Categories
نقطۂ نظر

بلدیات، بلدیاتی انتخابات اور چند خامیاں

بلدیاتی نظام کا آخری مرحلہ بھی خدا خدا کر کے مکمل ہوا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے دعوے کو اب حقیقت کا جامہ پہنانے کے عمل کا آغاز قریب ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے دعوے کس قدر سچ ہیں اور کس قدر مبالغہ، اس کا فیصلہ تو آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا جب منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے حکومت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں واپس جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کی تکمیل خوش آئند امر ہے لیکن اس سارے ععمل میں چاروں صوبوں کے بلدیاتی نظام کی خامیاں ایک مرتبہ پھر عیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

 

ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں یا اس کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔
راقم کو خود حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تین انتخابی حلقوں کے مشاہدے کا موقع ملا اور کم و بیش ہر جگہ حالات ایک طرح کے نظر آئے۔ جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک مرتبہ پھر شفاف اور منصفانہ انتخابات کروانے میں بہت حد تک ناکام رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پولنگ افسران کے لیے جو حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے تھے ان کے لیے ایک ضابطہ اخلاق نمبریF.4(10)/2015-LGE(P) جاری کیا گیا جس کے تحت ریٹرننگ افسران اور پریزائڈنگ افسران کسی بھی نازک صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو طلب کرنے کے مجاز تھے۔ یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ ان کے اختیار میں تھا۔ لیکن شاید انہیں اپنے اختیارات کا پتا نہیں تھا یا ان کی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی کہ بلدیاتی امیدواروں کے انتخابی نمائندے بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پہ ان سے الجھتے رہے اور انتخابی عملہ بے بس نظر آیا۔

 

مذکورہ بالا ضابطہ اخلاق میں ایک شق تھی کہ کسی بھی ہنگامے یا افراتفری کے حوالے سے سیکیورٹی اہلکار پریزائڈنگ افسر کے طلب کرنے پر قانونی کارروائی کریں گی۔ ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں یا اس کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔ پولنگ اسٹیشن زیادہ تر سرکاری سکولوں میں بنائے گئے۔ پریزائڈنگ افسر ایک مخصوص کمرے میں انتخابی مراحل کی نگرانی کر رہا ہے تو ایسی صورت میں سکول کے احاطے میں ہونے والے ہنگامے پر وہ کس طرح کارروائی کے احکامات دے گا۔ یہ بظاہر چھوٹی سی خامی ہے لیکن اس کا اثر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک جگہ دو مخالف دھڑوں کے درمیان سکول کے اندر ہاتھا پائی ہو گئی۔ لیکن صورت حال قابو کرنے میں اتنا وقت صرف ہو گیا کہ ووٹ ڈالنے کے منتظر لوگ شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔

 

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4 میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس پولنگ سٹیشن پر بھی گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم بھی جاری تھی۔
اسی طرح پولنگ ایجنٹس کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا اور اس ضابطہ اخلاق کی شق 3 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشنوں کے اندر یا باہر 400 میٹر کی حدود تک کسی ووٹر کو اپنے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کا نہیں کہہ سکتے ۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشن کے اندر انتخابی عملے کے سامنے بھی ووٹروں کو نشانات دکھا کر یاددہانی کراتے نظر آئے۔ اس ضابطہ اخلاق کی شق 4 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹ ہر اعتراض کے عوض مبلغ 50 روپے پریزائڈنگ افسر کے پاس جمع کروائے گا۔ اور شق 5 میں یہ درج تھا کہ غیر ضروری اعتراضات کی اس لیے ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس سے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امیدواران اس مقصد کے لیے سمجھدار، شریف اور دیانت دار افراد کا انتخاب کرتے لیکن حیران کن طور پر تمام امیدواروں نے چن کر وہی لوگ اپنے پولنگ ایجنٹ نامزد کیے جو علاقے میں جھگڑالو مشہور تھے۔ یہ ایجنٹ ہر ووٹر پہ اعتراض کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اسی لیے ہر پولنگ اسٹیشن پر ہر تھوڑی دیر بعد توتکار ہوتی رہی۔ شق 6 میں کہا گیا کہ پولنگ ایجنٹ کے لیے لازم ہے کہ وہ اعتراض کرتے ہوئے مہذب رہے اور پریزائڈنگ افسر سے بات کرتے ہوئے لہجہ دھیما رکھے۔ لیکن پولنگ ایجنٹ تو کجا امیدواروں کے حامی بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پہ سوار نظر آئے۔

 

سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4 میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس پولنگ سٹیشن پر بھی گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم بھی جاری تھی۔ شق 5 کے مطابق کسی بھی پولنگ ایجنٹ یا امیدوار کے لیے پولنگ اسٹیشن کی 100میٹر کی حدود میں ووٹر کو راغب کرنے کے لیے کسی بھی قسم کا بینر، اشتہار یا نشان لگانا ممنوع تھا۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ اسٹیشن کے اندر ایسی گاڑیوں کی بھرمار تھی جن پر امیدواروں کے اشتہارات آویزاں تھے۔ بعض مقامات پر پولنگ ایجنٹس بھی قواعد کے برعکس نشان بتاتے رہے۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی پوسٹر کا سائز 24 x 23 انچ جب کہ بینر کا سائز39×24 انچ سے تجاوز کرنے کی ممانعت تھی اور ہورڈنگز پر مکمل پابندی تھی۔ لیکن حیران کن طور پر 25×50جسامت کے بینر بھی آویزاں تھے۔ اور بل بورڈ، سائن بورڈز اور روڈ سائڈ ہورڈنگز کا سہارا بھی لیا گیا۔ مزے کی بات یہ کہ پہلے ہورڈنگز انتخابی مہم کی تھیں اور اب ان کے بعد اسی جسامت کے شکریے کے بینر اور ہورڈنگز نصب ہیں اور ضابطہ اخلاق پر عمل کروانے والے خاموش تماشائی ہیں۔

 

کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا پورا ایک نظام موجود ہو اور عام عوام کو اس ضابطہ ء اخلاق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی فوری طور پر رپورٹ کرنے کا شعور ہو۔
شق 16 کے مطابق انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پہ لازم تھا کہ وہ تنقید صرف کام اور پالیسیوں پہ کریں لیکن تمام امیدواران ایک دوسرے کی ذات کے بخیے ادھیڑتے نظر آئے۔ جہاں تک تعلق ہے شق17 کا کہ خاندان کے افراد کے علاوہ ووٹر کو اپنی گاڑی میں لانا ممنوع تھا تو شاید پورا حلقہ ہی امیدواروں کا خاندان ہوتا ہے۔ شق 20 کے مطابق یونین کونسل چیئرمین اور وائس چیئرمین 10 لاکھ اور یونین کونسل کے ممبران کو 20 ہزار روپے تک کے انتخابی اخراجات کرنے کی اجازت تھی لیکن ایک کونسلر کی سطح پہ بھی لاکھوں خرچ کیے گئے۔

 

یہ کہنا بے جا نہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا ضابطہء اخلاق محض کاغذ پر سیاہی کی صورت رہا ورنہ عملی سطح پر ہر جگہ ضابطہء اخلاق کی دھجیاں اڑتی ہی نظر آئیں۔ یا تو ووٹروں کو اپنے حقوق کا پتا نہیں تھا یا پھر وہ جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے تھے۔ امیدواران الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی کسی شق کو خاطر میں نہیں لائے۔ اس بارے میں بھی ابہام ہی رہا کہ آیا سرکاری ملازمین کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ پولنگ ایجنٹ بلا جھجھک ضابطہء اخلاق کے برعکس کام کرتے نظر آئے۔ امیدوار نہ صرف پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود رہے بلکہ انتخابی مہم بھی زوروں پہ رہی۔

 

کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا پورا ایک نظام موجود ہو اور عام عوام کو اس ضابطہ ء اخلاق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی فوری طور پر رپورٹ کرنے کا شعور ہو۔ سنتے آئے ہیں کہ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے ایک کنٹرول روم بنایا جاتا ہے لیکن آج تک اس کنٹرول روم کا حدود اربعہ نامعلوم ہی رہا ہے۔ اس کنٹرول روم کا مقصد کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے یہ بھی کبھی پتہ نہیں چلا۔ راقم کی طرح ہزاروں لوگوں نے لاکھوں خلاف ورزیاں دیکھی ہوں گی لیکن ان کو کسی ایسے نظام سے آگاہی نہیں تھی جس کی مدد سے ان خامیوں اور خلاف ورزیوں کو اعلیٰ سطح پر رپورٹ کیا جا سکے۔ جب تک عوام میں یہ شعور نہیں بیدار کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی سطح کی خلاف ورزی کو رپورٹ کر سکتے ہیں اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے نظام کو جب تک سہل نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک کوئی ضابطہ حقیقی معنوں میں نافذالعمل نہیں ہو سکتا ہے۔ وگرنہ چہرے بدلتے رہیں گے، نام بدلتے رہیں گے، لیکن نظام صرف اس وقت ہی تبدیل ہو گا جب ہم تبدیل کرنا چاہیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

قائدین انقلاب! پتھروں، درختوں اور دیواروں کو بخش دیجئے

جنابِ من، اگر آپ واقعی قوم کی فلاح کے بارے میں فکر مند ہیں اور اپنی صلاحیتیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، تو ابھی سے رہنمائی کا حق ادا کیجئے اور منتخب ہونے کا انتظار مت کیجئے ۔
حضرت، آپ منتخب ہو کر قومی رہنما بننا چاہتے ہیں؟ قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ راستہ دکھانا چاہتے ہیں اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے اسے اقوام عالم میں ممتاز وکامران کرنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہیں؟ بہت اچھی بات ہے ۔ اللہ سبحان تعالی آپ کے نیک ارادوں کو مزید جلا بخشے اور آپ کو سرفرازی عطا کرے۔۔۔ آمین، ثم آمین۔
لیکن جناب، کیا آپ نے غور کیا ہے کہ رہنما بننے کے لئے انتخابات میں حصہ لینا اور منتخب ہونا لازمی نہیں ہے؟ جی۔ یعنی، ہر رہنما انتخابات میں حصہ لے کر رہنما نہیں بنتا۔ جنابِ من ، انتخابات کے موجودہ نظام کو رائج ہوے ابھی چند صدیاں ہوئی ہیں ، تو کیا اس سے قبل لوگ رہنما نہیں رکھتے تھے؟ ایسا تو نہیں کہ آپ رہنما اور جمہوری حکمران کے واضح فرق کو گڈمڈ کر کے دیکھ رہے ہیں؟ کیونکہ نہ تو سماجی رہنما جمہوری طور پر منتخب ہوتے ہیں اور نہ ہی ہر جمہوری طور پر منتخب حکمران سماجی رہنما ہوتا ہے ۔
جنابِ من، اگر آپ واقعی قوم کی فلاح کے بارے میں فکر مند ہیں اور اپنی صلاحیتیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، تو ابھی سے رہنمائی کا حق ادا کیجئے اور منتخب ہونے کا انتظار مت کیجئے ۔ خود کو رہنما ثابت کرنے کے لئے آپ کو اربابِ اختیار کے آگے جھک جانے، زمین و آسمان کے قلابے ملانے، ٹکٹ کے لیے پارٹی کے کرتا دھرتاوں کو پیسے کھلانے، ان کی ہاں میں ہاں ملانے، اور پھر ووٹ کی خاطر نفرتیں پھیلانے، جھوٹ پر جھوٹ بولنے، دیواروں پر نعرے لکھوانے، بینرز لگوانے اور پوسٹرز چھپوانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔بس کچھ چھوٹے موٹے کام کیجئے۔ اچھی اور عقلندی کی باتیں کیجئے اور سب سے اہم یہ کہ جن اچھی باتوں کی پرچار میں آپ وقت ، توانائی اور روپوں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، ان پر خود بھی عمل پیرا ہو کر دکھا ئیں۔ اب آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو خوبصورت بنانے ، ترقی دینے ، عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے نعرے لگا رہے ہوں، اور ادھر آپ کے زرخرید چیلے سڑکوں، شاہراوں، شہروں اور دیہاتوں کی شکل بگاڑنے میں مگن نظر آئے؟
مثلاً، اگر آپ اتحاد و اتفاق کے داعی ہونے کا اعلان تقریر میں کرتے ہیں تو اپنے قلم، زبان اور جسم و جاں کو اتحاد و اتفاق پھیلانے کے لئے وقف کردیجئے۔ اور اگر یہ مشکل ہو تو خدا را کم از کم فرقے، زبان، علاقے اور نسل کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی خاطر نفرتیں پھیلانے کے دھندے میں بھی ملوث نہ ہو ں۔اسی طرح سے اگر آپ حسین و جمیل گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ سے معاشی و اقتصادی انقلاب کی نوید دے رہے ہیں تو کھوکھلے انتخابی دعووں اور بھاری بھر کم نعروں سے ہمارے دلکش و نایاب قصبوں ، راستوں اور ہمارے گھروں اور چار دیواریوں کی شکل بگاڑنے سے پرہیز کریں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو خوبصورت بنانے ، ترقی دینے ، عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے نعرے لگا رہے ہوں ، اور ادھر آپ کے زرخرید چیلے سڑکوں ، شاہراوں ، شہروں اور دیہاتوں کی شکل بگاڑنے میں مگن نظر آئے؟ آپ لوگوں کے نعروں ، دعووں ، جھنڈیوں ، بینروں اور پوسٹروں کی بھرمار کو دیکھ کر تو مقامی لوگوں کا جی چاہتا ہے کہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ جائے۔ جب ہر دیوار پر آپ کے نعرے درج ہوں گے، ہر گلی میں آپ کے بینر آویزاں ہوں گے اور ہر چوراہے پر آپ کے پوسٹر چسپاں ہوں گے تو ملکی اور بین الاقوامی سیاح کیا خاک یہاں کا رخ کریں گے؟
آپ رہنما بننا چاہتے ہیں؟ تو اس کی ایک جھلک دکھا دیجئے۔ اپنے منشور میں واضح طرح سے یہ بات شامل کر یں کہ آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے آپ کی پارٹی شہر اور گاوں کے کسی کونے میں بھی دیوار و در پر چاکنگ نہیں کرے گی۔ اور اگر آپ کے نام سے ، یا آپ کی پارٹی کے نام سے چاکنگ کی گئی ہے تو آپ خود وہ چاکنگ مٹا دیں گے۔ اور یہ بھی کہ آپ شہر کے چوراہوں اور گاوں کی گلیوں کو اپنے پوسٹرز سے نہیں بھریں گے۔ صرف جلسہ گاہ میں ان کا استعمال کریں گے اور جلسے کے فورا بعد ان کو تلف کرنے کا مناسب انتظام کریں گے۔ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو ہم مان لیں گے کہ آپ رہنما بننے کے عمل میں شامل ہیں ۔ اگر آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے تو پھر آپ سے کسی بڑے کام، کسی بڑی قربانی ، کی توقع رکھنا عبث ہوگا۔
سیاح آپ کا نام پڑھنے اور آپ کی جماعت کے نعروں سے مزیں دیواریں دیکھنے تو گلگت بلتستان قطعا نہیں آتے ہیں ۔ وہ جس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں اسے آپ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران اتنا گندا کردیتے ہیں کہ پھر سالوں تک اس کی سیاہی نہیں جاتی۔
آپ کہیں گے کہ جناب آپ جلتے ہیں ، ہمارا نام دیواروں پر دیکھ کر تو جناب، ہم صرف جلتے نہیں ہیں، بلکہ کڑھتے بھی ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ہمارا خون کھول اُٹھتا ہے۔ ارے صاحب، آپ شوق سے اپنا نام ادھر ادھر لکھوا ئیے، لیکن ہمیں یہ بھی بتائیں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے علاوہ کونسی صنعت ہے؟ اور اگر آپ سیاحوں کے لئے کشش رکھنے والی قدرتی گزرگاہوں اور قدرتی مناظر کر سیاسی نعروں سے مکدر کر رہے ہیں تو اس سے قوم کی خدمت کیسے ممکن ہے کیوں کہ سیاح آپ کا نام پڑھنے اور آپ کی جماعت کے نعروں سے مزیں دیواریں دیکھنے تو گلگت بلتستان قطعا نہیں آتے ہیں ۔ وہ جس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں اسے آپ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران اتنا گندا کردیتے ہیں کہ پھر سالوں تک اس کی سیاہی نہیں جاتی۔
میں اس مضمون کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ، تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلین ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے علاہ آزاد امیدواروں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اس نکتے پر غور کیجئے ۔ پولنگ میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔ کوئی ایسا اجتماعی لائحہ عمل ترتیب دیجئے کہ علاقے کی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے کی سبیل ہو سکے ۔ اور کوئی ترجیح یا کوئی لائحہ عمل ایسا بھی ہو کہ انتخابات کے فورا بعد سیاسی جماعتیں مختلف علاقوں میں کی گئی وال چاکنگ مٹانے میں مصروف ہوجائیں ۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وال چاکنگ سے صرف سرکاری عمارتوں کو بچانے تک اپنی کاروائی اور احکامات کو محدود نہ کرے بلکہ مفادِ عامہ پر بھی تھوڑی بہت توجہ دے کر احسان مند ہونے کا موقع فراہم کرے ۔
اتحاد و اتفاق کی باتیں کرنے اور سیاحت کے فروغ سے علاقے کی معاشی اور اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے آپ کو انتخابی مہم چلانے، اشتہار بازی کرنے اور سیلِ زر بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنا کردا ر اور اپنی ترجیحات درست کر لیجئے۔ لوگ آپ کو بغیر انتخابات میں حصہ لیے اپنا رہنما بنا لیں گے، اور پھر اگر آپ چاہیں تو شائد وہ آپ کو جلد یا بدیر حقِ حکمرانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

آزادی مارچ یا آخری جلسہ

آئے دن تبدیلی اور حقیقی آزادی کا شوروغوغا سننے کو مل رہا ہے، گزشتہ ایک ماہ سے آزادی مارچ اور انقلاب کی باتیں بڑھ چڑھ کر سنائی دے رہی ہیں، روزانہ ٹیلی ویژن پر بے تحاشہ تقاریر ، مباحثے اور بیانات سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں ،ساتھ ساتھ سیاسی جوڑ توڑ اور ملاقاتوں کا تانتا بندھا ہے اور تو اور ہمارے ایسے رہنما جو کبھی عوامی مقامات پر دکھائی یا سنائی نہیں دیےعوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں جبکہ اپنی طاقت سے بے خبر عوام ہمیشہ کی طرح انقلابی نعروں کی کشش سے کھچے چلے آرہے ہیں اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کو اسلام آباد کی طرف چل پڑے ہیں۔
ایک طرف جہاں حکمران جماعت کو اپنی بادشاہت چھنتی نظر آ رہی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد تقریباً20 سال کی تگ و دو کے بعد اپنی کامیابی کا خواب دیکھ رہے ہیں وہیں کینیڈا پلٹ انقلاب فروش بھی اپنا کاروان لئے شامل باجہ ہیں ۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف جہاں میاں شہباز شریف پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان صاحب سے ملاقات کرنے اور انہیں راضی کرنے میں مصروف تھے تو وزیراعظم اپنی ہی پارٹی کے اختلافات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ خان صاحب کو مذاکرات کی دعوت دینے پر مجبور تھے۔ اب جب کہ مہینہ بھر کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد تحریک انصاف اور طاہر القادری صاحب اپنے انقلابی کاروان لئے حکومت گرانے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکے ہیں تو کئی سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں ،سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ( ن) اب کسی سیاسی چال کا سہارا لے رہی ہے یا پھر واقعی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ہے؟
حالیہ سیاسی محاذآرائی عمران خان اور طاہر القادری سمیت شریف برادران کے لئے بھی سیاسی بقاء کی جنگ ہےتاہم سیاسی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم کی حمایت کے بغیر حکومت کے خاتمہ کا دعوی محض خام خیالی نظر آتا ہے۔
چار حلقوں کی گنتی دوبارہ کرانے، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی اصلاحات سمیت تمام معاملات سڑکوں کی بجائے پارلیمان میں حل ہونے ہیں اور پارلیمان کے اندر بات چیت، مفاہمت اور بحث کی گنجائش سڑکوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے لہذا اگر یہ سیاسی چال ہے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو دو سے تین ماہ کا وقت نئی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے مل جائے گااور اگر عمران خان صاحب جو بظاہر حکومت گرانے چل نکلے ہیں ، سیاسی مفاہمت کے تحت حکومت گرانے اور وزیراعظم کے مستعفی ہو نے کے مطالبات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا ؟
نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنا عمران خان صاحب کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کردیں گے ؛ اگر وہ آزادی مارچ کو کسی معاہدے کے تحت مختصر کر دیتے ہیں یا پھرایک جلسہ کی صورت میں چند گھنٹوں کے لیے اسلام آباد میں رونق لگائے رکھتے ہیں اور حکومت گرائے بغیر واپس لوٹ آتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ ان کی زندگی کا آخری کامیاب جلسہ ہو اور وہ اپنے حامیوں کا اعتبار کھو بیٹھیں۔تاہم اگر خان صاحب اپنے اسی جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان کے عوام کو لیکراسلام آباد روانہ ہو جاتے ہیں اور حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کردیتے ہیں تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملکِ پاکستان کے “بادشاہ” کو ایک بار پھر اپنی بادشاہت کھونا ہو گی۔ حالیہ سیاسی محاذآرائی عمران خان اور طاہر القادری سمیت شریف برادران کے لئے بھی سیاسی بقاء کی جنگ ہےتاہم سیاسی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم کی حمایت کے بغیر حکومت کے خاتمہ کا دعوی محض خام خیالی نظر آتا ہے۔عمران خان صاحب کو سوچ سمجھ کر اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کے دوران مطالبات کرنا ہوں گے، ایسے مطالبات جو فریقین کے لئے قابل قبول ہوں اور صورت حال کے باعزت حل کو یقینی بنا سکیں۔