Categories
خصوصی

“حال حوال” بلوچستان میں آن لائن صحافت کا نیا باب

کہتے ہیں کہ خواب دیکھا کریں کبھی نہ کبھی خواب حقیقت میں بدل ہی جاتے ہیں، اچھے دوست مل جاتے ہیں ،راستے بن جاتے ہیں، جو سپنے دیکھے تھے وہ پورے ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح ایک خواب ہم نے دیکھا تھا جسے حقیقت کا روپ دھارنے میں کافی وقت لگا۔ چند دوستوں کا خواب، بلوچستان کی سطح پر ایک آن لائن جریدے کے آغاز کرنے کا خواب۔۔۔ ایک آن لائن جریدے کی ضرورت کا احساس تو تب ہی ہو گیا تھا جب پاکستانی مین اسٹریم میڈیا میں بلوچستان کے مسائل دانستہ طور پر نظر انداز کیے جانے لگے۔ بلوچستان کی بدحالی کو لکھتے اور مٹاتے بہت وقت لگتا تھا لیکن اس بدحالی کی خبر میڈیا سے کہیں باہر دکھائی اور سنائی دیتی پر وہ میڈیا کی زیب و زینت بننے سے قاصر تھی۔ جس طرح کا رویہ وفاق کا بلوچستان کے ساتھ رہا ہے، وہی طرز عمل پاکستانی مین اسٹریم میڈیا نے اپنایا۔ حالاں کہ میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا تھا مگر نہ کر سکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بلوچستان کے لیے آواز بلند کرنے والے صحافتی اداروں کو دیوار سے لگایا گیا۔ جس میں روزنامہ آساپ پھرروزنامہ توار بعد میں اولین آن لائن انگریزی اخبار ’دی بلوچ حال‘ بھی ایسی پابندیوں کی زد میں آیا تو دوستوں نے سوچا کیوں نہ ایک نئے باب کا آغاز “حال حوال” کے عنوان سے کیا جائے۔
‘حال حوال’ بلوچستان کی ایک خاص اصطلاح ہے جو لگ بھگ بلوچستان کی تمام زبانوں میں یکساں مفہوم کے ساتھ رائج ہے۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اردو میں ‘حال احوال’ کا ہے۔ جب ہم نے اس نام کا انتخاب کرکے آزادی صحافت کے عالمی دن3مئی 2016کو ویب سائٹ لانچ کی تو بعض دوستوں کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ اسے “حال حوال” کے بجائے “حال احوال” لکھا جائے تو با معنی لگے گا۔ چوں کہ ویب سائٹ بلوچستان سے متعلق تھی تو بلوچی نام دیتے ہوئے ہمیں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی اور ویب سائٹ کا نام ‘حال حوال’ ہی رکھ دیا گیا۔ اردو میں اگر اس کا مختصر مفہوم بیان کریں تو وہ یوں ہو گا؛حال یعنی خبر، حوال یعنی تفصیل یاتبصرہ۔

 

حال حوال کا آئیڈیا ہمارے دوست اور قلم کار جناب عابد میر کا تھا۔ عابد میر کئی کتابوں کے مصنف اور روزنامہ ایکسپریس سے بطور کالم نگار وابستہ رہے ہیں۔ سو، ادارت کی ذمہ داریاں بھی ان کے کندھوں پر ڈالی گئیں۔ راقم الحروف کے حصے میں خبروں حصہ آیا۔ باقی بچے دو دوست، تو ہیبتان دشتی کی ذمہ داری منیجنگ ایڈیٹر کی ہے اور ویب سائٹ کو بنانے اور سنوارنے کا کام ہمارے پیارے خالد میر نے انجام دیا۔ ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب کوئٹہ پریس کلب میں رکھی گئی۔ یوں 3مئی2016 (آزادی صحافت کے عالمی دن) ویب سائٹ کو اس کی ٹیم نے خود اپنے ہاتھوں سے لانچ کیا اوریوں ایک خواب حقیقت میں بدل گیا۔

 

حال حوال کی افتتاحی تقریب
حال حوال کی افتتاحی تقریب
حال حوال کا محور و مرکز بلوچستان ہے۔ حال حوال پر 90فیصد خبریں، تبصرے اور تجزیے بلوچستان اور بلوچوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ 3مئی کو چار دوستوں نے آن لائن جریدے کا آغاز کیا تھا، اب ایک ٹیم بن چکی ہے جس میں متعدد لکھار ی اور نامہ نگار شامل ہو چکے ہیں۔ شروع شروع میں خبروں تک رسائی، خبروں کی ایڈیٹنگ، بلوچستان کے نقطہ نظر کو دوسروں تک پہنچانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔ حال حوال کو اب نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان اور بیرونِ ملک دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ویب سائٹ کے حوالے سے آراء اور مضامین نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں سے موصول ہوتے ہیں۔

 

حال حوال ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حال حوال کی ٹیم اس ویب سائٹ کو رضاکارانہ طور پر چلا رہی ہے بلکہ نامہ نگاران اور مضمون نگار علاقائی خبریں اور تحریریں رضاکارانہ بنیادوں پر ارسال کرتے ہیں اور حال حوال کو فعال بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔

 

حال حوال کا میڈیم چوں کہ اردو ہے تو اس میں مواد کی اشاعت اردو میں ہی کی جاتی ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا مواد جو انگلش یا دیگر زبانوں میں ہو اور قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو تو اس کا ردو ترجمہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ حال حوال کی ویب سائٹ پر مختلف کیٹگریز بنی ہوئی ہیں۔ سیاسی حال میں سیاسی خبریں، سماجی حال میں سماجی خبریں، ادبی حال میں ادبی خبریں و مضامین، علمی حال میں علمی و تعلیمی خبریں، خصوصی حال میں اہم مضامین، منتخب حال میں دیگر اداروں میں بالخصوص بلوچستان سے متعلق چھپنے والے مضامین، تجزیے، بلاگ سیکشن میں نو آموز لکھاریوں کے مختصر تبصرے اور حال حوال میں انٹرویوز شائع کیے جاتے ہیں۔

 

اپنے قیام کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران حال حوال بلوچستان کے سیاسی، سماجی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے، بالخصوص نئے نوجوان لکھاری اس جانب راغب ہوئے ہیں۔ حال حوال کے لیے مستقل لکھنے والوں کی تعداد اب 100سے زائد ہو چکی ہے۔ جن میں ڈاکٹر شاہ محمد مری، ذوالفقار علی زلفی، اسد بلوچ، برکت زیب سمالانی، کامریڈ فاروق بلوچ، فتح شاکر، عمران سمالانی، جلیلہ حیدر، محمد حان داؤد، منظور مینگل، قادر نصیب چھتروی، تہمینہ عباس، سلیمان ہاشم، برکت مری کا نمایاں ہیں۔ اسے عرصے میں مختلف موضوعات پر 20سے زائد اداریے شائع ہوئے۔ بلوچستان سے متعلق بامعنی اور باسلیقہ علمی مکالمے کا فروغ “حال حوال” کا بنیادی مطمع نظر ہے۔ ہم ایسے تمام خیالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو بلوچستان کو ایک پرامن، روشن خیال اور خوش حال خطہ دیکھنے کے خواب پر مبنی ہوں۔

 

حال حوال میں اب تک شائع ہونے والی تحاریر کی تعداد 1600تک پہنچ چکی ہے، جب کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے والوں کی تعداد 1500سے 2000 کے درمیان ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حال حوال کے قارئین، لکھاریوں اور نمائندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چھ مہینے پہلے جس ویب سائٹ کا آغاز کیا تھا، وہ اب بلوچستان کا نمائندہ پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ گو پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں حقیقی صحافت ایک خواب ہی لگتی ہے پھر بھی ہم اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بلوچستان کے مسائل کو سامنے لانے کی کوشش جاری رہے۔ بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بلوچستان کے تمام حقیقی مسائل کو اب بھی اجاگر کرنہیں پا رہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حال حوال بلوچستان کے صحافتی شعبے میں بلوچستان کا واحد نمائندہ پلیٹ فارم ہے لیکن اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

 

آپ بلوچ اور بلوچستان سے کسی پہلو سے دلچسپی رکھتے ہوں تو آپ بھی حال حوال کا حصہ بن سکتے ہیں کیوں کہ حال حوال آپ ہی کا ہے، تو آئیے حال حوال کرتے ہیں:
حال حوال کو وزٹ کریں:
www.haalhawal.com
ای میل:
haalhawal.com@gmail.com
فیس بک:
https://www.facebook.com/HaalHawal
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان کی سچائی- مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی ‘محب وطن’ پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ جس طرح کا نصاب یہاں رائج ہے اور جو اول فول نسیم حجازی جیسے مصنفین اور زید حامد جیسے تجزیہ کاروں نے پڑھ کر پلایا ہے اس کے تناظر میں یہ لا علمی کچھ بہت انہونی بات بھی نہیں ۔ بلوچستن کے بارے میں طاقتور اداروں کی جانب سے جو کچھ بتایا گیا ہے اس کی بنیاد پر کوئی بھی درست رائے کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ نقطہ نظر غلط ہو تو مسئلے کو بحث و مباحثہ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے مگر اگر حقائق غلط ہوں تو معاملہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

 

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی ‘محب وطن’ پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
بلوچستان کی تاریخ اور موجودہ صورت حال کے حوالے سے اکثر مسخ شدہ حقائق طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یک عام غلط فہمی تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کا خیال ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کا ذکر بھی قراردادِ پاکستان میں موجود تھا اور 14 اگست 1947 کو ہی بوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا۔ بلوچستان کے الحاق سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہی موجودہ صورت حال کا درست ادراک ممکن نہیں رہا۔ عام پاکستانیوں کے نزدیک عام بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں اوربلوچ سردار ہندوستان اور امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس کے سب سے بڑے صوبے سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بلوچ سردار ایسا کیوں چاہتے ہیں؟ عام پاکستانیوں کے خیال میں وہ اس لئے پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کی ریاست خاص کر فوج وہاں ترقی دیکھنا چاہتی ہے اور جس کے نتیجہ میں وہاں کے عوام باشعور ہوں گے اور سرداری نظام اور اس کے نتیجہ میں جاری استحصال کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

 

یہ جام اور اس جیسے کئی جام صبح شام ہمارے عوام کو پلائے جاتے ہیں اوروہ بیچارے یہ بھول کر کہ ان کی اپنی حالت ان حکمرانوں نے کیا بنا رکھی ہے، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر بلوچ سرداروں اور ہندوستان اور امریکہ کو کوستے رہتے ہیں۔ وہ تو اتنے معصوم ہیں کہ اقبال جس نے ہمیشہ pan-Islamism کی بات کی اس ہی کو پاکستان کے نظریاتی معاملات کا حرفِ کل مانتے ہیں۔ جبکہ درحقیقت دو قومی نظریہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حوالے سے دیا گیا تھا اور جناح خود pan-Islamism کے مخالف تھے۔

 

اگر ہم دو قومی نظریہ کو ہی لے لیں جس کی اپنی ساخت بہت کمزور ہے تو بھی بلوچستان پاکستان کی جھولی میں نہیں آنا چاہیئے کیونکہ اس کے مطابق ہندوستان میں بسنے والے مسلمان ایک قوم ہیں جب کہ بلوچستان کا ایک بڑا حصۃ تو کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا۔ میرے بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ کشمیر اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کشمیر کا معاملہ متنازعہ ہے جبکہ بلوچستان پاکستانی وفاق کا حصہ ہے۔ یوگینا وینا کے ایک مضمون کے مطابق:

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔
الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

کچھ ہی عرصہ میں بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے خیالات میں تبدیلی رونما ہوئی اور خان آف قلات کو مختلف انداز سے دباو میں لانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ خان نے اس دباو سے بچنے کے لئے معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا۔ 21 فروری 1948 کو دارالعوام نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت میں فیصلہ کیا۔ مارچ میں ان افواہوں کو گرم کیا گیا کہ خاران، لسبیلہ اور مکران نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا جبکہ 26 مارچ 1948 میں پسنی جیونی اور دیگر سمندری پٹی میں فوج داخل ہو گئی۔ 27 مارچ کو فوج قلات پہنچ گئی اور کراچی میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ خان نے پاکستان میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جبکہ یہ معاہدہ بندوق کے زور پر کرایا گیا۔ اگر آپ اس معاہدہ کی صحت کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز بھی کر دیں تو دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔

 

اس کے برعکس اگر کشمیر کے معاملہ پر غور کیا جائے تو وہاں پہلے پاکستان کے قبائلی لشکروں نے چڑھائی کی اور اس ڈر سے کہ کشمیر پر پاکستان کا قبضہ نہ ہو جائے مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایک مہاراجہ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پورے کشمیر کی عوام کا فیصلہ کرے لیکن اگر اس وجہ سے ہم سب کشمیر کو مقبوضہ کشمیر گردانتے ہیں تو پھر بلوچستان کے حوالے سے ہماری حب الوطنی کیوں جاگ جاتی ہے اور ہم ان کے تاریخی اور قومی حق کو تسلیم کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ “ناراض بلوچوں” کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔
یہ ساری باتیں درست مگر ہماری فوج جس نے یہ طے کر لیا ہے کہ افغانستان ہو یا بلوچستان اس کے مسئلوں کو حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے وہ بھلا غریب بلوچوں کو ظالم و جابر سرداروں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ لہٰذا ریاستِ پاکستان نے 90 فیصد سراداروں کو مراعات دے کر خرید لیا اور ان کے لشکروں کو اسلحہ سے لیس کر کے اپنی ہی قوم پر ظلم کرنے کی ذمہ داری پر لگا دیا۔ جو 10 فیصد پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ جان بچا کر پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں۔

 

دوسری جانب خدائی خدمتگاروں کو بلوچستان کے لوگوں کی اسلام سے دوری بہت کھائی جا رہی تھی۔ بلوچستان کی اکثریت ہے تو مسلمان مگر اسے خودکش دھماکوں میں خاص دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی وہ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں خاص دلچسپی لیتے تھے لہٰذا وہاں نہ صرف کوئٹہ شوریٰ کو رکھا گیا بلکہ لشکرِ جھنگوی اور جماعت الدعوۃ یا لشکرِ طیبہ جیسی تنظیموں کے مدرسوں کو متعارف کرایا گیا جن کے ذریعہ اب داعش وغیرہ بھی بلوچستان میں اسلام و جہاد پھیلانے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ “ناراض بلوچوں” کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔ آج کل ان ہی تنظیموں کے ذریعے ہزارگنج کو خالی کرانے کے منصوبہ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو نہ جانے کیوں ہجرت کر کے ایسی سرزمین پر آ گئے جہاں وحشی درندوں نے قبضہ کرنا تھا اور اپنی strategic depth سے سب کا لہو پینا تھا۔

 

سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدھا بلوچستان چھاونی بنا ہوا ہے مگر سب سے زیادہ اسمگلنگ آخر اس سرحد سے کیوں ہو رہی ہے؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1952 سے سوئی سے گیس نکلنے کے باوجود ریاست بلوچوں کی حالت بہتر کیوں نہیں کر پائی؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئٹہ جو مکمل چھاونی بنا ہوا ہے وہاں آئے دن اتنی آسانی سے ہزارہ کیوں بے دردی سے قتل ہو جاتے ہیں؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کشمیر کو مقبوضہ سمجھتے ہیں تو بلوچستان کو کیوں نہیں؟
خدائی خدمتگار اور وردی والے تو اپنے مفادات کے غلام ہیں مگر آپ کس بنیاد پر حب الوطنی کے خمار میں ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں؟
Categories
نقطۂ نظر

لاچار بلوچ خواتین اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

ویسے تو بلوچ روایات کے مطابق خواتین کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں لیکن جب گھر میں نوبت فاقوں تک آجائے تو خواتین کو گھر چلانے کے لیے گھر سے باہر کا راستہ دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ سارا دن کام کے عوض وہ دو وقت کی روٹی کا انتظام کرکے گھر آجاتی ہیں۔ بلوچ معاشرے میں حصول روزگار کے لیے خواتین وہ کو اہمیت اور ترجیح نہیں دی جاتی جو مرد کو حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اداروں میں ملازمت کے لیے مردوں کو عورتوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور خواتین کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ یہی سوال جب میں نے اپنے ایک دوست (جو کافی عرصے سے این جی اوز کے ساتھ منسلک ہیں) سے پوچھاکہ خواتین کے مسائل پر ہونے والے پروگراموں میں مرد ہی شرکت کرتے ہیں اگر اکا دکا عورتیں نظر آجاتی ہیں تو بھی انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ یا تو وہ اس قدر دباو محسوس کرتی ہیں کہ انہیں بولتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے یا پھر انہیں اس لائق نہیں سمجھا جاتا۔ تو ان کا کہنا تھا کہ “خواتین اتنی باصلاحیت نہیں، جس بہتر انداز میں ایک مرد بات کر سکتا ہے اور اپنا موقف پیش کر سکتا ہے ایک عورت نہیں کر سکتی۔” یہ مغالطہ ہر جگہ عام ہے کہ خواتین مردوں جتنی باصلاحیت نہیں ہوتیں۔ خواتین کو ایسے ہی مغالطوں کی بناء پر تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھا گیا ہے۔

 

ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم نے، ہماری روایات نے اور ہمارے معاشرے نے عورت کو تعلیم اور ہنر سے محروم رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ آج اس حال میں ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم اور شعور پر قدغن لگانے والی قوتیں ہی اسے کسی ہنر کے بغیر کمانے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ روزگار کے حصول کے لیے درکار علم و ہنر سے محروم رکھ کر ہم خواتین کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ہم ہوٹلوں اور بازاروں میں خواتین کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارا ضمیر وقتی طور پر جاگ جاتا ہے کہ اس معاشرے میں ایک عورت آخر کس طرح بھکاری بن گئی لیکن ہم اپنے اندر جھانک کر اس کی وجوہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم نے، ہماری روایات نے اور ہمارے معاشرے نے عورت کو تعلیم اور ہنر سے محروم رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ آج اس حال میں ہے۔

 

ہمارے معاشرے میں عورت کو معاشی طور پر مرد کا محتاج رکھنے کے تو بے شمار طریقے رائج کر لیے ہیں، لیکن خواتین کو آگے آنے، اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور خودمختار ہونے کے راستے نہیں دیئے گئے۔ زمینی فرشتوں نے اپنے تئیں یہ فرض کر لیا ہے کہ اگر خواتین آگے جائیں گی تو مرد کو گھر کے کام کرنے پڑیں گے، یا خاندان بکھر جائیں گے، طلاقیں بڑھ جائیں گی یا بے حیائی بڑھ جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ انہی بے بنیاد مفروضوں کی وجہ سے عورت کو گھر کی زیب و زینت بنا کر اسے معاشرے کا حصہ بننے سے روک دیا گیا۔ لیکن جہاں پیسے اور مفادات کی بات آگئی تو خواتین پر عائد قدغنیں فوراً ہٹا دی گئیں۔ مجھے یاد ہے پہلے پہل تو بیت المال سے ملنے والے وظائف کے نام پر خواتین کو چند سو روپوں کی خاطر ڈاک خانوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اور اب یہ سلسلہ بیت المال سے نکل کر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے یہاں کی خواتین کو ‘بھکاری بنانے’ کی حتی الامکان کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر ماہ 1500 روپے کس طرح کسی غریب خاتون کی ماہانہ امداد اور کفالت کے لیے کافی ہوں گے لیکن اس کے عوض جو تکلیف اور پریشانی ان لاچار اور غریب خواتین کو برداشت کرنا پڑتی ہے وہ تکلیف دہ اور قابل اعتراض ہے۔ حکومت اور معاشرہ کس طرح ایک عورت کو تعلیم، ہنر اور روزگار سے محروم کر کے محض پندرہ سو روپے ماہانہ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔

 

ہمارے معاشرے میں عورت کو معاشی طور پر مرد کا محتاج رکھنے کے تو بے شمار طریقے رائج کر لیے ہیں، لیکن خواتین کو آگے آنے، اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور خودمختار ہونے کے راستے نہیں دیئے گئے۔
گزشتہ دنوں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ محترمہ ماروی میمن صاحبہ ایک ‘مصنوعی عوامی تقریب’ میں شرکت کے لیے کوئٹہ تشریف لائیں، بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے خواتین اس آس پر کوئٹہ پہنچ کر پنڈال میں صبح 9بجے سے شام 4بجے تک انتظار کرتی رہیں کہ شاید ماروی میمن ان کے لیے کسی پیکج کا اعلان کریں گی اور ان میں رقوم تقسیم کریں گی۔ ان عورتوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں 7 گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ نہ جانے اس روز کتنے گھروں میں چولہے اس امید پر نہیں جلے ہوں گے کہ ہو سکتا ہے کہ ماروی میمن ان کی فلاح کے لیے کچھ اعلان کریں گی۔ لیکن وہی ہوا جو بلوچستان کی عورتوں کے ساتھ ہمیشہ ہوتا آیا ہے، محترمہ ماروی میمن کوئٹہ تشریف لے آئیں، انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں سب عورتیں دل تھام کر ان کی زبان سے انعامات و اکرامات کے اعلانات سننے بیٹھ گئیں لیکن سب بے سود۔۔۔۔۔ نہ ماروی میمن انہیں کچھ دے سکیں اور نہ ہی ان کی امیدیں بر آئیں۔ اور چارو ناچار پیاسے ہونٹوں اور خالی معدوں کے ساتھ وہ واپس اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئیں۔

 

بلوچستان کی خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروباری مواقع کی ضرورت ہے، ان کے لیے تعلیمی اداروں کا بندوبست کرنا ہو گااور انہیں ہنر مند بنانے کا انتظام کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے معاشی حالات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہو سکیں۔ ماروی میمن اور ان کے ہمراہ تقریب میں شریک نو منتخب سپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ راحیلہ درانی کو بخوبی اس بات احساس ہونا چاہیئے کہ 1500روپے کسی بھی گھر کو خوشحال بنانے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اگر یہی رقم عورتوں کو قطاروں میں کھڑا کرنے کی بجائے ان کی تعلیم، صحت، فلاح و بہبود پر صحیح معنوں میں خرچ کی جائے تو یقیناً اس سے دیرپا فوائد حاصل ہوں گے۔ یہی وسائل اگر انہیں محتاج بنانے کی بجائے ہنرمند بنانے کے لیے استعمال ہوں تو یقیناً خواتین اور خاندان کے حالات زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ چند باتیں سنانے کے لیے انہیں سات سات گھنٹے اپنے انتظار میں بٹھا کر ان کے احساسات سے کھیلنے کا ڈرامہ اب بند کیا جانا چاہیئے۔

 

آج ماروی میمن اور راحیلہ درانی اگر سیاست میں ہیں اور مختلف عہدوں تک پہنچی ہیں تو وہ تعلیم اور عملی زندگی میں حصہ لینے کے مواقع کی بنیاد پر پہنچی ہیں نا کہ انکم سپورٹ کے نام پر چند سو روپے وصول کر کے۔ اگر بلوچ عورت کی فلاح چاہیئے تو اسے تعلیم دیجیے انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر پندرہ سو روہے نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی

بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی جگہ نواب ثناءاللہ زہری کا وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنا چہروں کی تبدیلی کا وہ تسلسل ہے جسے صوبے کے عوام عرصے سے دیکھتے آئے ہیں اس لیے اس تبدیلی کو مخصوص سیاسی حلقوں کے سوا عوامی سطح پر کوئی خاص توجہ نہیں مل سکی۔ صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہو گئی ہے جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارے جانے والے چھاپوں اور خانہ تلاشیوں کے دوران مکران ڈویژن کے کچھ علاقوں میں گھروں کو بھی جلایا گیاجس کا اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑا ہے۔ ایسی کارروائیوں کے ردعمل میں علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کی جانب سے کرائی جانے والی شٹرڈاﺅن ہڑتالوں کے بعد سیکیورٹی ادارے کھل کر میدان میں آگے ہیں۔ اخبارات میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہڑتالوں کے اعلانات کی اشاعت کے خلاف سیکیورٹی اینجسیاں بھی بیان بازی کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں صوبے کے تاجر مقامی صحافیوں کی طرح سیکیورٹی اداروں اور علیحدگی پسندوں کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں کیونکہ اگر وہ ہڑتال کی اپیل پر دکانیں بند نہ کریں تو علیحدگی پسند تنظیمیوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر دکانیں بند رکھیں تو سیکیورٹی اداروں کے غیض و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے صوبے کے حالات کو عام لوگوں کے لیے سازگار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بلوچستان میں اب بھی کسی نہ کسی سطح پر سیکیورٹی ایجنسیوں اور مسلح علیحدگی پسندوں میں کشمکش جار ی ہے۔

 

صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری کے آثار ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہوگئے ہیں جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
مئی 2013 میں الیکشن مہم کے دوران نومنتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے قافلے پر خضدار کے علاقے زہری میں ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے بیٹے سکندر زہری، بھائی مہراللہ زہری اور بھتیجے میر زیب زہری سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری 2002 میں بننے والی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ بلوچ لبریشن آرمی کے متعلق نواب ثناءاللہ زہری کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کو مرحوم نواب خیر بخش مری کے لندن میں مقیم صاحبزادے نوابزادہ حیر بیار مری چلا رہے ہیں۔ زہری واقعے کے بعد نواب ثناءاللہ زہری نے بظاہر جذبات میں آکر بلوچستان کے اہم قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادے حیر بیار مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور اس کے صاحبزادوں اختر مینگل اور جا وید مینگل، اور مکران میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ حال ہی میں نواب ثناءاللہ زہری نے یہ کہہ کر وہ ایف آئی آر خود ہی واپس لے لی کہ ان کی جانب سے قبائلی سطح پر کی جانے والی تحقیقات میں ان افراد کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں آسکے۔

 

11 مئی 2013 کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان حکومت کی تشکیل کا مرحلہ آیا توصوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر کی حیثیت سے نواب ثناءاللہ زہری ہی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے، لیکن 2 جون کو سیاحتی مقام مری میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت صوبائی اسمبلی کی65 میں صرف 8 نشستیں حاصل کرنے والی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو اڑھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے مخلوط حکومت بنائی۔ صوبے کے اکثر سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اس فیصلے کو صوبے کی حالات سے ہم آہنگ قرار دیا۔ نواب ثناءاللہ زہری کے دل میں اس وقت انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے قتل کی ایف آئی آر صوبے کے اہم قوم پرست رہنماﺅں کے خلاف درج کرا رکھی تھی جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان تھا۔ اس وقت اگر نواب ثناءاللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا جاتا تو یہ کشیدگی خون خرابے میں بدل سکتی تھی ۔

 

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کرنا مذکورہ کشیدہ صورتحال میں کمی کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے اپنے دور میں نواب ثناءاللہ زہری کی مرضی کے خلاف بہت سے فیصلے کیے جس کی شکایت وہ اکثر کرتے رہے۔ ان فیصلوں کی بناء پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نےنہ صرف بلوچستان اسمبلی کی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا بلکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تک شکایت بھی پہنچائی گئی۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین اڑھائی برس یہ شکوہ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نواز لیگ کے وزراء کو نظر انداز کرکے انہیں بے اختیار بنا رہے ہیں لیکن نواز شریف کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے سبب وہ چپ کرکے بیٹھ گئے۔

 

مری معاہدے کے بعد فوری طور پر تو اس کی تشہیر نہیں کی گئی لیکن رواں سال ڈاکٹر مالک بلوچ سے نالاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین صوبائی اسمبلی یہ معاہدہ منظر عام پر لے آئے جس کے بعد اس معاہدے کا پول میڈیا کے ذریعے کھلا۔ قوم پرست سیاسی حلقوں نے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور اسے اسلام آباد کی جانب سے صوبے کی قسمت کا فیصلہ قرار دے کر بلوچستان کی سیاسی قیادت کی توہین بھی قرار دیا۔ مری معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت 4 دسمبر کو ختم ہونی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) قیادت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کرنے پر ان چہ مگوئیوں کو تقویت ملنے لگی کہ شاید ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملے گی۔ بی بی سی جیسے معتبر ادارے نے نہ بھی اپنے تجزیے میں اس توسیع کا امکان ظاہر کیا۔ 7 دسمبر کو صوبے کے ایک مقامی روزنامے نے تو مری معاہدے کی معطلی اور میاں نواز شریف کی جانب سے ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے فیصلے کا دعویٰ اپنی شہ سرخی کے طور پر شائع کیا۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صوبے میں امن و مان کی صورتحال بہتر بنانے اور مفاہمت کی فضاء تشکیل دے کر جلا وطن بلوچ رہنماﺅں خان قلات اور براہمدغ بگٹی کو مذاکرات پر راضی کرنے کے سبب فوجی اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر مالک بلوچ سے مطمئن ہے۔ اس لیے صوبے میں فعال کردار ادا کرنے والے سابق کورکمانڈر اور موجودہ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ خبر میں سبکدوشی کے موقع پر کی گئی ناصر جنجوعہ کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ سابق کور کمانڈر نے دس منٹ تک ڈاکٹر مالک کی صلاحیتوں اور کاکردگی کی تعریف کی۔ لیکن غیر متوقع طور پر دس دسمبرکو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام میں صوبے کے متعلق ہونے والی اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد مری معاہدے پر عمل کرتے ہوئے نواب ثناءاللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا۔ نواب صاحب نے 24 دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا جس سے ایک روز قبل ڈاکٹر مالک بلوچ مستعفی ہوگئے۔

 

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے مشیروں اور قریبی ساتھیوں نے اس خدشے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر مری معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں ان کی پارٹی کا صفایا ہو سکتا ہے۔ پنجاب کے بعد مسلم لیگ نواز کی سب سے زیادہ نمائندگی (بلحاظ تناسب) بلوچستان اسمبلی میں ہی ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مقبولیت کے باعث بلوچستان میں مسلم لیگ کی موجودگی نواز شریف کے لیے بے حد اہم ہے اس لیے میاں نواز شریف نے بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

 

بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی صوبے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہوگی؟ بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ یہ حلقے عام انتخابات کے غیر فطری اور تیز رفتار عمل کی مثال بھی دیتے ہیں جس کے تحت جیت کا اعلان ہونے کے باوجود بہت سے امیدواروں کو ہار کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور ہارنے والوں کے سر جیت کا سہرا باندھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی پاک چین اقتصادی راہداری اور صوبے کی معدنی وسائل نے اس کی سیاسی و اقتصادی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ کا صوبے کے معاملات میں عمل دخل بھی زیادہ ہوا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اثرورسوخ میں اضافے کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی حکومتیں محض انتظامی امور تک محدود ہوکر اہم فیصلے کرنے کے اختیار سے محروم تر ہو گئی ہیں۔ صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر مالک چاغی میں چینی کمپنی کے زیر انتظام چلنے والے سونے اور تانبے کی پیداوار کے منصوبے سینڈک سے صوبے کو کوئی خاص فائدہ نہ ملنے کی شکایت کھلے عام کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی ثابت ہوگی جس سے صوبے کی عوام کی زندگیوں پر کسی بھی قسم کے دیرپا اثرات کی توقع خام خیالی ہے۔ پارلیمانی نظام سے بلوچوں کی بیزاری کی ایک اہم وجہ اختیارات کا سیاسی حکومتوں کی بجائے عسکری اداروں کے ہاتھوں میں سمٹ آنا ہے۔ سیاسی نظام پر سے اکثریت کا اعتماد کو ختم ہو گیا ہے جو انہیں علیحدگی پسندوں کی باتوں پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کے نزدیک پارلیمنٹ محض ربڑ اسٹیمپ ہے اور صوبے کے مسائل کا واحد حل مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی ہے۔ اب فیصلہ حکمران اشرافیہ کو کرنا ہے کہ وہ بلوچستان کو معاشی اور سیکیورٹی تناظر میں ہی دیکھتے رہیں گے یا سیاسی کھڑکی کھولنے کی کوشش بھی کریں گے۔
Categories
اداریہ

مسیحا کا قتل

[blockquote style=”3″]

مدیر کے نام خطوط قارئین کی جانب سے بھیجے گئے خطوط پر مشتمل سلسلہ ہے۔ یہ خطوط نیک نیتی کے جذبے کے تحت شائع کیے جاتے ہیں۔ ان میں فراہم کی گئی معلومات اور آراء مکتوب نگار کی ذاتی آراء اور ذمہ داری ہیں جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی قسم کی غلط بیانی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔

[/blockquote]

letters-to-the-editor-featured15دسمبر 2015ء آواران کی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کر گیا، ایک عظیم انسان تحصیل جھاؤ کو لاوارث چھوڑ گیا۔ ایک ایسا انسان جسے ابھی بہت کچھ کرنا تھا، ابھی اسے اپنی ذمہ داری بہت عرصے تک نبھانا تھی لیکن انسان دشمن قوتوں نے اس سے مزید زندہ رہنے کا حق چھین لیا۔ اس شام جب وہ خدمت کا قرض ادا کرکے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو درندوں نے اپنی درندگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی تھی۔ وہ گھات لگائے بیٹھے تھے۔ اچانک فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھتی ہے، زمین تڑپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور آسمان تھرا اٹھتا ہے۔ گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو کر اس کی روح کو جسم سے الگ کر دیتی ہیں۔ پورا جھاؤ خاموش ہو جاتا ہے۔ زمین خون سے نہلا جاتی ہے۔ آسمان سسکیاں لینے لگتا ہے۔ درندے اپنا کام کر چکے ہیں۔ وہ پورے جھاؤ کو للکارتے ہوئے اپنی پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ اپنی منزل پر پہنچ کر فتح کا جشن منانے کے لیے انسانیت کش نعرے لگاتے ہیں۔

 

لیکن اگلے ہی دن ان کا یہ جشن ان کی صفوں میں ماتم بن کر پھیل جاتا ہے جب سرزمینِ جھاؤ اس عظیم انسان کی عظمت کی گواہی دیتی ہے۔ آج تک آواران میں شاید ہی کسی کے جنازے میں انسانوں کا ایسا انبوہ شریک ہوا ہو۔ وہی عید گاہ جو عیدین کے موقع پر خالی صفوں کی شکایت کرتی ہے آج اس عید گاہ میں پیر رکھنے کا جگہ بھی نہیں تھی۔ شہید کا خون اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ انسانیت جیت گئی اور درندگی کوشکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ جنازے میں شریک مجھ سمیت ہر شخص کے آنکھوں سے بہتے آنسو اس بات کی گواہی دینے کے لیے کافی تھے کہ انسانیت کبھی بھی مات نہیں کھا سکتی، شکست تو ان کا مقدر ہے جو انسانیت دشمن ہیں، جو نفرتوں کے سوداگر ہیں اور جنازوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ جنازے میں شریک ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر لب پر درندوں کے لیے بدعائیں تھیں۔ انسانیت دشمن عناصر ہار چکے تھے گو وہ ابھی اپنی شکست تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں لیکن انہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہ جیت نہیں سکے۔

 

مجھے آواران کا زلزلہ 2013ء اب بھی یاد ہے جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ آواران کے متاثرہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت میں کوشاں رہے۔ چوبیس گھنٹوں میں 4گھنٹے آرام کیا کرتے تھے اور باقی 20گھنٹے ان انسانوں کی فلاح میں مصروف رہے جنہیں ان کی ریاست نے بیرونی طبی امداد سے محروم کر دی تھا
ایک ایسے معاشرے میں جہاں ڈاکٹر بڑے شہروں، بڑے ہسپتالوں او ر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں ڈاکٹر شفیع جان بلوچ نے آواران جیسے پسماندہ علاقے میں رہنے کا فیصلہ کیا مگر بلوچستان کے حالات ان کی جان لینے کا باعث بن گئے۔ میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا اور بہت ہی قریب پایا۔ ایک ایسا انسان جس نے انسانیت کی خدمت اپنے زندگی کا نصب العین بنا لیا، پھر اسی پر کاربند رہا اور جنون کی حدتک اس کا حق ادا کیا۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن جو قرض مجھ پر ان کی خدمات بیان کرنے کا ہے وہ تمام عمر ادا کرتا رہوں گا۔

 

ڈاکٹر شفیع بلوچ ایک خاص فکر، سوچ اور کردار کے مالک تھے۔ انہوں نے بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرکے ایک ایسے علاقے کا انتخاب کیا جہاں کوئی بھی ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں تھا۔ ڈاکٹر صاحب خود ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے لیکن انہوں نے اس مرض کو اپنے فرض کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے دیا۔ اپنی ان تھک محنت سے وہ جھاو میں برسوں سے خالی اس خلا کو پر کرنے میں کامیاب ہو گئے جو یہاں کے لاچار اور بیمار انسانوں کے لیے ایک مصیبت تھا۔ میں نے بہت سے ڈاکٹر دیکھے ہیں لیکن شاید ہی ڈاکٹر شفیع جیسا کوئی لعل کسی ماں نے جنا ہو گا۔ انہوں نے کبھی بھی مال و متاع کی تمنا نہیں کی۔ وہ جھاؤ کے عوام کی نہ صرف اپنے شعبے کی حد تک خدمت کرتے رہے بلکہ ایک سماجی رہنما بھی تھے۔ وہ انسانیت کا کام بلا غرض و لالچ انجام دیا کرتے تھے۔ میں کبھی کبھار ان سے کہتا تھا کہ کوئی کلینک کھول لیں کب تک لوگوں کا مفت علاج کرتے رہیں گے۔ ان کا جواب ہوتا تھا کہ مجھے انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے تسکین ملتی ہے۔

 

میں نے ایسے مریض بھی دیکھے جن کے پاس دوائیوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ اپنی جیب سے ان کے دوائیوں کا بندوبست کیا کرتے تھے۔ مجھے اس انسان میں کبھی فرشتوں کا روپ نظر آیا تو کبھی نور الِہی۔ اس نے کبھی بھی مال و دولت کو اپنی کمزوری نہیں بنایا یہی وجہ تھی کہ کئی بڑے ہسپتالوں سے ہونے والی پیشکشیں ٹھکرا دیں۔ ڈاکٹر صاحب نہ دولت کے انبار جوڑ سکےاور نہ اپنا کچا مکان پکا کر سکے۔ میں نے ڈاکٹر برادری کو بڑے بڑے عہدوں کی خواہش کرتے، اونچے اونچے مکان بناتے، VIPگاڑیاں خریدتے، دیہی زندگی کو مسترد کرکے شہروں میں بستے ہوئے دیکھا ہے لیکن ڈاکٹر شفیع کو میں نے سب سے الگ دیکھا، میں نے اسے ہر وقت انسانوں کے دل جیتتے دیکھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ لوگوں کو اس سے لگاؤ تھا اور اسے انسانیت سے۔ انسانیت دشمنوں کو ایسے انسان کہاں گوارا ہوتے ہیں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو شہید کر دیا۔ پورے جھاؤ کو یتیم خانے میں تبدیل کردیا۔ اس یتیم خانے میں بڑے، بوڑھے، بچے، مرد سب شامل تھے۔

 

ایک ایسے معاشرے میں جہاں ڈاکٹر بڑے شہروں، بڑے ہسپتالوں او ر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں ڈاکٹر شفیع جان بلوچ نے آواران جیسے پسماندہ علاقے میں رہنے کا فیصلہ کیا مگر بلوچستان کے حالات ان کی جان لینے کا باعث بن گئے۔
مجھے آواران کا زلزلہ 2013ء اب بھی یاد ہے جب وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ آواران کے متاثرہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت میں کوشاں رہے۔ چوبیس گھنٹوں میں 4 گھنٹے آرام کیا کرتے تھے اور باقی 20گھنٹے ان انسانوں کی فلاح میں مصروف رہے جنہیں ان کی ریاست نے بیرونی طبی امداد سے محروم کر دیا تھا۔ وہ لوگوں کے دکھ اور تکلیف کو اپنا سمجھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ انسانیت کے لیے بنے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے پاس ہمہ وقت میلہ لگا رہتا تھا۔ وہ اپنی اس زندگی سے خوش اور مطمئن تھے۔

 

گھر سے ہسپتال پہنچنے پہنچتے انہیں دو گھنٹے لگتے تھے۔ یہ دو گھنٹے بھی انسانی خدمت کی انجام دہی میں گزرتے تھے۔ راستے میں کوئی روک لیتا تو نہ نہیں کرتے تھے، اس کے گھر جاتے پورے محلے کے مریض جمع ہوتے سب کا علاج کرتے لیکن تھکاوٹ کو انہوں نے کبھی خود پرغالب نہیں آنے دیا۔میں کبھی تنگ آکر کہتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کے ساتھ سفر کرنا بڑا مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ وہ اس بات کو مسکرا کر ہنسی میں اڑا دیتے۔ یہ مسکراہٹ میں نے آخری دیدار میں بھی ان کے چہرے سے عیاں دیکھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ایک پھول سا چہرہ مسکرا کر کہہ رہا ہو کہ میں امر ہو گیا۔

 

واقعی ڈاکٹر شفیع بلوچ امر ہوگئے۔ لیکن جاتے جاتے اپنے جانے کا دکھ اور اپنی یادیں ہم سب کے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے پیوست کر گئے۔ وہ ایک پھل دار اور سایہ داردرخت کے مانند تھے جو تپتے، دہکتے آواران کے لوگوں کو پھل اور سایہ دیتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے یک لخت کاٹ دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے خون نے زمین پر پڑتے ہی یہ اعلان ضرور کیا ہوگا کہ انسانیت کبھی ختم نہیں ہوتی، جب تک اس زمین پر انسان باقی ہیں ڈاکٹر شفیع بلوچ جیسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گےاور انسانیت کی فلاح کا مشن جاری رہے گا۔

 

ڈاکٹر صاحب جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوگئے لیکن روحانی طور پر اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہم جب بھی انسانیت کا پرچار کریں گے درندگی کو شکست ہوتی رہے گی اور ڈاکٹر صاحب کی روح کو سکون ملتا رہے گا۔

 

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا
یہ مٹی تم کو پیاری تھی
سمجھو مٹی میں سلا دیا
Categories
نان فکشن

بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: یوگینا وینا سیاسی حمکت عملی کی طالبہ ہیں اور مروجہ بیانیے سے انحراف کی قائل ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی اخبار دی نیشن کی ویب سائٹ پر 5 دسمبر کو شائع کیا گیا جسے اردو میں ترجمہ کر کے لالٹین پر پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے پر مشتمل صوبہ ہے جس کی سرحد مغرب میں افغانستان اور ایران سے ملتی ہے اور جنوب میں بحیرہ عرب سے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ پاکستان کے تقریباً پچاس فی صد کے برابر ہے جہاں پاکستان کی آبادی کا محض 3.6 فی صد حصہ مقیم ہے۔ بلوچستان تیل، گیس، تانبے اور سونے سمیت قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں پینے کے پانی اور بجلی جیسی سہولیات بھی میسر نہیں۔

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔
گریفٹی- سمتھ کے 17 اکتوبر، 1947 کوبھیجے گئے ایک تار میں پاک- قلات مذاکرات سے متعلق ایک یادداشت کے مطابق جناح قلات کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے دو دلی کا شکار تھے، اور اب پاکستان میں شامل ہونے والی دیگر ریاستوں کی طرح قلات کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔ اسی یادداشت میں قلات کی دو جاگیروں لسبیلہ اور خاران کے پاکستان سے الحاق کی صورت میں پیدا ہونے والی دلچسپ صورتحال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
اکتوبر 1947 تک قائداعظم محمد علی جناح قلات کو ایک “آزاد اور خودمختار ریاست” کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق اپنا ارادہ بدل چکے تھے اور اب دیگر ریاستوں کی طرح خان آف قلات کی جانب سے پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کے خواہاں تھے۔ خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔ لیکن وہ جاگیر کے طور پر ملے علاقوں پر اطمینان بخش معاہدہ ہو جانے تک الحاق یا اتصال کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی حکام لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں سے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کے معاملات طے کر سکتے ہیں۔

 

فروری 1948 تک حکومت پاکستان اور قلات کے درمیان بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی۔ قائداعظم نے خان آف قلات کو لکھا: “مرا مشورہ ہے کہ آپ بلاتاخیر پاکستان سے الحاق کر لیں۔۔۔۔۔میں وعدے کے مطابق آپ کے جواب کا انتظار کروں گا جو آپ نے کراچی میں میرے ساتھ قیام اور الحاق کے تمام پہلووں پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔” 15 فوری، 1948 کو جناح نے سبی دورے کے دوران شاہی دربار سے خطاب کیا، جس کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ دو سال تک جب تک کہ پاکستان کا آئین تیار نہیں ہو جاتا، بلوچستان کی حکومت وہ اپنی نامزد کردہ ایک مشاورتی کونسل کی مدد سے خود چلائیں گے۔ تاہم اس دورے کا اصل مقصد خان آف قلات کو پاکستان کے الحاق پر آمادہ کرنا تھا۔ خان آف قلات نے ناسازی طبع کے باعث جناح سےحتمی ملاقات سے معذوری ظاہر کی۔ جناح کے نام اپنے خط میں والی قلات نے لکھا کہ انہوں نے پاکستان سے تعلقات پر ریاستی دارالعوام اور دارالامراء کی رائے جاننے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے، اور اس ماہ کے اختتام تک وہ دونوں ایوانوں کی رائے سے جناح کو آگاہ کر دیں گے۔

 

اکیس فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
21 فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ 9 مارچ 1948 کو خان آف قلات کو جناح صاحب کا پیغام ملا کہ قلات کے ساتھ وہ ذاتی حیثیت میں مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ اس حوالے سے تمام معاملات حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔ حالانکہ اس وقت تک )جناح کے ساتھ ( باقاعدہ مذاکرات کا آغاز تک نہیں ہوا تھا بلکہ جناح نے سبی میں خان آف قلات سے )الحاق کی ( محض ایک غیر رسمی درخواست کی تھی۔

 

پاکستان میں امریکی سفیر کے 23 مارچ 1948کو بھیجے گئے ایک مراسلے سے پتہ چلتا ہے کہ 18 مارچ کو،”ریاست قلات کو اجارے پر ملی خاران، لسبیلہ اور مکران کی ریاستوں نے” پاکستان سے الحاق کر لیا ہے۔ خان آف قلات نے اس الحاق کی مخالفت کی اور اسے قلات اور پاکستان کے درمیان معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاران اور لسبیلہ کی ریاستیں انہیں اجارے پر دی گئی ہیں جبکہ مکران قلات کا ایک ضلع ہے۔ تقسیم سے پہلے جولائی 1947 میں خاران اور لسبیلہ کے خارجہ امور قلات کے سپرد کر دیئے تھے۔

 

26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی (باقاعدہ) چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔ ساحلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے داخل ہونےکے بعد قلات نے 27 مارچ کو ہتھیار ڈال دیئے جبکہ کراچی میں یہ اعلان کیا گیا کہ خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جناح نے بھی بندوقوں کے سائے میں اس الحاق کو تسلیم کر لیا۔ یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے کسی بھی صورت میں بلوچستان کی آزادی کے خاتمے کی کوئی بھی تجویز قبول کرنے کا امکان رد کر دیا تھا۔ بلوچستان کی پارلیمان کی جانب سےالحاق مسترد کیے جانے کے باعث بندوق کی نوک پر خان آف قلات سے لیے گئے دستخط بھی قابل اطلاق نہیں تھے۔ ہندوستان کی آزادی سے قبل بلوچستان کے معاملات خان آف قلات کے سپرد کرتے ہوئے برطانیہ نے الحاق کا اختیار )قلات کی ریاست( کو نہیں دیا تھا۔ خود مختار بلچ ریاست برطانوی راج کے خاتمے کے بعد صرف 227 روز قائم رہی۔ اس دوران بلوچستان کا جھنڈا پاکستان میں بلوچ سفارت خانے پر لہراتا رہا۔

 

چھبیس مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔
یہ کہنا کہ بلوچوں کی زمین پر غیر قانونی اور زبردستی کیے گئے قبضے کے بعد سے پاکستانی حکومتوں اور عسکری قیادت نے بلوچوں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا زیادتی ہے۔ بلوچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے باعث یہاں علیحدگی پسند تحریکیں چلتی رہی ہیں، جن میں سے سب سے بڑی 2006 میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں سردار اکبر بگٹی اور اس کے 26 قبائلی حواریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی۔ 2006 میں کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بلاجواز گرفتاریوں، حبس بے جامیں رکھنے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، حراست کے دوران پولیس، خفیہ اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بے جااور بلاتفریق تشدد کا سامنا کرنے والوں کے اعدادوشمار پیش کیے۔ ان اعدادوشمار کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے سابق رہنمائے حزب اختلاف کچکول علی بلوچ کے مطابق جبری گمشدگان یا عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھے گئے افراد کی تعداد 4000 ہے۔ لاپتہ افراد میں ایک ہزار کے قریب طالب علم اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ حال ہی میں ان کا اپنا بیٹا چودہ ماہ غیرقانونی حراست میں رکھے جانے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ بلوچ نینشنلسٹ پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل بھی ان افراد میں شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔ درحقیقت وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک لانگ مارچ نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہیں 2008 میں رہا کیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پنجاب میں “استحکامِ بلوچستان-مسائل اور امکانات” نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پرکہا ہے کہ اگر بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کا اختیارتسلیم نہ کیا گیا تو ہم ایک اور مسلح مزاحمت دیکھیں گے جس پر کوئی بھی قابو نہیں پا سکے گا۔

 

پاکستانی عوام کے سامنے کبھی بھی بلوچستان کی اصل کہانی پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی کبھی اس پر بات کی گئی ہے۔ ہماری درسی کتب اور ذرائع ابلاغ حقیقت سے دور ایک جھوٹے بیانیے کے ابلاغ میں مشغول ہیں۔ یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسخ شدہ حقائق سے واقفیت حاصل کریں اور لوگوں تک پہنچائیں۔
Categories
نقطۂ نظر

خوش قسمت کابینہ، بدقسمت بلوچستان

[blockquote style=”3″]

یہ تحریر لالٹین کے ای میل پتہ contribute@laaltain.com پر موصول ہوئی تھی، تاہم اس تحریر پر اس کے مصنف کا نام موجود نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ اسے مصنف کے نام کے بغیر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم اس گم نام مصنف کے شکر گزار ہیں۔

[/blockquote]

بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد 65 ہے۔ یہ سب 2013ء کے انتخابات سے پہلے خود کو وزیر کے روپ میں دیکھتے ہوں گے کیوں کہ اُس وقت نواب رئیسانی حکومت میں ہررکن وزیر تھا، صرف ایک رکن حزبِ اختلاف میں تھا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے ہوا کا ایک جھونکا آیا، کسی شاطر دماغ نے یہ سُجھایا کہ وزرا کی تعداد کم کر دی جا ئے۔ اٹھارہویں ترمیم آئی جس کے تحت صرف چودہ وزرا پراتفاق ہوا اس طرح ڈاکٹر مالک کی حکومت میں اُن کے خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ جن کی قسمت اچھی تھی وہ کابینہ کا حصہ بن گئے اور باقی سب فقیر۔۔۔مطلب پورٹ فولیو کے بغیر وزیر۔

 

جان محمد جمالی صاحب کے استعفے کے بعد اس اسمبلی کا کوئی مستقل سپیکر نہیں۔ ڈپٹی سپیکراور قائم مقام سپیکر جناب عبدالقدوس بزنجو صاحب کے حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے اور وزیراعلیٰ صاحب الیکشن ہار چکے تھے۔ چند حلقے اور ہیں جن کا نتیجہ متنازع رہا۔ اب کس سے گلہ کریں یہاں کوئی عمران خان نہیں اگر ہوتے بھی تو ایک حلقہ تک نہیں کھلوا سکتے تھے۔ جہاں من و سلویٰ اترتے ہوں وہاں عمران خان کی کیا اوقات۔ یہ وہ اسمبلی ہے جس کاقائم مقام سپیکر اور ڈپٹی سپیکر، وزیر اعلیٰ اور گورنر بیک وقت ملک سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اسمبلی 34 اراکین کو ایک تقریب میں حصہ لینے کے لیے ملک سے باہر بھیجتی ہے جس کا بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ یہ وہ اسمبلی ہے جس کے ارکان طلبہ دورے کے لیے مستحق طلباء کی بجائے اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں اور یہ وہ اسمبلی ہے جس کی کابینہ میں کوئی عورت ہے نہ کسی اقلیت کو جگہ دی گئی ہے۔

 

اسمبلی میں 51 نشستیں عمومی نشستیں ہیں، 11 خواتین کے لیے اور 3 اقلیتوں کے لیے مختص ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 33نشستیں درکار ہیں۔ اس وقت اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے 22، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے14، نیشنل پارٹی کے 11، جمعیت علمائے اسلام(ف) کے8، پی یم ایل ق کے 4، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2، اے این پی کا 1، مجلس وحدت المسلمین کا 1، بی این پی (عوامی)کا 1 اور ایک آزاد حیثیت سے ایم پی اے ہے۔

 

یہ اسمبلی 34 اراکین کو ایک تقریب میں حصہ لینے کے لیے ملک سے باہر بھیجتی ہے جس کا بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ یہ وہ اسمبلی ہے جس کے ارکان طلبہ دورے کے لیے مستحق طلباء کی بجائے اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں اور یہ وہ اسمبلی ہے جس کی کابینہ میں کوئی عورت ہے نہ کسی اقلیت کو جگہ دی گئی ہے۔
جب ڈاکٹر عبد المالک صاحب وزیرِ اعلیٰ بنے تو ہم نے بھی لکھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیر سردار، غیر نواب وزیر اعلیٰ بنے ہیں، لیکن متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سے عوام کو جتنی امیدیں و ابستہ تھیں سب خاک میں مل گئی ہیں۔ کیو ں کہ تعلیمی ایمرجنسی، صحت اور پر امن بلوچستان وغیرہ کا نعرہ بلند کر کے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برا جمان ہوئے تھے یا کر دیئے گئے تھے وہ خود کہتے ہیں میرے پاس اختیار نہیں۔۔۔ آج تعلیم ہے تو ایمرجنسی میں، ڈاکٹر اور مریض برابر بڑھ رہے ہیں، امن ہے توبندوق کی نوک پر۔

 

موجودہ کابینہ ماشاء اللہ سے ایک سینئر وزیر سمیت چودہ وزرا اور پانچ مشیران پر مشتمل ہے جس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے:

 

مسلم لیگ نواز کے وزرا
جناب ثناء اللہ زہری صاحب واحد سینیئر وزیر ہیں۔ ن لیگ کے صوبائی وزیر ہیں۔ حلقہ PB-33 خضدار سے منتخب ہوئے ہیں۔ نواب آف جھالاوان ہیں۔ آپ کے پاس C&W، کان کنی اور صنعت کے محکمے ہیں۔ مری معاہدے کے تحت مبینہ طور پر آپ نے اڑھائی سال بعد وزیر اعلیٰ بننا ہے وہ بھی اگلے ماہ یعنی دسمبر میں۔ ا ب دیکھنا یہ ہے کہ اس وعدے کا پاس رکھا جائے گا یا پھر بلوچستان کی تاریخ میں ایک اور’وعدہ‘ وفا نہیں ہو گا۔ کیونکہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو کافی تحفظات ہیں۔ زہری صاحب نے اپنے علاقے میں سڑکیں اور سکول بنوائے ہیں۔ جہاں تک محکموں کی بات ہے تو ان میں کوئی خاص ترقی نہیں ہو سکی ہے البتہ حال ہی میں سی اینڈ ڈبلیو میں اکیس سول انجینئر بذریعہ پبلک سروس کمیشن بھرتی ہو چکے ہیں لیکن صوبے میں کوئی اچھی سڑک نہیں بن پائی۔ اگر مائنز اور انڈسٹریز میں بھی بلوچستان کے انجینئرز کو موقع دیا جائے تو کیا ہی بات ہے۔

 

بلوچستان کو فروٹ گارڈن آف پاکستان کہا جاتاہے لیکن اہل بلوچستان اس باغ کے پھل سے آج تک مستفید نہیں ہوسکے۔
آب پاشی اور توانائی کے وزیر چنگیز مری صاحب ہیں۔ آپ PB-23کوہلو سے منتخب ہوئے۔ مری صاحب فراریوں سے ہتھیار ڈلوانے کے علاوہ کبھی نظر نہیں آتے۔ موصوف بھی وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں اسی لیے اتنے فراری ان کے گھر آکر ہتھیا ڈال رہے ہیں۔ یہ سلسلہ شاید ایک ماہ اور چلے گا۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف ملم لیگ نواز کی کوشش ہے کہ ناراض بلوچ قومی دھارے میں شامل ہوں دوسری طرف مری صاحب ہیں جو اس بات کے حق میں نہیں۔ اگر کسی نے ان کو اپنے دفتر میں کبھی دیکھا ہو تو ہمیں بھی کوئی تصویر بھیج دے شکر گزار ہوں گا۔

 

سرفراز بگٹی صاحب کے پاس داخلہ، قبائلی امور، جیل خانہ جات اور پی ڈی ایم اے کے محکمے ہیں۔ حلقہ PB-24 ڈیرہ بگٹی سے منتخب ہوئے۔ ہوم منسٹر ہیں۔ ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔ دہشت گردی ختم کرنے کے دعویدار ہیں۔ یہ بھی مری صاحب کی طرح فراریوں سے ہتھیار ڈلواتے رہتے ہیں اور ذرائع کے مطابق یہ بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ‘بہترین’ امیدوار ہیں۔ اس سے آپ بلوچستان میں مسلم لیگ نواز کے نظم و ضبط کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ رواں سال جنوری میں پی ڈی ایم اے میں آٹھ سو امیدواروں کا امتحان ہوا۔ تین سو سے زائد پاس ہوئے۔ کمال تو یہ ہے کہ سب امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا آرہا ہے ’چند نا گزیر وجوہ کی بنا پر انٹرویو منسوخ ہوگئے ہیں اور نئی تاریخ بذریعہ اشتہار دی جائے گی’۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آج تک اطلاع نہیں دی گئی اور لوگ نوکری کر رہے ہیں ۔ آواران میں زلزلہ زدگان کے لیے گھروں کا تعمیراتی کا کام جاری تھا۔ کافی گھر بن چکے تھے لیکن پھرعزیز جمالی صاحب کو بلا کسی وجہ کے اوایس ڈی بنا دیا گیا، یہ تھا ایمانداری کا صلہ ۔

 

میر سرفراز ڈومکی کے پاس لیبراینڈ پاور، سماجی بہبود اورغیر رسمی تعلیم کے محکمے ہیں۔ PB-21 سبی سے منتخب ہوئے ہیں۔ مزدوروں کی حالت سب پر عیاں ہے اوریہ غیر رسمی تعلیم کس بھلا کا نام ہے یہ راز موصوفکی ذات تک محدود ہیں۔ تھوڑے کو بہت سمجھیں۔

 

PB-27جعفر آباد 3سے جناب میر اظہار کھوسو صاحب خوراک اور بہبود نسواں کے وزیر ہیں۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

 

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے وزرا
صحت عامہ کے وز نواب ایاز جوگیزئی ہیں۔ PB-3کوئٹہ 3 سے منتخب ہوئے۔ حلقے کے عوام آپ کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں صحت عامہ کے مختلف منصوبے چل رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کو صاف پانی میسر نہیں۔

 

PB-10 پشین 3سے سردار غلام مصطفی خان ترین مقامی حکومتوں، دیہی ترقی اور شہری منصوبہ بندی کے وزیر ہیں۔ میٹرک تک تعلیم پائی ہے۔ ان کی وزارت کے تحت دیہی علاقے تو ایک طرف شہری علاقے بھی ترقی اور منصوبہ بندی سے محروم ہیں۔

 

جناب ڈاکٹر حامد خان اچکزئی PB-11قلعہ عبداللہ 1سے منتخب ہوئے۔ پاکستان سے دو ماہ اور ایک دن بڑے ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بھائی ہیں۔ ترقی و منصوبہ بندی،کیو ڈی اے، بی ڈی اے، جی ڈی اے اور بی سی ڈی اے کے وزیرہیں۔ یعنی کوئٹہ اتھارٹی سے گوادر اتھارٹی تک آپ کی اتھارٹی ہے۔ کوئٹہ کی ترقی کا پول بارش کی ایک بوندکے ساتھ ہی کھل جاتا ہے۔ گوادر کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگرکہیں سے کوئی فتویٰ جاری نہ ہو تو کہا جا سکتا ہے گوادر کی حافظ افواج پاکستان ہیں۔ موصوف کی کارکردگی سے پردہ اٹھانے کے لیے اُن کا یہ بیان کافی ہے ’وقت نہ ملنے کی وجہ سے پندرہ ارب خرچ نہ ہو سکے‘۔ اس کے علاوہ محکمہ زراعت کے فنڈز بی ڈی اے کو منتقل کیے جاتے رہے ہیں۔

 

وزارتِ اطلاعات، قانون، آئی ٹی کے وزیر جناب عبد الرحیم خان ترین المشہور رحیم زیارتوال ہیں۔ PB-22ہرنائی سبی سے منتخب ہوئے۔ اطلاع کس بات کی دیں جب میڈیا بلوچستان کو کور ہی نہیں کرتا۔ قانون ہوتا تو حالات اچھے ہوتے۔ ہاں ایک آئی ٹی یونیورسٹی ہے کوئٹہ میں۔۔۔

 

نیشنل پارٹی کے وزرا
PB-2 خضدار 2سے منتخب ہونے والے سردار محمد اسلم بزنجو صاحب زراعت اور کوآپریٹو کے وزیر ہیں۔ خود بھی زمیندار ہیں پر یہ کوآپریٹو کس بھلا کا نام ہے؟ اس محکمے کا مقصد نئی ٹیکنالوجی کا استعمال اور سبزیوں اور پھلوں کی نمائش ہے۔ نئی ٹیکنالوجی اب تک ٹریکٹر ہے اور نمائش کی جہاں تک بات ہے تو بلوچستان میں کوئی بڑی مارکیٹ ہی نہیں۔ اگر بنائی جائے تو اس میں پورے ملک کا فائدہ ہے۔ بلوچستان کو ‘فروٹ گارڈن آف پاکستان’ کہا جاتاہے لیکن اہل بلوچستان اس باغ کے پھل سے آج تک بہرہ مند نہیں ہوسکے۔

 

میر خالد سیاست کا فن جانتے ہیں۔ جہاں جاتے ہیں، جو بھی حالات ہوں ان کی تصویر اخبار کی زینت بنی رہتی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ان کا عکس کسی اخبار میں نہ چھپے۔ باقی وزرا ایک طرف، میر خالد ایک طرف۔
نواب محمد خان شاہوانی صاحب ایس اینڈ جی اے ڈی کے وزیر ہیں۔ PB-38کوئٹہ، مستونگ سے ایم پی اے بنے۔ حال ہی میں اسسٹنٹ کمشنر اور سیکشن آفیسر کی اسامیاں مشتہر ہو چکی ہیں۔ دعا ہے انتخاب میرٹ پر ہو۔ وزارت سے پہلے پیدل چلتے پھرتے تھے مگر اب پیدل نظر ہی نہیں آتے۔ جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا تھا وہ اپنی غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں۔
میر مجیب الرحمان محمد حسنی PB-47واشک سے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ آپ کے پاس اقلیت، انسانی حقوق، کھیل،

 

ثقافت، آرکائیوز، ویلفیئر، نوجوانوں کے امور اور سیاحت کی وزارتیں ہیں۔ کھیل پر زیادہ توجہ دینے کی وجہ سے بطور وزیر کھیل ہی جانے جاتے ہیں۔ سخت سیکیورٹی میں بگٹی اسٹیڈیم میں سپورٹس فیسٹیول منعقد کرا چکے ہیں۔ کھیلوں کی ہر تقریب کے مہمان خاص اس وقت کے کمانڈر سدرن کمانڈ المشہور ناصر جنجوعہ صاحب ہوا کرتے تھے جو کہ آج کل قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ انسانی حقوق اور وہ بھی بلوچستان میں ۔۔۔حکومت کو اقلیتوں کے لیے کوئی ایسا وزیر نہ مل سکا جس کا تعلق کسی اقلیتی فرقے سے ہو۔ حکومت کی بھی مجبوری ہے کیونکہ کابینہ کی حد چودہ وزراء ہیں۔ جب حالات ٹھیک نہیں تو سیاح کیسے آئیں گے۔ محکمہ امور نوجوانان میں سوائے ایک سیکرٹری کے کوئی اور ملازم ہی نہیں اور ماشاء اللہ سے کوئٹہ میں یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر ابھی زیرِ تعمیر ہے۔

 

وزیر صحت رحمت علی بلوچ المشہور رحمت صالح بلوچ ہیں۔ PB-42پنجگور 1سے انتخاب لڑا۔ وزارت کے ابتدائی دنوں میں کافی چست تھے۔ عارضی عہدوں پر کام کرنے والوں کو مستقل کیا۔ ہسپتالوں میں صفائی کا نظام بہتربنوایا، ڈاکٹرز بھی ڈیوٹی دینے لگے تھے۔ مگراب وہ بات نہیں رہی۔ ڈاکٹر بھی بڑھ رہے ہیں اور مریض بھی۔۔۔کاش رحمت صاحب پرائیویٹ ہسپتالوں کے خلاف کارروائی کریں۔

 

ق لیگ کے وزیر
ریوینیو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ کے وزیر PB-19ژوب سے جعفر مندوخیل ہیں۔ جب بھی اسمبلی میں آئے وزیر بنے۔ سابقہ حکومتوں میں خزانہ، تعلیم اور ترقی و منصوبہ بندی کے وزیر رہے ہیں۔ تجربہ کار ہیں۔ حال ہی میں ایکسائیز آفیسر کی صرف چار اسامیاں چار ڈویژنزکے لیے مشتہر ہو گئی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ناکام تجربہ کر چکے۔ کراچی بس اڈہ کو شہر سے دورہزار گنجی منتقل کرنا چاہتے تھے پر کچھ نہ ہوا لوگ ذلیل ہوگئے۔ اگرمندوخیل صاحب صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک سگنلز کی مرمت اور بحالی پہ توجہ دیں تو قوم ان کا احسان مند رہے گی اور یہ جو کوئٹہ میں Paid Parking شروع کروائی ہے میئر جناب ڈاکٹر کلیم صاحب نے۔ حضور اس طرف بھی دھیان دیں۔

 

مشیرانِ وزیر اعلیٰ
ڈاکٹر مالک صاحب نے کئی محکمے اپنے پاس بھی رکھے ہیں اور ظاہر ہے ان محکموں کے لیے مشیران کا تقرر بھی کیا گیا ہے۔

 

تعلیم کے مشیر سردار رضا محمد بڑیچ ہیں۔ PB-4کوئٹہ 4 سے پشتونخو ا ملی عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ یہ نشست بی این پی جیت چکی تھی پھر رات گئی اور بات گئی اور نتیجہ تبدیل ہوا۔ بڑیچ صاحب پاکستان سے بڑے ہیں اور معمر رکن اسمبلی ہیں لیکن تعلیم کی حالت بہتر نہیں کر سکے۔ اداروں کی ابتر حالت کو بہتر بناتے تو اچھا تھا مگر یہ صاحب بضد ہیں کہ نقل کا خاتمہ ہوگا تو تعلیم بہتر ہوگی۔ سو فیصد اتفاق آپ کی بات سے لیکن جناب یہ تو بتائیں دس بارہ دن کے امتحانوں کے علاوہ آپ کہاں ہوتے ہیں۔ بے شک سکول اپ گریڈ کرتے رہیں۔قابل رشک بات ہے کہ اڑھائی سال بعد آپ کو 900 گھوسٹ سکولوں کا علم ہوا۔ کیا آپ ان سب کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ اورغم بھی ہیں زمانے میں۔۔۔این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے تحت اساتذہ کی بھرتی خوش آئند اقدام ہے لیکن این ٹی ایس کے حوالے سے لوگوں کو اب تک تحفظات ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ این ٹی ایس ٹسٹ یونین کونسل سطح پر ہوا۔ یعنی نچلی سطح سے آپ نے کام کا آغاز کیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ یونین کونسلز کو نمائندگی مل گئی۔ لیکن ساتھ ساتھ آپ سے تاریخ کی سب سے بری غلطی یہ ہوئی کہ جس کونسل میں کوئی نشست خالی نہ تھی وہاں کے امیدواروں سے درخواستیں کیوں وصول کی گئیں؟ اب وہ میرٹ پر ہیں چونکہ ان کے کونسل میں کوئی اسامی خالی نہیں لہٰذا انہیں نوکری نہیں مل سکتی۔ فیس وٖغیرہ کی بات نہیں کرتے۔ ویسے ایک غریب کے لیے ہزار روپے تو بہت ہوتے ہیں۔

 

میر خالد خان لانگو صاحب مشیر خزانہ ہیں۔ نیشنل پارٹی سے تعلق ہے۔ PB-36قلات 1سے جیتے ہیں۔ بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ یہ واحد وزیر ہیں جو اپنے حلقے کے لیے کام کر رہے ہیں اور بھر پور کر رہے ہیں۔ بنیادی ضروریات فراہم کر رہے ہیں۔ ڈسپنسری بنوا چکے ہیں، انٹر اور ریزیڈنشل کالج کے قیام کا اعلان ہو چکا ہے، گیس پائپ لائن بھی بچھ چکی ہے، حال ہی میں ایک فیسٹول بھی منعقد کرایاہے۔ اور کیا چاہیے۔ اپنے آبائی علاقے کے بعد اب امید ہے وہ اپنے حلقے کے دوسرے حصے قلات پربھی توجہ دیں گے۔ سیاست کا فن جانتے ہیں۔ جہاں جاتے ہیں، جو بھی حالات ہوں ان کی تصویر اخبار کی زینت بنی رہتی ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ان کا عکس کسی اخبار میں نہ چھپے۔ باقی وزرا ایک طرف میر خالد ایک طرف۔

 

ن لیگ کے جناب محمد خان لہڑی کے پاس زکوٰۃ ، حج، عشر اور اوقاف ہیں۔ PB-29 نصیر آباد2سے جیتے۔ ان سے پہلے اس عہدے پر ماجد ابڑو صاحب تھے۔ زکوٰۃ کا نظام بہتر کریں اور غریبوں کی دعائیں لیں۔ سرکاری مساجد میں چراغاں توچلتارہے گا۔

 

یہ بلوچستان کے وزرا کی ایک مختصر سی جھلک ہے۔ کوئی سردارہے،کوئی نواب ہے، کوئی اپنے قبیلے کا سربراہ ۔۔۔۔ اور تجربہ کار سیاستدان تو سب ہی ہیں۔ لیکن مجموعی طوریہ بلوچستان کو گزشتہ اڑھائی برس میں کچھ نہیں دے سکے۔
ن لیگ کے میر اکبر آسکانی صاحب PB-50کیچ 3سے جیتے۔ فشریز اور پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے وزیر ہیں۔ میٹرک پاس ہیں۔ صرف یہ بتائیں لسبیلہ یونیورسٹی آف اینیمل اینڈ میرین سائنسز کو کوئی فائدہ پہنچا ان سے؟
عبید اللہ جان بابت صاحب اپنی شائستہ گفتگو بلکہ اردو کی وجہ سے بہت مقبول ہیں۔ ان کے حصے میں جنگلات اور لائیوسٹاک کے محکمے آئے۔ PB-16لورالائی2سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر انٹخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے۔لائیو سٹاک میں کافی ڈاکٹرز بپلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیے گئے ہیں۔ عرب شیوخ آئے اور چلے بھی گئے ملے بھی نہیں۔ کیا بابت صاحب نے کوئی احتجاج ریکارڈ کرایا۔ وفاق نے کب ان کی مانی ہے۔ سو جو ہوا اچھا ہوا۔ جہاں گیس نہیں وہاں جنگلات کٹتے جائیں گے۔

 

یہ بلوچستان کی کابینہ کی ایک مختصر سی جھلک ہے۔ کوئی سردارہے،کوئی نواب ہے، کوئی اپنے قبیلے کا سربراہ ۔۔۔۔ اور تجربہ کار سیاستدان تو سب ہی ہیں۔ لیکن مجموعی طوریہ بلوچستان کو گزشتہ اڑھائی برس میں کچھ نہیں دے سکے۔ یقیناًترقی کا تعلق امن سے ہے اورآپ امن قائم کرنے میں ناکام رہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ خودمختار نہ ہونے کے باعث امن و امان کی صورت حال بہتر نہ کر سکے لیکن جہاں حالات بہتر ہیں وہاں آپ نے کون سے ایسے کام کیے جن کی تعریف کی جا سکے؟ آپ کے پاس تھوڑے بہت اختیارات تو ہوں گے جنہیں عوام کی فلاح کے لیے بروئے کار لایا جاسکے۔ کوئی تبدیلی و ترقی نظر آئے تو سہی۔ ہر بات میں سازش ڈھونڈنے کا رویہ مناسب نہیں۔ آپ ایک اچھی سڑک توبنوا سکتے ہیں، ایک اچھا ہسپتال بنوا سکتے ہیں، سکول اور کالج تعمیر کرا سکتے ہیں، سیوریج اور پانی کا نظام بہتر بنا سکتے ہیں اس سب سےتو پنجاب توآپ کو نہیں روک رہا۔ میرٹ کو یقینی بنانا آپ کا کام ہے پنجاب کا نہیں۔اڑھائی سال میں آپ کوئٹہ کی نکاسی آب کے نظام کو بہتر نہ کر سکے باقی بلوچستان کا کیا کریں گے۔ اگر ٹیوب ویل لگوا نا اور محلے کی گلی کے داخلی و خارجی راستوں پرگیٹ نصب کرنے کا نام ترقی ہے تو بلوچستان سب سے ترقی یافتہ صوبہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

جوہری معاہدہ، گیس پائپ لائن اور بلوچستان

معاشی پابندیوں میں گھرا ایران بالآخر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ایران اورمغربی ممالک کے درمیان طویل اور مشکل مذاکرت کے بعد جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پاگیاہے جس کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق مل گیا ہے ۔ کامیاب مذاکرات پر ایرانیوں نے تہران کی سڑکوں پر جشن منایا ہے کیونکہ ایرانیوں کو اب اس بات کا یقین ہے کہ معاہدےکے بعد ایران پر کئی سالوں سے عائد معاشی پابندیاں اب بتدریج ختم ہوجائیں گی جس سے ایرانی معیشت مستحکم ہوگی۔ ایرانیوں کو یقین ہے کہ اچھا وقت آنےوالا ہے۔ اس معاہدے پر بہت سے ممالک خوش دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اس معاہدے کے بعد مشرق وسطی میں لگی آگ پر قابو پایا جاسکے گا اور ایران کی مدد سے خطے میں امن کا راستہ ہموار ہوگا، جبکہ اسرائیل اور اس کے حواری اس معاہدے سے کافی ناخوش دکھائی دیتے ہیں اور وہ اوباما حکومت کے اس معاہدے کو ایک تاریخی غلطی سمجھ رہے ہیں۔
ایران اور مغربی ممالک کے درمیان طویل اور مشکل مذاکرت کے بعد جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پاگیاہے جس کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق مل گیا ہے
مستقبل میں اس معاہدے کے کیا مثبت اور کیا منفی اثرات ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر موقع کی مناسبت سے پاکستان نے ضرور فائدہ اٹھایا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے دوسرے روز ہی پاکستان کے وفاقی وزیربرائے پٹرولیم و قدرتی وسائل خاقان عباسی نے تعطل کی شکار پاک ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کی خواہش کا ایک بار پھر اظہار کیاہے۔
وفاقی وزیر نے بی بی سی سے ایک انٹرویو کے دوران اپنے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اس گیس پائپ لائن منصوبے پر یکم اکتوبر سے کام شروع کر دے گا اور معاہدے کے تحت 30 ماہ میں اس پائپ لائن کو مکمل ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ پائپ لائن دو سال میں مکمل ہو جائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران بھی اپنے ملک میں اڑھائی سو کلومیٹر پائپ لائن اسی عرصے میں مکمل کر لے گا۔ پٹرولیم کے وفاقی وزیر کے مطابق ایران سے آنے والی یہ گیس ملک میں گیس کی کمی کا نصف فراہم کر سکے گی۔’اس وقت ملک میں 2 ارب مکعب فٹ گیس کی کمی ہے اور اس پائپ لائن کے ذریعے ایک ارب مکعب فٹ گیس لائی جا سکے گی۔ اس دوران گیس کی طلب بھی بڑھ جانے کے باوجود اس پائپ لائن کے ذریعے ملکی ضرورت کا ایک بڑا حصہ ایران سے درآمد کیا جا سکے گا۔
پاکستان کی پاک ایران گیس پائپ لائن کی دیرینہ خواہش اپنی جگہ مگر اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ کامیاب ہوپائے گا یا نہیں ۔ یہ پائپ لائن ایرانی سیستان و بلوچستان سے شروع ہوکر پاکستانی شورش زدہ صوبے بلوچستان سے گزرکر ملک کے دوسرے حصوں تک جائے گی ۔ اس منصوبے کو بلوچ مسلح جدوجہد کا سامنا رہے گا جو پاکستان اور ایران دونوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت نے جب ایران گیس پائپ لائن کا آغاز کیا تو اس وقت کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نظر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہاتھا کہ بلوچوں کی منشا و مرضی کے بغیر ہم بلوچستان میں ایسے منصوبوں کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
سوال یہ ہے کہ بلوچوں کی مرضی و منشاء کے بغیر بلوچ سرزمین سے گزرنے والی گیس پائپ لائن اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں سے بلوچستان کو بھی کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں
بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے یہ موقف بے حد اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ بلوچ پاکستانی ریاست کو ایک قابض قوت سمجھنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ پاکستان بننے سے لےکر آج تک بلوچ اپنی ہی سرزمین اور اس کے وسائل کی ملکیت سے محروم ہیں۔ 1952 میں سوئی سے دریافت ہونے والی گیس آج تک بلوچ آبادیوں تک نہیں پہنچ پائی۔ سوئی میں گیس کے 100 کنوئیں ہونے کو باوجود بلوچستان کے لوگ گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔ بلوچستان کے معدنی و ارضیاتی وسائل سے پورا پاکستان مستفید ہورہا ہے لیکن بلوچ عوام ابھی تک بنیادی سہولیات حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔
سوال یہ ہے کہ بلوچوں کی مرضی و منشاء کے بغیر بلوچ سرزمین سے گزرنے والی گیس پائپ لائن اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں سے بلوچستان کو بھی کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں۔ بلوچ ان منصوبوں کے حوالے سے جن خدشات کا شکار ہیں کیا انہیں دور کیا جائے گا یا نہیں۔ کیا مقامی لوگوں کو سہولیات اور معاشی مواقع ملیں گے یا ہمیشہ کی طرح پنجاب اور دیگر صوبوں کے لوگ ان وسائل پر قابض ہو جائیں گے۔ گواد رکی بندرگاہ، اقتصادی راہداری اور گیس پائپ لائن منصوبوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی مواقع اور ملازمتیں اگر غیر بلوچوں کے قبضے میں چلے گئے تو علیحدگی کی تحریک مزید طاقتور ہوگی۔ ایران سے مقامی سطح پر جاری غیر قانونی تجارت کو باقاعدہ قانونی حیثیت دیتے ہوئے بلوچوں کاموقف سننا بھی ضروری ہے۔ایران پر پابندی ختم ہونے کے بعد ایرانی تیل کی غیرقانونی اسمگلنگ جس سے لاکھوں بلوچوں کے گھروں کا چولہا جلتا ہے کوقانونی حیثیت دیتے وقت بلوچوں کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ بلوچ اپنے علاقے کی ترقی اور خوش حالی کے عمل میں مزید پسماندہ نہ ہو جائیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بیروزگار بلوچوں کا خون مت نچوڑو

بلوچستان کے عوام اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے ہیں۔ حصول علم کے لیے تربت ،گوادر، چمن، آواران، خاران، پنجگور، نصیرآباد اور دیگر علاقوں کے نوجوان کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے دور دراز شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ان شہروں کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کا وہ طبقہ تعلیم حاصل کر رہا ہے جو غریب ہے جسے علم حاصل کرنے کی چاہ نے اس جانب کھینچا ہے۔ نوجوانوں کی ان اداروں میں موجودگی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یا تو ان کے آبائی علاقوں میں تعلیمی ادارے نہیں ہیں یا پھر وہ غیر معیاری ہیں لیکن جیسے تیسے بلوچ نوجوان ملازمت اور بہتر مستقبل کی امید ہر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مگر تعلیم کے حصول کے بعد بھی ان نوجوانوں کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔
جس طرح نیشنل ٹیسٹنگ سروس نے ہر امیدوار سے فی فارم ایک ہزارروپے وصول کیے تھے اور بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں سے کروڑوں روپے کمائے تھےاسی طرح بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی پالیسی بھی بورڑ اور یونیورسٹی کو منافع بخش ادارہ بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔
موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے دو برس پورے کر چکی ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ان کی پہلی ترجیح تعلیم ہے اور تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے وہ ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ ان کے اس ارادے کا مقامی افراد نے خیر مقدم کیا۔ محکمہ تعلیم میں گریڈ1تا15تک کی چار ہزار تین سو انسٹھ خالی آسامیوں کا اعلان کیا گیا۔ ان نشتوں پر تعیناتی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے امتحانات کی ذمہ داری نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کو سونپی گئی ہے۔ مئی 2015میں سیکنڈری اسکولوں کے گریڈ 17 کے جنرل سائنس اور ٹیکنیشن اساتذہ کی 1173خالی آسامیاں بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) کے ذریعے مشتہر کی گئی ہیں۔
این ٹی ایس کے ذریعے مشتہرکردہ خالی آسامیوں کے لئے وضح کردہ امتحانی فیس کے حوالے سے نوجوانوں کو اعتراض تھا لیکن امیدواروں کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرانے کی وجہ سے یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ لیکن بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ آسامیوں کے لئے بنائ گئ گئے سخت شرائط سے امیدوار بہت پریشان ہیں۔ ایک تو کمیشن کی جانب سے نوجوانوں کو درخواستیں جمع کرانے کے لئے وقت کم دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب انہی خالی آسامیوں کے لئے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ امیدوار فارم جمع کرانے سے پہلے تعلیمی اسناد کی تصدیق متعلقہ بورڈ اور یونیورسٹیوں سے کرائیں ۔ اشتہار میں تصدیق کے عمل کو ضروری قرار دینے کے بعد بورڈ اور یونیورسٹی کے احاطے میں امیدواروں کی طویل قطاریں نظر آرہی ہیں۔
اس پیچیدہ طریقہ کار نے نوجوانوں کو مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ کمیشن کے اس فیصلے سے سخت نالاں ہیں ۔موجودہ ضوابط کسی بھی طور امیدواروں کے لیے قابل قبول نہیں۔ بالخصوص ان امیدواروں کے لیے جو کوئٹہ سے 1200یا 2000کلومیٹر دور ہیں اور درخواست دینے کے اس پیچیدہ عمل کی وجہ سے ان کا اس امتحان میں حصہ لینا محال ہو گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن فارم جمع کرانے کے طریقہ کار میں نرمی پیدا کرتا اور سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی شرط صرف کامیاب امیدواروں کے لیے لازمی قرار دیتا۔ اس عمل کو پیچیدہ بنانے کا کس کو فائدہ ہوگااور کیااس عمل سے پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی میں ایک نمایاں اضافہ سمجھا جائے گا؟اس اقدام کو ملازمت کی فراہمی کے عمل کی شفافیت کی بجائے اداروں کی ملی بھگت کے ذریعے امیدواروں سے رقم بٹورنے کا آسان طریقہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح نیشنل ٹیسٹنگ سروس نے ہر امیدوار سے فی فارم ایک ہزارروپے وصول کیے تھے اور بلوچستان کے بیروزگار نوجوانوں سے کروڑوں روپے کمائے تھےاسی طرح بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی پالیسی بھی بورڑ اور یونیورسٹی کو منافع بخش ادارہ بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے ایک نوجوان جو بیروزگار ہو وہ ملازمت کے حصول کے لیے مزید رقم خرچ کرے اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سرکاری اداروں کا خسارہ پورا کرنے کے لیے ملازمتوں کے نام پر اس کا خون نچوڑا جائے۔
نیشنل ٹیسٹنگ سروس اور بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کے چریقہ کار کو آسان بنانےاور فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں کے نوجوان بے روزگار رہ جائیں گے۔ پیچیدہ طریقہ کار پر بے جا اخراجات کے باعث بہت سے طلبہ کے لیے درخواست دینا یا ملازمت کی اہلیت جانچنے کے امتحان کی تیاری کرنا ممکن نہیں۔ امید ہے بلوچستان کی صوبائی اور پاکستان کی وفاقی حکومت اس جانب توجہ دیں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچ نوجوان مایوس ہیں

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، پاکستان کا 44 فیصد بلوچستان جبکہ 56 فیصد سندھ، پنجاب،خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور فاٹا پر مشتمل ہے مگرمعاشی عدم مساوات، ریاستی جبر اورسیاسی عدم استحکام کے باعث بلوچستان پاکستان کی دیگر اکائیوں کی نسبت بے حد پسماندہ ہے۔بلوچستان کے حالات ہوں یا پسماندگی، سیاسی آزادی کا معاملہ ہو یا پھر بیروزگاری کا مسئلہ؛ بلوچستان کاہر مسئلہ دوسرے مسئلے سے بڑھ کر ہے۔۔ بلوچستان کے عوام اس وقت حالات کی وجہ سے بہت ڈرے ہوئے ہیں، بے یقینی اور خوف کا یہ عالم ہے کہ بلوچ اپنے مستقبل سے زیادہ اپنے آج کیلئے پریشان ہیں
آج کا بلوچ نوجوان نہیں جانتا کہ اسے کیا پڑھنا چاہیے، ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے باعث کس شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے اور اپنی آواز اٹھانے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے، وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسے اپنا مستقبل بلوچستان میں دھندلا نظر آتا ہے۔
بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر نظرڈالی جائے تو حالات اور ریاست سے سب سے زیادہ مایوس طبقہ نوجوانوں کا ہے ۔ محدود امکانات اور مواقع کے باعث نوجوان اپنی پڑھائی سے زیادہ اپنی مستقبل کے لیے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی حکومت، سردار نظام اور برسر اقتدار حکمران طبقےکی ناکام پالیسیوں اورریاستی جبر نے بلوچستان کے نوجوانوں کو آج ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کردیا ہے جہاں بلوچ بالعموم اور بلوچ نوجوان بالخصوص اپنے مستقبل کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔آج کا بلوچ نوجوان نہیں جانتا کہ اسے کیا پڑھنا چاہیے، ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے باعث کس شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے اور اپنی آواز اٹھانے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے، وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسے اپنا مستقبل بلوچستان میں دھندلا نظر آتا ہے۔
60 اور 70ء کی دہائی میں بلوچوں کے پاس معاش کا ایک بہتر ذریعہ خلیجی ممالک میں ملازمت کا حصول تھا، خصوصاً مسقط کی فوج اور بحرین پولیس میں مکران اور سیستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں بلوچ نوجوان بھرتی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دبئی، کویت اور قطر میں ہزاروں بلوچ مزدوری کیلئے باآسانی جاسکتے تھے۔ اس زمانے میں بلوچستان میں بسنے والے ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد خلیجی ممالک میں مزدوری کے لیے ضرور جاتا تھا جواپنی اجرت سے پاکستان میں بسنے والے اپنے گھرانے کی کفالت کیا کرتا تھا۔ خلیجی ممالک کے سیکیورٹی اداروں میں بیس پچیس سال گزارنے کے بعدریٹائر ہوکر واپس بلوچستان آنے والے پنشن یافتہ افراد نے بعدازاں کھیتی باڑی اور کاروبار کے آغاز سے بلوچستان کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کیا لیکن حالات کی خرابی کے باعث وطن واپس لوٹنے والے بلوچوں کے لیے کاروباری مواقع کم ہوئے ہیں۔
ماضی کی نسبت آج کا بلوچ نوجوان اپنے مستقبل کے حوالے سے کہیں زیادہ مایوس دکھائی دیتا ہےایک جانب بلوچستان کی صوبائی اور پاکستان کی وفاقی حکومت بلوچ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے شروع کرنے میں متامل ہے تو دوسری جانب غیر ہنر مند بلوچ نوجوانوں کے لیے بیرون ملک ملازمت کے مواقع بھی کم ہوچکے ہیں۔ بیشتر نوجوان اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے چکر میں دوبارہ خلیج اور یورپی ممالک کارخ کررہے ہیں یہاں تک کہ لوگ افغانستان جانے سے بھی دریغ نہیں کررہے۔ بلوچ طالب علم پاکستان اور بلوچستان کے حالات سے مایوس ہوچکے ہیں اور عمانی فوج اور بحرین پولیس میں اپنا مستقبل تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
گزشتہ چند برس میں بلوچستان میں بے روزرگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ سلطنت عمان کی فوج میں دستیاب 250 اسامیوں کے لیے صرف تین اضلاع سے 22 سے 25 برس کے 28ہزار نوجوان کاغزات جمع کراتے ہیں۔ جانچ پڑتال کے بعد 8 ہزار نوجوانوں کو فہرست میں شامل کیا جاتا ہے اور ان میں سے صرف 250 کو عمان بھیجنے کےلیے منتخب کیا جاتا ہے۔یہاں یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ بلوچستان کے نوجوان اپنے آنے والے کل کےلیے کس قدر پریشان ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کی مایوسی وفاقی حکومت اور بلوچستان کی موجودہ قوم پرست حکومت کے لیے شرمناک ہے اور یہی نوجوانوں میں علیحدگی پسند رحجانات کے فروغ کا باعث ہے۔
Categories
خصوصی

بلوچ عورت کی تحریک

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر شاہ محمد مری کی یہ تحریر ماہنامہ سنگت کے مارچ 2015 کے شمارے میں بھی شائع کی جاچکی ہے۔

[/blockquote]

ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسانی معاشرے میں پیداواری رشتے اور اُن سے وابستہ رسوم و روایات، دوائیوں کی طرح ایک خاص مدت کے بعدزائد المعیاد ہوجاتے ہیں اور اُن کی جگہ بلند تر، پیچیدہ تر اور اعلیٰ تر اقدار مروج ہوجاتی ہیں مگربہت سارے روشن فکر احباب بھی اُن تبدیلیوں کا ادراک نہیں کرپاتے اور بجائے تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنے کے وہ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ایسے افراد یہ جانے بنا کہ اچھائیاں بھی وقت کے ساتھ فرسودہ ہوجاتی ہیں ان تبدیلیوں کےالتوامیں حصہ ڈالتے جاتے ہیں۔
سماج جو مرضی سوچے دنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیادبھی اِس بات پر ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے
روایتی معاشرے کا دوسرا بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی کے معاملات کے حل کے لیے بھی اس پندرہویں صدی کی حانی و مہناز اور گوہر و سمو کی داستانیں کو کھنگالتا رہتا ہے جب ایٹم، جینیات، خلائی علوم اور کمپوٹر سائنس جیسے علوم موجود نہ تھا۔عورتوں کے بارے میں بھی ہمارا روایتی معاشرہ انہی دو خطوط پر سوچتا ہے۔ مگرتماشایہ ہے کہ سماج جو مرضی سوچے دنیا بھرکی طرح بلوچ معاشرے میں بھی عورتوں کی تحریک کی بنیادبھی اِس بات پر ہے کہ عورت اپنی موجودہ حیثیت اور مقام سے غیر مطمئن ہے اور اُس کا دوبارہ تعین چاہتی ہے اس مقصد کے لیے وہ مروج سماج کو چیلنج کرتی ہے۔تحریک نسواں کا ارتقا اور صورت پذیری ہر سماج میں مختلف ہوسکتی ہے مگر روایت اور موجودات سے عدم اطمینان ہر جگہ اور ہر زمانے میں اس تحریک کا جوہر رہا ہے۔
بلو چ سماج ایک نیم قبائلی اور نیم جاگیردارانہ سماج ہے۔ بلوچ معاشرہ آج جن بڑے مسائل کا مجموعی طور پر شکار ہے اس کے اسباب دو ہیں: ایک غاصب ریاست اور دوسرا یہاں کااپنا سردار؛بے روزگاری، ناخواندگی، پسماندگی اور قتل و غارت انہی دو مظاہر کی وجہ سے ہے۔یہ واضح کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ یہ دونوں مسائل ہیں، مسائل کا حل نہیں۔ یہ درست ہے کہ یہ دونوں ایک دوسر ے پر انحصار کرتے ہیں اور ایک لحاظ سے باہم ایک ہی ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے جب بھی اِن میں سے کسی ایک کو نظر انداز کیا، ہم خسارے میں رہے۔
بقیہ پاکستان کے برخلاف بلوچستان میں ایک زبردست سیاسی جمہوری تحریک موجود رہی ہے اور اس تحریک کو ہمیشہ اپنے سماج میں موجود تضادات سے متعلق ایک واضح موقف اختیار کرنا پڑا ہے گو کہ عورتوں سے متعلق اس کا موقف بہت مبہم اور مدہم ہوتا ہے مگرپھر بھی اتنا صاف کہ دوسری پڑوسی (پاکستانی )قوموں میں اس کاثانی نہیں ۔عالمی گاوں بن جانے والی اس دنیا میں بھی ہمارا قبائلی سماج ایک بند اور خفیہ سماج کی شکل میں موجود ہے اور زندگانی کے فطری سخت حالات سے دوچار ہے، بدقسمتی سے ہم ان فطری حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے اوپر کنکریٹ کی سخت تہیں جماتے رہتے ہیں۔ ان تہہ در تہہ سخت پرتوں میں سوراخ کرکے انسانی آزادی کا راستہ بنا لینا بہت محنت کا کام ہے۔
ہر زندہ سماج کی طرح بلوچ سماج بھی بہت بڑی نعمتوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑے مسائل بھی رکھتا ہے اور یہ مسائل اجتماعی بھی ہیں، انفرادی بھی اور گروہی بھی۔معاشرے کے مجموعی مسائل و معاملات کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل ایسے ہیں جو صرف عورت کو درپیش ہیں اسی لیےدنیا بھر میں عورتوں کی اپنی ایک الگ آزاد جمہوری تنظیم ہے جو عمومی معاشرتی مسائل کو ساتھ لیے اپنے مخصوص حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں بہت عرصے سے تبدیل نہیں ہوئی اورہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔
بلوچ عورت کی حالت ہمارے پورے معاشرے کی طرح کسی بہت بڑی صورت میں بہت عرصے سے تبدیل نہیں ہوئی اورہمارے ہاں فرد کی مانند عورت بھی تمام انسانی حقوق سے محروم ہے۔ یہ سماج عورت کی آزادی اوربرابری کی شاہراہ کی سب سے بڑی رکاو ٹ (اطاعت گزاری، جمود اور پرانے سماج کے مردہ بوجھ کو اُٹھائے رکھنا) کو خودمستحکم کرتا چلا آیا ہے۔عورتوں کی سماجی حالت میں تبدیلی کے لئے سیاسی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے ، صنعت اور صنعتکاری کی ضرورت ہوتی ہے، بڑے پیمانے پر تعلیم اور بحث و مباحث کی ضرورت ہوتی ہےمگر یہ سب عوامل بھر پور انداز میں کبھی میسر نہیں رہے چنانچہ سماجی ڈھانچہ نہیں بدلا اوروہی قبائلی و جاگیردارانہ رشتے برقرار ہیں۔
بلوچستان میں عورتوں کی بڑی تعداد شہر کی بجائے یا تو دیہات میں رہتی ہے ،یا خانہ بدوش ہے ۔یعنی ہماری کارگاہ چراگاہیں اور کھیت ہیں جہاںشہری نعرے بازی کسی کام کی نہیں یہاں سب سے بڑا مسئلہ نیم خانہ بدوشی کو ختم کرنے کا ہے۔ مستقل آبادکاری، چار دیواری اور بستی یا قصبہ کی زندگی سب سے فوری اور ضروری فریضہ ہے۔ اور کیا ایسا موجودہ استبدادی ریاست میں ممکن ہے؟ ا س کے لیے پیداواری رشتے بدلنے ہوں گے۔ اندازہ کیجیے کہ یہ کتنی مشکل، مستقل اور کل وقتی جدوجہد ہے؛اتنے بڑے بلوچستان میں خانہ بدوشوں کو مستقل آبادی میں بسانا بذاتِ خود ایک انقلاب ہے۔
اگر عورت شہری علاقے کی ہے تو اُس کے لیے محض تھکا دینے والی مشقت کو آسان بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اس مشقت سے بچائے ہوئے وقت کا اچھا استعمال بھی ضروری ہے۔ تفریحی مقامات کا بندوبست کرنا ‘کھیلوں کی سہولتیں دینا‘اورتہذیب و تمدن کی نعمتوں کے دروازے کھولنا بھی ضروری ہے۔ عورت کے لیے تعلیم کے بعد تربیتی مراکز قائم کرنا اور انہیں ملازمتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ کارخانے بنا کر ان کے اندر عورتوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے ۔ یقین جانیے زمین کی پیداوار کا سرمایہ بننا، صنعتکاری کا وسیع ہونا اور نئے طبقوں اور ان کے اندر نئے تضادات کی پیدائش سماج میں عورتو ں کی حیثیت اور حصہ داری پر بڑے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس نئے سماجی ڈھانچے کی تشکیل سے کثیر زوجگی بھی کم ہوجاتی ہے۔
عورتوں کا مسئلہ سماجی ہے، ایسے تمام لوگ جو عورت کی برابری اور حقوق کا مسئلہ مکمل طور پر حل کرنا چاہتے ہیں انہیں تمام انسانوں کے مفاد کے لیے پورے سماجی مسئلے کو اپنا مقصد قرار دینا ہوگا۔ انسانی بہبود اور مساوی مواقع کی تحریک کسی ایک طبقے کی تحریک قطعاً نہیں ہے۔ چونکہ سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوں کی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروں اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ان سب کی یکجائی پوری تحریک کی فتح مندی کی ضامن ہے اور یہ تحریک سماجی انصاف کی تحریک ہے۔
سماجی آزادی اور صنفی برابری کے بغیر انسانی آزادی نا ممکن ہے اس لئے انسانی آزادی کی جدوجہد کے قافلے میں عورتوں کی تحریک عام انسانوں یعنی مزدوروں ، ماہی گیروں اور کسانوں کی تحریک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
عورتوں کی جدوجہد کے حوالے سے موجود نظریاتی تذبذب کے باعث مردوں کے ساتھ موجودسماجی حیثیت کے تضاد کو ایک ایسے طریقے سے پیش کیا جاتا ہے تا کہ استحصال شدہ مرد اوراستحصال شدہ عورت باہم بٹ جائیں اور وہ استحصال کرنے والے طبقے کا مقابلہ نہ کرسکیں۔ بعض لوگ یا تو عورتوں کی جدوجہد کو اس کے فطری اتحادی یعنی مزدوروں اور کسانوں کی جدوجہد کی تحریک سے کاٹ ڈالتے ہیں یا پھر اس طرح کے دوسرے لیت پیت کرتے ہیں جن کے نتیجے میں ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں لوگ مرد وزن کے درمیان برابری کو میکانکی برابری سمجھنے لگتے ہیں۔عورتوں کی تحریک ان باتوں سے بہت بلند،بہت پاک و صاف تحریک ہے ۔ اصل منزل موجود ہ ڈھانچہ میں مردوں اور عورتوں میں صرف مساوات حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ آگے بڑھنا ہے اور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے تابع ہوجاتا ہے اور ایک جنس دوسری جنس کی محتاج ہوجاتی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان؛احساس محرومی اور عوامی نمائندے

اسلام آبا د میں بلوچستان ہاؤس کی عمارت پر لکھا بلوچستان ہاوس بڑی مشکل سے دکھائی دیتا ہے۔بلوچستان ہاوس پر سے بلوچستان کا نام بلوچوں کے نام و نشان کی طرح مٹ رہا ہےجن کا احساس محرومی دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں رہتے ہوئے کبھی کبھار اپنے منتخب نمائندوں ہی کی طرح مجھے بھی بلوچستان کی پسماندگی یاد نہیں رہتی ، یہاں کی عالی شان عمارتیں دیکھ کر بعض اوقات لگتا ہے کہ بلوچ بھی خوشحال ہو چکے ہوں گے وہاں کے لوگ بھی اتنی ہی ترقی کر چکے ہوں گے جتنی یہاں کے باشندوں نے کی ہے۔ وہاں بھی تعلیمی ادارے کھلے ہوں گے، ہر بچے کے ہاتھ میں قلم ہوگا، ہر نوجوان برسرروزگار ہوگا۔ وہاں کی زمینوں پر بھی فصلیں لہلہا رہی ہوں گی ۔ وہاں کی سڑکیں بھی کشادہ اور پکی ہوں گی لیکن پھرمیرا یہ فریب محض ایک خام خیالی ثابت ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں رہتے ہوئے کبھی کبھار اپنے منتخب نمائندوں ہی کی طرح مجھے بھی بلوچستان کی پسماندگی یاد نہیں رہتی ، یہاں کی عالی شان عمارتیں دیکھ کر بعض اوقات لگتا ہے کہ بلوچ بھی خوشحال ہو چکے ہوں گے
2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی قوم پرست جماعتوں پر مشتمل حکومت کودوسال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے لیکن حکومت کی کارکردگی دیکھتے ہوئے قطعاً یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ قوم کو مصیبتوں کے بھنور سے نکالنے کے لیے ان کے پاس کوئی واضح لائحہ عمل موجود ہے۔ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ بلوچستان میں تعلیم ، صحت اور امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری عام ہے۔بلوچ عوام کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے لیکن ان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے تاحال زرعی اصلاحات کا اعلان نہیں کیا گیا اورنہ ہی انہیں کسی قسم کی سبسڈی دی گئی ہے۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلانات اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔عوام کی بڑی تعداد یہ توقع کر رہی تھی کہ موجودہ حکومت سابقہ ادوار کی حکمران جماعتوں سے مختلف ثابت ہوگی لیکن عوامی توقعات اور خوش گمانیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے دوران بلوچ عوام نے تبدیلی کی آس پر بڑے عرصے بعد قوم پرست جماعتوں کو ووٹ ڈالے تھے لیکن یہ حکومت ابھی تک عوامی توقعات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔
موجودہ بلوچستان حکومت کی جانب سے رفتہ رفتہ ایسے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں جن سے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن اب تک کا دو سالہ دور اقتدار حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کی محاذ آرائی میں ضائع ہو چکا ہے ۔
موجودہ بلوچستان حکومت کی جانب سے رفتہ رفتہ ایسے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں جن سے عوام نے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن اب تک کا دو سالہ دور اقتدار حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کی محاذ آرائی میں ضائع ہو چکا ہے ۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنی کرسی بچانے کے لیے تگ و دو میں دکھائی دیے جبکہ ان کی حلیف جماعت کے سربراہ اور حریف رہنماء ثناء اللہ زہری ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت سے نالاں رہے۔ ثناءاللہ زہری کی جماعت نےحکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اسمبلی کی کارروائی کا مقاطعہ کیے رکھا ہے۔اگرچہ میاں نوازشریف کی کوشش سے اسمبلی فلور دوبارہ آباد ہو گیا ہے لیکن دلوں کی دوری تاحال برقرار ہے۔
موجودہ حکومت کے فیصلوں سے یہ تاثر عام ہوا ہے کہ اختیارات منتخب نمائمدوں کے پاس نہیں۔ بلوچستان کے معدنی منصوبوں، بندرگاہوں، فوجی کارروائیوں اور عرب شیوخ کو شکار پر پابندی کے باوجود بلوچستان میں شکار کے اجازت ناموں کے اجراء سے متعلق فیصلوں نے موجودہ سیاسی حکومت کی کم زوری ظاہر کر دی ہے، ان فیصلوں سے بلوچستان کے احساس محرومی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان کی جنگلی حیات خطرے میں

عدالتی پابندی کے باوجود سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر نایاب پرندے تلور کا شکار کھیلنے چاغی پہنچ گئےہیں اگرچہ اس سے قبل محکمہ جنگلات کے ایک سینیئراہلکار نے کیمپ کے قیام کی تصدیق کی تھی لیکن عرب شیخ کی آمد کی تردید کی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گورنر تبوک پرنس فہد بن سلطان بن عبدالعزیز السعود اپنے خصوصی طیارے میں بدھ کی سہ پہر چاغی کے صدر مقام دالبندین کے ائرپورٹ پہنچے جہاں ان کا استقبال پاکستان میں سعودی سفیر سمیت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، صوبائی وزیر کھیل و ثقافت و امور نوجوانان میر مجیب الرحمن محمد حسنی، چاغی سے منتخب رکن بلوچستان اسمبلی سخی امان اللہ نوتیزئی، کمشنر کوئٹہ ڈویژن قمبر دشتی، ضلع چاغی کے نومنتخب بلدیاتی چیئرمین میر داؤد کان نوتیزئی، ڈپٹی کمشنر چاغی سیف اللہ کھیتران، اسسٹنٹ کمشنر دالبندین رزاق ساسولی اور پولیس حکام نے کی جہاں طیارے سے اترنے کے بعد گورنر تبوک اپنے گاڑی میں بیٹھ کر دالبندین سے 35 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع اپنے شکار کیمپ بارتاگزی چلے گئے۔ اس موقع پر دالبندین ائرپورٹ کے گرد پولیس، لیویز اور نیم فوجی دستے فرنٹیر کور کی جانب سے سخت سیکیورٹی حصار قائم کیا گیا تھا جہاں صحافیوں سمیت عام لوگوں کا جانا ممنوع تھا۔
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر چاغی سیف اللہ زہری نے گورنر تبوک کے آمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گورنر تبوک کا یہاں شکار کے لیے آنا غیر قانونی ہے جنہیں ہماری طرف سے کوئی گرین سگنل نہیں دیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا “غیر قانونی شکار پر وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت قانونی کاروائی خارج ازامکان نہیں لیکن فی الحال ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔”یاد رہے چاغی کے رہائشی ملک سلیم اور لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے مقامی سیاستدان اسلم بھوتانی کی درخواستوں پر گزشتہ سال عدالت عالیہ بلوچستان نے صوبے میں عرب شیوخ کی جانب سے تلور کی شکار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شکار کے لیئے الاٹ کیئے گئے تمام ارضیات کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن گورنر تبوک کی آمد سے عدالتی احکامات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 1980 کی دہائی سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کی جاتی رہی ہیں۔اس پرندے کے شکار کے لیے وفاقی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اجازت نامے کے تحت کسی بھی علاقے میں عرب شیوخ دس دن کے لیے شکار کر سکتے ہیں۔ان دس دنوں میں ان کو صرف 100 تلور شکار کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این بلوچستان کے سربراہ فیض اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی پابندی خاطر میں نہیں لائی جاتی۔انھوں نے بتایا کہ ’اگر دس تلور شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو رپورٹ یہ آتی ہے کہ وہ 200 یا 300 ایک دن میں مارتے ہیں۔‘
بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف محکمہ جنگلات نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ہائی کورٹ کے 2014 میں دیے گئے فیصلے کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کے جاری کردہ اجازت نامے کو منسوخ کر دیا تھا۔ تلور ہر برس موسم سرما میں سائبیریا سے ہجرت کر کے بلوچستان کا رخ کرتا ہے ۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں دہشت کے بڑھتے سائے

نصیر جسکانی
مذاکراتی عمل میں تعطل کے بعدکراچی ائر پورٹ پر حملہ اور بلوچستان کے علاقے تفتان میں شعیہ زائرین پر ہونے والے خود کش حملوں نے ایک بار پھر سر زمین پاک کومعصوم لوگوں کے خون ناحق سے سیراب کر دیا ہے ، ان حالیہ واقعات نے نا صرف پاکستان کےشہریوں کوشدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اورسکیورٹی اداروں کی کارگردگی پر بھی سوال اٹھنے شروع ہو چکے ہیں۔ جس طرح ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں نے کئی گھنٹوں تک پاکستان کے سب سے بڑے بین الاقوامی ائیر پورٹ کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائے رکھا اور تفتان میں شعیہ زائرین پر حملوں سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ایک سالہ کارکردگی کی کلی کھل گئی ہے۔دہشت گردی کے حالیہ منظم واقعات میں جس طرح قومی اہمیت کے مقامات اور شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دہشت گرد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے اور ریاستی ڈھانچہ کو مفلوج کرکے اپنے لئے ایک محفوظ امارت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
حکومت اور عوام میں دہشت گردوں کےخلاف کاروائی کے مسئلے پر پایا جانے والا ابہام اور بے اعتمادی ریاست کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت اور عوام کی جانب سےدہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے سکیورٹی خدشات کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
حکومت اور عوام میں دہشت گردوں کےخلاف کاروائی کے مسئلے پر پایا جانے والا ابہام اور بے اعتمادی ریاست کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت اور عوام کی جانب سےدہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے سکیورٹی خدشات کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ داخلی خطرات کے ساتھ ان حملوں کی وجہ سے پاکستان کی عالمی تنہائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ غیر ملکی جنگجووں کی پاکستان میں موجودگی کی وجہ سے ہندوستان، ایران، افغانستان اور چین سے پاکستان کے سفارتی تعلقات بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہی غیر ریاستی عناصر کے باعث پاکستان کے ہندوستان اور افغانستان سے جاری مذاکرات کا عمل بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی جنگجووں کی پناہ گاہیں دنیا بھر میں جہاد کی برآمد کا باعث ہیں اور ان کے خلاف اگر پاکستان نے خود اپنی سرزمین پر کاروائی نہ کی تو پاکستان کو عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت اور سکیورٹی اداروں کو دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کاروائی کے خلاف موثر کاروائی کرنا ہوگی ورنہ ہو سکتا ہے کہ دیگر ممالک پاکستان سے ملحقہ سرحدوں کو بند کردیں اور پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو خودنشانہ بنائیں جس سے پاکستان کی داخلی سلامتی کے خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ بھارت اور افعانستان سےپاکستان کے تعلقات پہلے ہی کوئی زیادہ اچھے نہیں ہیں اور ان ممالک کی طرف سے پاکستان پر دراندازی اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات مسلسل عائد کئے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر پاکستان بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لے کر پاکستان کی سرزمین سے دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ایک بھر پور آپریشن کرے اور عالمی تعاون کی بھی درخواست کرے تو یہ راستہ پاکستان کی عزت و توقیر میں اضافے کے ساتھ داخلی استحکام کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔
دہشت گردوں کی کاروائیوں کے باعث پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ، سیاحت اور میل جول کے مواقع کےختم ہو چکے ہیں ، پولیو ورکرز پر پے در پے حملے کر کے پاکستانیوں پر بین الاقوامی سفری پابندیوں کا اطلاق کروا دیا ہے ، فرقہ واریت کازہر گھول کر ہزاروں لوگوں کوموت کے گھاٹ اتار کر ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے،سکولوں اور یونیورسٹیوں میں دھماکے کر کےپاکستان کی نوجوان نسل پرتعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں، تنگ نظر مذہبی تعبیر پر مبنی تعصب اور توہمات کی ترویج سےپاکستانیوں کو ذہنی انتشارکی طرف دھکیلا جا رہا ہے ،بازاروں اور مارکیٹوں پر حملے کر کے پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں کوسبوتاژکرنے کی سازش جاری ہے ، ایئر پورٹ پر حملے کر کے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سب کے باوجود بعض سیاسی و مذہبی جماعتیں ان دہشت گرد وں کو محب وطن ثابت کر رہے ہیں ۔ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کوبھی تزویراتی گہرائی کےنظریہ کودفن کر کےپاکستان کی اندورونی چیلنجز سے نمٹے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس مرحلہ پرجب پاکستان پر دہشتگردی کے سائے بڑھتے جا رہے ہیں پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے جائز مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے ان کے تعاون سے دہشتگردوں کے توسیع پسندانہ عزائم کو خاک میں ملانا چاہئے۔دہشتگردوں کی حامی مذہبی و سیاسی جماعتوں پر پابندیوں کے عمل کو شروع کرنا ہو گا، نام بدل بدل کر کام کرنی والی کالعدم تنظیمیوں کے خلاف بھر پور کاروائی وقت کا اہم تقاضہ ہے اس عمل سے ہم عالمی برادری میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کر سکتے ہیں اور پاکستان کو دہشتگردی کے عفریت سے بچا سکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بلوچستان ؛ تعلیم واحد امید ہے

ناخواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ، بلوچستان سرِ فہرست ہے۔ 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 23 لاکھ بچے غربت، وسائل کی کمی، بنیادی ڈھانچے میں کمزوریاں اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ایسے میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے ذریعے کم خرچ پرلڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ بالخصوص مکران ڈویژن جس نے عطاء شاد، مبارک قاضی، واجہ فقیر بلوچ جیسے لوگ پیدا کئے اور مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کا علم بلند کئے رکھا، اصولی طور پر تو ایسے لوگوں کو سراہنا چاہیے تھا مگر تعریف تو کجا، مکران کے ڈسٹرکٹ پنجگور میں قائم تمام پرائیوٹ اسکولوں اور انگلش لینگوئج سینٹرز کے خلاف ایک غیر معروف شدت پسند گروہ “تنظیم الاسلامی الفرقان” کی طرف سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ ان پمفلٹ میں انگریزی تعلیم کو حرام قرار دیا گیا ہے اور دھمکی دی گئی ہےکہ جو بھی تعلیمی ادارہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھے گا ، اسے اسلام کا دشمن سمجھا جائے گا۔ اس کی ساتھ ساتھ طالبات کو اسکول لیجانے والے ٹیکسی اور وین ڈرائیوروں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ ان طالبات کو اسکول لے کر جائیں گے تو انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا، اس دھمکی کے بعد تمام اسکول بند کر دیے گئے۔ گو کہ ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد اسکول دوبارہ کھول دیے گئے لیکن چند روز بعد شدت پسند تنظیم کی جانب سے اسکولوں پر حملوں اور ایک اسکول وین کو آگ لگا نے کے واقعات کے باعث پنجگور کے تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں اور ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے خلاف پنجگور میں ہزاروں افراد کا احتجاج جاری ہے۔
کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
پنجگور ڈسٹرکٹ جہاں لوکل پولیس اور لیویز کے علاوہ ایف سی کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں،اتنی سخت سیکیورٹی کے میں ایک غیر معروف تنظیم کا سر اٹھانا اور اس کے خلاف عملی اقدامات کی کمی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ صوبائی حکومت عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی جانب سے نوٹس لینے کے سوا تاحال کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی اور سکولوں کی بندش کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں فاٹا اور سوات میں بھی لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ۔ ایسے واقعات کا بار بار جنم لینا حکومت کی طرف سے موئژر پالیسی کا فقدان ہے۔ پنجگور میں اسکولوں کی بندش کا باعث بننے والی تنظیم کیا ان بلوچ حریت پسندوں سے زیادہ “محب وطن” ہے جو ریاست اور وفاق کے استحصال کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کیا ریاست اپنی رِٹ صرف بلوچوں کو فتح کرکے بحال کرنا چاہتی ہے یا کبھی پاکستانی بندوقوں کا رخ آنے والی نسلوں سے خواب چھننے والوں کی طرف بھی ہو گا؟ بلوچ کیا سوچ کر ایک ایسے پاکستان میں رہنے کی حامی بھریں جہاں ان کی آنی والی نسلوں کو لکھنے پڑھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں لاپتہ افراد اور ان کی بازیابی کیلیے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے بلوچوں کےلئے اجتماعی قبروں، فوجی کاروائیوں اور مسخ شدہ لاشوں کے بعد اپنے بچوں کے ان پڑھ رہ جانے کےخدشہ کے بعد ریاست اور وفاق سے وفاداری کا عہد وہ بہت عرصہ تک نہیں نبھا سکیں گے۔ ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔ اس سے پہلے کے بلوچستان کے طلبہ کو مقامی “بوکوحرام” کے ہاتھوں یرغمال ہونا پڑے، حکومت کو بلوچوں کی آنے والی نسل کو محفوظ بنانا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ اس نسل کو تحفظ دینے سے پاکستان اور بلوچستان کے درمیان کمزور ہوتے ہوئے رشتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے
ایسے سنگین حالات میں بلوچوں کی واحد امید وہ نسل ہے جو تعلیم حاصل کرے کے بلوچ قوم ، قومیت اور تشخص کی جدوجہد کر سکتی ہے۔ لیکن یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔
محترم ڈاکٹر عبدلالمالک صاحب،
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
جنابِ والا: ایسے میں حالات نوٹس لینے سے نہیں، عملی اقدامات سے صحیح ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں میں چونکہ بلوچوں کی حقِ خود ارادی کی جنگ کا فلسفہ آب سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا، بلکہ آپ تو اس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔۔ اس لیے امید کی جا رہی تھی کہ آپ معاملات کو نسبتاْ بہتر سنبھالیں گے۔ آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں گو کہ بلوچ عوام کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع ملا مگر مسائل میں کمی نہیں ہوئی۔ آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی پنجگور میں اسکولوں کی بندش کے مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے موئژر پالیسی بنائیں۔ صرف ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی باتیں نہ کریں بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والوں کو بھی روکیں۔ آج اگر
پنجگور میں نامعلوم گروہ پیدا ہو سکتے ہیں تو کل تربت میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ ان حالات میں نہ صرف بحیثیت وزیرِ اعلیٰ بلکہ بحیثیت بلوچ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ اور اپنی مٹی کا حق ادا کریں گے۔ ورنہ ہم سمجھ لیں گے کہ آپ ہم میں سے نہیں رہے۔