Categories
نقطۂ نظر

یمنی خانہ جنگی کے خاتمے کا ایک سنہری موقع

یمن میں جاری خانہ جنگی اور سعودی اتحاد یوں کے طرف سے یمن پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک مثبت پیش رفت نظر عمان میں روس کے تعاون سے ہونے والے معاہدے کی صورت میں سامنے آئی جسے یمنی حوثیوں اور سابق صدر عبداللہ صالح نے مشروط طور پر قبول کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ عمان امن منصوبے میں طے پایا تھا کہ کس طرح یمن میں جاری جنگ کو روکا جا سکتا ہے اور کس طرح وہاں سیاسی عمل کی داغ بیل ڈالی جا سکتی ہے۔ عمان میں ہونے والے امن منصوبے کو ایران اور سعودی عرب کا تعاون بھی حاصل تھا تاکہ بات چیت کے ذریعے یمن میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ عمان کی سربراہی اور روسی حکومت کے تعاون سے ہونے والے امن منصوبے کے سات بنیادی نکات پراتفاق ہوا تھا :
1۔ یمن کے شہری علاقوں سے حوثی جنگ جو اور سابق صدر عبداللہ صالح کی وفادار فوج نکل کر جنگ سے پہلے والی حالت پر واپسی
2۔ مفرور صدر منصور ہادی اور خالد بحاح کی حکومت کی بحالی
3۔پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا فوری انعقاد
4۔ تمام یمنی سیاسی جماعتوں کے درمیان مشترکہ معاہدہ پر دستخط
5۔ انصاراللہ تحریک کو ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کرنا
6۔ تمام عطیہ کنندگان کی یمن کی تعمیر نو کے لیے امدادی کانفرنس میں شرکت
7۔ یمن کی خلیجی تعاون کونسل میں شمولیت
حوثی قبائل نے اقوام متحدہ کے موثر کردار کو یقینی بنائے بغیر سات نکاتی امن منصوبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، وہ اپنے مقبوضہ شہری علاقوں سے اقوام متحدہ کی موثر نگرانی کے بغیر نکلنے پر تیار نہیں تھے

 

حوثی قبائل نے اقوام متحدہ کے موثر کردار کو یقینی بنائے بغیر سات نکاتی امن منصوبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، وہ اپنے مقبوضہ شہری علاقوں سے اقوام متحدہ کی موثر نگرانی کے بغیر نکلنے پر تیار نہیں تھے۔ حوثی اس معاہدے میں اقوام متحدہ کے کردار کو زیادہ موثر اور فعال بنانے پر مصر تھے۔عمان امن منصوبے کو کئی ماہ گزرنے کے بعد بالاآخر حوثی قبائل اور سابق صدر عبداللہ صالح نے مشروط طور پراس منصوبے کو قبول کرنےپر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ سباء (یمنی نیوز ایجنسی) کی رپورٹ کے مطابق انصار اللہ موومنٹ کے ترجمان عبدالسلام نے اپنے حالیہ بیان میں عمان میں طے پانے والے سات نکاتی ایجنڈے پر اپنی مشروط آمادگی کا اظہار ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ یاد رہے کہ یمنی صدر اور وزیراعظم اپنی پوری کابینہ کے ساتھ جنوری میں شدید عوامی ردعمل کے سامنے حکومت سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، جبکہ اس وقت کی اسمبلی نے وزیراعظم اور اسکی کابینہ کے استعفے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی اور اس کے عرب اتحادیوں کو اسلحے کی فراہمی فوری طور پر بند کریں تاکہ یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع کو ممکن حد تک روکا جا سکے۔
موجودہ صورت حال کے تناظر میں اس پیش کش کےجواب میں دیکھنا یہ ہے کہ یمن کے مفرور صدر اور مستعفی وزیر اعظم خالد بحاح کس طرح کا ردعمل دیتے ہیں۔ اس سے پہلے مفرور صدر یمن پر سعودی عرب اور اس کےاتحادیوں کے فوجی حملوں کی مسلسل تائید کرتے آئے ہیں اور امن عمل پر کوئی خاص آمادگی ظاہر کرتے ہوئے نظر نہیں آتے تھے۔
خطے کی پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر حوثیوں کی امن عمل پر رضا مندی ایک انتہائی مثبت پیش رفت نظر آ رہی ہے ۔ اس حوالے سے عالمی برادری بالخصوص عرب قیادت کو متوجہ ہونے کی اشد ضرورت ہےتاکہ جنگ زدہ عرب ملک یمن میں امن قائم ہوسکے۔ دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی اور اس کے عرب اتحادیوں کو اسلحے کی فراہمی فوری طور پر بند کریں تاکہ یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع کو ممکن حد تک روکا جا سکے۔ اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق 5000 کے لگ بھگ افراد اس جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں افراد ادویات کی شدید قلت کے سبب زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

 

یمن میں امن قائم ہونے کی صورت میں اس کے مثبت اثرات پوری عرب دنیا پر پڑیں گے اور اس سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔اس سے یمنی قوم اپنی توجہ یمن کی تعمیرو ترقی، سیاسی عمل کی پائیداری اور القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے خاتمے پر مرکوز کر سکے گی تاکہ یمنی سرزمین سے دہشت گردی کاقلع قمع کیا جا سکے۔ یمن جیسا غریب ملک اور اس کے پسماندہ عوام اس خونی ریزی کے سلسلے کو زیادہ دیر برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے عمل سے اس مسئلے کا سیاسی راہ حل تلاش کرنے پر اکٹھے ہو جائیں ۔
Categories
نقطۂ نظر

شریف برادران کے دو اہم کام

تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا، فارغ وقت میں میاں صاحبان اورنج ٹرین کا شوق بھی پورا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کوٹلی آزاد کشمیر میں100میگاواٹ کے گل پور ہائیڈرو پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد فرمایا کہ پاکستان کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ یہاں 60 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ مقدار میں سستی بجلی بنانا اُن کا مقصد ہے۔ بات تھوڑی سی کڑوی مگر سچ ہے کہ یہ جو آئے دن وزیراعظم صاحب کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کاافتتاح کرتے ہیں اس سے عوم کو اب تک ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا، آج تک عوام کو بجلی کاایک یونٹ نصیب نہیں ہوا ہے۔ نندی پور کا پراجیکٹ 22 ارب روپےسے 81 ارب روپےپر چلاگیا جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں گیارہ ارب 54کروڑ روپے سے زائد مالیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔عوام کو بجلی نہیں مل رہی ہے لیکن حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کے نام پر عوام کو بیوقوف بنارہی ہے۔
تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعدنواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا

 

انتخابات کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن وہ حکومت میں آکر بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف دو برس میں ہی ختم کر دیں گے،اب کہا جارہا ہے کہ لوڈشیڈنگ2018ء میں ختم ہوگی۔ لوڈشیڈنگ تو ختم نہیں ہوئی لیکن نواز شریف حکومت کے دو سال پورے ہونے پر بجلی کی قیمتوں میں 121 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔اس اضافے نے عام آدمی کو زندہ در گور کردیا ہے۔

 

روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے، حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، غربت، بےروزگاری اورمہنگائی میں کئی سو گنا اضافہ، حکمرانوں کے شاہانہ انداز نے ملک کے غریب اور متوسط طبقات کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ لوگ اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے ہیں۔ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی کو مرنے کی بہت جلدی تھی حالانکہ اس حاملہ خاتون نے جن وجوہ کی وجہ سے تیزاب پی کر خودکشی کی وہ پاکستان میں بہت عام ہیں۔اُس کا شوہرگزشتہ چھ ماہ سے بے روزگار تھا جس کی وجہ سے اُس کے مالی حالات بہت خراب تھے ایسے میں شاید اُسے صحیح خوراک بھی نہ ملتی ہو جو ایک حاملہ خاتون کو ملنی چاہیے، اُوپر سے پانچ ہزار روپے بجلی کا بل آگیا جسے درست کروانے میں ناکامی کے بعدمیاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ اپنے شوہر سے جھگڑے کے بعد ثمینہ بی بی نے دل برداشتہ ہوکر تیزاب پی لیا اور مرنے سے قبل ایک بچے کو جنم دیا، ثمینہ بی بی نے موت کو آسان راستہ سمجھ کر اپنا لیا۔ ثمینہ بی بی اور اُس کے شوہر کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کی 20کروڑکی آبادی میں 30لاکھ 58 ہزار لوگ بے روزگار ہیں اور بجلی کے وزیربڑی فرعونیت سے فرماتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے عوام کو یہ کڑوی گولی تو نگلنی پڑے گی، ثمینہ بی بی اسی کڑوی گولی کا شکار ہوگئی، کیا ثمینہ بی بی کی اس موت پر خواجہ آصف کو کچھ حیا یا شرم آئے گی؟
لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں

 

ملک کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے بستر اُن مریضوں سے بھرے رہتے ہیں جو مضر صحت پانی استعمال کرتے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں گٹرکے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اپریل میں لاہور کے ایک مرکزی پمپنگ اسٹیشن جبکہ کراچی کے علاقوں گڈاپ اور گلشن اقبال سے حاصل کردہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔ایک ہلکی سی بارش کے بعد لاہور کے گٹر ابلنے لگتے ہیں، پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں اور صحت کے متعلقہ امور کو نظر انداز کرنے سے برسات کے دنوں میں ہر سال لاہور میں تباہی آجاتی ہے۔ لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں سیوریج سسٹم تباہ ہونے کے باعث لوگ یرقان، دل اور جگر کے امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اورنج ٹرین کے نام پرصرف 27کلومیٹر پر 165 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور ہر اسٹیشن کا خرچہ تقریباً 6ارب روپے سے زیادہ ہے۔ مقامی انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اگرسیوریج سسٹم کے بدلنے کے لیے اورنج ٹرین کے لیے مختص کی گئی رقم کا کچھ حصہ بھی خرچ کیا جائے تو پورے لاہور کا سیوریج سسٹم نیا ہوجائے گا۔ اب انجینیئرز کو کون سمجھائے کہ اورنج ٹرین زمین کے اوپر چلتی ہے جو سب کو نظر آتی ہے جبکہ سیوریج سسٹم زمین کے اندر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔

 

ایک عام آدمی جوشاید پانچ یا سات سال پہلے دس ہزارروپے میں گزارا کرلیتا تھا آج اُس کا گزاراہ پچیس ہزارروپے میں بھی مشکل سے ہورہا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے، جن کی روزانہ کی آمدنی دو سو روپے یا اُس سے کم ہے۔ فیصل آباد کے محلے نواباں والا مین روڈ کے نزدیک کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہائش پذیر پندرہ سالہ لڑکی کائنات دختر جاوید صبح سے بھوکی تھی اور اُس کا والد محنت مزدوری کی تلاش میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ کائنات نے مکان کے دوسرے حصے میں رہائش پذیرخاندان کو اپنی بھوک کا حوالہ دے کر روٹی یا اس کےلیے کچھ پیسے مانگے تو جواب ملا کہ تم تو تین مہینے کا کرایہ تک نہیں دے سکے۔ اس پر مایوس اور پریشان بھوک کی ماری پندرہ سالہ کائنات مزید دل برداشتہ ہو گئی اور گھر میں موجود زہریلا کالا پتھر کھاکر ابدی نیند سو گئی۔ بیروزگاری اورمہنگائی غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کے مترادف ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) عوام کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرکے حکومت میں آئی تھی لیکن عوام کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔عوام نے جن کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا تھا آج انہی حکمرانوں کو کسی کی بھی پروا نہیں۔ حکمران غریب عوام کو سہولیات کے نام پر نرم شرائط پر قرضے اور غریب عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم دے رہے ہیں۔

 

گیارہ مئ 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ نواز شریف عوام کوبھیک کی بجائے باعزت روزگار دیں گے لیکن اُن کے وعدے اور دعوے دونوں ہی جھوٹے نکلے۔ ماضی کی طرح انہوں نے ہنرمندنوجوانوں کو نرم شرائط پر قرضے دیئے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں ملنے والی بھیک 1000سے بڑھا کر 1200روپے کردی۔ ماضی میں بھی لوگوں نے پیلی ٹیکسیاں لے کر کیا کرلیا تھا سوائے اس کے کہ اُن گاڑیوں کواپنے ذاتی استعمال میں لانا شروع کردیا جس سے بےروزگاری پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نرم شرائط پر قرضے کی اسکیم تو ناکام ہوگئی اور اگر کسی نے قرض لیا بھی ہوگا تو زیادہ سے زیادہ رکشہ یا ٹیکسی خرید لی ہوگی یا پھر کوئی دکان کھول کر بیٹھ گئے ہوں گے لیکن یہ مسائل کا حل نہیں۔ اگر عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں بھیک پر ہی گزارا کرنا ہوتا تو پیپلز پارٹی میں کیا بُرائی تھی؟ پیپلزپارٹی نے تو اعلان کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئی تو بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر دو ہزار کردے گی۔ لیکن عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا کیونکہ عوام امید کررہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) بےروزگاری کو ختم کرکے عوام کو باعزت روزگار فراہم کرے گی ۔ لیکن افسوس نواز شریف کی حکومت نے عام آدمی کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔

 

کوٹلی آزاد کشمیر میں ہی وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گیارہ اکتوبر کے انتخابات شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھے جس میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کامیاب ہوا لیکن نتائج کو اب بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اور اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ نتیجہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ تسلیم نہیں کیا جا رہا تو قوم ہی بتائے کہ کس طریقے سے یہ نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ وزیراعظم کے اس سوال کا بالکل سادہ سا جواب ہے کہ آپ نے 2013ء کےانتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے اگر وہ پورے کردیئے ہوتے یا کررہے ہوتے تو عوام خود ہی نتیجہ تسلیم کروالیتے۔ وزیراعظم صاحب جمہوری حکومتوں کے عوام تو خوشحال اور علاقے سرسبز و شاداب دکھائی دیتے ہیں، حکومت لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے، جمہوری حکومتیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کےلیے نت نئے منصوبے اور پروگرام ترتیب دیتی ہیں جہاں عوام کو زیادہ سے زیادہ اجتماعی ثمرات میسر آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو جمہوری وزیراعظم کو عوام سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کس طریقے سے نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ آخر میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف سے ایک سوال کہ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی اور کائنات کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
Categories
نقطۂ نظر

پیپلز پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو پر اُن کے مخالفین بہت سےالزامات لگاتے ہیں مگراُن کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد مرحوم سے کئی برس پہلے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا بھٹو صاحب مالی خوردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی بدعنوانی اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔ آصف زرداری کی پاکستانی سیاست میں آمد صرف اس وجہ سے ہوئی کہ اُن کی شادی بینظیربھٹو سے ہوئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایک گمنام انسان ہوتےاور شاید اپنے قریبی حلقے میں ہی پہچانے جاتے۔ بینظیر بھٹو 1988ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بنیں اور تھوڑے عرصےبعد ہی آصف زرداری “مسٹر ٹین پرسینٹ” کے طور پر سامنے آئے۔ بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتیں کرپشن کے الزامات کے تحت ختم کی گئی تھیں۔ صدر فاروق لغاری جنہیں خود بینظیر بھٹو ہی لےکر آئی تھیں انہیں شاہی جوڑے کی کرپشن کی وجہ سے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنی پڑی۔ شاہی جوڑے کی کرپشن کا یہ حال تھا کہ بینظیر بھٹو نے وزیراعظم ہوتے ہوے یہ بیان دیا تھا کہ َکک بیک اور کمیشن کو قانونی حیثیت دے دینی چاہیئے۔
ذوالفقارمرزا نےکراچی میں پیپلز امن کمیٹی بناکر کراچی خاص کر لیاری کو تباہ کردیا
بینظیربھٹو کی موت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008ء سے 2013ء کی مرکزی حکومتوں میں آصف زرداری، اُن کے دو وزرائےاعظم اور وفاقی اور صوبائی وزرا نے مل کر کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی کےتمام ریکارڈ توڑڈالے ۔ اربوں روپے کی کرپشن کر کے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں۔ انہوں نے تقریباً دس سال قید میں کاٹے اور 2004ء میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد اُنہیں رہا کردیا گیا- جیل میں انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جیل کے زمانے میں جن لوگوں سے ان کی دوستی ہوئی وہ آج بھی اُن کے ساتھ ہیں۔ بدنام زمانہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقارمرزا توزرداری کے بچپن کے دوست ہیں لیکن آج کل ذوالفقارمرزا زرداری کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ذوالفقارمرزا نےکراچی میں پیپلز امن کمیٹی بناکر کراچی خاص کر لیاری کو تباہ کردیا۔ تجزیہ نگارروف کلاسرا نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ “ایک دن ذوالفقار مرزا کے منہ سے سنا کہ اگر سابق وزیرپٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کر کے رگڑا لگایا جائے تو وہ اربوں روپے اگل دے گا”۔ کچھ دن بعد مرزا نے ایک اور انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کا نام ایک سکینڈل میں تھا جس کا ریفرنس نیب کے پاس تھا، تاہم الزام لگا کہ موجودہ چیئرمین نے خاموشی سے اُن کا نام اس سکینڈل اور ریفرنس سے نکال دیا تھا۔ پتہ چلا کہ ایف ٹین کے فلیٹس میں دونوں کے ایک مشترکہ دوست کے توسط سے ہونےوالی ملاقاتیں رنگ لائی تھیں۔
پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت تو 2013ء میں ختم ہوگئی لیکن سندھ میں اس کی صوبائی حکومت ابھی تک برقرار ہے اور اُس کے ساتھ ہی صوبے میں بدعنوانی بھی عروج پر ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین جو سابق صدر آصف زرداری کے 1990ء سے بہت قریبی دوست ہیں، وہ تعلیم اور پیشے کے لحاظ سے ایک طبیب ہیں لیکن زرداری کی دوستی کی وجہ سےاُنہیں 2008ء میں چیئرمین نیشنل ری کنسٹریشن بیورو تعینات کیا گیا۔ 2009ء میں وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے لیکن سپریم کورٹ کے دُہری شہریت کے بارے میں فیصلے کے بعد انہیں 2012ء میں مستعفی ہونا پڑا۔مستعفی ہونے سے قبل وہ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر بھی رہے۔ اس عرصے میں وہ سی این جی اسٹیشنوں کے غیر قانونی پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ دیگر بدعنوانیوں میں شامل رہے۔ ان کے مخالفین اُن کے کردار پرتنقید کرتے رہے ہیں۔وہ آج کل سندھ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کے عہدے پر تعینات ہیں۔
کہ گیس کے ہر کنکشن کے لیے چھ ہزار روپے سرکاری فیس کی بجائے ایجنٹوں کے ذریعے پندرہ ہزار روپے وصول کیے جاتے تھےجس کا آدھا حصہ شعیب وارثی کو پہنچایا جاتا تھا
چھبیس مئی کو ڈاکٹر عاصم حسین اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی شعیب وارثی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین پر ایل این جی اور ایل پی جی کے معاملات میں کرپشن اور سی این جی سٹیشنز کے سینکڑوں غیر قانونی لائسنس جاری کرنے کے الزامات ہیں۔ جب کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر شعیب وارثی پر ڈاکٹر عاصم حسین کے لیے غیر قانونی کام کرنے اور گیس کنکشنوں کے اجراء میں کروڑوں روپے کمانے کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گیس کے ہر کنکشن کے لیے چھ ہزار روپے سرکاری فیس کی بجائے ایجنٹوں کے ذریعے پندرہ ہزار روپے وصول کیے جاتے تھےجس کا آدھا حصہ شعیب وارثی کو پہنچایا جاتا تھا۔ ڈاکٹر عاصم پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی دوسری اہم شخصیت ہیں جنہیں حالیہ ماہ حراست میں لیا گیا ہے۔اس سے قبل قومی احتساب بیورو نے آٹھ اگست کو لاہور میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق اولمپیئن قاسم ضیاء کو کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
کراچی میں انسداد بدعنوانی کی وفاقی عدالت کے جج نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم سمیت دس افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان ملزمان کی بدعنوانی کی وجہ سے قومی خزانے کو ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ مقدمات سے پہلے بھی یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بدعنوانی کے 12 مقدمات دائر ہیں جن میں وہ ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایک بے انتہا بدعنوان وزیراعظم رہے ہیں۔
یوسف رضا گیلانی جب جیل میں تھے تو انہوں نے گھڑی فروخت کرکے اپنے بچوں کی فیسیں ادا کی تھیں مگر پیپلز پارٹی کے دور میں وہ اور اُن کے بچے کروڑوں پاونڈزکی شاپنگ دنیا کے مہنگے ترین سٹور ہارُڈز(Harrods) سے کرتے تھے اور ایک ایک رات میں مبینہ طور پر لاکھوں روپے کسینو میں خرچ کر دیتے تھے۔ امین فہیم جو ٹیکس تو چھوڑیں بجلی کا بل بھی نہیں دیتے جب وہ وزیر تھے تو اُنہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ اُن کے بینک اکاونٹس میں 10 کروڑ روپے کیسے آگئے۔ وہ اس بات سے بھی بے خبر رہے کہ اُن کی بیٹی مقابلے کا امتحان دیئے بغیر کیسے برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے سکینڈ سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہو گئیں۔ پیپلزپارٹی کے ایک اورسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے 18 ویں گریڈ میں انکم ٹیکس محکمے میں تعینات داماد کو پہلے ای او بی میں 20ویں گریڈ پر ترقی دی اور پھر 21ویں گریڈ میں اپنے پاس وزیراعظم سیکرٹیریٹ میں جائنٹ سیکرٹری بنا دیا۔
یوسف رضا گیلانی جب جیل میں تھے تو انہوں نے گھڑی فروخت کرکے اپنے بچوں کی فیسیں ادا کی تھیں مگر پیپلز پارٹی کے دور میں وہ اور اُن کے بچے کروڑوں پاونڈزکی شاپنگ دنیا کے مہنگے ترین سٹور ہارُڈز سے کرتے تھے
گیارہ جون کو اپیکس کمیٹی میں ڈی جی رینجرز نے ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق سالانہ 230 ارب روپے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی میں کھلبلی مچ گئی۔ اس رپورٹ میں آصف زرداری اور اُن کی پیپلز پارٹی کا کردار واضح نہیں کیا گیا تھا لیکن چور کی ڈاڑھی میں تنکا کے مصداق وہ فوج پر برس پڑے اوراپنی استطاعت سے بڑھ کر دعوے کرڈالے۔ آصف زرداری نے کہا کہ سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے ہڑتال کی تو خیبر سے لے کر کراچی تک جام ہو جائے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔پیپلز پارٹی کے مقابلے میں قائم ہونے والے لاڑکانہ عوامی اتحاد کی جانب سے پیر 24 اگست کو لاڑکانہ میں بہت بڑی ریلی اور جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما ممتاز بھٹو نے کہا کہ زرداری پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے آج پورا سندھ جل رہا ہے۔ عوامی اتحاد کے کنوینر اور سابق رکن سندھ اسمبلی حاجی منور علی عباسی نے کہا کہ لاڑکانہ کے عوام نے کرپشن اور بدعنوانیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مسترد کر دیا ہے اور آئندہ انتخابات میں عوامی اتحاد زرداری پارٹی کو بری طرح شکست سے دوچار کر ے گا۔ عوام نے پرجوش انداز میں گو زرداری گو کے نعرے لگائے۔
سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت سے ریمانڈ لئے جانے کے بعد آصف زرداری نے پارٹی قائدین سے ٹیلیفون رابطے کیے ہیں اور پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھرپوراحتجاج اورٹھوس حکمت عملی اپنانےکی ہدایات دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے،کیا کرپشن صرف کراچی میں ہورہی ہے،ڈاکٹر عاصم کا قصور پیپلزپارٹی سے تعلق ہے،جس کی اُنہیں سزا دی جا رہی ہے،جیلیں اور ہتھکڑیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں۔قائد حزب اختلاف خورشید شاہ جو پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر بھی رہے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اگر آصف علی زرداری پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو یہ جنگ کی ابتداء کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری قابل مذمت ہے،اداروں کے اندراداروں کی مداخلت کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ خورشید شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اولمپیئن ہیروقاسم ضیاء کو جھوٹے مقدمے میں پکڑا اورہتھکڑی لگاکرپیش کیا گیا،جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے ہم کسی کو مجرم نہیں کہہ سکتے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ڈی جی رینجرز اُن کے ماتحت ہیں، انہیں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کا بتاناچاہیئے تھا، اس معاملے پر کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس ثبوت ہیں۔
سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت سے ریمانڈ لئے جانے کے بعد آصف زرداری نے پارٹی قائدین سے ٹیلیفون رابطے کیے ہیں اور پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھرپوراحتجاج اورٹھوس حکمت عملی اپنانےکی ہدایات دی ہیں
بدعنوان عناصرکا تعلق کسی بھی جماعت سے ہووہ ملزم ہوتے ہیں، اُن کی تفریق نہ تو علاقے کی بنیاد پر اور نہ ہی جماعت کی بنیاد پر کرنی چاہیئے۔ کراچی آپریشن میں گرفتارہونے والے دہشت گرد، ٹارگیٹ کلریا بھتہ خوروں کے بارے میں یہ کہنا کہ فلاں فلاں جماعت سے ہے غلط ہے، ڈاکٹر عاصم حسین اور شعیب وارثی دونوں کو جرم کی بنیاد پر گرفتار کیا گیاہے اور دونوں کا تعلق کراچی سے ہے۔ یہ معاملہ کسی جماعت یا کسی رہنما کے خلاف کارروائی کا نہیں بلکہ ان بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کا ہے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث رہے ہیں۔ شعیب وارثی کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء کو کراچی سے نہیں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ویسے یہ بات سب مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے اور اس کے گرو آصف علی زرداری ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں اور جمہوری حکومتیں اپنے اندرموجود بدعنوان عناصر کے خلاف آئینی اداروں کے ذریعے کارروائی کو تیار نہیں توپھرانہیں عوام کو جواب دینا ہوگا کہ آخراس کرپشن کے خلاف اقدامات کون کرے گا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کا موقف درست ہے کہ سیاسی رہنماوں اور حکومتی عہدیداروں کی گرفتاری آئینی طور پر مجاز اداروں کو کرنی چاہئیں لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ اگر ادارے ایسا نہ کر سکیں تو اس صورت میں کیا کیا جانا چاہیئے؟