“حال حوال” بلوچستان میں آن لائن صحافت کا نیا باب

شبیر رخشانی: بلوچستان سے متعلق بامعنی اور مہذب علمی مکالمے کا فروغ “حال حوال” کا بنیادی مطمع نظر ہے۔
بلوچستان کی سچائی- مدیر کے نام خط

خرم علی: سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدھا بلوچستان چھاونی بنا ہوا ہے مگر سب سے زیادہ اسمگلنگ آخر اس سرحد سے کیوں ہو رہی ہے؟
لاچار بلوچ خواتین اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم نے، ہماری روایات نے اور ہمارے معاشرے نے عورت کو تعلیم اور ہنر سے محروم رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ آج اس حال میں ہے۔
بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی

مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔
مسیحا کا قتل

ایک ایسے معاشرے میں جہاں ڈاکٹر بڑے شہروں، بڑے ہسپتالوں او ر دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں ڈاکٹر شفیع جان بلوچ نے آواران جیسے پسماندہ علاقے میں رہنے کا فیصلہ کیا مگر بلوچستان کے حالات ان کی جان لینے کا باعث بن گئے۔
بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

21 فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
خوش قسمت کابینہ، بدقسمت بلوچستان

یہ بلوچستان کی کابینہ کی ایک مختصر سی جھلک ہے۔ کوئی سردارہے،کوئی نواب ہے، کوئی اپنے قبیلے کا سربراہ ۔۔۔۔ اور تجربہ کار سیاستدان تو سب ہی ہیں۔ لیکن مجموعی طوریہ بلوچستان کو گزشتہ اڑھائی برس میں کچھ نہیں دے سکے۔ یقیناًترقی کا تعلق امن سے ہے اورآپ امن قائم کرنے میں ناکام رہے۔
جوہری معاہدہ، گیس پائپ لائن اور بلوچستان
معاشی پابندیوں میں گھرا ایران بالآخر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
بیروزگار بلوچوں کا خون مت نچوڑو
بلوچستان کے عوام اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ حصول علم کے لیے تربت ،گوادر، چمن، آواران، خاران، پنجگور، نصیرآباد اور دیگر علاقوں کے نوجوان کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے دور دراز شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
بلوچ نوجوان مایوس ہیں
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، پاکستان کا 44 فیصد بلوچستان جبکہ 56 فیصد سندھ،پنجاب،خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور فاٹا پر مشتمل ہےمگرمعاشی عدم مساوات، ریاستی جبر اورسیاسی عدم استحکام کے باعث بلوچستان پاکستان کی دیگر اکائیوں کی نسبت بے حد پسماندہ ہے۔
بلوچ عورت کی تحریک
ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔
بلوچستان؛احساس محرومی اور عوامی نمائندے
اسلام آبا د میں بلوچستان ہاؤس کی عمارت پر لکھا بلوچستان ہاوس بڑی مشکل سے دکھائی دیتا ہے۔ب
بلوچستان کی جنگلی حیات خطرے میں
عدالتی پابندی کے باوجود سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر نایاب پرندے تلور کا شکار کھیلنے چاغی پہنچ گئےہیں اگرچہ اس سے قبل محکمہ جنگلات کے ایک سینیئراہلکار نے کیمپ کے قیام کی تصدیق کی تھی لیکن عرب شیخ کی آمد کی تردید کی تھی۔
پاکستان میں دہشت کے بڑھتے سائے
اگر پاکستان نے خود اپنی سرزمین پر کاروائی نہ کی تو پاکستان کو عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بلوچستان ؛ تعلیم واحد امید ہے
یہ آخری امید بھی بلوچوں سے چھین لی گئی تو پھر بندوق کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا ۔