
سلیم خوش تھا! سلیم نے مصطفیٰ کے چہرے پہ ایک سگریٹ کا پف بکھیرا، وہ کہہ رہا تھا “کہ زوبیہ مجھکو چھوڑ کر جا چکی
ادریس بابر کا شعری مجموعہ ‘عشرے’ چھپ کر آ گیا ہے اور یہ اس کی اختراع کردہ نئی صنفِ شعر عشرہ پر لے دے کا
ہدایت کار: صائم صادق اداکار: علینہ خان، علی جونیجو، راستی فاروق، ثروت گیلانی، سلمان پیر، ثانیہ سعید کل دوستوں کے ہم راہ فلم جوائے لینڈ
ہمیشہ سوچتا ہوں میں یہ اک نیلی سی چھتری جو مرے سر پر تنی ہے اس کے پیچھے اور کیا ہے کبھی میں خواب کے
گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے) قسط نمبر 1, قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر
کِھلے ہوئے گلاب رخ ہرے بھرے جوان تن دزار پیڑ وقت کی زمین پر کھڑے ہوئے پرکاش کی تلاش میں امید سینچتے ہوئے لہک چہک
پلکیں خون سے جم رہتی ہیں، آنکھیں رو رو تھم رہتی ہیں راتیں بستر پر نہیں سوتیں، برف کی سل پر جم رہتی ہیں جو
میں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا یہ بہت خوشگوار تھاتمہاری گرم چھاتیوں نے میرے کلیسا کو ڈھانپ لیاتم کوئی گیت گا رہی تھی جسے
کبھی کبھی سوچتا ہوں شاعری سیکھی، وقت ضائع کیا۔ ایک ان کہی ان سنی زبان بناتے بناتے بہت دل جلایا، وقت ضائع کیا۔ لوگوں کو
میں نے ہمیشہ تین لفظوں کے ساتھ زندگی گزاری ہے راستوں پر چلا ہوں بہت سے کھیل کھیلے ہیں درخت، پرندہ اور آسمان میں
شہر کی لڑکیاں دیہات کا خواب دیکھتی ہیں دیہات کی لڑکیاں شہر کی آرزو میں مرتی ہیں نادار لوگ ثروت مند لوگوں کی سی آسائش
