Categories
نقطۂ نظر

کیا بلدیاتی انتخابات محض ڈھونگ تھے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ وعدہ بھی کرتے تھے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے اور ترقیاتی فنڈز منتخب مقامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ 2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بلندبانگ دعوؤں کی وجہ سے انہیں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف کے پی کے میں صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اپنے وعدوں کو بھول کرمفادات اور اقتدار کے حصول کی سیاست میں مصروف ہوگئی۔ نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا دعویٰ دو سال گزرنے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت پر پورا ہوا اور یوں کے پی حکومت نے تیس مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد روکنے کے بہانے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز دو سال تک استعمال ہی نہیں کیے۔ مالی سال 2013-14میں 93ارب جبکہ مالی سال 2014-15میں 97 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے حکومتی نااہلی کے باعث التوا کا شکار رہے اور یوں دو برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی بجٹ میں مختص 190ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے۔
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہےلیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا وعدہ ایفاء نہیں ہوسکا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کے نوٹیفکیشن بھی اب تک جاری نہیں کیے جا سکے

 

مالی سال 2015-16 کے لیے پیش کیے گئے صوبائی بجٹ میں بلدیات کے لیے 23 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو چھ ماہ کا عرصہ گزر چکاہےلیکن ابھی تک اختیارات کی منتقلی اور ترقیاتی فنڈز کے اجراء کا وعدہ ایفاء نہیں ہوسکا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انتخابات میں جیتنے والے نمائندوں کے نوٹیفکیشن بھی اب تک جاری نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کے مستقبل کے حوالے سے لوگوں میں مایوسی پھیلنے لگی ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد سے اب تک دو ایسے بڑے سانحات وقوع پذیر ہو چکے ہیں جن کے دوران بلدیاتی اداروں اور منتخب کونسلر زکی خدمات حاصل کرنے کی اشدضرورت تھی۔ جولائی اور اگست کے موسم میں مون سون کی بارشوں کے بعد خیبرپختونخواہ سمیت پورا ملک سیلاب کی زد میں آیا اور اس سیلاب کے صرف دوماہ بعد 26اکتوبر کے زلزلے نے بچے کچھےعلاقوں کی آبادی کو بھی ملیا میٹ کر دیا۔ ان سانحات کے دوران عوام کو جلد ازجلد امداد پہنچانے کے لیے بلدیاتی اداروں اور منتخب اراکین کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے صوبائی اور مرکزی حکومت نے انہیں نظرانداز کردیا۔ ان سانحات کے دوران مقامی حکومتوں کے نظام کو بروئے کار نہ لانا سول انتظامیہ اور منتخب جمہوری قیادت کی کمزوریاں عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔ منتخب نمائندوں اور جمہوری حکمرانوں کو فوج کے سوا کسی اور ادارے یا نظام پر بھروسہ نہیں، ہمارے حکمران سول اداروں کو مضبوط کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ طالبان سے لےکر کراچی کے بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن تک، زلزلے سے لے کر منہدم عمارتوں تک ہر جگہ فوج ہی مصروف عمل ہے۔ مقامی حکومتوں اور سول اداروں کو مضبوط نہ بنانے کی وجہ سے فوج کی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے اور جمہوریت اور جمہوری ادارے مزید کمزور ہو رہے ہیں۔
حکومت اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور حالیہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد میں مخلص ہوتی تو خیبر پختونخوا کی ہر گلی اور محلے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں پر انحصار کیا جاتا۔ یہ نمائندے نہ صرف اپنے اپنے علاقے کی حالتِ زار سے واقف ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے مسائل کی بروقت نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے عمل میں رہنمائی کے اہل بھی ہیں۔

 

منتخب جمہوری اداروں کو نظرانداز کرنے کے نقصانات:
کسی بھی ریاست میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کو آئین کے مطابق زیادہ سے زیادہ جمہوری انداز سے چلایاجائے۔ فوج کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت اورپولیس کاکام ریاست کے اندر قانون کا نفاذہے۔ پاکستان کے 68سالہ تاریخ کے بیشتر سال چارفوجی آمر ہڑپ کر گئے اور باقی کے ادوار میں فوج پسِ پردہ رہ کر حکمرانی کے فرائض نبھاتی رہی۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ جب کبھی منتخب جمہوری حکومتوں کے ہاتھ اقتدار آیا تو وہ بھی اپنی نااہلی، سیاسی حالات اور پیچیدگیوں کی وجہ سے فوج اور سول نوکر شاہی پر انحصار کرتی رہیں جس کی وجہ سے یہ دونوں ادارے مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ سول معاملات میں دفاعی اداروں کی مداخلت اور سول ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے فوج کی پیشہ وارانہ کارکردگی کا معیار گرا ہے۔
حکومت اگر موسمِ گرما کے سیلاب اور حالیہ زلزلے کے متاثرین کی فوری امداد میں مخلص ہوتی تو خیبر پختونخوا کی ہر گلی اور محلے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں پر انحصار کیا جاتا۔ یہ نمائندے نہ صرف اپنے اپنے علاقے کی حالتِ زار سے واقف ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے مسائل کی بروقت نشاندھی کرنے اور ضرورت مندوں تک امدادپہنچانے کے عمل میں رہنمائی کے اہل بھی ہیں۔ چونکہ یہ کونسلرز براہ راست منتخب ہوکے آئے ہیں اس لیے انہیں رائے عامہ اور اگلے انتخابات کا خوف لاحق رہتا ہے، اگلی بار انتخاب لڑنے اور جیتنے کے لیے یہ اپنے علاقے میں تندہی سے کام کرتے۔ اگر ان نمائندوں کی خدمات حاصل کی جاتیں تو فوج، پولیس اور پٹواریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شفاف اور بروقت امدادی کاروائی عمل میں آتی۔ لیکن حکومت کو نہ تو اپنے بنائے نظام پر بھروسہ ہے اور نہ ہی منتخب نمائندوں پر اور یہی پاکستان میں بلدیاتی نظاموں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

عمران خان میں تبدیلی آچکی ہے

جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔ آصف زرداری کی اُس وقت کی مالی بدعنوانیاں جو لاکھوں اور کروڑوں میں تھیں کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی۔ 1990ء میں اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر حکومت کو برطرف کردیا۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت نو ریفرنس عدالتوں میں دائر کیے گئے۔ لیکن پھر 1993ء میں اسی صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف حکومت کو برطرف کرنے کےلیے اُسی بدعنوان آصف زرداری سے بطور وزیر ایوان صدر میں حلف لیا، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے نو ریفرنس بھلادیے گئے کیونکہ مفاد پرست سیاست کی ضرورت تھی، احتساب کا معاملہ ٹھپ ہو گیا۔
آفتاب شیرپاؤ 1993ء کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اورصوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی منتخب ہوئے اور نومبر 1997ء تک بے نظیر بھٹو کی حکومت کی معزولی تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد نواز شریف دور میں نیب کی جانب سے ان پر بدعنوانی کے کئی مقدمات قائم کیے گئے۔ ان مقدمات کی وجہ سے وہ ملک سے باہر چلے گئے ۔2002ء میں ایک خفیہ ڈیل کے تحت واپس آئے اور پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر پیپلز پارٹی شیرپاؤ گروپ کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی بعد میں اُس کا نام قومی وطن پارٹی رکھ دیا گیا۔ قومی وطن پارٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں کئی قومی اور صوبائی نشستیں حاصل کیں۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ق) کی حکومت کی حمایت اور اس دوران وزیرداخلہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ کئی خودکش حملوں میں بال بال بچے۔ 2008ء میں ہونے والے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے۔ جنوری 2009ء میں مائع گیس کے منافع بخش کاروبار میں مال بنانے والوں کی فہرست جاری ہوئی جس میں آفتاب شیرپاؤ کا نام بھی شامل تھا۔ اب اُن کے صابزادئے سکندر شیرپاؤ بھی سیاست میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور بہت مصروف سیاستدان ہیں ، اُ ن پر بھی خود کش حملے ہوچکے ہیں۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جب اپنی حکومت بنانے کی کوششیں شروع کیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کی بھرپورکوشش کی۔
گیارہ مئی2013ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جب اپنی حکومت بنانے کی کوششیں شروع کیں تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کی بھرپورکوشش کی۔ اُس وقت طاقت کا توازن قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے ہاتھ میں تھا اور دونوں نے ہی اپنا اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ تینوں جماعتوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا تھا کہ صوبے میں کرپشن کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی بالا دستی کے لئے بھر پور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ تینوں جماعتوں نے اس عزم کو بھی دوہرایا تھا کہ یہ اتحاد پانچ سال تک برقرار رہے گا مگر صرف چھ ماہ کے مختصر عرصے کے دوران ہی کئی معاملات پر اختلاف رائے اور متضاد پالیسیاں سامنے آنے کے بعدآخر کار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے مبینہ بدعنوانیوں کے الزام میں قومی وطن پارٹی کے دو صوبائی وزراء بخت بیدار خان اور ابرار حسین کو برطرف کردیا، جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قومی وطن پارٹی سے اتحاد کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔
قومی وطن پارٹی کے رہنما اورسینئر وزیر سکندر خان شیرپاؤ نے اپنی پارٹی کے دو صوبائی وزرا کو فارغ کیے جانے پرخود بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی پارٹی اب صوبائی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف پختون مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور وہ پختون قوم کو تباہی کے دہانے پر لے جانا چاہتی ہے۔ سابق سینر وزیر نے کہا کہ ٹھوس وجوہات کے بغیر قومی وطن پارٹی کے دو وزرا کو برطرف کرنا غیر اخلاقی عمل ہے اور ہماری پارٹی کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر وزرا کے معاملے پر قومی وطن پارٹی کو اعتماد میں لیاجاتا تو وہ دونوں وزرا کے خلاف سخت کارروائی کرتے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کا اتحاد جلد ہی ماضی کا ایک قصہ بنگیا اور عام لوگ اس بات کو بھول گئے کہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کبھی حکومتی اتحادی تھے۔ لیکن 30 مئی 2015ء کو بلدیاتی الیکشن کے موقعہ پرقومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان دوبارہ قربتیں پیدا ہوہیں، چند اضلاع میں دونوں کے درمیان پس پردہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہوئی/ بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی اور بدنظمی کے خلاف سہ فریقی اتحاد کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے بائیکاٹ کے باوجود قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ اور ان کے رہنماؤں نے اے پی سی میں شرکت کی تھی جس کی وجہ سے حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کامیابی ملی تھی اور ہڑتال و شٹرڈاؤن ناکام ہوا تھا۔ پشاورمیں ایک پریس کانفرنس کے دوران قومی وطن کے پارٹی کے چئیرمین آفتاب شیرپاؤ نے کہا تھا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور ایسا ہی ہوا، تازہ اطلاع کے مطابق قومی وطن پارٹٰی کی دوبارہ صوبائی حکومت میں شمولیت کا معاہدہ ہوگیا ہے۔
عمران خان 126 دن کے لاحاصل دھرنے اور سول نافرمانی کی ناکام اپیل سے عوام کی بہتری کے لیے کوئی تبدیلی نہیں لاسکے لیکن شاید دھرنے کے دوران اُنہیں یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کی طرح اُنہیں بھی اسی مفاد پرست سیاست کا حصہ بننا پڑے گا
سب جانتے ہیں کہ عمران خان 126 دن کے لاحاصل دھرنے اور سول نافرمانی کی ناکام اپیل سے عوام کی بہتری کےلیے کوئی تبدیلی نہیں لاسکے لیکن شاید دھرنے کے دوران اُنہیں یہ بات سمجھ میں آگئی ہےکہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کی طرح اُنہیں بھی اسی مفاد پرست سیاست کا حصہ بننا پڑے گا جہاں نہ کوئی اصول ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی انصاف، صرف اور صرف لوٹ کھسوٹ کا بدعنوان نظام ہوتا ہے۔ اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے ہی غلام اسحاق خان نے بدعنوان آصف زرداری سے وزیر کاحلف لیا تھا، پرویز مشرف اور چوہدری شجات ایک ہی حکومت کا حصہ بنے تھے، پرویز مشرف نےبینظیراور دوسرے بدعنوانوں کےلیے این آر او بنایا تھا ۔اسی مفاد پرست سیاست کے طفیل آصف زرداری نے پانچ سال پورے ملک کو لوٹا اور نواز شریف دوستانہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے رہے اور آج اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے نواز شریف کےگرد لوٹے جمع ہیں۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جس قومی وطن پارٹی کے بدعنوان وزرا کی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے اُس کے دو صوبائی وزراء کو برطرف کردیاتھا اور اُن سے اپنا اتحاد ختم کرلیا تھا اسی مفاد پرست سیاست کی وجہ سے دوبارہ اتحاد کرلیا ہے۔ عمران خان کو اس نئے یو ٹرن پرمبارکباد تو نہیں دی جاسکتی لیکن عام لوگوں کو یہ ضرور سمجھ لینا چاہیے کہ تبدیلی کے نعرے لگانے والے خود تبدیل ہوکراُسی بدعنوان نظام کا حصہ بن گئے ہیں جو گزشتہ انہتر سال سے پاکستان میں رائج ہے۔ دوستو پاکستان میں تبدیلی تو کیا آتی لیکن آپ کہہ سکتے ہیں عمران خان اور تحریک انصاف میں تبدیلی آچکی ہے۔ آخر میں ایک سوال قومی وطن پارٹی کے رہنما سکندر خان شیرپاؤ سے کہ تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کے وقت آپ نے تحریک انصاف پر الزام لگایا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت پختون مخالف پالیسیوں پرعمل پیراہے۔ کیا آپ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب تحریک انصاف کی حکومت نے پختون مخالف پالیسیوں پرعمل پیراہوناچھوڑ دیا ہے یا پھریہ مفاد پرست سیاست کا کمال ہے کہ تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی دوبارہ حکومتی اتحادی بن گئے ہیں۔ آغا شورش کاشمیری نے شاید اسی مفاد پرست سیاست کو سامنے رکھ کر کہا تھا؛
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
Categories
نقطۂ نظر

عمران خان کی سیاسی ہیٹ ٹرک

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے2013ء کے انتخابات کے بعد کہا تھا کہ ہم نے انتخابات قبول کیے ہیں لیکن دھاندلی قبول نہیں کی ۔ عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ حکومت عوام کے اعتماد کے لیے صرف چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی جانچ کرائے جس پر حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ہم چار نہیں چالیس حلقوں میں نشانات کی جانچ کرانےپر تیار ہیں۔ لیکن ایک سال تک جب ایسا نہیں ہوا تو تحر یک انصاف نے گیارہ مئی 2014ءکو حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ گزشتہ سال 14 اگست 2014ء سے 16 دسمبر 2014ء تک عمران خان احتجاج، جلسے اور دھرنے کی سیاست کرتے رہے۔ اسلام آباد کے 126 دن کے دھرنے میں روزانہ کنٹینر پر کھڑے ہوکروہ نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کرتےرہے، ان دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کو بے انتہا سیاسی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
نواز شریف نے 12 اگست کو “آزادی مارچ” سے پہلے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا تھا لیکن انہوں نے عمران خان کے بنیادی مطالبے کو پورا کرنے کوشش نہیں کی کہ صرف چارحلقے کھول لیے جائیں
نواز شریف نے 12 اگست کو “آزادی مارچ” سے پہلے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا تھا لیکن انہوں نے عمران خان کے بنیادی مطالبے کو پورا کرنے کوشش نہیں کی کہ “صرف چارحلقے کھول لیے جائیں”۔ چار مئی 2015ء کولاہور کے انتخابی ٹریبونل نے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کی انتخابات میں کامیابی کو کالعدم قراردیتے ہوئے حلقہ این اے 125میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ سیاسی مبصرین نے خواجہ سعد رفیق کے انتخاب کو کالعدم قراردینے کے فیصلے کو تحریک انصاف کا پہلا چھکا قرار دیا تھا۔ لیکن سعد رفیق اپنا کیس سپریم کورٹ میں لےگئے اوراب سعدرفیق ایم این اے بھی ہیں اور ریلوے کے وزیر بھی۔ 2013ء کے عام انتخابات کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے جولائی کے آخر میں اپنے فیصلے کا اعلان کیا اورپاکستان تحریک انصاف کے تینوں الزامات مسترد کر دیئے۔ اپنے فیصلے میں جوڈیشل کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابات بعض بے ضابطگیوں کے باوجودقانون کے مطابق ہوئے اور منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس فیصلے نے تحریک انصاف کو سیاسی طور پر بہت کمزورکردیا اور تحریک انصاف معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کرنے پر مجبورہو گئی تھی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کیمپ میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 اگست کو قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 125 اور این اے 122 کے بعد این اے 154 لودھراں سے مسلم لیگ (ن) کی تیسری وکٹ گرا کر ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔
بائیس اگست کوکھیل کا پانسہ پلٹا اورالیکشن ٹریبونل نے این اے 122 سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پی پی 147 سے مسلم لیگ (ن) کے ہی رکن پنجاب اسمبلی محسن لطیف کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا۔ یہ مسلم لیگ (ن) کی دوسری وکٹ گری تھی۔ اس اہم وکٹ کے گرتے ہی مسلم لیگ (ن) میں بھونچال آگیا۔ ایاز صادق نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن تھے بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکربھی تھے۔ اس وقت وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ این اے 122 کا فیصلہ قانونی عمل کا حصہ ہے۔ این اے 122 کے فیصلے پر قانون کے مطابق اپنا حق استعمال کریں گے۔ جبکہ ایاز صادق نے فیصلے کے خلاف سیدھے سیدھے سپریم کورٹ جانے کااعلان کیا تاکہ وہ بھی اگلے ڈھائی سال حکم امتناعی کی چھتری تلے آرام سے قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر رہ سکیں۔
ہر سیاسی جماعت یا حکومت کا کوئی نہ کوئی ترجمان ہوتا ہے اور وہی جماعت یا حکومت کی پالیسی بیان کرتا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کا انداز ذرا مختلف ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں وزرا اور خاص کر وہ وزرا جو پارٹی یا حکومت کے ترجمان ہیں ، وہ وزرا کم اور نواز شریف کے درباری زیادہ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے دو درباری وزرا پرویز رشید اور رانا ثناءاللہ کا تو کام ہی یہ ہےکہ سچ بولیں یا جھوٹ ہر صورت میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا جھنڈا اونچا رکھنا ہے۔ ان دونوں وزرا نےصبح سے شام تک پاکستان تحریک انصاف اور اُس کے چیئرمین عمران خان کے خلاف جھوٹے سچے بیان دینے کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے۔ این اے 122کے فیصلے میں ایاز صادق کی وکٹ گرنے کے بعد دونوں درباری وزرا کے پاس جب تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف کہنے کو کچھ نہیں تھا توحکومت اور نواز شریف کو شرمندگی سے بچانے کےلیے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہاکہ ہم این اے 122 کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ فیصلہ کرنے والے نے مسلم لیگ (ن) سے تعصب برتا ہے۔ وزیر اطلاعات کا بیان سیدھا سیدھا جج پر الزام تھا کہ جج متعصب ہے جب کہ اس سے پہلے اسی جج جسٹس (ر) کاظم علی ملک نے مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلے دیئے تھے مگر تب انہیں متعصب نہیں کہا گیا۔
این اے 122 اور این اے 154 کے ضمنی انتخاب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اورپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مقبولیت کا امتحان ہوں گے۔
دوسرے درباری وزیر ، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے جج جسٹس (ر) کاظم علی ملک پر الزام لگاتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے آگے چھلانگ لگائی اورایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ الیکشن ٹریبونل کے جج کاظم علی ملک نے مئی 2013ء کے عام انتخابات میں اپنے بیٹے کےلیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ مانگا تھا لیکن انکار کرنے پر اُنہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری کا فیصلہ دیا ہے۔ اُنہوں نے اس فیصلے کو تعصب پر مبنی قرار دیا۔ جسٹس (ر) کاظم علی ملک نے اُسی روز ایک ٹی وی پروگرام پر آ کر ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی وزیر قانون اُن کے بیٹے کی پارٹی ٹکٹ لینے سے متعلق کوئی درخواست کی کاپی دِکھا دیں تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ (جج کاظم ملک کا یہ اقدام یقیناً پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے) اُنہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے بھی قومی اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں تاہم وفاقی وزیر اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ جسٹس (ر) کاظم علی ملک کو دونوں وزرا کے بیانات کو برداشت کرنا چاہیئے تھا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سنائے جانے کے بعد وہ پبلک پراپرٹی بن جاتے ہیں اور ہر ایک کو اس پر رائے دینے کا حق ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کسی جج کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ٹی وی چینل پر آکر اپنے دیئے فیصلوں کا دفاع کرے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 اگست کو قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 125 اور این اے 122 کے بعد این اے 154 لودھراں سے مسلم لیگ (ن) کی تیسری وکٹ گرا کر ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 154 لودھراں میں بھی تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ سنا کر مسلم لیگ (ن) کے صدیق خان بلوچ کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا ہے۔ الیکشن ٹریبونل نے صدیق بلوچ کو جعلی ڈگری پرتا حیات نااہل بھی قرار دے دیا ہے۔ الیکشن ٹربیونلز کے تین فیصلے جو مسلم لیگ (ن) کے خلاف آئے ہیں اُس کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال سے نمٹنے کےلیے مختلف آراءکااظہار کیا ہےجس سے پارٹی رہنماؤں کی رائے میں اختلاف واضح ہوا ہے۔وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کی سیاست پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ اختلاف رائے ختم کریں۔
قومی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کی ہیٹ ٹرک سے مسلم لیگ (ن) پر زبردست سیاسی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اُس کی سمت ہی تبدیل ہوگئی ہے۔ نواز شریف جو اب سےصرف چند روز پہلے سپریم کورٹ جانے کو اپنا حق قرار دے رہے تھے ایک بہت بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے فرمایا کہ “سردار ایاز صادق پر جو داغ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے بعد لگا ہے اس کو دھونے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پٹیشن دائر کی جائے گی اور وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے خاتمے کی استدعا کریں گے لیکن ضمنی الیکشن کے حوالہ سے حکم امتناعی کی درخواست نہیں کی جائے گی”۔ وزیراعظم نواز شریف نےاعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی، عوام کے ووٹوں سے پارلیمنٹ میں آئے ہیں، جب بھی موقع ملا تو عوام سے ہی رجوع کیا۔ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ عوام کی عدالت میں جانے کو ترجیح دیتی ہے۔ساتھ ہی نواز شریف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی نشست 122پر 11اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ایاز صادق ہی ہوں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف ضمنی الیکشن کے دنگل میں کیوں اترنا چاہ رہے ہیں تو اُس کی سیدھی سیدھی وجہ یہ ہے کہ الیکشن ٹریبونل نے صدیق بلوچ کو جعلی ڈگری پرتا حیات نااہل قرار دے دیا ہے، اس لیے نواز شریف کو ہر صورت انتخابی دنگل میں اترنا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا ضمنی انتخاب کرنے کا اقدام خوش آئند ہے، میں ان کے چیلنج کو قبول کرتا ہوں اور وزیراعظم نواز شریف کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اگر این اے 122میں میرے مقابلے میں آ کر الیکشن لڑیں تو میں بھی تیار ہوں۔ ایسا تو شاید ممکن نہیں ہوگا کیونکہ نواز شریف کواس کی ضرورت نہیں ہے جبکہ عمران خان اپنے چار حلقوں کےاصل مطالبےمیں ہیٹ ٹرک کی بدولت 75 فیصد کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ این اے 122 اور این اے 154 کے ضمنی انتخاب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اورپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی مقبولیت کا امتحان ہوں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

نواز کے ایازکو کچھ نہیں ہوگا

ایاز صادق کی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ اسکول کے دنوں سے دوستی ہے۔ اسی دوستی کی بنیاد پر جب عمران خان نے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی تو وہ اس میں شامل ہوگئے۔ فروری انیس سو ستانوے میں ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان لاہور سے جس قومی اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار تھے اسی حلقے کی صوبائی نشست پر سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا۔ تاہم دونوں ہی اپنی اپنی نشست پر کامیاب نہ ہوسکے۔ انیس سو ستانوے کے انتخابات کے بعد سردار ایاز صادق تحریک انصاف سے دور ہوگئے اور انہوں نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف سے اُن کی جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں ملاقات کی اور مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے۔ سیاست نے بچپن کے ان دو دوستوں کو بارہا ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا مگر اب رکن قومی اسمبلی عمران خان کو ایوان کے اندر کسی موضوع پر بولنے کے لیے قوائد ضوابط کے مطابق اسپیکر یعنی ایاز صادق کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔
انیس سو ستانوے کے انتخابات کے بعد سردار ایاز صادق تحریک انصاف سے دور ہوگئے اور انہوں نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف سے اُن کی جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں ملاقات کی اور مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے
چار مئی کولاہور کے انتخابی ٹریبونل نے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کی انتخابات میں کامیابی کو کالعدم قراردیتے ہوئے حلقہ این اے 125میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ سیاسی مبصرین نے خواجہ سعد رفیق کے انتخاب کو کالعدم قراردینے کے فیصلے کو تحریک انصاف کا پہلا چھکا قرار دیا تھا۔ سات مئی کوسعدرفیق نے این اے ایک سو پچیس سے متعلق الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کیخلاف الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کر دیا۔ خواجہ سعد رفیق ممبر قومی اسمبلی اور میاں نصیر احمد صوبائی اسمبلی کی نشست پر بحال ہو گئے۔ اب سعد رفیق کا کیس سپریم کورٹ میں ہے اور سعدرفیق ایم این اے بھی ہیں اور ریلوے کے وزیر بھی۔
بائیس اگست کوالیکشن ٹریبونل نے این اے 122 سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پی پی 147 سے ن لیگ کے ہی رکن پنجاب اسمبلی محسن لطیف کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان حلقوں میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی نے فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ میں نہ مانو کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ این اے 122 کا فیصلہ قانونی عمل کا حصہ ہے۔ این اے 122 کے فیصلے پر قانون کے مطابق اپنا حق استعمال کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ این اے 122 کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ فیصلہ کرنے والے نے ن لیگ سے تعصب برتا ہے۔
چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی جانب سے کیس کی سماعت سے پہلے اپنے ریمارکس میں یہ کہنا کہ وہ جسٹس منیر نہیں بننا چاہتے، صاف ظاہر کررہا تھا کہ کیا فیصلہ آئے گا
این اے 122 کے فیصلہ آنے کے بعد عمران خان نے زمان پارک لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے میں شرکت کرنےوالوں کو مبارکباد دیتا ہوں، پاکستان میں جمہوریت کا نظام لائیں گے، ہمارا مقصد جمہوری نظام لانا ہے، ہم نے ڈھائی سال جدوجہد کی۔ ہمارے لوگ شہید ہوئے، دھرنے میں قربانیاں دیں۔ دو وکٹیں گر گئی ہیں، باقی دو بھی جلد گرنے والی ہیں۔ میں نے صرف چار حلقے کھولنے کے لیے کہا تھا۔ میں صرف انتخابی نظام کی بہتری چاہتا ہوں۔ چیئرمین نادرا کو شرم آنی چاہیئے، انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کےلیے نادرا کو 26 لاکھ روپے دیئے۔ مجھے انصاف لینے میں اڑھائی سال لگے تو عام آدمی تو پانچ سال تک دھکے کھاتا رہتا اسے جواب نہ ملتا۔ نواز شریف چار حلقے کھول دیتے تو ہم دھرنا نہ دیتے آج پتہ چلا نواز شریف کیوں چار حلقے نہیں کھول رہے تھے۔ عمران خان نے ایک اور دھرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عملے کے خلاف کارروائی کیلئے دو ہفتے کا وقت دیتا ہوں۔ دو ہفتے بعد الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیں گے۔ ایسا دھرنا دوں گا آپ 126 دن کا دھرنا بھول جائیں گے۔
لگتا ہے عمران خان کو تاریخ پڑھنے کا قطعی شوق نہیں ، اگر انہیں ذرا بھی شوق ہوتا تو وہ لازمی جان لیتے کہ جسٹس محمد منیر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس انوارالحق، جسٹس نسیم حسن شاہ، سابق پاکستانی صدرجسٹس رفیق تارڑ اور جسٹس افتخارمحمدچوہدری پاکستان کے وہ جج ہیں جو ہمیشہ آمروں کا ساتھ دیتے رہے یا پھر انہوں نےاُس کا ساتھ دیا جس نے بقول بینظیر بھٹو چمک کا زیادہ استعمال کیا۔ جسٹس محمد منیر سے لے کرجسٹس افتخار محمدچودھری تک سب کا ایک جیسا ہی کردار رہا ہے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے 1993ء میں نواز شریف کی پہلی حکومت کی بحالی کا فیصلہ بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان سنایا تھا۔ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی جانب سے کیس کی سماعت سے پہلے اپنے ریمارکس میں یہ کہنا کہ وہ جسٹس منیر نہیں بننا چاہتے، صاف ظاہر کررہا تھا کہ کیا فیصلہ آئے گا۔ رفیق تارڑجنوری 1991ء سےاکتوبر1994ء تک سپریم کورٹ کے جج رہے، وہ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے اُس گیارہ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے 1993ء میں نواز شریف حکومت کو بحال کیا تھا۔1997ء میں رفیق تارڑ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر نواز شریف نے اُنہیں اپنا صدارتی امیدوار بنایا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ محمد رفیق تارڑ یکم جنوری 1998ءسے 20 جون 2001ء تک پاکستان کے صدر رہے۔محمد رفیق تارڑ کی ایک بہوُ سائرہ افضل تارڑ آج بھی نواز شریف کابینہ میں بطور وزیر مملکت موجود ہیں۔
پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے اور گزشتہ 23سال سے منصفوں کو نواز شریف سے اچھا خریدار نہیں ملا یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف جب بھی منصفوں کے پاس گئے کامیاب لوٹے ہیں۔
سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے نو مارچ 2007ء کو مشرف کے احکامات ماننے سے انکارکردیا، اُنہیں مشرف نے عدلیہ سے علیحدہ کیا تو وکیلوں کو ساتھ ملاکر مزدور رہنماوں کے سے انداز میں اپنی بحالی کی تحریک چلائی۔ اس دوران مشرف سے غلطیاں ہوتی چلی گئیں، لیکن اس سارے کھیل میں سابق چیف جسٹس کا مرحوم بینظیربھٹوکی زبان میں چمک کا معاملہ نواز شریف کے ساتھ طے تھا جو اب بھی چل رہا ہے۔ افتخارمحمد چوہدری نے جب وہ چیف جسٹس تھے اور اب ریٹائر ہونے کے بعدبھی حکومت سے وہ مراعات لےرہے ہیں جس کے وہ حقدار نہیں ہیں۔
عمران خان حد سے زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں، لہذا وہ دھرنے میں شرکت کرنے والوں کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ عمران خان کو ایک بات سمجھ لینی چاہیئے کہ ہر مرتبہ دھرنوں کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ 19 سال بعد بھی عمران خان کو سیاست کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس ملک میں انصاف صرف اُسے ملتا ہے جو زیادہ چمک کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے اور گزشتہ 23سال سے منصفوں کو نواز شریف سے اچھا خریدار نہیں ملا یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف جب بھی منصفوں کے پاس گئے کامیاب لوٹے ہیں۔ خان صاحب انصاف کی امید نہ رکھیں کیوں کہ ان کے پاس ابھی نہ تو کسی کو سینیٹر بنانے کی طاقت ہے اورنہ ہی صدر۔ خان صاحب آپ ڈھائی سال میں ابھی تک صرف دو وکٹیں گرا پائے ہیں، اب باقی ڈھائی سال سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں گزاریں۔
عمران خان جن دو وکٹوں کے گرنے کی بات کررہے ہیں اُن میں سے پہلی وکٹ سعد رفیق اپنی جگہ موجود ہیں، سعدرفیق ایم این اے بھی ہیں اور ریلوے کے وزیر بھی۔ کیا فرق پڑا ہے ابھی تک سعدرفیق کو؟ دو چار دن بعد ایاز صادق بھی سپریم کورٹ چلے جائیں گے اور اپنے لیے ایسا ہی حکم امتناعی لے آیئں گے اور پھر وہ ایم این اے بھی ہوں گے اوراسپیکر بھی۔ پاکستان میں سب کچھ ملتا ہے لیکن انصاف صرف اُسے ہی ملتا ہے جو انصاف کو خرید سکے۔ جیسے اس سے پہلے سعد رفیق کو کچھ نہیں ہوا ٹھیک اسی طرح نواز کے ایاز کو کچھ نہیں ہوگا، بس عمران خان دو چار دن خوشیاں منالیں۔
Categories
نقطۂ نظر

نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے

youth-yell-featured

اک ہنگامہ سا برپا ہے۔ مستعفی ہونے اور استعفیٰ دینے والوں کو منانے کا غلغلہ جاری ہے۔ اس مرتبہ بھائی کے جیالے مستعفی ہو گئے ہیں اور فضل الرحمان صاحب انہیں منا رہے ہیں۔ پچھلی قراردادوں کا شور کچھ تھما تو خان صاحب نے بھی اعلان کر دیا کہ ایوان میں جائیں گے۔ حکمران جماعت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ڈی سیٹ کرنے کی کسی بھی قرارداد کی نہ صرف مخالفت کریں گے بلکہ اس کے خلاف ووٹ بھی ڈالیں گے ۔ پیپلز پارٹی نے بھی سابقہ محبوبہ (ایم کیو ایم) سے ہاتھ کھینچ لیا اور تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کی قرارداد میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ہاتھ کیا کھینچا کے استعفوں کا کھیل ہی اُلٹا ہو گیا اور اب بھائی لوگ استعفے دینے پر اتر آئے ہیں۔ اور خبری یہ بھی خبر دے رہا ہے کہ استعفے قبول بھی ہو سکتے ہیں۔ شاید جن کے برتے پر اسمبلیوں میں نہ بیٹھنے کے بلندبانگ دعوے کیے گئے انہوں نے ہی دغا دے دیا۔
پیپلز پارٹی کے مفاہمانہ رویے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت بن کر سامنے آئی ہے جوحکومت پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہے
حکمران جماعت کے لیے تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کی تحاریک کی مخالفت کرنا نہ صرف اس کی اپنی عزت بچانے کے لیے ضروری تھا بلکہ اس حقیقت کا بھی واضح اعلان تھا کہ اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت تحریک انصاف ہی دراصل حقیقی حزب اختلاف ہے۔ نشستیں کم ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف تیسری کے بجائے دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے کیوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملکی سطح پر مقبولیت کم ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے مفاہمانہ رویے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت بن کر سامنے آئی ہے جوحکومت پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہے۔اور اب تو ایم کیو ایم نے بھی راگ سیاسی کی لمبی تان میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ہٹا کر تحریک انصاف کو لایا جا رہا یعنی خطرہ بہر حال انہی سے ہے۔
مولانا صاحب نے ڈی سیٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا تو ان کو خود بھی یقین نہ تھا کہ ن لیگ ان کی مخالفت میں کمر بستہ ہو جائے گی ۔ ان کو شاید امید ہو چلی تھی کہ عمران خان اور نواز شریف کے اختلافات اس تحریک کے خُشک پودے کے لیے ساون کی بارش ثابت ہوں گے ۔ لیکن صد افسوس! ایسا نہ ہو سکا۔کامیابی کی بجائے سُبکی مقدر ٹھہری۔ مولانا صاحب کے لیے ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت خواہ کوئی سی بھی ہو وہ حکومت کا حصہ بننا اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا مچھلی کے لیے پانی۔ پانی کے بغیر جیسے مچھلی تڑپتی ہے اسی طرح مولانا صاحب حکومت سے باہر رہ کر تڑپتے ہیں۔ کھسیانی بلے کھمبا نوچے کے مصداق مولانا صاحب کو جب ن لیگ کی طرف سے جھنڈی دکھا دی گئی تو اس کے علاوہ کچھ نہ بن پڑا کہ تحریک واپس لے لی جائے۔ حکمران جماعت نے پرانے تعلقات کا خیال کرتے ہوئے مولانا صاحب کو تحریک واپس لینے کا وقت دیا ورنہ اگر تاخیر کے بجائے فوراً اس پر رائے شماری کروا دی جاتی تو مولانا صاحب مارے شرمندگی کے نہ اِدھر کے رہتے، نہ اُدھر کے۔
ایم کیو ایم کی تحریک کی بنیاد بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید تھی۔ لیکن ان بنیادوں میں دراڑیں اسی وقت پڑنا شروع ہو گئیں جب شاہ جی نے بغیرکسی ہچکچاہٹ کے کہہ دیا کہ وہ ایسی کسی بھی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے
ایم کیو ایم بھی پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر مولانا صاحب کی ہم نوا تھی۔ ایم کیو ایم کے پاس 24 نشستیں ہیں لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم بھی گلے پڑی رَسی کے خوف سے ہوا میں ہی ہاتھ پاؤں چلا رہی ہے۔ جیسے ن لیگ نے مولانا صاحب کو دغا دیا ویسا ہی کچھ حال جیالوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ کیا۔ ایم کیو ایم کی تحریک کی بنیاد بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید تھی۔ لیکن ان بنیادوں میں دراڑیں اسی وقت پڑنا شروع ہو گئیں جب شاہ جی نے بغیرکسی ہچکچاہٹ کے کہہ دیا کہ وہ ایسی کسی بھی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ایک بار پھر ایاز صادق صاحب مدد کو آئے اور لندن کال کھڑکا دی ۔ یہ کال نہیں تھی بلکہ عزت بچانے کا نادر موقع تھا۔ جس طرح عرصے سے میکے میں بیٹھی ناراض بہو سسرالیوں کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہوتی ہے اور ان کے آنے پر مرغ مُسَلم تیار کیے جاتے ہیں ایسے ہی ایک فون کال پر ہی تحریک کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔ ایم کیو ایم 24 نشستوں سے جو تحریک منظورکرانا چاہتی تھی وہ وقت سے پہلے ہی تاریخ کے صفحوں میں گم ہو گئی ۔اس تحریک کا ماخذ تحریک انصاف کے رویے سے زیادہ رینجرز کی ” کارستانیاں” ہیں۔ سونے پہ سہاگہ ” دفتری غلطی” سے بھارتی ہائی کمیشن کو خط چلا گیا۔ جلتی پہ تیل کا کام “کلرز لسٹ ” نے کر دیا۔ لہذا تحریک انصاف والے اس حوالے سے بھی پریشان نہ ہوں کیوں کہ وہ پنجابی کا مشہور ضرب المثل ہے نا کہ” آکھاں دھی نوں، سناواں نونہہ نوں”(مخاطب کوئی اور ہو غصہ کسی اور پہ ہو) تو یہاں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی تھی۔ کہیں اور کا غصہ اُتر کہیں اور رہا تھا۔اور اب ایم کیو استعفے دے کر جوابی وار کر رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے ایم کیو ایم اور مولانا کو ہر ممکن موقع دیا کہ وہ رہی سہی عزت بچا لیں اور دونوں نے اِس موقع غنیمت جانا ۔ ورنہ اگر واقعی خان صاحب پہلے سے زیادہ ووٹ لے کر دوبارہ اسمبلی میں وارد ہو جاتے تو دونوں کی نظریں چاہنے کے باوجود نہ اُٹھ پاتیں۔ تحاریک واپس لینے کے بعد بھی مولانا صاحب اور ایم کیو ایم بہت کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ یعنی؛
نہ خدا ہی ملا، نہ وِصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
استعفے تحریک انصاف کے بھی قبول ہونے چاہیے تھے اور قریشی صاحب نے اسمبلی فلور پہ شاید اسی لیے کہا تھا کہ جو تلوار چلانی ہے چلا لیں لیکن واضح کریں۔ اسی طرح استعفے اب بھی قبول ہونے چاہیے کیوں کہ سیاسی مقاصد کے لیے استعفوں کا استعمال روایت بن چکاہے۔
Categories
نقطۂ نظر

دھرنوں کا “امپائر” کون تھا؟

آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے دھرنوں کو چھ ہفتے گزر چکےتھےجب شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف کےاراکین قومی اسمبلی کے استعفے اسمبلی میں جمع کرادیئے۔ کچھ ارکان اسمبلی اس موقع پر بغاوت کرگئے اور انہوں نے استعفی نہیں دیئے۔تحریک انصاف کےسابق صدر جاوید ہاشمی نےپارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپنے استعفے کا اعلان کیا اور وہ نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ تحریک انصاف سے بھی فارغ ہوگئے۔ تحریک انصاف کے دھرنے سے علیحدہ ہونے کے بعدجاوید ہاشمی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عمران خان ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام آباد آئے ہیں، جس کا باقاعدہ اسکرپٹ لکھا ہوا ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ یہ سب منصوبہ بندی کس نے کی ہے؟ ایک اور سوال اُس وقت یہ تھا کہ دھرنوں کا “امپائر” کون ہے؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے عمران خان کا ماضی بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ بدقسمتی سے عمران خان کا ماضی ایسے بہت سے واقعات سے بھرا ہوا ہے جو آمروں اور وردی والوں سے ان کی قربت ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ اقتدار کے حصول کے لیے انہوں نے عوام کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بننے کی کوشش کی یہ الگ بات کہ اُن کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔
عمران خان اور علامہ طاہر القادری جس طرح پرجوش انداز میں جھومتے ہوئے امپائر سے ملنے گئے تھے اتنی ہی اتری ہوئی شکلیں لےکر واپس آئے
تحریک انصاف کی الیکشن ٹربیونلز اور عدالت عظمیٰ میں خاطر خواہ دادرسی نہ ہوئی جس کے بعد عمران خان نے عوامی احتجاج کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ وہ آزادی مارچ کے ذریعے 10لاکھ کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ پاکستان عوامی تحریک تو پہلے ہی تیار بیٹھی تھی اُس کے رہنما علامہ طاہر القادری نے بھی اس دھرنے میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ اس موقع پر لندن پلان سامنے آیا جس میں چوہدری شجاعت، عمران خان اور طاہرالقادری کی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع سے ملاقات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ابتداءمیں عمران اور قادری نے ایسی کسی ملاقات سے لاعلمی ظاہر کی مگر بعد ازاں اسے قبول کر لیا۔ نواز شریف نے 12 اگست کو”آزادی مارچ” سے پہلے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیا تھا مگراس وقت امپائر کی انگلی کا خمار تھا۔ 29 اگست کی رات کو جب جنرل راحیل شریف کو ملنے کے لیے روانہ ہوئے تو چشم تصور میں نواز شریف کا لکھا ہوا استعفیٰ اپنی جیب میں پایا۔ اعلامیہ بھی یہی تھا کہ “نواز شریف کا استعفیٰ لے کر ہی آوں گا”۔ لیکن جب اُسی امپائر نے نواز شریف سے پوچھ کر دونوں سےملنے کے بعد یہ مشورہ دیا کہ وہ کنونشن سینٹر میں منتظر وزیراعظم نواز شریف کے نمائندوں سے مذاکرات کریں تو عمران خان اور علامہ طاہر القادری جس طرح پرجوش انداز میں جھومتے ہوئے امپائر سے ملنے گئے تھے اتنی ہی اتری ہوئی شکلیں لےکر واپس آئے اور ہدایات کے عین مطابق اپنے نمائندے مذاکرات کےلیے بھیج دیئے۔ نتیجہ ناکامی، واپسی پر کنٹینرمیں گھستے ہی جنرل راحیل شریف کو برابھلا کہتے پائے گئے۔
جنرل شجاع پاشا نے پی ٹی آئی کا 2011ء کا جلسہ کامیاب بنانے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کے اہم لوگوں کو بلا کر کہا، آپ لوگ پی ٹی آئی کی حمایت کریں
اسلام آباد میں عمران خان کا دھرنا چل رہا تھا کہ سولہ دسمبر 2014ء کو پھولوں کے شہر کا تشخص رکھنے والے شہر پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں طالبان دہشتگردوں نے پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی بربریت کا ارتکاب کیا اور132 بچوں سمیت 148 بے گناہ لوگوں کو شہید کردیا۔ 132طلباء کی شہادت یقیناًایک قومی المیے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا، خاص کر وہ والدین جن کے بچے ابھی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔عمران خان نے 17 دسمبر کو دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا، پشاور سانحہ نے عمران خان کو نکلنے کا ایک آبرومندانہ راستہ فراہم کردیا ورنہ وہ تو برملا کہہ رہے تھے کہ جب تک نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے انہیں اکیلے بھی دھرنے پر بیٹھنا پڑا تو وہ بیٹھیں گے۔
سوال اب بھی وہی ہے کہ دھرنوں کا “امپائر” کون تھا؟ ہمیں اس سوال کے جواب کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ محمد زبیر نجکاری کے وزیر ہیں، 23 جولائی کو اُنہوں نے بیان دیا “جنرل شجاع پاشا نے پی ٹی آئی کا 2011ء کا جلسہ کامیاب بنانے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کے اہم لوگوں کو بلا کر کہا، آپ لوگ پی ٹی آئی کی حمایت کریں”۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی دعویٰ کیا کہ دھرنوں کے پیچھے آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام تھے۔ جنرل ظہیر الاسلام 7 نومبر 2014ء تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے، عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے دھرنے ان کے دور میں اسلام آباد میں خیمہ زن رہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ کے ایک اور اہم رکن اور قریبی ساتھی مشاہداللہ خان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سال اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس حوالےسے ایک آڈیو ٹیپ کی موجودگی کا بھی انکشاف کیاتاہم ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں زیرِ بحث آڈیو ریکارڈنگ سے متعلق خبریں بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نےبھی سینیٹر مشاہد اللہ کے اس بیان کی تردید کی اور کہنا کہ میڈیا کو اس بات کو اچھالنا نہیں چاہیے۔ ایک چھوٹا سا سوال وزیر اعظم نواز شریف اور وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشیدسے کہ جناب نجکاری کے وزیر محمد زبیر اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی آئی ایس آئی کے سابق سربراہان جنرل احمد شجاع پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام کے ہی نام لیے تھے تو سزا اور تردید صرف مشاہداللہ خان کے حصے میں ہی کیوں آئی ہے؟
عمران خان اور کینیڈا سے آئے طاہرالقادری کے دھرنوں کے دوران میں نے پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا گروپس کی ملی بھگت کا براہِ راست مشاہدہ کیا
چلیے یہ تو سرکاری الزامات ہیں کیونکہ وزیروں نے لگائے ہیں لیکن ان وزیروں سے بہت پہلے پی ٹی آئی کا دھرنا ختم ہونے کے فوراً بعد ایک پاکستانی خاتون صحافی”نیہا انصاری” نے یہ راز کھول دیا تھا کہ دھرنوں کا “امپائر” کون تھا؟ پاکستان میں جاری دھرنا بحران کے پیچھے کون تھا؟ اور عمران خان بار بار کس امپائر کی اُنگلی اُٹھنے کی بات کر رہے تھے؟ اس دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ کس کے اشارے پر غلط رپورٹنگ کرتے رہے؟ اے آر وائی، دنیا اور ایکسپریس کس کے اشاروں پر ناچ رہے تھے؟ ان سب حقائق کا نیہا انصاری نے ایک امریکی میگزین فارن پالیسی میں انکشاف کیا تھا۔ نیہا انصاری ایکسپریس ٹریبون سے بطور سینئر سب ایڈیٹر اور شفٹ انچارج وابستہ رہی ہیں۔اُنہوں نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “دھرنوں کے لیے روانگی سے ایک روز قبل ہی 13؍ اگست کو ہماری ہفتہ وار میٹنگ میں ہمیں(ازراہ مذاق) کہہ دیا گیا کہ عمران، قادری اور آئی ایس آئی ہمارے سب سے اچھے دوست ہیں”۔
نیہا انصاری نے مزید لکھا ہے کہ ہمیں ایڈیٹر نے ادارتی پالیسی بتاتے ہوئے کہا کہ “میں جانتا ہوں کہ یہ آسان نہیں مگر فی الحال تو یہی ایک راستہ ہے۔۔۔سی ای او کی طرف سے آئے ہوئے اِن احکامات پر عمل درآمد کے لیے مجھ سمیت تمام سینئر ادارتی عملے نے ہچکچاتے ہوئے اتفاق کیا کیونکہ ہماری ملازمتیں داؤ پر تھیں”۔ نیہا نے آگے لکھا ہے کہ “عمران خان اور کینیڈا سے آئے طاہرالقادری کے دھرنوں کے دوران میں نے پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا گروپس کی ملی بھگت کا براہِ راست مشاہدہ کیا۔ اُس وقت ،پاکستان کے طاقت ور میڈیا ہاؤسزکے مالکان کو (جن میں اےآروائی، ایکسپریس میڈیا گروپ اور دنیا نیوز شامل ہیں ) ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے دھرنے کی حمایت کے لیے “ہدایات” ملتی رہیں۔ حکومت مخالف تحریک کو طاقت ور اور نواز شریف کو کمزور دکھانے کے لیے فوج میڈیا کا استعمال کر رہی تھی”۔
نیہا انصاری آگے لکھتی ہیں کہ “ایکسپریس میڈیا گروپ میں عمران خان اور طاہر القادری کی (حسبِ ہدایت) ہر بات کو صفحۂ اول پر جگہ دی جارہی تھی اور نیوز بُلیٹن میں بھی پہلی خبر یہی نشر کی جا رہی تھی۔ ایک طرف بی بی سی اور ڈان جیسے ادارے دھرنوں کے اصل حقائق (دیہاڑی دارشرکاء ) پر کھل کر لکھ رہے تھےاور دوسری طرف ہم اُن حقائق کو چھپا رہے تھے جو وزیراعظم کے حق میں جاتے تھے۔اس دوران ہم مظاہرین کے منفی رویوں اور اُن کی مسلسل کم ہوتی تعداد پر بھی پردہ ڈال رہے تھے۔ اخبار کے نیشنل ایڈیٹر سے ہمیں روزانہ پتا چلتا کہ کس طرح روز ہی اُنہیں شام کو موصول ہونے والی فون کالز میں نہ صرف اگلے روز کی شہ سرخیوں بلکہ مضامین تک کے لیے ’’ہدایات‘‘ مل رہی تھیں”۔
نیہا انصاری آخر میں لکھتی ہیں کہ “کچھ روز بعد ہمیں اچانک اخبار کے مالک کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا کہ طاہر القادری کو عمران خان کے برابر کیوں اہمیت نہیں دی جارہی جب کہ خفیہ طاقتیں دونوں کی برابر حمایت کر رہی ہیں۔یہ ہدایات ادارتی عملے کو براہِ راست نہیں دی جاتی تھیں بلکہ یہ سی ای او، ایڈیٹر اور نیشنل ایڈیٹر کے ذریعے سے ہوتی ہوئی اُن تک پہنچائی جاتیں”۔ نیہا نے لکھا ہے کہ “اس کے باوجود آزادئ صحافت کے حامیوں نے اشاروں پر نہ چلنے کی اپنی سی کوششیں کیں مگر طاقت کے مراکز کی ایماءپر چلنے والوں کا نقطۂ نظر ہی غالب رہا”۔
اسلام آباد کے 126 دن کے دھرنےمیں ہر روز الزام تراشیاں کی جاتی تھیں،کبھی سول نافرمانی پر اکسایا گیا، دھرنے میں کارکنان نے پارلیمنٹ ہاوس کا دروازہ توڑ دیا کچھ کارکنان نے پی ٹی وی پر حملہ کرڈالا، میڈیا کے ساتھ اور خاص کر خاتون صحافیوں کے ساتھ شدید بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا۔ عالمی میڈیا ان دھرنوں کی خبریں اور اُن پر منفی تبصرئے نشر کررہا تھا ۔ عمران خان اور علامہ طاہر القادری نے پاکستان کےلیے طویل دھرنوں کاایک عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ویسے پاکستانی عوام کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والوں نے طویل سیاسی دھرنے کاعالمی ریکارڈ تو بنادیا لیکن”امپائر” کی انگلی پھر بھی نہ اٹھی البتہ عوام کی انگلیاں دھرنا دینے والوں پر ضرور اٹھ رہی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

دو کمیشن، دو رپورٹیں

دو کمیشن اور دو رپورٹیں اور تحریک انصاف کا دہرا طرزعمل۔۔۔ تحریک انصاف جمہوریت، منصفانہ انتخابات اور انصاف کی فراہمی پر کتنا یقین رکھتی ہے یہ جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔ تحریک انصاف جس کی تمام تر سیاست انتخابی دھاندلی کا بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے تک محدود رہی تھی بدترین انتخابی ،سیاسی اور قانونی شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھی بظاہر اپنا طرزعمل تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔ تحریک انصاف کے حقیقی خیرخواہوں کو اب اپنی جماعت سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ وہ تمام ثبوت کہاں ہیں جن کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کا سازشی مفروضہ تیار کیا گیا تھا؟ اب عمران خان کے متوالوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ ان کی جماعت نے نجم سیٹھی، خلیل الرحمن رمدے، جسٹس افتخار چوہدری اور فخرالدین جی ابراہیم پر جو الزامات لگائے تھے ان کی بنیاد کیا تھی۔ یہ سوال اب پی ٹی آئی کے ہر ہمدرد کے ذہن میں گونجنا چاہیئے کہ ان کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا ذمہ دار کون ہے؟

تحریک انصاف کے حقیقی خیرخواہوں کو اب اپنی جماعت سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ وہ تمام ثبوت کہاں ہیں جن کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کا سازشی مفروضہ تیار کیا گیا تھا؟

2013 میں ہونے والے جماعتی انتخاابت میں ہونے والی دھاندلی کے ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ جسٹس وجیہہ الدین کی سربراہی میں کام کرنے والے تحقیقاتی کمیشن کی واضح سفارشات بھی اس جماعت کو یرغمال بنانے والوں کا بال تک بیکا نہیں کر سکیں۔ وہی لوگ تحریک انصاف کے مختلف عہدوں پر بڑے ڈھٹائی سے براجمان ہیں جن کے خلاف کمیشن نے کارروائی کرنے کی سفارش کی تھی۔ ایک کمیشن جو تحریک انصاف کا گند صاف کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا نا تو اس کی رپورٹ منظر عام پر آئی اور نہ ہی ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوئی۔دوسری جانب عام انتخابات 2013 کے نتائج قبول کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں اور سازشی مفروضوں کو بنیاد بنا کر جس منظم دھاندلی کا بارہا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے اس سے متعلق کمیشن کو نہ تو کافی شواہد مہیا کیے گئے اور نہ ہی منظم دھاندلی کے الزامات ثابت کتنے کی کوئی شنجیدہ کوشش کی گئی۔
ان دونوں کمیشنوں اور ان پر تحریک انصاف کے طرزعمل سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ یہ جماعت بھی دیگر جماعتوں کی طرح محض دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ تحریک انصاف نے جسٹس وجیہہ الدین کمیشن کی رپورٹ نظرانداز کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ خؤداحتسابی کو تیار نہیں۔ وجیہہ الدین کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود تحریک انصاف میں جہانگیرترین، پرویز خٹک اور دیگر کی موجودگی سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ تحریک انصاف کا مطمع نظر بھی انصاف نہیں بلکہ اقتدار کا حصول ہے۔

وجیہہ الدین کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود تحریک انصاف میں جہانگیرترین، پرویز خٹک اور دیگر کی موجودگی سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ تحریک انصاف کا مطمع نظر بھی انصاف نہیں بلکہ اقتدار کا حصول ہے۔

تحریک انصاف کی سیاست ان دو تحقیقاتی کمیشنوں کے ہاتھوں دفن ہو چکی ہے۔ دونوں کمیشن اور ان کی رپورٹیں دو مواقع تھے ۔ یہ اپنی تطہیر اور اپنی اصلاح کے مواقع تھے جنہیں ضائع کردیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے اصلاح کی بجائے اپنی خامیاں چھپانے اور دوسروں کی پگڑیااچھالنے کی روش اپنائی ہے جو اس جماعت کے مستقبل کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ تحریک انصاف کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ اس کے مخلص اور وفادار ساتھی ہی کیوں اس طرز سیاست پر اعتراض کررہے ہیں۔ درحقیقیت یہ جماعت اب مکمل طور پر جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے تسلط میں ہے۔ اب یہ جماعت عمران خان ، وجیہہ الدین یا نوجوانوں کی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ لوٹوں، سیاسی جغادریوں اوراقتدار کے متوالوں کی جماعت بن چکی ہے جس کی نہ تو کوئی سمت ہے نہ نظریہ۔ جو جماعت اپنا قبلہ درست نہیں کرسکتی وہ اس ملک کا مستقبل کیسے بدل سکتی ہے؟ جو رہنما اپنی جماعت کے انتخابات کے دوران بے قاعدگیوں اور دھاندلی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکا وہ کس طرح کسی اور جماعت پر دھاندلی کے الزامات عائد کرکے انصاف کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

کارٹون بشکریہ صابر نذر

Categories
نقطۂ نظر

!تبدیلی ٓا گئی ہے

پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں
مجھے یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔لوگوں کا ردعمل بہت حوصلہ افزا نہیں تھا مگر لوگوں کی لاپروائی اور عدم دلچسپی ان کے حوصلے پست نہیں کر پا رہی تھی۔ان کی آنکھوں کی چمک مجھےآج بھی یاد ہے۔پچھلے دنوں میری ملاقات ان میں سے ایک نوجوان سے ہوئی،وہ اپنی جماعت کے ساتھ وابستہ تو تھا مگر اس کی آنکھوں میں اب وہ چمک تھی نہ دل میں تبدیلی کے لیے وہ تڑپ۔ وہ اب بہت سے سوالات اور شکووں کا بوجھ لیے پھرتا ہے ، اک ایسے نامراد عاشق کی طرح جسے اس کے محبوب نےبڑی بےرحمی سے دھوکہ دیا ہو۔اس کا اترا ہوا چہرا بتا رہا تھا کہ اس کا عشق نیلام ہو گیا،اسکا جنون بک گیا۔
تحریک انصاف میں ایک دفعہ پھر سیاست کے پرانے اور روایتی کھلاڑیوں کی ٓامد بڑے زورو شور سے جاری ہے،۔پہلے ق لیگ کے لوگ بڑی تعداد میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اب پی ٹی ٓائی پنجاب میں لٹی پٹی پی پی پی کو مال غنیمت سمجھ کر اس پر ہاتھ صاف کرنے کے چکر میں ہے۔پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں۔ جو لوگ9 سال مشرف اور5 سال پی پی کی حکومت میں رہ کر نیا پاکستان نہیں بنا سکے اب وہ تحریک انصاف میں شامل ہو کر نیا پاکستان بنا نے کے لیے پنجہ آزمائی کریں گے۔
تحریک انصاف بلکہ عمران خان کی سیاست کی اٹھان ہی تبدیلی،روایتی سیاست اور جمودکوتوڑنے پہ تھی۔اس کے لیے خان صاحب نے روایتی سیاستدانوں،وڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی بجائے نوجوانوں کو اپنا مخاطب بنایا۔تبدیلی اور نئی فکر کو کھلے دل سے قبول کرنے والے نوجوانوں نے عمران خان پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئےان کی آواز پر لبیک کہااور دیکھتے ہی دیکھتے تبدیلی کا یہ نعرہ جنون کی شکل اختیار کرنے لگا۔عمران خان نے نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دکھائے اور نوجوان ان خوابوں کو لے کر میدان سیاست میں کود پڑے۔وہ بے لوث جنون تھا جسے لوگوں نے طرح طرح کے طعنے دیے مگر کپتان اور اس کے کھلاڑی میدان میں کھڑے رہے۔ کوئی تحریک انصاف کو تانگہ پارٹی کہتا،تو کوئی دیوانے کا خواب،کسی نے اسے نوجوانوں کے جذبات کا ابال کہا تو کسی نےبرگر پارٹی کا طعنہ کسا،مگر زمانے کی یہ ستم ظریفیاں اور طعنے نوجوانوں کے پیروں کی زنجیرنہ بن سکے۔ان کے جنون نے ایک لمحہ کے لیے لغزش نہ دکھائی،وہ کپتان پر فریفتہ رہے،کپتان سے لازوال محبت ان کا اثاثہ تھی اور وہ کپتان کے ایک اشارے پر مر مٹنے کے لیے تیار رہتے۔کپتان کو دیکھ کر ان کے چہرے تمتاہ اٹھتے اور ٓانکھیں روشن ہو جاتیں۔نیا پاکستان انہیں بہت قریب دکھائی دیتا۔ نوجوان کپتان کا پیغام لے کر گھر گھر گئے،رکنیت کے فارم پر کروائے،لوگوں کو کپتان کے پیغام کے حوالےسے دلائل دیے،گھر والوں کی جھڑکیں سنیں،اشتہار لگائے،ماریں کھائیں غرضیکہ دیوانہ وار کام کیا۔اس وقت تک کپتان تھا اور نوجوانوں کا جنون تھا۔ بڑے کھلاڑی پی ٹی آئی سے دور رہے کیوں کہ ان کے نزدیک یہ جماعت ایک قابل عمل سیاسی انتخاب نہیں تھی اور نہ ہی تبدیلی اور نئے پاکستان کے لیے آج کل کی طرح انہیں ابھی تک شرح صدر ہوئی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ 30 اکتو بر 2011 کو تحریک انصاف کے جلسہ نے پاکستان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔نوجوانوں نے لاہور میں وہ طوفان کھڑا کیا کہ بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے،مفاد پرست سیاستدانوں کے دل للچانے لگے۔وہ جماعت جو محض دیوانے کا خواب تھی اب ایک قابل ذکرسیاسی قوت بن چکی تھی۔نوجوانوں نے اپنے خلوص،اپنی لگن اور اپنے جنون سے اپنی جماعت کو منوا لیا ۔اب تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے گھاگ انتخابی امیدواروں کی قطاریں لگ گئیں۔ روایتی سیاستدانوں کو بھی تبدیلی کے خواب آنے لگےاوروہ اپنے ہی قائم کردہ جمود سے بھی اکتائے اکتائے لگنے لگے۔
پھر یوں ہوا کہ 30 اکتو بر 2011 کو تحریک انصاف کے جلسہ نے پاکستان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔ نوجوانوں نے لاہور میں وہ طوفان کھڑا کیا کہ بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، مفاد پرست سیاستدانوں کے دل للچانے لگے
لوگ اس جلسہ کو تحریک انصاف کا عروج سمجھتے ہیں مگر میرے خیال میں یہیں سے اس کا زوال شروع ہوا۔اس کے بعد عمران خان کی سوچ اور حکمت عملی میں بہت تبدیلی ٓائی،بہت بڑی تبدیلی۔۔۔۔یہ وہی تبدیلی تھی جس کی وجہ سے سیاست کے روایتی کھلاڑیوں کا جماعت میں اثرونفوذ بڑھنے لگا اور تحریک انصاف کی اصل قوت نوجوانوں کو پیچھے دھکیلا جانے لگا اوران پر طرح طرح کی قدغنیں لگائی جانے لگیں۔نوجوان جنہوں نے اس جماعت کو خون پسینہ سے سینچاتھا کو کھڈے لائن لگایا جانے لگا۔رہی سہی کسر جماعتی انتخابات نے نکال دی؛اثرورسوخ چلا،دھونس ہوا،دھاندلی ہوئی،کھلی بے ضابطگیاں ہوئیں اور پرانے کارکنان اور نوجوانوں کو پوری قوت کے ساتھ پیچھے دھکیلا گیا۔ 2013کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی پرانے کارکنان اور نوجوانوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا جس کا خمیازہ تحریک انصاف کو انتخابات میں ہار کی صورت میں بھگتنا پڑا۔پھر دھرنے ہوئے جس کی نہ قوم کو سمجھ ٓائی نہ نوجوان کارکنان کو مگر نوجوان پھر بھی اپنے کپتان سے جڑے رہے،اپنے کپتان کا دفاع کرتے رہے۔ دوستوں کی گفتگو ہویا کوئی بحث ہو،فیس بک ہو یا ٹوئٹر ،میں نے نوجوانوں کو کپتان کے لیے ہر مخاذ پر لڑتے دیکھا۔کپتان کی محبت سر چڑھ کر بولتی رہی۔
مگر افسوس، صد افسوس کہ تبدیلی آ چکی ہے؛کپتان کی فکر اور حکمت عملی میں روایتی سیاست کی پھپھوندی لگنے کی تبدیلی۔ کپتان اب نو جوانوں کے جنون سے زیادہ روایتی سیاستدانوں،جاگیرداروں،سرمایاداروں پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔روایتی سیاستدانوں کی زوروشور سے تحریک انصاف میں شمولیت کے باعث نظریاتی کارکن اور رہنما پس منظر میں چلے گئے ہیں۔جن نو جوانوں نے پی ٹی آئی کو اپنے جنون،خلوص اور جذبے سے ایک بڑی جماعت بنایا، عمران خان کو عمران خان بنایا وہ اب مایوس ہو رہے ہیں۔ جب عمران خان کی پارٹی کو لوگ تانگہ پارٹی کہتے تھے تب ان نوجوانوں نے ہی کپتان کو اپنے کندھوں پہ بٹھایا۔ ان نوجوانوں کی جماعت کو اب روایتی سیاست دان روایتی انداز میں چلائیں گےکیوں کہ جنون بک چکا ہے،تبدیلی کے خوابوں کی بولی لگ چکی ہے۔ اوریہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

آزادی مارچ کس نے ناکام بنایا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آزادی مارچ کے دوران رہنما بننے کا اپنی زندگی کا سب سے اہم ، قیمتی او ر آخری موقع ضائع کر دیا ہے۔اگر صرف آزادی مارچ کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ 16 اگست کی صبح چار بجے تک پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ انتہائی کامیاب اور بہترین انتظامات کی عکاسی کررہاتھا ۔ پرویز خٹک ،شاہ محمود قریشی ،جاوید ہاشمی اور عمران خان کی تقاریر سن کر یوں لگ رہا تھا جیسے آزادی مارچ نے واقعی اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اگرچہ اس وقت دھرنے کے مقام پرلوگ بہت زیادہ نہیں تھے لیکن اس وقت تک آزادی مارچ نہایت کامیاب دھرنے کی شکل اختیار کرچکا تھا۔شدید بارش میں عمران خان بھی کارکنوں کے ہمراہ بھیگتے رہے ، عمران خان بھی اسی جگہ رہے جہاں ہزاروں کارکن رہے ، عمران خان بھی وہی سفر کر کے آئے جو کارکنان نے طے کیا تھا،وہ کارکنوں کے ساتھ ان جیسا ہی کھاتے پیتے رہے ۔ یہ وہ وقت تھا کہ عمران خان پاکستان کے وہ واحد رہنما بن چکے تھے جس کے ساتھ ہزاروں کارکن موسم اور بارش کی سختیاں برداشت کرنے کو گھر بار چھوڑ کر اسلام آباد آ بیٹھے تھے۔عمران خان کے خطاب اور کارکنوں کے جذبہ نے حکمرانوں اور ایوان اقتدار کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔یہ وہ وقت تھا کہ” وزیر اعظم عمران خان” کے نعروں کی گونج وزیر اعظم ہاوس تک پہنچ رہی تھی اورمسلم لیگ (ن) کے لئے عمران خان ایک بھیانک خواب کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران اپنی رہائش گاہ جانے اور سول نافرمانی کی تحریک چلانے تک عمران خان عوام کا لیڈر بننے لگا تھا، غریب کارکنوں کا قائد لگ رہا تھا، جس کے آتے ہی خیبر پختونخواہ سے آئے ہوئے کارکن جنہوں نے سڑک پر چالیس گھنٹے گزارے تھے، مطمئن ہو گئے تھے کہ عمران خان آ گیا ہے اب سب کچھ وہی ہو گا جو ہم کہیں گے ، اور ایک نیا پاکستان بنا کر ہی لوٹیں گے۔
ہزاروں انسانوں کو کھلے آسمان تلے تیز بارش میں چھوڑ کر چلا جانے والا اور کروڑوں پاکستانیوں کو ریاست کے خلاف سول نافرمانی پر اکسانے والا فرد کسی بھی طرح عوامی رہنما نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف اور آزادی مارچ کی ناکامی کی تما م تر ذمہ داری عمران خان کے سر ہوگی جوبحران کے وقت سیاسی بردباری اور قومی مفاد میں سیاسی فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آئے ہیں۔
آزادی کے متوالے نیا پاکستان بنانے کو اسلام آباد میں موجود تھے لیکن پھر اچانک سب کچھ ختم ہو گیا ،سب کچھ تباہ ہو گیا ۔نئے پاکستان کا خواب دیکھنے والی انکھیں چندھیا گئیں ، کشمیر ہائی وے اور اطراف میں چالیس گھنٹوں سے گیلے کپڑوں میں پی ٹی آئی کے جھنڈے اٹھائے کارکن جو کئی میل پیدل سفر کر کے آئے تھے مایوس ہونے لگے۔وہ تما م نوجوان جو لاہور سے اسلام آباد دہشت گردی اور گرفتاریوں کے امکانات کی پروا کئے بغیرعمران خان کی گاڑی کو حصار میں لئے چالیس گھنٹوں میں پہنچے تھے پریشان دکھائی دینے لگے۔چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ کل تین بجے دوبارہ عمران خان آئیں گے؟ وہ اب کہاں جائیں گے اور ہم کہاں جائیں گے؟ دھرنا اور آزادی مارچ کا کیا ہوگا؟ کیا ہم کل تین بجے تک غلامی میں رہیں گے؟یہ کیا ہو گیا ہے ہم سے کسی نےکھانے اور پانی کا نہیں پوچھا، یہ نہیں پوچھا کہ اس تیز بارش میں گھاس اور مٹی پر ہم کیسے رات گزاریں گے ؟کل تین بجے تک کیسے رہیں گے اپنے لیڈر کے بغیر۔ ہم کیوں آ گئے ہم کیا کرنے آئے ہمارے ساتھ کیا ہو گیا ، عمران خان کہاں چلے گئے ؟ مایوسی کے عالم میں کچھ جذباتی کارکنوں نے بنی گالہ جانے کا فیصلہ کیا اور پیدل وہاں چلے گئے اور بعض لوٹ گئے۔
ہفتے کے روز صبح پانچ بجے کشمیر ہائی وے پر ہزاروں (چلو تمہارے مطابق لاکھوں) کارکنوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بنی گالہ میں جا کر سونے اور بعد ازاں اتوار 17 اگست 2014سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا فیصلہ عمران خان کے سیاسی کیرئیر کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عمران اب کبھی عوامی رہنما نہیں بن سکتےوہ عوام کی نمائندگی اور مسیحائی کا حق کھو چکے ہیں ۔سول نافرمانی کی تحریک چلانے جیسے فیصلوں کے باعث صرف عمران خان ناکام نہیں ہوئے بلکہ ان کے جذباتی فیصلوں کے باعث ہزاروں کارکن اور کروڑوں لوگ ناکام ہوئے ہیں ۔کسی سیاسی جماعت یا سازش نے نہیں بلکہ عمران خان کے فیصلوں نے پاکستان تحریک انصاف آزادی مارچ ناکام بنایاہے۔ہزاروں انسانوں کو کھلے آسمان تلے تیز بارش میں چھوڑ کر چلا جانے والا اور کروڑوں پاکستانیوں کو ریاست کے خلاف سول نافرمانی پر اکسانے والا فرد کسی بھی طرح عوامی رہنما نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف اور آزادی مارچ کی ناکامی کی تما م تر ذمہ داری عمران خان کے سر ہوگی جوبحران کے وقت سیاسی بردباری اور قومی مفاد میں سیاسی فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آئے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

آزادی کا سہما سہما اڑسٹھواں جشن

تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی رات ایوان پارلیمان کے صحن میں پاکستان کا اڑسٹھواں یوم آزادی منانے کے لیے ایک سہمی سہمی سی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں یہ خاصی غیر معمولی تقریب تھی۔ گذشتہ کئی سالوں سے قومی دنوں پر ایسی تقریبات کا رواج تقریباً ختم ہوچکا تھا۔ اس بار یہ تقریب منانے کی وجہ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے عین اسی روز ہونے والے لانگ مارچ کا اثر کم کرنا بھی ہوسکتا ہے اور شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب بھی۔ لیکن یہ فیصلہ بھلے کسی بھی وجہ سے کیا گیا ہو، تقریب پر لانگ مارچ اور ضرب عضب کا سایہ غالب رہا۔ یوم آزادی کی تقریبات کے دعوت نامے تو اسلام آباد کی سول انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گیے تھے لیکن تقریب کا سارا انتظام و انصرام پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سپرد تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریب میں غیر منظم سویلین جوش و خروش کی بجائے پر رعب ڈسپلن کی فضا غالب رہی۔ ۱۳ اگست کی دوپہر سے پارلیمنٹ ہاوس کے حفاظتی انتظامات فوج کے سپرد کردیے گیے تھے اور عمارت کے ہر کونے کھدرے کی تلاشی کے بعد اسے سیل کردیا گیا۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون کے سبھی راستوں پر کنٹینرز دو روز پہلے سے ہی لا کے دھر دیے گئے تھے۔
تقریب کے پہلے حصے میں چند معروف گلوگاروں بشمول راحت فتح علی خان اور سارہ رضا خان سے چار نغمے گوائے گئے اور نظریہ پاکستان پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ نظریہ نامی اس فلم کا آغاز و اختتام مسلح افواج کی ویڈیوز پر ہی ہوا۔
تقریب میں موبائل ٹیلیفون، کیمرے و دیگر الیکٹرانک اشیا کا داخلہ ممنوع تھا۔ تاہم تین مقامات پر چیکنگ کے باوجود کئی افراد فوجیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ممنوع اشیا اندر لےجانے میں کامیاب رہے۔ گیارہ بجے کے قریب وزیر اعظم اور آرمی چیف کی الگ الگ آمد کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تقریب میں ملک کی بیشتر سیاسی و عسکری قیادت موجود تھی۔ کابینہ کے اراکین میں سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی غیر موجودگی نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔دیگر سیاسی رہنماوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن رہنما سید خورشید شاہ اور اعتزاز احسن تقریب میں شامل رہے۔ وزیراعظم کی نشست چیف آف آرمی سٹاف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے درمیان مخصوص کی گئی تھی۔ وہ تقریب میں اپنی کابینہ کے ارکان سے کٹے ہوئے اور خاصے سنجیدہ نظر آئے۔ سوائے ایک ملی نغمے کے دوران ان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دکھائی دی۔
یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں سترنگ پاکستان کے نام سے تشہیری مہم چلائی گئی تھی جس میں ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کو پاکستان کے چہرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور مہم کا نعرہ اتحاد بذریعہ تکثیریت رکھا گیا تھا۔ لیکن تقریبات میں پاکستان کے غیر فوجی ہیروز کو بری طرح سے نظر انداز کیا گیا۔ باوجودیکہ تحریک آزادی پاکستان خالصتاً سیاسی تحریک تھی کسی بھی سیاسی ہیرو حتی کہ سرسید احمد خان اور علامہ اقبال جیسے سرکاری طور پر تسلیم شدہ مشاہیر تک کو خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی غالباً پندرہ اگست کی تقریر کا ذرا سا حصہ دو ایک بار چلایا گیا۔ اس کے علاوہ پوری تقریب بشمول مہمان خصوصی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شرف کی تقریر کے افواج پاکستان بالخصوص پاکستان آرمی کی مدح سرائی پر مشتمل تھی۔ تقریب کے پہلے حصے میں چند معروف گلوگاروں بشمول راحت فتح علی خان اور سارہ رضا خان سے چار نغمے گوائے گئے اور نظریہ پاکستان پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ نظریہ نامی اس فلم کا آغاز و اختتام مسلح افواج کی ویڈیوز پر ہی ہوا۔ مبہم (بلکہ اگر مہمل بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا) سے پیغام والی اسی ویڈیو میں عسکریت پسندی کے خلاف ایک واضح پیغام البتہ موجود تھا۔
اس کے بعد باوردی بینڈ اور افواج پاکستان کے دستوں نے اپنے اصلی فن یعنی پریڈ کا مظاہرہ کیا جبکہ اس دوران وزیر اعظم پاکستان کو ان کی نشست سے اٹھا کر پریڈ کے معائنے کے لیے منبر پر لا کھڑا کیا گیا۔ تقریب کے شرکا میں آرمی میڈیکل کور کے نوجوان مرد افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جبکہ ساڑھی پوش خاتون افسران کی ایک نسبتاً کم تعداد بھی دیکھنے میں آئی۔ خواتین کو خاکی وردی میں ملبوس دیکھنا ایک خوشگوار تجربہ رہا۔ پریڈ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ پاکستان آرمی موسیقی کا ایک سکول بھی چلاتی ہے اور مسلح افواج کا بینڈ وہیں سے تربیت یافتہ ہے۔ بینڈ کی کارکردگی واقعتاً متاثر کن تھی۔ عین بارہ بجے
لمبی بندوقوں اور تنے ہوئے فوجی چہروں کے بیچ سویلین افسران اور عام لوگ شرمندہ شرمندہ سے پھرتے رہے۔ یوں پاکستان مستقبل کی بے یقینی اور حال کی بے بسی کے ہمراہ اپنے قیام کے اڑسٹھویں سال میں داخل ہوگیا۔
پاکستان کا قومی ترانہ بجا کر اڑسٹھویں یوم آزادی کو خوش آمدید کہا گیا جس کے بعد وزیر اعظم نے شرکا سے خطاب کیا۔ مضمحل، پریشان اور تھکاوٹ زدہ آواز میں انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز آپریشن ضرب عضب کو سراہنے سے کیا اور اڑسٹھویں یوم آزادی کو بھی ضرب عضب سے موسوم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے خطاب کا کم از کم ایک تہائی حصہ افواج پاکستان سے متعلق تھا۔ داخلی سلامتی کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفراء کی کافی تعداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خارجہ پالیسی سے متعلق اہم بیانات دیے۔ کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر انہوں نے ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے پر زور دیا اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے عزم کو دہراتے ہوئے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ انہوں نے جاری سیاسی بحران کے تذکرے سے شعوری طور پر احتراز برتتے ہوئے دو مقامات پر جمہوریت کے تسلسل کو ملکی ترقی سے جڑا ہوا قرار دیا۔
تقریر کے اختتام پر انہیں باوردی دستوں نے سلامی دی جس کے بعد پاکستان فضائیہ کے ایف سولہ، جے ایف تھنڈر اور میراج طیاروں نے گھن گھرج کے ساتھ روشنیوں والے گولے گرا کر آسمان کو منور کردیا۔ تقریب کے اختتام پر آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ کیا گیا جو غالباً ہمارے ہاں کی قومی تقریبات میں ایک نئی روایت کا آغاز ہے۔

IMG_20140814_003552-(1)

خاتمے کے ساتھ ہی حکام رخصت ہوگئے جبکہ عوام نے کچھ آزادی کی سانس لی اور نشستیں چھوڑ کر پنڈال کا طول و عرض ماپنے پھیل گئے ۔ عسکری قیادت میں سے آئی ایس پی آر کے میجر جنرل عاصم باجوہ لوگوں سے ملتے رہے۔ ملکی حالات اور عسکری روایات کے پیش نظر مسلح کمانڈوز تقریب کے درمیان اور چاروں طرف موجود رہے۔ لمبی بندوقوں اور تنے ہوئے فوجی چہروں کے بیچ سویلین افسران اور عام لوگ شرمندہ شرمندہ سے پھرتے رہے۔ یوں پاکستان مستقبل کی بے یقینی اور حال کی بے بسی کے ہمراہ اپنے قیام کے اڑسٹھویں سال میں داخل ہوگیا۔
Categories
نقطۂ نظر

آزادی مارچ یا آخری جلسہ

آئے دن تبدیلی اور حقیقی آزادی کا شوروغوغا سننے کو مل رہا ہے، گزشتہ ایک ماہ سے آزادی مارچ اور انقلاب کی باتیں بڑھ چڑھ کر سنائی دے رہی ہیں، روزانہ ٹیلی ویژن پر بے تحاشہ تقاریر ، مباحثے اور بیانات سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں ،ساتھ ساتھ سیاسی جوڑ توڑ اور ملاقاتوں کا تانتا بندھا ہے اور تو اور ہمارے ایسے رہنما جو کبھی عوامی مقامات پر دکھائی یا سنائی نہیں دیےعوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں جبکہ اپنی طاقت سے بے خبر عوام ہمیشہ کی طرح انقلابی نعروں کی کشش سے کھچے چلے آرہے ہیں اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کو اسلام آباد کی طرف چل پڑے ہیں۔
ایک طرف جہاں حکمران جماعت کو اپنی بادشاہت چھنتی نظر آ رہی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد تقریباً20 سال کی تگ و دو کے بعد اپنی کامیابی کا خواب دیکھ رہے ہیں وہیں کینیڈا پلٹ انقلاب فروش بھی اپنا کاروان لئے شامل باجہ ہیں ۔ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف جہاں میاں شہباز شریف پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان صاحب سے ملاقات کرنے اور انہیں راضی کرنے میں مصروف تھے تو وزیراعظم اپنی ہی پارٹی کے اختلافات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ خان صاحب کو مذاکرات کی دعوت دینے پر مجبور تھے۔ اب جب کہ مہینہ بھر کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد تحریک انصاف اور طاہر القادری صاحب اپنے انقلابی کاروان لئے حکومت گرانے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکے ہیں تو کئی سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں ،سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ( ن) اب کسی سیاسی چال کا سہارا لے رہی ہے یا پھر واقعی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ہے؟
حالیہ سیاسی محاذآرائی عمران خان اور طاہر القادری سمیت شریف برادران کے لئے بھی سیاسی بقاء کی جنگ ہےتاہم سیاسی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم کی حمایت کے بغیر حکومت کے خاتمہ کا دعوی محض خام خیالی نظر آتا ہے۔
چار حلقوں کی گنتی دوبارہ کرانے، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی اصلاحات سمیت تمام معاملات سڑکوں کی بجائے پارلیمان میں حل ہونے ہیں اور پارلیمان کے اندر بات چیت، مفاہمت اور بحث کی گنجائش سڑکوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے لہذا اگر یہ سیاسی چال ہے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو دو سے تین ماہ کا وقت نئی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے مل جائے گااور اگر عمران خان صاحب جو بظاہر حکومت گرانے چل نکلے ہیں ، سیاسی مفاہمت کے تحت حکومت گرانے اور وزیراعظم کے مستعفی ہو نے کے مطالبات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا ؟
نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنا عمران خان صاحب کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کردیں گے ؛ اگر وہ آزادی مارچ کو کسی معاہدے کے تحت مختصر کر دیتے ہیں یا پھرایک جلسہ کی صورت میں چند گھنٹوں کے لیے اسلام آباد میں رونق لگائے رکھتے ہیں اور حکومت گرائے بغیر واپس لوٹ آتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ ان کی زندگی کا آخری کامیاب جلسہ ہو اور وہ اپنے حامیوں کا اعتبار کھو بیٹھیں۔تاہم اگر خان صاحب اپنے اسی جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان کے عوام کو لیکراسلام آباد روانہ ہو جاتے ہیں اور حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کردیتے ہیں تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملکِ پاکستان کے “بادشاہ” کو ایک بار پھر اپنی بادشاہت کھونا ہو گی۔ حالیہ سیاسی محاذآرائی عمران خان اور طاہر القادری سمیت شریف برادران کے لئے بھی سیاسی بقاء کی جنگ ہےتاہم سیاسی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم کی حمایت کے بغیر حکومت کے خاتمہ کا دعوی محض خام خیالی نظر آتا ہے۔عمران خان صاحب کو سوچ سمجھ کر اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کے دوران مطالبات کرنا ہوں گے، ایسے مطالبات جو فریقین کے لئے قابل قبول ہوں اور صورت حال کے باعزت حل کو یقینی بنا سکیں۔