کیا بلدیاتی انتخابات محض ڈھونگ تھے؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہےکہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔
عمران خان میں تبدیلی آچکی ہے
جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔
عمران خان کی سیاسی ہیٹ ٹرک
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے2013ء کے انتخابات کے بعد کہا تھا کہ ہم نے انتخابات قبول کیے ہیں لیکن دھاندلی قبول نہیں کی ۔
نواز کے ایازکو کچھ نہیں ہوگا
ایاز صادق کی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ اسکول کے دنوں سے دوستی ہے۔
نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
اک ہنگامہ سا برپا ہے۔ مستعفی ہونے اور استعفیٰ دینے والوں کو منانے کا غلغلہ جاری ہے۔
دھرنوں کا “امپائر” کون تھا؟
آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے دھرنوں کو چھ ہفتے گزر چکےتھےجب شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف کےاراکین قومی اسمبلی کے استعفے اسمبلی میں جمع کرادیئے۔
دو کمیشن، دو رپورٹیں

دو کمیشن اور دو رپورٹیں اور تحریک انصاف کا دہرا طرزعمل۔۔۔ تحریک انصاف جمہوریت، منصفانہ انتخابات اور انصاف کی فراہمی پر کتنا یقین رکھتی ہے یہ جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔
!تبدیلی ٓا گئی ہے
یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔
آزادی مارچ کس نے ناکام بنایا
تحریک انصاف اور آزادی مارچ کی ناکامی کی تما م تر ذمہ داری عمران خان کے سر ہوگی جوبحران کے وقت سیاسی بردباری اور قومی مفاد میں سیاسی فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آئے ہیں۔
آزادی کا سہما سہما اڑسٹھواں جشن
لمبی بندوقوں اور تنے ہوئے فوجی چہروں کے بیچ سویلین افسران اور عام لوگ شرمندہ شرمندہ سے پھرتے رہے۔ یوں پاکستان مستقبل کی بے یقینی اور حال کی بے بسی کے ہمراہ اپنے قیام کے اڑسٹھویں سال میں داخل ہوگیا۔
آزادی مارچ یا آخری جلسہ
نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنا عمران خان صاحب کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کردیں گے
