Categories
شاعری

عشرہ // شاہراہِ بدستور

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شاہراہِ بدستور

[/vc_column_text][vc_column_text]

ایک بار پھر وہی
جم-ہو-ری پریڈ ہے — زور، زر کی کھیڈ ہے
مولوی ہے سیکولر — سیٹھ، کامریڈ ہے
ہر خبر پکی ہوئی، ہر ایجنسی پیڈ ہے
اور جو سیلف میڈ ہے، اس کے پیچھے ایڈ یے

 

ایک بار پھر یہی
شہرِ دل پسند میں — آلِ پاک گند میں
کس کی بات ٹھیک ہے، کس کے ہاتھ صاف ہیں
آپ ہار جائیں تو سب کے سب خلاف ہیں
آپ جیت جائیں تو سب گناہ ماف ہیں

Image: Zahoor
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

لاہور؛ ضمنی انتخاب کے مستقبل پر اثرات

لاہور میں ضمنی انتخابات کا جو تنیجہ آیا اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کوئی کہتا ہے پی ٹی آئی اخلاقی طور پر جیت گئی، کوئی کہتا ہے نواز لیگ نے میدان مار لیا اور اب پی ٹی آئی کو سکون آئے گا، دھرنے کی غلط سیاست سے کچھ عرصہ جان چھوٹے گی، کچھ لوگ کہتے ہیں دونوں صوبائی نشستیں پی ٹی آئی کے پاس ہیں اور قومی نشست ن لیگ کے پاس ہے یہ بھی ن لیگ کی بے عزتی ہے، کلثوم نواز کا حقیقی بھانجا پی ٹی آئی سے صوبائی اسمبلی کی نشست ہار گیا یہ بہت بڑا اپ سیٹ ہے، کوئی کہہ رہا ہے ن لیگ کی تاریخی فتح ہوئی اور عمران خان کی سیاست کو تباہ کر دیا، کوئی کہتا ہے علیم خان پراپرٹی مافیا ہے۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جو سوچا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے، لکھا جا رہا ہے، پڑھا جا رہا ہے، تجزیہ کیا جا رہا ہے، نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا لیکن جو ہوا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہوا ہے، اتنا خطرناک کہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔
پی ٹی آئی کی شکست ہر اس حلقے کی شکست ہے جو ن لیگ کے غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، اب حکومت اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو کھل کے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔
میں بنیادی طور پر پی ٹی آئی کا حمایتی نہیں ہوں، بنیادی طور پر میں مسلم لیگ نواز کے عوام کش طرز حکومت کا مخالف ہوں۔ لاہور میں این اے 122میں ضمنی انتخاب ملک کے سیاسی مستقبل کا انتخاب تھا۔ 2013 میں دھاندلی ہوئی، بد انتظامی ہوئی یا جو بھی ہوا نواز شریف نے حکومت قائم کر لی اور وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ اس کے بعد ان کا طرز حکمرانی کیسا رہا کیسے، دو اڑھائی سالہ حکومت کو کس نظر سے دیکھا جائے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اس دوران حزب اختلاف کا کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سےمزاحمت اور مخالفت کا رویہ ترک کیے جانے کے بعد نواز شریف کو روکنے والا، پوچھنے والا کوئی نہیں ۔صرف ایک پی ٹی آئی ہی ایسی جماعت تھی جو اگر اس ملک کی بہتری کے لیے نہیں تو اپنے مفاد کی خاطر ہی سہی، یا عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے ہی سہی، یا دس فیصد عوام کی بہتری کے لیے ہی سہی نواز شریف حکومت کے خلاف بھرپور حزب اختلاف کا کردار ادا کر سکتی تھی۔ دھرنوں کی سیاست اور احتجاج کے طریق کار سے اختلاف کےباوجود کوئی سیاستدان تو ایسا تھا، کوئی سیاسی جماعت تو ایسی تھی جو حکومت کو اپنے لیے خطرہ محسوس ہوتی تھی، جس کے الزامات کے جواب فوری طور پر پریس کانفرنسوں میں دیئے جاتے تھے، جس کےجلسوں اوراحتجاج پر کارروائی کی گئی، کمیشن بنائے گئے، جو بھی تھا کم از کم کسی سطح پر حکومت کو کچھ غلط کرنے سے پہلے سوچنا تو پڑتا تھا۔ دھرنا دینے والوں کی جمہوریت کش سیاست سے قطع نظر احتجاج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ احتجاج سے حکومتیں گرائی نہیں جاتیں لیکن احتجاج سے حکومتوں کو غلط فیصلوں سے روکا جا سکتا ہے۔
اس ایک شکست سے حکومت گرنی نہیں تھی، صرف اور صرف حکومت کو روکنے والا، پوچھنے والا، احتساب کرنے والا، جمہوری انتقام والا ایک راستہ کھلا رہتا
حزب اختلاف کا کردار ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کرنا اور عوام کے حقوق کے لیے لڑنا ہے لیکن اس وقت کوئی بھی حکومت کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔ حالات یہ ہیں کہ نواز شریف جیت کے بعد غرور، تکبر، خود غرضی اور فرعونیت کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھ رہے، ان کے دل و دماغ میں کسی چیز کا کوئی خوف، ڈر جھجھک اور رکاوٹ نہیں ہے سوائے وردی والوں کے۔ پیپلزپارٹی کے لیے اپنی کرپشن سے جان چھڑانی مشکل ہو رہی ہے اور تحریک انصاف کو حکومت گرانے اور حکومت حاصل کرنے کے علاوہ کوئی کسی چیز سے دلچسپی نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کو کرپشن سے کون روکے گا۔ اس حکومت کو اب ‘من پسند’ ترقیاتی کاموں سے کون روکے گا؟ پی ٹی آئی کی شکست ہر اس حلقے کی شکست ہے جو ن لیگ کے غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، اب حکومت اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو کھل کے پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ پی ٹی آئی کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ عدالتوں اور کمیشنوں کے بعد عوام نے بھی ن لیگ کا ساتھ دیا ہے اب سب کچھ ن لیگ ہے سب کچھ نواز شریف ہے، اب میٹرو بسیں میٹرو ٹرینیں، نندی پور اور سولر پلانٹ چلیں گے، شریف برادران کے کارخانے دوسرے ملکوں میں لگیں گے، فیکٹریاں کھلیں گی، کرپشن کے نئے طریقے ایجاد ہوں گے، کوئی روکنےوالا نہیں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ اب پی۔آئی۔اے کی نجکاری کون روکے گا؟ اب سٹیل مل کی فروخت میں کون رکاوٹ بنے گا؟ اب ملکی اثاثے کون محفوظ بنائے گا، اب وزیر خزانہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے سامنے کوئی دیوار نہیں ہو گی۔ منی لانڈرنگ کے ملزم ہمارے وزیر خزانہ ہیں، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمات نیب میں پڑے ہیں نہ نیب کھولتا ہے نہ عدالت کھولنے دیتی ہے۔ صرف ایک امید تھی، صرف ایک راستہ تھا، صرف ایک ڈھال تھی، صرف ایک طریقہ تھا کہ شاید پی ٹی آئی لاہور کا ضمنی الیکشن جیت جائے اور نواز شریف کو کچھ روکاوٹ ڈال دی جائے۔ ایک ہی تسلی تھی کہ شاید تحریک انصاف کی این اے 122 میں کامیابی کے بعد یہ لوگ عوام کے انتقام سے تھوڑا ڈر جائیں، کچھ ان کو خیال آ جائے کہ وہ غلط ہیں۔ تحریک انصاف اگر عام آدمی کی سیاست کرتی تو ہوسکتا ہے کہ یہ کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے، جھجھکیں گے، لڑکھڑائیں گے لیکن تحریک انصاف کی غلطیوں سے یہ امکان بھی جاتا رہا۔ اس ایک شکست سے حکومت گرنی نہیں تھی، صرف اور صرف حکومت کو روکنے والا، پوچھنے والا، احتساب کرنے والا، جمہوری انتقام والا ایک راستہ کھلا رہتا لیکن لاہور حلقہ این اے ایک سو بائیس نے ملک کے سیاسی و معاشی مستقبل پر کافی سوالیہ نشانات چھوڑ دیئے ہیں
Categories
نقطۂ نظر

بھابھی، خان اور سیاست

خان صاحب کا تازہ ترین بیان بہت سے لوگوں (بشمول درآمد شدہ بھابھی) پر بجلی بن کر گرا۔ بھابھی جی جو کہ “اُڈی اُڈی “پھر رہی تھیں اس اچانک وار پر”اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیئے ” کے مصداق اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔مگر کیا ہو سکتا ہے دبنگ خان کے سامنے۔خان صاحب کا اٹل حکم کہ اب ان کی بی بی ریحام خان نہ تو پی ٹی آئی کی کسی تقریب میں شرکت کریں گی اور نہ ہی انہیں کوئی عہدہ دیا جائے گا۔ مگر ریحام کے ان تازہ تازہ سلائے جوڑوں کا کیا ہو گا جو انہوں نے پارٹی تقریبات کے لیے سلوائے ہوں گے۔ اور ان سینکڑوں سیلفیوں کا کیا ہو گا جو انہوں نے جلسوں جلوسوں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس سے بھی بڑھ کر اس بے تاب عوام کا کیا ہوگا جسے خان جی کے اٹل فیصلے ( یا وقتی فیصلے) نے بھابھی کے دوپٹے میں ملفوف پاکیزہ جلوے سے محروم کردیا۔ وہ جوش وہ جذبہ جس کے ساتھ بھابھی جی ایک نئے پاکستان ( جس کی بنیاد انہوں نے شادی کرکے رکھی تھی) کی آبیاری کرنا تھی تو گویا بن موت مار ی گئیں۔
آہ کیا ستم کیا۔۔۔۔۔۔
بھابھی جی جو کہ “اُڈی اُڈی “پھر رہی تھیں اس اچانک وار پر”اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیئے ” کے مصداق اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں
“حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے”
بھابھی کے مسئلے ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ایک طرف سسرالیوں کی ناپسندیدگی،دوسری طرف ملک سدھار منصوبہ جات۔۔۔۔۔کبھی سابقہ شوہر کے الزامات تو کبھی جعلی ڈگری کا ٹنٹا۔۔۔۔۔۔۔ اور اب یہ تازہ وار تو بہت ہی کڑا ہے۔
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
باسٹھ سالہ خان جو اس عمر میں بھی خاصے چاق و چوبند ہیں اور منڈوں کھنڈوں کو شرماتے ہیں نے بظاہر موروثی سیاست کا رواج ختم کرنے کا عندیہ دیا مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑے سوال کو جنم دیا ہے۔ ریحام خان کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی آیا واقعی تبدیلی کاعندیہ ہے یا پھر گھوم پھر کرانہی فرسودہ رواجوں کانتیجہ ہے جن کے مطابق ایک مرد ہمیشہ بالا دست ہوتا ہے اور وہ جب چاہے بزور طا قت خواتین کا رستہ روک سکتا ہے،ان پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔ عورت چاہے ریحام خان جیسی روشن خیال اور بے باک ہی کیوں نہ اور مرد چاہے جتنا بھی جدت طراز اور رسموں رواجوں میں تبدیلی لانے کا علمبردار ہی کیوں نہ ہو۔ اور پابندی بھی سیاست کے معاملے مٰیں جس کا کرپشن، جھوٹ اور الزام تراشیوں سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔
ریحام خان کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی آیا واقعی تبدیلی کاعندیہ ہے یا پھر گھوم پھر کرانہی فرسودہ رواجوں کانتیجہ ہے جن کے مطابق ایک مرد ہمیشہ بالا دست ہوتا ہے اور وہ جب چاہے بزور طا قت خواتین کا رستہ روک سکتا ہے،ان پر پابندی عائد کر سکتا ہے
اگر این اے 19 کے ضمنی انتخاب میں شکست کا الزام ریحام پر لگایا جا رہا تو یہ بڑی بد نصیبی کی بات ہے کیونکہ اس سے ماضی میں ہوئی تمام شکستوں پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ان کی ذمہ داری بھی کسی خاص شخصیت پر ڈالی گئی تھی یا ان کا بہانہ کر کے کتنے لوگوں کی سیاست بند کی گئی ؟ اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ریحام کی سیاست پر پابندی لگا کر مستقبل میں صرف کامیا بیاں ہی ملیں گٰی ؟
کیا ہی اچھا ہو تا اگر خان صاحب اس بے مقصد تنقید پر صبر (یا ڈھٹائی،وہی جس کا دھرنے کے دوران مظاہرہ کیا تھا یا وہی جس کے ساتھ دوبارہ اسمبلی میں جا بیٹھے) کا مظاہرہ کرتے اور ریحام کو سیاست کرنے کا موقع دیتے جس کے لیے کہ وہ گوڈے گوڈے تیا ر ہیں اور اس طرح ان کو وہ تازہ ترین جوڑے پہننے کا بھی موقع مل جاتا جو انہوں نے شوق سے تیار کروائے۔
Categories
نقطۂ نظر

تحریک انصاف کا المیہ

جس جماعت کی باگ ڈور عوامی تائید یافتہ رہنماوں کی بجائے “مافوق الفطرت “عناصر کے ہاتھ ہو وہ وقتی طورپر تو شہرت کی بلندیوں تک پہنچ سکتی ہے لیکن بہت جلد سمندر کی جھاگ کی مانند تحلیل ہو جاتی ہے
چند روز قبل عمران خان نے پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ابھی تک ایک منظم جماعت نہیں بن سکی ۔ خان صاحب جب کنونشن سے خطاب کے لیے پنڈال پہنچے تو پی ٹی آئی کے منچلے دوگروہوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ اس بدمزگی کے بعدعمران خان کو پروگرام ادھورا چھوڑ کر واپس لوٹنا پڑا۔اس واقعےکے چنددن بعد ہی ملتان میں جلسے کی تیاریوں کے دوران تحریکِ انصاف کے نوجوان صحافیوں پر شاہین بن کر جھپٹ پڑے اور کئی صحافیوں کو زدوکوب کیا۔ اس سے قبل لاہور میں پی ٹی آئی کے جانبازوں کے ہاتھوں جیو نیوز کی خاتون صحافی کے ساتھ بدتمیزی کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے کسی عوامی اجتماع میں ایسی بدمزگی دیکھنے کو ملی ہو بلکہ اس قسم کے غیر متمدن اطوار پی ٹی آئی کارکنان کا معمول بن چکے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں متوسط طبقے کے پڑھے لکھے نوجوان کسی اجتماع میں مہذب انداز سے شریک نہیں ہوتے؟
درحقیقت کسی بھی سیاسی جماعت کے بننے اور مستحکم ہونے میں تنظیمی ساخت اورنظم و ضبط کاکردارکلیدی ہے۔ جس سیاسی جماعت میں تنظیم سازی اورنظم و ضبط کا فقدان ہو یا پھرزمینی حقائق کو مدنظررکھتے ہوئے عوامی سیاست کے بجائے خود کو مخصوص طبقات تک محدودرکھنے کی روش ہووہاں ایسے واقعات عام ہوتے ہیں۔جس جماعت کی باگ ڈور عوامی تائید یافتہ رہنماوں کی بجائے ” مافوق الفطرت “عناصر کے ہاتھ ہووہ وقتی طورپر توشہرت کی بلندیوں تک پہنچ سکتی ہے لیکن بہت جلد سمندر کی جھاگ کی مانند تحلیل ہو جاتی ہے۔
اس جماعت کا طرز عمل 2011 کے انتخابی جلسے کے بعد سے مسلسل تبدیل ہورہا ہے اور آج کی تحریک انصاف بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کی ہی ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے
پی ٹی آئی کی تخلیق وارتقاء :
پاکستا ن تحریک انصاف اپنے قیام سے2011ء تک محض عمران خان کی ذات کے گرد گھومتی رہی۔ لیکن اکتوبر 2011ء میں عمران خانے مینارِ پاکستان میں تاریخ ساز عوامی جلسہ منعقد کرکے سیاسی پنڈتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت کی اصل وجہ پاکستان پیپلز پارٹی او ر مسلم لیگ (ن) کی خراب کارکردگی اور عمران خان کی کرشماتی شخصیت ہے۔ اس جماعت کو پاکستان کے سیاسی افق پر بلند مقام دلانے میں مقتدر اداروں کابھی بڑا ہاتھ ہے۔2001ء میں یہی مقتدر ادارےاپنے مفادات کی تحفظ کے لیے مسلم لیگ (ق) تخلیق کرنے کے علاوہ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اورخیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل بھی تشکیل دے چکے ہیں۔یہ جماعتیں مشرف دور کے خاتمے کے بعد سیاسی منظر نامے سے یوں غائب ہوگئیں جیسے گدھ کے سر سے سینگ ۔ اسی دوران ارباب اقتدار کو نئے چہرےکی ضرورت پڑی جو عمران خان کی صورت میںباآسانی دستیاب تھا۔ انہیں انجکشن لگا کر میدان سیاست میں اتارا گیا اوروہ 2013ء کے انتخابات میں خیبر پختونخواہ میں انتخابی کامیابی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم اس جماعت کا طرز عمل 2011 کے انتخابی جلسے کے بعد سے مسلسل تبدیل ہورہا ہے اور آج کی تحریک انصاف بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کی ہی ایک سیاسی جماعت بن چکی ہے جس میں بڑی تعداد میں دیگر جماعتوں کے بدعنوان چہرے شامل ہو چکے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کے مطالعے کے بعد سیاسیات کا کوئی بھی طالب علم اس کنفیوژن کا شکار ہوجاتا ہے کہ آیا پی ٹی آئی نظریاتی طورپر دائیں بازو کی سیاست کررہی ہے یا پھر بائیں بازو کی
تحریک انصاف کی نظریاتی سیاست کازوال :
کوئی بھی سیاسی جماعت بغیر کسی نظریے کے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ مختلف سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی منشور یا سیاسی دھڑے کی نمائندگی کرتی ہیں اور اپنا سیاسی ایجنڈا عوام تک پہنچا کر اپنے وجودکو منوانے کی جستجو کرتی ہیں۔ بائیں اور دائیں بازو کی سیاسی تقسیم اب بہت زیادہ موزوں نہیں رہی کیوں کہ آج کل کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات اور غریبوں کے مفادات کے نام پر سیاست کرتی ہیں۔ پاکستانی تناظر میں سیکولر،اشتراکیت پسندیا لبرل خیالات کی حامل جماعتوں کے بالمقابل دائیں بازو کی قدامت پسند مذہبی و نیم مذہبی سیاسی جماعتوں کی تقسیم زیادہ موزوں ہے۔
ترقی پسند یا سابقہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد اور سیاسی گروہ سیکولر جمہوریت،اشتراکی معیشت اورانسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔شخصی آزادیوں ،اقلیتوں کے حقوق ،پر امن اور رنگارنگی (pluralism)پر مبنی معاشرے کی تشکیل ان طبقات کا بنیادی ایجنڈا ہے ۔اس کے برعکس دائیں بازو کی سیاسی قوتیں قدامت پرست ،رجعت پسند،جدت مخالف اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں ۔ اگردیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور کسی حد تک متحدہ قومی مومنٹ سیکولر سیاسی جماعتیں ہیں (متحدہ قومی مومنٹ اپنےعسکری ونگ اور دہشت پسندی کی وجہ سے فسطائیت کے زیادہ قریب ہے)جبکہ جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام ،مسلم لیگ (ن) سمیت مذہبی جماعتیں دائیں بازوکی سیاسی قوتیں ہیں۔
دو ہزار گیارہ (2011)ء میں عمران خان کےتاریخ ساز جلسہ کے بعد مقتدر قوتوں کے ایماء پر تاک میں بیٹھے غیبی اشاروں کے منتظر سیاسی مداریوں نے لپک کرپی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔
ان میں سے مسلم لیگ(ن) نسبتاً معتدل جبکہ جماعت اسلامی اورجمعیت علمائے اسلام سمیت ساری مذہبی جماعتیں انتہائیدائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ یہی جماعتیں مذہبی رجعت پسندی کے فروع،دہشتگردی کے لیے جواز فراہم کرنے ،طالبان کی حمایت ،شخصی آزادیوں ،خواتین اور اقلیتوں کو برابری کا حق دینے کے حوالے سے متنازعہ موقف رکھتی ہیں۔ یہ قوتیں ہمیشہ فوجی اشیر باد سے اقتدار کے مزے لوٹتی رہی ہیں لیکن عوامی سطح پرانہیں (خصوصاً انتہا پسند مذہبی جماعتوں کو )کبھی بھی قبولیت نصیب نہیں ہوئی۔
پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کے مطالعے کے بعد سیاسیات کا کوئی بھی طالب علم اس کنفیوژن کا شکار ہوجاتا ہے کہ آیا پی ٹی آئی نظریاتی طورپر دائیں بازو کی سیاست کررہی ہے یا پھر بائیں بازو کی۔ملک کی پڑھی لکھی مڈل کلاس کو سیاسی میدان میں متحرک کرنے والی پی ٹی آئی کے جلسوں میں جہاں خواتین کی اکثریت نظرآتی ہے اورموسیقی سنائی دیتی ہے وہیں ایک سال قبل تک چیرمین پی ٹی آئی عمران خان طالبان کی نہ صرف حمایت کرتے رہے ہیں بلکہ پشاور میں ان کے لیے دفتر کھولنے پر اصرار بھی کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان صاحب نے اسٹبلشمنٹ مخالف دانشوروں، سیکولراور ترقی پسندرہنماوں کے خلاف بھی مسلسل محاذ کھولے رکھا ہے۔
چند برس قبل نامور لکھاری اور ادیب مخترمہ فاطمہ بھٹو نے جب عمران خان کے لیے لبرل کا لفظ استعمال کیا تو نہ صرف خان صاحب نے خود شدید احتجا ج کیا بلکہ پارٹی کے” ڈیجیٹل مجاہدین” نے بھی سوشل میڈیا پر فاطمہ بھٹوکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔عمران خان کا موقف تھا کہ وہ لبرل نہیں بلکہ مسلمان ہیں اورکوئی پکا مسلمان کبھی بھی لبرل یا سیکولرنہیں ہوتا۔ اس بیان سے واضح ہے کہ عمران خان صاحب کو جدید سیاسی اصطلاحات کا زیادہ علم نہیں کیونکہ لبرل ازم کوئی مذہبی نہیں بلکہ سماجی وسیاسی نظریہ ہے ۔
پاکستان تحریک انصا ف کے موجودہ خدوخال اور 47ء کے عشرے کی مسلم لیگ میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ مسلم لیگ کی سیاست کا محور بھی کوئی خاص نظریہ یا سیاسی ومعاشی فلسفہ نہیں تھا بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کودرپیش چند مسائل تھے
شخصیت پرستی بجائے نظریاتی سمت کا تعین ضروری ہے
پی ٹی آئی کے ارکین کی اکثریت مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ماضی میں کبھی بھی سیاسی عمل کا فعال حصہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی ووٹ ڈالنے کے علاوہ کسی خآص سیاسی سرگرمی کا قائل ہے۔اس کے برعکس اس طبقے کا تاریخی جھکاؤہمیشہ فوجی آمریتوں، عسکری وسویلین افسر شاہی اور قدامت پرست مذہبی جماعتوں کی طرف رہا ہے۔2011ء میں عمران خان کےتاریخ ساز جلسہ کے بعد مقتدر قوتوں کے ایماء پر تاک میں بیٹھے غیبی اشاروں کے منتظر سیاسی مداریوں نے لپک کرپی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔ چونکہ پی ٹی آئی نظریاتی بحران اور سیاسی بے رخی کا شکار تھی اس لیے جاگیر داروسرمایہ دار،گدی نشین وملا ،پیروفقیرسب پی ٹی آئی کے اس ہجوم میں شامل ہوتے گئے ۔
پاکستان تحریک انصاف کے پاس سیاسی ومعاشی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح اور عملی لائحہ عمل موجود نہیں۔ اس معاشرے کو دیمک کی طرح کھانے والے جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ سیاسی اور معاشی تبدیلی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود تحریک انصاف کے پاس ان مسائل کے حل یا موجودہ سیاسی و معاشی نظام میں اصلاحات کا کوئی متبادل نظام موجود نہیں۔
کسی بھی سیاسی جماعت کے استحکام میں عوامی حمایت لازمی عنصر ہے جس کے لیے سیاسی جماعتیں تنظیم سازی کرتی ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہووہی سیاست میں فعال کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اس کے برعکس جس سیاسی جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہو وہ وقتی طورپر کسی خاص مسئلے کو لیکر مقبول تو ہو جاتی ہے لیکن اس کے دیر پا نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ پاکستان تحریک انصا ف کے موجودہ خدوخال اور 47ء کے عشرے کی مسلم لیگ میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ مسلم لیگ کی سیاست کا محور بھی کوئی خاص نظریہ یا سیاسی ومعاشی فلسفہ نہیں تھا بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کودرپیش چند مسائل تھے۔
کل ہندوستان مسلم لیگ نے جس طرح فرقہ وارانہ سیاست کے بل بوتے پر ہندوستانی سیاست میں وقتی عروج حاصل کیا ٹھیک اسی طرح پاکستان تحریک انصاف بھی نظریاتی سمت کے بغیر وقتی شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔آل انڈیامسلم لیگ کی بے سمت اور نظریات سے عاری فرقہ پرست سیاست کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد مسلم لیگ بکھر گئی۔ اسی طرح اگر پی ٹی آئی نے بھی اپنے لیے سمت کا تعین نہ کیا تو ممکن ہے کہ عمران خان صاحب کا طلسمہ ٹوٹتے ہی پی ٹی آئی بھی تاریخ کا حصہ بن جائے۔
تحریک استقلال سے سبق سیکھیئے
پاکستان کی 68سالہ تاریخ میں اسی قسم کی تحریکیں اٹھتی اور بہت جلد ختم ہوتی رہی ہیں۔ سن70ء اور 80ء کی دہائی میں ائیر مارشل(ر) اصغر خان کی قیادت میں تحریکِ استقلال کو عروج ملا۔ ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے معاشی وسیاسی پروگرام کا اثر کم کرنے کی غرض سے عسکری اداروں نے تحریکِ استقلال کو اپنی حمایت کا انجکشن لگاتے ہوئےسیاست میں اتارا۔ اصغرخان صاحب پی ٹی آئی سے بڑے جلسے منعقد کرتے رہے ہیں اوراس دور میں تحریکِ استقلال کو متبادل سیاسی قوت کے طورپر پیش کیا جاتا رہا۔ اگر سیاسی نظام میں فوج کی مداخلت نہ ہوتی تو شاید تحریکِ استقلال بھی حکومت تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی لیکن حالات تحریکِ استقلال کے خلاف رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصغر خان کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ چونکہ تحریکِ استقلال بھی نظریات کی بجائے مسائل کی سیاست کررہی تھی اور اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھی اس لیے چند برس گرجنے برسنے کے بعد بالآخر اصغر خان نے خود تحریکِ استقلال کو پی ٹی آئی میں ضم کردیا۔
اصغرخان صاحب پی ٹی آئی سے بڑے جلسے منعقد کرتے رہے ہیں اوراس دور میں تحریکِ استقلال کو متبادل سیاسی قوت کے طورپر پیش کیا جاتا رہا
سماج کے پیچیدہ مظاہراو رسیاسی نظام کے استحکام کے لیے ضروری لوازمات کے مطالعے کے بعد اگر پی ٹی آئی کی سیاست کاجائزہ لیا جائے تو بے سمت ،بے رخ اور نظریات سے عاری محض مسائل کی بنیادپر سیاست کرنے والی تحریک انصاف کا انجام بھی تحریکِ استقلال جیسا ہی نظر آتا ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف خودکو ایک منظم اور عوام دوست جماعت بنانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے خود کو نظریاتی مخمصے سے نکالناہوگا جس کے لیے بلاشبہ پارٹی کے منشور کوکوئی واضح نظریاتی سمت دیتے ہوئے ایک جامع معاشی نظام دینے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کے چنگل سے نکالے بغیر اس ہجوم کو منظم نہیں کیاجاسکتا ۔ خالصتاً مڈل کلاس پر اعتماد کرتے ہوئے کسی جماعت کو زیادہ دیر برقراررکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ موجودہ پاکستان تحریکِ انصاف میں تبدیلی کے اصل محرک یعنی پرولتاریہ کے لیے کوئی کشش نہیں۔ عمران خان دھاندلی کے نام پر 126دن تک ڈی چوک میں دھرنا دے کر اربوں روپے کا سرمایہ ضائع کرچکے ہیں۔ اگر وہ ’’ہوشیار اداروں ‘‘کی مددسے ایوان اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش کرنے کی بجائے پارٹی کی تنظیمی امور پر دھیان دیتےتو شاید اس مقبول عوامی جماعت کے مستقبل پر مایوسی ،ناامیدی اور غیر یقینی کے سیاہ بادل نہ منڈلاتے۔ آج اگر عمران خان کو تحریک انصاف سے علیحدہ کر کےاس جماعت کا مطالعہ کیاجائے تو سامنے ایک بے سمت ہجوم کےعلاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔
جب تک کسی جماعت میں واضح نظریاتی سمت نہ ہو اور وہ محض ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہےتو اس کےمعدوم ہونے کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر پاکستان تحریک انصاف نے اپنے لیے نظریاتی قبلہ نہ ڈھونڈا اور اپنے منشور کو مخصوص طبقات کے مفادات کی بجائے عوامی فلاح کے اصولوں پر استوا نہ کیا تو یہ جماعت جلد اپنا اثر کھو دے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

پی ٹی آئی اور نیا گلگت بلتستان؛ کیا واقعی تبدیلی آئے گی؟

گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہو تاہے۔ یہ پسماندگی شعور اور آگہی کی پسماندگی نہیں بلکہ پاکستان کی دیگر اکائیوں کے مقابلے میں معاشی، سیاسی اور آئینی حقوق اور وسائل کی دستیابی کی بنیاد پر ہے۔ گلگت بلتستان کے نوجوان گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کی قلت اور پاکستان کے باقی علاقوں کے تعلیمی اداروں تک محدود رسائی کے باوجود اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ 2005-6 کے دوران ہونے والے سروے یہ بتاتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں خواندگی کی شرح پاکستان کے باقی تمام صوبوں سے زیادہ ہےاور یہاں کے تعلیمی نظام میں صنفی تفریق بھی باقی تمام علاقوں سے کم ہے۔ یہ تمام اشاریےایک منظم اور ترقی پسند معاشرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاسی شعور بھی باقی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے،یہاں ووٹرز ٹرن آوٹ پاکستان کے دیگر علاقوں سے زیادہ ہوتا ہے جو اس علاقے کی سیاسی شعور کی طرف واضح اشارہ ہے۔اس سب کے باوجود اس علاقے کی معاشی حالت اور سیاسی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑا اورگلگت بلتستان بدستورپاکستان کے سب سے محروم اور پسماندہ علاقوں میں شامل ہے۔ گویا علاقہ پاکستان کے لیے اپنی وسائل اور جغرافیائی ومحل وقوع کے باعث ہمیشہ اہم رہا ہے اور عموماً یہاں کے لوگوں نے پاکستان کاساتھ دیا ہے لیکن اس کے صلے میں اس علاقے کو ہمیشہ محرومیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دکھیلا گیا ہے۔ پاکستان کی باقی چاروں اکائیوں نے پاکستان میں ہونے والی ترقی سے فائدہ اٹھایا ہے مگر گلگت بلتستان کو ہمیشہ ان سے محروم رکھا گیا۔ ہر دور حکومت میں خواہ وہ سیاسی ہو یا فوجی گلگت بلتستان کی تاریخ محرومیوں سے عبارت رہی ہے۔
اور آج بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کو کشمیری، قبائلی یا پٹھان سمجھا جاتا ہےجبکہ در حقیقت قبائلی علاقوں، کشمیر اور خیبر پختونخواہ سے گلگت بلتستان کا کوئی براہ راست ثقافتی وسیاسی تعلق کبھی نہیں رہا۔
گلگت بلتستان کی سیاسی محرومی کی تاریخ نئی نہیں اور ہر مرتبہ یہاں کے لوگوں کو نعروں اور وعدوں سے بہلایا گیا ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات میں اب کی بار نئے گلگت بلتستان کے نعرے سے عوام کو بہلایا جارہا ہے۔نئے گلگت بلتستان کا نعرہ لگا کر پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کی سیاست میں قدم جمانے شروع کیے ہیں۔ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی آمد کو پاکستان کے دیگر صوبوں میں اس جماعت کی کارکردگی اور سیاست سے ہٹ کر دیکھنا ضروری ہے، یہ اس لیے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان دوسرے صوبوں کی مانند بااختیار نہیں اور یہاں کے عوام میں شدید محرومی اور احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ گلگت بلتستان کی مخصوص آئینی حیثیت اور سیاسی محرومی کی تاریخ کے تناظر میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مقامی لوگ پی ٹی آئی سے کیا توقعات رکھ سکتے ہیں اور کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے حوالے سے سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پی ٹی آئی کم از کم گلگت بلتستان کی نمائندہ جماعت نہیں ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے یہ روایتی سیاسی جماعتوں کی ہی ایک نئی شکل ہے جنہیں گلگت بلتستان کے عوام پچھلے پچاس سال سے دیکھتے اور سہتے آئے ہیں۔پچھلے پچاس سال سے گلگت بلتستان کے عوام اپنی حقیقی شناخت نہیں حاصل نہیں کر سکے اور آج بھی گلگت بلتستان کے لوگوں کو کشمیری، قبائلی یا پٹھان سمجھا جاتا ہےجبکہ در حقیقت قبائلی علاقوں، کشمیر اور خیبر پختونخواہ سے گلگت بلتستان کا کوئی براہ راست ثقافتی وسیاسی تعلق کبھی نہیں رہا۔ قبائلی علاقوں سے گلگت بلتستان کا کوئی زمینی رابطہ نہیں اور کشمیر کے ساتھ بھی گلگت بلتستان کا کوئی ثقافتی اور تاریخی تعلق کبھی نہیں رہا مگر پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک نے مل کر اس علاقے کا مستقبل کشمیر کے ساتھ وابستہ کر دیاہے اور دونوں ملکوں کے عوام اس بات پر مصر ہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے۔
گلگت بلتستان پر مقامی لوگوں کی نمائندہ حکومت کبھی نہیں رہی ، آج تک پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہی مقامی”خوشامدیوں” کے ساتھ مل کر یہاں حکومت کرتی رہی ہیں اس لیے یہ جماعتیں اپنے آقاوں کے سامنے گلگت بلتستان کی اصل تاریخ اور ثقافت اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان کی تمام جماعتیں اور خود ریاست کی بھی یہی پالیسی ہے کہ گلگت بلتستان کوکشمیر کا حصہ سمجھا جائے اور کشمیر کے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کر نے سے گریز کیا جائے کیوں کہ ان کے خیال میں اس اقدام سے کشمیر پر پاکستانی موقف کو نقصان پہنچے گا۔ ماضی کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی بھی یہی پالیسی ہے۔ پی ٹی آئی بھی مرکزیت پسند سیاست کررہی ہے جس میں صوبائی اور لسانی سیاسی شناخت کی جگہ نہیں ، گلگت بلتستان پر تحریک انصاف کا موقف بھی عسکری و سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق ہے۔
اس خطے کے عوام کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ پاکستان، پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ اس سر زمین کو اپنی’شہ رگ‘ قرار دینے کے باوجود گزشتہ 65 سالوں سے یہاں کے لاکھوں لوگوں کو اپنا شہری تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
عمران خان پاکستان کے سارے جماعتوں کوروایتی جماعتیں قرار دیتے ہیں اورتبدیلی کا نعرہ لگا تے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے معاملے پر وہ بھی باقی سیاسی جماعتوں کی طرح روایتی سیاست کا نمائندہ بن چکے ہیں۔گلگت بلتستان پر ان کی روایتی حیثیت کا اندازہ ان کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔۲۰۱۳ کے انتخابات سے قبل جب عمران خان سکردہ اور خپلو آئے تو خپلو فورٹ میں اپنے پارٹی عہدیداران سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھاکہ مجھے گلگت بلتستان کے معاملے کاپورا علم نہیں اور نہ کوئی پارٹی پالیسی موجود ہےجب پارٹی پالیسی بنے گی تو گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ آج تین سال بیت گئے ہیں اور عمران خان اور نہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان پر اپنی پالیسی کا اعلان نہیں کیا ۔
گلگت بلتستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں اس علاقے کے علیحدہ تشخص اور تاریخ کو سمجھے بغیر انتخابات جیت کر حکومت کرنا چاہتی ہیں، پی ٹی آئی نے بھی یہ بات سمجھ لی ہے کہ گلگت بلتستان پر حکومت توکی جاسکتی ہے مگر اسے الگ شناخت نہیں دی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان تحریک انصاف نےجب پاکستان بھر میں پارٹی الیکشن کروائے تو پارٹی پالیسی اور جمہوریت کے برعکس گلگت بلتستان کو نظر انداز کردیا۔اس خطے کے عوام کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ پاکستان، پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ اس سر زمین کو اپنی’شہ رگ‘ قرار دینے کے باوجود گزشتہ 65 سالوں سے یہاں کے لاکھوں لوگوں کو اپنا شہری تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان کو یہاں کے لوگوں اورعوام سے نہیں بلکہ اس علاقے کی دولت، جغرافیائی حیثیت اور وسائل سے مطلب ہے۔ اس استحصالی ایجنڈے کو سر انجام دینے کے لیے یہاں کی سیا سی جماعتیں بھی وہی کردار ادا کرتی ہیں جو اسٹیبلشمنٹ ان کے لیے متعین کرتی ہےاور پی ٹی آئی ایسی سیاسی جماعتوں میں محض ایک اور اضافہ ہے۔
سیاسی شناخت اور دیگر وفاقی اکائیوں کے برابر آئینی حیثیت کے حصول تک کوئی بھی نعرہ گلگت بلتستان کا مستقبل نہیں سنوار سکتا۔
پی ٹی آئی اگر گلگت بلتستان کی حقیقی نمائندگی کی خواہشمند ہو تی تو یہاں کے عوام کی امنگوں کا ضرور خیال رکھتی اوربیس لاکھ لوگوں کے مستقبل کو اہمیت دیتی مگر وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی نے جون میں ہونے والے گلگت بلتستان انتخابات میں نئے گلگت بلتستان کا نعرہ لگا کر یہاں کے عوام کے ساتھ ایک نیا مذاق شروع کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کی جداگانہ حیثیت تسلیم کیے بغیر سابق سیاسی لوٹوں کے ذریعے حکومت بنا کر نیا گلگت بلتستان کیسے وجود میں آسکتا ہے؟ عمران خان مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ کسی بھی جگہ جب تک کوئی نظام عوام کو اس کے بنیادی حقوق نہیں مہیا کرتا وہ استحصالی نظام ہو تا ہے،وہ ریاستی تسلط اور جبر کا نظام ہو تا ہےاوریہی کا نظام ہے گلگت بلتستان کا مقدر بن چکا ہے۔ اس ظالمانہ نظام کو گلگت بلتستان میں نا فذ کر نے کے لیے پاکستان کی تمام سیا سی جما عتیں ایک ہیں ۔ یہ جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کو خوبصورت نعروں میں الجھا کر ووٹ لیتے ہیں حکومت کر تے ہیں اور اس ظالمانہ نظام کو پوری قوت کے ساتھ اس علاقے میں نافذ کر تے ہیں۔ پی ٹی آئی بھی اس نظام کے اندر رہ کر اپنے سیاسی لوٹوں کی مدد سے اسے مضبوط اور مستحکم عطا کرنا چاہتی ہے جو یقیناً نئے گلگت بلتستان کا راستہ نہیں۔
گلگت بلتستان کے نوجوان پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں اور وہاں پی ٹی آئی سے متاثر ہوئے ہیں لیکن نوجوانو ں کو یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ گلگت بلتستان کا مسئلہ ملک کے باقی صوبوں کے مسائل سے مختلف ہے۔ گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ یہا ں کے بیس لاکھ عوام کی علیحدہ سیاسی شناخت کاہے جسے تسلیم کیے جانے کے بعد ہی حقوق کی بات درست انداز میں کی جاسکتی ہے۔ ہمیں نئے گلگت بلتستان میں وہی پرانااور بنیادی مسئلہ نہیں چاہیئے ۔ لہذاعلیحدہ سیاسی شناخت اور دیگر وفاقی اکائیوں کے برابر آئینی حیثیت کے حصول تک کوئی بھی نعرہ گلگت بلتستان کا مستقبل نہیں سنوار سکتا۔ موجودہ استحصالی نظام میں گلگت بلتستان کی ترقی ممکن نہیں۔ اس کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل جمود کا شکار یہ نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ان سیاست دانوں اور سیاسی قو توں کی جگہ ایسے سیاسی قا ئدین اور جما عتوں کو مو قع دینا ہو گا جو مقامی آبادی کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں، اس کے بغیر کوئی بھی سیاسی نظام اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت گلگت بلتستان کی سیاسی اور قومی شناخت کو منوانے کی حیثیت میں نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پی ٹی آئی؛ مطالبات درست طریقہ کار غلط

11 مئی کو اسلام آباد اور راولپنڈی کا موسم قدرے ٹھنڈا مگر سیاسی موسم خاصا گرم دکھائی دیا، مختلف عوامی مقامات پر عوامی تحریک نے جلسہ جمایا تو شاہراہ جمہوریت ڈی چوک پر تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے اپنی سیاسی قوت کو مظاہر ہ کیاجبکہ فیض آباد انٹر چینج پر مجلس وحدت المسلمین نے دھرنا دیا۔ احتجاج کرتی ہو ئی تمام جماعتوں کے پروگرام الگ الگ مگر حکومت پر لگائے جانے والے الزامات بین بین ایک جیسے تھے ۔ لیاقت باغ میں جلسے کے دوران عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ملک کے اند ر رائج جمہوریت کو جھوٹی اور فریب زدہ جمہوریت سے تعبیر کیا ۔ طاہر القادری کے بقول پاکستان میں رائج پورے کا پورا سسٹم ہی آلودہ ہے جس سے پاکستان کے عام اور غریب شہری کو کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ بہر کیف وہ پاکستان کے آئین کی علمداری پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ 31سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی بھی حکومت آئین کے مطابق طے شدہ حقوق عوام کو دینے میں قاصر رہی ہیں اور اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے دانستہ طور پر رو گردانی کرتی رہی ہیں ، جس سے پاکستان میں جمہوری قدریں مستحکم ہونے کی بجائے اور زیادہ کمزور ہوئیں۔اسی غیر جمہوری رویہ کی وجہ سے عوامی فلاحی حکومت کے قیام کی بجائے نام نہاد خاندانی و موروثی جمہوریت نے لے لی جبکہ عوام محض تماشائی بن کر رہ گئے۔ طاہر القادری نے اپنے خطاب میں اپنے عوامی انقلاب کا ایجنڈا پیش کیا اور ان کے ایجنڈے میں دس نکات شامل تھے۔ ان دس نکات میں انہوں نے بے گھر افراد کے لیے گھر ، طویل مدتی بغیر سود کے قرضے ، روزگار الاونس ، کم آمدنی والے افراد کیلئے کھانے پینے کی اشیاء پر 50 فیصد سبسڈی ، بجلی، گیس پر عائد ٹیکس ختم کرنا، سرکاری انشورنس کا قیام ، یکساں نصاب تعلیم کے ساتھ میٹرک تک فری اور لازمی تعلیم، پیس ٹریننگ سنٹر کے قیام سے دہشت گردی و انتہاء پسندی کا خاتمہ ، گھریلو خواتین کے گھر کی سطح پر صنعتی یونٹس کا قیام، اقتدار کی گاؤں کی سطح تک منتقلی اور ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینا شامل ہیں۔
2013 کے الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر نیوٹرل الیکشن کمشنر کو تعنیات کیا ، نئی انتخابی فہرتیں تیار کی گئی، مقناطیسی سیاہی کا استعمال کیا گیا، غیر متنازعہ وفاقی و صوبائی عبوری سیٹ اپ کے ساتھ ساتھ سابق ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ان تمام انتظامات کے باوجود ہر سیاسی جماعت جہاں جہاں انتخابات ہاری وہاں وہاں اس نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا۔
دوسری طرف عمران خان نے بھی موجودہ حکومت کے حاصل شدہ مینڈیٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے حالیہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے انتخابات کو تسلیم کر لیا لیکن دھاندلی قبول نہیں کی۔ عمران خان نے اپنی جماعت کے احتجاج کو جمہوریت کے لئے خطرہ نہیں بلکہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے مطالبے کو جمہوریت کے استحکام کی بنیاد قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے صرف چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن سال گزرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا سکا۔ الیکشن سے قبل تمام سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی ، میڈیا سمیت عام شہریوں کی نظریں الیکشن کمیشن اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی طرف لگی تھیں کہ پاکستان میں شفاف انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں لیکن انتخابات میں دھاندلی کی شکایات منظر عام پر آنے کے بعد اب سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ 2013 کے الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر نیوٹرل الیکشن کمشنر کو تعنیات کیا ، نئی انتخابی فہرتیں تیار کی گئی، مقناطیسی سیاہی کا استعمال کیا گیا، غیر متنازعہ وفاقی و صوبائی عبوری سیٹ اپ کے ساتھ ساتھ سابق ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن ان تمام انتظامات کے باوجود ہر سیاسی جماعت جہاں جہاں انتخابات ہاری وہاں وہاں اس نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشن نے انتخابی نتائج سے منسلک شکایات سننے کے لیے چودہ ٹربیونائل بنائے اور قانون کے تحت انتخابی امید وار پنتالیس دونوں میں نتائج سےمتعلق شکایات داخل کروا سکتے تھے۔ الیکشن کمشن نے انتخابی نتائج سے منسلک چار سو دس شکایات الیکش ٹربیونلز کو بھیجوائیں اور قانون کے تحت الیکشن ٹربیونلز کو ایک سو بیس دنوں یعنی چار ماہ میں شکایات سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنانا تھا لیکن ابھی بھی کئی سو پٹیشنز زیر التوا ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں انتخابات کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافین) کی رپورٹ کے مطابق مارچ دو ہزار چودہ تک الیکشن ٹربیونلز نے چار سو دس شکایات میں سے تین سو پچاسی درخوستوں پر فیصلہ سنایا جبکہ باقی شکایات کے فیصلے آنے باقی ہیں۔حکومت اور اپوزیشن رہنما ان سیاسی اجتماعات کو جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ان جلسے جلسوں کے نتیجے میں ملک میں غیر جمہوری قوتوں کواقتدار میں لانے کا موقع مل جاتا ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے مطالبات حکومت سے نہیں ہیں مگر پھر بھی حکومت کے دائرہ اختیار میں جو کچھ ہے وہ کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے کہا ’انھیں(عمران خان) اعتراضات ہیں تو الیکشن ٹربیونلز اور الیکشن کمیشن سےہیں ، اعلیٰ عدالتوں کے پاس تحریک انصاف کی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے اختیارات ہیں اور اعلیٰ عدالتیں آزاد ہیں، حکومت کے پاس کوئی ایسا اِختیار نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی شکایات اور احتجاج کا جمہوری حق بجا لیکن سڑکوں پر احتجاج سے قبل تمام آئینی راستے اختیار کر لینا ضروری ہے۔تحریک انصاف احتجاج کے ذریعے اگر اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور مسلم لیگ نون کو انتخابات کے ذریعے ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور سٹریٹ پاور کے استعمال سے تصادم اور ہنگامہ آرائی کی سیاست کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر کے نئے الیکشنز اور حکومت پر قبضہ چاہتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم PILDAT کے چئرمین احمر بلال صوفی نے کہا کہ الیکشن کمشن اور انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لیے پارلیمان میں رہتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ مسئلہ ہے تو اُسے حل کرنے کے لیے قانون بنانا پڑے گا،کوئی ترمیم لانا پڑی گی۔ پارلیمنٹ میں تو آپ خود بھی ہیں آپ ترمیم لا سکتے ہیں قانون لا سکتے لیکن یہ راستہ انھوں نے بالکل چھوڑ دیا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان میں حکومت اور دیگر ادارے کیوں اپنی ناقص کاردگردگی کی بناء پر ایسا مواقع کیوں فراہم کرتے ہیں کہ مخصوص جماعتیں ایسے ہنگامے برپا کرنے پر تل جاتی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مستحکم جمہوریت ہی میں پاکستان کا روشن مستقبل پنہاں ہے مگر جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں جمہور کی بہتری اور خوشحالی کی ضمانت موجود ہو مگر پاکستان میں ہر آنے والے جمہوری حکومت نے جمہور پر عرصہ حیات تنگ کئے رکھا۔ان جمہوری ادوار میں کرپشن، اقرباء پروری ، رشورت ، سفارش، دھونس دھاندلی ، قتل و غارت اور غربت جیسے مسائل میں مزید اضافہ ہوا۔
تحریک انصاف کی شکایات اور احتجاج کا جمہوری حق بجا لیکن سڑکوں پر احتجاج سے قبل تمام آئینی راستے اختیار کر لینا ضروری ہے۔تحریک انصاف احتجاج کے ذریعے اگر اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور مسلم لیگ نون کو انتخابات کے ذریعے ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور سٹریٹ پاور کے استعمال سے تصادم اور ہنگامہ آرائی کی سیاست کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر کے نئے الیکشنز اور حکومت پر قبضہ چاہتی ہے۔
ایک مستحکم جمہوریت کے لئے پاکستان میں موجود تمام اداروں کو اپنے اپنے آئین میں متعین شدہ حدود کے اندر کام کرنا ہو گا اور اداروں کی تکریم کو مقدم رکھنا ہوگا۔ جمہوریت میں پرامن احتجاج کو حق ہر شہری کو حاصل ہے لہذا عوام کے جمہوری حق کو شک کی عینک لگا کر دیکھنا صریحاً غلط ہے ۔ عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرنا حکومت وقت کی آئینی ذمہ داری ہے ۔ جمہوریت کو اگر بچانا ہے تو سب کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا جس میں سب سے بھاری ذمہ داری حزب اختلاف خصوصاً تحریک انصاف پر عائد ہوتی ہے۔