آرزو کا گیت (نظم: نچیتا سٹینیسکو، ترجمہ: مدثر عباس)
میں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا یہ بہت خوشگوار تھاتمہاری گرم چھاتیوں نے میرے کلیسا کو ڈھانپ لیاتم کوئی…
میں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا یہ بہت خوشگوار تھاتمہاری گرم چھاتیوں نے میرے کلیسا کو ڈھانپ لیاتم کوئی…
میں نے ہمیشہ تین لفظوں کے ساتھ زندگی گزاری ہے راستوں پر چلا ہوں بہت سے کھیل کھیلے ہیں…
شہر کی لڑکیاں دیہات کا خواب دیکھتی ہیں دیہات کی لڑکیاں شہر کی آرزو میں مرتی ہیں نادار لوگ ثروت…
جھاڑتے جھاڑتے تاروں کی وحشت کا غبار اکتایا چاند کھینچ رہا تھا جوں خمیازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے غم کا گدلا…
عورت نے پہلے اُس مرد کو اور پھر خود کو مار ڈالا اور وہ بھیڑیا جو اپنا حصہ لینے آیا…
ہم لوگ آوارگی کا دامن تھامے مستقبل کی سیر پہ نکل جاتے ہیں
خون آلود کیچڑ میں اکڑوں بیٹھے ہم تماشے پر نگاہ جمائے رکھتے ہیں
اگر یہ سرگرداں مصرعے صندوق سے باہر نہ آئے تو بوڑھے ہو جائیں گے اور کبھی بھی پرندہ نہیں بن…