Categories
فکشن

پروفیسر اور سیاستدان

تحریر: نلز باس
مترجم : فصی ملک

 

یونیورسٹی کے قریب ایک خوبصورت فراز پر بیٹھا ایک درمیانی عمر کا شخص ایک چٹانی کھاڑی کے دلکش منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔کپڑوں سے اندازہ لگایا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے نیچے موجود گڑھے سے ایک سنگساز ہے۔لیکن حقیقت میں وہ ایک پروفیسر ہے جو اکثر عمیق اور گنجلک مسائل کے متعلق سوچنے کی خاطر یہاں بیٹھنے آتا ہے۔سالہا سال سے اس جگہ پر بہت سارے اچھے تصورات اس کے دماغ میں آئے ہیں۔

 

سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ایک شخص تیزی سے وہاں سے گزر رہا ہے، اس کی سانس پھولی ہوئی اور گال سرخ ہیں اور وہ چلنے کی وجہ سے کافی تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔وہ ایک سیاستدان ہے۔ سائنس اور تحقیق کی وزارت کا سیکرٹری اور حکومت کی نئی تحقیق اور اثریتی کمیٹی کی مجلس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

 

سیاستدان تیزی سے دیکھتے ہوئے احترام سے پروفیسر کو سلام کرتا ہے اور استفسار کرتا ہے کہ آپ کون ہیں اور دن دیہاڑے یہاں کیا کر رہے ہیں۔

 

پروفیسر جواب دیتا ہے ” میں یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں اور یہاں چیزوں کے بارے میں سوچنے کے لیے بیٹھا ہوں۔ سالہا سال سے یہاں میں نے بہت سارے تصورات کو جنم دیا ہے۔اس وقت میں ایک گنجلک اور عمیق مسئلے پر کام کر رہا ہوں جس کے حل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
سیاستدان یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ ایک پروفیسر دن دیہاڑے بنا کسی ظاہری مقصد کے وقت ضائع کر رہا ہے۔

 

سنیے،سیاستدان کہتا ہے، یہ بہت اچھا ہو گا اگر آپ اپنے دفتر میں بیٹھیں اور کسی ایسے مسئلے پر مضمون لکھیں جو زیادہ مشکل نہیں ہے۔

 

پروفیسر جواب دیتا ہے۔”میرا نہیں خیال ایسا کرنا دلچسپ ہو اور یہ میرے مضمون کی ترقی کے لیے بھی موضوع نہیں ہو گا۔پھر میں ایسا کیوں کروں؟”

 

لیکن یہ بالکل وہی ہے جو ہم اہنی اثریتی کمیٹی میں حاصل کرنا چاہیں گے۔سائنسدانوں کو ایسے مسائل کے متعلق نہیں سوچنا چاہیے جو بہت زیادہ مشکل ہوں بلکہ انہیں ان مسائل پر ارتکاز کرنا چاہیے جس سے ان کی اشاعتوں کی تعداد بڑھ سکے اور پھر ہمارا اعدادی میعارِ اصول آسانی سے آپ کے کام کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔جو فوراً ہی ہمیں آپ کے کام کے میعار کی تصدیق کر دے گا۔

 

“میرا نہیں ماننا کہ ایسا کرنا کارآمد ہو گا، پھر میں ایسا کیوں کروں؟” پروفیسر جواب دیتا ہے۔
سیاستدان جو بحث ختم کرنے والا ہے، پر جاری رہتا ہے۔

 

جب آپ ہمارے اعدادی درجہ بندی کے مطابق ایک اچھی ریٹنگ کی اشاعت کر لیتے ہیں تو تیسرا گروہ، بشمول میرے، آپ کے کام کی زیادہ تعریف کریں گے اور پھر آپ کو بہت سارے تحقیقی وسائل اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگ رکھنے کے بھی زیادہ موقع میسر آئیں گے۔
“لیکن اس سے میرا مسئلہ حل نہیں ہو گا،کیوں کہ تب میں اپنا بہت سارا وقت اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مینیجمنٹ میں لگاؤں گا۔”

 

“اگر آپ آسان مسائل کے متعلق مضامین لکھتے ہیں تو آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں گے کہ آپ اپنے لیے مینیجر رکھ سکیں گے، ہو سکتا ہے آپ کو اپنا شعبہ بھی مل جائے۔

 

پروفیسر کہتا ہے” یہ میرے لیے دلکش نہیں ہے، زیادہ لوگ ہو نے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ بلکہ یہ مجھے اصل نقطے سے ہٹائیں گے”۔

 

سیاستدان کہتا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، ہم جب حجم کو بڑھانے کے لیے رقم دیتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں اس سے کوالٹی میں بھی بہتری آئے گی۔

 

فضول، پروفیسر کہتا ہے۔اس لمحے صورت حال خاصی سرد ہو جاتی ہے مگر سیاستدان جو اس کا عادی ہے جاری رہتا ہے۔

 

کیا یہ زبردست نہیں ہو گا کہ آپ سائنسدانوں کے ایک گروہ کے سربراہ ہوں اور آپ کا اپنا شعبہ ہو اور ہر بندہ آپ کے مسئلے پر کام کرے؟

 

تو پھر میں کیا کروں گا؟ پروفیسر پوچھتا ہے؟
سیاستدان اس جواب سے ششدر رہ جاتا ہے
“آپ کہیں بھی بیٹھ کر اپنے مسئلے پر سوچ سکتے ہیں”
پروفیسر جواب دیتا ہے” بالکل یہی تو میں ابھی کر رہا ہوں”

 

سیاستدان بمشکل ہی جواب کو سنتا ہے اور اثریتی کمیٹی کے اجلاس میں بھاگ جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر نئے خیالات اور تھوڑے سے رشک کے ساتھ۔

 

(میں یہ ترجمہ ڈاکٹر پرویز ہود بھوئے کے نام کرتا ہوں)
Categories
نقطۂ نظر

الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع

پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نےغریبوں کی بات کی، غریبوں کےلیے سیاست کے دروازے کھولے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔ غریبوں کےلیے روٹی، کپڑا اورمکان کا نعرہ لگایا، لیکن وہ غریبوں کے حق میں انقلاب نہیں لا سکے یا اُنہیں لانے نہیں دیا گیا یا پھراُن کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن ہاں وہ غریبوں کو جگانے میں کامیاب ہوئے، اُنہوں نے لوگوں کو اور خاص کر غریبوں کو اُن کے حقوق کی پہچان کروائی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قائد اعظم کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کو سب سے زیادہ شہرت ملی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصول ہیں: “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں”(آج پیپلز پارٹی کے زیادہ ترجیالوں کو ان چار بنیادی اصولوں کا شاید پتہ بھی نہ ہو)۔
جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سےمحروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔

 

پیپلز پارٹی نے 1970ء کے انتخابات بائیں بازو کی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر لڑے جس میں ترقی پسند رہنما جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، مختار رانا، شیخ محمد رشید، حنیف رامے، خورشید حسن میر، رسول بخش تالپور، علی احمد تالپور، حیات محمد خان شیر پاوُ اور طارق عزیز شامل تھے۔ مذہبی عالم مولانا کوثر نیازی ، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمائندے غلام مصطفیٰ کھر اور غلام مصطفیٰ جتوئی بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ معراج محمد خان اور غلام مصطفیٰ کھر کو بھٹو نے اپنا جانشین بھی بنایا تھا۔ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کے کھمبے بھی جیت گئے تھے، دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد لاہور میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے ہاتھوں نظریاتی انتخابی معرکہ ہارگئے۔ جماعت اسلامی نے 1970ء کے انتخابات کو اسلام اورکفرکی جنگ قرار دیا تھا۔ پورے پنجاب میں مودودی ٹھاہ، نصراللہ ٹھاہ اور دولتانہ ٹھاہ کے نعر ے بھی گونجے تھے لیکن اُس کے بعدہونے والے کسی بھی عام انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب میں پوری کامیاب نہ ہوسکی۔ مختار رانا تو پیپلز پارٹی سے بہت جلدہی علیحدہ ہوگئےجب کہ جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔
1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے

 

بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو 1977ء کے انتخابات تک کافی بدل چکے تھے۔ رفتہ رفتہ اقتدار کی مصلحتوں کے تحت وہ پیپلز پارٹی کے اساسی نظریہ سے دور ہٹتے گئے۔ سوشلزم کو اسلامی سوشلزم میں بدل ڈالا اور پی این اے کے دباو میں آکر سیاسی مصلحت کے تحت مولانا مودودی کے گھر پہنچ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ فیصلہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی موت ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں نظریاتی کارکن بھٹو کی مصلحت پسند سیاست کا شکار ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول رہنما تھے اور پیپلز پارٹی ایک ملک گیرجماعت تھی اور سارے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ بنک بھی پیپلز پارٹی کا ہی تھا۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا اور پی این اے کے احتجاج کو بہانہ بناکر پانچ جولائی 1977ء کوجنرل ضیاءالحق حکومت پر قابض ہوگیا۔ جنرل ضیاءالحق نے جب یہ دیکھا کہ بھٹو کی مقبولیت اقتدارسے علیحدہ ہونے کے بعد بھی کم نہیں ہورہی تو اس نے غیر سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ بھٹو پر مالی بدعنوانی کا الزام لگایا مگر جب بھٹو کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد سے پوچھا گیا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو مالی خردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں لگا سکتا۔
آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔

 

چار اپریل 1979ء کو جنرل ضیاءالحق حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے دی جسے عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔ 1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” ، لیکن پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصول”اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ پاکستان کے عوام اس وقت بھی بھٹو کے سحر میں تھے لہٰذا بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں مگر اس سے پہلے بینظیر بھٹو بیگم زرداری بھی بن چکی تھی۔ وہ زرداری کے رنگ میں جلدہی رنگ گئیں اور صرف بیس ماہ بعد اُس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بے پناہ بدعنوانی کے باعث بینظیر بھٹو کی حکومت برخواست کر دی۔ نواز شریف اور غلام اسحاق کے اختلافات کے باعث 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آئیں۔ اس درمیان میں بینظیر بھٹو نےایک کام یہ بھی کیا کہ اپنے والد کے زمانے کے پرانے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو نکال باہر کیا۔ اُن کے شوہر آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات تو اُن کی پہلی حکومت کے دوران ہی لگنے شروع ہوگئے تھے اور آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی دیا گیا۔ پانچ نومبر 1996ء کو بینظیر بھٹو کے لائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کوکرپشن کی بنیادپر برطرف کردیا۔

 

نواز شریف کے دوسرے دور میں بینظیربھٹو ملک سے باہرچلی گئیں اورسابق صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں اٹھارہ اکتوبر 2007ء کو اپنی طویل جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچیں جہاں اُن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ کارساز حملے میں تو وہ بچ گئیں مگر اسی سال ستائیس دسمبرکو راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں اُنہیں قتل کر دیا گیا۔ اپنے قتل کیے جانے تک بینظیربھٹو یہ نعرہ مسلسل لگاتی رہیں “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے”۔ جس آصف زرداری کو بینظیربھٹو نے گھر تک محدود کردیا تھا بینظیر کی ہلاکت کے بعد وہ پیپلز پارٹی کا مالک بن بیٹھا۔ زرداری صاحب نے اپنے بیٹے بلاول زرداری کوبلاول بھٹو زرداری کا نیا نام دیا اور2008ء کے انتخابات میں ایک اور نئے نعرہ کا اضافہ کیا “تم کتنے بھٹو ماروگے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔ زرداری کو معلوم تھا کہ بھٹو کا نام لیے بغیر وہ سیاسی دکان نہیں چلاسکتے۔ بینظیر بھٹو کے بعدپارٹی کی قیادت آصف زرداری نے سنبھالی اور فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا تو جس طرح بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے قریبی لوگوں کی پیپلز پارٹی سےچھٹی کی تھی ٹھیک اُسی طرح آصف زرداری نے اُن لوگوں کی چھٹی کی جو بینظیربھٹوکے قریب تھے۔

 

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ (2008ء سے 2013ء) حکومت کے دور میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بد انتظامی، طویل لوڈشیڈنگ ، غربت کےساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ۔ مشرف دور کے اختتام 34 ارب ڈالر کے قرضے پانچ سال میں دگنے ہوگئے، 62 روپے کا ڈالر 100 روپے کاہوگیا، ملک کے تمام ادارے تباہ ہوگئے۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ، کراچی جو پاکستان کا معاشی مرکز ہے وہ لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن گیا۔ آصف زرداری، دو وزرائےاعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے مل کر کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑڈالے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ تمام تر برے حالات کے باوجود بھٹو کے نام کو بدنام کیا جاتا رہا۔ آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔ وہ لوگ بھی آصف زرداری کے بہت قریب رہے ہیں جو کل تک بینظیر بھٹوکوملکی سلامتی کے لیےخطرہ کہتے تھے۔ عام لوگ اب یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” یا ” ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”، جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ بینظیربھٹو کے قتل کے ساتھ ہی بھٹو بھی زندہ نہ رہا ۔

 

پیپلز پارٹی 2013ء کے انتخابات بری طرح ہار گئی ۔ یہ پارٹی کی نہیں اُس قیادت کی شکست تھی جس کا مطمع نظر صرف لوٹ مار رہا ہے۔ گیارہ اکتوبر 2015ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتیجے کے مطابق این اے 122 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عامر حسین نے صرف 819 ووٹ حاصل کیے جبکہ این اے 144 میں پیپلز پارٹی کے امیدوارچوہدری سجادالحسن نے صرف 3807 ووٹ حاصل کیے۔ کیانظریاتی سیات کا خاتمہ نہیں ہوگیا؟ جواب۔۔۔ہاں کہہ سکتے ہیں کہ نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی رہتی تھیں۔ ہر طرح کے لوگ سیاسی جماعتوں کے اندر موجود تھے۔مگر اب لوگ ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ صرف اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی وابستگیاں تبدیل کرلیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پانچ جولائی کے دن یوم سیاہ منانے والی پیپلز پارٹی پر بھی جنرل ضیاء الحق کی باقیات قابض ہیں۔ رحمان ملک، یوسف رضا گیلانی اور منظور وٹو آج پارٹی قیادت کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر وحشیانہ ظلم کرکے اور بھٹو کو پھانسی دےکربھی نہ تو پیپلز پارٹی کو ختم کرسکا اور نہ ہی بھٹو کو مارسکا لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلز پارٹی پربدعنوانی کےخود کش حملے کرکرکے پیپلز پارٹی اور بھٹو کو مار ڈالا۔ آصف زرداری قائدانہ صلاحیتوں کے مالک نہیں ہیں، اگر پیپلز پارٹی کو سیاست میں دوبارہ زندہ ہونا ہے اور بھٹو کو زندہ کرنا ہے تو اُسے موجودہ قیادت کو بدلنا ہوگا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا، ورنہ 11 اکتوبر 2015ء کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مایوس کن نتایج دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ قوم اب آصف زرداری کو الوداع کہتے ہوئے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے “الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع”۔
Categories
نقطۂ نظر

ریفرنڈم ہو مگر کیسے۔۔؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔مجھے نہیں معلوم کہ اس بیان پر کس حد تک عمل درآمد ہوگا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ یہی بات اگر ہمارے خطے سے کوئی اُٹھ کر کہے تویہ امر یقیناً وفاق کے لیےناقابل برداشت ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں بقول قاری حفیظ صاحب ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی باتیں کرنے والے(یعنی سچ بولنے والے) غدارکہلائیں گے۔ غداری کی مہر لگنے کےاسی خوف نے آج گلگت بلتستان کے صحافیوں اور دانشوروں کو اہم قومی معامللات پرلب سینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم وہ بات بھی نہیں کہہ سکتے جو وفاقی وزارء، کشمیری رہنما اور ترجمان وزارت خارجہ وغیرہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کرتے ہیں۔اگر ہم پچھلے ایک سال کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وفاق اور کشمیر سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات نے گلگت بلتستان کی شناخت اور آئینی حیثیت کے حوالے سے وہ باتیں کی ہیں جو اگر وہاں کے باشندے کریں تو ان پر نہ جانے کس کس ملک کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جائے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کے بارے میں دیئے گئے سرکاری اور غیر سرکاری بیانات کا جائزہ لیا جائے تو شاید غداری کے الزام سے بچتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک متازعہ خطہ ہے ۔ لیکن یہ سچ کھلے عام نہیں بولا جاسکتا کہ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کےالحاق کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں اور اسے چند لوگوں کی سازش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان آج بھی آئینی اور سیاسی حقوق سے محروم ہے۔ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا سدباب اب ضروری ہے کیونکہ یہ محرومی اب ایک لاوے کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ہماری قانونی حیثیت اور پاکستان کو گلگت بلتستان کی وجہ سے ملنے والے سیاسی، جعرافیائی اور دفاعی فوائد کے بدلے میں مقامی لوگوں کو وسائل پر اپنا حق نہ ملنے کی وجہ سے احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا وفاق کو اب اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنی ہوگی۔ وفاقی وزارء کو متنازعہ بیانات دےکر معاملے کو مزید خراب کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کے قوانین اورانقلاب گلگت بلتستان کے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس نظام کو وفاق نے ‘حکومت ‘کا نام دے کر قانون سازی کے محدود اختیارات دے کر گلگت بلتستان میں نافذ کیا ہوا ہے وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اس لیے اب اس خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے کسی نئے بندوبست کی ضرورت ہے۔
ریفرنڈم یقیناً بہترین فیصلہ ہوگا اور پاکستان کو اس حوالے سے مخلص ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کی خود مختاری کے لیے آئین سازی کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کیونکہ جو نظام وفاق نے یہاں نافذ کیے ہیں اُن سے کچھ خاندانوں کے سوا عوام میں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ انہی چند مخصوص مراعات یافتہ لوگوں کی وجہ سے آج گلگت بلتستان کے عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ غیرمقامی لوگ حکومتی اراکین اور اہل سیاست سے مل کر ہمارے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر لُوٹ رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حقوق پر کسی بھی قسم کی سودےبازی نہ ہو ۔ گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی کسی ملک کے قانونی شہری کہلائیں ۔کارگل سے لےکر ساچن تک کے ٹو سے لے کر کشمیر تک پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والے گلگت بلتستان کے باشندے اب کسی ریاست کے باشندے بنیں۔
گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔
ریفرنڈم کے عمل کو مزید شفاف بنانے اور عوام کو جبر اور دباو کے بغیر فیصلہ کرنے کا موقع دینے کے لیے بس یہی گزارش ہے کہ اقوام متحدہ کو نگران کے طور پر دعوت دی جائے تاکہ مسقتبل میں بھارت یاکوئی اور ملک اس حوالے سے اعتراض نہ کرے۔اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں جب قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب یہاں کے عوام کو گندم کی سبسڈی پرگزارا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ یہاں کے لوگ خود گندم کاشت کرنا شروع کردیں گے۔ اس وقت بدقسمتی سے زراعت کے حوالے سے نعرے تو خوب لگ رہے ہیں لیکن زراعت کے فروغ کے لیے کوئی خصوصی بجٹ نہیں۔ اسی طرح سیاحت کی صنعت بھی دم توڑی رہی ہے۔ ریفرنڈم کے بعد ممکن ہے کہ اس اہم شعبے میں جان پڑ جائے اور اس جنت نظیر خطے دروازے دنیا بھر کے سیاحوں پر کھل جائیں اور ملکی اور غیر ملکی سیاح بغیر کسی خوف کے یہاں سیاحت کے لیے آ جا سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق میں بیٹھے اہل دانش اس حوالے سے کب فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان عوام تو اس ریفرنڈم کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ آج تک وفاق کی طرف سے جو بھی بجٹ منظور ہوئے ہیں وہ عوام فلاح کے لیے کم اور سیاست دانوں کی ترقی پر زیادہ استعمال ہوئے ہیں جس کا واضح ثبوت تباہ حال انفراسٹرکچر، انحطاط پذیر سرکاری ادارے، خستہ حال گلگت سکردو روڈ، ٹوورازم ڈیپارٹمنٹ کے خستہ حال موٹل اور گلگت اور سکردو بازار کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ اپنی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ریفرنڈم ہے اور وفاق کو جلد از جلد اس مطالبےکو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ مقامی لوگ کے لیے پاکستان پہلے سے زیادہ اجنبی جگہ بن جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

عمران خان میں تبدیلی آچکی ہے

جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔ آصف زرداری کی اُس وقت کی مالی بدعنوانیاں جو لاکھوں اور کروڑوں میں تھیں کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی۔ 1990ء میں اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر حکومت کو برطرف کردیا۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت نو ریفرنس عدالتوں میں دائر کیے گئے۔ لیکن پھر 1993ء میں اسی صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف حکومت کو برطرف کرنے کےلیے اُسی بدعنوان آصف زرداری سے بطور وزیر ایوان صدر میں حلف لیا، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے نو ریفرنس بھلادیے گئے کیونکہ مفاد پرست سیاست کی ضرورت تھی، احتساب کا معاملہ ٹھپ ہو گیا۔
آفتاب شیرپاؤ 1993ء کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اورصوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی منتخب ہوئے اور نومبر 1997ء تک بے نظیر بھٹو کی حکومت کی معزولی تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد نواز شریف دور میں نیب کی جانب سے ان پر بدعنوانی کے کئی مقدمات قائم کیے گئے۔ ان مقدمات کی وجہ سے وہ ملک سے باہر چلے گئے ۔2002ء میں ایک خفیہ ڈیل کے تحت واپس آئے اور پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی بعد میں اُس کا نام قومی وطن پارٹی رکھ دیا گیا۔ قومی وطن پارٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں کئی قومی اور صوبائی نشستیں حاصل کیں۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ق) کی حکومت کی حمایت اور اس دوران وزیرداخلہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ کئی خودکش حملوں میں بال بال بچے۔ 2008ء میں ہونے والے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے۔ جنوری 2009ء میں مائع گیس کے منافع بخش کاروبار میں مال بنانے والوں کی فہرست جاری ہوئی جس میں آفتاب شیرپاؤ کا نام بھی شامل تھا۔ اب اُن کے صابزادئے سکندر شیرپاؤ بھی سیاست میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور بہت مصروف سیاستدان ہیں ، اُ ن پر بھی خود کش حملے ہوچکے ہیں۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جب اپنی حکومت بنانے کی کوششیں شروع کیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کی بھرپورکوشش کی۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جب اپنی حکومت بنانے کی کوششیں شروع کیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کی بھرپورکوشش کی۔ اُس وقت طاقت کا توازن قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے ہاتھ میں تھا اور دونوں نے ہی اپنا اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ تینوں جماعتوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا تھا کہ صوبے میں کرپشن کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی بالا دستی کے لئے بھر پور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ تینوں جماعتوں نے اس عزم کو بھی دوہرایا تھا کہ یہ اتحاد پانچ سال تک برقرار رہے گا مگر صرف چھ ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ہی کئی معاملات پر اختلاف رائے اور متضاد پالیسیاں سامنے آنے کے بعدآخر کار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے مبینہ بدعنوانیوں کے الزام میں قومی وطن پارٹی کے دو صوبائی وزراء بخت بیدار خان اور ابرار حسین کو برطرف کردیا، جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قومی وطن پارٹی سے اتحاد کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔
قومی وطن پارٹی کے رہنما اورسینئر وزیر سکندر خان شیرپاؤ نے اپنی پارٹی کے دو صوبائی وزرا کو فارغ کیے جانے پرخود بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی پارٹی اب صوبائی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف پختون مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور وہ پختون قوم کو تباہی کے دہانے پر لے جانا چاہتی ہے۔ سابق سینر وزیر نے کہا کہ ٹھوس وجوہات کے بغیر قومی وطن پارٹی کے دو وزرا کو برطرف کرنا غیر اخلاقی عمل ہے اور ہماری پارٹی کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر وزرا کے معاملے پر قومی وطن پارٹی کو اعتماد میں لیاجاتا تو وہ دونوں وزرا کے خلاف سخت کارروائی کرتے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کا اتحاد جلد ہی ماضی کا ایک قصہ بنگیا اور عام لوگ اس بات کو بھول گئے کہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کبھی حکومتی اتحادی تھے۔ لیکن 30 مئی 2015ء کو بلدیاتی الیکشن کے موقعہ پرقومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان دوبارہ قربتیں پیدا ہوہیں، چند اضلاع میں دونوں کے درمیان پس پردہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہوئی/ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی اور بدنظمی کے خلاف سہ فریقی اتحاد کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے بائیکاٹ کے باوجود قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ اور ان کے رہنماؤں نے اے پی سی میں شرکت کی تھی جس کی وجہ سے حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کامیابی ملی تھی اور ہڑتال و شٹرڈاؤن ناکام ہوا تھا۔ پشاورمیں ایک پریس کانفرنس کے دوران قومی وطن کے پارٹی کے چئیرمین آفتاب شیرپاؤ نے کہا تھا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور ایسا ہی ہوا، تازہ اطلاع کے مطابق قومی وطن پارٹٰی کی دوبارہ صوبائی حکومت میں شمولیت کا معاہدہ ہوگیا ہے۔
عمران خان 126 دن کے لاحاصل دھرنے اور سول نافرمانی کی ناکام اپیل سے عوام کی بہتری کے لیے کوئی تبدیلی نہیں لاسکے لیکن شاید دھرنے کے دوران اُنہیں یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کی طرح اُنہیں بھی اسی مفاد پرست سیاست کا حصہ بننا پڑے گا
سب جانتے ہیں کہ عمران خان 126 دن کے لاحاصل دھرنے اور سول نافرمانی کی ناکام اپیل سے عوام کی بہتری کےلیے کوئی تبدیلی نہیں لاسکے لیکن شاید دھرنے کے دوران اُنہیں یہ بات سمجھ میں آگئی ہےکہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کی طرح اُنہیں بھی اسی مفاد پرست سیاست کا حصہ بننا پڑے گا جہاں نہ کوئی اصول ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی انصاف، صرف اور صرف لوٹ کھسوٹ کا بدعنوان نظام ہوتا ہے۔ اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے ہی غلام اسحاق خان نے بدعنوان آصف زرداری سے وزیر کاحلف لیا تھا، پرویز مشرف اور چوہدری شجات ایک ہی حکومت کا حصہ بنے تھے، پرویز مشرف نےبینظیراور دوسرے بدعنوانوں کےلیے این آر او بنایا تھا ۔اسی مفاد پرست سیاست کے طفیل آصف زرداری نے پانچ سال پورے ملک کو لوٹا اور نواز شریف دوستانہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے رہے اور آج اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے نواز شریف کےگرد لوٹے جمع ہیں۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جس قومی وطن پارٹی کے بدعنوان وزرا کی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے اُس کے دو صوبائی وزراء کو برطرف کردیاتھا اور اُن سے اپنا اتحاد ختم کرلیا تھا اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے دوبارہ اتحاد کرلیا ہے۔ عمران خان کو اس نئے یو ٹرن پرمبارکباد تو نہیں دی جاسکتی لیکن عام لوگوں کو یہ ضرور سمجھ لینا چاہیے کہ تبدیلی کے نعرے لگانے والے خود تبدیل ہوکراُسی بدعنوان نظام کا حصہ بن گئے ہیں جو گزشتہ انہتر سال سے پاکستان میں رائج ہے۔ دوستو پاکستان میں تبدیلی تو کیا آتی لیکن آپ کہہ سکتے ہیں عمران خان اور تحریک انصاف میں تبدیلی آچکی ہے۔ آخر میں ایک سوال قومی وطن پارٹی کے رہنما سکندر خان شیرپاؤ سے کہ تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کے وقت آپ نے تحریک انصاف پر الزام لگایا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت پختون مخالف پالیسیوں پرعمل پیراہے۔ کیا آپ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب تحریک انصاف کی حکومت نے پختون مخالف پالیسیوں پرعمل پیراہوناچھوڑ دیا ہے یا پھریہ مفاد پرست سیاست کا کمال ہے کہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی دوبارہ حکومتی اتحادی بن گئے ہیں۔ آغا شورش کاشمیری نے شاید اسی مفاد پرست سیاست کو سامنے رکھ کر کہا تھا؛
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
Categories
نقطۂ نظر

دو کمیشن، دو رپورٹیں

دو کمیشن اور دو رپورٹیں اور تحریک انصاف کا دہرا طرزعمل۔۔۔ تحریک انصاف جمہوریت، منصفانہ انتخابات اور انصاف کی فراہمی پر کتنا یقین رکھتی ہے یہ جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔ تحریک انصاف جس کی تمام تر سیاست انتخابی دھاندلی کا بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے تک محدود رہی تھی بدترین انتخابی ،سیاسی اور قانونی شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھی بظاہر اپنا طرزعمل تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔ تحریک انصاف کے حقیقی خیرخواہوں کو اب اپنی جماعت سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ وہ تمام ثبوت کہاں ہیں جن کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کا سازشی مفروضہ تیار کیا گیا تھا؟ اب عمران خان کے متوالوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ ان کی جماعت نے نجم سیٹھی، خلیل الرحمن رمدے، جسٹس افتخار چوہدری اور فخرالدین جی ابراہیم پر جو الزامات لگائے تھے ان کی بنیاد کیا تھی۔ یہ سوال اب پی ٹی آئی کے ہر ہمدرد کے ذہن میں گونجنا چاہیئے کہ ان کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا ذمہ دار کون ہے؟

تحریک انصاف کے حقیقی خیرخواہوں کو اب اپنی جماعت سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ وہ تمام ثبوت کہاں ہیں جن کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کا سازشی مفروضہ تیار کیا گیا تھا؟

2013 میں ہونے والے جماعتی انتخاابت میں ہونے والی دھاندلی کے ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ جسٹس وجیہہ الدین کی سربراہی میں کام کرنے والے تحقیقاتی کمیشن کی واضح سفارشات بھی اس جماعت کو یرغمال بنانے والوں کا بال تک بیکا نہیں کر سکیں۔ وہی لوگ تحریک انصاف کے مختلف عہدوں پر بڑے ڈھٹائی سے براجمان ہیں جن کے خلاف کمیشن نے کارروائی کرنے کی سفارش کی تھی۔ ایک کمیشن جو تحریک انصاف کا گند صاف کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا نا تو اس کی رپورٹ منظر عام پر آئی اور نہ ہی ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوئی۔دوسری جانب عام انتخابات 2013 کے نتائج قبول کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں اور سازشی مفروضوں کو بنیاد بنا کر جس منظم دھاندلی کا بارہا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے اس سے متعلق کمیشن کو نہ تو کافی شواہد مہیا کیے گئے اور نہ ہی منظم دھاندلی کے الزامات ثابت کتنے کی کوئی شنجیدہ کوشش کی گئی۔
ان دونوں کمیشنوں اور ان پر تحریک انصاف کے طرزعمل سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ یہ جماعت بھی دیگر جماعتوں کی طرح محض دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ تحریک انصاف نے جسٹس وجیہہ الدین کمیشن کی رپورٹ نظرانداز کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ خؤداحتسابی کو تیار نہیں۔ وجیہہ الدین کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود تحریک انصاف میں جہانگیرترین، پرویز خٹک اور دیگر کی موجودگی سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ تحریک انصاف کا مطمع نظر بھی انصاف نہیں بلکہ اقتدار کا حصول ہے۔

وجیہہ الدین کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود تحریک انصاف میں جہانگیرترین، پرویز خٹک اور دیگر کی موجودگی سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ تحریک انصاف کا مطمع نظر بھی انصاف نہیں بلکہ اقتدار کا حصول ہے۔

تحریک انصاف کی سیاست ان دو تحقیقاتی کمیشنوں کے ہاتھوں دفن ہو چکی ہے۔ دونوں کمیشن اور ان کی رپورٹیں دو مواقع تھے ۔ یہ اپنی تطہیر اور اپنی اصلاح کے مواقع تھے جنہیں ضائع کردیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے اصلاح کی بجائے اپنی خامیاں چھپانے اور دوسروں کی پگڑیااچھالنے کی روش اپنائی ہے جو اس جماعت کے مستقبل کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ تحریک انصاف کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ اس کے مخلص اور وفادار ساتھی ہی کیوں اس طرز سیاست پر اعتراض کررہے ہیں۔ درحقیقیت یہ جماعت اب مکمل طور پر جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے تسلط میں ہے۔ اب یہ جماعت عمران خان ، وجیہہ الدین یا نوجوانوں کی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ لوٹوں، سیاسی جغادریوں اوراقتدار کے متوالوں کی جماعت بن چکی ہے جس کی نہ تو کوئی سمت ہے نہ نظریہ۔ جو جماعت اپنا قبلہ درست نہیں کرسکتی وہ اس ملک کا مستقبل کیسے بدل سکتی ہے؟ جو رہنما اپنی جماعت کے انتخابات کے دوران بے قاعدگیوں اور دھاندلی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکا وہ کس طرح کسی اور جماعت پر دھاندلی کے الزامات عائد کرکے انصاف کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

کارٹون بشکریہ صابر نذر

Categories
نقطۂ نظر

بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد سے آج تک کبھی نواز شریف، کبھی پرویز مشرف تو کبھی ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ سبھی آصف علی زرداری پر الزامات کی اس تواتر سے بوچھاڑ کرتے رہے ہیں کہ ان کے بارے میں سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنا بے حد دشوار ہے۔ آصف علی زرداری صاحب کی ذات اور محترمہ کی زندگی میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات سے قطع نظر پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کے لیے لیے اس وقت یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی جماعت کہلانے والی جماعت آج ایک صوبے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صورت حال کا ذمہ دار عموماً آصف علی زرداری کو قرا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے نہ تو کوئی کارکن خوش ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں۔ کراچی سے پیپلزپارٹی کا وجود مٹ چکا ہے اور کوئی نوجوان اس جماعت میں شمولیت یا اس کی حمایت کو تیار نہیں، آج کا نوجوان بھٹو یا بی بی کی شہادت یا ان کی غریب پرور سیاست سے واقف نہیں، آج کے ووٹر کے لیے پیپلز پارٹی کا تعارف آصف علی زرداری کی پانچ سالہ حکومت ہے اور اس دور میں روا رکھے جانے والی مالی بدعنوانیاں اور بدترین حکومتی کارکردگی ہے۔ یقیناً آصف علی زرداری اور ان کے قریبی رفقاء نے پیپلز پارٹی کو مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے اور ان کا اور ان کے کرپٹ ساتھیوں کا احتساب ضروری ہے۔
پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں
گزشتہ دنوں فوجی قیادت کے خلاف آصف علی زرداری کی پریس کے بعد سے شروع ہونے والے سیاسی بحران کے بعد سے پاکستان کے جمہوری نظام کا مستقبل ایک بار پھر خدشات کا شکار ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے تیور یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کا بیان پیپلز پارٹی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے جو مسلم لیگ نواز سے مصالحت کے خاتمے اور حزب اختلاف کے طور پر مزاحمت اور احتجاج کی سیاست ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پیپلز پارٹی ایک بار پھر ماضی کی طرح ایک فعال، متحرک اور مقبول جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے اور کیا تحریک انصاف کی جانب مائل نوجوانو ں کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے یا نہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت بری طرح کم ہوئی ہے اور اس اک ووٹ بنک تقسیم ہو چکا ہے۔ اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو بڑھانے اور اگلے انتخابات جیتنے کے قابل ہونے کے لیے پیپلز پارٹی کو ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔
زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے
نوجوان بلاول بھٹو زرداری وہ ترپ کا پتہ ہیں جو پیپلز پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔ بہت جلد پاکستان میں سیاست دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کو ہے جس میں سے ایک دھڑا عسکری قیادت کی پشت پناہی اور حمایت کا خواہاں نظر آتا ہے تو دوسری جانب ایک کم زور دھڑا ان سیاسی جماعتوں پر مشتمل بنتا نظر آتا ہے جو عسکری مداخلت کے مخالف ہیں۔ ایک جانب مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ہیں جو کسی بھی صورت میں عسکری قیادت کو ناراض کرنے کے قائل نہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی، ایم کیوا یم اور اے این پی کا سابقہ اتحاد اکٹھا ہوتا نظر آرہا ہے جو عسکری قیادت کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج کرے گا۔
پیپلز پارٹی یقیناً آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نواز حکومت کو دباو میں لا کر فوج اور پیپلز پارٹی میں سے پیپلز پارٹی کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا یہ چال کامیاب بھی ہوگی ؟ اس کا دارومدار مکمل طور پر بلاول بھٹو کے طرز سیاست پر ہے۔ اگر چہ اس وقت عمران خان کی pro-establishment سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے اور وہی وقت پیپلز پارٹی کی تشکیل نو کا وقت ہو گا۔
اس وقت عمران خان کی (pro-establishment) سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے
بلاول کے سامنے ایک ایسی جماعت ہے جو عملاً مفلوج ہو چکی ہے اور جس کی مقبولیت اور سندھ حکومت اس وقت داو پر ہے لیکن بلاول بھٹو کے پاس وہ میراث ہے جو اسے طالع آزما جرنیلوں، ملاوں اور دائیں بازو کے سرمایہ دار دوست سیاستدانوں کو للکارنے للکارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بلاول کو اپنی جماعت کی تشکیل نو کرنا ہو گی، نئے سرے سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور خؤد کو اس بدعنوان ٹولے سے علیحدہ کرنا ہوگا جس نے پیپلز پارٹی کو گزشتہ ایک دہائی سے نرغے میں لے رکھا ہے۔ بلاول کو اپنے والد سے مختلف سیاست اور اپنے والد سے منفرد طرز حکومت کی داغ بیل ڈالنی ہو گی اور پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شریف برادران کے لیے حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالول کو ایک ایسی چومکھی لڑنی ہے جس میں پیپلز پارٹی ہی نہیں پاکستان کا جمہوری اور امن پسند مستقبل بھی داو پر لگا ہوا ہے۔ یہ اس آئین کی بقاء کی جنگ ہے جسے ضیاء الحق اور اس کی باقیات نے بگاڑاہے۔ یہ ایک ڈھکے چھپے مارشل لاء کے چہرے کا جمہوری نقاب اتارنے کی جنگ ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اس وقت صرف پیپلز پارٹی کے پاس یہ طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو یاددلائے کے حکومت اور پالیسی سازی چند جرنیلوں کا کام نہیں بلکہ عوام کا استحقاق ہے۔ پیپلز پارٹی اگر بلاول کی سربراہی میں اپنا وجود قائم رکھ سکی تو وہ وقت دور نہیں جب جرنیلوں کے سیاہ اعمال نامے ذرائع ابلاغ پر بریکنگ نیوز بن کر چلیں گے اور لوگوں کو احساس ہو گا کہ اس ملک میں کرپشن ، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی سب سے زیادہ سرپرستی فوجیوں نے ہی کی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

گندا ہے پر دھندہ ہے

Nara-e-Mastana

کال کس نے کی؟ زرداری صاحب نے یا کپتان نے؟ جس نے بھی کی، سیاست میں میل ملاقات اور روابط کی گنجائش بہر حال باقی رہتی ہے، پس منظر البتہ بیان کیے دیتے ہیں، رحمان ملک اور پرویز خٹک کے آپسی تعلقات دیرینہ ہیں، سینیٹ انتخابات کے ہنگام میں دونوں رہنماوں کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ملک صاحب کی تجویز تھی کہ پی پی خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حمایت کر سکتی ہے اگر بدلے میں پی ٹی آئی، چیئرمین سینیٹ کے لیے ہماری حمایت کرے۔ ملک صاحب نے کہا کہ اگر مولانا یا دیگر عناصر آپ کے کچھ ووٹ توڑ بھی لیتے ہیں تو ہم اپنے پانچ ووٹ آپ کو دے سکتے ہیں۔ طے ہوا کہ تجویز معقول ہے لہذا اسے دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت تک پہنچایا جائے، ملک صاحب نے بلاول ہاوس کا رخ کیا تو خٹک صاحب بنی گالہ جا پہنچے۔ اپنے اپنے پنڈتوں کے پاس پہنچنے پر خٹک صاحب نے ملک صاحب کو فون کیا، معلوم ہوا کہ زرداری صاحب کسی وفد سے ملاقات میں مصروف ہیں، جیسے ہی زرداری صاحب فارغ ہوئے ملک صاحب نے فوراً پرویز خٹک کو فون کیا،جنہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فون کپتان کو تھما دیااور یوں زرداری صاحب اور خان صاحب کی مشہور زمانہ ٹیلی فونک گفتگو کا چرچا سننے کو ملا۔
غالب امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ن لیگ اور پی پی میں سے کسی کی حمایت نہیں کرے گی تاہم پارٹی پوزیشنز کے مطابق تحریک انصاف اور مولانا ، فضل الرحمن دونوں کے ووٹ چیئر مین سینیٹ کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
گفتگو کے دوران عمران خان نے ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے پر زور دیا اور ملک صاحب کی تجویز پرکہا کہ وہ اپنی جماعت سے مشورہ کر کے آئندہ لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ کپتان اور ان کی جماعت دھرنوں کے دوران حتی کہ انتخابات سے پہلے بھی ن لیگ اور پی پی کے بارے انتہائی سخت موقف اپنا چکے ہیں لہذا کچھ ایم پی ایز نے کہا کہ صاحب ایسا نہیں ہو سکتا، اب کیسے ہم اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹ جائیں، یہی وجہ ہے کہ کپتان سینیٹ انتخاب میں غیر جانبداررہنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ تحریک انصاف چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ن لیگ اور پی پی میں سے کسی کی حمایت نہیں کرے گی تاہم پارٹی پوزیشنز کے مطابق تحریک انصاف اور مولانا ، فضل الرحمن دونوں کے ووٹ چیئر مین سینیٹ کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کو تو شاید اپنے ‘اصولی موقف’ پر ہی قائم رہنا پڑے لیکن یہ مولانا ہیں جو وقت کی نزاکت ہمیشہ بھانپ لیتے ہیں ۔
مولانا کی سیاست کے رنگ نرالے، وفاق میں حکومت کےساتھ اور صوبوں میں سینیٹ انتخابات کے ہنگام میں ادھر ادھر گٹھ جوڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کیا کیجیے آخر قبلہ تہتر کے آئین کے تناظر میں دور کی سوچ رکھتے ہیں۔ ایسی سوچ جسے سمجھنے کے لیے عام سیاستدان کو شاید سات جنم درکار ہیں، فی الحال تو حضرت کے پی کے میں تحریک انصاف کے درپے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف اکثریتی جماعت ہونے کےباوجودسات عمومی نشستوں پر کم سے کم سینیٹرز منتخب کروا سکے۔اگرچہ خیبرپختونخواہ میں عمومی نشست پر ایک سینیٹر کو منتخب ہونے کے لیے سترہ ووٹ درکار ہوتے ہیں اورمولاناکی اپنی جیب میں محض سولہ نشستیں ہیں لیکن حضرت ایک سینیٹر کی بجائے خواب دو کا دیکھ رہے ہیں۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سینیٹ میں چار اقلیتی نشستوں کا اضافہ کیا گیا، لہذا اب پاکستانی سینیٹ کے اراکین کی مجموعی تعداد ایک سو چار ہے، اراکین سینیٹ چھے سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں جن میں سے نصف ہر تین سال بعداپنے عہدے سے سبکدوش ہو جاتے ہیں ۔ چاروں صوبائی اسمبلیاں مجموعی طور پر تئیس تئیس نشستوں کے لیے سینیٹرز کا انتخاب کرتی ہیں، جن میں چودہ عمومی، چار علما اور ٹیکنوکریٹس، چار خواتین اور ایک اقلیتی نشست پر انتخاب لڑا جاتا ہے۔ چونکہ سینیٹ کا انتخاب ہر تین سال بعد ہوتا ہے لہذا صوبے ہر انتخاب میں گیارہ یا بارہ نشستوں کے لیے سینیٹرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ مارچ 2015میں باون نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے ہر صوبے نے پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں سات عمومی نشستوں کے علاوہ دو دو ٹیکنوکریٹس اور دو دو خواتین سینیٹرز کا بھی انتخاب کرنا ہے ۔ ہر صوبائی اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد کو ہر صوبے کے لیے مختص عمومی یا مخصوص نشستوں کی تعداد پر تقسیم کر کےایک سینیٹر کے انتخاب کے لیے درکار ووٹوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ اراکین صوبائی اسمبلی ترجیحی اعتبار سے نامزد سینیٹرز کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس فارمولے کے تحت عمومی نشست کے لیے نامز د سینیٹر زکو پنجاب میں سینتالیس ، سندھ اسمبلی میں چوبیس ، خیبر پختونخواہ میں سترہ اور بلوچستان میں نو ووٹ درکار ہوں گے ۔اسلام آباد کے لیے مختص سینیٹ کی دو نشستوں کا انتخاب قومی اسمبلی اکثریتی بنیاد پر کرے گی، فاٹا کے بارہ اراکین قومی اسمبلی چار سینیٹرز کے لیے ووٹ دیں گے، جبکہ دو اقلیتی نشستیں ہر صوبے کی اکثریتی پارٹی کے حصے میں جائیں گی۔
مارچ 2015میں باون نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے ہر صوبے نے پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں سات عمومی نشستوں کے علاوہ دو دو ٹیکنوکریٹس اور دو دو خواتین سینیٹرز کا بھی انتخاب کرنا ہے۔
سندھ اور پنجاب میں تو معاملات کافی حد تک طے ہیں کیونکہ یہاںحکمران جماعتوں کو اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں کسی روکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اصل معاملہ کے پی کے اور بلوچستان میں درپیش ہےجہاں پانچ پانچ صوبائی نشستوں کی حامل جماعتوں نے بھی دو دو امیدوار نامزد کر رکھے ہیں یہی وجہ ہےکہ سیاسی جماعتوں کے کرتا دھرتا تمام تر توجہ ان دو صوبوں پر ہی مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ صاحب مطلوبہ ووٹ بظاہر تو آپ کے پاس ہیں نہیں تو پھر یہ چلن کاہے کو؟؟ ظاہر ہے جوڑ توڑ اور ہارس ٹریڈنگ اسی مرض کی دو اہیں۔ اب رہ گئی بات چیئرمین سینیٹ کی تو یقین جانیں اصل مسئلہ یہی ہے، پی پی پی وفاق اور صوبوں میں کم ووٹ رکھنے کے باوجود سینیٹ میں مضبوط پوزیشن کی حامل ہے، ان انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس سینیٹ میں چھبیس یا ستائیس ووٹ ہوں گے، ن لیگ پنجاب میں تمام نشستیں حاصل کر لے گی اور انہیں بھی تقریباً اتنے ہی سینیٹرز کی حمایت حاصل ہوگی، ایم کیو ایم، اے این پی، قومی وطن پارٹی، ق لیگ اور بی این پی عوامی کے ہندسے جمع کریں تو پی پی کے پاس انچاس یا پچاس ووٹ اکٹھے ہوں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ ایسی ہی صورتحال ن لیگ کے کیمپ میں ہے، ن لیگ کو فنکشنل لیگ ، نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور فاٹا کے اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ بظاہر مولانا کے پاس سینیٹ میں پانچ نشستیں ہوں گی، کپتان بھی کے پی کے سے اتنی ہی نشستیں جیت پائیں گےیہی وجہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کس جماعت سے ہوگا اس کا فیصلہ کپتان یا مولانا ہی کر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی سینیٹ میں ایک نشست ہی پکی کر سکے گی اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ان کا ووٹ ن لیگ کے امیدوار کے لیے ہو گا۔ دیکھتے ہیں کہ سیاسی پنڈت سینیٹ انتخابات اور بالخصوص چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنے اپنے مہرے کس مہارت سے آگے چلاتے ہیں۔ باقی جماعتوں کو کیا نفع نقصان ہو گا یہ تو سامنے کی بات ہے، لیکن ان سب میں صرف ایک مولانا ہی ہیں جو ہر حال میں فائدے مند ہی رہیں گے۔یعنی؛

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاوں، ہاروں تو پیا تیری

Categories
نقطۂ نظر

کیا بلدیہ ٹاؤن واقعہ اہم ہے؟

ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی جس قدر بھی ایم کیو ایم کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دے درحقیقت متحدہ سے اسی قدر نالاں رہتی ہے۔ سندھ کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ دونوں اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی جدوجہد میں ہیں۔ میں ذاتی طور پر زرداری صاحب کی سیاسی سوجھ بوجھ اور قائدانہ صلاحیتوں کا بڑا مداح تھا لیکن پچھلے چند ماہ سے پی پی پی کا طرز سیاست اور حکومت دیکھ کر مجھے بھی مایوسی ہوئی ہے۔ تھر کے حالات، سندھ میں لوٹ کھسوٹ حتیٰ کہ قحط زدگان کی امداد میں بھی خردبرد ، ہسپتالوں اور سکولوں کے حالات اور اب یہ ڈرانے دھمکانے والی سیاست کسی صورت بھی پی پی کے بچے کچھے تاثر کو نہیں بچا پائے گی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کے پی پی پی کی تمام تر صوبائی سیاست وڈیرا شاہی پر چل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ بلاول کو صوبائی سیاست سے الگ کیا گیا ہے کیونکہ اسکی سیاسی ناپختگی اس روایتی سیاست کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بلاول وزیراعظم ٹائپ ہے، وزیر اعلیٰ “میٹیریل” نہیں(ان کی خصوصیات کا انداذہ تو ہر پاکستانی کو بخوبی ہو گا)۔
ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔
گزشتہ سات برس کے دوران پیپلز پارٹی اور متحدہ کے درمیان حکومت میں شمولیت اور علیحدگی کا جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں جماعتیں نہ مل کر چل سکتی ہیں اور نہ علیحدہ ہو سکتی ہیں۔ایم کیو ایم کی حالیہ علیحدگی کے بعد سے زرداری صاحب پچھلے کئی دنوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ایم کیو ایم پھر صوبائی حکومت میں شامل ہو جائے۔ اب ایم کیوایم کے مطابق زرداری صاحب کی نیّت ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ عین ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کے نزدیک اس نیت سے مراد دو چار وزارتیں اور بلدیاتی انتخابات ہوں جبکہ زرداری صاحب کے نزدیک نیت کا مطلب سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ منظرعام پر لانا اور 12مئی کا پنڈورا باکس کھولنا ہو جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق تو عمران فاروق قتل کیس کے زیر حراست ملزمان کو لندن پولیس کے حوالےکرنا بھی نیت کا ایک مطلب ہو سکتا ہے۔
بلدیہ ٹاؤن واقعہ میں یقیناً ایم کیو ایم کے کسی بھتہ خور کے ملوث ہونے کے “امکانات” ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھتہ مانگا گیا ہو لیکن آگ نہ لگائی گئی ہو بلکہ یہ محض ایک حادثہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ پارٹی ہائی کمان کی طرف سے فیکٹری جلانے کی کوئی ہدایات نہ آئی ہوں کیوں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی خودکشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صرف آگ لگائی گئی ہو اور تین سوافراد غیر ارادی طور پر لقمہ اجل بن گئے ہوں، بلاشبہ ایسی صورت میں بھی ان افرادکے قتل کی تمام تر ذمہ داری آگ لگانے والے مجرموں پر ہی ہو گی لیکن قانون کی نظر میں پھر بھی ارادتاً اور غیر ارادتاً قتل میں فرق ہوتا ہے۔
تمام امکانات اپنی جگہ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کا پارٹی فنڈ عموماً لوگ تمام ٹیکسوں کی طرح کوئی خاص خوشی سے جمع نہیں کراتےاور جس طرح اور ن کے ذریعے یہ فنڈ اکٹھا کیا جاتا ہے اسے “بھتہ “ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کارِخیرکی انجام دہی کے لیے یقیناً بہت سے “بھائی لوگ” بھی متعین ہیں جو ہر ممکنہ طریقے سے پارٹی فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔ اگرچہ متحدہ خود کو ایسے عناصر کے تشددسے علیحدہ قرار دیتی ہے لیکن اگر انہی چھوٹے موٹے بھائی لوگوں میں سے کوئی غلطی سے کوئی فیکٹری جلا دے ، بندہ پھڑکا دے اور اس دوران دو تین سو بندے بھی بھسم کر دے تو پارٹی اس امر سے کسی طور پر خود کو مبرا قرار نہیں دے سکتی۔
سیاست دان اور عوام تاریخ سے سبق سیکھے بغیر ایک جماعت کے خلاف بنائے گئےعمومی تاثر کے غلام بنے ہوئے ہیں اور واضح حقائق کو ہمیشہ کی طرح نظر انداذ کر رہے ہیں۔
بلدیہ ٹاون واقعہ کی مبہم رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایم کیوایم کو مزید کم زورکیا جا رہا ہے، پاکستان تحریک انصاف اور جماعتِ اسلامی سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور بارہ مئی کے واقعات کو لپک لپک کر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بارہ مئی 2007 کے سانحہ میں محض ایم کیو ایم ہی نہیں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا نام بھی آتا ہے۔ جنرل مشرف جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) کی مدد سے حکومت کرتے رہے ہیں جن کے ساتھ تحریک انصاف اتحاد قائم کیے ہوئے ہے۔جماعت اسلامی کے اپنے کارکنان کے گھروں سے القائدہ کے درجنوں مطلوب افراد پکڑے جا چکے ہیں لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے اس عسکریت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے کی مثالیں بے حد کم ہیں۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جس کے سربراہ کے خلاف پی ٹی آئی کے سربراہ لندن میں کچھ کاغذات ہلا ہلا کر دعوے فرماتے رہے اور بعد میں اپنی کارکن زہرا آپا کے قتل کو بھلا کر بھائی بھائی بن گئے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے ایم کیو ایم پر تنقید اصولی موقف نہیں بلکہ محض ایم کیو ایم کو کم زور کر کے اس کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔ایک مبہم رپورٹ کی آڑ میں ایم کیو ایم کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈا پریشان کن امر ہے۔ سیاست دان اور عوام تاریخ سے سبق سیکھے بغیر ایک جماعت کے خلاف بنائے گئےعمومی تاثر کے غلام بنے ہوئے ہیں اور واضح حقائق کو ہمیشہ کی طرح نظر انداذ کر رہے ہیں۔