام کے انتقام سے تھوڑا ڈر جائیں، کچھ ان کو خیال آ جائے کہ وہ غلط ہیں۔ تحریک انصاف اگر عام آدمی کی سیاست کرتی تو ہوسکتا ہے کہ یہ کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے، جھجھکیں گے، لڑکھڑائیں گے لیکن تحریک انصاف کی غلطیوں سے یہ امکان بھی جاتا رہا۔ اس ایک شکست سے حکومت گرنی نہیں تھی، صرف اور صرف حکومت کو روکنے والا، پوچھنے والا، احتساب کرنے والا، جمہوری انتقام والا ایک راستہ کھلا رہتا لیکن لاہور حلقہ این اے ایک سو بائیس نے ملک کے سیاسی و معاشی مستقبل پر کافی سوالیہ نشانات چھوڑ دیئے ہیں
Categories
نقطۂ نظر

ریفرنڈم ہو مگر کیسے۔۔؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔مجھے نہیں معلوم کہ اس بیان پر کس حد تک عمل درآمد ہوگا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ یہی بات اگر ہمارے خطے سے کوئی اُٹھ کر کہے تویہ امر یقیناً وفاق کے لیےناقابل برداشت ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں بقول قاری حفیظ صاحب ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی باتیں کرنے والے(یعنی سچ بولنے والے) غدارکہلائیں گے۔ غداری کی مہر لگنے کےاسی خوف نے آج گلگت بلتستان کے صحافیوں اور دانشوروں کو اہم قومی معامللات پرلب سینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم وہ بات بھی نہیں کہہ سکتے جو وفاقی وزارء، کشمیری رہنما اور ترجمان وزارت خارجہ وغیرہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کرتے ہیں۔اگر ہم پچھلے ایک سال کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وفاق اور کشمیر سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات نے گلگت بلتستان کی شناخت اور آئینی حیثیت کے حوالے سے وہ باتیں کی ہیں جو اگر وہاں کے باشندے کریں تو ان پر نہ جانے کس کس ملک کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جائے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کے بارے میں دیئے گئے سرکاری اور غیر سرکاری بیانات کا جائزہ لیا جائے تو شاید غداری کے الزام سے بچتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک متازعہ خطہ ہے ۔ لیکن یہ سچ کھلے عام نہیں بولا جاسکتا کہ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کےالحاق کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں اور اسے چند لوگوں کی سازش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان آج بھی آئینی اور سیاسی حقوق سے محروم ہے۔ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا سدباب اب ضروری ہے کیونکہ یہ محرومی اب ایک لاوے کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ہماری قانونی حیثیت اور پاکستان کو گلگت بلتستان کی وجہ سے ملنے والے سیاسی، جعرافیائی اور دفاعی فوائد کے بدلے میں مقامی لوگوں کو وسائل پر اپنا حق نہ ملنے کی وجہ سے احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا وفاق کو اب اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنی ہوگی۔ وفاقی وزارء کو متنازعہ بیانات دےکر معاملے کو مزید خراب کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کے قوانین اورانقلاب گلگت بلتستان کے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس نظام کو وفاق نے ‘حکومت ‘کا نام دے کر قانون سازی کے محدود اختیارات دے کر گلگت بلتستان میں نافذ کیا ہوا ہے وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اس لیے اب اس خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے کسی نئے بندوبست کی ضرورت ہے۔
ریفرنڈم یقیناً بہترین فیصلہ ہوگا اور پاکستان کو اس حوالے سے مخلص ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کی خود مختاری کے لیے آئین سازی کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کیونکہ جو نظام وفاق نے یہاں نافذ کیے ہیں اُن سے کچھ خاندانوں کے سوا عوام میں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ انہی چند مخصوص مراعات یافتہ لوگوں کی وجہ سے آج گلگت بلتستان کے عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ غیرمقامی لوگ حکومتی اراکین اور اہل سیاست سے مل کر ہمارے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر لُوٹ رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حقوق پر کسی بھی قسم کی سودےبازی نہ ہو ۔ گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی کسی ملک کے قانونی شہری کہلائیں ۔کارگل سے لےکر ساچن تک کے ٹو سے لے کر کشمیر تک پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والے گلگت بلتستان کے باشندے اب کسی ریاست کے باشندے بنیں۔
گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔
ریفرنڈم کے عمل کو مزید شفاف بنانے اور عوام کو جبر اور دباو کے بغیر فیصلہ کرنے کا موقع دینے کے لیے بس یہی گزارش ہے کہ اقوام متحدہ کو نگران کے طور پر دعوت دی جائے تاکہ مسقتبل میں بھارت یاکوئی اور ملک اس حوالے سے اعتراض نہ کرے۔اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں جب قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب یہاں کے عوام کو گندم کی سبسڈی پرگزارا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ یہاں کے لوگ خود گندم کاشت کرنا شروع کردیں گے۔ اس وقت بدقسمتی سے زراعت کے حوالے سے نعرے تو خوب لگ رہے ہیں لیکن زراعت کے فروغ کے لیے کوئی خصوصی بجٹ نہیں۔ اسی طرح سیاحت کی صنعت بھی دم توڑی رہی ہے۔ ریفرنڈم کے بعد ممکن ہے کہ اس اہم شعبے میں جان پڑ جائے اور اس جنت نظیر خطے دروازے دنیا بھر کے سیاحوں پر کھل جائیں اور ملکی اور غیر ملکی سیاح بغیر کسی خوف کے یہاں سیاحت کے لیے آ جا سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق میں بیٹھے اہل دانش اس حوالے سے کب فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان عوام تو اس ریفرنڈم کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ آج تک وفاق کی طرف سے جو بھی بجٹ منظور ہوئے ہیں وہ عوام فلاح کے لیے کم اور سیاست دانوں کی ترقی پر زیادہ استعمال ہوئے ہیں جس کا واضح ثبوت تباہ حال انفراسٹرکچر، انحطاط پذیر سرکاری ادارے، خستہ حال گلگت سکردو روڈ، ٹوورازم ڈیپارٹمنٹ کے خستہ حال موٹل اور گلگت اور سکردو بازار کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ اپنی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ریفرنڈم ہے اور وفاق کو جلد از جلد اس مطالبےکو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ مقامی لوگ کے لیے پاکستان پہلے سے زیادہ اجنبی جگہ بن جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج

نندی پور منصوبے کا آغاز پیپلز پارٹی نے2008ء میں کیا، جو کچھ بدعنوانی کر سکتے تھے وہ کی اور چلے گئے، نواز شریف کی حکومت نے ڈھائی سال میں اس کی لاگت کو 22 ارب روپے سے81 ارب روپے پر پہنچا دیا لیکن اس منصوبے سےبجلی کا ایک یونٹ عوام کو نصیب نہیں ہوا۔ نندی پور پاور پراجیکٹ سے 1361 کلو میٹر دور سمندر کے کنارے دو کڑورکی آبادی والا شہر کراچی ہے۔ پورئے پاکستان کی طرح یہ شہر بھی بجلی کی کمی کے باعث لوڈ شیڈنگ کا بدترین شکار ہے۔ اس سال 20 جون سے کراچی میں گرمی بڑھتی چلی گئی اور درجہ حرارت 40 اور پھر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، اس گرم ترین موسم میں لوڈشیڈنگ نے سانس لینے کا بچا کچھا حق بھی چھین لیا۔ لوگ دم گھٹنے سے مرتے رہے، اندازہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کم از کم چار ہزار کے قریب تھی۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل دورانیئے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہےاور شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب بجلی کے نرخوں میں اضافے پے اضافہ ہورہا ہے لیکن شہریوں کو بجلی کی مسلسل ترسیل میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ۔
پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
نومبر2013ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے چین کی مالی و تکنیکی معاونت سے کراچی میں “کے ٹو اور کے تھری” نامی جوہری بجلی گھروں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا تو بظاہر اعلیٰ حکومتی حلقوں کو قبل از وقت اطلاع نہیں تھی۔ 20 اگست 2015ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں ہاکس بے کے قریب واقع کینوپ ایٹمی پلانٹ میں “کے ٹو” منصوبے کی کنکریٹ پورنگ منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ پاکستان کو کئی سالوں سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ کراچی کے ساحل پر ایٹمی بجلی گھر کینوپ 1972ء میں قائم کیا گیا تھا، اس کی پیداواری صلاحیت 137 میگاواٹ اور مدت 2002ء تک تھی مگر بعد ازاں اسے اپ گریڈ کرکے دوبارہ فعال بنایا گیا، اب اس کی پیداواری صلاحیت کم ہو کر 80 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ 2011ء میں بھاری پانی کے اخراج کے بعد اس پلانٹ کو کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور جب اس کی توسیع یعنی “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو بعض سائنسدانوں اور شہری تنظیموں نے اس پر خدشات کا اظہار کیا جس سے یہ منصوبہ متنازع ہوگیا۔ حکومت کے مطابق “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کے بعد یہ دونوں بجلی گھر گیارہ سو میگاواٹ فی کس کے حساب سے بجلی پیدا کر سکیں گے۔ ان پلانٹس کی تکمیل 2019ء اور 2020ء تک ہو سکے گی جس سے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوسکے گا۔ کراچی میں تعمیر کیے جانے والے ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں میں سے ہر ایک کی تعمیر پر تقریبا پانچ ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کے جوہری پاور پلانٹس کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ان جوہری تنصیبات کے حفاظتی انتظات پر خصوصی توجہ کے ساتھ کڑی نگرانی کرتا ہے تاکہ دنیا کے مروجہ قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان اقدامات سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آگاہ ہے۔ یہ ایٹمی پلانٹ چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کرنے ہیں۔ یہ ری ایکٹر نہ پہلے کہیں بنائے گئے ہیں اور نہ کہیں یہاں تک کہ چین میں بھی نہیں آزمائے گئے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔
عالمی رائے عامہ اب ایٹمی توانائی کے حق میں نہیں ہے زیادہ تر ممالک اسے چھوڑ چکے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے جوہری پلانٹ لگائے جا رہے ہیں جو شہریوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہوسکتے ہیں۔ جرمنی کی مثال سامنے ہے۔ امریکا میں پچھلے 44 سالوں سے کسی نئے ایٹمی بجلی گھر نے کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ کچھ زیرِ تعمیر ہیں لیکن وہ عالمی رحجان نہیں کہلا سکتے۔ چین ایک مضبوط مثال ہے، اس نے ایٹمی صنعت کی کئی کارپوریشنز تیار کی ہیں جنہوں نے تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور اب وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
سال 2014ء میں چین نے 20 گیگاواٹ صلاحیت کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ٹربائن لگائے ہیں۔ اگر چین اپنے پاس ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے اتنے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس پن بجلی کے منصوبے تیار کرنے کے لیے بھی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس ہوا سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چین سے قرضہ حاصل کرکے پن بجلی کی صنعت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ پن بجلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی تنصیب پر ایٹمی بجلی گھر سے آدھی لاگت آئے گی، جبکہ اس میں ایندھن کا کوئی خرچ نہیں ہوگا۔ پن بجلی ایٹمی بجلی سے سستی ہوگی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے کافی کام ہو رہا ہے اور ہر سال 50 ہزارمیگاواٹ صلاحیت کے نئے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو تو صرف 10 ہزار میگاواٹ کی ضرورت ہے تاکہ اپنی تمام ضروریات پوری کر سکے۔اس کے علاوہ سولر فوٹو وولٹیک ٹیکنالوجی ہے جس کی قیمت حال ہی میں کافی کم ہوئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں شمسی توانائی سے توانائی حاصل کرنے کا منصوبہ لگایا ہے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ کسی بھی حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں اِن مجوزہ ایٹمی بجلی گھروں کا نظام تباہ ہوا تو شہر میں قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ کراچی کے شہریوں اور ماہرین میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ تابکاری کے اثرات بہت زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ اِن بجلی گھروں میں ٹنوں کے حساب سے جوہری مادہ ہوتا ہے۔ اگر اس مادے کا صرف پانچ فیصد بھی خارج ہو تو کراچی کے لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔یہ بہت بڑے پلانٹ ہیں اور اتنے بڑے پلانٹ خود چین نے اس سے قبل نہیں بنائے اور یہ پہلا ماڈل ہوگا جو پاکستان میں لگایا جائے گا۔ یہ تو ایک تجرباتی ماڈل ہے اور اِس میں حفاظتی تدابیر کا کسی کو علم نہیں۔
صفِ اول کے ماہرِ فزکس عبدالحمید نیر سے جب پوچھا گیا کہ کراچی میں ری ایکٹرز کی تعمیر کی صورت میں آپ کی سب سے بڑی تشویش کیا ہے؟ تو اُن کا جواب تھا “ہمیں دو مسائل پر تشویش ہے۔ ایک یہ کہ اگر ان نئے ڈیزائن کے ری ایکٹرز کے ساتھ فوکوشیما یا چرنوبل کی طرز کا کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو کیونکہ زیادہ لوگوں کو اس ڈیزائن کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ہوگا، تو حادثے کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ فوکوشیما حادثے کے اثرات ری ایکٹر سے 30 کلومیٹر دور تک بھی دیکھے گئے تھے۔ کراچی میں جہاں اس ری ایکٹر کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے، اس کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ گنجان آباد ہے۔ اگر ان ری ایکٹرز میں کوئی خطرناک حادثہ پیش آتا ہے، تو یہ علاقے سالوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جس کا لازمی طور پر پاکستانی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ فوکوشیما کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر آبادی سے خالی کروایا گیا تھا، اور چار سال گزر جانے کے باوجود وہاں پر لوگوں کو واپس نہیں جانے دیا گیا ہے۔ سوچیں اگر اس طرح کا کوئی حادثہ کراچی میں پیش آجائے، تو کیا کراچی کو خالی کروانا آسان ہوگا؟ اگر ہم دو کروڑ لوگوں کو شہر سے نکالنے میں ناکام رہے، تو وہ ایٹمی تاب کاری کی زد میں آئیں گے”۔
ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر اعتراض کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے کا پہلے باقاعدہ طور پر جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ سندھ کی ساحلی پٹی میں ماہی گیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پاکستان فشر فوک فورم، مزدوروں کے حقوق کی علمبردارتنظیم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار لیبر، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ اور کئی دیگر تنظیموں نے ایٹمی بجلی گھروں کے ان نئے منصوبوں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو خطرات میں گھرنے اور طویل المدتی گھاٹے کے سودے سے تعبیر کیا۔سندھ ہائی کورٹ میں پروفیسر پرویز ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ نہیں کرایا گیا اور حادثے کی صورت میں لوگوں کے انخلا کا ہنگامی پروگرام بھی دستیاب نہیں۔عدالت کے حکم پر منصوبے پر کئی ماہ تک حکم امتناعی رہا لیکن بعد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی یقین دہانی کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔بہتر ہوگاحکومت پاکستان نہ صرف کراچی بلکہ ملک کے باقی حصوں سے بھی ایٹمی بجلی گھر کے منصوبے ختم کردے کیونکہ نندی پور پاور پروجیکٹ سےصرف مالی نقصان ہورہا ہے جو کرپشن پر قابو پاکر ختم کیاجاسکتا ہے، لیکن ایٹمی بجلی گھروں سے مالی اور جانی دونوں طرح کے نقصانات ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان میں نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج ہے اس لیے کراچی جیسےگنجان آباد شہر کے نزدیک ایٹمی بجلی گھر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

عمران خان میں تبدیلی آچکی ہے

جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔ آصف زرداری کی اُس وقت کی مالی بدعنوانیاں جو لاکھوں اور کروڑوں میں تھیں کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی۔ 1990ء میں اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر حکومت کو برطرف کردیا۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت نو ریفرنس عدالتوں میں دائر کیے گئے۔ لیکن پھر 1993ء میں اسی صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف حکومت کو برطرف کرنے کےلیے اُسی بدعنوان آصف زرداری سے بطور وزیر ایوان صدر میں حلف لیا، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے نو ریفرنس بھلادیے گئے کیونکہ مفاد پرست سیاست کی ضرورت تھی، احتساب کا معاملہ ٹھپ ہو گیا۔
آفتاب شیرپاؤ 1993ء کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اورصوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی منتخب ہوئے اور نومبر 1997ء تک بے نظیر بھٹو کی حکومت کی معزولی تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد نواز شریف دور میں نیب کی جانب سے ان پر بدعنوانی کے کئی مقدمات قائم کیے گئے۔ ان مقدمات کی وجہ سے وہ ملک سے باہر چلے گئے ۔2002ء میں ایک خفیہ ڈیل کے تحت واپس آئے اور پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی بعد میں اُس کا نام قومی وطن پارٹی رکھ دیا گیا۔ قومی وطن پارٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں کئی قومی اور صوبائی نشستیں حاصل کیں۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ق) کی حکومت کی حمایت اور اس دوران وزیرداخلہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ کئی خودکش حملوں میں بال بال بچے۔ 2008ء میں ہونے والے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے۔ جنوری 2009ء میں مائع گیس کے منافع بخش کاروبار میں مال بنانے والوں کی فہرست جاری ہوئی جس میں آفتاب شیرپاؤ کا نام بھی شامل تھا۔ اب اُن کے صابزادئے سکندر شیرپاؤ بھی سیاست میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور بہت مصروف سیاستدان ہیں ، اُ ن پر بھی خود کش حملے ہوچکے ہیں۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جب اپنی حکومت بنانے کی کوششیں شروع کیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کی بھرپورکوشش کی۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جب اپنی حکومت بنانے کی کوششیں شروع کیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کی بھرپورکوشش کی۔ اُس وقت طاقت کا توازن قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے ہاتھ میں تھا اور دونوں نے ہی اپنا اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ تینوں جماعتوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا تھا کہ صوبے میں کرپشن کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی بالا دستی کے لئے بھر پور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ تینوں جماعتوں نے اس عزم کو بھی دوہرایا تھا کہ یہ اتحاد پانچ سال تک برقرار رہے گا مگر صرف چھ ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ہی کئی معاملات پر اختلاف رائے اور متضاد پالیسیاں سامنے آنے کے بعدآخر کار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے مبینہ بدعنوانیوں کے الزام میں قومی وطن پارٹی کے دو صوبائی وزراء بخت بیدار خان اور ابرار حسین کو برطرف کردیا، جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قومی وطن پارٹی سے اتحاد کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔
قومی وطن پارٹی کے رہنما اورسینئر وزیر سکندر خان شیرپاؤ نے اپنی پارٹی کے دو صوبائی وزرا کو فارغ کیے جانے پرخود بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی پارٹی اب صوبائی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف پختون مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور وہ پختون قوم کو تباہی کے دہانے پر لے جانا چاہتی ہے۔ سابق سینر وزیر نے کہا کہ ٹھوس وجوہات کے بغیر قومی وطن پارٹی کے دو وزرا کو برطرف کرنا غیر اخلاقی عمل ہے اور ہماری پارٹی کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر وزرا کے معاملے پر قومی وطن پارٹی کو اعتماد میں لیاجاتا تو وہ دونوں وزرا کے خلاف سخت کارروائی کرتے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کا اتحاد جلد ہی ماضی کا ایک قصہ بنگیا اور عام لوگ اس بات کو بھول گئے کہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کبھی حکومتی اتحادی تھے۔ لیکن 30 مئی 2015ء کو بلدیاتی الیکشن کے موقعہ پرقومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان دوبارہ قربتیں پیدا ہوہیں، چند اضلاع میں دونوں کے درمیان پس پردہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہوئی/ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی اور بدنظمی کے خلاف سہ فریقی اتحاد کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے بائیکاٹ کے باوجود قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ اور ان کے رہنماؤں نے اے پی سی میں شرکت کی تھی جس کی وجہ سے حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کامیابی ملی تھی اور ہڑتال و شٹرڈاؤن ناکام ہوا تھا۔ پشاورمیں ایک پریس کانفرنس کے دوران قومی وطن کے پارٹی کے چئیرمین آفتاب شیرپاؤ نے کہا تھا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور ایسا ہی ہوا، تازہ اطلاع کے مطابق قومی وطن پارٹٰی کی دوبارہ صوبائی حکومت میں شمولیت کا معاہدہ ہوگیا ہے۔
عمران خان 126 دن کے لاحاصل دھرنے اور سول نافرمانی کی ناکام اپیل سے عوام کی بہتری کے لیے کوئی تبدیلی نہیں لاسکے لیکن شاید دھرنے کے دوران اُنہیں یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کی طرح اُنہیں بھی اسی مفاد پرست سیاست کا حصہ بننا پڑے گا
سب جانتے ہیں کہ عمران خان 126 دن کے لاحاصل دھرنے اور سول نافرمانی کی ناکام اپیل سے عوام کی بہتری کےلیے کوئی تبدیلی نہیں لاسکے لیکن شاید دھرنے کے دوران اُنہیں یہ بات سمجھ میں آگئی ہےکہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کی طرح اُنہیں بھی اسی مفاد پرست سیاست کا حصہ بننا پڑے گا جہاں نہ کوئی اصول ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی انصاف، صرف اور صرف لوٹ کھسوٹ کا بدعنوان نظام ہوتا ہے۔ اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے ہی غلام اسحاق خان نے بدعنوان آصف زرداری سے وزیر کاحلف لیا تھا، پرویز مشرف اور چوہدری شجات ایک ہی حکومت کا حصہ بنے تھے، پرویز مشرف نےبینظیراور دوسرے بدعنوانوں کےلیے این آر او بنایا تھا ۔اسی مفاد پرست سیاست کے طفیل آصف زرداری نے پانچ سال پورے ملک کو لوٹا اور نواز شریف دوستانہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے رہے اور آج اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے نواز شریف کےگرد لوٹے جمع ہیں۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جس قومی وطن پارٹی کے بدعنوان وزرا کی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے اُس کے دو صوبائی وزراء کو برطرف کردیاتھا اور اُن سے اپنا اتحاد ختم کرلیا تھا اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے دوبارہ اتحاد کرلیا ہے۔ عمران خان کو اس نئے یو ٹرن پرمبارکباد تو نہیں دی جاسکتی لیکن عام لوگوں کو یہ ضرور سمجھ لینا چاہیے کہ تبدیلی کے نعرے لگانے والے خود تبدیل ہوکراُسی بدعنوان نظام کا حصہ بن گئے ہیں جو گزشتہ انہتر سال سے پاکستان میں رائج ہے۔ دوستو پاکستان میں تبدیلی تو کیا آتی لیکن آپ کہہ سکتے ہیں عمران خان اور تحریک انصاف میں تبدیلی آچکی ہے۔ آخر میں ایک سوال قومی وطن پارٹی کے رہنما سکندر خان شیرپاؤ سے کہ تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کے وقت آپ نے تحریک انصاف پر الزام لگایا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت پختون مخالف پالیسیوں پرعمل پیراہے۔ کیا آپ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب تحریک انصاف کی حکومت نے پختون مخالف پالیسیوں پرعمل پیراہوناچھوڑ دیا ہے یا پھریہ مفاد پرست سیاست کا کمال ہے کہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی دوبارہ حکومتی اتحادی بن گئے ہیں۔ آغا شورش کاشمیری نے شاید اسی مفاد پرست سیاست کو سامنے رکھ کر کہا تھا؛
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
Categories
اداریہ

“حکومت سیاسی مفاد کے تحت سرکاری وسائل استعمال کرتی ہے”

campus-talks

خیبرپختونخواہ کے ضلع کڑک کے علاقہ بندہ داود شاہ میں قائم کالج عملہ اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ کڑک ضلع میں آل پاکستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلا س کے دوران طلبہ نے بندہ داود خان کالج فار بوائز میں سائنس کی تدریس کے لیے اساتذہ کی عدم تعیناتی، پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور سفری سہولیات میسر نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ جنوری کے اواخر میں ہونے والے اس اجلاس میں آل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مقامی صدررضا خان خٹک، عہدیداران اور طلبا نے شرکت کی۔
طلبا کا کہنا تھا کہ مقامی کالج میں سائنس پڑھانے والے اساتذہ کی نشستیں عرصہ دراز سے خالی ہیں اور انتظامی نااہلی کے باعث ان نشستوں پر نیا عملہ تعینات نہیں کیا گیا۔ طلبہ نے منتخب مقامی اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کالج کی مخدوش صورت حال سے لاتعلق قرار دیا۔
اجلاس میں شریک آل پاکستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر رضا خان کا کہنا تھا “حکومتی ترجیحات سیاسی مفادات ہیں اس لیے وہ وہاں رقم خرچ کرتے ہیں جہاں انہیں سیاسی فائدہ پہنچنے کی امید ہو۔تعلیم حکم رانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔” طلبہ نے حکومت سے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عملہ کی تعیناتی مطالبہ کیا۔
Categories
نقطۂ نظر

ایک نیا محاذ

گزشتہ دنوں”اکیسویں آئینی ترمیم اور دینی و سیاسی جماعتوں کے تحفظات” کے نام سے لاہور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ درحقیقت یہ ایک سیمینار سے زیادہ ایک نئے محاذ کا پیش خیمہ تھا۔ یہ محاذ کھولنے میں جہاں انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کا ہاتھ ہے وہیں حکومتی تذبذب بھی ذمہ دار ہے۔ 21ویں آئینی ترمیم کے لیے جب پہلی کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی تو اس وقت دینی جماعتوں کی طرف سے اختلافات اور اعتراضات سامنے نہیں آئے یا فوجی دباو اور عوامی ردعمل کے پیش نظرتحفظات کے باوجود اختلافات ظاہر نہیں کیے گئے۔ اختلافات کھل کر بیان نہ کرنے سے عام آدمی کو یہ تاثر ملا کہ شاید اس وقت مسلح افواج کے خوف کی وجہ سے اختلافات کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
اکیسویں (1 2 ) آئینی ترمیم کے لیے جب پہلی کل جماعتی کانفرنس بلائی گئی تو اس وقت دینی جماعتوں کی طرف سے اختلافات اور اعتراضات سامنے نہیں آئے یا فوجی دباو اور عوامی ردعمل کے پیش نظرتحفظات کے باوجود اختلافات ظاہر نہیں کیے گئے۔
اس وقت سیاسی قیادت فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہی ہےلہذا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاستدان اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کرتے اور اپنا نقطہ نظر اس انداز سے پیش کرتے کہ مسائل پیدا نہ ہوں۔اکیسویں(1 2)آئینی ترمیم آئین کے بعد 22ویں آئینی ترمیم کی باتیں شروع ہو چکی ہیں اور رائے عامہ کی تقسیم کا عمل شروع ہو چکا ہے۔سانحہ پشاور کے بعد فوری اقدامات کی یقیناًضرورت تھی لیکن یہ فوری اقدامات مستقبل میں اختلافات کا پیش خیمہ بن جائیں یہ نہ تو ملکی مفاد میں ہے نہ ہی مثبت سیاسی سوچ کے، کیوں کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا حصہ بن چکا ہے (چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے)اس میں فتح یاب ہونا ہی پاکستان کی بقاء کی ضمانت ہے۔
فوجی عدالتوں کےقیام کے لیے آئینی ترمیم پر جب صلاح مشورے شروع کیے گئے تو تمام سیاسی قیادت اس بات پر متفق تھی کہ یہ مستقل حل نہیں ہےاور وقتی ضرورت کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام ناگزیر ہے۔تاہم سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے دہشت گردی کے تدارک کے لیے سول عدالتی نظام کی خامیاں دور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی جو فوجی عدالتوں کے قیام سے کہیں اہم ہے ۔ بلاشبہ فوجی عدالتوں سے دہشت پسند عناصر اور دیگر جرائم پیشہ لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو گی لیکن اس سے انصاف کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے وعدے پر کیسے عمل ہو سکے گا۔ یہ تاثر بھی اب عام ہورہا ہے کہ پاکستانی سیاسی نظام شاید اس حد تک مخدوش ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے ہنگامی معاملات سے نمٹنے کا اہل نہیں رہا۔ لیکن اگر اس تاثر میں سچائی ہے بھی تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ متوازی نظام قائم کر دیا جائے بلکہ خراب نظام کی درستگی کے اقدامات کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ اسی طرح فوجی عدالتیں وقتی حل ہیں ، عدلیہ کے آزاد اور موثر ہونے تک دہشت گردی کا تدارک ممکن نہیں۔
اب جب کہ فوجی عدالتیں آئین کا حصہ بن چکی ہیں تو اختلافات کو ہوا دینا ان کی افادیت کو کم کر دے گااور اس اختلاف کو مذہبی یا فقہی رنگ دینا آگ بڑھکانے کے مترادف ہو گا۔ فوجی عدالتوں کے سر پہ جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے اس سے بری الذمہ ہونے کے لیے بہت سے قانونی پہلوؤں کو یقیناًمد نظر رکھا جائے گا۔یہ بھی امید کی جاسکتی ہے کہ فوجی عدالتیں کسی نہ کسی سطح پر سول عدالتوں کی کارکردگی پر اس طرح سے اثر انداز ہوں گی کہ عدالتیں انصاف کی فراہمی میں سست روی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے لائحہ عمل اختیار کریں گی جس سے عوام کا سول عدالتوں پر اعتماد بحال ہو گا اورحکومت پر بھی سول عدالتوں کو مناسب سہولیات کی فراہمی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔
اب جب کہ فوجی عدالتیں آئین کا حصہ بن چکی ہیں تو اختلافات کو ہوا دینا ان کی افادیت کو کم کر دے گااور اس اختلاف کو مذہبی یا فقہی رنگ دینا آگ بڑھکانے کے مترادف ہو گا۔
21ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں سیاستدانوں کی اہلیت سے زیادہ شاید فوج کے دباو کا اثر زیادہ تھا جس کے سامنے حکومت، حزب اختلاف اور مذہبی جماعتوں کو جھکنا پڑا۔ لاہور میں ہونے والی کانفرنس جسے بظاہر مذہبی و سیاسی کانفرنس کا نام دیا گیا تھا اصل میں دینی جماعتوں کا اجتماع تھا۔ اس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن کی بھرپور شرکت معنی خیز ہے۔ مولانا صاحب حکومت کے اتحادی ہیں لیکن موجودہ صورت حال میں وہ حکومت کے سب سے بڑے ناقد کے طور پہ سامنے آئے ہیں۔ مولانا نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے 21ویں ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کا تعلق مذہب،مسلک اور دینی مدارس سے جوڑا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بقول 90فیصد مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں لیکن انہوں نے 10فیصد مدارس کی نشاندہی بھی نہیں کی جو اس ناسور میں ملوث ہو سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے فروغ میں ملوث مدارس کے خلاف کارروائی کی صورت میں مذہبی جماعتوں کا ردعمل یقینی ہے۔مولانا صاحب نے مدارس کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کو اپنے خلاف کاروائی سے تعبیر کر لیا ہے۔ مدارس کی سرکاری نگرانی ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہا ہے لیکن اب ضروری ہے کہ امن پسند مدارس حکومت سے تعاون کریں تاکہ دہشت گردی کی ترویج میں ملوث مدارس اور علماء کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے اس مقصد کے لیے حکومتی ادارو ں اور مدارس کے درمیان اعتماد کی فضا قائم رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان محاذآرائی کے بعد اگر دینی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا تو یہ ایک اور محاذ کھولنے کے مترادف ہوگااور اس محاذ پر کامیابی کے لیے سیاسی حکومت کو اپنی سوجھ بوجھ استعمال کرنا ہو گی ۔ حکومت کو غیر ضروری لچک دکھائے بغیر دہشت گردی کی روک تھام کرنا ہو گی ۔ مولانا صاحب کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا کہ اگر ان کے تحفظات کے پیش نظر 22ویں ترمیم کی گئی تو پھر دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی ممکن نہیں ہو گی۔اس لیے جہاں حکومت وقت کو سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہو گا وہاں مولانا صاحب کو بھی ملکی سلامتی کے لیے کڑوی گولی نگلنی ہو گی اور اگر مدارس اپنے طور پرشدت پسند عناصر کی حوصلہ شکنی کریں تو شاید حکومت کوکارروائی کی ضرورت ہی نہ پڑے، نفاق و نفرت کے بجائے اتفاق و اتحاد پہ عمل پیرا ہو کر ہی یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔