
آخر ایک دن وہ بھی آیا که ہندوستان سے لٹے پٹے مسلمانوں کو لے کر نکلی ٹرینوں کو پنجاب میں لگاتار بگڑتے حالات کے مدِنظر
ہم نے گمراہ ستاروں کی کہانی لکھنی تھی لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا ستاروں سے آگے اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے
آنکھ لگی تو خواب میں اک بازار لگا تھا طرح طرح کے اسٹال لگے تھے ایک ریڑھی پر کوئی مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا
پانچواں سبق: سپیس کے ذرات کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ ابہام، مایوسی اورکچھ
وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنا اداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔۔ میں نے پہلی بار ماسی نیک بخت کو اپنے بچپن میں
[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950
میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے ۔۔ اور ۔۔ نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں
[blockquote style=“3”] لی کوک لیانگ (Lee Kok Liang) ملائیشیا کی چینی نژاد برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ’’جس وقت لوگ سیر کو
مکمل زمانے میں کیا کیا ہوا ہے میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے یہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے یہ گردش زمانے
اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی
مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ ’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔” کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے
یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے جس پر تم ہو اس اونچائی کے نیچے بہت سے درخت ہیں انسان ہیں اور بہت سی چیونٹیاں
