
چوتھا سبق: ذرات کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اس کائنات میں موجود تمام
ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں
کیا تم جاننا چاہو گے ادنیٰ ہونے کا مطلب؟ تو سنو! یہ ایسے ہے جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد تم کھڑکی کے قریب
“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ
وہ ہمیشہ سے مجھے متاثر کن لگے، لمبے بال، ڈھیلی ڈھالی ٹی شرٹ یا شرٹ،اس کے نیچے کبھی جینس تو کبھی نیکر،ناک پہ چشمہ،بظاہر اکھڑی
قبر نے اس کی انگلی تھامی اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ وہ جو چہچہا رہی تھی۔ ہموار زمین پر قدم مضبوطی سے جمائے
اس مجرد آرٹ پیس کو مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی آفاقی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہے یہ انسانیت کا نوحہ
موجودہ عہد کیا ہے؟ اور غالب کون ہے؟ یہ دو بنیادی سوال ہیں جن کا جواب آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ غالب ایک اردو
صنف کی شناخت،ادبی صنف کاتعین،ادبی صنف کے امتیازی نشانات،ہیئت ومواد کی سطح پر صنف کے فاصلاتی وشناختی خصائص کی نشاندہی،یہ صنفیاتی مطالعے کے اہم موضوعات
اوئے پاکستانیو تہاڈی پین دی سری میں آپ کے سامنے آج صرف اس لیے آیا ہوں کہ پین دی سری سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا
