Categories
نقطۂ نظر

انقلاب؛ کب، کیوں اور کیسے؟

ایک جانب جہاں معاشرے کی اکثریت سیاست سے بیزار، بدظن اور لاتعلق ہو چکی ہے وہیں ایک متضاد کیفیت یہ ہے کہ تقریباً ہر فرد اس بات سے متفق ہے کہ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہیئے۔
“انقلاب کب آئے گا؟ کشمیر کا مسئلہ کب حل ہو گا؟ تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اب تک کچھ بھی نہیں بدلا، آگے بھی کچھ نہیں بدلے گا ۔” اس قسم کی گفتگو اور تبصرے زبان زد عام ہیں۔ عام آدمی ہی نہیں بلکہ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کرنے والے کارکنان اور قائدین بھی نجی محفلوں میں اسی قسم کی گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کسی نہ کسی شکل میں سات دہائیوں سے جاری ہے پھر بھی آج یہ جدوجہد (بظاہر) منزل سے کوسوں دور نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ صرف ایسی سیاست کو کار آمد سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے فوری ذاتی یا اپنے حامیان کے مقاصد یا مفادات کا حصول ممکن ہو۔ مفاد پرستی اور موقع پر ستی سیاست میں کامیابی کے رہنما اصول بن چکے۔ نظریاتی اور انقلابی سیاست پہلے تو ناپید ہوئی، اور چند دیوانے جو ابھی تک اس قسم کی سیاسی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں انہیں پاگل سمجھا جاتا ہے۔ حقیقی آزادی اور انقلاب کی بات کرنے والے کو خیالوں کی جنت میں رہنے والا ایسا فرد سمجھا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نہ ہو۔

 

ایک جانب جہاں معاشرے کی اکثریت سیاست سے بیزار، بدظن اور لاتعلق ہو چکی ہے وہیں ایک متضاد کیفیت یہ ہے کہ تقریباً ہر فرد اس بات سے متفق ہے کہ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہیئے۔ مہنگائی، بےروزگاری، غربت، لوڈشیڈنگ، تعلیم اور علاج کا مہنگا ہوتا ہوا کاروبار، اور حکمرانوں کی لوٹ مار جیسے بے شمار مسائل ہیں جن کے خاتمے کی خواہش سب کے ذہنوں میں موجود ہے لیکن ان مسائل کے خاتمے کی عملی جدوجہد میں شمولیت اختیار کرنے کے سوال پر لوگوں اور نوجوانوں کی اکثریت بے عملی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ تبدیلی کی عملی جدوجہد میں شمولیت جتنی کم ہے، تبدیلی کی خواہش اور ضرورت اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاست سے عمومی بے زاری کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اب تک جن طریقوں سے یہ جدوجہد کی جاتی رہی، ان طریقوں کے غلط ہونے کی وجہ سے مسلسل ناکامیوں نے لوگوں کو سیاست سے دور کر دیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست میں تبدیلی اور انقلاب کے نعروں پر لوگوں کو مسلسل دھوکے دئیے گئے ہیں، چہرے بدل بدل کر غداریاں کی گئیں اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو استعمال کیا گیا اس لیے کسی حد تک نوجوانوں اور عام لوگوں کا سیاست سے نفرت اور بیزاری کا رویہ جائز اور بجا ہے۔ لیکن سیاست سے دوری اختیار کرنے کے باوجود تبدیلی کی خواہش اور ضرورت نہ صرف اپنی جگہ موجود ہے بلکہ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

 

یہ سوال درست ہے کہ اب تک اتنی طویل مدت جدوجہد کے باوجود کوئی تبدیلی کیوں نہیں آسکی؟ لیکن اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے ناکہ ا س سے یہ نتائج اخذکرنا کہ اگر اب تک تبدیلی نہیں آئی تو آگے بھی نہیں آ سکتی۔
اچھی تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات اور روزگار کے حصول میں مشکلات، معاشی ناآسودگی اور اس سے پیدا ہونے والی ذاتی اور خانگی پریشانیاں، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی اور قدرتی آفات کی صورت میں ناکافی امداد سمیت ہر قسم کے مسائل کا تعلق سیاست سے ہے۔ اس لیے سیاست سے بیزاری اور نفرت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یوں یہ مسائل ختم ہو جائیں گے یا تمام لوگوں اور نوجوانوں کو کبھی بھی سیاست میں دوبارہ دلچسپی لینے اور مداخلت کرنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔ عام لوگوں اور نوجوانوں کی مروجہ سیاست سے نفرت جائز اوردرست ہے، چونکہ یہ سیاست چند بڑے لوگوں کا کاروبار بن چکی ہے۔ مروجہ سیاست عام لوگوں سے اس قدر لاتعلق ہے کہ اس سے بیزاری لوگوں کے پسماندہ شعور کی بجائے بلند شعوری معیار اور سمجھ بوجھ کی عکاس ہے۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست کے مزاج سے بیزاری اور لاتعلقی کافی نہیں بلکہ اس مفاد پرستانہ سیاست کے خلاف سیاست میں متحرک ہو کر ہی اس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ سیاست سے مکمل لاتعلقی حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کو مکمل چھوٹ دینے کے مترادف ہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمارے وسائل کی سر عام لوٹ مار کرتے رہیں اور ہم محض تماشائی بنے رہیں، بے بس اور لاچارتماشائی جو کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ سوال درست ہے کہ اب تک اتنی طویل مدت جدوجہد کے باوجود کوئی تبدیلی کیوں نہیں آسکی؟ لیکن اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے ناکہ ا س سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ اگر اب تک تبدیلی نہیں آئی تو آگے بھی نہیں آ سکتی۔

 

اگر اب تک تبدیلی نہ آسکنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ آئندہ بھی تبدیلی نہیں آئے گی تو ہم مایوس، شکست خوردہ، ناکام اور مزید بے اختیار ہو جائیں گے اور ہمارے حکمران بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ اب تک جن نظریات اور طریقوں کے ذریعے تبدیلی کی جدوجہد کی گئی ہے اگر ان نظریات اور طریقوں کے ذریعے تبدیلی کا حصول ممکن نہیں ہو سکا تو بھی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں گئی بلکہ اس کے ذریعے ہم تک عملی جدوجہد کے یہ اسبا ق پہنچے ہیں کہ ان نظریات میں کیا خامیاں اور کمزوریاں ہیں۔ ہم ان تجربات سے اسباق سیکھتے ہوئے اپنی جدوجہد کو زیادہ درست بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تاریخ سے ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن سب سے دلچسپ مثال علم کیمیا کی تاریخ میں ہے۔ قرون وسطیٰ اور اس سے پہلے کے ادوار میں کئی صدیوں تک پارس پتھر دریافت کرنا اور کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنے کا طریقہ معلوم کرنا ‘الکیمیا’ کا واحد مقصد رہا۔ اس پتھر کے ساتھ ایسی خصوصیات منسوب کی گئی تھیں کہ یہ ہر دھات کو سونے میں تبدیل کر دے گا۔ کئی صدیوں تک بے شمار تجربات کیے جاتے رہے اور صدیوں کی لاحاصل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایسا کر نا ممکن نہیں لیکن اس کی دریافت کی خاطر جو تحقیق کی گئی اس کے ذریعے دھاتوں کی خصوصیات جاننا ممکن ہوا اور ان کی کیمیائی ساخت کے بارے میں بے شمار معلومات جمع کی گئیں جو جدید علم کیمیا کی بنیاد بنیں۔ یوں ایک ناممکن کے حصول کی بظاہر غیر ضروری جدوجہد اپنی ناکامی کے باوجود اگلی نسلوں کے لیے سائنس کی ایک انتہائی اہم شاخ اور شعبے کے قیام کے بنیادی لوازم فراہم کر گئی۔ اسی طرح ماضی کی تمام ناکام جدوجہدیں رائیگاں نہیں ہوتیں بلکہ مستقبل کی کامیاب جدوجہد کے لیے اسباق اور بنیادیں فراہم کر جاتی ہیں۔ ہم انقلاب اور تبدیلی کے اب تک نہ آنے سے دو قسم کے نتائج اخذکر سکتے ہیں، ایک مایوسی اور ناکامی کا اور دوسرا ان کوششوں کے تنقیدی تجزیے سے مزید جدوجہد کے لیے خام مال اور نظریات اخذ کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنے کا۔

 

ہم انقلاب اور تبدیلی کے اب تک نہ آنے سے دو قسم کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں، ایک مایوسی اور ناکامی کا اور دوسرا ان کوششوں کے تنقیدی تجزیے سے مزید جدوجہد کے لیے خام مال اور نظریات اخذ کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنے کا۔
اگر ہم تبدیلی کی جدوجہد کو درست بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے متحرک ہوں گے تو ہم نہ صرف اب تک تبدیلی کے نہ آسکنے کی سائنسی وجوہ کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اس سوال کا بھی درست سائنسی جواب بھی ڈھونڈ نکالیں گے کہ انقلاب کب اور کیسے آئے گا؟ جس معاشرے میں ہم نے جنم لیا ہے یہ ہمیں پہلے سے بنا بنایا اور تاریخی ارتقاء کے ذریعے نشو ونما پا کر موجود ہ مرحلے پر اس کیفیت میں ملا ہے۔ ہم اس کے مستقبل کے بارے میں درست طور پر صرف اس بنیاد پر سمجھ بوجھ حاصل کر سکتے ہیں جب ہم سماجی ارتقاء اور تاریخ کے ان بنیادی قوانین کو جاننے کی کوشش کریں گے جن کے تابع سماج ترقی کرتا ہے۔ انہیں قوانین کے ذریعے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سماج میں تبدیلی کیسے، کب اور کیوں کر جنم لیتی ہے اور ہم اس میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ عموماً کسی بھی معاشرے میں انقلابی تحریکیں روز روز نہیں جنم لیا کرتیں بلکہ ہر معاشرے میں طویل عرصہ تک بظاہر جمود اور معمول حاوی رہتا ہے۔ کئی دہائیوں تک سماج معمول کے ارتقائی مراحل سے گزرتا رہتا ہے جس کے دوران چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جنہیں مقداری تبدیلیاں کہا جاتا ہے۔ یہ مقداری تبدیلیاں مجتمع ہو کر ایک خاص مرحلے پر ایک معیاری تبدیلی یعنی انقلاب یا دھماکہ خیز تبدیلی کو جنم دیتی ہیں۔ اس لیے جب تک اس معیاری تبدیلی کے مرحلے کا آغاز نہیں ہوجاتا ہر سماج بظاہر ایسے ہی دکھائی دے رہا ہوتا ہے جیسے کچھ بھی تبدیل نہیں ہو رہا۔ ایسے ہی جمود کے ادوار ہوتے ہیں جیسا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کا ہے جس میں وہ تمام افراد جو سماجی تبدیلی کے بنیادی قوانین سے بے بہرہ ہوتے ہیں وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ در حقیقت تبدیلی کائنات کا سب سے بنیادی قانون ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز ہر لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کے دو مراحل ہیں، پہلا مقداری تبدیلی کا جس کے دوران تبدیلی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا، اور دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری تبدیلی کو جنم دیتی ہیں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔

 

تبدیلی کے دو مراحل ہیں، پہلا مقداری تبدیلی کا جس کے دوران تبدیلی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا، اور دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری تبدیلی کو جنم دیتی ہیں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔
ہم اگر آج کی دنیا سے مثالیں پیش کریں تو مصر میں 59سال تک کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ حسنی مبارک کی حکومت بظاہر بہت طاقتور نظر آرہی تھی لیکن 59سال بعد فروری 2011ء میں چند نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے نے اتنی بڑی تحریک کو جنم دیا جس نے حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا۔ 59سال میں جو کچھ نہیں ہوا تھا وہ 2011ء میں ہو گیا لیکن یہ بھی تبدیلی کا مکمل عمل نہیں تھا چونکہ حقیقی تبدیلی محض کسی انقلابی تحریک کے ابھار کے ذریعے ممکن نہیں ہوتی۔ انقلابی تحریک کو اگر درست نظریات، پروگرام اور راہنمائی فراہم کرنے والی انقلابی تنظیم میسر آجائے تب اس انقلابی تحریک کی طاقت سے صرف حکمرانوں کے تخت نہیں گرائے جاتے بلکہ اس کے ساتھ حکمرانوں کے نظام کو بھی اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا ہے۔ اکتوبر 1917 کے سوویت انقلاب کے معمار لیون ٹراٹسکی نے لکھا تھا “ایک انقلاب کی سب سے بنیادی اور ناقابل تردید خصوصیت عوام کی اکثریت کی تاریخی عمل میں پرزور اور فیصلہ کن مداخلت ہوتی ہے”۔

 

آج دنیا بھرمیں انقلابی تحریکیں ابھر رہی ہیں، ان تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے انقلابی نظریات پر مبنی ایک انقلابی تنظیم تعمیر کرنا ہو گی جو اس استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکے۔ چونکہ انقلابی تحریکیں اگر نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو پھر رد انقلاب ان معاشروں کو برباد ی سے دوچار کر دیا کرتے ہیں۔ تحریکیں سماجی قوانین کے تابع ابھرتی ہیں لیکن ان کو کامیابی سے ہمکنار کرنا باشعور انقلابیوں کا فریضہ ہوتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

تحریک انصاف میں موروثی سیاست

لاکھوں نوجوانوں کے ہردلعزیز رہنما عمران خان نے 2013کے عام انتخابات کی مہم کے دوران جلسوں اور جلوسوں سمیت پاکستانی روایتی سیاست کا انداز مکمل طور پر تبدیل کر دیاتھا۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور اور مردان سمیت ملک کے جس کونے میں خان صاحب مہم کے سلسلے میں گئے لاکھوں کا مجمع جمع کیا ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے جلسوں نے کسی حد تک زلفی بھٹو کی یاد تازہ کی تھی۔ جب بھٹو مرحوم روایتی سیاست اور سیاسی جادوگروں کے خلاف پنجہ آزمائی کررہے تھے اور اسلامی اشتراکیت کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کررہے تھے تو ان کے جلسوں میں بھی ایسا ہی جوش و خروش دیکھنے کو ملتا تھا۔ مغربی پاکستان کے عوام جو ایک فوجی جرنیل اور اس کے کاسہ لیسوں کے طرز حکم رانی سے عاجز آ گئے تھے بھٹو کے پیچھے دیوانہ وار بھاگنے لگے۔ اگرچہ روٹی ،کپڑا اور مکان بھی بعد میں سراب ثابت ہوا لیکن بھٹو کا طرزسیاست عوامی سیاست کی بنیاد ڈال گیا۔ شکر ہے کہ ہمارے عوام ہر ناکامی کی ذمہ داری خدا کی مرضی پر ڈال دیتے ہیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ نہ بھٹو اب تک زندہ ہوتا اور نہ عمران خان صاحب کے جلسوں میں رونق ہوتی۔
اگرچہ تحریک انصاف کے متوالوں کا جنون اور دیوانہ پن ابھی تک جوان ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کم از کم خیبر پختونخوا میں یہ چکا چوند ماند پڑنے کو ہے۔
تبدیلی اور مورثی سیاست کا خاتمہ پی ٹی آئی کا منشور اور نعرہ ہوا کر تا تھا اور اب بھی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ وعدے بھی محض ڈھکوسلے ہی ثابت ہوئے۔ خان صاحب کے آمرانہ رویے اور جماعت میں شامل ہوجانے والے لوٹوں نے اس جماعت کو بھی روایتی اور موروثی سیاست کی راہ پر گامزن کردیاہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے متوالوں کا جنون اور دیوانہ پن ابھی تک جوان ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کم از کم خیبر پختونخوا میں یہ چکا چوند ماند پڑنے کو ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کااپنے نظریات سے روگردانی کرنا ہے۔مورثی سیاست کی بدترین مخالف جماعت نے حال ہی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران وہ سب کچھ کیا جو پاکستان کی دوسری کرپٹ اور بدعنوان سیاسی جماعتوں کا خاصہ ہے۔ نوے روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا وعدہ کرنے والی جماعت نے اس وعدے کی تکمیل میں ڈھائی برس لگا دیئے۔ انتخابات کے دوران اقربا پروری عروج پرتھی۔
موروثی سیاست بتدریج تحریک انصاف میں سرایت کرتی جارہی ہے۔ ضلع اور تحصیل ناظمین کے چناو کے دوران خیبر پختونخواکے وزیر اعلیٰ نے اپنے بھائی کو اپنے آبائی ضلع کا ناظم نامزد کیا کیوں کہ خٹک صاحب نے مستقبل میں بھی سیاست کرنی ہے اور اس کے لیے ضلعی انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے۔صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی ڈی آئی خان کے تحصیل ناظم، صوبائی وزیر امتیاز قریشی کے بھائی کوہاٹ کے ضلعی ناظم ، ٹانک سے ممبر قومی اسمبلی کے بھائی مصطفیٰ کنڈی ناظم، ایم پی اے احتشام اکبر کے چچا تحصیل ناظم، ایم پی اے سمیع اللہ علیزئی کے کزن عزیز اللہ ضلع ناظم اورپی ٹی آئی چارسدہ کے عہدیدار اور صوبائی نشست کے امیدوارطارق اعظم کابھتیجا اپنے حلقے ناظم منتخب ہوا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم منصفانہ نہیں تھی بلکہ تحریک انصاف کے عہدیداروں نے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لوگوں کو ٹکٹ دلوائے
بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم منصفانہ نہیں تھی بلکہ تحریک انصاف کے عہدیداروں نے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لوگوں کو ٹکٹ دلوائے۔بنی گالہ میں خصوصی اثرورسوخ کے حامل وزیر تعلیم عاطف خان نے دو مرتبہ عام انتخابات ہارنے والے صاحب کومردان کا ناظم اعلیٰ بنانے کی تجویز دی تھی ۔ انتخابات کے دوران تحریک انصاف میں موجود دھڑے بندی بھی کھل کر سامنے آئی۔ مردان سمیت بیشتر اضلاع میں اراکین اسمبلی اور عام کارکنان ناظمین کے چناؤ کے سلسلے میں ایک صفحے پر نہیں تھے۔ سرکردہ رہنماوں کے مابین بھی اختلافات نظر آئے جو وقت گزرنے کے ساتھ شدید ہونے کا اندیشہ ہے۔
پاکستانی سیاست 2013سے پہلے جہاں تھی وہیں واپس لوٹ آئی ہے۔ مجھ جیسے احمق جو یہ سوچ رہے تھے کہ عمران خان نے سیاست کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر عام لوگوں کو شعور دیاہے ان کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں۔ بنی گالہ کے غلط فیصلوں نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ بلاول ہاؤس، مسلم لیگ ہاؤس اور پختونخوا ہاؤس والوں کی طرح پی ٹی آئی کا بھی ایک کیمپ ڈیوڈ ہے جہاں پر سادہ لوح عوام کو ماموں بنایا جاتا ہے۔
مزے کی خبر تو یہ ہے کہ عمران خان نے ناظمین کے انٹرویو خود کیے تھے لیکن ہوا وہی جو ہوتا آیا ہے یعنی کارکن نظر انداز کر دیئے گئے اور سفارشیوں کو نوازدیا گیا۔ پشاور سے تحریک انصاف کے فعال کارکن بیرسٹر یونس ظہیر کے ساتھ ایسا ہی ‘ہتھ’ ہوا ہے۔ یونس کے ساتھ پی کے 2 کا ٹکٹ دینے کا کا وعدہ کیا گیا لیکن پھر این اے 1کے ضمنی انتخاب پر ٹرخا دیاگیا۔ اور بالآخر اعلیٰ تعلیم یافتہ یونس ظہیر کو باؤنڈری کے اس پار بارہواں کھلاڑی بنا کر دھکیل دیاگیا ۔ ڈرون حملوں کے خلاف پشاور میں کئی ماہ جاری رہنے والا دھرنا یونس ظہیر نے کامیا ب کرایا تھا لیکن اسے اس کی کارکردگی کا خاطر خواہ صلہ نہیں دیا گیا۔
ان حالات میں لگتا ہے کہ واحد تبدیلی جو تحریک انصاف کی وجہ سے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جلسوں میں ڈھول بجتے تھے اور اب ڈی جے سسٹم چلایا جائے گا
تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ چکی ہے۔ یہ نعرہ بھی سراب ثابت ہوا ہے صحت اور تعلیم میں تبدیلی کےبلند بانگ وعدےمحض انتخآبی شور ثابت ہوئے ہیں۔ میں نے بنی گالہ تک رسائی رکھنے والے ایک صاحب سے پوچھا کہ تعلیم کے شعبے میں پی ٹی آئی کس قسم کی تبدیلی لائے گی تو جناب گویا ہوئے کہ “ہیلی کاپٹر والے صاحب” نے اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جو پہلے سہ ماہی میں لاگو ہوگی۔ تحریک انصاف کے عودوں کے برعکس ڈھائی سالوں میں یکساں نظام تعلیم کا مسئلہ جو ں کا توں ہے۔خیبرپختونخواہ میں اسد قیصرکے قائد اعظم سکول سسٹم اورخورشید قصوری صاحب کے بیکن ہاوس سکول سسٹم کے ہوتے ہوئے یکساں نظام تعلیم کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا۔ صحت کی وزارت صوابی کے ایک صنعت کار کے بیٹے کے پاس ہے جو کبھی معائنے کی غرض سے کسی سرکاری ہسپتال نہیں گئے۔ ان حالات میں لگتا ہے کہ واحد تبدیلی جو تحریک انصاف کی وجہ سے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے جلسوں میں ڈھول بجتے تھے اور اب ڈی جے سسٹم چلایا جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

ایک سیاسی جماعت کیسی ہو

دل چاہتا ہے کہ دو ڈیڑھ سو ٹی-وی چینلز ہوں، اِدھر اُدھر ڈرون کیمرے اڑ رہے ہوں، اخبارات کے نمائندے ہوں، صحافی ہوں، میں اسٹیج پر جلوہ افروزہوں اور گرج گرج کر اپنا موقف سب کے گوش گذار کروں۔خیر میں اتنا اہم تو نہیں ہوں، جو اتنا تام جھام میرے لیے کیا جائے۔ یاسیت طاری ہونے کو تھی کہ یاد آیا کہ میں ایک بلاگر ہوں، نام نہاد ہی صحیح، لیکن ہوں تو ،میرے کالموں پر بھی اکا دُکاتبصرے ہو ہی جاتے ہیں، توبس میں نے تہیہ کر لیا کہ اپنی اُس تقریر کو جو میڈیا کے سامنے کرنی تھی کالم کی شکل میں لکھ ڈالتا ہوں۔
اگرچہ ہر سیاسی جماعت نظریاتی ہونے کی دعویدار ہے اورسیاسی جماعت کوئی مراعات بانٹنے والا کلب یا جم خانہ نہیں ہے لیکن ہمیں اکثر سیاسی جماعتوں میں اقربا پروری کی سوچ کارفرما نظر آتی ہے۔
ایک مثالی سیاسی جماعت کیسی ہونی چاہیے،سیاسیات کے طالب علم سے پوچھیں تو غالباً وہ کہے گا کہ اسے نظریاتی ہونا چاہیے، اس کی قیادت بدعنوانی سے پاک ہو، جمہوری ہو وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بر عکس اگر کسی سیاسی جماعت کے کارکن سے پوچھا جائے کہ سیاسی جماعت کیسی ہونی چاہیےتو اس کا جواب کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ سیاسی جماعت کو پارٹی کارکنان کا غم خوار ہونا چاہیے، اقتدار میں آتے ہی تمام کارکنوں کے لیے نوکری کا انتظام کرنا چاہیے، پارٹی عہدیداران کے لیے ترجیحی بنیادوں پر صحت، تعلیم اور رہائش کی سہولیات کا بندوبست کرنا چاہیے۔ ہرکارکن کو پولیس اور قانون سے استثنیٰ مل جانا چاہیے، سڑکیں اور عمارتیں بنانے کے ٹھیکے پارٹی وفاداران میں ہی بٹنے چاہیئں وغیرہ وغیرہ۔ اگرچہ ہر سیاسی جماعت نظریاتی ہونے کی دعویدار ہے اورسیاسی جماعت کوئی مراعات بانٹنے والا کلب یا جم خانہ نہیں ہے لیکن ہمیں اکثر سیاسی جماعتوں میں اقربا پروری کی سوچ کارفرما نظر آتی ہے۔
میرے خیال میں دورِ حاضر میں سیاستدانوں کو ان کی تعلیمی و پیشہ ورانہ قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر چننا چاہیے، ایک بہترین سیاسی منظر کچھ یوں ہوگا کہ سیاستدان نظم عامہ،فلاح عامہ، سیاسیات اور ترقیاتی علوم میں ماسٹرز بلکہ ایک آدھ پی-ایچ-ڈی کھڑکانے کے بھی موڈ میں ہوں۔ لیکن ایسا کرنے سے کیا سماج کا حقیقی آبادیاتی رخ سامنے آسکے گا؟ ویسے کچھ ماہرین ڈگریوں کی قدغن کو بھی جمہوریت کی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ کئی دفعہ سندیافتہ افراداشرافیہ کے رشتہ دار نکلتے ہیں اورپرولتاریہ کے مسائل سے انہیں کوئی خاص سروکار نہیں ہوتا۔
بقول ایک سیاستدان ’ان پڑھ لوگوں کے نمائندے بھی ان میں ہی سے ہونے چاہئیں‘ کاش کہ ان کا مقصد ہاری کا نمائندہ ہاری، کسان کا نمائندہ کسان اور مزدور کا نمائندہ مزدور منتخب کرنے کا ہوتا لیکن دراصل ان کے کہنے کا مطلب، ایک ان پڑھ مزدور کا نمائندہ ایک ان پڑھ سردار، ایک ان پڑھ ہاری کا نمائندہ ایک ان پڑھ چوہدری اور اسی طرح دیگر ان پڑھ مخدوم، جاگیردار، ملک، خان زادہ، لغاری، مزاری، زرداری نامزد اور منتخب کرنا تھا۔
آسان الفاظ میں بات کچھ یوں ہوگی کہ جنوبی پنجاب کے ایک مفلوک الحال علاقے کو جمشید دستی ہی سمجھ اور اپنا سکتا ہے اور لمز یا بیکن ہاوس سے تعلیم یافتہ بابو ان افراد کی نمائندگی صحیح طرح نہیں کرسکتا ۔ لیکن آخر جمشید دستی میں ایسا کیا ہے جو بڑے بڑے ڈگری یافتہ افراد کے پاس نہیں ہے؟ جمشید دستی کے پاس جذبہ انسانیت ہے، میرے ایک صحافی دوست نے اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ ایک دفعہ مجھے سنایا تھا، بقول اس کےجمشید دستی اپنے علاقے میں ’ون فائیو‘ کے نام سے مشہور ہے، مطلب یہ کہ اس کے علاقے میں اگر کوئی بھی اس سے کوئی شکایت کرے تو وہ فوراً اس جگہ پہنچ کر مسئلہ حل کرواتا ہے، علاوہ ازیں وہ اپنے علاقے میں اپنے ذاتی خرچہ پر ایک عدد بس خود ڈرائیو کرتا ہےتاکہ علاقہ کے لوگ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایک سیاسی جماعت کو ایک انتہائی فعال اور کم خرچ بالا نشیں غیر سرکاری تنظیم کی طرح ہونا چاہیے،جتنے بھی دعوے اور وعدے کوئی جماعت اپنے منشور میں کرے ان کا تجربہ بطور پائلٹ پروجیکٹ کر کے دکھائے۔
اگر ہم خالصتاً کتابی تشریحات کی نظر سے دیکھیں تو وہ غلط کر رہا ہے، ممبر قومی اسمبلی کا کام تو قانون سازی اور دیگر محکمہ جات و افسران سے کام کروانا ہوتا ہے، اسے کیا پڑی ہے خود ہی کام میں جت جانے کی، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کے جو شخص رضاکارانہ طور عوام کا بھلا نہیں کرسکتا اس سے قانون سازی کی توقع کرنا بھی عبث ہے۔آپ کہیں گے کہ اس کا کام قانون سازی ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کس بات پر قانون سازی کرے گا، کن اعداد و شمار اور تحقیقات کو اپنا محور بنائے گا؟ اگر افسر شاہی کی مانے گا تو افسر شاہی ہی مضبوط ہوگی، اگر پارٹی پالیسی مانے گا تو فوائد و ثمرات صرف پارٹی کارکنان اور ہمدردان تک ہی محدود ہوجائیں گے۔ اور اگر کسی این-جی-او کی دی ہوئی تجویز پر عمل کرے گا توعطیہ کنندگان تو ضرور خوش ہوں گےعوام کا پتہ نہیں لیکن اگر وہ خود عوام الناس کے درمیان موجود رہے گا تو اسے ہر مسئلہ کا حل ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایک سیاسی جماعت کو ایک انتہائی فعال اور کم خرچ بالا نشیں غیر سرکاری تنظیم کی طرح ہونا چاہیے،جتنے بھی دعوے اور وعدے کوئی جماعت اپنے منشور میں کرے ان کا تجربہ بطور پائلٹ پروجیکٹ کر کے دکھائے۔ بجائے اس کے کہ اقتدار میں آکر اپنے منشور کے تحت عوام کو تجربات کی زد پر رکھیں اقتدار میں آنے سے قبل لوگوں کو اپنی کارکردگی کا نمونہ پیش کریں۔ انہیں جو کرنا ہے پہلے پارٹی فنڈ کے بل بوتے پر کریں عوام کے ٹیکس سے نہ کھیلیں۔ عوام بے وقوف نہیں ہیں، کہ لاکھوں، کروڑوں کے جلسے، جلوس اور اشتہاری مہمات دیکھ کر سیاسی جماعتوں کے فنڈز کا اندازہ نہ لگائیں۔
ایم-این-اے، ایم-پی-اے اور یو-سی کونسلر کے امیدوار کے پاس ڈگری ہو نہ ہو، رضا کارانہ کاوشوں کا تجربہ ضرور ہونا چاہیے۔ ان کی مہم؛ ’میں یہ کروں گا! ہم وہ کریں گے!‘ پر نہیں، ’بلکہ ہم یہ کر چکے ہیں! آپ ہمیں یہ سب کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں!‘ پر مبنی ہونی چاہیےاور عوام کو جس کا پائلٹ پروجیکٹ اچھا لگے اسے ووٹ دے دینا چاہیے۔ٹینڈر بانٹنے اور آزاد معیشت کے طریق مسابقت کے تحت سیاسی جماعتوں کا انتخاب کوئی برا حل نہیں۔
Categories
گفتگو

سیاسی گالم گلوچ

کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر مجھے تو اب لگنے لگا ہے کہ پاکستانی سیاست کا دماغ بھی نہیں ہوتا۔ کہنے کو تو میرا دل بھی بہت کچھ چاہتا ہے مگر کیا کروں صاحب نہ تو میں کسی پارٹی کا چئیرمین ہوں نہ ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، نہ سندھ کا وزیرِجیل خانہ جات اور نہ ہی پاکستان کا وفاقی وزیرِ داخلہ، نہ قائد انقلاب ہوں اور نہ کسی مذہبی جماعت کا امیر۔ میں تو غریب ہوں بلکہ عجیب و غریب جسے صبح کی روشنی نکلنے سے رات کی تاریکی طاری ہونے تک ہر تاریخ، دن اور مہینہ بہتری کی ایک امید کے سہارے گزارنا پڑتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میری پھر بھی مزے میں گزر جاتی ہے اور پھر ایک دنگزارا کرتے کرتے میں ہی گزر جاتا ہوں۔
آپ چاہیں تو “تم اتنے مہاجرکیوں ہو یار”، “بہت ہی کوئی مہاجر کا بچہ ہے تُو”، “بندہ سب کچھ ہو مہاجر نہ ہو” یا پھر اپنے خان صاحب کے انداز میں اس گالی سے پہلے “اوئے” لگا کراس لفظ کے مفاہیم میں جدت طرازی کے نئے افق تلاش کر سکتے ہیں۔
خیر ایک نہ ایک روز گزرنا تو سبھی کو ہے وہ بھی بنا کسی پروٹوکول کے ،چاہے بھلے عام آدمی ہو ہو یا حکم ران۔ انہیں بھی جو خدائی کا دعویدار ہیں اور اُنہیں بھی جنہیں اپنے انسان ہونے کا گمان ہے۔لیکن عقل کے یہ اندھےکب کچھ سمجھے ہیں جو اب ان سے امید لگائی جائے۔ بہرحال عقل ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ہونا تو بس مینڈیٹ چاہیے۔کہتے ہیں مینڈیٹ اور کچی شراب کا نشہ مرنے کے بعد ہی اترتا ہے اور اِن دونوں نشوں میں چُور ہو کر مرنے والے کو آج کل فیشن کے طور پر”شہید” کہا جاتا ہے بالکل اُسی طرح جس طرح چند ماہ قبل امریکہ کے ہاتھوں مرنے والا کتا بھی شہادت کے رتبے پر فائز کیا جا چکا ہےخیروہ تو مولانا ہیں جسے جب اور جہاں چاہیں فائز کرواسکتے ہیں۔یوں بھی ہیں تو وہ بھی اسی پاکستانی سیاست کے ایک منجھے ہوئے کھلاڑی، اور سیاست بھی وہ جسے کھیلنے کے لئے عقل کا ہونا شائدلازمی شرط نہیں ۔اِسی لئے ہمارے مُلک کے بڑے بڑے سیاستدان آج تک یہی سمجھتے ہیں کہ ملکی گاڑی واقعی پانی سے چل سکتی ہے۔
ہماری سیاست میں گالیوں اور گولیوں کا چلن بھی نیا نہیں اور نہ ہی صحافیوں اور سیاستدانوں کے اعلٰی عدلیہ،مخالفین اور ہر آئے گئے کے خاندانی رشتوں میں ابہام پیدا کرنے کے بعد عدالتوں میں مکر جانے کی روایت نئی ہے۔حتیٰ کہ ایک صاحب تو سرحد پار سے آئے پاکستانیوں کو ہی گالی قرار دے کر مکر گئے ہیں۔ اسے میری بد قسمتی جانیے یا حُسنِ اتفاق کہ راقم بھی اِسی گالی آلودہ طبقہ کی دوسری تیسری نسل کا فرد ہے یعنی آپ مجھے “مہاجر بچہ” لکھ، پڑھ، سمجھ اور پکار سکتے ہیں۔ آپ اپنے مزاج کی گرمی اورشدت کے مطابق اس گالی کے ہمراہ مختلف صیغوں،سابقوں اورلاحقوں کا استعمال فرما کر دل کی مزید بھڑاس بھی نکال سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو “تم اتنے مہاجرکیوں ہو یار”، “بہت ہی کوئی مہاجر کا بچہ ہے تُو”، “بندہ سب کچھ ہو مہاجر نہ ہو” یا پھر اپنے خان صاحب کے انداز میں اس گالی سے پہلے “اوئے” لگا کراس لفظ کے مفاہیم میں جدت طرازی کے نئے افق تلاش کر سکتے ہیں۔
میری نظر میں کسی کو گالی دینے اور کسی کے وجود کو گالی بنا دینے میں بڑا فرق ہوتا ہے اور یہی فرق اب مزید واضح ہوتا نظر آرہا ہے۔مہاجرطبقہ کو ماضی میں ہندوستانی، مکڑ، مٹروے اورپناہ گیر کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا تھا۔پاکستان 1947 میں بن چکا تھا تو یہاں رہنے والے تمام لوگوں کوپاکستانی کہا اور پکارا جانا چاہیے تھا اور جب یہ تمام “ہندوستانی” پاکستان بننے کے بعد سندھ آکر یہاں رچ بس گئے تھے اگر انہیں تب ہی مکڑ، مٹروا یا پناہ گیر قرار دینے کی بجائے سندھی مان لیا جاتا تو انہیں اِس مہاجر شناخت کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور نہ ہی مہاجر ہونے کو آج ایک گالی قرار دینا پڑتا۔ بہرحال ہمارے چند سیاسی دوست جو گزشتہ تین دہائیوں سے مہاجروں کی نمائندگی کرنے کا دعوی کر رہے ہیں وہ اج پھر “متحدہ” سے “مہاجر” ہو چکے ہیں۔
جہاں تک بات ہے متحدہ کے مہاجر کارڈ استعمال کرنےیا مہاجر قومی موومنٹ کی طرف واپسی کی تو بھائی مت بھولئے کہ الیکشن 2013 کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں ووٹ کی تقسیم لسانی بنیادوں پر ہے ورنہ اے این پی پنجاب سے، نواز لیگ سندھ سے جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پنجاب اور کے پی کے سے ضرور کامیاب ہوتے اورپاکستان پیپلز پارٹی جیسی قومی سطح کی جماعت کو اپنا چئیرمین لانچ کرنے کے لئے اُسے ایک سندھی قوم پرست لیڈر کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
جو جماعت اپنے نومولود پارٹی چیئرمین کی لندن میں انڈہ ٹماٹر سے تواضع کرنے والے مخالفین کو “بھارتی ایجنٹ” اور” کشمیر کاز کا دشمن” قرار دے سکتی ہےاسے اپنے مخالفین سےبھی کسی بھی حد تک جانے کی امید رکھنی چاہئےکیونکہ صاحب ہے تویہ سیاست ہی۔
خیر صاحب ذکر تھا گالی کا تو بات اب گالی سے نکل کر توہینِ رسالت تک جا پہنچی ہے۔ گالی والے اس بیان کا مہاجر سیاسی پنڈتوں نے جب جائزہ لیاہوگاتو اس کے قریباً سارے ہی پہلو زیرِبحث آئے ہوں گے جس میں شائد سب سے اہم پہلو ہی اس بیان کو مذہبی تناظر میں دیکھنا اور دکھانا قرار پایا ہوگا۔جوں ہی ایم کیو ایم کی جانب سے توہین کا معاملہ شروع ہوا مجھ سمیت سبھی لبرل “نمونوں” نے ایم کیو ایم کے لبرل پارٹی ہونے کے باوجودمذہب کی آڑ میں سیاسی مقاسد کے حصول پرسخت تنقید شروع کردی۔مگر ہم سب یہ بھول گئے کہ یہ سیاست کے کھیل ہیں اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوا کرتا ہاں اگر سیاست کرنے والوں کی کھوپڑی میں دماغ ہو تو مخالفین کو ایسے مواقع ملیں ہی کیوں؟ ایک ایم کیو ایم ہی کیا جناب پورا ملک دفعہ 295 کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہاہے۔ خود پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ حکمرانی میں اپنی ہی پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر کی ممتاز قادری کے ہاتھوں شہادت کے بعد اس موضوع پر بات کرنا تک چھوڑ دیاہے۔ ایک دہائی سے زائدعرصہ ملک پر حکومت کرنے کے باوجود اِس قانون کو بہتر شکل دینے کے لئے عملی اقدامات نہ کرنا بھی پیپلز پارٹی کے لبرل ہونے کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔جو جماعت اپنے نومولود پارٹی چیئرمین کی لندن میں انڈہ ٹماٹر سے تواضع کرنے والے مخالفین کو “بھارتی ایجنٹ” اور” کشمیر کاز کا دشمن” قرار دے سکتی ہےاسے اپنے مخالفین سےبھی کسی بھی حد تک جانے کی امید رکھنی چاہئےکیونکہ صاحب ہے تویہ سیاست ہی۔