Categories
نقطۂ نظر

شریف برادران کے دو اہم کام

تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا، فارغ وقت میں میاں صاحبان اورنج ٹرین کا شوق بھی پورا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کوٹلی آزاد کشمیر میں100میگاواٹ کے گل پور ہائیڈرو پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد فرمایا کہ پاکستان کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ یہاں 60 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ مقدار میں سستی بجلی بنانا اُن کا مقصد ہے۔ بات تھوڑی سی کڑوی مگر سچ ہے کہ یہ جو آئے دن وزیراعظم صاحب کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کاافتتاح کرتے ہیں اس سے عوم کو اب تک ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا، آج تک عوام کو بجلی کاایک یونٹ نصیب نہیں ہوا ہے۔ نندی پور کا پراجیکٹ 22 ارب روپےسے 81 ارب روپےپر چلاگیا جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں گیارہ ارب 54کروڑ روپے سے زائد مالیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔عوام کو بجلی نہیں مل رہی ہے لیکن حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کے نام پر عوام کو بیوقوف بنارہی ہے۔
تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعدنواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا

 

انتخابات کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن وہ حکومت میں آکر بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف دو برس میں ہی ختم کر دیں گے،اب کہا جارہا ہے کہ لوڈشیڈنگ2018ء میں ختم ہوگی۔ لوڈشیڈنگ تو ختم نہیں ہوئی لیکن نواز شریف حکومت کے دو سال پورے ہونے پر بجلی کی قیمتوں میں 121 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔اس اضافے نے عام آدمی کو زندہ در گور کردیا ہے۔

 

روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے، حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، غربت، بےروزگاری اورمہنگائی میں کئی سو گنا اضافہ، حکمرانوں کے شاہانہ انداز نے ملک کے غریب اور متوسط طبقات کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ لوگ اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے ہیں۔ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی کو مرنے کی بہت جلدی تھی حالانکہ اس حاملہ خاتون نے جن وجوہ کی وجہ سے تیزاب پی کر خودکشی کی وہ پاکستان میں بہت عام ہیں۔اُس کا شوہرگزشتہ چھ ماہ سے بے روزگار تھا جس کی وجہ سے اُس کے مالی حالات بہت خراب تھے ایسے میں شاید اُسے صحیح خوراک بھی نہ ملتی ہو جو ایک حاملہ خاتون کو ملنی چاہیے، اُوپر سے پانچ ہزار روپے بجلی کا بل آگیا جسے درست کروانے میں ناکامی کے بعدمیاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ اپنے شوہر سے جھگڑے کے بعد ثمینہ بی بی نے دل برداشتہ ہوکر تیزاب پی لیا اور مرنے سے قبل ایک بچے کو جنم دیا، ثمینہ بی بی نے موت کو آسان راستہ سمجھ کر اپنا لیا۔ ثمینہ بی بی اور اُس کے شوہر کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کی 20کروڑکی آبادی میں 30لاکھ 58 ہزار لوگ بے روزگار ہیں اور بجلی کے وزیربڑی فرعونیت سے فرماتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے عوام کو یہ کڑوی گولی تو نگلنی پڑے گی، ثمینہ بی بی اسی کڑوی گولی کا شکار ہوگئی، کیا ثمینہ بی بی کی اس موت پر خواجہ آصف کو کچھ حیا یا شرم آئے گی؟
لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں

 

ملک کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے بستر اُن مریضوں سے بھرے رہتے ہیں جو مضر صحت پانی استعمال کرتے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں گٹرکے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اپریل میں لاہور کے ایک مرکزی پمپنگ اسٹیشن جبکہ کراچی کے علاقوں گڈاپ اور گلشن اقبال سے حاصل کردہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔ایک ہلکی سی بارش کے بعد لاہور کے گٹر ابلنے لگتے ہیں، پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں اور صحت کے متعلقہ امور کو نظر انداز کرنے سے برسات کے دنوں میں ہر سال لاہور میں تباہی آجاتی ہے۔ لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں سیوریج سسٹم تباہ ہونے کے باعث لوگ یرقان، دل اور جگر کے امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اورنج ٹرین کے نام پرصرف 27کلومیٹر پر 165 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور ہر اسٹیشن کا خرچہ تقریباً 6ارب روپے سے زیادہ ہے۔ مقامی انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اگرسیوریج سسٹم کے بدلنے کے لیے اورنج ٹرین کے لیے مختص کی گئی رقم کا کچھ حصہ بھی خرچ کیا جائے تو پورے لاہور کا سیوریج سسٹم نیا ہوجائے گا۔ اب انجینیئرز کو کون سمجھائے کہ اورنج ٹرین زمین کے اوپر چلتی ہے جو سب کو نظر آتی ہے جبکہ سیوریج سسٹم زمین کے اندر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔

 

ایک عام آدمی جوشاید پانچ یا سات سال پہلے دس ہزارروپے میں گزارا کرلیتا تھا آج اُس کا گزاراہ پچیس ہزارروپے میں بھی مشکل سے ہورہا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے، جن کی روزانہ کی آمدنی دو سو روپے یا اُس سے کم ہے۔ فیصل آباد کے محلے نواباں والا مین روڈ کے نزدیک کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہائش پذیر پندرہ سالہ لڑکی کائنات دختر جاوید صبح سے بھوکی تھی اور اُس کا والد محنت مزدوری کی تلاش میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ کائنات نے مکان کے دوسرے حصے میں رہائش پذیرخاندان کو اپنی بھوک کا حوالہ دے کر روٹی یا اس کےلیے کچھ پیسے مانگے تو جواب ملا کہ تم تو تین مہینے کا کرایہ تک نہیں دے سکے۔ اس پر مایوس اور پریشان بھوک کی ماری پندرہ سالہ کائنات مزید دل برداشتہ ہو گئی اور گھر میں موجود زہریلا کالا پتھر کھاکر ابدی نیند سو گئی۔ بیروزگاری اورمہنگائی غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کے مترادف ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) عوام کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرکے حکومت میں آئی تھی لیکن عوام کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔عوام نے جن کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا تھا آج انہی حکمرانوں کو کسی کی بھی پروا نہیں۔ حکمران غریب عوام کو سہولیات کے نام پر نرم شرائط پر قرضے اور غریب عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم دے رہے ہیں۔

 

گیارہ مئ 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ نواز شریف عوام کوبھیک کی بجائے باعزت روزگار دیں گے لیکن اُن کے وعدے اور دعوے دونوں ہی جھوٹے نکلے۔ ماضی کی طرح انہوں نے ہنرمندنوجوانوں کو نرم شرائط پر قرضے دیئے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں ملنے والی بھیک 1000سے بڑھا کر 1200روپے کردی۔ ماضی میں بھی لوگوں نے پیلی ٹیکسیاں لے کر کیا کرلیا تھا سوائے اس کے کہ اُن گاڑیوں کواپنے ذاتی استعمال میں لانا شروع کردیا جس سے بےروزگاری پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نرم شرائط پر قرضے کی اسکیم تو ناکام ہوگئی اور اگر کسی نے قرض لیا بھی ہوگا تو زیادہ سے زیادہ رکشہ یا ٹیکسی خرید لی ہوگی یا پھر کوئی دکان کھول کر بیٹھ گئے ہوں گے لیکن یہ مسائل کا حل نہیں۔ اگر عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں بھیک پر ہی گزارا کرنا ہوتا تو پیپلز پارٹی میں کیا بُرائی تھی؟ پیپلزپارٹی نے تو اعلان کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئی تو بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر دو ہزار کردے گی۔ لیکن عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا کیونکہ عوام امید کررہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) بےروزگاری کو ختم کرکے عوام کو باعزت روزگار فراہم کرے گی ۔ لیکن افسوس نواز شریف کی حکومت نے عام آدمی کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔

 

کوٹلی آزاد کشمیر میں ہی وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گیارہ اکتوبر کے انتخابات شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھے جس میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کامیاب ہوا لیکن نتائج کو اب بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اور اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ نتیجہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ تسلیم نہیں کیا جا رہا تو قوم ہی بتائے کہ کس طریقے سے یہ نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ وزیراعظم کے اس سوال کا بالکل سادہ سا جواب ہے کہ آپ نے 2013ء کےانتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے اگر وہ پورے کردیئے ہوتے یا کررہے ہوتے تو عوام خود ہی نتیجہ تسلیم کروالیتے۔ وزیراعظم صاحب جمہوری حکومتوں کے عوام تو خوشحال اور علاقے سرسبز و شاداب دکھائی دیتے ہیں، حکومت لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے، جمہوری حکومتیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کےلیے نت نئے منصوبے اور پروگرام ترتیب دیتی ہیں جہاں عوام کو زیادہ سے زیادہ اجتماعی ثمرات میسر آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو جمہوری وزیراعظم کو عوام سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کس طریقے سے نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ آخر میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف سے ایک سوال کہ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی اور کائنات کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
Categories
نقطۂ نظر

نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج

نندی پور منصوبے کا آغاز پیپلز پارٹی نے2008ء میں کیا، جو کچھ بدعنوانی کر سکتے تھے وہ کی اور چلے گئے، نواز شریف کی حکومت نے ڈھائی سال میں اس کی لاگت کو 22 ارب روپے سے81 ارب روپے پر پہنچا دیا لیکن اس منصوبے سےبجلی کا ایک یونٹ عوام کو نصیب نہیں ہوا۔ نندی پور پاور پراجیکٹ سے 1361 کلو میٹر دور سمندر کے کنارے دو کڑورکی آبادی والا شہر کراچی ہے۔ پورئے پاکستان کی طرح یہ شہر بھی بجلی کی کمی کے باعث لوڈ شیڈنگ کا بدترین شکار ہے۔ اس سال 20 جون سے کراچی میں گرمی بڑھتی چلی گئی اور درجہ حرارت 40 اور پھر 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، اس گرم ترین موسم میں لوڈشیڈنگ نے سانس لینے کا بچا کچھا حق بھی چھین لیا۔ لوگ دم گھٹنے سے مرتے رہے، اندازہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کم از کم چار ہزار کے قریب تھی۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل دورانیئے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہےاور شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ کے الیکٹرک کی جانب بجلی کے نرخوں میں اضافے پے اضافہ ہورہا ہے لیکن شہریوں کو بجلی کی مسلسل ترسیل میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ۔
پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
نومبر2013ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے چین کی مالی و تکنیکی معاونت سے کراچی میں “کے ٹو اور کے تھری” نامی جوہری بجلی گھروں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا تو بظاہر اعلیٰ حکومتی حلقوں کو قبل از وقت اطلاع نہیں تھی۔ 20 اگست 2015ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں ہاکس بے کے قریب واقع کینوپ ایٹمی پلانٹ میں “کے ٹو” منصوبے کی کنکریٹ پورنگ منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ پاکستان کو کئی سالوں سے بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ کراچی کے ساحل پر ایٹمی بجلی گھر کینوپ 1972ء میں قائم کیا گیا تھا، اس کی پیداواری صلاحیت 137 میگاواٹ اور مدت 2002ء تک تھی مگر بعد ازاں اسے اپ گریڈ کرکے دوبارہ فعال بنایا گیا، اب اس کی پیداواری صلاحیت کم ہو کر 80 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ 2011ء میں بھاری پانی کے اخراج کے بعد اس پلانٹ کو کچھ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور جب اس کی توسیع یعنی “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو بعض سائنسدانوں اور شہری تنظیموں نے اس پر خدشات کا اظہار کیا جس سے یہ منصوبہ متنازع ہوگیا۔ حکومت کے مطابق “کے ٹو” اور “کے تھری” بنانے کے بعد یہ دونوں بجلی گھر گیارہ سو میگاواٹ فی کس کے حساب سے بجلی پیدا کر سکیں گے۔ ان پلانٹس کی تکمیل 2019ء اور 2020ء تک ہو سکے گی جس سے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوسکے گا۔ کراچی میں تعمیر کیے جانے والے ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں میں سے ہر ایک کی تعمیر پر تقریبا پانچ ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کے جوہری پاور پلانٹس کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ان جوہری تنصیبات کے حفاظتی انتظات پر خصوصی توجہ کے ساتھ کڑی نگرانی کرتا ہے تاکہ دنیا کے مروجہ قوانین کے مطابق تمام ایٹمی بجلی گھروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ان اقدامات سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آگاہ ہے۔ یہ ایٹمی پلانٹ چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کرنے ہیں۔ یہ ری ایکٹر نہ پہلے کہیں بنائے گئے ہیں اور نہ کہیں یہاں تک کہ چین میں بھی نہیں آزمائے گئے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔
عالمی رائے عامہ اب ایٹمی توانائی کے حق میں نہیں ہے زیادہ تر ممالک اسے چھوڑ چکے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے جوہری پلانٹ لگائے جا رہے ہیں جو شہریوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہوسکتے ہیں۔ جرمنی کی مثال سامنے ہے۔ امریکا میں پچھلے 44 سالوں سے کسی نئے ایٹمی بجلی گھر نے کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ کچھ زیرِ تعمیر ہیں لیکن وہ عالمی رحجان نہیں کہلا سکتے۔ چین ایک مضبوط مثال ہے، اس نے ایٹمی صنعت کی کئی کارپوریشنز تیار کی ہیں جنہوں نے تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور اب وہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاک چین ایٹمی معاہدے کے بارے میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نہ تو دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان کو جوہری ری ایکٹر بیچنا چاہتا ہے، اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک چین سے نیوکلیئر ری ایکٹر خریدنا چاہتا ہے۔
سال 2014ء میں چین نے 20 گیگاواٹ صلاحیت کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ٹربائن لگائے ہیں۔ اگر چین اپنے پاس ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے اتنے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس پن بجلی کے منصوبے تیار کرنے کے لیے بھی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس ہوا سے 40 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چین سے قرضہ حاصل کرکے پن بجلی کی صنعت کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ پن بجلی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی تنصیب پر ایٹمی بجلی گھر سے آدھی لاگت آئے گی، جبکہ اس میں ایندھن کا کوئی خرچ نہیں ہوگا۔ پن بجلی ایٹمی بجلی سے سستی ہوگی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے کافی کام ہو رہا ہے اور ہر سال 50 ہزارمیگاواٹ صلاحیت کے نئے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ پاکستان کو تو صرف 10 ہزار میگاواٹ کی ضرورت ہے تاکہ اپنی تمام ضروریات پوری کر سکے۔اس کے علاوہ سولر فوٹو وولٹیک ٹیکنالوجی ہے جس کی قیمت حال ہی میں کافی کم ہوئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں شمسی توانائی سے توانائی حاصل کرنے کا منصوبہ لگایا ہے۔
دو کروڑکی آبادی والے شہرِ کراچی کے قریب دو نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا حکومتی پلان سائنسدانوں اور حکومت کے دوران تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سونامی، زلزلہ یا دہشتگردی کی صورت میں کراچی کے لوگوں کے پاس کہیں جانے کا راستہ نہیں ہوگا اور جو تابکاری پھیلے گی اس سے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ کسی بھی حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں اِن مجوزہ ایٹمی بجلی گھروں کا نظام تباہ ہوا تو شہر میں قیامت برپا ہو سکتی ہے۔ کراچی کے شہریوں اور ماہرین میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ تابکاری کے اثرات بہت زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ اِن بجلی گھروں میں ٹنوں کے حساب سے جوہری مادہ ہوتا ہے۔ اگر اس مادے کا صرف پانچ فیصد بھی خارج ہو تو کراچی کے لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہوگا۔یہ بہت بڑے پلانٹ ہیں اور اتنے بڑے پلانٹ خود چین نے اس سے قبل نہیں بنائے اور یہ پہلا ماڈل ہوگا جو پاکستان میں لگایا جائے گا۔ یہ تو ایک تجرباتی ماڈل ہے اور اِس میں حفاظتی تدابیر کا کسی کو علم نہیں۔
صفِ اول کے ماہرِ فزکس عبدالحمید نیر سے جب پوچھا گیا کہ کراچی میں ری ایکٹرز کی تعمیر کی صورت میں آپ کی سب سے بڑی تشویش کیا ہے؟ تو اُن کا جواب تھا “ہمیں دو مسائل پر تشویش ہے۔ ایک یہ کہ اگر ان نئے ڈیزائن کے ری ایکٹرز کے ساتھ فوکوشیما یا چرنوبل کی طرز کا کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو کیونکہ زیادہ لوگوں کو اس ڈیزائن کے بارے میں کوئی تجربہ نہیں ہوگا، تو حادثے کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ فوکوشیما حادثے کے اثرات ری ایکٹر سے 30 کلومیٹر دور تک بھی دیکھے گئے تھے۔ کراچی میں جہاں اس ری ایکٹر کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے، اس کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ گنجان آباد ہے۔ اگر ان ری ایکٹرز میں کوئی خطرناک حادثہ پیش آتا ہے، تو یہ علاقے سالوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جس کا لازمی طور پر پاکستانی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ فوکوشیما کے پاس 30 کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر آبادی سے خالی کروایا گیا تھا، اور چار سال گزر جانے کے باوجود وہاں پر لوگوں کو واپس نہیں جانے دیا گیا ہے۔ سوچیں اگر اس طرح کا کوئی حادثہ کراچی میں پیش آجائے، تو کیا کراچی کو خالی کروانا آسان ہوگا؟ اگر ہم دو کروڑ لوگوں کو شہر سے نکالنے میں ناکام رہے، تو وہ ایٹمی تاب کاری کی زد میں آئیں گے”۔
ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر اعتراض کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے کا پہلے باقاعدہ طور پر جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ سندھ کی ساحلی پٹی میں ماہی گیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پاکستان فشر فوک فورم، مزدوروں کے حقوق کی علمبردارتنظیم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار لیبر، ایجوکیشن اینڈ ریسرچ اور کئی دیگر تنظیموں نے ایٹمی بجلی گھروں کے ان نئے منصوبوں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو خطرات میں گھرنے اور طویل المدتی گھاٹے کے سودے سے تعبیر کیا۔سندھ ہائی کورٹ میں پروفیسر پرویز ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ نہیں کرایا گیا اور حادثے کی صورت میں لوگوں کے انخلا کا ہنگامی پروگرام بھی دستیاب نہیں۔عدالت کے حکم پر منصوبے پر کئی ماہ تک حکم امتناعی رہا لیکن بعد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی یقین دہانی کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔بہتر ہوگاحکومت پاکستان نہ صرف کراچی بلکہ ملک کے باقی حصوں سے بھی ایٹمی بجلی گھر کے منصوبے ختم کردے کیونکہ نندی پور پاور پروجیکٹ سےصرف مالی نقصان ہورہا ہے جو کرپشن پر قابو پاکر ختم کیاجاسکتا ہے، لیکن ایٹمی بجلی گھروں سے مالی اور جانی دونوں طرح کے نقصانات ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان میں نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج ہے اس لیے کراچی جیسےگنجان آباد شہر کے نزدیک ایٹمی بجلی گھر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

بجلی بحران اور خواجہ صاحب کی معافی

ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی خواجہ آصف نے طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے قوم سے معافی مانگ لی ہے، چلیں انہوں نے پاکستانیوں کی ایک شکایت تو دور کر دی کہ اس ملک میں کوئی اپنی “غفلت” کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا مگر ساتھ ہی وزیرِ موصوف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بارش کے لیئے بھی دعا کریں۔اس پانی سے شاید ان کو وہ “چلّو بھر پانی” دستیاب کرنا مقصود ہے جس میں ساری قوم ڈوب مرے جنہوں نے ان کو “بھاری مینڈیٹ” دے کر اقتدار کی کرسی سے سرفراز کیا۔ خواجہ صاحب نے وزارت سنبھالنے کے فوراً بعد عوام کو خوب امید دلائی کہ وہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ “انگلی ہلا کر” حل کر دیں گے، مگر جوں جوں اس بحران کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو کہنے لگے تھوڑا وقت لگے گا۔ بھاری عوامی مینڈیٹ کی ہوا اس دن نکلی جب خواجہ صاحب کہہ اٹھے کہ لوڈشیڈنگ تو 2018 تک چلے گی گویااگلے انتخابات کا معرکہ بھی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے وعدوں پر ہی سر کرنے کا ارادہ ہے۔ وزیرِ پانی و بجلی جس طرح آئے روز بیانات بدلتے ہیں یہ گرگٹی وصف یقیناً گزشتہ حکومت کی وراثت ہے۔
انتخابات ۲۰۱۳ کا میلہ سجا تو پاکستان میں واقعی کسی روایتی میلے یا سستے بازار کاسا سما ںتھا۔ میلے میں تمام پاکستانی سیاستدان کسی ماہر چوہے مار دوا فرش کی طرح اپنی دوا کی خوبیوں کا راگ الاپ رہے تھے۔ کوئی “نوے دن “میں مسائل کا حل دے رہا تھا تو کوئی “تجربہ کار ” چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا” ان اناڑیوں اور کھلاڑیوں کے پاس ہرگز نہ جائیو میں بجلی کا مسئلہ تین سال میں حل کر دوں گا۔”
انتخابات ۲۰۱۳ کا میلہ سجا تو پاکستان میں واقعی کسی روایتی میلے یا سستے بازار کاسا سما ںتھا۔ میلے میں تمام پاکستانی سیاستدان کسی ماہر چوہے مار دوا فرش کی طرح اپنی دوا کی خوبیوں کا راگ الاپ رہے تھے۔ کوئی “نوے دن “میں مسائل کا حل دے رہا تھا تو کوئی “تجربہ کار ” چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا” ان اناڑیوں اور کھلاڑیوں کے پاس ہرگز نہ جائیو میں بجلی کا مسئلہ تین سال میں حل کر دوں گا۔” پھر اس دو ادھوری باریاں لے چکنے والے نے “جادو کی انگلی” گما ئی اور کہا میں تو یہ مسئلہ چھ ماہ ہی حل کر دوں گا۔ ایک دن “جوشِ خطابت” میں بجلی کو ہی ختم کرنےڈالنے کی خوش خبری دے ڈالی۔دیا میر بھاشا ڈیم، قائد اعظم سولر پارک، کوئلہ سے سستی بجلی اور کبھی تنہا نندی پور پراجیکٹ سے بجلی کے ایسے “چشمے” پھوٹنے کی پیشن گوئی کی کہ لگتا اب “روشن پاکستان” ہی ہماری منزل ہے۔
پھر یوں ہوا کہ کالی شیروانی میں مسند پر جلوہ افروز “بڑے میاں” کو یاد پڑا کہ ان کے برادر کو تو “جوشِ خطابت” کا عارضہ ہے، اسی بیماری کے زیرِ اثر وہ عوام کو سبز باغ دکھاتے رہے، درحقیقت خزانے پر توخزاں کا موسم چھایا ہے اور “سمجھ نہیں آتی کہ بجلی کے مسئلے کو حل کریں یا بیرونی قرضے اتاریں”اور اسی مشکل کو حل کرنے کی خاطر انہوں نے پھر سے کشکول بھر بھر قرضے لیئے۔ اب اندھیروں میں بیٹھی عوام کیا کرتی “جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”ویسے بھی میاں صاحب کا کہنا ہے کہ “مجھےکام کرنے دیا جائے ان کی ٹانگیں مت کھینچی جائیں” ۔
بجلی بحران کے خاتمے کےلیے بجلی چوروں کے خلاف صف آراء وزیرِ مملکت برائے پانی و بجلی جناب عابد شیر علی صاحب بھی سال بھر اسی کام میں مصروف ِ عمل نظر آئے جس کے لیئے “فیصل آبادی “حضرات ماہر جانے جاتے ہیں، انہوں نے ٹویٹر پیغامات اور پریس کانفرنسوں میں “بجلی چوروں” کے خلاف خوب “جہاد “کیا۔ ایک آدھ مقامات پر چھوٹے بجلی چوروں کے خلاف کاروائی بھی گئی مگر بات جونہی “اصل بجلی چوروں “کی طرف بڑھیسارا معاملہ ہی ٹھنڈا پڑ گیا۔ ایک روز تو “وزیرِ دوراندیش “نے وزیرِاعظم ہاوس سمیت آدھے وفاقی دارلحکومت میں سرکاری دفاتر کی بجلی کاٹ دی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس روز “صاحبان اقتدار” کےلیے جو جنریٹر چلائے گئے وہ عوام کے دیے ٹیکس کے روپوں سے خریدے گئے تیل سےہی چل رہے تھے۔ مگر
بجلی بحران کے خاتمے کےلیے بجلی چوروں کے خلاف صف آراء وزیرِ مملکت برائے پانی و بجلی جناب عابد شیر علی صاحب بھی سال بھر اسی کام میں مصروف ِ عمل نظر آئے جس کے لیئے “فیصل آبادی “حضرات ماہر جانے جاتے ہیں، انہوں نے ٹویٹر پیغامات اور پریس کانفرنسوں میں “بجلی چوروں” کے خلاف خوب “جہاد “کیا۔
عابد شیر علی کاٹیکسوں سے کیا لینا دینا، یہ کام تو میاں صاحبان کے کارِ خاص اسحاق ڈار صاحب کے ذمے ہے،جنہوں نے پہلے بجٹ میں عوام پر لگائے گئے اضافی ٹیکسوں کی واحد وجہ زیرِ گردش قرضہ جات کو قرار دیا۔ صاحب کا کہنا تھا کہ ایک بار یہ قرضہ اتر گیا تو “روشن پاکستان” کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی گی۔ بس پھر انہوں نے عوام سے “پائی پاِئی”بطور ٹیکس وصول کرکے “منشاء و نشاط” کو ۵۰۰ ارب اداکیے۔ اس کے بعد ڈار صاحب بجلی بحران کو چھوڑ کر ڈالر کے پیچھے کچھ یوں پڑے کہ یہ قرضہ پھر سے گردن تک چڑھ آیا اور ڈار صاحب عوام کو بتانا بھی بھول گئے کہ گردشی قرضہ واپس کرنے کے بعد کیا ہوا۔ دوسرے بجٹ میں اس زیرِ گردش قرضے کا ذکر تک کرنا بھول گئے شاید اس بار کسی “منشاء “کی رقم واجب الادا نہ تھی۔ کاش کہ خزانے کے نگران یہ وزیر صاحب خزانے کی نگرانی میں بھی وہی “ماہرانہ خوبیاں “بروئے کار لاتے جن کے بل بوتے پر انہوں نے اپنے بیٹے کو ہزاروں پاونڈز بغیر کوئی ٹیکس ادا کیے بیرون ملک منتقل کیئے۔
خیر میاںمحمد نوازشریف کے تیسرے اقتدار کے دوسرے برس میں بھی میاں صاحب کا وہ وعدہ وفا نہ ہو سکا جس کے بارے میں خود انہی کا کہنا تھا ” گیارہ مئی کادن ۔ اجالوں یا اندھیروں میں فیصلے کا دن” اور ” شیر کے علاوہ کسی کو بھی ڈالا جانے والا ووٹ اسی سیاہ دور کا گناہ تصور ہو گا”۔ اور عوام کی حالت اس نو بیاہتا عورت کی سی ہے جس کو شادی سے محض دو سال بعد ہی اس بات کا پتہ چل گیا ہے کہ “اس کے ساتھ انگلی گماینے والے میاں صاحب پورا ہاتھ کر گئے ہیں” ۔ کیونکہ بات اب وعدے پر وعدے سے ہوتی ہوئی اقبالِ جرم اور اب معافی مانگنے تک پہنچ چکی ہے۔ فیصلہ اس نوبیاہتا کو ہی کرنا ہے کہ اسے اپنے “حق مہر” کیلئے کچھ کرنا ہے یا پاکستان کی ہر مجبور عورت کی طرح عقدِ نکاح کوہر صورت قائم رکھنا ہے۔